Independent Reading, Writing and Counting Skills

The Prophet Muhammad (peace be upon him) said: “If anyone travels on a road in search of knowledge, God will cause him to travel on one of the roads of Paradise. The angels will lower their wings in their great pleasure with one who seeks knowledge. The inhabitants of the heavens and the Earth and (even) the fish in the deep waters will ask forgiveness for the learned man. The superiority of the learned over the devout is like that of the moon, on the night when it is full, over the rest of the stars. The learned are the heirs of the Prophets, and the Prophets leave (no monetary inheritance), they leave only knowledge, and he who takes it takes an abundant portion. – Sunan of Abu-Dawood, Hadith 

.

The only purpose of elementary education should be to develop in children, the  independent reading, writing and counting skills and the ability to define things.

https://rubikh.wordpress.com/urdu-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/

https://rubikh.wordpress.com/curriculum/

.

رسول صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق علم حاصل کرنے والے کے لئے، علم کی تلاش میں نکلنے والوں کے لئے یا علم کی جستجو کرنے والوں کے لئے سمندر کی مچھلیاں تک استغفار کرتی ہیں… فرشتے انکے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں جن پر وہ چلتے ہیں مطلب کہ وہ فرشتوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں…
.
اور اس برکت اور رحمت کو حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص وقت، مقام، طریقہ مقرر نہیں… اگر اتنا بھی ارادہ کرلیں کہ اپنی تمام مصروفیات میں سے صرف آدھا گھنٹا ہی کسی بھی وقت، علم کے حصول میں صرف کرنا ہے، چاہے ایک لفظ سیکھنے کو ملے… سال میں اندازہ کریں کتنے الفاظ سیکھ لیں گے… یہ بھی تعلیم ہے…
.
تعلیم ضروری ہے …
تعلیم کا صحیح ہونا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے…
صحیح تعلیم کے لئے صحیح نظریات کا ہونا ضروری ہے…
صحیح نظریات کے لئے صحیح علم کے ہونا ضروری ہے…
صحیح علم کے لئے قرآن، سیرت رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ ضروری ہے…
قرآن، سیرت رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کے مطالعہ کے لئے جو چیز ضروری ہے وہ ہے طلبہ میں “پڑھنے، لکھنے اور گننے کی خود مختارانہ صلاحیت کا موجود ہونا”… مطلب کہ ایک عمر کے بعد وہ بنیادی اسکلز کے لئے کسی کے محتاج نہ ہوں… 
یہ صلاحیت کسی بھی عمر میں حاصل کی جا سکتی ہے اگر ذہن سے یہ بات نکال دی جاۓ کہ تعلیم یا علم صرف اسکول اور کالجوں سے ہی حاصل ہوتا ہے اور جس قوم میں اسکول کالج نہ ہوں وہ جاہل ہوتی ہے… اور چونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اس لئے اسکول کالج وہاں ایجاد کئے جاتے ہیں جہاں تعلیم عوام کی ضرورت بن جاتی ہے ڈگری حاصل کرنے کے لئے… اور انکا مذاق اڑا جاتا ہے پاکستان کے دستور میں… جو اجازت دیتا ہے جاہلوں کو الیکشن لڑنے کی اور ڈگری یافتہ عوام پر حکومت کرنے کی…
.
علم اور تعلیم کیا ہیں؟ جو کچھ بھی ہیں کم از کم مقابلہ نہیں ہیں…
علم کا مادّہ حروف ہیں ع ل م … 
باب سمع سے عَلِمَ یَعْلَمُ عِلْمًا یعنی جاننا… اَعْلَمُ  میں جانتا ہوں / جانتی ہوں 
باب تفعیل سے عَلَّمَ یُعَلِّمُ تَعْلِیْمًا یعنی سکھانا، تعلیم دینا… اُعَلِّمُ میں سکھاتا ہوں / سکھاتی ہوں 
باب تفعل سے  تَعَلَّمَ يَتَعَلَّمُ تَعَلُّمًا یعنی سیکھنا… اَتَعَلَّمُ میں سیکھتا ہوں / سیکھتی ہوں 
.
علم حاصل کرنے کا کوئی وقت، جگہ اورعمرمقررنہیں… علم یعنی جاننے کے لئے پوری کائنات اور ساری زندگی بھی کم ہے…  انفرادی طور پر علم حاصل کرنے اور دنیا کے بارے میں جاننے کی مثالیں تاریخ میں بہت ہیں…. بہت سے سائنسدان، ریاضی دان مفکّر، فلسفی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے ملکوں اور شہروں سے نکل کر مختلف علاقوں کا سفر کیا، علم والوں کی شاگردی اختیار کی، اپنی مصروف زندگیوں میں سے اپنی تعلیم کے لئے سالوں کا وقت نکالا، کسی سے کچھ سیکھا، کسی سے کچھ… اپنی آسائشوں، رشتوں اور مال کی قربانی دی… اور آج کئی سو سالوں کے بعد بھی دنیا انھیں علم والوں کی حیثیت سے جانتی ہے، انکے علوم سے فائدہ اٹھارہی ہے… کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کہاں سے ڈگری لی تھی انہوں نے، کیا پوزیشن آئی تھی…
.
تعلیم کےعمل میں ایک نظم و ضبط ہوتا ہے… سیکھنے والا، سکھانے والا، کیا سیکھنا ہے، ذرائع، وقت کا دورانیہ، مقام, مقصد… یہ ایک چھوٹا سا نظام بنتا ہے…
یہ نظام انفرادی بھی ہو سکتا ہے اور اجتماعی بھی… 
اجتماعی تعلیمی نظام تو کرپشن کی وجہ سے فیل ہو سکتا ہے… لیکن انفرادی تعلیمی نظام کا فیل ہونا مشکل ہے… اسکی ایک مثال تو ہوم اسکولنگ یعنی گھر پرخود تعلیم حاصل کرنا ہے… اور یہ تعلیمی نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بہت مقبول ہے… اسکے فائدے بے شمار ہیں… دوسری مثال وہ بچے ہیں جو کسی وجہ سے اسکول کالج نہیں جا سکتے یا ملازمت کرتے ہیں اور شام یا رات کو خود اپنی تعلیم کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرتے ہیں… 
.
واپس آتے ہیں اس بات پر کہ بچے کس طرح کم سے کم عرصے میں اس قابل ہوسکتے ہیں کہ خود سے لکھ پڑھ سکیں… دس سال کا بچہ چوتھی یا پانچویں جماعت میں ہوتا ہے… اس عمر کے بچے پانچ چھہ سال اسکول میں گذار چکے ہوتے ہیں… پانچ چھہ سال میں کیا کیا سیکھ سکتے ہیں… انھیں آٹھویں نویں دسویں کی سائنس، جغرافیہ، نہیں سیکھنا ہوتا، آنکھوں سے اوجھل سمندر پار کے ملکوں کے بارے میں نہیں جاننا ہوتا، غیر ملکی ادب جو بڑوں کے لئے ہو، اس کا رٹا نہیں لگانا ہوتا، انکے کرداروں کو ذہن میں بسانا نہیں ہوتا …
.
انھیں تو اس قابل ہونا چاہیے کہ کہانیوں کی کتابیں اردو انگلش میں خود پڑھ سکیں، اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھ کر اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، ایک مضمون دس بارہ جملوں کا خود لکھ سکیں، اردو انگلش کے آسان الفاظ کی اسپیلنگ اور معنی معلوم ہوں اور انکے چھوٹے چھوٹے جملے بنا سکیں، ریاضی کے فارمولوں کے بجاۓ جمع، تفریق، ضرب، تقسیم میں مہارت دکھاسکیں، پاکستان کے نقشے کو پہچان سکیں، پاکستان سے متعلق تمام معلومات ہوں، اپنے ملک کے لوگوں اور پیشوں کا انھیں علم ہو، اپنے جسم کے اندرونی ساخت جسے وہ دیکھ نہیں سکتے، تصور نہیں کرسکتے، کے بجاۓ بیرونی اعضاء کا پتہ ہو… انھیں پھل، پھول، پودوں کے بارے میں معلوم ہو تاکہ کل کوئی اور مصطفی کمال خوبصورتی کے نام پر ماحولیات پر ظلم نہ کرسکے، عوام کو بیوقوف نہ بنا سکے…  انھیں اپنے سمندر، پہاڑوں، جھیلوں اور دریاؤں کے مطلق علم ہو، جانوروں کے بارے میں معلومات ہوں جو ہمارے ملک میں موجود ہیں… وہ سائنس پتہ ہو جسے وہ خود تجربہ کر سکیں… انھیں پیغمبروں اور صحابہ اکرام کی زندگی کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے…
.
لہٰذا دس سال تک کے بچے کے لئے تعلیم کا درجہ بدرجہ ہونا ضروری ہے… باہر ملکوں میں پانچویں جماعت کے بعد بھی گریجویشن ہوتا ہے… جسکا ایک مطلب تو یہی ہوا کہ یہ بچے اب بنیادی صلاحیتوں کے لئے کسی کے محتاج نہیں…
اگر یہ نہ ہوا اور بچے پھر بھی اسم، فعل، ضرب، تقسیم، جملے بنانے، چیزوں کو پہچاننے کے قابل نہیں تو پھر بچے نہیں بلکہ ماں باپ اور استاد فیل ہوۓ ہیں… والدین اور اسکولوں نے ملکر بچوں کے پانچ چھہ سال ضائع کردیے ہیں…  پیسہ، قربانیاں، وقت، محنت، نظام، سب ضائع گیا… لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں بھی پانچویں کے بعد گریجویشن کا سرٹیفکیٹ دینا شروع کردیا جاۓ… 
.
پاکستان میں بچے سالوں قرآن پڑھتے رہتے ہیں… پانچ پانچ دس دس منٹ روزانہ… اور پھر بھی انکا تلفظ صحیح نہیں ہوتا، کوئی تجویدی معلومات ناقص ہوتی ہے… اس میں بچوں کا قصور نہیں وہ بے چارے اسکول کے نڈھال کردینے والے نظام کے بعد یہ بھی بھگتتے ہیں… حالانکہ ایک بچہ آرام سے پانچ سال کی عمر تک نہ صرف قرآن ختم کر سکتا ہے بلکہ اس کے بنیادی قواعد کو بھی جان سکتا ہے… قرآن کے لئے جو نورانی قاعدہ  اور یسرنا القرآن استعمال کے جاتے ہیں وہ غیر منظّم ہیں اور ناقص بھی ہیں… 
.
قرآن کو صحیح پڑھنا سیکھنے کی ابتداء کرنے کے لئے اٹھارہ ہفتے کافی ہیں… اس دوران اتنی انڈ پینڈنٹ سکلز آ جاتی ہیں کہ باقی تمام قرآن اور اسکو سمجھنے کا عمل خود ہی آسان ہو جاتا ہے… 
.
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: