Labour Day – مزدوروں کا عالمی دن

The Crime Minister of Pakistan Yusuf Raza Gilani has increased labourer’s salary to Rs. 8000.  In current situation, this is his effort to bribe the oppressed labour community of Pakistan and to mend his public image.  Rs. 800o/month is not a sufficient amount for any size of family.  The food budget for a family of four is minimum Rs. 4000.  The lowest electric bill after load-shedding comes Rs. 800, plus gas makes it Rs.1000.  What can a person do in remaining 3000 rupees?

The biggest failure of our system came from the educational side, where educated people discriminate labourers as a lower category, who deserve only donation or a begging.

Labourer community don’t have an idea of their rights and demands.  All they know is to keep wailing and begging for just “roti and kapra” and all they care about is their ‘zaat biradri’ and their rituals.

.

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امراء کے در و دیوار ہلا دو 
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقین سے 
کنجشک فرو مایہ کو شاہین سے لڑا دو 
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی 
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو 
.
پاکستان کے وزیر جرائم یوسف رضا گیلانی نے مزدوروں کی تنخواہ آٹھہ ہزار روپے کر کے انھیں رشوت دینے کی کوشش کی تاکہ اس کا شاید کچھ امیج بہتر ہو جاۓ عوام کی نظر میں…  
پاکستان کے مزدوروں کا المیہ یہ ہے انہیں یہ بھی تو نہیں پتہ کہ کیا مطالبہ کریں، مطالبہ کا مقصد کیا ہو اور مطالبہ پورا ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں انکی زندگیوں میں کیا فرق پڑے گا…
.
جب مزدوروں کے منہ کے آگے مائیک جاتا ہے انکی ٹیپ شروع ہو جاتی ہے سیاست دنوں کی طرح… ہم غریب ہیں، ہمارے پاس کھانے کو نہیں، بری حالت ہے، بیماریوں کے علاج کے لئے پیسے نہیں، ہم بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن پڑھا نہیں سکتے، جہیز کی وجہ سے لڑکیوں کی شادیاں نہیں کرسکتے…   
.
مزدوروں کی تنخواہ اگر بیس ہزار روپے بھی کردی جاۓ تو انہوں نے یہ رٹے رٹاۓ جملے کہنے ہیں… ان میں سے ایک فیصد ہونگے جو واقعی کچھ کرنا چاہتے ہونگے اور انکے پاس مواقع نہیں… یہ جہاں جہاں کام کرتے ہیں وہاں بھی چل چلو کا کام کرتے ہیں، بے ایمانی، دھوکہ… اور اگر غربت اس کے لئے بہانہ ہے تو پھر تو یہ حالات نہیں بدلیں گا… یہ معاشرے میں ہمدردی، رحم، مدد قسم کے الفاظ کا غلط فائدہ اٹھانے کے عادی ہو گئے ہیں… 
یہ تعلیم کے لئے روتے ہیں… ان کو آفر دیں مفت تعلیم کی، یہ بھاگ جاتے ہیں، بچوں کو ادھر ادھر کام پر لگا دیتے ہیں… انکو قرآن پڑھانے کی بات کریں ہاں ہاں کر دیں گے، پھر غائب… ٹک کے دو دن یہ کچھ پڑھنا سیکھ  نہیں سکتے… اور لڑکیوں کو پڑھانے کا تو رواج ہی نہیں انکے ہاں… بس یہ چاہتے ہیں کہ کوئی بچوں پر ترس کھا کر انکو چار پیسے تھما دے اور یہ دعا دے دیں…
.
جا کر پوچھیں تو صاف کہتے ہیں ہماری لڑکیاں تو ہماری ذات برادری میں ہی بیاہی جاتی ہیں، پڑھنے کی کیا ضرورت… اور اس ذات برادری کی شادی کے لئے لاکھوں کا جہیز جمع کرتے ہیں وہ بھی بلاوجہ کی چیزوں پر مشتمل… 
.
یہ بیماریوں میں گھرے رہتے ہیں… کیوں صفائی کا خیال نہیں رکھتے… کس نے کہا ہے کہ کوڑے کے ڈھیر پر رہیں… جس طرح خود کو بیچتے ہیں چند روپوں کی خاطر ووٹ دینے کے لئے… اسی طرح مل کر مطالبہ کریں صفائی کا… جا کر منہ نوچیں مصطفیٰ کمال اور اسکی پارٹی کے تمام لیڈرز کا کہ کراچی کے اسی  فیصد  حصّے پر ناجائز قابض ہیں اور عوام کی صحت کا خیال نہیں… اور کچھ نہیں تو جا کر تھپڑ ماریں عمر شریف، جویریہ جلیل، سعود اور ایسے فنکاروں کے منہ پر جو گالیوں سے بھرپور پروڈکشنز کر سکتے ہیں لیکن اپنے چہیتے الطاف یزید کے کارندوں کی حیثیت سے کراچی کے عوام کی خدمت میں کوئی حصّہ نہیں لے سکتے… لعنت ہے ایسے فنکاروں پر جو ٹی وی پر کچھ اور اندر سے پاکستان کے غدّار…
.
انکی مدد کے لئے انکو چند ہزار دیں… پکنک پر چلے جائیں گے، میلاد میں دے دیں گے، کہیں اور خرچ کردیں گے… اپنی ذات برادری کے سحر سے ہی نہیں نکلتے… ان سے ملنے دور دراز علاقوں میں چلے جاتے ہیں… بھانجی کی شادی میں ایک فرج یا واشنگ مشین یا ٹی وی دے دیا…. ارے کیا فقیروں میں شادی کرتے ہیں لڑکیوں کی کہ سسرال میں گھر کے استعمال کی چیزیں بھی نہیں ہوتیں…  اب جہیز کا ذمہ دار تو زمانہ یا حکومت نہیں ہے… اور اگر یہ غلط رسم ہے تو خود اپنے رشتہ داروں، ذات برادری سے بات کریں… قانون کیا کرے گا اس رسم کے بارے میں…
.
ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہی سے روٹی یا دال چاول کھانے سے کوئی غریب نہیں ہو جاتا… اور امیر ہونے کے لئے روزانہ گوشت اور چکن کھانا ضروری نہیں… کھانا غربت یا امارت کی نشانی نہیں… اور ان خواہشات کے لئے زمانہ ذمہ دار نہیں…
.
تعلیم کے لئے بڑے بڑے اسکولوں میں جانا ضروری نہیں… تہذیب سے بات کرنے کے لئے کتابیں پڑھنا ضروری نہیں… کیوں بد تمیزی سے بات کرتے ہیں… 
انکو یہ عقل آنی چاہیے کہ انکو اپنے ہنر کو آج کی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے… کتنے مزدور ہیں، کیا
.
بیس پچیس روپے کا سرجیکل ماسک نہیں لے سکتے، کہ دھول مٹی سے بچیں رہیں… لکڑی کے کام، ماربل کاٹنے کے کام، گھر بنانے کا کام میں تو ضرورت پڑتی ہے… خود اپنی صحت کا خیال کیوں نہیں رکھتے… یا چلیں مطالبہ ہی کر لیں… 
ان مزدوروں کو تو باقاعدہ برین واشنگ کی ضرورت ہے… زندگی کی اہمیت اور اپنی عزت نفس کے لیکچرز کی… 
.
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: