The Purpose of Examination in Primary Schools – سالانہ امتحانات کا مقصد

What is the purpose of final examination in elementary school?

What should be the syllabus of final exams in elementary school?

What should be the pattern of examination papers in elementary schools?

.

آج کل اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا دور ہے… بچوں پر سلیبس اور ٹیوٹرز کا جتنا دباؤ ہے… شاباش ہے اس قوم کے بچوں کو کہ اپنے ہی استادوں اور والدین کے ظلم کی چکّی میں پستے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے ادب کی وجہ سے… طلبہ و طالبات کو کہتی ہوں کہ بھئی آواز اٹھاؤ کہ کیا پڑھنا ہے کیا نہیں، کیا شکایات ہیں… ایک نے آواز اٹھائی (ذرا غلط طریقےسے اٹھا لی) تو اسے اسکول سے نکال دیا… پھر یہ کہ بچے کہتے ہیں کیا شکایات کریں کس سے کریں اور کیسے… لکھنا نہیں آتا… اول لیولز کے بچوں کا یہ حال کہ کسی چیز میں ماہر ہونا تو دور کی بات، بات کرنے کے قابل نہیں… بس شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ یہ مضمون اچھا نہیں، وہ مشکل ہے… ہر مضمون سے بیزار… سارا سال گدھوں کی طرح کتابیں اٹھانے والے اور طوطوں کی طرح رتے لگانے والے تھکے تھکاۓ بچے… 
.
اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا کیا مقصد ہے؟
اگر کوئی یہ کہے کہ اسکول ایڈمنسٹریشن یہ چیک کرنا چاہتی ہے کہ بچہ اگلی جماعت میں جانے کے لئے تیار ہے کہ نہیں تو غلط جواب ہوگا… سارا سال بچوں کے دماغ کو رگڑ رگڑ کر جو مختلف ٹیسٹ لئے جاتے ہیں، بچوں کی حاضری، انکی دلچسپی، انکے ہوم ورک کا معیار… یہ سب اساتذہ کی نظر میں ہوتا ہے اور انھیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کون سا بچا کتنے پانی میں ہے… کراچی کے پرائیویٹ اسکولوں میں تو ویسے بھی اندر ہی اندر پوزیشنز بکتی ہیں، اسکولوں کے پسندیدہ ماں باپ کے بچوں کو کس طرح اندر ہی اندر سب بتا دیا جاتے ہیں کہ وہی فرسٹ سیکنڈ آئیں… ایسے ہی تو اسکول اونرز بڑی بڑی گاڑیوں اور بنگلوں میں نہیں  رہتے… اور کراچی میں تو زیادہ تر پرائیویٹ اسکولز ویسے بھی ایم کیو ایم کے سپورٹرز ہیں… مجرمانہ ذہنیت تو ہوگی نہ انکی اور بھارتی غلامی کا سبق ہی دیں گے یہ بچوں کو…
.
اور اگر یہ کہاں جے کہ اسکول والے والدین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انکا بچہ کتنا ذہین ہے یا کس حد تک تیار ہے اگلے لیول کے لئے تو یہ پہلے سے بھی زیادہ غلط جواب ہوگا… جن گھروں میں بچے اسکول جاتے ہوں اور وہاں رات بارہ ایک بجے تک جگا جاتا ہو، سارا سال شادیوں اور تقریبات سے دو تین بجے تک لوٹنا، نانیوں کے گھر وقت بے وقت جانا، بھارتی چینلز پر انکے فنکاروں کو گھر کے افراد اور انکی فحاشی کو گھر کا ماحول سمجھنا، ماں باپ کا خود کتابوں اور علم سے بیزار ہونا اور نے نظم و بے ضبط زندگی گزارنا… یہ سب والدین کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے… اور انھیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ انکی اولادیں کس قابل ہیں… ٹیوٹرز تو بچوں پرتعلیمی دباؤ ڈالنے کے لئے رکھے جاتے ہیں… 
البتہ اسکول والے اور والدین ایک دوسرے پر الزام ڈال کر اپنا فرض پورا ضرور کر لیتے ہیں… بچوں کا سال ضائع ہو وہ خیر ہے… 
.
سالانہ امتحانات کا مقصد طلبہ میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے کہ وہ اگلی جماعت میں جانے کے قابل ہیں اور جتنی محنت اس سال کی ہے، اگلے سال اس سے زیادہ کریں تو اور اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے… اس سے بچوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک پڑھنے، لکھنے اور حساب کتاب کے قابل ہوگئے ہیں… 
.
سالانہ امتحانات کا سلیبس کیسا ہونا چاہیے؟ 
ہمارے زمانے میں یعنی پچھلی صدی میں صرف دو امتحانات ہوتے تھے… ایک ششماہی اور دوسرے سالانہ… ششماہی امتحان میں پہلے چار مہینوں کا سلیبس ہوتا تھا کہ جو پڑھا ہے وہ آۓ گے اور سالانہ امتحانات میں پورے سال کا… پرچوں میں ایک دن کا وقفہ ہوتا تھا اور نہ ہو تو سالانہ امتحانات سے پہلے ایک ہفتے کی چوتھی ضرور ملتی تھی کہ طلبہ گھر پر خود پڑھائی کریں… امی اس ہفتے ہرجگہ آنا جانا بند کر دیتی تھیں اور ٹی وی بھی بند… گھر میں صبح شام کا پڑھائی کا وقت بنا دیا جاتا… وقت پر کھانا، وقت پہ سونا، وقت پہ کھیلنا… اردو، انگلش، ریاضی، سوشل اسٹڈیز (جس میں جغرافیہ شامل ہوتا)، سندھی، اسلامیات اور ڈرائنگ… نہ اردو ادب، نہیں انگلش لٹریچر، نہ کمپیوٹر… اپنے لیول کی چیزیں پڑھ کر پاس ہو جاتے… کبھی ٹیوشن نہیں پڑھا… ہاں بہت چھوٹی عمرمیں بھی اس قابل ضرور تھے کہ محلے کے بچوں کو انگلش اور اردو کے ابتدائی قاعدے اور گنتی سکھا سکیں… 
.
آج ماہانہ ٹیسٹ، سمسٹرز، سرپرائز ٹیسٹ، سالانہ امتحان… سارا سال سلیبس شیٹس ملتی رہتی ہیں… ساتھہ ہی ساتھ روزانہ دو تین ہوم ورک بھی… پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں جماعت تک کے بچوں کو یہ کہہ کہہ کر دہشت زدہ کیا جاتا ہے کہ کہیں سے بھی آجاۓ گے کچھ بھی آجاۓ گا… والدین یا ٹیوٹرز پپرز والی رات دو دو بجے تک بچوں کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ یہ بھی یاد کرو اور یہ بھی… 
یہی حال مدرسوں کے ہیں… پتہ نہیں کیوں ہمارے بڑے بچوں کو اذیت اور پریشانی میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں… 
امتحانی پرچے کیسے ہونے چاہئیں؟ 
امتحانی پرچے ایسے ہونے چاہئیں کہ طلبہ آسانی سے اسے دو گھنٹے میں حل کر سکیں اور ایک گھنٹہ اس میں اپنی غلطیاں نکال سکیں… زیادہ تر تو آبجیکٹوس ہونے چاہئیں جیسے خالی جگہ پر کریں، صحیح غلط، جملے بنیں قسم کے سوالات… چار پانچ ایسے سوال جنکا جواب دو تین جملوں سے زیادہ نہ ہو… مضمون، درخوست، خلاصہ، افہام ٹفھین، یہ سب جونئیر ہائی یننی چھٹی جماعت سے شروع ہونا چاہیے… اسی طرح الجبرا اور مشکل مشکل فارمولے بھی پرائمری اسکول میں نہیں ہونے چاہئیں… 
.
آج کل جو پرچے بنتے ہیں اس میں تین گھنٹے میں اتنے مکاری والے سوال ہوتے ہیں کہ بچہ پہلے ہی سوچ لے کہ فیل ہوا ہی ہوا… سارا سال کے تھکے تھکاۓ بیزار بچوں کے سامنے جب پرچہ آتا ہے تو اس میں پتہ نہیں کہاں کہاں سے ٹیچرز اپنی عمر کے سوال ڈال کر بچوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہیں… پرائمری اسکول کے طلبہ اور وہ بھی جو آج کی جاہل ٹیچرز سے پڑھے ہوں کیا خاک پرچہ حل کریں گے… 
.
ارفع کریم، ستارہ بروج اکبر، موسی فیروز جیسے چھہ سات بچوں کے ورلڈ ریکارڈ بنا لینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بچے پر تعلیمی قیامتیں ڈھا دی جائیں…
 .
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: