غیر صحیح افعال کے قواعد

.

غیر صحیح افعال کے قواعد
.
مہموز 
.
باب سمع – اَمِنَ يَأْمَنُ – اَذِنَ يَأْذَنُ – اَلِفَ يَأْلَفُ
باب نصر – اَمَرَيَأْمُرُ – اَکَلَ يأْكُلُ – اَخَذَيَأْخُذُ
باب فتح – سَاَلَ يَسْأَلُ – قَرَءَ يَقْرَءُ
.
١- جب کسی لفظ میں دو ہمزہ اکھٹے ہوں- پہلا متحرک اور دوسرا ساکن تو دوسرے ہمزہ کو پہلے ہمزہ کے موافق بدل دیتے ہیں… یہ لازمی تبدیلی ہے…
.
٢- ہمزہ ساکن ہو اور ما قبل حرف متحرک ہو تو ہمزہ کو اس پہلے حرف کی حرکت سے بدل دینا جائز ہے… یہ اختیاری تبدیلی ہے…
.
٣- ہمزہ اگر مفتوحہ اور اس سے ما قبل حرف پر پیش یا زیر ہو تو ہمزہ کو پہلے حرف کی حرکت سے تبدیل کردینا جائز ہے… لیکن تبدیل شدہ حرف پر فتحہ برقرار رہے گی…
.
٤- ہمزہ متحرک ہے اور ما قبل ساکن حرف علت ہو تو ہمزہ کو ما قبل حرف میں بدل کر دونوں کا ادغام کردیتے ہیں…
.
٥- ہمزہ استفہام کے بعد اگر معرف با للام اسم آجاۓ تو ہمزہ استفہام کو مد دے دیتے ہیں…
.
٦- ہمزہ استفہام کے بعد ھمزہ الوصل سے شروع ہونے والا کوئی فعل آجاۓ تو صرف ہمزہ استفہام پڑھا جاتا ہے… ہمزہ الوصل لکھنے اور پڑھنے میں گر جاتا ہے… اس قاعدے میں لازمی تبدیلی نہیں آتی… 
.
مضاعف
.
رَنَّ یَرِنُّ – شَدَّ یَشِدُّ – رِقَّ یَرِقُّ – ذَلَّ یَذِلُّ  – جَلَّ یَجِلُّ  – حَقَّ یَحِقُّ  
.
٧- کسی مادّے میں کوئی حرف دو دفعہ آجانے اور مثل اوّل یعنی پہلا حرف ساکن اور مثل ثانی یعنی دوسرا حرف متحرک ہو تو انکا ادغام کر دیتے ہیں…
.
٨- اگر مثلین (دو ایک جیسے حرف) متحرک ہوں تو مثل اوّل کی حرکت کو گرا کر ساکن کر دیتے ہیں پھر انکا ادغام ہو جاتا ہے..
.
٩- اگر مثل اوّل متحرک ہو اور مثل ثانی ساکن تو ادغام نہیں ہوتا…
.
١٠- اگر مثل اوّل متحرک ہو اور مثل ثانی مجزوم ہونے کی وجہ سے ساکن ہے تو ادغام اور فک ادغام دونوں جائز ہیں…
.
١١- کسی لفظ کے ادغام شدہ مضارع سے فعل امر بنانے کے لئے علامت مضارع ہٹائیں اور لام کلمہ مجزوم کرنے سے  فُ عْ لْ کی  شکل بنے تو ل کلمے کو حرکت دینی پڑتی ہے… ما قبل ضمہ ہو تو ل کو کوئی بھی حرکت دی جا سکتی ہے… ما قبل فتحہ یا کسرہ ہو تو ضمہ نہیں، فتحہ یا کسرہ میں سے کوئی حرکت دی جا سکتی ہے…
.
١٢- باب ا فتعال کا ف کلمہ اگر د ذ یا ز میں سے کوئی حرف ہو تو باب ا فتعال کی ت تبدیل ہو کر وہی حرف بن جاتی ہے جو ف کلمہ پر ہے… بھر ادغام ہوتا ہے…
.
١٣- باب ا فتعال کا ف فکلمه اگر ص ض ط ظ میں سے کوئی حرف ہو تو باب ا فتعال کی ت تبدیل ہو کر ط بن جاتی ہے… ایسی صورت میں ادغام کی ضرورت نہیں ہوتی الّا یہ کہ ف کلمہ بھی ط ہی ہو…
.
١٤- باب تفعل یا تفاعل کے ف کلمہ پر اگر ث د ذ ز س ش ص ض ط ظ میں سے کوئی حرف آجاۓ تو ان ابواب کی ت تبدیل ہو کر وہی حرف بن جاتی ہے جو ف کلمہ پر ہے تو ادغام ہوتا ہے…
.
١٥- باب تفعیل اور تفاعل کے جن دو صیغوں میں دو ت یکجا ہو جاتی ہیں اور ایک کو گرا دینا جائز ہے…
.
معتل
.
متعل مثال
باب فتح سے –  وَذَرَ یُوذَرُ –  وَصَلَ یُوصَلُ – وَضَعَ یُوضَعُ   
باب ضرب سے – وَعَدَ یُوعِدُ –  يَسَرَ یَیْسِرُ –  وَقَعَ یُوقِعُ  – وَزَنَ یُوزِنُ  
                          وَجَدَ یُوجِدُ – وَزَرَ یُوزِرُ –  وَکَلَ یُوکِلُ  
باب حسب سے –  وَرِثَ یُورِثُ  
باب سمع سے –    یَقِنَ یَیْقَنُ  – وَقِفَ یُوقَفُ  
.
متعل اجوف 
اجوف واوی – قَالَ یَقُولُ (ق و ل) -عَاذَ یَعُوذُ (ع و ذ) – صَابَ یَصُوبُ (ص وب) 
                      ذَاقَ یَذُوقُ (ذ وق) – تَابَ یَتُوبُ (ت وب) – کَانَ یَکُونُ (ک ون) 
                       بَاعَ یَبِیْعُ (ب ی ع)
اجوف یائی –  زَادَ  یَزِیدُ (ز ی د) خَافَ یَخَافُ (خ وف) 

.
متعل ناقص
ناقص واوی – تَلَا یَتْلُوخَلَا یَخْلُو  دَعَا یَدْعُو ( دَعَوَ)  رَضِیَ یَرْضَی (رَضِوَ)  
                    عَصَی یَعْصِی    سَقَی یَسْقَی   
ناقص یائی – خَشِیَ یَخْشَی نَسِیَ یَنْسَی  لَقِیَ یَلْقَی  سَعَى يَسْعَى  (سَعَىَ)  
                  ھَدَی یَھْدِیْ  مَشَی یَمْشَی 
.
متعل لفیف
لفیف مفروق – 
لفیف مقرون – 
.
١٦- باب فتح، ضرب، حسب میں مثال واوی کے فعل مضارع میں ‘ و ‘ گر جاتا ہے… باب سمع اور کرم میں باقی رہتا ہے… سواۓ باب سمع کے وسع یسمع اور وطی یطو کے… مجہول میں ‘ و ‘ واپس آجاتا ہے…
.
١٧- مثال میں باب ا فتعال کے ف کلمہ کی  ‘و’  یا  ‘ی’ کو ت میں تبدیل کر کے ا فتعال کی ت کے ساتھہ مدغم کر دیتے ہیں… ‘و’ کو تبدیل کرنا لازمی ہے… جبکہ ‘ی’ کی تبدیلی اختیاری ہے… اور اسکا اطلاق پوری صرف صغیر پر ہوتا ہے…
.
١٨- مثال فعل امر کے لئے علامت مضارع گرائیں اگر پہلا حرف متحرک ہے تو ہمزہ الوصل کی ضرورت نہیں… ورنہ ہمزہ الوصل لگا کر مجزوم کر دیتے ہیں… 
.
١٩- حرف علت اگر متحرک ہو اور ما قبل فتحہ ہو تو حرف علت کو الف میں تبدیل کر دیتے ہیں…
.
٢٠- حرف اگر متحرک ہو اور ما قبل ساکن، تو حرف علت اپنی حرکت ما قبل کو منتقل کر کے خود حرکت کے موافق حرف میں تبدیل ہو جاتا ہے…
.
٢١- اجوف کے  ‘ع’ کلمہ کے بعد والے حرف پر اگر علامت سکون/جزم ہو تو ‘ع’ کلمہ کا تبدیل شدہ حرف علت گر جاتا ہے… اگر ف کلمہ ساکن تھا اور انتقال حرکت کی وجہ سے متحرک ہوا تو حرکت برقرار رہے گی… لیکن اگر ف کلمہ اصلا مفتوح تھا تو اسکی فتح کو پیش یا زیر میں تبدیل کر دیتے ہیں…
.
٢٢- ثلاثی مجرد میں اسم الفاعل بنانے کے لئے فاعل کے ‘ع’ کلمہ پر آنے والے حرف علت کو ہمزہ میں تبدیل کردیتے ہیں…
.
٢٣- اجوف واوی سے اسم المفعول بنانے کے لئے ‘ و ‘ اپنی حرکت ما قبل کو منتقل کرے گا… اسکے بعد حرف ساکن ہے… اسلئے وہ گر جاۓ گا… اور مَفْوْلٌ بنے گا… 
.
٢٤- اجوف یائی کا اسم المفعول مَفِيْلٌ اور مَفْعُولٌ دونوں پر آتا ہے…
.
٢٥- حرف علت اگر مکسور ہے اور اسکے ما قبل ضمہ کو کسرہ میں بدل کر حرف علت کو ‘ی’ ساکن تبدیل کر دیتے ہیں…
.
٢٦- ایک لفظ میں دو حروف علت یکجا ہو جائیں اور ان میں پہلا ساکن اور دوسرا متحرک ہو تو ‘و’ کو ‘ی’ میں تبدیل کر کے انکا ادغام کر دیتے ہیں…
.
٢٧- اجوف واوی میں مزید فیہ کے باب تفعیل، مفاعلہ، تفعل، تفاعل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی… مزید فیہ کے ‘ل’ کلمہ پر اگر سکون ہو تو ‘ ع ‘ کلمہ حرف علت گرے گی لیکن اسکے ما قبل کی حرکت برقرار رہے گی… باب افعال اور استفعال کے مصدر میں دو الف یکجا ہوجائیں تو ایک الف کو گرا کر ‘ ة ‘ کا اضافہ کردیتے ہیں…
.
٢٨- ا فتعال اور انفعال کے مصدر میں اجوف واوی کی ‘و’ تبدیل ہو کر ‘ی’ بن جاتی ہے… لیکن ‘ ی ‘ ہو تو تبدیلی کی ضرورت نہیں…
.
٢٩- حرف علت متحرک ہو اور ما قبل فتحہ ہو تو حرف علت کو الف میں تبدیل کر دیتے ہیں…
.
٣٠- ناقص کے لام کلمہ کا حرف علت اور صیغہ کا حرف علت اگر یکجا ہو جائیں تو لام کلمہ کا حرف علت گر جاتا ہے… پھر ‘ع ‘ کلمہ پر اگر فتحہ ہے تو وہ برقرار رہے گی… اگر ضمہ یا کسرہ ہے تو اسے صیغہ کے حرف علت کے مناسب رکھنا ہوگا…
.
٣١- مضموم ‘و’ کے ما قبل اگر ضمہ ہو تو ‘و’ ساکن ہو جاتی ہے اور مضموم ‘ی’ کے ما قبل کسرہ ہو تو ‘ی’ ساکن ہو جاتی ہے…
.
٣٢- کسی لفظ کے آخر میں آنے والی ‘و’ کے ما قبل اگر کسرہ ہو تو ‘و’ کو ‘ی’ میں تبدیل کر دیتے ہیں…
.
٣٣- جب ‘ و’ کسی لفظ میں تین حرفوں کے بعد ہو یعنی چوتھے نمبر پر یا اسکے بعد ہو اور اسکے ما قبل ضمہ نہ ہو تو ‘ و ‘ کو ‘ ی ‘ میں تبدیل کر دیتے ہیں…
.
٣٤- ساکن حرف علت کو جب مجزوم کرتے ہیں تو وہ گر جاتا ہے… اور اسکو منصوب کریں تو ‘و’  یا  ‘ ی ‘ واپس آجاتا ہے… 
.
٣٥- ناقص کے لام کلمہ پر اگر ضمتین ہو اور ما قبل متحرک ہو تو لام کلمہ گر جاتا ہے… اور اگر اسکے ما قبل اگر ضمہ یا کسرہ تھی تو اسکی جگہ کسرتین آۓ گی اور فتحہ تھی تو فتحتین آۓ گی… لیکن ما قبل ساکن ہو اور مثلین ہو تو ادغام ہوگا…
.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: