اسمعیل میرٹھی کی نظمیں

.

برسات 
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا  
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا 
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی  
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی 
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی  
تو بے جان مٹی میں جان آگئی 
زمیں سبزے سے لہلانے لگی  
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی 
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل  
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل 
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے  
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے 
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا  
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا 
.
پانی ہے کیا چیز 
دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی  
جو دانا ہو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے  
گرہ کھل جاۓ تو فورا ہوا ہے 
نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ  
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ 
جو ہلکا ہو اسے سر پر اٹھاۓ  
جو بھاری ہو اسے غوطہ دلاۓ
لگے گرمی تو اڑ جاۓ ہوا پر  
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر 
ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے  
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے 
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے  
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے 
اسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں  
اسی سے تازہ دم ہوتے ہیں حیواں 
تواضع سے سدا پستی میں بہنا  
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
.
سچ کہو 
سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ              
ہے بھلے مانسو کا پیشہ سچ 
سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز    
سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز 
سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد      
فکر سے پاک, رنج سے آزاد 
سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر      
جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر 
سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو      
سہل کرتا ہے سخت مشکل کو 
سچ ہے سارے معاملوں کی جان      
سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان 
سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف  
سچ کرادے گا سب قصور معاف 
وہی دانا ہے جو کہ ہے سچا  
اس میں بڈھا ہو یا کوئی بچہ 
ہے برا جھوٹ بولنے والا
آپ کرتا ہے اپنا منہ کالا 
فائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ  
جاۓ گا ایک روز بھانڈا پھوٹ 
جھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو
جھوٹ ذلت کی بات ہے اخ تھو! 
.
شفق 
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار          
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار 
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ              
جنھیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ 
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے              
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے 
ذرا دیر میں رنگ بدلے کی                
بنفشی و نارنجی و چنپئی
یہ کیا بھید ہے! کیا کرامات ہے            
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے 
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے          
باڑ بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ 
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ  
ہرے بن میں گویا لگادی ہے آگ 
اب آثار پیدا ہوۓ رات کے                  
کہ پردے چھٹے لال بانات کے 
.
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
اگر طاق میں تم نے رکھ دی کتاب        
تو کیا دو گے کل امتحاں میں جواب 
نہ پڑھنے سے بہتر ہے پڑھنا جناب  
کہ ہو جاؤ گے ایک دن کامیاب
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
نہ تم ہچکچاؤ، نہ ہرگز ڈرو                
جہاں تک بنے کام پورا کرو 
مشقّت اٹھاؤ، مصیبت بھرو                
طلب میں جیو، جستجو میں مرو
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
زیاں میں بھی ہے فائدہ کچھ نہ کچھ      
تمہیں مل رہے گا صلہ کچھ نہ کچھ 
ہر اک درد کی ہے دوا کچھ نہ کچھ      
کبھی تو لگے گا پتا کچھ نہ کچھ 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
تردّد کو آنے نہ دو اپنے پاس  ہے        
بے ہودہ خوف اور بے جا ہراس 
رکھو دل کو مضبوط، قائم حواس        
کبھی کامیابی کی چھوڑو نہ آس 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
.
 

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل

.

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل
یہ قیامت کے بارے میں کہا گیا ہے… لیکن ہمارے والدینوں نے اپنے بچوں پریہ قیامت پہلے ہی نازل کردی…
.
والدین کے اپنے بچوں کو کم عمری میں زیادہ سے زیادہ اور انکے ذہن سے بڑھ کر علم دینے کے پاگل پن نے بچوں کو بچپنے میں ہی بوڑھا کردیا ہے… اور وہ بھی اس طرح  کہ ہربچہ ہر مضمون میں اوّل آۓ ورنہ وہ نکمّہ ہے…
اسکول ایڈ منسٹر یشنزکے اپنے اسکولوں کی مشہوری اور زیادہ سے زیادہ فیس لینے کی دوڑ نے بچوں کو بوڑھوں کی طرح تھکا دیا ہے… باہر سے درآمد شدہ سلیبس اور اپنے پسندیدہ، کھاتے پیتے رشوت دینے والے گھرانوں کے بچوں کو پوزیشنز دینا انکا بزنس چارم ہے… 
.
مونٹیسری لیول اور پہلی دوسری جماعت تک تو بچے کسی نہ کسی طرح محنت کر کے کچھ کامیابی دکھاتے ہیں اور پھر تھکنا شروع ہو جاتے ہیں… آگے جماعتوں میں وہ بیزار نظرآتے ہیں… اکثر ماں باپ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ “بچپن میں یہ اتنا ذہین تھا، اب پتا نہیں کیا ہو گیا ہے پڑھتا ہی نہیں”…
.
خود سوچیں کہ بچے تھکیں گے نہیں، پاگل نہیں ہونگے، بیزارنہیں ہونگے تو کیا کریں گے… اسکول کے دنوں میں ہڑتالیں اور چھٹیاں ہو جاتی ہیں اور پھر بچوں کو ہفتہ کو بلایا جاتا ہے… امتحانات کے زمانے میں کرکٹ اور دوسری اٹریکشنز رکھی جاتی ہیں… یا ہنگامے اور بجلی وغیرہ کی لوڈ شیڈنگ… 
پھرہر ٹیچر یہ کرتی ہے کہ ابھی ایک مضمون پڑھایا اور دوسرے تیسرے دن ٹیسٹ دے دیا… اس سے بھی بڑھ کر سرپرائز ٹیسٹ، جو کسی بھی دن لے لئے جاتے ہیں… انکے علاوہ فائنلز اور دوسرے امتحانات الگ ہیں… 
.
موسم کی سختی اور غیرمعیاری جگہوں پر چھہ سات گھنٹے گزارنے کے بعد ٹرانسپورٹ کی تکلیفات اور پھر گھر آکر مولوی صاحب سے قرآن اور گھنٹوں ٹیوشن پڑھنا اور ٹیسٹ کی تیاری کرنا…  
یہ تعلیم دینے کا کونسا طریقہ ہے…
.
.

Happy Pakistan Day – 23rd March

Today is 23rd Mach, The Pakistan Day.   Is this the day for government to announce a holiday and media to show their interest in it?  What is common man’s participation in celebrating it?

That is it.  Whatever has happened is past.  The youth should take over Pakistan now.  They are talented, they are energetic, they are powerful.  They can make mistakes and learn from them.  I bet they don’t want to listen to the failure stories of our politicians.  No more unnecessary discussion for them.  They would want to see their fellows making world records.  They should stand up against unnecessary rituals and traditions.  They should force government to listen to them.  They should demand for what they want.

.

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے؟

وہ کیا گردوں تھا ، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا؟

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالاتھا جس نے پاﺅں میں تاجِ سرِدارا

تمدن آ فریں ،خلّاقِ آ ئین ِ جہاں داری

وہ صحرائے عرب ، یعنی شتر بانوں کا گہوار ا

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہونہیں سکتی

کہ تو گفتار ، وہ کردار تو ثابت ، وہ سیارہ 

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آبا کی

جودیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتاہے سیپارا

.
آج ٢٣ مارچ ٢٠١٢ ہے… یوم پاکستان… آج کے دن کی ایک عام پاکستانی کی زندگی میں کیا اہمیت ہے… شاید یہ کہ حکومت نے چھٹی کا اعلان کردیا ہے… اور میڈیا کی طرف سے شوروغوغا غل غپاڑہ مچایا جانا ہے کہ “قوم قومی جوش جذبے کے ساتھ یوم پاکستان منا رہی ہے”… لیکن یہ تو حکومت اور میڈیا کی آوازیں ہیں… عام پاکستانی کی آواز کیا ہے… 
.
کیا آج کے عام پاکستانی کے قومی جوش جذبے کا مقابلہ ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کے جلسے میں موجود ایک عام ہندوستانی سے کیا جا سکتا ہے؟… کیا انکے نزدیک اقبال پارک کی اہمیت منٹو پارک سے زیادہ ہے؟… کیا وہ مینار پاکستان کی طرح قرارداد پاکستان کو بھی سر اٹھا کردیکھنے کے قابل سمجھتے ہیں؟…. 
١٩٤٠ کے ایک عام ہندوستانی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی ہمت اورشعور تھا کہ اپنے لئے ایک الگ خطہ زمین کا مطالبہ کرے اور اسے قائم کر کے دکھا دے… کیا ٢٠١٢ کے کسی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی جرات اور مردانگی ہے کہ اس خطہ زمین کا دفاع کرسکے… 
.
زبان کی طاقت سے، کہ بات کہہ لے یا نغمہ بن جاۓ 
الفاظ کی طاقت سے، کہ تقریر یا شاعری کر لے 
ہاتھ کی طاقت سے، کہ گریبان پکڑ لے 
ہتھیارکی طاقت سے، کہ رعب میں لا سکے 
قلم کی طاقت سے، کہ تحریرسے سمجھا ۓ  
علم کی طاقت سے، کہ دلیل سے راہ دکھا ۓ 
یا پھرایمان کی طاقت سے، کہ خدا کا پیغام اور رسول کا ترجمان بن جا ۓ 
.
پاکستان کو بننا چاہیے تھا کہ نہیں؟… یہ فیصلہ ١٤ اگست ١٩٤٠ کو ہو گیا تھا…
.
پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے کہ سیکیولر؟… یہ دلائل علامہ اقبال کے ١٩٣٠ کے خطبۂ الہ آباد میں اور قائد اعظم کے ١٩٤٠ کے خطبۂ صدارت میں دیے جا چکے ہیں… اور وہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ…
.
پاکستان میں لوگ گمراہ اور مجرمانہ ذہنیت کے کیوں ہیں اور اتنے مسائل اور مصیبتوں میں کیوں گھرے ہیں؟… اس کا جواب… سوره المائدہ کی آیت ٥١ میں ہے، “اور الله ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا”….. سوره الانعام کی آیت ٢١ میں ہے، “اور بے شک، ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے”….. سوره الانعام، آیت ٤٧، “اور کہو ان سے کہ تم دیکھتے نہیں کہ جب الله کا عذاب آتا ہے، اچانک یا علی الاعلان، تو کیا ہلاک کرتا ہے کسی کو ظالموں کے سوا؟”…….
.
پاکستان کا اب کیا ہوگا اور اس کو اب کون سنبھالے گا؟…. پاکستان میں ایک دو نہیں اٹھارہ کڑوڑ انسان بستے ہیں… ان میں کچھ نہیں کچھ نہیں تو ١٠ کڑوڑ بچے اور نو جوان تو ہیں ہی… یہ سب کے سب تو باہر جانے سے رہے… چند ہزار چلے بھی گئی تو باقی کہاں جائیں گے… بس وہی سنبھالیں گے بھی….
ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کے بہت سے بزرگ اپنی انا، خاندانی روایات، جذباتی بلیک میلنگ اوراپنی ذات کے سحر سے بھر نہیں نکلنے والے… جو ٥٠ سے اوپر ہیں اور “میں نہ مانوں” قسم کے ہیں، ان کو انکے حال پر چھوڑ دیا جا ۓ… 
.
پاکستان نوجوانوں کے حوالے کر دیا جاۓ… کامیاب نہیں بھی ہوۓ تو ناکامیوں کے مزے تو اڑالیں گے… ان کے دل میں یہ حسرت نہ ہو گی کہ کچھ بھی نہیں کیا… اچھا نہیں تو برا کر کے دکھادیں گے… بیٹھے تو نہیں رہیں گے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے… ظاہر ہے جس قسم کا خوفناک ماحول بزرگ پاکستانیوں نے پچھلے ٢٠، ٣٠ سالوں میں تخلیق کیا ہے… اس میں ان بچوں اور جوانوں نے کیا سیکھنا ہے… گھروں میں بزرگوں کا خوف، سڑکوں پر سیاسی غنڈوں کا…… لہذا غلطیاں بھی یہ خوفناک ہی کریں گے… کرنے دیں… خود ہی سیکھ لیں گے جینا…
اور نوجوانوں کو بس اتنا خیال ضرور کرنا ہو گا کہ پرانی رسم، رواج، روایات، دینی ہوں یا سماجی یا خاندانی، بری یا فالتو ہیں تو ان سے جان چھڑائیں… چاہے کتنا ہی کوئی برا مانے… بلا وجہ کے منفی محاورے اور کہاوتوں کو گفتگو سے باہر نکال دیں… 
١٠ کڑوڑ بچے چند نکمے سیاست دانوں کی ناکامیوں کی کہانیاں سن کر کیا سیکھیں گے… بچے بچوں سے اور نوجوان نو جوانوں سے سیکھتے ہیں…بڑوں کو تو انکی ہدایت کا کام کرنا چاہے… جب یہ گرنے لگیں تو سنبھال لیں…
.
ہاں اس نسل کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ….اپنی زبان، اپنی زمین، اپنی قوم …. انکے بغیر کتنی بھی بڑی کامیابی ہو، مقبول نہیں ہوتی، دنیا اسے مانتی ہی نہیں… دنیا میں بہت سے پاکستانی بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہے ہیں لیکن دوسرے ملکوں کی شہریت کی وجہ پاکستانی انہیں نہیں جانتے… عبد القدیر خان، عبد الستار ایدھی، عمران خان، ارفع کریم،  شرمین چناۓ کو ساری دنیا پاکستان کے نام سے پہچانتی ہے… 
.
کاش نو جوانوں کو علامہ اقبال کی آہ سحر لگ جا ۓ… انکی نظر، انکا سوز جگر اور نور بصیرت مل جا ۓ….
.
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے 
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 
.
World Youth Scrabble Championship
.
.
.

As a matter of fact, Pakistan is the matter of Faith.

.
1-10 Hijri – Prophet Muhammad (pbuh) said, “I feel cool breeze coming from Hind.”  

1867 – Sir Syed Ahmed Khan said, “It was now impossible for Hindus and Muslims to progress as a single nation.”

1930 – Dr. Muhammad Iqbal said, “I therefore demand the formation of a consolidated Muslim State in the best interest of India and Islam.  For India, it means security and peace resulting from an internal balance of power; for Islam, an opportunity to rid itself of the stamp that Arabia Imperialism was forced to give it, to mobilize its law, its education, its culture, and to bring them into closer contact with its own original spirit and with the spirit of modern times.”
.
23rd March, 1940 
Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah said, ” The Hindus and the Muslims belong to two different religions, philosophies, social customs, and literature.  It is quite clear that Hindus and Muslims derive their inspirations from different sources of history.  They have different epics, their heroes are different, and they have different episodes.  Very often the hero of one is foe of the other, and likewise, their victories and defeats overlap.  To yoke together two such nations under a single state, one as a numerical minority and the other as a majority, must lead to growing discontent and the final destruction of any fabric that may be so built for the government of such a state.”   
.
The statement of Pakistan Resolution (Lahore Resolution) said, “No constitutional plan would be workable or acceptable to the Muslims unless geographical contiguous units are demarcated into regions which should be so constituted with such territorial re-adjustments as may be necessary.  That the areas in which the Muslims are numerically in majority as in the North-Western and Eastern zones of India should be grouped to constitute independent states in which the constituent units shall be autonomous and sovereign.  
That adequate, effective and mandatory safeguards shall be specifically provided in the constitution for minorities in the units and in the regions for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights of the minorities.”
.

Pakistan (Lahore) Resolution was drafted by Sir Sikandar Hayat Khan, Chief Minister of Punjab.
It was read by Maulvi Abul-Kasim Fazlul Huq, Chief Minister of Bengal and was seconded by Chaudhry Khaleeq-uz-Zaman.
It was accepted by Maulana Zafar Ali Khan from Punjab, Sardar Aurangzeb from North-West Frontier Province (now Khyber Pakhtunkhwah), Sir Abdullah Haroon from Sindh, Qazi Esa from Baluchistan.  
……………………………………………………………………………………………………………………………………..
.
23rd March is called “Pakistan Day” because on this day Lahore Resolution was unanimously acknowledged by the leaders of Bengal, Baluchistan, Punjab, Sindh and North-West Frontier Province as the legal declaration for a separate Muslim state. 
.
This resolution is based upon the Two-Nation Theory (TNT) presented by Dr. Muhammad Iqbal, which actually is the reinforcement of the Qur’anic concept of Muslims as a distinguished nation among world communities.  Kalimah Tayyabah (the pure declaration) “There is no deity but Allah, Muhammad is the messenger of Allah” is the soul of this theory which is an incentive sufficient to unite Muslims for the cause of Islam.
.
The prophecy of Prophet Muhammad (pbuh) gradually developed into an idea, a theory, a statement, a demand, a campaign/movement and finally into a state called Pakistan.  At this point, from achievement to identity and from liberty to responsibility for all Pakistanis.  The idea behind making of Pakistan is similar to the state of Madinah and in that relevance Pakistan has already initiated the process of global domination of Islam.  In making of Pakistan, the world has witnessed that the ‘Victory of Makkah’, as peaceful and unarmed as it was, is possible in any era.  Yet, the struggle to defend it is as bloody as it could be for any promised piece of land.  
.
May God Bless Pakistan!  Ameen
.
٢٣ مارچ یوم پاکستان کہلاتا ہے کیونکہ ١٩٤٠ میں اسی دن بنگال، سندھ، بلوچستان، پنجاب اور سرحد کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر نہ صرف علامہ اقبال کے دو نظریے کی بنیاد پر تیار کی گئی قرار داد لاہور کو پاس کیا بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اس پر عمل کرنے کا بھی عہد کیا… علامہ اقبال کا دو قومی نظریہ اصل میں اعادہ ہے قرآن کے اس تصور کا کہ مسلمان دنیا کی ہر قوم سے مختلف اور منفرد ہے… اور کلمہ طیبہ “نہیں کوئی عبادت کے لائق سواۓ الله کے، محمد الله کے رسول ہیں” اس نظریہ کی روح ہے… جو کہیں کے بھی مسلمانوں کو کسی مقصد کے لئے متحد کرنے کے لئے کافی ہے… 
رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا… “مجھے خطہ ہند سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں”… آپ صلی الله علیہ وسلم کے ان الفاظ نے ایک نیک شگون سے، ایک خیال، ایک نظریہ، ایک اعلان، ایک مسودے، ایک قرار داد، ایک مطالبے، ایک تحریک اور با الآخر ایک خطہ زمین کی شکل اختیار کر لی جو پاکستان کہلایا… قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ نظریہ، کامیابی سے شناخت اور آزادی سے ذمہ داری بن گیا… قیام پاکستان اور خلافت مدینہ کا محرک اور محور یہی نظریہ ہے… اور اس لحاظ سے پوری دنیا میں اسلامی خلافت کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم… قیام پاکستان کی صورت میں ساری دنیا کو یہ یقین جو جانا چاہیے کہ خلافت مدینہ اور فتح مکہ جیسے عظیم اور غیر مسلح معرکے آج چودہ سو سال بعد بھی قابل عمل ہیں… البتہ انکی حفاظت اور انکا دفاع بھر پور مسلح  طاقت کے بغیر ممکن نہیں..ا 
پاکستان کوئی عام ملک نہیں… پاکستان کے دفاع اور اس کی ترقی کی ذمہ داری ہر نسل کے ہر شخص پرعائد ہوتی ہے… بالکل اسی طرح جس طرح باقی زندگی کے کام… پچھلے چودہ سو سالوں میں دنیا کا ہر عقیدہ، ہر نظریہ، ہر نظام اور ہر قرارداد آزمائی جا چکی ہے سواۓ اسلام کے… آج ساری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف اٹھی ہوئیں ہیں… بہت سی دشمنی میں، کچھ حیرت میں اور کچھ سوالیہ نشان بن کر… کہ پاکستان ان شخت ترین حالات سے کیسے نمٹے گا… اندرونی طور پر جرائم، جہالت، غفلت اور بیرونی مداخلت اور دشمنی… اور یہی چیلنج ہے آج کے ہر پاکستانی کے لئے… 
یہ صحیح ہے کہ دشمنوں کو اندر تک رسائی سیاست دانوں اور غداروں نے دی… لیکن اس سے بڑی اور بری حقیقت یہ ہے کہ وہ غدار چاہے کسی محکمےمیں ہوں،  ہمارے ہی عام گھروں اور خاندانوں کے لوگ تھے جن کو ہم نے نظر انداز کیا… اور دشمن تخریبی کاروائیوں کے لئے ہمارے ہی درمیان گھومتے پھرتے ہیں… نہ ہم آج تک انھیں پہچان سکے اور نہ انکے خلاف حکمرانوں کو کسی اقدام پر مجبور کرسکے… یہ ہماری غفلت اور نا اہلی ہے… اسی کو جہالت کہتے ہیں اور یہی سب سے برا جرم بھی ہے…
الله پاکستان کی حفاظت فرماۓ… آمین 
.

Walking Bus – پیدل چلیے

Our early school years were in early 70s.  Karachi wasn’t a crowded place like it is now.  Traffic was also less than now and so was the pollution.  There were few private schools around but not all of them had facility of school vans.  Our school was at such a distance that we were unable to go by ourselves.  Being a very busy housewife, ammi had not time so she hired an old lady for pick and drop.  As she was already looking for some work, few more parents from our neighbourhood hired her for the same reason.  Ammi told us not to let her carry our school bags because she was physically weak and used to wear burqa (traditional covering consists of long loose gown to cover the entire body and veiled scarf to cover head, shoulder and chest).  It was a fun walk for us.  We had to walk behind or by her side on the way to school and back home.  It was a ten-minute distance which we used to cover by watching out the riders, stepping up and down on sidewalks, plucking flowers from plants hanging over the boundary walls of houses and seeing people getting ready for the day.

.

If this was an equivalent to the concept of Walking Bus, then it had very few advantages.  For parents, it was a cheap pick, drop facility and a safe trip of children to and from school.  For uneducated, poor, old age people, it provided with a good source of income.  It was us who made our short journey fun because at that time there were no public parks around and we were not allowed to play out on the streets.

.
In 1992, David Engwicht, a social innovator from Brisbane, Australia, introduced the idea of “Walking Bus” in order to solve traffic related problems.  The concept also served as a physical activity for children, awareness to the surroundings and building good terms among community members.  His idea crossed the borders and reached UK and USA with more objectives pertaining to the problems in their societies.
Many children in most countries do walk to school in groups but it cannot be defined as Walking Bus.  Walking Bus has its own particular initiatives along with the flexibility in size, use of transportation, walking rules or any useful idea related to traffic and children.
.
.
“واکنگ بس یا پیدل بس” کے نام سے ١٩٩٢میں پیش کئے جانے والے اس خیال کو دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنایا اوراپنی نئی نسل کو فائدہ پہنچایا… اس کا مقصد بنیادی طورپربچوں میں ٹریفک اور ماحولیات کے متعلق احساس پیدا کرنا تھا… کسی بھی علاقے کے کچھ بچے مل کرایک یا دو بڑے اشخاص کی نگرانی میں گھر سے سکول تک اور سکول ختم ہونے کے بعد واپس گھرتک پیدل راستہ طے کرتے ہیں… اس دوران وہ آس پاس کی چیزوں پر نظر ڈالتے اور اس پر بات چیت بھی کرتے جاتے ہیں… راستے میں کیا چیز صحیح ہے اور کیا غلط، کوئی تبدیلی آنی چاہیے یا نہیں… انہیں اپنےعلاقے کے مسائل سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے… دوسرے یہ کہ علاقے کے لوگ ایک دوسرے سے اجنبی نہیں رہتے…
.
کیا پاکستان میں ایسے تجربات نہیں کئے جا سکتے؟… ضروری نہیں کہ ہر کام بڑے پیمانے پر ہو … مجھے یاد ہے، آٹھہ نوسال پہلے کی بات ہے… ہم صبح منہ اندھیرے اور اکثرشام کو بھی نزدیک کے پارک جایا کرتے تھے… وہاں ایک شخص اکیلا آیا کرتا تھا، کوئی پچاس پچپن کے درمیاں عمرہوگی … اور بچوں کو جمع کر کے انکے ساٹھ فٹبال کھیلتا اور پھر ایک تھیلی ہاتھ میں پکڑ کر بچوں سے پارک میں بکھرے ہوۓ کاغذ وغیرہ چنواتا… لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں، آٹے میں نمک کے برابر… 
اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم چلتے چلتے راستے میں ملنے والے بچوں سے ہیلو ہاۓ ہی کر لیں… ایسے ہی روک کر سلام کرلیں، کوئی اچھا جملہ کہہ دیں… ابھی عادی نہیں ہیں، آھستہ آھستہ ہو جا ئیں گے… میڈیا کے لوگوں کو تو بڑا شوق ہوتا ہے خود کو منوانے کا اور مشہور ہونے کا… وہ یہ کام بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں… اس طرح پاکستانی چہروں کو بھی مثبت پہچان ملے گی… ورنہ بھارتی اداکاروں کا جادو توڑنا بہت مشکل ہے…
.
پاکستان میں بھی بہت پہلے پیدل سکول جانے کا رواج تھا… اب بھی بچے نزدیک کے سکول پیدل ہی جاتے ہیں… اکثردو یا تین بچے ملکرجاتے اور آتے ہیں… لیکن اسے “واکنگ بس یا پیدل بس” کا نام نہیں دیاجا سکتا کیوںکہ اس میں ایک تو کسی بڑے کی نگرانی کا اور دوسرے راستہ طے کرنے کا اصل مقصد بھی پورا ہونا ضروری ہے… یعنی بچوں میں ٹریفک اور ماحولیات سے لگاؤ پیدا کرنا…
پاکستان میں اگر بڑے ساتھ ہوتے بھی ہیں، چاہے پیدل یا گاڑی میں تو وہ خود قانون توڑ رہے ہوتے ہیں… جگہ جگہ تھوکنا، سگنل توڑنا، غلط گاڑی کھڑی کرنا، کوڑا پھیلانا، سگریٹ پینا… 
.
دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں میں ہر شخص اک ترقی پسند یا بہتری کی سوچ رکھتا ہے… اس کی سوچ کا تعلق صرف اس کی اپنی ذات اور خاندان کے فائدوں کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سے اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی مستفید کرتا ہے… ان ملکوں میں بھی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں، دینی گروہ ہوتے ہیں… لیکن وہ اک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو کر عوام کو تقسیم نہیں کرتے… نہ اپنے معاشرے میں نفرت کو
بڑھنے دیتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں… 
.
پاکستان میں تعلیم کا گرتا ہوا معیار اور جہالت کا بڑھتا ہوا تناسب کوئی اختلافی مسلہ نہیں… لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب چند بچے کچھے پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ لوگ بھی اپنے تمام اختیارات کے دعوؤں کے باوجود کوئی تعلیمی بہتری لانے کے معاملے  بے بس نظرآتے ہیں… جو خود بے بس ہو وہ کسی دوسرے کو اختیار کیسے دلا سکتا ہے… اور اگرکوئی یہ کہے کہ ووٹ ملے گا تو کام ہوگا اور پارلیمنٹ میں بل پاس ہوگا تو اس سے بڑھ کر دھوکے باز کوئی نہیں… 
.
پاکستانی معاشرہ مغربی دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں سے بہت مختلف ہے… سماجی قدروں کے اعتبار کے لحاظ سے بھی اور مذہبی عقائد کے لحاظ سے بھی… اور ترقی کے نام پر ان دونوں سے ٹکرانا بیوقوفی نہیں جرم بھی ہے کیوں کہ یہ صرف اور صرف فساد اور نفرت کو جنم  دیتا ہے … اور یہی ہو بھی رہا ہے… آزادی اور حقوق کے مغربی تصور کو پھیلانے کے لئے کسی بھی قسم کے میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ خطرناک ہے اگر سوچ سمجھ کر نہ کیا جائے… لیکن وہ ہو چکا ہے… آج ہماری نوجوان نسل پریشان حال کھڑی ہے کہ کدھر جائے…
بقول غالب…
ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر  
کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے 
.
یہ بات ٹھیک ہے کہ سیاستدانوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں نہ صرف بدنام کیا بلکہ اکیلا بھی کردیا… لیکن عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے… خاص کرپاکستانی تارکین وطن… جنہوں نے باہر ملکوں میں رہ کر بھی  کبھی پاکستان کے حق میں کوئی لابی، کوئی فورم نہیں بنایا… یہ سارے کام ہم سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیتے ہیں… گلوبلا ئزیشن کے بعد دنیا تیرا میرا ملک نہیں رہ گئی… ہر ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ مفادات ہیں اور کسی ایک ملک کا خطرے میں ہونا اس پورے خطّے کے لئے خطرہ ہوتا ہے…  لہٰذا اگر پاکستانی چاہتے تو بہت سے معاملات میں دلچسپی لے کر حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈال سکتے تھے جیسے کہ تعلیم، صحت، ماحولیات، انصاف… صرف عطیات بھیج دینے سے تو قومی فرض ادا نہیں ہو جاتا… اب بھی کیا بگڑا ہے… 
.

Children بچے

Once there was a town, where lived many families with their children.  The parents were worried about their children’s behaviour.  They complained to each other that their children are irresponsible, abusive, undisciplined, non-serious about their education.  An old scientist also lived there.  He wanted to help the parents so he prepares a magical formula called “parentade” to improve children’s behaviour.  Parents were excited.  The formula worked.  Children started doing things on time, by themselves.  No more mess on dinning tables, no more shouting and running around, no more fighting.  Genius talks, mind blowing ideas, they all got A+ in their exams.  That was it.  Parents were sick and tired.  They were sick and tired of coping with their children’s extraordinary discipline and responsible behaviour.  Their children refused to accept the fun ideas their parents had for them, instead they started guiding their parents to make their life useful.  Finally, all parents arranged a meeting and invited the scientist.  They wanted him to prepare the antidote to that formula.  They wanted their children back to normal as they were before.

Above is the summary of an English poem “Parentade”, a very interesting idea for parents and to learn their lesson.

.

کب کب ایسا نہیں ہوتا کہ جب جب کمپیوٹر پر کچھ لکھنے بیٹھتی  ہوں تب تب کمپیوٹر کے سب سب بانیوں کوسلام کرنے کو لب مل مل جاتے ہیں، دل کھل کھل جاتا ہے، ذہن دھل دھل جاتا ہے… گو کہ گفتگو میں تکرار ایک عیب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں… انگریزی میں یہ بھی زبان خوبی کہلاتی ہے…

May God guide my parents, ameen!

.
اگر کمپیوٹر شیطانی ایجاد ہے بھی تو فی الحال تو آدھے سے زیادہ اسلام کو پھیلانے اور اسلامی مظاہروں کا کم اسی پر ہو رہا ہے… اردو بھی شاید اب کمپیوٹر پر ہی لکھی پڑھی جا رہی ہے… میں نےتو کچھ بچوں کو کہا بھی کہ بھی انٹرنیٹ پر جواردوٹا ئیپنگ کی سا ئیٹس ہیں ان پر اردو ٹائپ کیا کرو تو اردو کی ہجے ٹھیک ہو جا ے گی… شعروشاعری بھی ہے، کہانیاں بھی، محاورے بھی… طالبعلموں کے لئے تو بہت فاعدہ مند ہے… 
.
پرسوں ڈاکٹرعلی رضا نقوی کی خبر سنی تو دل باغ باغ ہو گیا… ایران کی حکومت نے انہیں کافی ایوارڈز دیے ہیں اوراب ایران کی حکومت نے انھیں اپنے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ سے نوازا ہے… ڈاکٹرعلی رضا نقوی ایک پاکستانی ہیں… انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، دونوں کو علم سے کوئی دلچسپی نہیں… بالکل  ٹھیک کہا…با لکل صحیح اگر اس ملک میں علم کی اہمیت ہوتی تو علم کے  ساتھ گورنر عشرت العباد اتنا بڑا اور برا مذاق نہ کرتے کہ رحمن ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیتے… کھلا جرم ہے یہ… لیکن یہ دلچسپی جب پیدا ہوتی ہے جب اہل زبان اپنی زبان میں نئے خیالات کا تعارف کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی قوم کے مزاج، ذہنی سطح اور مختلف عمروں کا خیال رکھتے ہوۓ… خیر یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اردو میں کچھہ لکھا ہی نہیں جا رہا… حقیقت یہ ہے جو ڈاکٹرعلی رضا نقوی نے بیان کی کہ عوام کو دلچسپی نہیں…
.
تو ایک کام یہ بھی ہے کہ عوام کو بد تمیزی اور جہالت سے نکال کر شائستگی اور اردو کی طرف کیسے لایا جاۓ… اکثر لوگ شائستگی کا مطلب لیتے ہیں چکنی چپڑی باتیں مسکراتے ہو ۓ کرنا، بلاوجہ لوگوں کی تعریف کرنا، جیسے کہ صبح کے شوز میں ہوتی رہتی ہیں… شائستہ نام رکھنے سے، ہندی تلفظ میں بات کرنے سے، بھارتی اداکاروں کے قدموں پر گر پڑنے سے، انکو خدا بنا کر پیش کرنے سے کوئی شائستہ نہیں ہوجاتا… بلکہ یہ امن، دوستی اور انسانیت کا نہایت گھٹیا تصور ہے… لیکن کیا کریں، جب کوئی اپنی ذاتی ترقی اور پیسے کے پیچھے پاگل ہوجاۓ تو اس سے کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے… 
.
ویسے لوگوں کو میری باتیں پسند نہیں آتیں، کہتے ہیں اس طرح کہنے سےلوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں… ارے بھئی، لوگ پاکستان کی قدریں برباد کریں، ملک توڑیں، پاکستانیوں کو غلط سوچ دیں، اردو زبان کے ساتھ مذاق کریں، عورت کی عزت کو ناچنے گانے جلوے دکھانے کے لئے مخصوص کر دیں، معصوم بچوں کے ذہنوں کو منی اور شیلا کی جوانیوں کے تصور سے آلودہ کریں اور میں شائستگی دکھاؤں انکو… انکے دل ٹوٹنے کا خیال کروں، ارے ان کمبختوں کا تو سر توڑ دینا چاہیے… اور اس کالے  بھوتوں کے بادشاہ کا جو لندن میں بیٹھا ہے قیمہ کر دینا چاہیے…
.
خیر… شائستگی کا مطلب ہے ڈھنگ کی باتیں، جس میں ملک و قوم کی عزت اور غیرت کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی ذہنی تعمیر کا بھی خیال رکھا جاۓ… 
.
اس سلسلے میں کچھہ ٹی وی ڈراموں نے اچھی کوشش کی… جیسے کہ “ہمسفر” میں احمد فراز کی غزل… سب کو یاد ہو گئی… ڈراموں کے نام فیض احمد فیض اور دوسرے شاعروں کے مصروں پر بھی اچھی بات ہے… کاش مزاحیہ ڈراموں کے نام محاوروں پر ہوتے… بلکہ پاکستان کی ساٹھہ فیصد آبادی یعنی بچوں کے لئے, جو کہ اکثریت ہونے کے باعث اپنا جمہوری حق رکھتے ہیں, چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو بنائی ہی جا سکتی ہیں… دس ہزار قسم کے علمی مقابلوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے… بچے ویسے ہی مقابلوں سے بڑے خوش ہوتے ہیں… اتنے چینلز ہیں لیکن بچوں کے لئے ایک بھی نہیں… دو چار پروگرامز ہوتے ہیں وہ بھی شاید ہی کوئی بچہ دیکھتا ہو… سب ہندی ڈبنگ کیے ہو ۓ انگلش چینلز دیکھتے ہیں…  دنیا کے بچے جب بڑے ہوۓ تو انہوں نے اپنے بچوں کو کھیلوں کے نئے سٹائلزدیے… پتنگوں، غبّاروں، پتلیوں کے تماشوں، سٹریٹ گمیز، کو نئی شکل، نئے رنگ دیے… امریکا اور دوسرے ممالک میں بڑے بڑے اداکار بچوں کی فلموں میں کام کرتے ہیں، مشہور گلوکار گانے گاتے ہیں، بڑے بڑے با صلاحیت ہدایتکار اور مصنف اس میں دلچسپی لیتے ہیں…
.
پاکستان کی فلمی تاریخ میں “بیداری” واحد فلم ہے جس میں سنتوش کمار صاحب نے کام کیا، کوئی ہیروئن نہیں تھی، صرف بچے اور انکا استاد جو انھیں پاکستان سے محبت کا درس دیتا رہتا ہے… “آؤ بچوں سیرکرائیں تم کو پاکستان کی”، “یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران”، “ہم لاۓ ہیں طوفان سے کشتی نکل کے”… اسی فلم کے گانے تھے جو آج تک گاۓ جا رہے ہیں… ٹی وی پر “عینک والا جن”، سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرامز کے علاوہ کوئی بچوں کی چیز نہیں جو بچوں نے دیکھی ہو شوق سے… اور تو اور چودہ اگست پر یوم آزادی کے پروگرامز میں بھی وہی گھسے پٹے اداکار گلوکار آ جاتے ہیں پرفارمنس کے لئے اور بڑے بوڑھے وزراء اور پرانے اداکار گلوکار خوش ہو کر تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں… ارے ایک ایک منٹ کا سکرپٹ لکھ کر نہیں دیا جا سکتا بچوں کو کہ صدر، وزیراعظم کے سامنے پرفارم کر سکیں…  
.
بچے بچوں سے سیکھتے ہیں اور شوق سے سیکھتے ہیں… پاکستان کے بچوں کا تو جواب نہیں… پہاڑوں جیسی ہمّت ہے انکی… اور دریاؤں اور سمندروں جتنا خون جگر، جو ساری زندگی رستا رہتا ہے اور ختم نہیں ہوتا… کیسے کیسے حالات سے گذرتے ہیں، عجیب بے ہنگم ماں باپ کو برداشت کرتے ہیں… بدتمیز، جاہل، گا لیاں دینے والے اور مجرم سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دہشت سہتے ہیں… اور ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ بڑے ہوں… کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بچوں کا دل چاہتا ہوگا کہ کاش ہمارے ماں باپ ہمارے ہاں پیدا ہو ۓ ہوتے تومزہ چکھا دیتے والدینیت کا…
.
انکی پیدائش کے وقت سے جو ڈرامہ شروع ہوتا ہے تو وہ وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اذیت سے چیخ نہ اٹھیں… اور اس وقت مولوی حضرات سامنے آ جاتے ہیں اپنے جنّت اور جہنّم کے فتوے لے کر… حمایت علی شاعر کے الفاظ کو تھوڑا سے تبدیل کردیں تو ماں باپ سے کہا جا سکتا ہے… تخلیق کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جان کا زیاں، اولاد کو اولاد سمجھ مشغلہ دل نہ بنا… بھوک، پیاس، گندگی، خوف، بیماریاں، زبان اور قومیت کے بارے میں احساس کمتری، چالیس چالیس پچاس پچاس سالوں کی عمروں والے زندہ کارٹون…. کوئی اچھا نظارہ نہیں پاکستان اور خاص کر کراچی کے بچوں کے پاس، جگہ جگہ تو الطاف حسین کی بد صورت تصویروں کی صورت میں اذیت کے سامان موجود ہیں… اچھی سوچ آۓ کہاں سے…

Answers to Students’ Queries

Students are humans too.  They have brains to think and mind to judge.  They want to know about many things.  They want to discuss issues and express their opinions.

Q1) What is the link between social development and economic development?

Q2) Why do we have to learn all this?  What are we gonna do with it?

Ans) Let second go first.

Education is not just to finish syllabus, give exams and get a degree.

The reason you have to learn all this is that you have to learn how to live in this world.  Because if you don’t, people will live your life and you will have to be dependent upon people to live.

Right now you are relying upon your parents.  They are feeding you, they are buying you clothes, you live in their house.  They cannot do that forever.  After 10 or 15 years, you will have to take care of yourself.  You will have a family of your own.  How will you do that?

Now come to the first question.

Before understanding the terms and the link between them, just remember two things; first, you need money to buy necessities of life.  With more money, you can get luxuries you want.  Second, economic development does not prosper in a society which is not socially prepared for it.

Economic development is a process of gathering resources in order to generate more revenue, people of which are the key resource.

Economic development is not a convenience to work 9 to 5 and get salary at the end of the month.  It is to create a convenient environment for such conveniences.  People work 9 to 5 or flexible hours in offices, factories, hospitals, clinics, pharmacies, airports, seaports, schools, colleges, malls and shops, etc.  These places provide employment.  If they run properly, expand and make good profit, they can produce more job vacancies.

There are many people who do not want to work just 8 hours a day.  They want to earn more money than monthly salary.  They have saved some money and are capable of running a business.  If they own a shop or a factory or a clinic, they would need helpers.  That would create more jobs for people.

Television channels, radio stations, newspaper and magazines also contribute in job activities.

People also work at places owned by the government, such as electric and gas corporations, police department, public schools and colleges, government hospitals, national T.V. channel, national airline, etc.

Foreigners, the citizens of other countries, can also be good source of income.  They visit our country, pay for accommodation, do shopping and buy souvenirs.

It is people earn from people.  People employee people.  People are the part of any economic cycle.  People should know that they need each other, so they should try to be as helpful as they can in financial matters.

Social development is a process of organizing and utilizing human energies in a way that can satisfy their needs and desires.  It is a process of thinking and struggling for betterment in all aspects.

The true link between the two terms is that when you think about ‘better life’ (which is social development), you think of having money at the same time and how to avail it.  You look out for possibilities in your very surroundings or in a far place.  You find out that money making requires things that you must to consider; appearance, objectives, degree, skills, experience, job hours, working environment, nature of job/job description, attitude, moral values, job-manners, chances of learning more and earning more, etc.

People cannot be selected for jobs with inappropriate appearance.  They cannot keep a job or run a business if they are short-tempered, dishonest, disloyal, crooked and fraud and untrustworthy.

Just think about it.

Would your parents hire a tutor if he/she appears lousy, does not come on time and is not qualified for teaching?

Would you eat from a restaurant that is unhygienic and serves cheap quality food to customers?

Would people go to a doctor who’s clinic is dirty and he/she is not kind and expert in his profession?

Which shopkeeper would get more business, the one who does not weigh or measure accurately or the one who is honest?

How long can a crooked and fraud real estate agent, a sales person, a motor mechanic, a pharmacist or anyone run their business?  How will they end up finally?

Would foreigners visit your country if your streets and roads are full of dirt and garbage, there are no pleasing sights, historical landmarks are not maintained, or people are living a miserable life?

So, what is the conclusion?  You want business from world, you want world to respect you, you world to trust you – you will have to provide reasons for that or nothing will happen.

Social and Economic Development in Pakistan

Let’s start from where we are standing right now.  How optimistic are you, the students, about the working opportunities when you will complete your suggested course of study?  You are not living 50 or 60 years ago when families were fed on the earning of one person.  The unemployment rate was high at that time too but they survived because they were contented with whatever they had.  Their purpose of life was to give families “roti, kapra and makan”.  You are living at the same place but in a different era.  You are growing up in a competitive environment, domestically and internationally.  Your working field is not limited to your national boundaries.  It encompasses the entire globe and thus, you need to prepare yourself for global challenges to achieve your goals.

Before comparing yourself to the students of advanced countries and your life-style to their life-style, just do compare the opportunities too.  Students in foreign countries start working part-time at the age of 14 or 15.  By the age of 16, 17, 18, they have to live on their own, unless they agree to pay their share in rent, food and utilities.  They don’t bother their parents to have enough money for their wedding shopping, dowry and other events.  They celebrate what they can afford.  They don’t mourn and blame their parents if they can’t.  They are not after luxuries but what gives them pleasure and keeps them independent.  They take responsibility of their actions and behaviour.

In contrast, you take for granted all the favours done to you by your parents.  Remember, your parents are not your servants.  They have a right to live their lives too.  Having children and raising them up is not a life time confinement.  You have a right to stand for your rights but not at the cost of your parent’s earnings.  Your abilities to support yourself financially following all moral values would be the best proof to support your demand for freedom.