Walking Bus – پیدل چلیے

Our early school years were in early 70s.  Karachi wasn’t a crowded place like it is now.  Traffic was also less than now and so was the pollution.  There were few private schools around but not all of them had facility of school vans.  Our school was at such a distance that we were unable to go by ourselves.  Being a very busy housewife, ammi had not time so she hired an old lady for pick and drop.  As she was already looking for some work, few more parents from our neighbourhood hired her for the same reason.  Ammi told us not to let her carry our school bags because she was physically weak and used to wear burqa (traditional covering consists of long loose gown to cover the entire body and veiled scarf to cover head, shoulder and chest).  It was a fun walk for us.  We had to walk behind or by her side on the way to school and back home.  It was a ten-minute distance which we used to cover by watching out the riders, stepping up and down on sidewalks, plucking flowers from plants hanging over the boundary walls of houses and seeing people getting ready for the day.

.

If this was an equivalent to the concept of Walking Bus, then it had very few advantages.  For parents, it was a cheap pick, drop facility and a safe trip of children to and from school.  For uneducated, poor, old age people, it provided with a good source of income.  It was us who made our short journey fun because at that time there were no public parks around and we were not allowed to play out on the streets.

.
In 1992, David Engwicht, a social innovator from Brisbane, Australia, introduced the idea of “Walking Bus” in order to solve traffic related problems.  The concept also served as a physical activity for children, awareness to the surroundings and building good terms among community members.  His idea crossed the borders and reached UK and USA with more objectives pertaining to the problems in their societies.
Many children in most countries do walk to school in groups but it cannot be defined as Walking Bus.  Walking Bus has its own particular initiatives along with the flexibility in size, use of transportation, walking rules or any useful idea related to traffic and children.
.
.
“واکنگ بس یا پیدل بس” کے نام سے ١٩٩٢میں پیش کئے جانے والے اس خیال کو دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنایا اوراپنی نئی نسل کو فائدہ پہنچایا… اس کا مقصد بنیادی طورپربچوں میں ٹریفک اور ماحولیات کے متعلق احساس پیدا کرنا تھا… کسی بھی علاقے کے کچھ بچے مل کرایک یا دو بڑے اشخاص کی نگرانی میں گھر سے سکول تک اور سکول ختم ہونے کے بعد واپس گھرتک پیدل راستہ طے کرتے ہیں… اس دوران وہ آس پاس کی چیزوں پر نظر ڈالتے اور اس پر بات چیت بھی کرتے جاتے ہیں… راستے میں کیا چیز صحیح ہے اور کیا غلط، کوئی تبدیلی آنی چاہیے یا نہیں… انہیں اپنےعلاقے کے مسائل سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے… دوسرے یہ کہ علاقے کے لوگ ایک دوسرے سے اجنبی نہیں رہتے…
.
کیا پاکستان میں ایسے تجربات نہیں کئے جا سکتے؟… ضروری نہیں کہ ہر کام بڑے پیمانے پر ہو … مجھے یاد ہے، آٹھہ نوسال پہلے کی بات ہے… ہم صبح منہ اندھیرے اور اکثرشام کو بھی نزدیک کے پارک جایا کرتے تھے… وہاں ایک شخص اکیلا آیا کرتا تھا، کوئی پچاس پچپن کے درمیاں عمرہوگی … اور بچوں کو جمع کر کے انکے ساٹھ فٹبال کھیلتا اور پھر ایک تھیلی ہاتھ میں پکڑ کر بچوں سے پارک میں بکھرے ہوۓ کاغذ وغیرہ چنواتا… لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں، آٹے میں نمک کے برابر… 
اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم چلتے چلتے راستے میں ملنے والے بچوں سے ہیلو ہاۓ ہی کر لیں… ایسے ہی روک کر سلام کرلیں، کوئی اچھا جملہ کہہ دیں… ابھی عادی نہیں ہیں، آھستہ آھستہ ہو جا ئیں گے… میڈیا کے لوگوں کو تو بڑا شوق ہوتا ہے خود کو منوانے کا اور مشہور ہونے کا… وہ یہ کام بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں… اس طرح پاکستانی چہروں کو بھی مثبت پہچان ملے گی… ورنہ بھارتی اداکاروں کا جادو توڑنا بہت مشکل ہے…
.
پاکستان میں بھی بہت پہلے پیدل سکول جانے کا رواج تھا… اب بھی بچے نزدیک کے سکول پیدل ہی جاتے ہیں… اکثردو یا تین بچے ملکرجاتے اور آتے ہیں… لیکن اسے “واکنگ بس یا پیدل بس” کا نام نہیں دیاجا سکتا کیوںکہ اس میں ایک تو کسی بڑے کی نگرانی کا اور دوسرے راستہ طے کرنے کا اصل مقصد بھی پورا ہونا ضروری ہے… یعنی بچوں میں ٹریفک اور ماحولیات سے لگاؤ پیدا کرنا…
پاکستان میں اگر بڑے ساتھ ہوتے بھی ہیں، چاہے پیدل یا گاڑی میں تو وہ خود قانون توڑ رہے ہوتے ہیں… جگہ جگہ تھوکنا، سگنل توڑنا، غلط گاڑی کھڑی کرنا، کوڑا پھیلانا، سگریٹ پینا… 
.
دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں میں ہر شخص اک ترقی پسند یا بہتری کی سوچ رکھتا ہے… اس کی سوچ کا تعلق صرف اس کی اپنی ذات اور خاندان کے فائدوں کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سے اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی مستفید کرتا ہے… ان ملکوں میں بھی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں، دینی گروہ ہوتے ہیں… لیکن وہ اک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو کر عوام کو تقسیم نہیں کرتے… نہ اپنے معاشرے میں نفرت کو
بڑھنے دیتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں… 
.
پاکستان میں تعلیم کا گرتا ہوا معیار اور جہالت کا بڑھتا ہوا تناسب کوئی اختلافی مسلہ نہیں… لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب چند بچے کچھے پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ لوگ بھی اپنے تمام اختیارات کے دعوؤں کے باوجود کوئی تعلیمی بہتری لانے کے معاملے  بے بس نظرآتے ہیں… جو خود بے بس ہو وہ کسی دوسرے کو اختیار کیسے دلا سکتا ہے… اور اگرکوئی یہ کہے کہ ووٹ ملے گا تو کام ہوگا اور پارلیمنٹ میں بل پاس ہوگا تو اس سے بڑھ کر دھوکے باز کوئی نہیں… 
.
پاکستانی معاشرہ مغربی دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں سے بہت مختلف ہے… سماجی قدروں کے اعتبار کے لحاظ سے بھی اور مذہبی عقائد کے لحاظ سے بھی… اور ترقی کے نام پر ان دونوں سے ٹکرانا بیوقوفی نہیں جرم بھی ہے کیوں کہ یہ صرف اور صرف فساد اور نفرت کو جنم  دیتا ہے … اور یہی ہو بھی رہا ہے… آزادی اور حقوق کے مغربی تصور کو پھیلانے کے لئے کسی بھی قسم کے میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ خطرناک ہے اگر سوچ سمجھ کر نہ کیا جائے… لیکن وہ ہو چکا ہے… آج ہماری نوجوان نسل پریشان حال کھڑی ہے کہ کدھر جائے…
بقول غالب…
ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر  
کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے 
.
یہ بات ٹھیک ہے کہ سیاستدانوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں نہ صرف بدنام کیا بلکہ اکیلا بھی کردیا… لیکن عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے… خاص کرپاکستانی تارکین وطن… جنہوں نے باہر ملکوں میں رہ کر بھی  کبھی پاکستان کے حق میں کوئی لابی، کوئی فورم نہیں بنایا… یہ سارے کام ہم سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیتے ہیں… گلوبلا ئزیشن کے بعد دنیا تیرا میرا ملک نہیں رہ گئی… ہر ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ مفادات ہیں اور کسی ایک ملک کا خطرے میں ہونا اس پورے خطّے کے لئے خطرہ ہوتا ہے…  لہٰذا اگر پاکستانی چاہتے تو بہت سے معاملات میں دلچسپی لے کر حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈال سکتے تھے جیسے کہ تعلیم، صحت، ماحولیات، انصاف… صرف عطیات بھیج دینے سے تو قومی فرض ادا نہیں ہو جاتا… اب بھی کیا بگڑا ہے… 
.
Advertisements

Happiness for Elderly People – خوشیاں بزرگوں کے لئے

The sources of happiness are innumerable.  They are spread all around and are present in every colour, even in dark in form of sweet dreams.
.
Happiness matters a lot in old age.  Elderly people should know how to make their last years cheerful for themselves and memorable for others.  Humans are not scarce and all mankind is one family.  They can make new ties and build new relationships.  It is a blessing to spend time among a group of your own age.  Oldies can make new friends, listen to their stories, comfort each other, share good memories and enjoy hobbies, such as reading, writing, painting, watching movies.  They are weak physically but still can discuss ideas.
.
In Pakistan, retirees, disabled or unwanted parents or grandparents who get to live in shelters or charities should be grateful to God Almighty for handing them over to better care-takers and new companions.  They should also be thankful to the administration, staff and donors to supply them with food, water, clothes and accommodation.
.
To make Pakistan a productive society, people must change their mind-set of relying upon their children in old age.  It was a problem long ago, not now.  Kudos to Mr. Abdus-Sattar Edhi and many other charities for their life time services in this regard.  Recalling the apathy and insensitivity of blood relation instead of enjoying the new fortune is ungratefulness and not a healthy exercise.
.
Old age is not a curse or a disease.  People just need to remind themselves that they can’t be completely useless after having a life time experience of almost everything.  If nothing they can do, still can use their tongue to express their feelings, say invocations in abundance, speak out the truth, teach the goodness, recite Qur’an, names of Allah, wazaif, pure words and say prayers for everyone.
.
However, there are many examples of how some men and women in old age succeeded in sustaining themselves.  There is a lady, illiterate though and underprivileged, at the age of 60, she has found a job to look after disabled old lady in a well-off family.  I have spoken to many rickshaw drivers aged above 70 who are driving rickshaw and making their own money because they don’t want to be a burden on their sons and daughters.  There is a gol-gappay wala, a decent man with a charming smile, age around 65, still working while his sons are earning too.  Many gardeners of age above 70 work at road-side nurseries and provide home services for taking care of plants.
.
If elderly people can find working opportunities under these crucial circumstances, why can’t the educated youth of Pakistan?
.
.
شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی
مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے….
جوش ملیح آبادی
کون کہتا ہے نجومی، ہاتھ دیکھنے والے، زائچہ بنانے والے لوگوں کے مستقبل کے بارے میں پتہ ہوتا ہے کہ کل کیا ہوگا… ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھہ کر کیا دیکھنا نصیب ہوگا یا شام کو اچانک کیا خبر مل جائے گی… ابھی یہی ہوا… اچانک دروازے پر دستک ہوئی، چوکیدار نے کہا باجی نیچے ڈاکٹر ریحانہ آئی ہے آپ کو بلا رہی ہے… میں نے کہا انکو کیسے پتا چلا کہ کہ میں یہاں ہوں اور وہ خود اوپر کیوں نہیں آئیں… کہنے لگا ہمیں نہیں پتہ، آپ نیچے آ کر خود بات کرو… میں گئی تو واقعی وہی تھیں… تین سال بعد دمام سے واپس آئیں ہیں، بتانے لگیں کہ وہاں کینسر ہو گیا تھا، پھر آپریشن ہوا، اب ٹھیک ہیں… شکر خدا کا… حالانکہ نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ہیں پھربھی خواتین کو زندہ دلی کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے بتانے کی ماہر ہیں… ڈاکٹر بھی اپنے علاج کے لئے کبھی کبھی دوسرے ڈاکٹروں کا محتاج ہو جاتا ہے… 
آج کے دور میں سب سے زیادہ کس کی اہمیت ہے؟  بالکل ٹھیک کہا، ٹی وی کی…چلیں ڈراموں کی بات کرتے ہیں… صرف تین ڈرامے…
ڈراموں پر اطہر شاہ خان جيدي کے دو شعر یاد آ گۓ…  
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے ديکھا نہ کسي نے جو قلمکار چلا
چھيڑ محبوب سے لے ڈوبے گي کشتي جيدي
آنکھ سے ديکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
.
“ہمسفر” دیکھنے میں اچھا ہے لیکن اس پر بات کرنے کو کچھہ خاص نہیں ہے…
.
“میرے قاتل میرے دلدار” اچھا ہے، اس میں ہیروئن کا فیصلہ اچھا لگا کہ اس نے اپنے جیٹھہ سے شادی کرلی جس نے اس کا گھر تباہ کیا تھا… کیوں باقی لاٹھی اسی کے ہاتھہ میں ہے جس سے وہ سب کو ٹھیک رکھتا ہے… 
.
“جنت سے نکالی ہوئی عورت”… بڑا اچھا لگا اس میں ثمینہ پیرزادہ کا کردار… گوکہ مجھے یہ خاتون پسند نہیں لیکن ہیں خوبصورت اور بہت اچھی اداکارہ بھی… ایک خاتون کو ساٹھہ سال کی عمرمیں طلاق ہو جائے تواسکی زندگی کیا ہو جاتی ہے… لیکن مجھے بہت ہی پسند آیا کہ ایک تو یہ خاتون جاب کرتی ہیں اور دوسرے کسی کا معاملات میں نہیں بولتی اور تیسرے یہ کہ بیٹے کے گھر میں اپنی وجہ سے مسلے دیکھہ کر وہ اپنے والد کے پرانے گھر میں آ جاتی ہے اور اکیلے رہنے لگتی ہے…
.
اسی طرح کرنا چاہیے، غصے میں نہیں، بلکہ اپنی آزادی اور اختیار کے لئے… مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا… کیا ضروری کہ کسی پر بھی بلاوجہ بوجھہ بنا جائے اور اولاد یا کسی بھی رشتے پر اخلاقی اور جذباتی دباؤ ڈالا جائے… بلکہ مجھے تو ان بوڑھے لوگوں پرغصہ آتا جو ایدھی اور مختلف اداروں میں زندگی گذار رہے ہیں، کھانا پینا مل رہا ہے، ایک چھت کے نیچے ہیں، بہت سے کمانے والوں کا پیسہ ان پر خرچ ہورہا ہے… اور پھر وہ ان رشتوں کو روتے رہتے ہیں جو انکو چھوڑ کر چلے گئے… کیا پتہ مجبوری ہو… اور نہ بھی ہو تو بھئی نئے رشتے بنالیں… انسانوں کی کمی نہیں… شکرکریں کہ گھر کی چخ چخ سے جان چھوٹی… دعا دیں انکو جنہوں نے اتنا انتظام کیا، آپ کو سڑک پر رلنے سے بچا لیا… اب نئی جگہ پر نئے لوگوں سے لطف لیں… ضروری نہیں کہ پچھلوں کی شکایتیں کریں کہ ہے کیسے نکلے… یہ سوچیں آپ نے کہاں کہاں کس کس کو اپنی اولاد کی خاطر نقصان پہنچایا… اور کیا کبھی اولاد کو الله کے احکامات اور احترام انسانیت سکھایا… جس طرح آپ اپنی زندگی کا کنٹرول چاہتے تھے اسی طرح آپ کی بہو بیٹے بیٹیاں بھی چاہتے ہیں… ان کے سر پر سوار نہ رہیں… خود بھی خوش رہیں اور انھیں بھی خوش رہنے دیں… 
بزرگ بہت خوش رہ سکتے ہیں اگر وہ یہ سوچ لیں کہ وہ بیکار نہیں ہیں… اتنی زندگی کے تجربات کے بعد بیکار ہو بھی نہیں سکتے… اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم زبان سے قرآن، درود، کلمات، دعائیں تو پڑھ سکتے ہیں… 
.
اس ڈرامے کی طلاق کا کیس دیکھہ کر باجی کی کالج کی ایک دوست یاد آ گئیں… ان کے والد نے اسی طرح ایک دن غصے میں کھانےکی میز پراپنی خاموش صفت بیوی کو طلاق دے کر بائیس تئیس سال کی شادی ختم کردی… ایک بیٹے کو جو کالج میں ماں کے ساتھ رہنا پڑا اور بیٹی جو کالج میں تھیں اور چھوٹے بیٹے کو باپ کے ساتھہ… پتہ نہیں کیسے سامنا کیا ہوگا ان سب نے باقی سب کا…
.
جب سے پاکستان بنا ہے، کراچی کی قوم پاکستان سے پہلے کی خوشیوں کو روۓ جا رہی ہے… اور پاکستان کے ذریعے ملنے والی تمام خوشیوں کے مواقع برباد کئے چلے جا رہی ہے… پرانی رسمیں، پرانی یادیں، حسرتیں، ملامتیں، اپنےعزیز رشتوں سے کبھی انتہا ہمدردی کبھی شدید انتقام کبھی نہ ختم ہونے والی شکایتیں کبھی دھمکیاں… بس ایک چکرہے جوچلے چلے جا رہا ہے، سب اس سے پریشان لیکن کوئی اسے روکنے پرتیارنہیں…
.
بھئی الله نے اتنی بڑی دنیا بنائی ہے کچھہ اس پر بھی توجہ دے لو، ہزاروں قسم کے لوگ ہیں، حسین نظارے ہیں… خوشحالی اور خوشی وہ چیزیں ہیں جو ہرجگہ اورہررنگ میں بکھری پڑی ہیں… حتی کہ اندھیرے میں بھی خوابوں کی شکل میں… بس لوگوں کے پہچاننے کی دیر ہوتی ہے…
.
.

Answers to Students’ Queries

Students are humans too.  They have brains to think and mind to judge.  They want to know about many things.  They want to discuss issues and express their opinions.

Q1) What is the link between social development and economic development?

Q2) Why do we have to learn all this?  What are we gonna do with it?

Ans) Let second go first.

Education is not just to finish syllabus, give exams and get a degree.

The reason you have to learn all this is that you have to learn how to live in this world.  Because if you don’t, people will live your life and you will have to be dependent upon people to live.

Right now you are relying upon your parents.  They are feeding you, they are buying you clothes, you live in their house.  They cannot do that forever.  After 10 or 15 years, you will have to take care of yourself.  You will have a family of your own.  How will you do that?

Now come to the first question.

Before understanding the terms and the link between them, just remember two things; first, you need money to buy necessities of life.  With more money, you can get luxuries you want.  Second, economic development does not prosper in a society which is not socially prepared for it.

Economic development is a process of gathering resources in order to generate more revenue, people of which are the key resource.

Economic development is not a convenience to work 9 to 5 and get salary at the end of the month.  It is to create a convenient environment for such conveniences.  People work 9 to 5 or flexible hours in offices, factories, hospitals, clinics, pharmacies, airports, seaports, schools, colleges, malls and shops, etc.  These places provide employment.  If they run properly, expand and make good profit, they can produce more job vacancies.

There are many people who do not want to work just 8 hours a day.  They want to earn more money than monthly salary.  They have saved some money and are capable of running a business.  If they own a shop or a factory or a clinic, they would need helpers.  That would create more jobs for people.

Television channels, radio stations, newspaper and magazines also contribute in job activities.

People also work at places owned by the government, such as electric and gas corporations, police department, public schools and colleges, government hospitals, national T.V. channel, national airline, etc.

Foreigners, the citizens of other countries, can also be good source of income.  They visit our country, pay for accommodation, do shopping and buy souvenirs.

It is people earn from people.  People employee people.  People are the part of any economic cycle.  People should know that they need each other, so they should try to be as helpful as they can in financial matters.

Social development is a process of organizing and utilizing human energies in a way that can satisfy their needs and desires.  It is a process of thinking and struggling for betterment in all aspects.

The true link between the two terms is that when you think about ‘better life’ (which is social development), you think of having money at the same time and how to avail it.  You look out for possibilities in your very surroundings or in a far place.  You find out that money making requires things that you must to consider; appearance, objectives, degree, skills, experience, job hours, working environment, nature of job/job description, attitude, moral values, job-manners, chances of learning more and earning more, etc.

People cannot be selected for jobs with inappropriate appearance.  They cannot keep a job or run a business if they are short-tempered, dishonest, disloyal, crooked and fraud and untrustworthy.

Just think about it.

Would your parents hire a tutor if he/she appears lousy, does not come on time and is not qualified for teaching?

Would you eat from a restaurant that is unhygienic and serves cheap quality food to customers?

Would people go to a doctor who’s clinic is dirty and he/she is not kind and expert in his profession?

Which shopkeeper would get more business, the one who does not weigh or measure accurately or the one who is honest?

How long can a crooked and fraud real estate agent, a sales person, a motor mechanic, a pharmacist or anyone run their business?  How will they end up finally?

Would foreigners visit your country if your streets and roads are full of dirt and garbage, there are no pleasing sights, historical landmarks are not maintained, or people are living a miserable life?

So, what is the conclusion?  You want business from world, you want world to respect you, you world to trust you – you will have to provide reasons for that or nothing will happen.

Social and Economic Development in Pakistan

Let’s start from where we are standing right now.  How optimistic are you, the students, about the working opportunities when you will complete your suggested course of study?  You are not living 50 or 60 years ago when families were fed on the earning of one person.  The unemployment rate was high at that time too but they survived because they were contented with whatever they had.  Their purpose of life was to give families “roti, kapra and makan”.  You are living at the same place but in a different era.  You are growing up in a competitive environment, domestically and internationally.  Your working field is not limited to your national boundaries.  It encompasses the entire globe and thus, you need to prepare yourself for global challenges to achieve your goals.

Before comparing yourself to the students of advanced countries and your life-style to their life-style, just do compare the opportunities too.  Students in foreign countries start working part-time at the age of 14 or 15.  By the age of 16, 17, 18, they have to live on their own, unless they agree to pay their share in rent, food and utilities.  They don’t bother their parents to have enough money for their wedding shopping, dowry and other events.  They celebrate what they can afford.  They don’t mourn and blame their parents if they can’t.  They are not after luxuries but what gives them pleasure and keeps them independent.  They take responsibility of their actions and behaviour.

In contrast, you take for granted all the favours done to you by your parents.  Remember, your parents are not your servants.  They have a right to live their lives too.  Having children and raising them up is not a life time confinement.  You have a right to stand for your rights but not at the cost of your parent’s earnings.  Your abilities to support yourself financially following all moral values would be the best proof to support your demand for freedom.

 

 

 

 

Youm-e-Ashoor

 Hussain ibn Ali ibn Abi Talib ibn Abdul-Muttalib

اے میرے رب جہاں۔۔۔ اک عجب عشق ہوا۔۔۔ وہ سرکرب و بلا۔۔۔ تیرا عاشق ہے کھڑا۔۔۔ خون میں ڈوبا ہوا۔۔۔ دے چکا لخت جگر۔۔۔ دے چکا نور نظر۔۔۔ دے چکا سارا وہ گھر۔۔۔ اورخنجر کے تلے۔۔۔ اسکا سجدے میں ہےسر۔۔۔ نہ نماز ایسی نہ عاشق کا کلیجہ ایسا۔۔۔ نوک نیزہ پہ جو کرتا ہی رہا ذکر تیرا۔۔۔

Does anyone have to be a ‘shia’ to know about “Ahl-e-Bait”, their family bonding, about what happened in Karbala?  I tried but couldn’t find the facts that what happened in Madinah after the martyrdom of Hussain.  Didn’t the companions and other Muslims in Madinah and other cities try to find out what had Hussain ibn Ali gone through after he left Madinah?  Didn’t anyone from the Muslims of that time think of the revenge of the massacre in Karbala? Why in Pakistan, Muslims who claim to be sunni (the educated ones) love to read the whole human history but when it comes to the incident of Karbala, they think of it a Shia’s matter?

I am always a little surprised to see some Muslims playing loud music (not intentionally but still) in the first ten days of Muharram.  Even if some people don’t believe in mourning over Hazrat Hussain’s martyrdom like Shia do, aren’t they obliged to show some respect to the innocent souls?  How can an incident be so important for one part of ummah called shia while totally neglected by the other part called sunni?  How can some scholars ignore the whole issue just because they think it was all political?  Even if the issue was all political, shouldn’t they revere it for how it all happened?  Haven’t we started giving  more respect to Benazir Bhutto (the co-partner in her husband’s corruption as many think of her) after her political murder?  And the recent brutal killing of two brothers in Sialkot, (though the two brothers have no comparison to Hasan and Hussain but) only an evil would have a soft corner for their murderers? and same goes for the murderers of Hussain ibn Ali, only an indecent person would call them human beings.

Hazarat Hussain was the son of the fourth Caliph Ali ibn Abi Talib (Prophet’s cousin) and Fatimah bint Muhammad (Prophet’s daughter).  He was born on 3rd of Sha’ban 4 A.H in Madinah and was martyred at Karbala, Iraq on 10th of Muharram 61 A.H.  He had an elder brother named Hasan and two younger sisters Zainab and Umm-e-Kulsoom.  Out of his step brothers and sisters, Abbas ibn Ali got fame for accompanying him to Karbala till his martyrdom.

Hazarat Hussain had his first born Ali bin Hussain commonly known as Zainul Abideen from his wife Sheharbanu, the daughter of last Persian/Iranian emporer Yazdegerd.  He died of poison in Madinah and is buried next to his uncle Hasan ibn-Ali.

He had another son named Ali Akbar from Umme Lyla, daughter of Abi Murrah bin Urwah bin Mas’ud Al-Thaqafi.

He had four other children, Sakina called Fatimah Kubra, Fatimah Sughra, Ruqaiyyah known as Sakinah and Abdullah known as Ali Asghar from his wife Rubab, the chief’s daughter of Al-Qays tribe.

Fatimah Sughra didn’t join the family on the way to Karbala and was left in Medinah with Fatimah bin Hizam famous as Ummul Banin, the mother of Hazrat Abbas ibn Ali ibn Abi Talib.

Hazrat Hussain left Medinah on the 28th of Rajab 60 A.H and reached Karbala on 2nd Muharram, 61 A.H/680 A.D.  He refused to give pledge of allegiance to Yazid ibn Muawiyyah ib Suffiyan for his deviation from Islamic ethics and other reasons.  He was intercepted by Yazid’s soldiers at Karbala (now a city of Iraq) was martyred on the 10th of Muharram .  His brother Abbas, sons Ali Akbar and Ali Asghar along with 68 faithful companions also laid their life for Hussain’s rightful cause.  Ali Asghar is honoured as the youngest martyr of Karbala.  Hazrat Zainul Abideen was captured as he was lying ill inside a tent.

Prophet Muhammad (S.A.W) loved him a lot, once said, “Hussain is from me and I am from Hussain, Allah befriends him who befriends Hussain and He is the enemy of those who bear enmity with him”.

Hazrat Hussain was the man of best character and of his words.  As his life  was the symbol of love and kindness, knowledge and wisdom, truth and justice, courage and determination, patience and sacrifice, he is a role-model for every gentle soul.

Yazeed ibn-Mu’awiya ibn Abi-Sufyan belonged to clan of Banu Ummayya.  He was not elected by the Muslims and was made Khalifa by his father Mu’awiya.  He was the second Khalifa after his father since the martyrdom of Hazrat Ali.  That is why Hussain ibn Ali and his family and friends did not accept his caliphate.  This tyrant is remembered as the murderer of the family of Prophet (pbuh) as he brutally murdered Hussain ibn Ali, his sons, his friends and other family members on the 10th of Muharram in 61 A.H.  He only ruled for 3 years and died at the age of 38, but in such a short period of time, he earned nothing but curses, embarrassment and hatred from entire Muslim Ummah.

YAUM-E-ASHOOR

“O ye who believe! bow down, prostrate yourselves, and adore your Lord; and do good; that ye may prosper…And strive in His cause as ye ought to strive, (with sincerity and under discipline). He has chosen you, and has imposed no difficulties on you in religion; it is the cult of your father Abraham. It is He Who has named you Muslims, both before and in this (Revelation); that the Messenger may be a witness for you, and ye be witnesses for mankind!  So establish regular Prayer, give regular Charity, and hold fast to Allah. He is your Protector – the Best to protect and the Best to help!”….Surah Hajj, 77/78

I never thought of God being so unjust that He would ignore all evil actions, vulgarity, breaking of all shara’i hudood just for having a little fun but He will throw people in the Hell fire just because they had listened to some majalis and nohas.

Agar behuda Indian channels dekhna kafri nahi, deen ki baqi hudood torna kafri nahi to phir Rasool kay mazloom gharany ki takaleef sun laina, un per ansoo baha laina, majalis say koi ilm ki baat sun laina kafri kaisay ho saktay hay???

یوم عاشور۔۔۔

موسی علیہ السلام نےاپنی قوم یعنی ہم سے پچھلے مسلمانوں کو فرعون سے نجات دلائی جس کےشکرانے کے طور پر انھوں نے روزہ رکھا۔۔۔ آج ہم انھیں یعنی یہودیوں کو دھتکاری ہوئی قوم کہتے ہیں کبھی الله کے نزدیک بہت پسندیدہ رہے  ہوں گے جبھی دو ہزار سال تک دنیا کی امامت انکے پاس رہی نسل در نسل نبی اور رسول ان میں موجود رہے۔۔۔ لیکن جب عوامی موڈ غالب کی طرح کا ہو کہ۔۔۔ جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد, پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔۔۔ تو پھررسول بھی کچھہ نہیں کرسکتے۔۔۔ رسولوں کو سائیڈ پہ کرکے الله خود ان کی طبیعت درست فرماتے ہیں۔۔۔۔۔۔ خیرچودہ سو اکتیس سال پہلے سے یہ امامت یہودی نسل سےعربی نسل کو دی گئی۔۔۔  نہ ہم سے پچھلی امتوں کے مسلمانوں میں سرخاب کے پرلگے تھے اور نہ ہی ہم میں کوئی ہیرے جڑے ہیں۔۔۔ بات ذمہ داریاں پوری کرنے اور منصب نبھانے کی ہے۔۔۔ جو جب تک اسکا اہل رہے۔۔۔ نا اہل کی سفارش تو عام لوگ نہیں کرتےکیوں کہ یہ نا انصافی کہلاتی ہے۔۔۔ رسول نا اہلوں کی سفارش کیوں کریں گے۔۔۔

یوں تو سارے ہی رسول ہمارے ہیں۔۔۔ لیکن کیوں کہ محمد صلی الله علیہ  وآلہ وسلم کے بعد نبی یا رسول آنا نہیں لہذا آخری خطبہ حج الوداع میں وہ یہ ذمہ داری سارے مسلمانوں پرڈال گئے۔۔۔ یعنی سب نے ہی اس دنیا کی امامت میں اپناحصہ ڈالنا ہے۔۔۔ یہ ذمہ داری کتنی بڑی ہے اور اس کو نبھانے کے لئے ایک مسلمان کو کس حد تک صبر و برداشت, قوت ارادہ, اخلاق, رحم, عبادت, وفاداری اورانسانیت کےتقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں۔۔۔ رسول کے وصال کو پچاس سال ہی گذرے تھے کہ مسلمان شایدیہ سب بھول چکے تھے۔۔۔ رسول کی طرف سے ڈالی گئی اس ذمہ داری کو ان تمام شرائط کے کیسے پورا کیا جاتا ہے یہ حسین ابن علی نے سکھایا۔۔۔ عاشور کے دن۔۔۔

سورہ الحج کی ان آیات کے مطابق رسول ہم پر گواہ اور ہم انسانوں پر گواہ۔۔۔ براہ راست ہم سب کو ہی مخاطب کیا ہے رب نے۔۔۔ تمام انسانوں کی امامت کامطلب ہے ایسا نظام لانا کہ دوسری قومیں ہم پر بھروسہ کریں۔۔۔ جان و عزت کے معاملے میں۔۔۔ انصاف کے معاملے میں۔۔۔ مال کی تقسیم کے معاملے میں۔۔۔ علم کے معاملے میں۔۔۔ امن کے معاملے میں۔۔۔ صحت کے معاملے میں۔۔۔ بچوں, بڑوں, کمزورں کے حقوق کے معاملے میں۔۔۔ برداشت, ہمت اور حوصلے کے معاملے میں۔۔۔ غرض ہرمعاملے کا سب سے بہترین حل ہم میں سے کسی نہ کسی کے پاس ہونا چاہئے۔۔۔ اور جو کوئی یہ کہے کہ یہ تو امام مہدی اور حضرت عیسی نے کرنا ہے۔۔۔ حضرت عیسی اپنے زمانے کا جساب کتاب چکائیں گے جو ان کے ساتھہ ظلم ہوا اور امام مہدی خلافت کی تکمیل ۔۔۔ تو ٹھیک ہے لیکن ان کاساتھہ دینے والے آسمان سے نہیں اتریں گے۔۔۔ ان کے لئے راستہ ہموار کرنا دستہ تیار کرنا ہمارا ہی کام ہے۔۔۔ حسین ابن علی نے اپنے اہل و اعیال اور وفاداروں کے ساتھہ یہ حق ادا کیا ہمیں بھی اپنے بچوں گھر والوں وفاداروں کو اس کااحساس دلاناہمارا فرض ۔۔۔

یوم عاشور ہر سال اسی حق اور گواہی کے سلسلے کی یاد دلاتا ہے۔۔۔ ہر مسلمان کو۔۔۔

جس طرح دوسری قومیں اس دنیا میں ہمارے آپس کے معاملات دیکھہ کر ہنستی, مذاق اڑاتی ہیں۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن بھی یہی منظر ہو۔۔۔ ساس بہو نند بھاوجیں میاں بیوی سالے بہنوئی دوست رشتہ دار پڑوسی۔۔۔ آپس میں صفائیاں پیش کر رہے ہوں۔۔۔ اور دوسری اقوام ہم پر گواہی دیں کہ یا الله یہ دنیا میں بھی ایسے ہی تھے۔۔۔

آپس میں لڑتے جھگڑتے تھے۔۔۔ خود اپنی خوشی سے ہمارے پیچھے چلے۔۔۔ رضاکارانہ طور پراپنی امامت کے منصب سے دست بردار ہو گئے۔۔۔

   

THE JOURNEY OF KARBALA

The month of Muharram, the place Karbala, two nouns that are very very sacred for one half of Muslim ummah called Shia…. and are just two nouns for the other half…. who knows which one is a better half?  One part is wailing and mourning, the other part is wondering why or why with this intensity?  Many just regard it as a historical event or a political issue, which deserves a tribute (in the form of poetry or an article) or a critical analysis.  In general, it is known as “Shia issue”.

A majority also thinks that the details of Karbala are just an exaggeration.  Oh really, exaggeration like, hmmm, the brutal killing of two brothers in Sialkot… the govt official, police, common Muslims, all took part in smashing, breaking and torturing two very young Hafiz-e-Qur’an in the month of Ramdhan. The pictures of women with burning faces/bodies, little children strangled to death…. is that all an exaggeration or fact?

In brief, we tried to flee away from a very touchy and sensible part of our history and it followed us through out at every place.  All Muslim lands are presenting the scene of Karbala.

جودلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ۔۔۔ یہ ہر کوئی نہیں کرسکتا۔۔۔ ہر کوئی کرنا بھی نہیں چاہتا۔۔۔

مسلمانوں کا ایک بڑا حصہ جوخود کو سنی کہتاہے اور اس بات پر مطمئن ہے کہ وہ ان مسلمانوں کی طرح جوشیعہ ہونے پر فخر کرتے ہیں کی طرح کافر نہیں بلکہ جنت کے راستے پر رواں دواں ہے۔۔۔ البتہ کفرہی صحیح لیکن ماتم و عزاداری کی وجہ سے جو تین چار دن کی چھٹیاں مل جاتی ہیں وہ سنی حضرات کے ہلے گلے کے  کے لئے کافی ہوتی ہیں۔۔۔ بہت سے سنی خواتین وحضرات کے نزدیک حسین کا معاملہ شیعہ ایشو ہے۔۔۔ انھیں یہ بھی معلوم نہیں کہ حسین ابن علی کی کوئی زینب اور ام کلثوم نام کی بہنیں بھی تھیں۔۔۔ اسلامی تاریخ تو ویسے بھی اسلامیات میں ایم اے کرنے والوں کامضمون ہے۔۔۔ یاپھر کسی کورس کومبینیشن میں اس کو رٹا لگاکر کوئی ڈگری لی جائے۔۔۔ اور کربلا کے واقعات تو خالص شیعوں کا مسئلہ ہیں۔۔۔

یہ بھی پاپولر خیال ہے کہ شاید کربلا کے واقعات اس طرح نہیں ہوئے تھے جتنی مبالغہ کے ساتھہ بیان کئے جاتے ہیں۔۔۔ یزیداتنا بھی ظالم نہیں تھا۔۔۔ کچھہ غلطی تو حسین ابن علی کی بھی ہوگی۔۔۔ فالتو وقت بہت ہے نہ ہمارے ہاں۔۔۔ جس طرح کرکٹ اور ہاکی پر گھر بیٹھے تجزیہ کرتے ہیں کہ کپتان اگریہ کرتا تو نہ ہارتا اور وہ کھلا ڑی اگر یہ کرتا توٹیم جیت جاتی۔۔۔ یہی سب کچھہ ہم کربلا کے واقعات کے ساتھہ کرتے ہیں۔۔۔

چند مہینے پہلےسیالکوٹ میں دو  بھائیوں کو جس وحشیانہ طریقے سے مارا گیا۔۔۔ کم عمربھی تھے ۔۔۔ حافظ قرآن بھی تھے ۔۔۔ روزے سے بھی تھےیعنی بھوکے پیاسے بھی تھے۔۔۔ قتل عوام کے محافظوں کے سامنے ہوا۔۔۔ عام عوام نے اس  قتل میں حصہ بھی لیا اور بہادری کے ساتھہ اس کو لائیو دیکھا بھی۔۔۔ وہ چیخے بھی چلائے بھی ہونگے۔۔۔ ماں باپ کو بھی یاد کیا ہوگا۔۔۔ گرفتاریاں ہوئیں بھی تو مجرم رہا ہو گئے۔۔۔ اس مجمع میں جو لوگ موجودتھےان میں سے  شاید آج تک بھی کوئی شرمندہ نہیں۔۔۔ حکومتی چیلوں میں سے ایک شیطانی آواز یہ بھی آئی کہ دونوں بھائی اتنے بھی معصوم نہیں تھے۔۔۔ یہ  شیطانی آوازڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی تھی۔۔۔ ڈاکٹر کے بجائے قصائی فردوس عاشق اعوان پکارا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا۔۔۔ نسوانیت کے نام پہ موٹا دھبہ۔۔۔


جب عورتوں پرتیزاب ڈال کران کے چہرے مسخ کئے جاتے ہیں۔۔۔ تیل چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے۔۔۔ ہاتھہ پیر توڑے جاتے ہیں۔۔۔ تب وہ بھی درد سے تکلیف سے چیختی چلاتی ہوں گی۔۔۔ دس گیارہ سال پہلے جاوید اقبال نامی شخص جب زنجیر سے بچوں کا گلا گھونٹتا ہوگا تو وہ بھی درد کی شدت سے چلاتے ہوں گے۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں جب زندہ لوگوں کی کھال پاکستان زندہ باد کہنے پراتاری جاتی ہو گی تو ان کے چیخنے چلانے کا کیا حال ہوتا ہو گا۔۔۔


کیا یہ سب بھی مبالغہ ہے۔۔۔

بات یہ ہے کہ کوئی ظالم اگر دشمنی پر اتر آئے تو اسکے انسان یامسلمان ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ ظالم کانام فرعون ہو نمرود ہو یا یزید۔۔۔ کربلا پچھلے ڈیرھ ہزار سالوں میں عام مسلمانوں کی بے حسی کی گواہی دیتی اور بے غیرتی پر ماتم کرتی ہوئی ہر سنی شیعہ ممالک کے گلی محلوں میں پہنچ چکی ہے۔۔۔ اور یہ مبالغہ بھی نہیں۔۔۔

اس وقت کے عام مسلمانوں نے بھی روٹی کپڑامکان پر اپنے حاکموں اور امراء سے سمجھوتہ کرلیا ہوگا۔۔۔ کچھہ کے ذہنوں میں بٹھایا گیا ہوگا کہ تم عام ہو تو کیا۔۔۔ کسی قابل نہیں تو کیا۔۔۔ پھر بھی ایوانوں تک پہنچ سکتے ہو۔۔۔  اس وقت کی حکومت کے شیطانی چیلوںنے بھی یہ آواز لگائی ہو گی کہ حسین اتنے بھی معصوم نہیں تھے۔۔۔ اگر اس وقت کے عام مسلمانوں نے , اختیارات کے حصول اور تماشہ بازیوں سے ہٹ کے کربلا کا حساب کتاب مانگ لیا ہوتا۔۔۔ تو عام مسلمانوں پر اتنے تسلسل کے ساتھہ مسلمان حکمرانوں ہی کے ہاتھوں ظلم نہ ہوئے ہوتے۔۔۔ شاید ہم فرقوں کے بجائے ایک قوت ہوتے۔۔۔ ہزار ہزار سال کی حکمرانیوں کے بعد ہم اتنے ذلیل و رسوا نہ ہو رہے ہوتے۔۔۔  دوسری قوموں  کو تو کیادیتے اپنے ہی گھروں اورمحلوں کو کوئی نظام نہ دے سکے۔۔۔


اس وقت اس ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی۔۔۔ اور عام مسلمانوں میں یہ روایت آج تک برقرار ہے۔۔۔ چودہ سو سال پہلے کے واقعات کو ایک تاریخی واقعہ سمجھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ الله نے عام مسلمانوں کے دل ایکدوسرے کے لئے سخت کردئے۔۔۔  بے بس مرد وعورت گدھے کی طرح دن رات ایک کر کےاپنے گھر والوں کے لئے روٹی کپڑا اور مکان جمع کررہے ہیں یا باختیارمرد وعورت گدھ کی طرح دوسروں کا حق چھین کر اپنے خاندان کو یہ سہولتیں دے رہے ہیں۔۔۔ یا لومڑ اور لومڑیوں کی طرح اپنے ہی گھر والوں کے خلاف سازشیں کرتے ہیں کہ انھیں کس طرح نیچا دکھائیں اور کس طرح لوٹیں۔۔۔ بے بس بچے جانوروں کی طرح استعمال ہو رہے ہیں سڑکوں پر یاپھر گدھوں کی طرح پتہ نہیں کون سے مستقبل اور ترقی کے لئے کمر پر کتابوں کابوجھہ لادے پھرتے ہیں۔۔۔ اور ہم ان مظالم پر شرمندہ بھی  نہیں ہوتے روتے بھی نہیں۔۔۔ تو پھر  کربلا سےتو چودہ سو سال کے فاصلے پر آگئے ہیں انکا درد کیا محسوس کریں گے۔۔۔


شاید اسی لئے یہودیوں نے ہمیں جینٹائلز کہہ دیا یعنی انسان نما حیوان۔۔۔ شاید خدا ان سے قیامت کے دن پوچھے کہ تم نے سیدالبشر کے ماننے والوں کو یہ لقب کیوں دیا۔۔۔ ڈر مجھے یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ ہیں بہت اچھی طرح اپنا دفاع کرلیں گے۔۔۔


A Believer’s Discipline

A discipline is a relation between work and time, that is; executing action or work and/or dividing it into fragments or steps in accordance with the time duration, controlling desires according to time and situations (as the word for discipline in Arabic is ‘inzuibaat’/nazm-wa-zabt in Urdu), or it can be simply defined as distribution of time for work.  The discipline is a sign of a system.

The total time of the Universe (from beginning till its end) divided into the time of galaxies and solar systems.  Then in our solar system, time distributed to planets according to their movement.   Then on planet Earth, time is divided into seasons, day and night, then different countries have different sun-rise and sun-set timings, and then distribution of time into working hours, sleeping time, fun time according to people’s need and desires. (courtesy meta-existence)

The things in the sky and on earth have been assigned their specific tasks with no change in them and that is their discipline to serve humans.  Sun shines to give heat and light, moon appears to show the months, earth orbits and spins to cause seasons and days and nights, trees grow with fruits and flowers, plants give food and medicine, cattle, wild animals, sea animals, birds, etc.

تمام انسان مرد و عورت حضرت آدم کی اولاد ہیں۔۔۔ اور رنگ, نسل, قبیلے, زبان ان کی آپس میں پہچان کا ذریعہ۔۔۔ ہر رنگ, نسل, قبیلے, زبان کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں, ایک دوسرے کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔ یہ وفاداری کہلاتی ہے۔۔۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی کسی دوسری قوم کے لئےاپنی قوم کانقصان کرے تو یہ غداری کہلاتی ہے۔۔۔

ہر قبیلے یا قوم کےافراد کے آپس میں واسطے یا رابطے کی وجہ یا تو خون کے رشتے ہوتے ہیں یا پھر کام , جس میں مقصد یا تحریک بھی شامل ہے, یا اخلاقیات  جیسے کہ بیمار کی عیادت, پڑوسی کی دیکھہ بھال, مسکین کو کھانا کھلانا, قیدی کو چھڑوانا, غلام کو آزاد کروانا۔۔۔۔ یہ تینوں وجوہات بہت مضبوط اور بااثر عناصر ہیں کیونکہ انکے نتائج نکلتے ہیں۔۔۔ یہ تینوں عناصر عملی بھی ہیں لہذا وقت اور حالات کے پابند ہوتے ہیں اسی لئے انکے قوانین موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔

انکے علاوہ دو خیالی یا احساساتی عنصر بھی افراد کے درمیان رابطے کا کام دیتے ہیں اور وہ ہیں محبت اور دوستی۔۔۔ انکے اثرات بھی عملوالصلحت کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔ وقت وحالات کی قید سے آزاد, زندگی کو قائم اور متحرک تو رکھتے ہیں اور انفرادی اور وقتی فائدے بھی پہنچاتے ہیں لیکن ظلم کے نظام کے خلاف دیوار نہیں بنتے۔۔۔ 

اسلام ایک نظریاتی عقیدہ ہے جو انسانوں کو انکے رنگ, نسل, قبیلے, زبان سے نہیں بلکہ انکے کردار سے پہچانتا ہے اور اعمال کی بنیاد پر انکا احتساب کرتا ہے۔۔۔ اسی لئے اسلام کا کوئی وطن نہیں, وہ ہر جگہ اپنی نشانیوں کے ساتھہ موجود ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ سچائی, امانتداری, انصا ف, مساوات, خلوص, ایفائے عہد, گواہی, بہادری, حکمت, علم۔۔۔ جب ان خصوصیات کے ساتھہ ایمان بالله اور ایمان با لاخرہ شامل ہوجائے تو وہ شخص مسلمان اور وہ جگہ اسلامی ریاست کہلاتی ہے۔۔۔

رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ حکومت کفر پر چل سکتی ہے ظلم پرنہیں۔۔۔ جیسے خدا نے یہ کائنات اپنے حکم کے تحت عدل پر قائم کی۔۔۔ اور اپنی رحمت اور محبت سے اسے چلا رہا ہے۔۔۔ اسی طرح ایک اسلامی ریاست بھی ہوتی ہے۔۔۔ نظام عدل پہ قائم رہتی ہے اور عملوالصلحت,  محبتوں اور دوستیوں کی وجہ سے چلتی رہتی ہے۔۔۔

اور اگر الله پر ایمان اور آخرت یعنی حساب کتاب کا ڈر نہ ہو تو یہی محبتیں, دوستیاں رشتہ داریاں, وفاداریاں نا انصافی, جرائم, تعصب, نفرت, فرقہ بندیوں, فساد اور خون  خرابہ کاسبب بنتی ہیں۔۔۔ پاکستان اور دنیا کا حال ہمارے سامنے ہے۔۔۔ سورہ المعارج میں ارشاد ہوتا ہے۔۔۔ اور نہ پوچھے گا کوئی جگری دوست اپنے جگر دوست کو حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔۔۔ خواہش کر ے گا مجرم کاش وہ فدیے میں دیدے اس دن عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو, اپنی بیوی کواور اپنے بھائی کو۔۔۔ اور اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دیا کرتا تھا, اوران سبکو جو زمین میں ہیں۔۔۔۔

انسان چاہے کسی مذہب, کسی قوم سے ہوں یا لا دین یا خدا کے منکر بھی ہوں۔۔۔ انکی سوچ, خواہشات, مختلف حالات میں ردعمل, تقریبا تقریبا ایک جیسا ہوتا ہے۔۔۔ اسی لئے ہر قوم کی عوام نے مختلف زمانوں اورعلاقوں کے باوجود اپنے نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات کے ساتھہ ایک جیس سلوک کیا۔۔۔ حتی کہ مسلمانوں نے بھی ہر قوم کی طرح خود کو فرقوں, علاقوں اور زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرلیا۔۔۔۔ لہذا آج وہ بھی اس گلوبلائزیشن کا حصہ بن چکے ہیں جسکا عقیدہ  خدا کی وحدانیت نہیں بلکہ انسانیت ہے۔۔۔ جسکا عمل الله کے پسند یا ناپسند کی پابندی نہیں بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل ہے۔۔۔ جس کا احتساب خدا کے قوانین نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہو ئے آئین ہیں۔۔۔ جس میں باتیں آسمانوں کی کی جاتی ہیں لیکن نظرانسانی قد سے اوپر نہیں جاتی۔۔۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ہر انسان کو خدا کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔۔۔

سورہ الجاثیہ میں بیان ہوتا ہے۔۔۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا اس شخص کو, جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنالیا۔۔۔ تو الله نے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا اور اسکےکانوں اور دل پرمہر لگادی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔۔۔ کون اسے ہدایت دے سکتاہے جسے الله نے گمراہ کردیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



دنیا میں اکثر, انسانوں کو نیکی, بھلائی کی طرف راغب کرنے, حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے, انسانی مساوات کا تصور پیدا کرنے کےلئے جانوروں اور چیزوں کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانی کی طرح بہنا سیکھو جو سبکو سیراب کرتاہے, سورج کی  روشنی بنو جو سب کے لئے زندگی کا باعث ہے, درخت خود دھوپ میں کھڑے ہو کر سب کو سایہ فراہم کرتے ہیں, چیونٹی ہمت نہیں ہارتی, شیر کی طرح بہادر بنو, امن کا نشان فاختہ,  کووں کا ایکا الو عقلمند ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ آسمان, زمین, سورج, چاند, درخت, پھول, پودے, گائے, بکری, شیر, پرندے۔۔۔۔۔۔ یہ سب ایک لکھی لکھائی سکرپٹ کے مطابق اپنے کام کر رہے ہیں۔۔۔ یہی انکی تقدیر ہے  یہی انکا ڈسپلن اور یہی عبادت۔۔۔ ان کی کوئی مرضی یا ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ تھک گئے ہیں, دل نہیں چاہ رہا, آج کچھہ نیا کرتے ہیں۔۔۔۔ اسی لئے جانوروں کے کاٹنے, مارنے کے قوانین نہیں, حساب کتاب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرعد, آٹھویں آیت۔۔۔ ہرچیز اس کے سامنے ہے ایک تناسب کےساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ القمر۔۔۔ بےشک ہم نے تخلیق کیا ہر شئے کو مقررہ اندازے کی ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرحمن۔۔۔ اور توازن قائم کیا ہر شئے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسا ن اشرف المخوقات ہے۔۔۔ وہ ان چیزوں سے سیکھہ سکتا ہے, انکو استعمال کرسکتا ہے مگر اپنی زنگی کے مقصد اورکاموں کا ان سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ انسان کو نیت, ارادے اور خواہشات کے ساتھہ پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الشمس۔۔۔ قسم ہے نفس انسانی کی اور جیسا اسے ہموار کیا, پھر الہام کردی اس پر اس کی بدی اور پرہیز گاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیدائشی مسلمان, ہندو, یہودی, عیسائی, لادین یا خدا کے منکر اشخاص کے درمیان کیا فرق ہوتاہے۔۔۔ ان سب مذاہب کے چودہ, پندرہ, سولہ بلکہ اٹھارہ بیس سال کے بچوں کا انتقال ہو تاہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ معصوم تھا۔۔۔ کیونکہ انھوں نے شعوری طورپر کوئی مذہب کوئی زندگی کاراستہ اپنایا نہیں ہوتا۔۔۔ اپنے نفس میں موجود نیکی اور بدی کی صلاحیتوں کو آزمایا نہیں ہوتا۔۔۔  اسی لئے بچوں کو بھی کبھی پھولوں, کبھی فرشتوں کی طرح معصوم کہا جاتا ہے۔۔

انبیاء, رسل اور بہت سے اہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی بھی معصومین کہلاتے ہیں کیونکہ ان کی زندگیاں مکمل طور پر الله کی رضا کے تابع ہوتی تھیں۔۔۔ انکی دنیاوی خواہشات بھی الله کے حکم مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔۔۔ بظاہر دنیا کے کاموں میں مصروف نظر آنے والے یہ لوگ ہر لمحہ اپنے رب کے احکامات کاانتظار کرتے تھے۔۔۔ اور حکم ملتے ہی باقی سب کام چھوڑ دیتے تھے۔۔۔  یہی انبیاء اور رسولوں کا ڈسپلن تھا یعنی جو احکامات الله کی طرف سے نازل ہو چکے ہیں ان کی پابندی, اور کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار رکھنا۔۔۔ اسی لئے جب کوئی قوم اپنے نبی کو اذیت دیتی, ان پر ظلم کرتی تو اسے تباہ کردیا جاتا۔۔۔

انسانوں میں بچے, نبی اوراہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی معصوم ہوتے ہیں۔۔۔

اب بچ گئی باقی انسانیت۔۔۔ جو اپنی نیتوں, حق خود ارادیت اور اعمال کے بازپرس کے لئے خدائے واحد کے سامنے حاضر ہوگی۔۔۔ اورتمام معصومین کو نکال کر تمام آسمانی کتابوں کی مخاطب یہی باقی انسانیت ہے۔۔۔ اور یہ بات پچھلی پوسٹ ,عملوالصالحات, میں بیان ہو چکی ہے کہ نیکی, بھلائی, اچھائی انسان کے اعلی کردار کی نشانی تو ہوتی ہے, گمراہوں کو ہدایت بھی دلا تی ہے, انفرادی یا اجتماعی طور پر ضرورتمندوں کی حاجات بھی پوری کرتی ہے, اور مظلوموں کو وقتی طور پر دلاسابھی دیتی ہے۔۔۔ آخرت میں آگ کے عذاب سے بچنے کا سامان بھی ہوں گی اور پل صراط پر روشنی بھی۔۔۔۔ اور اسی وجہ سے نیکی, بھلائی, اچھائی دنیا کے چلتے رہنے کا ذریعہ ہے۔۔۔

لیکن یہ ظالم کا ہاتھہ نہیں روکتی۔۔۔ لوگوں کو ان کا حق واپس نہیں دلاتی۔۔۔ ضروریات زندگی پورے کرنے کے مستقل ذرائع نہیں فراہم کرتی۔۔۔ گمراہی سے  ہدایت پانے والوں کو ایک اجتماعی قوت نہیں بناتی۔۔۔۔

Good deeds have no timings and no conditions, they can be done any time, to anyone, by anyone.   Likewise love and friendship are feelings and are not bound to time and situations.  That is why these three elements are a great tool of democracy.  They are the energy which keeps life moving in any circumstances.  But even together, they don’t build a power that can be used to form a system –> a force that attracts good-doers/pious people to stand at one platform and cause a resistance against evil, a strength to persecute or stop evil, a source that guarantees a continuity in provisions.
To turn into such power, they must be transformed into principals, rules and laws.  Laws are meant to be imposed and must be obeyed at their time, conditions and circumstances.
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت۔۔۔ وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو۔۔۔ آتی نہیں کچھہ کام یہاں عقل خداداد
اے مرد خدا تجھہ کو وہ قوت نہیں حاصل۔۔۔ جابیٹھہ کسی غار میں الله کو کریاد
مسکینی ومحکومی ونومیدی جاوید۔۔۔ جس کایہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
ملا کوجو ہے ہند میں سجدے کی اجازت۔۔۔ ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

 

 نیکی, بھلائی, اچھائی دوستی اورمحبت کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن انھیں ایک قوت بننے کے لئے اصولوں اور قوانین کی شکل اختیار کرنی پڑتی ہے۔۔۔ اصول اور قوانین ایک مقررہ وقت کے, حالات یا کیفیات کے پابند ہوتے ہیں۔۔۔ 

مثلا الله تعالی سےانفرادی رابطے, الله کو یاد کرنے اور فریاد کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن نماز کو, مل کر ایک جماعت کی شکل میں الله تعالی کے سامنے حاضر ہونے کا ذریعہ بنایا۔۔۔ یہ سماجی نظام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح صدقہ وخیرات کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن زکات اسلام کا مکمل معاشی نظام ہے جس میں زکات دینے والے, زکات لینے والے اور زکات تقسیم کرنے والے, سب شریعت کے اصولوں کے پابند ہوتےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح بیت الله کی زیارت کا, رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم کی زیارت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن حج کومسلمانوں کے بین الاقوامی تعلقات ومعاملات اور بین الاقوامی مرکزیت کا ذریعہ بنادیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح رمضان کے مہینے میں روزوں کا نظام انفرادی, اجتماعی, مالی, جسمانی فائدوں سے بھرا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وراثت, شادی, طلاق, انصاف, گواہی, جنگ کے قوانین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا ڈسپلن یا نظام زندگی کیا ہے۔۔۔۔۔۔

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات۔۔۔ مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

ایک مومن کی زندگی انبیاء کرام اور صحابہ کی زندگیوں کا عکس اور عام انسانوں کے برعکس ہوتی ہے۔۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انبیاء اور رسل حضرت جبرئیل کے ذریعے الله سے براہ راست ہدایات پاتے تھے اور صحابہ رسول سے۔۔۔ جبکہ مومن کو اپنی فراست سے کام لینا پڑتا ہے۔۔۔ رسول صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ مومن کی فراست سے ڈرو, کیونکہ وہ الله کی نظر سے دیکھتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا تصور ایک عام مسلمان سے ذرا ہٹ کے ہے۔۔۔۔ اسکی سوچ اپنے قبیلے, اپنے خاندان, اپنی روایات, اپنی قوم, ظاہری لباس, اور مروجہ نظام تک محدود نہیں ہوتی۔۔۔  زمین کے کسی خطے میں ہو, ایک کے بعد ایک رونما ہونے والے حالات میں وہ الله کی تدبیر ہوتا ہے۔۔۔۔  قرآن میں مومنین کی نشانیاں جگہ جگہ بیان کی گئیں ہیں۔۔۔ احادیث مبارکہ میں بھی مومن کی خصوصیات کا ذکر ملتاہے۔۔۔۔۔ مومن کی زندگی میں اولیت الله کے ان احکامات کی پابندی ہے جو ایک شرعی نظام کے طور پر قیامت تک کے لئے صادر کئے گئے ہیں لہذا وہ احکا مات تو تقدیر بن گئے ہیں, جنکی پابندی سارے مسلمانوں پر لازم ہے۔۔۔ لیکن اس سے بڑھہ کر وہ احساس ذمہ داری جو رسول صلی الله علیہ والہ وسلم سبکے کاندھوں پر ڈال گئے ہیں اسے فرصت سے نہیں بیٹھنے دیتی۔۔۔ لہذا انکو پورا کرنے کے لئے اسے مقررہ اوقات کار والے طریقوں سے الگ ہونا پڑتا ہے۔۔۔ اپنی زندگی کے معمولات کواپنے مقصد حیات کی راہ میں مجبوری نہیں  بننے دیتا۔۔۔۔ اسلامی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ پاکستان میں قائداعظم  سے اچھی مثال کیا ہوسکتی ہے۔۔۔۔ جنکا ڈسپلن تھا۔۔۔ کام, کام, اور بس کام۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا۔۔۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن, قاری نظرآتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

رسول صلی الله علیہ وسلم کل ایمان, کل اخلاق, کل نظام تھے۔۔۔ مومنین اس کل کا جزو ہیں۔۔۔ اسی لئے ہر مومن میں رسول صلی الله علیہ وسلم کی کسی خاصیت کی زیادتی نظر آئے گی اور کہیں کمی۔۔۔ اور اسی لئے مومنین ملکر جماعت کے طورپر تو اسلامی شریعت نافذ کر سکتے ہیں۔۔۔ ایک ون مین شو کے طور پر نہیں۔۔۔

امت کا زوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلفائے راشدین کے دور کے فورا بعد جو بات فتنہ بنی اور آج تک فساد کا باعث ہے وہ یہی ون مین شو والی حاکمیت ہے۔۔۔ اور مسلمانوں کے زوال کا    سبب اس سے لاتعلقی یا اسکے خلاف خاموشی۔۔۔ عام مسلمانوں کی اسی لاتعلقی اور خاموشی کا پہلا نتیجہ کربلا کی صورت میں نکلا۔۔پھر مسلمانوں نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے دور بھی دیکھے۔۔۔ اور آج فلسطین, کشمیر, عراق, افغانستان,  لیبیا, مسلمان افریقی ممالک, پاکستان۔۔۔ جہاں جہاں مسلمان ہیں, رو پیٹ رہے ہیں۔۔۔ لیکن کوئی اپنے ملاؤں, عالموں, سیاسی شیطانوں, علاقائیت,روایات چھوڑ کرایک ہونے کو تیار نہیں۔۔۔

مسلمانوں میں نیک کام کرنے والوں کی کمی نہیں۔۔۔ لیکن ٹیم ورک کی کمی ہے۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تیرہ سال لگائے اس نظام کو صحابہ کی شخصیت کا حصہ بنانے میں جس کو انھوں نے آگے نافذ کر نا تھا۔۔۔۔ جبکہ مسلمانوں میں نظام ایک شخص کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اسکے مرتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔


عملوالصلحت Good Deeds

Just imagine why Allama Iqbal and Quaid-e-Azam focused on establishing a separate system instead of compromising with Hindus and British Govt and introducing Islam as a complete system.  Unlike mullahs and religious scholars, they didn’t emphasize on doing good deeds, charity or donations.  That is because they knew that this is the part of a human nature to help others.  Even the most evil person is satisfied when he/she helps someone.  So good deeds are a part of a human nature.  Islam just put them in order according to their nature of priority so they deliver to resolve problems on a long-term basis.

جہاں اگرچہ دگرگوں ہے, قم باذن الله۔۔۔ وہی زمین وہی گردوں ہے, قم باذن الله

قم باذن الله یعنی کھڑا ہوجا الله کے حکم سے۔۔۔۔ یہ الفا ظ تھے حضرت عیسی علیہ السلام کے جس سے وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔۔ وہ برص کے مریضوں کو ہاتھہ لگاتے تو شفا ہو جاتی۔۔۔ انکا ایک واقعہ بھی بہت مشہور ہے کہ جب ایک طوائف کو رجم کرنے کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے فرمایا۔۔۔ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی اخلاقی تعلیمات اس انتہا پر تھیں کہ فرمایا کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی پیش کردو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اتنے عظیم انسان کے ساتھہ ان کی عوام نے کیا سلوک کیا کہ جب بادشاہ وقت نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سزا سنائی تو کوئی بادشاہ کے خلاف کھڑا نہ ہوا۔۔۔ یہ صلہ دیا انھوں نے اس پاک شخصیت کا جس کو کبھی شیطان نے نہیں چھوااور جسکا معجزہ وہ دیکھہ چکے تھے کہ پیدا ہوتے ہی اس نے اپنے نبی ہونے اورماں کے پاکیزہ کردار کی گواہی دی۔۔۔۔

نیکی, بھلائی اور فلاح کے کام اخلاقیات کی تعریف میں آتے ہیں اور اسی لئے کسی بھی معاشرے کی روح ہوتے ہیں جو اسے زندہ اورمتحرک رکھتی ہے۔۔۔ اسلام نظریہ کے مطابق یہ حقوق العباد کا حصہ ہیں۔۔۔ اور الله عزوجل کی عبادت یعنی حقوق الله کا ایک جزو ہیں۔۔۔

اسلام میں, عملوالصلحت, یعنی اچھے اعمال کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔ اور سورہ العصرمیں بیان کی گئی ان چارنجات کی شرائط میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے انسان  آخرت کے خسارے سے بچ سکتا ہے۔۔۔   بلکہ قرآن میں بار بار اچھے اعمال کی نصیحت کی گئی ہے۔۔۔ اچھے عمل کرنے کرے والے لوگ ہر مذہب, ہر  قوم اور زمانہ میں پائے گئے ہیں اور پائے جاتے ہیں۔۔۔ کیو نکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔۔۔ کسی کی مدد کر کے, کسی کا پیٹ بھر کے, کسی کو خوشی دے کر دل کو سکون ملتا ہے۔۔۔ برے سے برا انسان بھی کہیں نہ کہیں کسی کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔۔۔ اکثر لوگ اپنے گناہوں کے کفارے کے طور پر بھی نیک کام کرتے ہیں۔۔۔ نبی کریم محمد مصطفے صلی الله علیہ والہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے گو کہ ساری دنیا جہا لت اور گمراہی میں مبتلا تھی لیکن نیکی کا تصور موجود تھا۔۔۔ مکہ کے مشرکین بھی غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔۔۔ کعبہ کی زیارت کرنے والوں کو پانی پلاتے تھے۔۔۔ ایسے کام برے سے برے معاشرے میں بھی ہو رہے ہوں تو ایک تسلی اور امید بنے رہتے ہیں۔۔۔ لہذا نیکی کے اس فطری عمل کو رکنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔

نیک کام کرنا اتناآسان بھی نہیں ہوتا۔۔۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل جمع کرنا اور صاحب حیثیت لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنا, وسائل کی تقسیم اور فراہمی میں تسلسل… اور ان سارے کاموں کو بلا معاوضہ رضاکارانہ طور پرانجام دینے کے لئے وقت نکالنا۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھہ چٹکی بجاتے نہیں ہوجاتا۔۔۔۔ جو لوگ اچھے اعمال کر رہے ہوتے ہیں ان ہی کا دل جانتا ہے کہ وہ کن مشقتوں سے گذرتے ہیں۔۔۔

لوگ اچھے کام اپنی مالی حیثیت, جسمانی طاقت, سمجھہ اور صلاحیت کے مطابق کرتے ہیں۔۔۔ اس لئے ان کا یا  ان کے کاموں کا آپس میں مقابلہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ بہت سے لوگ انفرادی طور پر پریشان حال ناداروں کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ ان پڑھ لوگوں کی تعلیم ک انتظام کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ بیماروں اور معذورں کا سہارا بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کچھہ لوگ جماعت, تنظیم یا اداروں کی صورت میں تھوڑے بڑے پیمانے پر فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں۔۔۔ عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنھ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے دائرے میں یہ سب ہی نیکی اور بھلائی میں مصرف ہیں۔۔۔۔


 کیا نیکیاں معاشرے میں کوئی اجتماعی تبدیلی لاتی ہیں۔۔۔ 

امریکہ اور مغربی دنیا کو ہمارے ہاں زنا, بے حیائی, شراب, جوئے کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔۔۔ تو دوسری طرف ہم انسانیت کے لئے بھی انھیں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔۔۔ بھارت میں مدر ٹریسا نے عملی طورپر جتنے اچھے کام کئے, گاندھی اور نہرو نے بھی نہیں کئے ہوںگے۔۔۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی کے نیک کاموں کی فہرست بنانے بیٹھہ جائیں تو سال بیت جائے۔۔۔ الله کے اولیاء اور ہزاروں سوشل ورکرز اور فلاح وبہبود کے اداروں سے بھری ہوئی سر زمین پاکستان میں ہر دن بے گھر, غیر تعلیم یافتہ, بیمار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔۔۔   مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کی حالت پر نظر ڈالیں۔۔۔  کیا نیکیوں کے نتیجے اسی طرح نکلتے ہیں اور اچھے اعمال کرنے والوں کے معاشروں کا یہی حال ہوتاہے۔۔۔

اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ شاید نیک کام کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں۔۔۔ دنیا کے برے حالات میں نہ تو نیک کام کرنے والوں کی نیت کا قصور, نہ ہی وہ اسکے ذمہ دار ہیں۔۔۔ بلکہ یقینا وہ ہربرے حالات میں امید کی کرن ہوتے ہیں جو مظلوموں اور ناداروں کو حوصلہ دیتی ہے۔۔۔ انھیں جینے کے لئے جسمانی طاقت فراہم کرتی ہے۔۔۔

لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ کہ پاکستان خصوصا دنیا کا سب سے زیادہ عطیات دینے والاملک ہے۔۔۔  اوربدحالی کا یہ حال کہ روزانہ لوگ خود کشیاں کرہے ہیں۔۔۔ خوف, بھوک, جہالت۔۔۔ جبکہ صدقات تو بلاؤں کو ٹالتے ہیں۔۔۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہے۔۔۔

دنیا میں ایک لاکھہ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اخلاقی تعلیمات کے ساتھہ۔۔۔ ان میں سب انبیاء لیکن کچھہ رسول بھی تھے۔۔۔ کتنے ہی نبییوں کو قتل کیا گیا, سولی چڑھایا گیا, آرے سے چیرا گیا۔۔۔ جبکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کا نیک ترین اور مخلص ترین انسان تھے جسکی گواہی خود انکے اپنے لوگ دیتے تھے۔۔۔ کیا ان نبیوں کا خلوص اور بھلائی انکی قوم کی سوچ تبدیل کرسکا۔۔۔ انھیں انکے ظالم حکمرانوں کے ظلم سے نجات دلا سکا۔۔۔ حضرت موسی علیہ السلام نبی بھی تھے اور رسول بھی کیوں کہ خدائی قوانین ساتھہ لے کر اترے تھے۔۔۔ انھوں تو بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات بھی دلادی۔۔۔ لیکن انکی عوام کی سوچ آزادی نہیں, بلکہ ننانوے فیصد آبادیوں کی طرح روٹی کپڑا اورمکان تک محدود تھی۔۔۔ انجام یہ کہ الله نے انھیں بھٹکا دیا۔۔۔

رسول صلی الله علیہ وسلم نےخلافت مدینہ کے بعد غزوات کئے, جن میں مسلمان شہید اوربچے یتیم ہوئے۔۔۔ کیا آپ نے کوئی فلاح وبہبود کا کوئی ادارہ بنایا انکے لئے۔۔۔ بعد میں چاروں خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی اس کی کوئی مثا ل نہیں ملتی۔۔۔ اس پورے عرصے میں مالی امداد اوراخراجات کا مرکز بیت المال ہوتا تھا۔۔۔ اور حکومت جو کہ ایک مرکزی نظام ہوتی ہے, بیت المال اس نظام کا حصہ ہوتا تھا۔۔۔

عبدالستارایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنہ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  خیراتی ادارے جس نام سے بھی موجود ہوں یا جتنی عظیم شخصیت نے کھولے ہوں۔۔۔ وہ معاشرے کے بدحال افراد کو برے حال سے وقتی طور پر بچا تو سکتے ہیں لیکن کبھی شخصیات پیدا نہیں کرسکتے۔۔۔ کیونکہ ذہنی طور پر یہ افراد ایک دباؤ کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم دوسروں کے وسائل پرپلے بڑھے ہیں۔۔۔ ان میں وہ اعتماد نہیں ہوتا جو ایک خاندان میں آزادنہ طور پرپلے لوگوں کی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے۔۔۔

جب کسی ملک کے فلاح وبہبود اور امدادی کام مرکز سے ہٹ کر نیکی کے نام پہ عوام کے ہاتھہ میں آجائیں تو عوامی دولت اورعوام  کی توجہ, دونوں کئی حصوں میں  تقسیم ہو جاتی ہیں۔۔۔ عوام کی توجہ اور دولت وہ طاقت ہیں جو تقسیم ہوجائیں توحکومتی عہدیداروں کو قومی خزانہ لوٹنے کے بہترین مواقع مل جاتے ہیں۔۔۔  حکمران مطمئن رہتے ہیں کہ چلوعوام آپس ہی میں کچھہ کرکرا کے مسائل کا حل نکال لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ غریب, محروم, ضرورت مند لوگوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک آسان راستہ ہاتھہ آجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ  خود کو بے بس اور مجبور سمجھتے ہوئے حکومت سے الجھنے یا  ٹکرانے کے بجائے فلاحی اداروں کے در پر جا پڑتے ہیں۔۔۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے لوگ جو کمانے کے قابل ہیں ان پر بوجھ بڑھہ جاتا ہے۔۔۔ ایک طرف وہ فرض کے نام پر ٹیکس د یتے ہیں تودوسری جانب نیکی کے نام پر سینکڑوں کو پالتے ہیں۔۔۔

نیکی اور بھلائی کے کام, فلاحی منصوبے, صدقہ وخیرات۔۔۔ یہ سب آخرت میں پھل دیتے ہیں یا پھر دنیا میں انفرادی فائدے۔۔۔ یہ توقع کرنا کہ مفت نیکیاں کرتے رہو ای دن لوگ اچھے ہو جائیں گے, لوگوں کا مفت پیٹ بھرتے رہو ایک دن بھوک مٹ جائے گی, مفت علاج کرتے رہو بیماریاں ختم ہوجائیں گی, مفت تعلیم دیتے رہو جہالت ختم ہوجائے گی۔۔۔ آج تک نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔۔۔  نیکی اور بھلائی کو نظام بننے کے لئے قانون اوراس کو نافذ کرنے والے قوت بازو کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جبکہ ہم نےعملوالصالحات یعنی نجات کی آخری شرط کو اسلام کا مکمل نظام سمجھہ لیا ہے۔۔۔

اگراب بھی بات سمجھہ نہیں آئی تو سوچیں کہ ۔۔۔ فلاحی اور خیراتی اداروں کی تعداد میں اضافہ, انکے عطیات اور چندہ کی رقم میں اضافہ, ان کے در پر آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا معاشرے کے بہتر ہونے کی علامت ہے یا بدتر۔۔۔ کیا یہ اطمینان کا مقام ہے یا فکر کا۔۔۔ کیا اس طرز نیکی کی زیادتی سے مستقبل میں قوم کے معمار پیدا کئے جاسکتے ہیں یا حسب عادت ایک مسیحا کاانتظار کرنے والے ۔۔۔۔۔۔ 

کیوں آخر محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم ہی صرف تیئیس سال کےعرصے میں وہ  نظام قائم کرسکے جس  میں لوگ بھوکے مفلس تو تھے, بھکاری نہیں تھے۔۔۔ ایک بہتر زندگی زنگی کے خواہشمند تو تھے لیکن دوسروں کی جان, مال اورعزت کی قیمت پر نہیں۔۔۔ جہاں حضرت بلال کو اسلام لانے کے بعد بھی وہی تکلیفیں سہنی پڑیں اور فاقے برداشت کرنے پڑے جو امیہ کی غلامی میں تھے لیکن اب وہ آزاد تھے اور  اپنی مرضی سب کچھہ برداشت کرتے تھے, ذلت سے نہیں۔

سلام ہوعرب کے ان غلاموں اور ان پڑھ  لوگوں پرجنھوں نے چودہ سو سال پہلے اسلام کے مرکزیت کے تصور یعنی ۔۔۔ لاالہ الا الله ۔۔۔ کو سجھا اور آپس میں تفرقہ پیدا کرنے والی ہر دیوارگرادی۔۔۔

یہ نظام روٹی, کپڑا, مکان, ذاتی پسند, ذاتی زندگی اور مقابلے کےفلسفے سے شروع نہیں ہوا تھا۔۔۔  بلکہ ایک اجتمایت, مرکزیت اور کسب حلال کے تصور سے شروع ہوا۔۔۔ جہاں چندہ عوام کی ضروریات زندگی نہیں بلکہ قوم کے دفاع کے لئے مانگا جاتا تھا۔۔۔

 یہ دولتمند لوگوں کے لئے, محنت سے کمانے والوں کے لئے نہ صرف فکر کا مقام ہے بلکہ انکے خوشحالی مستقبل کا سوال بھی۔۔۔۔ اگر ہم نے فلاح وبہبود کے اس تصور کو نہ سمجھا اور ان اصولوں کو نہ اپنایا جو اسلام نے سکھائے ہیں۔۔۔ تو آنے والا دور بھوک مفلسی اور جہالت میں اضافہ ہی لےکر آئے گا۔۔۔

 صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی کچھہ احادیث کے مطابق ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ مسلمان زکات دینے کے لئے مستحقین کو ڈھونڈیں گے اور کوئ زکات لینے والا نہ ملے گا۔۔۔ یہ دنیا کی خوشحالی کا دور ہوگا۔۔۔۔ 


Unified Education in Pakistan

Unified educational system is in favour of common Pakistanis and is necessary for Pakistan’s peace and progress.  Those who are sincere to Pakistan must keep it a priority even if it take years in implementation.  It is going to be the most difficult task to gather the representatives of public schools, private schools, madrasahs, schools run by political figures, Agha Khan system, O’ Levels and home-schooling for the purpose to help in designing a unified syllabus from first to matriculation.

یکساں تعلیم کا کوئی بھی آئیڈیا فضول ہے اگر وہ عام لوگوں کو ملک کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کا اوراقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا موقع فراہم نہ کرے۔۔۔۔۔۔  لہذا پاکستان میں امن, ترقی, خوشحالی اور مضبوط  دفاعی طاقت کے لئے یکساں تعلیم کے ساتھہ ساتھہ  قوانین میں تبدیلی یا نئے قوانین ضروری ہیں۔۔۔

مثلا سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لئے انٹرمیڈیٹ کے ساتھہ سیاسیات, بین الاقوامی تعلقات, معاشیات کا علم لازمی ہو۔۔۔ امیدوار لازمی طور پر حکومت پاکستان سے سند یافتہ ہو۔۔۔ لازمی طور پر پاکستانی قومیت رکھتا ہو۔۔۔ اپنے علاقے میں اسکا کردار کیا ہے۔۔۔ ذریعہ آمدنی, ذاتی اثاثے کیا ہیں۔۔۔

ایک یکساں یا قومی تعلیمی نظام کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ مضامین اور موضوعات سب کے لئے لازمی ہوں۔۔۔ بلکہ ایسا نظام تعلیم جس میں مختلف عقائد, مختلف نظریات اور مختلف زبان بولنے والوں کے لئے چوائس موجود ہو۔۔۔ اوریہ کسی کے لئے بھی علم وہنر سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرسکے۔۔۔ لیکن ہوں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں۔۔۔
دنیا کا کوئی ملک اورکوئی نظام اس سے زیادہ یونیفائیڈ تعلیمی نظام نہیں دے سکتا۔۔۔

 اگر کسی جگہ کے لوگ ایک زبان بولتے ہوں, انکے عقائد ایک ہوں اور نظریات میں بھی فرق نہ ہو۔۔۔ اسکے باوجود بھی وہ اس سے زیادہ یکساں تعلیم کا تصور نہیں دے سکتے۔۔۔ کیونکہ بہرحال اگرانھوں دنیا کی باقی قوموں کے ساتھہ معاشی اور سیاسی روابط رکھنے ہیں توپھران کے نظام اور نظریات کو کسی حد تک اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنانا پڑے گا۔۔۔

اور یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں۔۔۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں موجود ہے ۔۔۔ اور غیر اسلامی بھی نہیں۔۔۔ 


کیا پاکستان میں مدرسے, سرکاری اسکول,  پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول اور ہوم اسکولنگ مرکزی حکومت کے تحت کام نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسکتے ہیں اگر بنیادی تعلیم کے علاوہ پرائیویٹ اسکولز کے مشکل, مہنگےاور درآمد شدہ سلیبس کو اور مدرسے کے کورسزکو ایڈوانس مضامین کی فہرست میں ڈال دیا جائے۔۔۔ اس طرح بنیادی تعلیم تو سب کے لئے ایک جیسی ہو گی لیکن ایلیٹ, غیر ملکی, مذہبی, صوبائی یا اور دوسری زبانیں بولنے والوں کے لئے اختیاری مضامین کی شکل میں چوائس موجود ہوگی۔۔۔ اہم بات یہ ہوگی کہ سند حکومت پاکستان کی ہو۔۔۔ اس کے لئے جگہیں بدلنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔ اپنی اپنی جگہوں پر تعلیم حاصل کریں اور امتحانات دیں۔۔۔  اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کردیا جائے۔۔۔ پرائیویٹ اسکول کالجز, مدرسے۔۔۔ سب اپنی جگہ پر بنیادی تعلیم کا سرکاری ریکوائرمنٹ پوری کریں۔۔۔ پھر طلبہ چاہیں جو مضامین ایڈوانس لیول پرپڑھیں۔۔۔ 

اسکے فوائد کیا ہونگے۔۔۔

سارا کا سارا تعلیمی نظام ایک مرکز کے تحت کام کرے گا۔۔۔ جس سے مرکزی حکومت کو اہمیت حاصل ہو گی, وہ مضبوط بھی ہوگی ۔۔

علمی بنیادوں پرلوگوں کی تقسیم اور تفاخر بہت حد تک کم ہو جائے گی۔۔۔ کیونکہ تمام کے تمام مضامین پر تعلیمی اسناد پہ ٹھپہ یاسیل مرکزی حکومت کی ہو گی۔۔۔

پاکستان میں سب سے بڑا تعلیمی فرق مدرسہ اور اسکولز کی تعلیم میں ہے۔۔۔ ایک کو شرعی تعلیم کہہ کر محدود کردیا۔۔۔ دوسرے کو جدید تعلیم کہہ کر کفر یا غیر شرعی یا دنیاوی قرار دے دیا۔۔۔ پاکستان کے ماحول میں دینی اور ماڈریٹ کا فرق بھی کچھہ کم ہوگا۔۔۔ اوردینی لوگوں کی آئے دن کے نفاذ شریعت کی دھمکیوں کا زور بھی کم ہوگا۔۔۔ اور دونوں قسم کے لوگ ایک ہی مرکز تلےآجائیں گے۔۔۔

صوبوں کے درمیان تعلیمی فرق بھی کم رہ جائے گا۔۔۔ ایک صوبے کے رہنے والے کو دوسرے صوبے میں جاکر تعلیمی سلسلہ بدل جانے کی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیراتی اسکولوں اور فلاحی اداروں کے بچوں کا کم از کم علمی بنیادوں پر احساس محرومی ختم ہوجائے گا۔۔۔ انکے پاس بھی کیونکہ  سرکاری سند ہوگی۔۔۔

پھر یہ کہ پرائیویٹ یا ہوم اسکولنگ والے بچوں کے لئے جو سائنس نہ لینے کی پابندی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ سائنس تو میٹرک تک لازمی ہی ہوگی۔۔۔ 

یہ سب کرنا آسان نہیں۔۔۔

چوں کہ ہمارا حکمران طبقہ جاہل اور ذہنی طور پر غلامانہ سوچ رکھتا ہے  وہ امریکہ اور مغربی دنیا کےاشارے کے بغیر کچھہ نہیں کرتا۔۔۔ اس لئے عوام کو ہی شور مچانا پڑے گا۔۔۔ اپنے اپنے علاقے کے سیاستدانوں اور حکومت پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔۔۔ اور وہ بھی کافی عرصے تک۔۔۔ 

دوسرا بڑا مسئلہ دینی فرقے ہیں۔۔۔  انکا کسی بھی معاملے کو سمجھداری سے نمٹانا نہ ممکن سا لگتا ہے۔۔۔ لیکن بہرحال معجزات بھی تو ہو سکتے ہیں۔۔۔  

تیسرا مسئلہ او لیولز اور آغا خان بورڈ۔۔۔ پرائیوٹ اسکولز اور برٹش تو او لیولز کے نام پر کڑوڑوں روپے احمق پاکستانیوں سے کمارہے ہیں۔۔۔ بھلا وہ اس لوٹ مار کو کیسے بند ہونے دینگے۔۔۔ دو سال بعد کا کورس دوسال پہلے پڑھا دیا تواس سے معیار بلند تو نہیں ہو جاتا۔۔۔

چوتھا مسئلہ ہے ہمارا طریقہ تعلیم جو خاص طور پر ابتدائی درجات میں اور ویسے بھی کتابوں اور کاپیوں کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اکثر تین یا چار سال کےبچوں کو بھی کتابوں اور کاپیوں سے لکھنے پڑھنے پر لگادیا جاتا ہے۔۔۔ یکساں تعلیم کا سن کر سب کا ذہن جائے گا ایک جیسی کتابوں کی طرف۔۔۔ حالانکہ یکساں تعلیم کا مقصد یکساں نتیجہ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ یکساں طریقہ تعلیم۔۔۔

پانچواں مسئلہ ہے خیراتی اسکولوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا۔۔۔ یہ تو چلتے ہی عطیات زکات پر ہیں۔۔۔ کوئی معیارقائم ہوگیا تو چندہ کون دے گا۔۔۔
چھٹا مسئلہ وہ اسکول جو سیاسی شخصیات نے کھولے ہیں یا انکے پرنسپلز بنکے بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ برداشت کر لیں گے کہ انکا اور انکی مخالف پاڑٹی کے اسکول کا معیار ایک جیسا ہو۔۔۔

ساتواں مسئلہ یہ کہ حکومت کی طرف سے بنیادی تعلیم کا سلیبس ترتیب کون دے گا۔۔۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں بپبلیکیشنز ہیں اور ساری ہی کہیں نہ کہیں استعمال ہورہی ہیں۔۔۔ اسی طرح مدرسے کے کورسز ہیں, سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں ہیں۔۔۔ کوئی کسی کتاب کو ابتدائی درجہ کے لئے موزوں سمجھتا ہے تو دوسرا اسے ایڈوانس لیول رکھتا ہے۔۔۔ کیا مدرسے, سرکاری اسکول, پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول کےنمائندے اور ہوم اسکولنگ کی طرف سے والدین اس میں ایک سطح پہ آکر حصہ لیں گے۔۔۔

آٹھواں مسئلہ بنیادی تعلیم کی تعریف اور اسکا معیارکیا ہونا چاہئے۔۔۔ یہ کون بتائے گا۔۔۔

What could/should be the definition of unified education in Pakistan?  Is unified education the synonym of fundamental education?

PHONICS:

I totally disagree with introducing phonics to our educational system at any level except for if there is a dire need of it.  Such as for especial children.

Pakistan’s modern education system is founded upon foreign-based ideas, methods, contents and curriculums.  Phonics is one of the method that was introduced with the purpose of quality education.  On one side, we have a government that consists of illiterate ministers and parliamentarians like Jamshed Dasti who are possessed with ignorance.  On the other side, we have educated people who are obsessed with imported items.  Both groups are dangerous for our identity as they both lack confidence, wisdom and spirit of freedom.  In short, they are slave-minds.

Western countries are developed and advanced countries.  One reason of their progress is that they don’t import but introduce ideas.  Now, instead of learning from them, we try to copy them as it is.  We waste our energy and time in convincing people that this imitation will get us some respect in the Western world.  What a rubbish!

These countries introduced phonics as a technique to enhance reading ability through sound of letters.  It is sound of a letter at the beginning or at the ending of a word, sound of vowels and sound of a compound.  English is their mother tongue.  This is the language they communicate in 365 days a year.  Before introducing any idea to their system, they study their people and the nature of requirement, they design it in a form of step-by-step guideline, they compose it in a timely manner, they train faculties, they prepare parents’ mind to accept it, their purpose of introduction is not to rip off money, it is to bring improvement.  Phonics may be good for them because they are not in hurry.  They don’t teach in large groups.  They don’t have to pressurize their children for quick learning so that they can get first position.  They don’t want to run away from their country after higher education.

Still I don’t get it that how do they figure out that at what age or level, their student should know the sound of letter ‘c’ as /s/ or /k/ — or ‘g’ as /g/ or /j/– then the difference between c and k and g and j –or the sound of ‘ph’ as /f/– or the sound of letter ‘u’ in but, put, use, blue — or merging the sounds of two vowels like in ‘road’, ‘lead’, belief — or when to use ‘the’ as ‘tha’ or ‘thee’ — or when do letters become silent?….at what age or level, students won’t need to use phonics?….. is phonics really meant for all students in general or only for special children?

In alcoholic societies, children are born with slow mental progress, brain disorders, mental retardation, low tolerance, difficulty in reading and relating connections and reasons.  So phonics is a useful technique for them in general.

Pakistanis are very talented people.  Lacking healthy environment and health facilities, our children are still born normal.  It is parents and the overall system that suck their abilities to progress.

Phonics is not good for our children.  It is damaging their brain, slowing down their learning abilities, burdening them with confusing sounds of a foreign language.  Our Montessori teachers are intermediate or B.A, B.Sc or B.Com.  They are not trained to deal with children, how to teach, how to behave, how to handle them.  Even the ones certified from Early Childhood Training Centers don’t know how to plan for phonics.  Even their sounds of letter differ in length and pronunciation.  For example, 95% of them mix up the short vowel sounds of ‘a’ and ‘e’, ‘v’ and ‘w’…. pronouncing very to vaary, was to vas, bed to baad, red to raad.  Also, it is a non-sense to teach normal children the normal things sounding like animals, aa, baa, caa, daa, skipping e, faa, haa, skipping i, at ‘G’ they are confused if alone it sounds like ‘g’ or ‘j’.  A child who is not even familiar with the sequence of letter, how can he learn their sounds skipping vowels and with exceptions?

If this is all we are doing to teach English as a language, both in speaking or reading, then we should focus on improving children’s listening skills, through stories, discussions, discipline and instructions.

 

 

 

 

 

MATRICULATION:

Matriculation is the tenth year of regular schooling system.  Generally, matriculation is defined as a process that prepares students for college level.  In America, it is part of the high-school which ends at Twelfth Grade.  Prior to partition, in South Asian region, it was regarded as a sign of honour and wisdom.  Even after the establishment of Pakistan, “matric paas students” were preferred for jobs and matrimonial proposals.

One aspect of our overall failure is that our governments never planned for improving educational system according to the growth in population and in comparison to the new world challenges.

The situation we are facing right now is that on one hand we have masters and bachelors complaining about suitable job opportunities while lacking professionalism.  On the other hand, we have a huge number of matriculated youth being hired at low salaries obviously not fulfilling any professional requirements.  Another horrible reality that we face in our system is that we never think of solving problems according to the mental and social level of our own people.  Most of our celebrities from different fields of Fine Arts, when don’t find anything else to do or let’s say when they think of serving nation, they start opening school or join some famous chains at high position.  Durdana Butt, Rahat Kazmi, Huma Akbar, Afshan Ahmed, Khushbakht Shuja’at, Jawad Ahmed, Shezad Roy and many more.  Have they ever tried to sit together and discussed how they can bring a change in the existing system, how they can get together to build a unified educational system that has something to do with Pakistan and with the people of Pakistan???

In Ninth and Tenth Grades, subjects are divided into three or four main groups which doesn’t make a sense.  At least not now.  Students have to choose to study either from Science Group, Arts or Humanitarian Group, Commerce Group or may be computer.  After two years of study, the Science group students have no idea about even the basic concepts of Economy, Psychology, Sociology, Education, Political Science, Sociology etc.  The Arts/Humanitarian group remain ignorant about simple Math, the basics of Zoology, Botany, Biology, Physics, Chemistry etc.  In Science group they don’t focus on writing skills and speech power.  Now what if a Science student has to deliver a speech about plantation to grow economy or write an essay on wild life in Sindh or prepare a Science syllabus for Elementary classes.  The career choices for Arts group students are to become a writer, singer, musician, performer, painter etc.  What if they have to write a true story of a zookeeper hero falls into love with a marine-biologist or a drama about a singer studying plants part-time.  All of them have zero knowledge about environment.

I just remembered this drama of Indus TV (I forgot the name) that was about a hospital, doctors, nurses and patients.  I really thought that it was a parody of some American medical shows because the whole serial was totally non-scientific.  The serial didn’t teach a single medical term to the viewers, neither it brought any awareness about health and hygiene.  They didn’t even discussed the problems of doctors and patients in our society.  Each episode was focused on the make up and style of female actresses (doctors/nurses), love affair between the staff, emotional scenes of patients coming depressing background.

Back to the point, this two-years of matriculation becomes useless if they decide not to (as most of the students do) join any college or institution for further studies.  The matriculated students are not given jobs on the basis of subject grouping.  The idea is to eliminate grouping subjects in Ninth and Tenth Grade and to introduce an intensive occupational studies course of one or two year instead to equip our students with the fundamentals of main subjects in each existing group.  Girls are usually hired as assistant teacher, teacher, receptionist, office-helper, factory worker etc.  Boys get jobs as sales person, clerk, cashier, messenger, dyer, courier etc. Many other countries are doing it.  My two-years of occupational studies course was composed to accounting, business maths, writing skills, keyboarding, typing, business law, psychology, personal management, fundamentals of computer, literature, business management etc.  Why can’t we introduce such kind of grouping here?

ہمارے ملک میں تعلیم کی منصوبہ بندی کی جتنی  کمی ہے اس سے کہیں زیادہ زندگی کی منصوبہ بندی کی کمی ہے۔۔۔ تعلیم کا معیار جتنا کم ہے تربیت کا معیار اس سے بھی کم۔۔۔ جتنا تعلیمی نظام بگڑاہواہے اس سے زیادہ سماجی اورسیاسی نظام بگڑا ہوا ہے۔۔۔ حالانکہ تعلیم سے پہلے ان سب چیزوں کاہونا ضروری ہے۔۔۔ یعنی زندگی کی منصوبہ بندی,  تربیت کا معیار اور مضبوط سماجی اورسیاسی نظام۔۔۔۔۔۔

ہمارے ہاں عام تعلیم کی حد میٹرک یعنی دسویں جماعت ہے۔۔۔ اسکی ایک وجہ لوگوں کے معاشی حالات انھیں لڑکوں کو آگے پڑھانے کی اجازت نہیں دیتےاور وہ کسی کام سیکھنے پر بٹھا دئے جاتے ہیں۔۔۔ لڑکیوں کی شادی ہوجاتی ہے یا منگنی۔۔۔ پھر وہ جب موقع ملے پرائیوٹ ہی پڑھتی ہیں۔۔۔ اکثر پرائیوٹ اسکول میں میٹرک یا انٹر پاس لڑکیوں کوٹیچرز رکھا جاتا ہے جو کم تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔۔۔ دوسری وجہ تعلیم کی اہمیت کو نہ پہچاننا۔۔۔ اکثریت اسے اسکول کالجز کی کاروائی سمجھتی ہے, جس میں امتحان پاس کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوتاہے۔۔۔ اور جو اہمیت بتائی جاتی ہے اسکے مطابق ملازمتوں کا نہ ملنا۔۔۔ کم عمر میں کم تعلیم اوربے تربیتی کے ساتھہ آگے بڑھنے کاراستہ کرپشن ہوتاہے۔۔۔

میٹرک پاس بچوں میں ان صلاحیتوں کی ازحد کمی ہوتی ہے جو ایک لڑکا یا لڑکی میں دس بارہ سال کی اسکولنگ اور گھریلو تربیت کے نتیجے میں ہونی چاہئیں۔۔۔ سوچ, رکھہ رکھاؤ, انفرادیت, معلومات عامہ, آگے بڑھنے کا جذبہ, بہتری کی خواہش, مسائل کو سمجھنا انکا حل تلاش کرنا, منصوبہ بندی کرنا, خودانحصاری۔۔۔۔۔۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نویں جماعت سے جومضامین کی گروپنگ کی جاتی ہے اور اس میں موجود مواد کا انتخاب  اکثر بے فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر سائنس گروپ کے بچے ایجوکیشن, سیاسیات, معاشیات کے تصور سے بھی ناآشنا ہوتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ایک سائنس کے طالب علم کو کمانا تو ہوتا ہی ہے, اس کا تعلق ملکی سیاست اور تعلیمی نظام سے بھی ہو تا ہے, لوگوں کی نفسیات سے بھی ہوتا ہے۔۔۔ خاص طورپر ان بچوں کے لئے جنھوں نےمیٹرک کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہہ دیناہو۔۔۔ لازمی ہے کہ وہ ضروری مضامین کے بنیادی تصور اور انکی حقیقی زندگی میں کارآمد ہونے سے واقف ہوں۔۔۔

آٹھویں جاعت کابچہ عموما تیرہ سال کاہوتا ہے۔۔۔ اگر نویں اور دسویں یعنی دو سال مضامین کی گروپنگ کے بجائےایک ایسا تعلیمی کورس مرتب کردیا جائے جس میں موجود مواد انکے کام کاہو تو تعلیمی نظام اورسماجی نظام دونوں میں بہتری آسکتی ہے۔۔۔

فوری طور پر حکومتی سطح پر تو تبدیلی ناممکن ہے۔۔۔ لیکن دن بہ دن بڑھتی ہوئی آزمائشوں کا آسانی سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی نئی راہ تو نکالنی پڑے گی۔۔۔ لوگوں کے ذہنوں کو بہتر تبدیلی کے لئے آمادہ کرنا شاید دنیاکاسب سے مشکل کام ہوتاہے۔۔۔ باہر ممالک کی طرح اگر ایک سال یا دو سال کا  آکیوپیشنل اسٹڈیز کا انٹینسو کورس جس میں کتابوں سے زیادہ تحقیق, بحث اور لکھنا شامل ہو متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔۔۔ جس سائنس, آرٹس, کامرس, کمپیوٹر کے بجائے پرفیشنل اسکلز کو ابھارنے پر مرکوز کیا جائے۔۔۔ کیونکہ ابھی تو حال یہ ہے کہ ہمارے ببیچلرز اور ماسٹرز کوبھی ملازمت کی درخواستیں نہیں  لکھنی آتیں۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

EDUCATIONISTS:

We all have endorsed the fact that our schools and colleges are worthless places for providing with any useful training or education of at least international level.  If they do then what do we complain about.  If they don’t then we must think of ways changing it.  In order to change it, we must discuss what kind of change do we want and why.

Since we all know our teachers, most of them have no passion for their profession, others are either over-burned with piles of responsibilities or are obstructed due to limited resources.

The private institutions (from Montessori to college level) can make a difference by using technology at their premises.  Few years ago, I gave this idea to a school owner that the principals of different schools in a certain area can arrange a workshop once a month for teachers’ training.  They can gather at some place and exchange their expertise.  They can exchange good ideas, curriculum and other activities.  They can also watch educational videos to learn effective teaching skills.  Plus they can plan community visits and inter-school competitions.

Principals can sit together and think of ways to reduce the cost of education and make it affordable for parents.  For teachers’ convenience, they must provide them with some kind of help in their daily routine.  They must be given enough time to get organized, to check students’ work and a precise syllabus according to students’ level.

Preschools, schools and colleges can use videos, CDs and DVDs to occupy children with educational learning.  Children can be kept involved with Adam’s World, Sound Vision and Astrolab productions, Seasame Street, Barney, Between the Loins (children’s show about vowels) and other good shows on daily basis.  They can learn new vocabulary, songs, games and manners by watching these videos.  Just half-hour video everyday can play a big role in keeping them busy with something interesting for their age.  That half-hour or one hour will be a spare time for teachers to relax a little and finish their checking.

Even public schools, colleges and universities can take advantage of the technology (I don’t want to call it a new technology since it belongs to the last century).

If the public and private institutions are not interested in it, still a great idea for charity schools and other places where unwanted or homeless children are accommodated for any reason.  Such as Edhi’s children section, orphanages, etc.

Many of our high profiles like Ms. Afshan Ahmed, Madam Khushbakht Shuja’at, Mr. Rahat Kazmi, Madam Durdana Butt, Mr. Shezad Roy, Mr. Jawad Ahmed and many others who claim that they are very sensitive towards the issues of our society, must sit together and plan something.  All these ‘sensitive’ educationists can influence the parents with whatever they come up with (something like negotiations or conclusions).

Cost-Reduction in Education:  It’s possible.

1) Little children can learn to write and to draw things on slates (old fashioned) instead of wasting money on copies/notebooks and drawing copies.

2) Instead of buying books in Montessori, they can learn alphabets, numbers and words on board or charts.

3) Instead of buying supplies, school can charge a little amount from each parents and purchase the necessary items in bulk on discount,  keep them in classes and train children to share them, use them and organize them.

4)  Painting school walls with cartoons and animals looks horrible and messy, it doesn’t help them in learning.  Instead, take them to the nearby park, zoo, keep a pet or give them some other activities to show them the real colours of life.  They need to be trained to face the reality, not to be lost in myths and mysteries or unnecessary imaginations.

5) Avoid phonics, it makes normal children read like foolish.  Just teach them the letters like a normal insaan ka bacha is supposed to learn.  Children are human beings too, they should not learn to read by making strange animal sounds.  After all, our teachers don’t know how and when to teach phonics.