The Purpose of Examination in Primary Schools – سالانہ امتحانات کا مقصد

What is the purpose of final examination in elementary school?

What should be the syllabus of final exams in elementary school?

What should be the pattern of examination papers in elementary schools?

.

آج کل اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا دور ہے… بچوں پر سلیبس اور ٹیوٹرز کا جتنا دباؤ ہے… شاباش ہے اس قوم کے بچوں کو کہ اپنے ہی استادوں اور والدین کے ظلم کی چکّی میں پستے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے ادب کی وجہ سے… طلبہ و طالبات کو کہتی ہوں کہ بھئی آواز اٹھاؤ کہ کیا پڑھنا ہے کیا نہیں، کیا شکایات ہیں… ایک نے آواز اٹھائی (ذرا غلط طریقےسے اٹھا لی) تو اسے اسکول سے نکال دیا… پھر یہ کہ بچے کہتے ہیں کیا شکایات کریں کس سے کریں اور کیسے… لکھنا نہیں آتا… اول لیولز کے بچوں کا یہ حال کہ کسی چیز میں ماہر ہونا تو دور کی بات، بات کرنے کے قابل نہیں… بس شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ یہ مضمون اچھا نہیں، وہ مشکل ہے… ہر مضمون سے بیزار… سارا سال گدھوں کی طرح کتابیں اٹھانے والے اور طوطوں کی طرح رتے لگانے والے تھکے تھکاۓ بچے… 
.
اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا کیا مقصد ہے؟
اگر کوئی یہ کہے کہ اسکول ایڈمنسٹریشن یہ چیک کرنا چاہتی ہے کہ بچہ اگلی جماعت میں جانے کے لئے تیار ہے کہ نہیں تو غلط جواب ہوگا… سارا سال بچوں کے دماغ کو رگڑ رگڑ کر جو مختلف ٹیسٹ لئے جاتے ہیں، بچوں کی حاضری، انکی دلچسپی، انکے ہوم ورک کا معیار… یہ سب اساتذہ کی نظر میں ہوتا ہے اور انھیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کون سا بچا کتنے پانی میں ہے… کراچی کے پرائیویٹ اسکولوں میں تو ویسے بھی اندر ہی اندر پوزیشنز بکتی ہیں، اسکولوں کے پسندیدہ ماں باپ کے بچوں کو کس طرح اندر ہی اندر سب بتا دیا جاتے ہیں کہ وہی فرسٹ سیکنڈ آئیں… ایسے ہی تو اسکول اونرز بڑی بڑی گاڑیوں اور بنگلوں میں نہیں  رہتے… اور کراچی میں تو زیادہ تر پرائیویٹ اسکولز ویسے بھی ایم کیو ایم کے سپورٹرز ہیں… مجرمانہ ذہنیت تو ہوگی نہ انکی اور بھارتی غلامی کا سبق ہی دیں گے یہ بچوں کو…
.
اور اگر یہ کہاں جے کہ اسکول والے والدین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انکا بچہ کتنا ذہین ہے یا کس حد تک تیار ہے اگلے لیول کے لئے تو یہ پہلے سے بھی زیادہ غلط جواب ہوگا… جن گھروں میں بچے اسکول جاتے ہوں اور وہاں رات بارہ ایک بجے تک جگا جاتا ہو، سارا سال شادیوں اور تقریبات سے دو تین بجے تک لوٹنا، نانیوں کے گھر وقت بے وقت جانا، بھارتی چینلز پر انکے فنکاروں کو گھر کے افراد اور انکی فحاشی کو گھر کا ماحول سمجھنا، ماں باپ کا خود کتابوں اور علم سے بیزار ہونا اور نے نظم و بے ضبط زندگی گزارنا… یہ سب والدین کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے… اور انھیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ انکی اولادیں کس قابل ہیں… ٹیوٹرز تو بچوں پرتعلیمی دباؤ ڈالنے کے لئے رکھے جاتے ہیں… 
البتہ اسکول والے اور والدین ایک دوسرے پر الزام ڈال کر اپنا فرض پورا ضرور کر لیتے ہیں… بچوں کا سال ضائع ہو وہ خیر ہے… 
.
سالانہ امتحانات کا مقصد طلبہ میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے کہ وہ اگلی جماعت میں جانے کے قابل ہیں اور جتنی محنت اس سال کی ہے، اگلے سال اس سے زیادہ کریں تو اور اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے… اس سے بچوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک پڑھنے، لکھنے اور حساب کتاب کے قابل ہوگئے ہیں… 
.
سالانہ امتحانات کا سلیبس کیسا ہونا چاہیے؟ 
ہمارے زمانے میں یعنی پچھلی صدی میں صرف دو امتحانات ہوتے تھے… ایک ششماہی اور دوسرے سالانہ… ششماہی امتحان میں پہلے چار مہینوں کا سلیبس ہوتا تھا کہ جو پڑھا ہے وہ آۓ گے اور سالانہ امتحانات میں پورے سال کا… پرچوں میں ایک دن کا وقفہ ہوتا تھا اور نہ ہو تو سالانہ امتحانات سے پہلے ایک ہفتے کی چوتھی ضرور ملتی تھی کہ طلبہ گھر پر خود پڑھائی کریں… امی اس ہفتے ہرجگہ آنا جانا بند کر دیتی تھیں اور ٹی وی بھی بند… گھر میں صبح شام کا پڑھائی کا وقت بنا دیا جاتا… وقت پر کھانا، وقت پہ سونا، وقت پہ کھیلنا… اردو، انگلش، ریاضی، سوشل اسٹڈیز (جس میں جغرافیہ شامل ہوتا)، سندھی، اسلامیات اور ڈرائنگ… نہ اردو ادب، نہیں انگلش لٹریچر، نہ کمپیوٹر… اپنے لیول کی چیزیں پڑھ کر پاس ہو جاتے… کبھی ٹیوشن نہیں پڑھا… ہاں بہت چھوٹی عمرمیں بھی اس قابل ضرور تھے کہ محلے کے بچوں کو انگلش اور اردو کے ابتدائی قاعدے اور گنتی سکھا سکیں… 
.
آج ماہانہ ٹیسٹ، سمسٹرز، سرپرائز ٹیسٹ، سالانہ امتحان… سارا سال سلیبس شیٹس ملتی رہتی ہیں… ساتھہ ہی ساتھ روزانہ دو تین ہوم ورک بھی… پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں جماعت تک کے بچوں کو یہ کہہ کہہ کر دہشت زدہ کیا جاتا ہے کہ کہیں سے بھی آجاۓ گے کچھ بھی آجاۓ گا… والدین یا ٹیوٹرز پپرز والی رات دو دو بجے تک بچوں کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ یہ بھی یاد کرو اور یہ بھی… 
یہی حال مدرسوں کے ہیں… پتہ نہیں کیوں ہمارے بڑے بچوں کو اذیت اور پریشانی میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں… 
امتحانی پرچے کیسے ہونے چاہئیں؟ 
امتحانی پرچے ایسے ہونے چاہئیں کہ طلبہ آسانی سے اسے دو گھنٹے میں حل کر سکیں اور ایک گھنٹہ اس میں اپنی غلطیاں نکال سکیں… زیادہ تر تو آبجیکٹوس ہونے چاہئیں جیسے خالی جگہ پر کریں، صحیح غلط، جملے بنیں قسم کے سوالات… چار پانچ ایسے سوال جنکا جواب دو تین جملوں سے زیادہ نہ ہو… مضمون، درخوست، خلاصہ، افہام ٹفھین، یہ سب جونئیر ہائی یننی چھٹی جماعت سے شروع ہونا چاہیے… اسی طرح الجبرا اور مشکل مشکل فارمولے بھی پرائمری اسکول میں نہیں ہونے چاہئیں… 
.
آج کل جو پرچے بنتے ہیں اس میں تین گھنٹے میں اتنے مکاری والے سوال ہوتے ہیں کہ بچہ پہلے ہی سوچ لے کہ فیل ہوا ہی ہوا… سارا سال کے تھکے تھکاۓ بیزار بچوں کے سامنے جب پرچہ آتا ہے تو اس میں پتہ نہیں کہاں کہاں سے ٹیچرز اپنی عمر کے سوال ڈال کر بچوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہیں… پرائمری اسکول کے طلبہ اور وہ بھی جو آج کی جاہل ٹیچرز سے پڑھے ہوں کیا خاک پرچہ حل کریں گے… 
.
ارفع کریم، ستارہ بروج اکبر، موسی فیروز جیسے چھہ سات بچوں کے ورلڈ ریکارڈ بنا لینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بچے پر تعلیمی قیامتیں ڈھا دی جائیں…
 .
.
.
Advertisements

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل

.

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل
یہ قیامت کے بارے میں کہا گیا ہے… لیکن ہمارے والدینوں نے اپنے بچوں پریہ قیامت پہلے ہی نازل کردی…
.
والدین کے اپنے بچوں کو کم عمری میں زیادہ سے زیادہ اور انکے ذہن سے بڑھ کر علم دینے کے پاگل پن نے بچوں کو بچپنے میں ہی بوڑھا کردیا ہے… اور وہ بھی اس طرح  کہ ہربچہ ہر مضمون میں اوّل آۓ ورنہ وہ نکمّہ ہے…
اسکول ایڈ منسٹر یشنزکے اپنے اسکولوں کی مشہوری اور زیادہ سے زیادہ فیس لینے کی دوڑ نے بچوں کو بوڑھوں کی طرح تھکا دیا ہے… باہر سے درآمد شدہ سلیبس اور اپنے پسندیدہ، کھاتے پیتے رشوت دینے والے گھرانوں کے بچوں کو پوزیشنز دینا انکا بزنس چارم ہے… 
.
مونٹیسری لیول اور پہلی دوسری جماعت تک تو بچے کسی نہ کسی طرح محنت کر کے کچھ کامیابی دکھاتے ہیں اور پھر تھکنا شروع ہو جاتے ہیں… آگے جماعتوں میں وہ بیزار نظرآتے ہیں… اکثر ماں باپ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ “بچپن میں یہ اتنا ذہین تھا، اب پتا نہیں کیا ہو گیا ہے پڑھتا ہی نہیں”…
.
خود سوچیں کہ بچے تھکیں گے نہیں، پاگل نہیں ہونگے، بیزارنہیں ہونگے تو کیا کریں گے… اسکول کے دنوں میں ہڑتالیں اور چھٹیاں ہو جاتی ہیں اور پھر بچوں کو ہفتہ کو بلایا جاتا ہے… امتحانات کے زمانے میں کرکٹ اور دوسری اٹریکشنز رکھی جاتی ہیں… یا ہنگامے اور بجلی وغیرہ کی لوڈ شیڈنگ… 
پھرہر ٹیچر یہ کرتی ہے کہ ابھی ایک مضمون پڑھایا اور دوسرے تیسرے دن ٹیسٹ دے دیا… اس سے بھی بڑھ کر سرپرائز ٹیسٹ، جو کسی بھی دن لے لئے جاتے ہیں… انکے علاوہ فائنلز اور دوسرے امتحانات الگ ہیں… 
.
موسم کی سختی اور غیرمعیاری جگہوں پر چھہ سات گھنٹے گزارنے کے بعد ٹرانسپورٹ کی تکلیفات اور پھر گھر آکر مولوی صاحب سے قرآن اور گھنٹوں ٹیوشن پڑھنا اور ٹیسٹ کی تیاری کرنا…  
یہ تعلیم دینے کا کونسا طریقہ ہے…
.
.

Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.

.

Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
.
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.

;

قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
.
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
.
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
.
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
.
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
.
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
.
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
.
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
.
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
.
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
.
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…
.

The Real Celebrities of Pakistan – Under the Spotlight of Sun

“Say: “Who is it that sustains you (in life) from the sky and from the earth? or who is it that has power over hearing and sight? And who is it that brings out the living from the dead and the dead from the living? and who is it that rules and regulates all affairs?” They will soon say, “Allah”. Say, “will ye not then show piety (to Him)?”…. Surah Yunus/Jonah 31

“Verily, it is Allah, Who causes the seed-grain and the fruit-stone (like date-stone) to split and sprout.”… Surah Al-An’aam/The Cattle 95

“And among His Signs (in this), that you see the earth barren, but when We send down water (rain) to it, it is stirred to life and growth (of vegetations). Verily, He Who gives it life, surely, (He) is Able to give life to the dead (on the Day of Resurrection). Indeed! He is Able to do all things..”  Surah Fussilaat/Explained in Detail 39

The real celebrities of Pakistan
Under the spotlight of sun
They produce treasure from the humus
The talent they possess is the true one
.
These are the farmers of my land
stupendous celebrities who perform miracle
They sow what gives life to this earth
They grow what gives energy to people
.
They worry about how to get the seeds,
they are tensed when its time to irrigate,
they suffer while buying good fertilizer,
they sow, they grow and they celebrate
.
Their smile is the beauty of this land.  
Their dance is the real dance of joy.  
They don’t ask too much from this nation.  
But they do deserve a break, few moments to enjoy.
.
.
 I am a big fan of them.  They are our asset and the best among country’s human resources.  Those who God chooses to perform His miracles in seed and soil.   

These are the great human beings who without any exhaustion, continue to fulfill their duty to feed the nation every year.  .  They get dirty, they get sweaty, they work hard, they suffer man-caused disasters but they don’t give up.  Thus, I don’t give up loving them. 

May Allah (SWT) bless the farmers and villagers of my land, make their farming tasks easy for them, provide them with fertile soil, fecund seeds and fresh water.  May they continue to perform miracles with their hands.  May Allah (SWT) protect them from the brutal and wild feudal-lords.  May they never be touched by any sickness, diseases and disasters touch them.  Ameen!

.

ڈھٹائی اور مستقل مزاجی میں کیا فرق ہے… برے کام پر ڈٹ جانا ڈھٹائی اور اچھے کام پر جمے رہنا مستقل مزاجی ہے…
یہ ہیں پاکستان کے اصل ید بیضاء اور ید عیسی اور ید ک الخیر… میرے ملک کے وہ انسان جنھیں الله نے میرے رزق کا ذریعہ بنایا… جنکی میں بہت فین ہوں… جو میرے  سلیبرٹیز ہیں… یہ پاک سر زمین کے چمکتے ستارے ہیں…

.
میرے ملک کے وہ فنکار جو مٹی سے سونا نکالتے ہیں… وہ حساس لوگ جو مٹی کی پیاس کو پہچانتے ہیں… وہ سچے لوگ جو آسمان کی طرف نگاہ کریں تو بادل رحمت بن کر برستے ہیں… 
.
حالانکہ فنکار ہونے کا، سچے ہونے کا، حساس ہونے کا ڈھنڈورا ہمارے ہاں شوبز اور فائن آرٹس سے تعلق رکھنے والے پیٹتے ہیں…
الله سبحانہ و تعالی قرآن میں فرماتے ہیں کہ…
 الله وہ جو بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان نکالتا ہے
.
اور الله کی اس قدرت کے سب سے بڑے گواہ یہی کسان اور دہقان ہوتے ہیں… 
سارا سال اس مٹی میں بے جان بیج بوتے ہیں اور جاندار پودے اگاتے ہیں… ان پودوں پر سبزیاں ہوتی ہیں… چاول، گندم اور نہ جانے کیا کیا ان سے ملتا ہے… کبھی اپنی زمہ داریوں سے گھبراتے نہیں… کبھی اس تخلیقی عمل کا حصّہ بننے سے اکتاتے نہیں…
.
اس مستنڈی قوم کے لئے ہر تکلیف اٹھاتے ہیں اور بغیر کسی شکایات کے، بغیر اپنی بڑائیاں مارے، مسکراتے ہوۓ انکے رزق کا انتظام کرتے ہیں …یہ ہیں مستقل مزاج لوگ… اس سے زیادہ تہذیب اور انسانیت کیا ہوگی کہ انسان اگاۓ خود اور کھلاۓ سب کو… خود اسے اور اس کے بچوں کو سوکھی روٹی ملے اور کروڑوں لوگ پیٹ بھر کر کھائیں اور چین کی نیند سوئیں…
.
حالانکہ انکے نام کا کوئی دن نہیں منایا جاتا… لیکن ایک ایک لقمہ کھاتے وقت انکی عظمت کو خراج تحسین تو پیش کیا جا سکتے ہے… انکے حق میں دعا تو کی جاسکتی ہے…
.
سارے سیاستدان ایک کام کرتے ہیں اپنے مفاد میں تو اپنے منہ سے اپنی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے… گھنٹوں ٹی وی پر وہ اور انکے چیلے چانٹے اپنی بڑائیاں مارتے ہیں… جو کہ ایک بہت بڑی اخلاقی کمزوری ہے… سالوں پرانا ایک ایک کام گنواتے ہیں… اپنی حرکتوں اور بیرونی ملکوں کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں جو جھوٹی موٹی دشمنیاں ایک دوسرے کی پالتے ہیں اور اس کی آڑ میں عوام کا قتل عام کرتے ہیں… اور اگر خود کو ایک تکلیف پنہنچ جاۓ تو سالوں روتے رہتے ہیں… بے پھل و پھول درخت لگا کر قومی دولت بھی ضایع کرتے ہیں اور اس پر اکڑتے بھی ہیں، گالیاں بھی دیتے ہیں… اور پھر بھی قوم کے ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں… عورتیں پڑھ لکھ کر بھی سر عام ناچ گانا ہی کر پاتی ہیں، باقی چیزوں میں بے کھاریاں بے بس… پھر بھی تہذیب یافتہ کہلاتی ہیں… بڑے والے جرائم پیشہ سیاستدانوں کی تو بات ہی کیا… کوئی صدر، کوئی وزیر اعظم، کوئی اسمبلیوں میں بیٹھا ہے… اور اب تو بے خوف ہو کر جرم کرتے ہیں… کیمروں اور شہادتوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے… یہ ہیں ڈھیٹ لوگ….
.
یہی حال دوسرے شعبوں کا بھی ہے… کچھ اپنی چرب زبانی سے لوگوں کا دل لبھا کر دلوں کے بادشاہ اور ملکہ بنے بیٹھے ہیں… کوئی اپنے سٹائل مار کر اکڑے پھر رہے ہیں… کوئی میک اپ میں ڈوب کر اپنی شخصیت کے راز ظاہر کر رہے ہیں… اتنی اتنی عمروں میں جانوروں کی طرح اچھل کود، عجیب حلیہ تماشہ بنا کر اسے ٹیلنٹ کہتے ہیں… اور بچوں کو ہم کہتے ہیں کہ انسان کے بچوں کی طرح تمیز سے بیٹھ کر بات کرو… اتنے تعریف کے بھوکے کہ دنیا کی کوئی آسائش انکا پیٹ اور نیت نہیں بھر سکتی… لاکھوں کما رہے ہیں پھر بھی فینز کے مالی اور اخلاقی آسرے کے محتاج رہتے ہیں… اپنی کمائی تو اپنے ہی عیش و عشرت پر اڑا دیتے ہیں… کیا بد نصیبی ہے… 
.
یا الله سبحانہ و تعالی! آپ سے میری دعا ہے کہ اداکار، گلوکار، سیاستدان اور دوسرے شعبے کے لوگ تو پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں… جو انکی حرکتیں ہیں تو انکی جگہ لینے والے  بہت ہیں کوئی کمی نہیں پڑنے والی… لیکن میرے ملک کے کسانوں، دیہاتیوں اور دہقانوں کو زندہ سلامت، صحت مند رکھیے… یہ پاکستان کا سرمایہ ہیں… یہ خود دار ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھلاتے… کسی کی تعریف کے محتاج نہیں… جو عیش پاکستان کے سرمایہ دار، وڈیرے اور سیاستدان کر رہے ہیں وہ انکو بھی میسر آۓ… یہ آپ کے پاکستان کی صحیح قدر کرنے والے لوگ ہیں… انکو ہر آفت اور مصیبت سے بچا لیں… نہ یہ چرب زبان ہیں، نہ دھوکے باز، نہ ریا کار، نہ مکار, نہ چھین کر کھاتے ہیں نہ پٹا کر…… انہیں وڈیروں، سرمایہ داروں، سیاستدانوں اور تمام شر پسندوں کے شر اور شیطانی منصوبوں سے محفوظ رکھیں… ایسے مستقل مزاج انسان کسی ملک کو کم ہی میسر آ تے ہیں… آمین…
.

Understanding of a 14 Year Old

Have you ever tried to listen to a teenager age 14, their feelings, their opinion, their reservations.  The adults usually think of them ‘underage’ to discuss anything while they are fantastic people inside.  These teenagers are not children, they are grown up people, they are passionate, they just need the right guidance.

Do Pakistani parents and teachers want to know how children feel about them?  Are Pakistani parents and teachers easy to talk to for their children?

FIRST CONVERSATION: NATIONAL AFFAIRS

Teen) Is there a shortage of water in Pakistan?

Ans) Yes, there is.

Teen) But we never had a shortage in our house.

Ans) That is because you are living in a city and you have built a well underground and use motor to pull water to the tank on your roof.  So you have a proper arrangement for 24 hour water supply.

Teen) Why don’t other people do the same arrangement?

Ans) May be they are poor and can’t afford this arrangement, they are uneducated and can’t think of all these methods.  One reason for shortage is that we waste gallons of water everyday.  So we are responsible for the shortage.

Teen) Why can’t we purify the sea water and make it drinkable?

Ans) It is a good idea and Gen. Pervaiz Musharraf had a planning on it but he couldn’t accomplish it.  Beside that, who’s gonna do it?

Teen) Who’s Pervaiz Musharraf? The government should do something about it.

Ans) Gen. Pervaiz Musharraf was the president of Pakistan right before Zardari and he belonged to Army.  Do you really think that this sitting government or any other government would ever do anything about these issues?

Teen) No, but someone should do this.

Ans) Who?

Teen) Us, we all together…

Ans) What do you mean by ‘us’ and ‘we all together’….. are you gonna do it , how?  Which people will come together?

Teen) No, I mean educated people, those who have completed their education and are jobless.  If government cannot do it, then they can hire educated people to do that.

Ans) Hmm, the government or our politicians would never do anything that has anything to do with the betterment of people…. and they would never  do anything that would provide job opportunities for educated people.

Teen) Then educated people do it themselves.

Ans) What do you think how much this project will cost? Where would they get the money from?

Teen) Rich people can collect money and hire educated young boys and girls.

Ans) Rich people won’t give their money for free, they will ask for planning in written.  The jobless educated lot will have to do this for free.  I mean do you think that educated boys and girls have ability to sit and think about it and then elaborate and illustrate on paper?  Do you think they would take interest in all this for free?  and let me tell you, if we don’t consider this an issue now, each and everyone including me and you would suffer from the shortage of water.

Teen) so we can’t do anything?

Ans) Why not, you read the chapter in your book, you got the idea which shows your concern about your country and people and exactly this is the purpose of education…. now you write about it on your blog and share it with others.

.

.

SECOND CONVERSATION: FAMILY MATTERS

Q) At your age (of 14), if your parents ask you that how do you want them to treat you…what would you tell them?

Teen) Friendly…

Q) your parents are not friendly?

Teen) No

Q) What is your dream of life at this age?

Teen) Freedom

Q) What are most grateful to Allah for beside His regular blessings like food, clothes, home?

Teen) Having friends.

Q) That is it?

Teen) Ahan…

Q) What kind of freedom… what do you think what is freedom?

Teen) I want permission to go to my friends’ house and have fun.  Freedom means I do what I want to do.

Q) Do you think your parents would ever agree with you and grant you the kind of freedom you want?

Teen) No, they would never.  Mom will say that ask your dad and dad will listen to me, will tell me to go to my room and will be mad at mom that where am I learning all this from.

Q) So your father is the sole authority?

Teen) Yes..

Q) It means if you try to express yourself to your dad, your mom would automatically be in trouble?

Teen) Yes

Q) Hmmm, it means your dreams will never come true?

Teen) I know.

Q) What would you do then?

Teen) I don’t know.

Q) How about if a third person tries indirectly to make your parents realize where they are wrong?

Teen) He would listen to them the first time and then he would never listen to them.

Q) and have you thought where will you find such an adult, because adults support parents and they will advice you to listen to your parents and obey them?

Teen) Yeah, that is the point too.

Q) Do you feel angry about all this?

Teen) Yes, sometimes I feel very angry.

Q) Do you let out your anger?

Teen) Sometimes, and then I am being scolded (verbally).  They say, is this what you are learning in school.

Q) Your parents are not bad parents, right?

Teen) No, they love us.  They give us everything.  But I can’t do anything on my own.

Q) How about if you tell them that you just want freedom to spend some times with your friends and that is it?

Teen) They say, you get time in school and you use facebook… isn’t that enough?

Q) You can tell them that school is not a place for one on one friendly talks as other students and teachers are present there.  Facebook is a written expression and the family members are also there so it does not replace ‘face to face’ chatting.

Teen) They won’t listen.

Q) They don’t allow such ‘face to face’ friendship… is your mom friendly with you?

Teen) She is very friendly but there are few things that I cannot discuss with her.

Q) Like what?

Teen) I cannot tell you either.

.

.

THIRD CONVERSATION: MONEY MATTERS

Q) Do you get pocket money?

Teen) No, mom and dad buy everything for us.  When we want to buy something of our own choice, they say, what will you do with this, this is useless.

Q) So, you want to have pocket money? Why?

Teen) Yes, so I can buy things of my choice.

Q) Do you think teenagers, boys or girls, at the age of 14 should be allowed to raise their own pocket money?

Teen) Yes

Q) Why? So when you go for shopping, the shopkeeper cannot cheat with you?

Teen) Yes

Q) Do you think your parents are easy to talk to about these issues?

Teen) No, they are not.  They say you are very young to know or talk about these things.

Q) But what if they get you into marriage after two years, like your mom got married at the age of 16?  Shouldn’t you know about all these issues?

Teen) I don’t know.  I don’t think about marriage.

Q) But if your father decides, then?

Teen) I don’t know.

Q) What if your parents find out who is teaching you all this, would I be in trouble?

Teen) Yes, you will lose your job.

Q) It means we both should be careful.

Teen) Yeah…

.

FOURTH CONVERSATION: TEACHERS AND TUTORS

Q) What kind of experiences you had with tutors?

Teen) We had many tutors.  Mom hired one because she was double M.A. but she didn’t know how to teach so mom fired her.  We gave hard time to another one, made her run after us all around, she was also fired.

Q) So you never had a good tutor?

Teen) There was one, she was friendly but she got married.

Q) What qualities do you want to see in your teacher?

Teen) She should be friendly.  She should be able to help us in our homework.  She should satisfy us if we ask her something.

Q) Something what?

Teen) Like, if we ask her questions about things we have in our mind, we want to know about many things.

Q) Don’t you think this is too much to expect from a tutor, she is just there for one or two hours?

Teen) Yeah, but if we ask our teachers in school, they say “Why are you asking this? I don’t have time.  I will tell your mother.”… and if we ask our mom, she says “this is not your age to ask these question, go study”…

Q) Is it only you or all your friends feel this way?

Teen) We all do.

Q) What do you think of me?

Teen) You are okay.  You chat, you make us laugh, you talk to us, you help us in our homework, you teach other things too and you answer our questions.

FIFTH CONVERSATION: MORALITY

Q) Have you ever witnessed your teachers in school cheating or doing something wrong?

Teen) Yes, they help us in exams, not always but sometimes they write answers on board.

Q) Don’t you tell them that this is cheating?

Teen) If I say it, they will say that we are helping you and you are complaining about us.

Q) Do you think it is ok?

Teen) No

Q) So you know that cheating is bad and they shouldn’t do it?

Teen) Yes.

Q) Have you observed them lying to you?

Teen) When they cannot give any answer, they make excuses, they say “period is over, do it at home or I will tell you tomorrow”.

Q) How do you know that they are making excuses, may be they are right?

Teen) because they start looking here and there and they pause between words.

Q) Is this how you all observe everyone?

Teen) Yes, and then we talk about them when they are not there.

************************************************************************************************

Diddle with Riddle – سہیلی بوجھ پہیلی

Lets start with this riddle.

Riddle:

India wants to deliver it’s weapons of mass destruction (WMD) to Afghanistan with the purpose to help Americans to disintegrate Pakistan.

Facts:

Look at the map at the end of the post.  There a piece of land called Pakistan, surrounded by China at its head, Iran at its tail, Arabian Ocean at it’s bottom and Afghanistan and India on it’s opposite sides.

India and Afghanistan cannot reach each other without crossing Pakistan through land and air or without using waters route to coasts of Karachi, Balochistan and Iran.

India can also use all around trip through other countries like China, Russia, Turkmenistan and Iran at incredible cost.

India meets China at border, not Iran.  While India has better relations with Iran than China.

Question:

1- Would China and/or Iran allow India to use their land or air routes to reach Afghanistan for this purpose?

2- Would America help India through its air bases in Pakistan?

3- Would India built secret passages through Pakistan to reach Afghanistan?

Objection:

Why can’t America or India directly attack Pakistan?

Pakistan’s nuclear deterrence is the first resistance.  Second, people are the true strength of any country or neighbouring countries.  The purpose is not only to disintegrate Pakistan but to do that by keeping Afghan and Pakistani people away from each other and raising hatred among them by terrorist activities in both sides.  Politicians of all three sides (Afghanistan, India and Pakistan) are the best tool for provoking this hatred.

Why?  So, they (Afghanistan, Iran and Pakistan) don’t make a trio (to create the land of Khurasaan) as it is predicted in a hadith by Prophet Muhammad (pbuh). (Courtesy Dr. Israr Ahmed)

So whoever from Pakistan is involved in this bloody game will certainly be unveiled by God Almighty and will lick the dust, Inshallah!

.

خیالوں میں ہی اکثر بیٹھے بیٹھے 
بسا لیتا ہوں اک د نیا سہا نی
.
آج ناصر کاظمی صاحب کی چالیسویں برسی ہے… میں انھیں عظیم شاعرنہیں کہتی کیونکہ عظیم شاعر ثقیل بھی ہوتے ہیں جبکہ ناصر کاظمی صاحب کی شاعری بہت آسان تھی… تو پھر آج کی پوسٹ میں ناصر کاظمی کے شعر… کیسا…
.
گفتگو بھی ہوتی ہے اور شعرو شاعری بھی ہوتی ہے… یعنی کہ دونوں مؤنث ہیں… گفتگو کسی حد تک آزاد ہوتی ہے اور شعرو شاعری الفاظ کی ہم آہنگی کی پابند… اور شعرو شاعری گفتگو کا حسن کہلاتی ہے… مجھے ابھی بھی یہ سمجھ نہیں آیا کہ یہ جملے میں نے کیوں لکھے اور میں اپنے ان جملوں سے کیا نتیجہ نکالوں… چلو یہ نتیجہ نکال لیتی ہوں کہ مارننگ شو کرنے والوں کو یہ بات نہیں پتہ… اتنی چٹر پٹر کرتے ہیں، یہ نہیں کہ روزانہ ایک دو اچھے تہذیب یافتہ شاعروں کے شعرپڑھ دیا کریں… باتوں باتوں میں… اور کچھ نہیں تو قوم کے ذہنوں میں اپنے شاعروں کی سوچ داخل ہوگی… شاید کوئی اچھا نتیجہ نکل ہی آۓ…
.
ناصر آشوب زمانہ سے غافل نہ رہو
کچھ ہوتا ہے جب خلق خدا کچھ کہتی ہے
.
اور میں بھی خلق خدا ہوں، میں یہ کہتی ہوں کہ… عورت کے بارے میں میرا ایک فلسفہ ہے کہ اگر کسی انسان کو یہ احساس ہو جاۓ کہ او ہو میں تو مرد نہیں عورت ہوں… تو پھر اسے چاہیے کہ وہ کم از کم نیّر سلطانہ نہ بنے… بابرا شریف بن جاۓ… کیونکہ نیّر سلطانہ ٹائپ خواتین نے بہت بیڑا غرق کیا ہے… اپنا بھی اور مردوں کا بھی… خوامخواہ میں مسکین اور شریف بننے کی کوشش… بلاوجہ میں مردوں کو ڈھیل دینا اور جان بوجھ کر انکی باتوں میں آجانا… بے وقوفوں کی طرح ہر بات میں ہاں میں ہاں ملانا… بغیر کسی مقصد کے انکی خاطر قربانیاں دینا… زبان دی گئی  ہے مگر خاموش رہنا… ہاتھ دیے گۓ ہیں مگر روکے رکھنا… ٹانگیں دی گئیں ہیں مگر کھڑے رہنا، کبھی اس کونے کبھی اس کھدرے میں… مجال ہے جو گھرکی حالت پہ توجہ دے لیں… ایویں میں آنکھوں کے نلکے کھلے چھوڑ کر چہرے کو گیلا رکھنا… اور انکو پتہ ہوتا ہے کہ اگر یہ اپنی حرکتیں نہیں بدلیں گی تو مرد اسی طرح اکڑے ککڑے پھرتے رہیں گے… لیکن نہیں بھئی… دنیا سے شرافت، کردار اور وفاداری کا سرٹیفکیٹ جو لینا ہوتا ہے… اور دنیا بھی کیا، بس آس پاس کی فتنہ باز خواتین ہوتی ہیں جنکی فتنہ بازیوں کا در ہوتا ہے… بھئی انکے بناۓ معیار ہیں تو خود اپنے گھر میں پورے کریں… خدا کے بناۓ ہوۓ معیار تو نہیں… جن کی فکر کی جاۓ…
.
بھئی عورت ہی بننا ہے تو انسانی تاریخ اچھی مثالوں سے بھری پڑی ہے… حضرت حوا، حضرت ہاجرہ، حضرت مریم، حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ، حضرت فاطمه، حضرت زینب، حضرت فاطمه جناح، حضرت رعنا لیاقت علی خان،  حضرت بلقیس ایدھی وغیرہ… پھر آج کل کے زمانے میں بھی ہزاروں خواتین بہت اچھے اچھے کام کر رہی ہیں بغیر کسی بے ہودہ عورتوں کی باتوں کی پرواہ کے بغیر… 
.
جزدل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں
رہزن کا خوف بھی نہ رہے در کھلا بھی ہو
.
مجھے یاد ہے کہ ہمارے بچبن میں کبھی ہمارے گھر کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے… سواۓ کہ کہیں جانا ہو یا پھر سردیاں ہوں اور رات کا وقت ہو… کبھی یہ خوف نہیں ہوتا تھا کہ کوئی کود کر آجاۓ گا… اور جس کو آنا ہو پھر بھی تو رات کو چوریاں کرنے آتا تھا، دن میں کسی کی ہمّت نہیں ہوتی تھی…ہمارے محلّے میں کسی کو کسی سے ایسا خوف نہیں تھا کہ اگر کسی نے کسی کو کچھ بتا دیا تو ڈاکہ پڑ جاۓ گا، چوری ہو جاۓ گی…. اور اس زمانے میں گھر جیلوں کی طرح بند نہیں ہوتے تھے… ہر گھر میں صحن اور برآمدہ تو ضرور ہوتا تھا… اب تو دو دو لوہے کے گیٹس، ان پر برآمدی تالے، صحن اور برآمدوں تک میں لوہے کی جالیوں کے دیواریں کھڑی ہوتی ہیں… اوپر چھت تک پر لوہے کا گیٹ اور اس پر تالا… پھر بھی دن دھاڑے ڈاکے پڑ جاتے ہیں… کوئی دروازے سے داخل نہ ہو جاۓ، چھت سے نہ آ جاۓ… نیچے کی منزلیں تو سب کی اتنی ڈھکی ہوئی ہوتی ہیں کہ سورج کی روشنی اور ہوا بھی داخل نہ ہو، جن بھوتوں کہ رہنے کے لئے بہترین جگہ… اچھا جگہ بھی چھوڑتے ہیں تو چاروں طرف کی باؤنڈری سے… اور اب تو اس کھلی جگہ میں بھی ایئر کنڈشنر لگا دیتے ہیں کہ گرم ہوا چاروں طرف کی باؤنڈری میں پھیل کر پورا حصّہ گرم کر دیتی ہے… اگر پودے وغیرہ وہاں ہوں تو وہ بھی جل جاتے ہیں… 
.
پہلے زمانے کے گھروں میں چاروں طرف کمرے ہوتے تھے اور درمیان میں جگہ خالی ہوتی تھی صحن اور برآمدے کے لئے… ابھی بھی کہیں ایسے گھر ہوں تو جا کر دیکھیں وہ زیادہ ٹھنڈے ہوتے ہیں گرمیوں میں… ویسے ہمارا ننھا منا سا گھر بھی بہت ٹھنڈا ہوا کرتا تھا… ایک تو امی اور باجی کی صفا یوں کی وجہ سے اور دوسرے اس لئے کہ سب کے سب کنٹرول میں ہوا کرتے تھے، ماں کے… حالانکہ وہاں آسیب وغیرہ سب تھے… لیکن وہ جو کہا ہے نہ کہ…. اچھی مانواں، ٹھنڈی چھاواں… ٹھیک کہا ہے… 
.
 سینچی ہیں دل کے خون سے میں نے یہ کیاریاں 
کس کی مجال میرا چمن مجھ سے چھین لے
.
یہ جذبہ اگر پاکستان کی عوام میں پیدا ہوجاۓ  کہ لیڈر سے زیادہ اپنی مٹی سے پیار کریں تو کسی کی کیا مجال کہ آنکھ اٹھا کر پاکستان کی طرف دیکھے… لیکن پاکستانی عوام بھی نیّر سلطانہ ٹائپ بن گۓ ہیں… سیاستدانوں کی حرکتوں پر روتے بھی رہتے ہیں اور وفاداری کا ووٹ بھی انہیں کو دے دیتے ہیں، قربانیاں بھی انکے لئے دیتے ہیں… فلموں میں دیکھیں تو ایسی خواتین کا شاید ہی گھر بسا ہو، اکثر بے گھر ہی دکھائی گئیں یا کسی اور کے در پر پڑی … وہی پاکستانی عوام کا حال ہے… نہ خود پر توجہ دیتے ہیں نہ ملک پر… صرف اور صرف سیاستدانوں پر نظر رکھتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں… انکو ہی روتے رہیں گے… یا پھر ملک انکے حوالے کر کے بھاگ جاتے ہیں… بھئی باہر بھی جاؤ تو ذرا نظر تو رکھو کہ گھر میں کیا ہو رہا ہے…
.
اب دیکھیں بلوچستان کے مسلے پر کوئی سیاستدان بولا… اچھا ذرا یہ پہیلی تو بوجھیں، بلکہ اسے انٹرنیشنل ریلیشنز کے سلیبس میں ڈال دیں … ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آج کل ایک زمین کا خطہ ہے جو ساری دنیا کے نشانے پر ہے… اسکے سر پر چین، دم پر ایران، ایک سائیڈ پر بھارت اور دوسرے سائیڈ پر افغانستان… قدموں میں بحیرہ عرب کا پانی ہے اور بحیرہ عرب کے ساحل ہیں کراچی، بلوچستان اور ایران……. بھارت کی سرحد چین سے تو ملتی ہے لیکن ایران سے نہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ بھارت کی ایران سے تو دوستی ہے، چین سے نہیں… بھارت کے لئے افغانستان پنہچنے کا آسان زمینی یا ہوائی یا سمندری راستہ ہے پاکستان… راستہ اب بھارت افغانستان کچھ اسلحہ، جاسوس اور فوجی پنہچانا چاہتا ہے تاکہ وہاں سے انھیں پاکستان کے مختلف حصّوں میں سمگل کر کے اور خاص طور پر بلوچستان میں تباہی مچا سکے… تو بھارت یہ شیطانی کام کس راستے سے کرے گا… کیا بھارت کراچی اور بلوچستان کے ساحلوں کو براہ راست استعمال کرے گا، لیکن اس صورت میں اس کا افغانستان سے کیا تعلق، جبکہ بلوچ لیڈرز افغانستان سے بھارت کے لئے کام کرتے ہوۓ پکڑے گۓ ہیں…  کیا چین اور ایران اسے اپنے زمینی یا ہوائی راستوں سے یہ کرنے کی اجازت دیں گے؟… یا پھر بھارت کروڑوں روپے خرچہ کر کے روس اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے ہوتا ہوا افغانستان سب کچھ پنہچاۓ، یہ جانتے ہوۓ کہ پاکستان اور کراچی میں تو خاص طور پر بھارت کے دیوانوں کا راج ہے… اور وہ تو وفادار کتوں کی طرح ایک ہڈی پر راضی ہو جائیں گے… 
.
پتہ نہیں کیوں مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ بھارت اور افغانستان دو کان ہیں اور بیچ میں پاکستان ایک سر یا دماغ کی طرح ہے… اس سے آگے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ گڑبڑ ہو کہاں رہی ہے اور کہاں سے…
.
کون سوچے… پاکستانی مرد تو بھارت کی ان خواتین کے پجاری ہیں جنھیں بھارت نے برہنہ کر کے آگے کر دیا ہے… کہ لو انکا وقت، انکی غیرت، انکا ایمان، انکا پاکستان، سب چھین لو ان سے… فوج تو بھارت کی کسی کام کی نہیں تو انہوں نے بھی خواتین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا… کتنی سوچ کی ہم آہنگی ہے بھارت اور ایم کیوایم کی…
.
.

Flower Show

“Today was good.  Today was fun.  Tomorrow is another one.”  Dr. Suess