The Purpose of Examination in Primary Schools – سالانہ امتحانات کا مقصد

What is the purpose of final examination in elementary school?

What should be the syllabus of final exams in elementary school?

What should be the pattern of examination papers in elementary schools?

.

آج کل اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا دور ہے… بچوں پر سلیبس اور ٹیوٹرز کا جتنا دباؤ ہے… شاباش ہے اس قوم کے بچوں کو کہ اپنے ہی استادوں اور والدین کے ظلم کی چکّی میں پستے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے ادب کی وجہ سے… طلبہ و طالبات کو کہتی ہوں کہ بھئی آواز اٹھاؤ کہ کیا پڑھنا ہے کیا نہیں، کیا شکایات ہیں… ایک نے آواز اٹھائی (ذرا غلط طریقےسے اٹھا لی) تو اسے اسکول سے نکال دیا… پھر یہ کہ بچے کہتے ہیں کیا شکایات کریں کس سے کریں اور کیسے… لکھنا نہیں آتا… اول لیولز کے بچوں کا یہ حال کہ کسی چیز میں ماہر ہونا تو دور کی بات، بات کرنے کے قابل نہیں… بس شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ یہ مضمون اچھا نہیں، وہ مشکل ہے… ہر مضمون سے بیزار… سارا سال گدھوں کی طرح کتابیں اٹھانے والے اور طوطوں کی طرح رتے لگانے والے تھکے تھکاۓ بچے… 
.
اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا کیا مقصد ہے؟
اگر کوئی یہ کہے کہ اسکول ایڈمنسٹریشن یہ چیک کرنا چاہتی ہے کہ بچہ اگلی جماعت میں جانے کے لئے تیار ہے کہ نہیں تو غلط جواب ہوگا… سارا سال بچوں کے دماغ کو رگڑ رگڑ کر جو مختلف ٹیسٹ لئے جاتے ہیں، بچوں کی حاضری، انکی دلچسپی، انکے ہوم ورک کا معیار… یہ سب اساتذہ کی نظر میں ہوتا ہے اور انھیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کون سا بچا کتنے پانی میں ہے… کراچی کے پرائیویٹ اسکولوں میں تو ویسے بھی اندر ہی اندر پوزیشنز بکتی ہیں، اسکولوں کے پسندیدہ ماں باپ کے بچوں کو کس طرح اندر ہی اندر سب بتا دیا جاتے ہیں کہ وہی فرسٹ سیکنڈ آئیں… ایسے ہی تو اسکول اونرز بڑی بڑی گاڑیوں اور بنگلوں میں نہیں  رہتے… اور کراچی میں تو زیادہ تر پرائیویٹ اسکولز ویسے بھی ایم کیو ایم کے سپورٹرز ہیں… مجرمانہ ذہنیت تو ہوگی نہ انکی اور بھارتی غلامی کا سبق ہی دیں گے یہ بچوں کو…
.
اور اگر یہ کہاں جے کہ اسکول والے والدین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انکا بچہ کتنا ذہین ہے یا کس حد تک تیار ہے اگلے لیول کے لئے تو یہ پہلے سے بھی زیادہ غلط جواب ہوگا… جن گھروں میں بچے اسکول جاتے ہوں اور وہاں رات بارہ ایک بجے تک جگا جاتا ہو، سارا سال شادیوں اور تقریبات سے دو تین بجے تک لوٹنا، نانیوں کے گھر وقت بے وقت جانا، بھارتی چینلز پر انکے فنکاروں کو گھر کے افراد اور انکی فحاشی کو گھر کا ماحول سمجھنا، ماں باپ کا خود کتابوں اور علم سے بیزار ہونا اور نے نظم و بے ضبط زندگی گزارنا… یہ سب والدین کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے… اور انھیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ انکی اولادیں کس قابل ہیں… ٹیوٹرز تو بچوں پرتعلیمی دباؤ ڈالنے کے لئے رکھے جاتے ہیں… 
البتہ اسکول والے اور والدین ایک دوسرے پر الزام ڈال کر اپنا فرض پورا ضرور کر لیتے ہیں… بچوں کا سال ضائع ہو وہ خیر ہے… 
.
سالانہ امتحانات کا مقصد طلبہ میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے کہ وہ اگلی جماعت میں جانے کے قابل ہیں اور جتنی محنت اس سال کی ہے، اگلے سال اس سے زیادہ کریں تو اور اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے… اس سے بچوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک پڑھنے، لکھنے اور حساب کتاب کے قابل ہوگئے ہیں… 
.
سالانہ امتحانات کا سلیبس کیسا ہونا چاہیے؟ 
ہمارے زمانے میں یعنی پچھلی صدی میں صرف دو امتحانات ہوتے تھے… ایک ششماہی اور دوسرے سالانہ… ششماہی امتحان میں پہلے چار مہینوں کا سلیبس ہوتا تھا کہ جو پڑھا ہے وہ آۓ گے اور سالانہ امتحانات میں پورے سال کا… پرچوں میں ایک دن کا وقفہ ہوتا تھا اور نہ ہو تو سالانہ امتحانات سے پہلے ایک ہفتے کی چوتھی ضرور ملتی تھی کہ طلبہ گھر پر خود پڑھائی کریں… امی اس ہفتے ہرجگہ آنا جانا بند کر دیتی تھیں اور ٹی وی بھی بند… گھر میں صبح شام کا پڑھائی کا وقت بنا دیا جاتا… وقت پر کھانا، وقت پہ سونا، وقت پہ کھیلنا… اردو، انگلش، ریاضی، سوشل اسٹڈیز (جس میں جغرافیہ شامل ہوتا)، سندھی، اسلامیات اور ڈرائنگ… نہ اردو ادب، نہیں انگلش لٹریچر، نہ کمپیوٹر… اپنے لیول کی چیزیں پڑھ کر پاس ہو جاتے… کبھی ٹیوشن نہیں پڑھا… ہاں بہت چھوٹی عمرمیں بھی اس قابل ضرور تھے کہ محلے کے بچوں کو انگلش اور اردو کے ابتدائی قاعدے اور گنتی سکھا سکیں… 
.
آج ماہانہ ٹیسٹ، سمسٹرز، سرپرائز ٹیسٹ، سالانہ امتحان… سارا سال سلیبس شیٹس ملتی رہتی ہیں… ساتھہ ہی ساتھ روزانہ دو تین ہوم ورک بھی… پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں جماعت تک کے بچوں کو یہ کہہ کہہ کر دہشت زدہ کیا جاتا ہے کہ کہیں سے بھی آجاۓ گے کچھ بھی آجاۓ گا… والدین یا ٹیوٹرز پپرز والی رات دو دو بجے تک بچوں کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ یہ بھی یاد کرو اور یہ بھی… 
یہی حال مدرسوں کے ہیں… پتہ نہیں کیوں ہمارے بڑے بچوں کو اذیت اور پریشانی میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں… 
امتحانی پرچے کیسے ہونے چاہئیں؟ 
امتحانی پرچے ایسے ہونے چاہئیں کہ طلبہ آسانی سے اسے دو گھنٹے میں حل کر سکیں اور ایک گھنٹہ اس میں اپنی غلطیاں نکال سکیں… زیادہ تر تو آبجیکٹوس ہونے چاہئیں جیسے خالی جگہ پر کریں، صحیح غلط، جملے بنیں قسم کے سوالات… چار پانچ ایسے سوال جنکا جواب دو تین جملوں سے زیادہ نہ ہو… مضمون، درخوست، خلاصہ، افہام ٹفھین، یہ سب جونئیر ہائی یننی چھٹی جماعت سے شروع ہونا چاہیے… اسی طرح الجبرا اور مشکل مشکل فارمولے بھی پرائمری اسکول میں نہیں ہونے چاہئیں… 
.
آج کل جو پرچے بنتے ہیں اس میں تین گھنٹے میں اتنے مکاری والے سوال ہوتے ہیں کہ بچہ پہلے ہی سوچ لے کہ فیل ہوا ہی ہوا… سارا سال کے تھکے تھکاۓ بیزار بچوں کے سامنے جب پرچہ آتا ہے تو اس میں پتہ نہیں کہاں کہاں سے ٹیچرز اپنی عمر کے سوال ڈال کر بچوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہیں… پرائمری اسکول کے طلبہ اور وہ بھی جو آج کی جاہل ٹیچرز سے پڑھے ہوں کیا خاک پرچہ حل کریں گے… 
.
ارفع کریم، ستارہ بروج اکبر، موسی فیروز جیسے چھہ سات بچوں کے ورلڈ ریکارڈ بنا لینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بچے پر تعلیمی قیامتیں ڈھا دی جائیں…
 .
.
.
Advertisements

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل

.

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل
یہ قیامت کے بارے میں کہا گیا ہے… لیکن ہمارے والدینوں نے اپنے بچوں پریہ قیامت پہلے ہی نازل کردی…
.
والدین کے اپنے بچوں کو کم عمری میں زیادہ سے زیادہ اور انکے ذہن سے بڑھ کر علم دینے کے پاگل پن نے بچوں کو بچپنے میں ہی بوڑھا کردیا ہے… اور وہ بھی اس طرح  کہ ہربچہ ہر مضمون میں اوّل آۓ ورنہ وہ نکمّہ ہے…
اسکول ایڈ منسٹر یشنزکے اپنے اسکولوں کی مشہوری اور زیادہ سے زیادہ فیس لینے کی دوڑ نے بچوں کو بوڑھوں کی طرح تھکا دیا ہے… باہر سے درآمد شدہ سلیبس اور اپنے پسندیدہ، کھاتے پیتے رشوت دینے والے گھرانوں کے بچوں کو پوزیشنز دینا انکا بزنس چارم ہے… 
.
مونٹیسری لیول اور پہلی دوسری جماعت تک تو بچے کسی نہ کسی طرح محنت کر کے کچھ کامیابی دکھاتے ہیں اور پھر تھکنا شروع ہو جاتے ہیں… آگے جماعتوں میں وہ بیزار نظرآتے ہیں… اکثر ماں باپ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ “بچپن میں یہ اتنا ذہین تھا، اب پتا نہیں کیا ہو گیا ہے پڑھتا ہی نہیں”…
.
خود سوچیں کہ بچے تھکیں گے نہیں، پاگل نہیں ہونگے، بیزارنہیں ہونگے تو کیا کریں گے… اسکول کے دنوں میں ہڑتالیں اور چھٹیاں ہو جاتی ہیں اور پھر بچوں کو ہفتہ کو بلایا جاتا ہے… امتحانات کے زمانے میں کرکٹ اور دوسری اٹریکشنز رکھی جاتی ہیں… یا ہنگامے اور بجلی وغیرہ کی لوڈ شیڈنگ… 
پھرہر ٹیچر یہ کرتی ہے کہ ابھی ایک مضمون پڑھایا اور دوسرے تیسرے دن ٹیسٹ دے دیا… اس سے بھی بڑھ کر سرپرائز ٹیسٹ، جو کسی بھی دن لے لئے جاتے ہیں… انکے علاوہ فائنلز اور دوسرے امتحانات الگ ہیں… 
.
موسم کی سختی اور غیرمعیاری جگہوں پر چھہ سات گھنٹے گزارنے کے بعد ٹرانسپورٹ کی تکلیفات اور پھر گھر آکر مولوی صاحب سے قرآن اور گھنٹوں ٹیوشن پڑھنا اور ٹیسٹ کی تیاری کرنا…  
یہ تعلیم دینے کا کونسا طریقہ ہے…
.
.

Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.

.

Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
.
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.

;

قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
.
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
.
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
.
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
.
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
.
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
.
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
.
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
.
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
.
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
.
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…
.

The Real Celebrities of Pakistan – Under the Spotlight of Sun

“Say: “Who is it that sustains you (in life) from the sky and from the earth? or who is it that has power over hearing and sight? And who is it that brings out the living from the dead and the dead from the living? and who is it that rules and regulates all affairs?” They will soon say, “Allah”. Say, “will ye not then show piety (to Him)?”…. Surah Yunus/Jonah 31

“Verily, it is Allah, Who causes the seed-grain and the fruit-stone (like date-stone) to split and sprout.”… Surah Al-An’aam/The Cattle 95

“And among His Signs (in this), that you see the earth barren, but when We send down water (rain) to it, it is stirred to life and growth (of vegetations). Verily, He Who gives it life, surely, (He) is Able to give life to the dead (on the Day of Resurrection). Indeed! He is Able to do all things..”  Surah Fussilaat/Explained in Detail 39

The real celebrities of Pakistan
Under the spotlight of sun
They produce treasure from the humus
The talent they possess is the true one
.
These are the farmers of my land
stupendous celebrities who perform miracle
They sow what gives life to this earth
They grow what gives energy to people
.
They worry about how to get the seeds,
they are tensed when its time to irrigate,
they suffer while buying good fertilizer,
they sow, they grow and they celebrate
.
Their smile is the beauty of this land.  
Their dance is the real dance of joy.  
They don’t ask too much from this nation.  
But they do deserve a break, few moments to enjoy.
.
.
 I am a big fan of them.  They are our asset and the best among country’s human resources.  Those who God chooses to perform His miracles in seed and soil.   

These are the great human beings who without any exhaustion, continue to fulfill their duty to feed the nation every year.  .  They get dirty, they get sweaty, they work hard, they suffer man-caused disasters but they don’t give up.  Thus, I don’t give up loving them. 

May Allah (SWT) bless the farmers and villagers of my land, make their farming tasks easy for them, provide them with fertile soil, fecund seeds and fresh water.  May they continue to perform miracles with their hands.  May Allah (SWT) protect them from the brutal and wild feudal-lords.  May they never be touched by any sickness, diseases and disasters touch them.  Ameen!

.

ڈھٹائی اور مستقل مزاجی میں کیا فرق ہے… برے کام پر ڈٹ جانا ڈھٹائی اور اچھے کام پر جمے رہنا مستقل مزاجی ہے…
یہ ہیں پاکستان کے اصل ید بیضاء اور ید عیسی اور ید ک الخیر… میرے ملک کے وہ انسان جنھیں الله نے میرے رزق کا ذریعہ بنایا… جنکی میں بہت فین ہوں… جو میرے  سلیبرٹیز ہیں… یہ پاک سر زمین کے چمکتے ستارے ہیں…

.
میرے ملک کے وہ فنکار جو مٹی سے سونا نکالتے ہیں… وہ حساس لوگ جو مٹی کی پیاس کو پہچانتے ہیں… وہ سچے لوگ جو آسمان کی طرف نگاہ کریں تو بادل رحمت بن کر برستے ہیں… 
.
حالانکہ فنکار ہونے کا، سچے ہونے کا، حساس ہونے کا ڈھنڈورا ہمارے ہاں شوبز اور فائن آرٹس سے تعلق رکھنے والے پیٹتے ہیں…
الله سبحانہ و تعالی قرآن میں فرماتے ہیں کہ…
 الله وہ جو بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان نکالتا ہے
.
اور الله کی اس قدرت کے سب سے بڑے گواہ یہی کسان اور دہقان ہوتے ہیں… 
سارا سال اس مٹی میں بے جان بیج بوتے ہیں اور جاندار پودے اگاتے ہیں… ان پودوں پر سبزیاں ہوتی ہیں… چاول، گندم اور نہ جانے کیا کیا ان سے ملتا ہے… کبھی اپنی زمہ داریوں سے گھبراتے نہیں… کبھی اس تخلیقی عمل کا حصّہ بننے سے اکتاتے نہیں…
.
اس مستنڈی قوم کے لئے ہر تکلیف اٹھاتے ہیں اور بغیر کسی شکایات کے، بغیر اپنی بڑائیاں مارے، مسکراتے ہوۓ انکے رزق کا انتظام کرتے ہیں …یہ ہیں مستقل مزاج لوگ… اس سے زیادہ تہذیب اور انسانیت کیا ہوگی کہ انسان اگاۓ خود اور کھلاۓ سب کو… خود اسے اور اس کے بچوں کو سوکھی روٹی ملے اور کروڑوں لوگ پیٹ بھر کر کھائیں اور چین کی نیند سوئیں…
.
حالانکہ انکے نام کا کوئی دن نہیں منایا جاتا… لیکن ایک ایک لقمہ کھاتے وقت انکی عظمت کو خراج تحسین تو پیش کیا جا سکتے ہے… انکے حق میں دعا تو کی جاسکتی ہے…
.
سارے سیاستدان ایک کام کرتے ہیں اپنے مفاد میں تو اپنے منہ سے اپنی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے… گھنٹوں ٹی وی پر وہ اور انکے چیلے چانٹے اپنی بڑائیاں مارتے ہیں… جو کہ ایک بہت بڑی اخلاقی کمزوری ہے… سالوں پرانا ایک ایک کام گنواتے ہیں… اپنی حرکتوں اور بیرونی ملکوں کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں جو جھوٹی موٹی دشمنیاں ایک دوسرے کی پالتے ہیں اور اس کی آڑ میں عوام کا قتل عام کرتے ہیں… اور اگر خود کو ایک تکلیف پنہنچ جاۓ تو سالوں روتے رہتے ہیں… بے پھل و پھول درخت لگا کر قومی دولت بھی ضایع کرتے ہیں اور اس پر اکڑتے بھی ہیں، گالیاں بھی دیتے ہیں… اور پھر بھی قوم کے ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں… عورتیں پڑھ لکھ کر بھی سر عام ناچ گانا ہی کر پاتی ہیں، باقی چیزوں میں بے کھاریاں بے بس… پھر بھی تہذیب یافتہ کہلاتی ہیں… بڑے والے جرائم پیشہ سیاستدانوں کی تو بات ہی کیا… کوئی صدر، کوئی وزیر اعظم، کوئی اسمبلیوں میں بیٹھا ہے… اور اب تو بے خوف ہو کر جرم کرتے ہیں… کیمروں اور شہادتوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے… یہ ہیں ڈھیٹ لوگ….
.
یہی حال دوسرے شعبوں کا بھی ہے… کچھ اپنی چرب زبانی سے لوگوں کا دل لبھا کر دلوں کے بادشاہ اور ملکہ بنے بیٹھے ہیں… کوئی اپنے سٹائل مار کر اکڑے پھر رہے ہیں… کوئی میک اپ میں ڈوب کر اپنی شخصیت کے راز ظاہر کر رہے ہیں… اتنی اتنی عمروں میں جانوروں کی طرح اچھل کود، عجیب حلیہ تماشہ بنا کر اسے ٹیلنٹ کہتے ہیں… اور بچوں کو ہم کہتے ہیں کہ انسان کے بچوں کی طرح تمیز سے بیٹھ کر بات کرو… اتنے تعریف کے بھوکے کہ دنیا کی کوئی آسائش انکا پیٹ اور نیت نہیں بھر سکتی… لاکھوں کما رہے ہیں پھر بھی فینز کے مالی اور اخلاقی آسرے کے محتاج رہتے ہیں… اپنی کمائی تو اپنے ہی عیش و عشرت پر اڑا دیتے ہیں… کیا بد نصیبی ہے… 
.
یا الله سبحانہ و تعالی! آپ سے میری دعا ہے کہ اداکار، گلوکار، سیاستدان اور دوسرے شعبے کے لوگ تو پیدا ہوتے اور مرتے رہتے ہیں… جو انکی حرکتیں ہیں تو انکی جگہ لینے والے  بہت ہیں کوئی کمی نہیں پڑنے والی… لیکن میرے ملک کے کسانوں، دیہاتیوں اور دہقانوں کو زندہ سلامت، صحت مند رکھیے… یہ پاکستان کا سرمایہ ہیں… یہ خود دار ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھلاتے… کسی کی تعریف کے محتاج نہیں… جو عیش پاکستان کے سرمایہ دار، وڈیرے اور سیاستدان کر رہے ہیں وہ انکو بھی میسر آۓ… یہ آپ کے پاکستان کی صحیح قدر کرنے والے لوگ ہیں… انکو ہر آفت اور مصیبت سے بچا لیں… نہ یہ چرب زبان ہیں، نہ دھوکے باز، نہ ریا کار، نہ مکار, نہ چھین کر کھاتے ہیں نہ پٹا کر…… انہیں وڈیروں، سرمایہ داروں، سیاستدانوں اور تمام شر پسندوں کے شر اور شیطانی منصوبوں سے محفوظ رکھیں… ایسے مستقل مزاج انسان کسی ملک کو کم ہی میسر آ تے ہیں… آمین…
.

Who is the most kind and the wisest?

The purpose is of this writing is not to pass any judgement on anyone.  This is just another tiny effort to look into the mirror of Islamic doctrine and see how many scars are left there on heart and soul.

There are 114 surahs in Qur’an and each except one (Surah At-Taubah/The Repentance) begins with the acknowledgement of God’s attributes “In The Name of Allah, The Beneficent/Compassionate, The Merciful”.  The same statement is mentioned once in Surah An-Namal/The Ants, when Prophet Sulaiman/Solomon uses the same words to begin with in a letter to the Queen of Sheba.

The same Quran mentions Prophet Muhammad (pbuh) as the mercy for all the worlds Allah (SWT) has created.  Each and every moment of Prophet Muhammad (pbuh)’s life is an evidence to prove this claim to be true and certainly it has everything to do with his character.  “We have sent you but as the mercy for all worlds”… Surah Al-Anbiya 107

The words of Qur’an and the life of Prophet (pbuh) are beautiful combination of moral laws and court laws – together they are called ‘shariah’/the Islamic code of law.  Any Muslim having a doubt and then preaching it as a defect of Islam, such as ruling on two women as a witness against one man or four marriages for men and only one for woman, is considered a ‘kafir’, which literally means the one who rejects or denies.  So, the word ‘kafir’ shouldn’t be used to for non-Muslims.

Allah (SWT) says in Qur’an, ” And there are, certainly, among the people of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. They do not sell the Verses of Allah for a little price, for them is a reward with their Lord. Surely, Allah is Swift in account.  O you who believe! Endure and be more patient (than your enemy), and guard your territory by stationing army units permanently at the places from where the enemy can attack you, and fear Allah, so that you may be successful.”…. (Surah Aal-e-Imran/The Family of Imran 199/200)

Islam has introduced a very balanced and flexible life-style.  The exceptions and limitations in obligations are already set by the Shariah and they are termed as “hudood or hudood-Allah” in Quran.  Similarly, the Shariah has outlined the emotional expressions prohibiting extremism and exaggeration.

For example, a strong belief in our society about God is that there are no limits for glorifying Allah Almighty.  Yes, there are.  Allah (SWT) has specified how to and when to remember Him formally on daily and yearly basis, i.e. salah/prayer and Hajj/pilgrimage to Makkah.  However, there are no time limit and conditions to communicate with Him for any reason.  He Almighty is awake and present all the time.

Be wild in anger, be crazy in excitement, be pessimist in sadness, be disappointed in trials,  be haughty in richness, be silent for witness, be a support in false accusations, be overjoyed in celebrations, etc. —  this is how life events are dealt in our society, by showing extreme behaviour and this is prohibited in Islam.

Sometimes, people don’t realize that they are acting as they are wiser than Allah (SWT) and prophets.  They do violate the limits of Shariah and then defend themselves and justify their actions by giving lame excuses.  Who do they try to satisfy, God, people around us or themselves?

There are lots of things that we do and we can say that we do them because we like them.  There are many things that we don’t do and we can say that we don’t do them because we don’t like them.  We can simply say that I do this or I don’t do this because this is how understood the religion.  This is better than manipulating religious principles.  This is not wise to corrupt the religion and create complications for others by wrong interpretations of Islamic moral values.

This intentional or unintentional corruption in religion develops a guilt in mind.  This guilt often transforms into an extra-ordinary feeling of kindness and sympathy to others and is exhibited by charity work.  Those who are involved in breaking the system or if not breaking, not building the system usually rejoice themselves by feeding, helping, educating hungry and needy people at large scale.  This is one way to kill that guilt.

In the same manner, people exaggerate while consoling, condoling, grieving, describing, explaining and even guiding.  We mourn for weeks, months and years.  They exaggerate while praising sacred prophets, saints, leaders, heroes, elders, family dynasty, etc.  This exaggeration turns into controversies and contentions and finally leads to physical combats.

Sometimes people unknowingly try to pretend that they are more kind than God Almighty and His prophets.  They have more sympathies with rapists, robbers, adulterers and murderers than with the victims.    Forgiveness has its own conditions.  Forgiveness is when exercised unnecessarily to the wrong people, it benefits the criminal minds only. Only God Almighty has the right to forgive whoever He wills for any or no reason.

Sometimes people behave like they have more ego and temperament than God Almighty and His prophets.  Mostly men try this on women, elders on youngsters, rich on poor, smart on naive.  Raising voice for rights, for choice is also considered a matter of ego.  The Arabic word ‘ana’ meaning ‘I’ with the thought of completeness and absolute powers suits only to God Almighty.

I was just thinking that if Edhi, Ansar Burni Trust and other legitimate charity organizations have established as parallel to the government institutions, why don’t they join together and really make one for the sake of this country.  Edhi’s team works more like a ‘baitul-maal’.  Sarim Burni’s team plays Supreme Court in addition to police and detectives.  Shoukat Khanum Memorial Hospital’s team along with Dr. Adeeb Rizvi and many others can run the best health ministry in the world.  There are many educational institutions like Namal that can replace the board of education in all four provinces and adjacent territories.  Those who are making world records can be the best to deal with foreign affairs.

Who cares who sits in the President House!  People can choose Dr. A. Q. Khan or Justice Wajeehuddin or any other smart, honest and patriot man as a guide and leader.

Unemployed youth can head towards the villages and farms to help farmers to grow more and more food.  You know why, because food is most essential in all necessities.  They can even train themselves as a substitute to law enforcement bodies.  We are missing them any way.

People of Pakistan are a government, then why let the criminals and incompetents draw salaries from assemblies and make others beg for what they deserve?

All Hail or Hell to the Democracy

“He said, “Do you observe that which you have been worshipping,  you and your ancient fathers?  Verily! They are enemies to me, save the Lord of the ‘Alameen (mankind, jinns and all that exists)… Who has created me, and it is He Who guides me… And it is He Who feeds me and gives me to drink… And when I am ill, it is He Who cures me… And Who will cause me to die, and then will bring me to life (again)… And Who, I hope will forgive me my faults on the Day of Recompense (the Day of Resurrection)… My Lord! Bestow hikmat (religious knowledge, right judgement of the affairs) on me, and join me with the righteous people… And grant me an honourable mention in later generations… And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight..” (Surah Ash-Shu’ara/The Poets)

“Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, inclining towards truth and I am not of those who associates others with Allah…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“Say (O Muhammad, pbuh), Verily, my prayer, my sacrifice, my living and my dying are for Allah, the Lord of all the worlds…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“And if Allah touches you with hurt, there is none who can remove it but He; and if He intends any good for you, there is none who can repel His favour which He causes it to reach whomsoever of His slaves He will.  And He is the Oft-Forgiving, Most Merciful.”  (Surah Yunus/Jonah, the Prophet)

Glorifying God Almighty or glorifying a person – what sounds more efficacious?  A quick answer to this would be ‘Glorifying God’, and we do glorify Him.

Yeah, we do glorify and remember Him – a timeless Being at times, an unlimited Being with limitations, the One beyond logic with reasons, the most direct One through sources.

But when it comes to glorify humans directly or indirectly, we disregard timings, limitations and logical reasons.  We pledge our lives to that person, we do sacrifices for his cause and we die in his/her name.

This is not leadership.  Breaking divine rules for a person, is not leadership.  Do things in a person’s name instead of God Almighty, is not leadership.  This is misguidance.

The way political workers and supporters hail their leaders and obey them is a non-sense.  They worship one person like crazy, they go wild at his/her insult, they become unjust while defending a morally corrupt person.

A party leader is party leader, he/she is not the god or goddess that the whole nation must hail otherwise suffer the wrath of their workers.  If they are so concerned with the dignity and honour of their leader, why don’t they ask him/her to behave human, civilized and normal?

How did the companions praised Prophet Muhammad (pbuh)?  Did Prophet Muhammad (pbuh) ever used his companions or people to be a threat for his enemies?  How disciplined and civilized were his companions and admirers, do we care?

Do political leaders and religious leaders have the rights to misuse or abuse moral values whenever and wherever they want?  Just because they have succeeded in gathering .05% or .50% of the population at one place.

Well, I say “NOT HAIL BUT HELL TO THESE LEADERS, THEIR WORKERS AND THIS DEMOCRACY”.

.

“ابراہیم نے کہا، اچھا کیا تم نے کبھی سوچا، کیا ہیں یہ جن کی تم پوجا کرتے رہے ہو؟  تم اور تمھارے وہ باپ دادا جو پہلے ہو گزرے… کیونکہ یہ سب تو میرے دشمن ہیں، سواۓ رب العالمین کے… جس نے پیدا کیا ہے مجھے، پھروہی میری رہنمائی فرماتا ہے… اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے… اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے… اور وہی جو مجھے موت دے گا، پھر دوبارہ زندہ کرے گا… اور وہی جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بخش دے گا میری خطائیں روز جزا… اے میرے مالک! عطا فرما تو مجھے حکمت اور شامل فرما تو مجھے صالحین میں… اور باقی رکھ میرا ذکر خیر بعد والوں میں… اور شامل فرما تو مجھے نعمت بھری جنّت کے وارثوں میں…” (سوره الشعراء) 
“(کہا ابراہیم نے) بے شک کر لیا میں نے اپنا رخ اس ہستی کی طرف جس نے پیدا کے ہیں آسمان و زمین یکسو ہو کر…” (سوره الانعام) 
“کہ دو، بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت، سب الله کے لئے ہے… جو رب ہے سارے جہانوں کا… (سوره الانعام) 
“اور اگر پہنچاۓ تم کو الله کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اس کا مگر وہی اور اگر پنہچانا چاہے تم کو وہ کوئی بھلائی تو نہیں ہے پھرنے والا کوئی اس کے فضل کو….” (سوره یونس) 
.
سارا کا سارا قرآن اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ الله سبحانہ و تعالی جو وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں…
.
شخصیت پرستی کیا ہے… یہی نہ کہ کسی انسان سے اتنی محبت یا عقیدت کرے، یا اتنا خوف کھاۓ، یا اتنی امید لگاۓ کہ خدا کو بھول جاۓ… اس کے کہنے پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا لے… قرآن کے مقابلے پر اپنے من چاہے قوانین نافذ کرے… اس کے لئے جان دینے کا عہد کرے اور دے بھی دے…
.
خدا پرستی کے مقابلے پر شخصیت پرستی پاکستانیوں کا سب سے پرانا اور پسندیدہ عیب ہے اور سارے فساد اور موجودہ حالات کی جڑ بھی… سیاستدان ہوں، مولانا ہوں، اداکار ہوں، گلوکار ہوں، ماں باپ ہوں، میاں ہو، بیوی ہو، محبوب یا محبوبائیں ہوں، پیر یا عامل ہوں…. غرض یہ کہ اپنی زندگی کو کسی نہ کسی انسان کے ہاتھوں میں دیے رکھتے ہیں کہ وہ اس سے کھیلے… اور باقی سب کے حقوق پورے نہیں کرتے…
.
میرے خیال میں رسول صلی الله علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں کسی اور کا نام محمد نہیں تھا… لیکن اس کے با وجود ان کی پہچان انکا کردار تھا…  ‘امین’ اور ‘صادق’ کے نام سے مکے کے لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ کس کی بات کی جارہی ہے… یہی حال بعد میں صحابہ کا بھی تھا… صدیق، فاروق، غنی، حیدر، سیف الله… یہ القاب انہوں نے خود اپنے ناموں کے ساتھ نہیں لگاۓ تھے بلکہ دوسروں نے انہیں ان کے نام کا حصّہ بنایا تھا…
.
صحابہ رسول صلی الله علیہ وسلم کی شخصیت کو پوجتے نہیں تھے… بلکہ انکے احکامات کو احکامات خدا جان کر ان پر عمل کرتے تھے… رسول صلی الله علیہ وسلم  سے اپنی محبت کے اظہار کے لئے اپنی مرضی کے طریقے اختیار نہیں کر رکھے تھے انہوں نے… دوسری بات یہ کہ رسول صلی الله علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کے باوجود اپنے گھروالوں کے، محلے کے، دوستوں کے، رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھتے تھے…
.
.
آج ہم اپنے معاشرے میں کتنے لوگوں کو انکو کردار سے بلکہ اچھے کردار سے پہچانتے ہیں… یہاں لوگ پیشے، عہدے، اور طبقے سے پہچانے جاتے اور عزت کیے جاتے ہیں…
ڈاکٹر، اینجنیرز، وکیل، جج، ہیڈ ماسٹر، استاد، چیف ایگزیکیٹو، منیجر، افسر، سیاسی لیڈر، سردار، وڈیرے، بزنس مین، صدر، گورنر، وزیر، ممبر قومی اسمبلی، کونسلر، مولانا صاحب، شاہ صاحب، مفتی صاحب، پیر صاحب، حافظ صاحب…….. بس اسی طرح ہم اپنے لوگوں کو پہچانتے بھی ہیں، انکی عزت بھی کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے بھی ہیں… یہ سیاہ کریں یا سفید، صحیح کریں یا غلط… کسی کو ان سے سوال کرنے کا حق نہیں ہوتا… کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہوتا… کسی کے پاس انکے احتساب کے اختیار نہیں ہوتا… 
.
پاکستان میں ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ جو باکردار ہو عوام اسے سوشل ورکر کی حثیت سے تو قبول کر لیتی ہے لیکن رہنما یا سیاستداں کی حیثیت سے نہیں… پاکستانیوں کا حال دیکھیں… پٹھان، بلوچی، پنجابی، سندھی، بنگالی، اردو بولنے والے، شیعہ، سنی، تبلیغی، اہل سنت، آغا خانی، قادیانی، پیپلز پڑتی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ، عوامی نیشنل پڑتی، تحریک انصاف، ڈیفنس والے، گلشن والے، کینٹ والے، نارتھ ناظم آباد والے، لالو کھیت والے، اورنگی ٹاون والے، ملیر والے، ڈاکٹر، استاد، تاجر، مزدور …. کتنے سارے کنوؤں میں بند مینڈک ہیں ہم سب… اپنے اپنے فائدے کے لئے نکلے، ٹرٹراۓ اور پھر اندر… 
پاکستان میں جو جس عہدے پر بیٹھ گیا یا بٹھا دیا گیا، نہ تو وہ خود ہٹنے کا نام لیتا ہے، نہ ہی دوسرے اس کے سامنے دم مار سکتے ہیں… عقیدت ہو، خوف ہو، محبت ہو، مقصد ہو، مطلب ہو یا مذاق… کوئی بھی وجہ ہو، ہمارے ہاں ایک شخص کو خدا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی جاتی ہے… اس اپنے ہی جیسے بے بس انسان سے ساری امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں… وہی مسائل کا حل سوچے اور وہی ان پرعمل کرنے کے لئے یا کرنے کے لئے اپنی زندگی برباد کر لے… عوام تو کیا کرتی ہے… نعرے لگاۓ، اور کام نکلتا دیکھا تو صحیح ورنہ کسی دوسرے کے سا ۓ میں پناہ ڈھونڈنے نکل پڑے…
.
ہماری قوم نے لیڈر یعنی رہنما کے لئے کوئی معیار سامنے نہیں رکھا کہ کوئی لیڈر بننے سے پہلے سوچے کہ اسکی عوام اسے کن خصوصیات کے ساتھ قبول کرے گی…
ہم کبھی اس ایک انسانی خدا کے کردار کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے، پوچھتے نہیں اور اگر کوئی انکو بتاۓ تو الٹا اس کا دفاع کرتے ہیں… صرف روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے وعدوں پر بک جاتے ہیں، غلام بن جاتے ہیں، رسولوں کی تعلیمات بھول جاتے ہیں، الله کے وعدوں پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنے رب کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں… کس کے کہنے پر؟ اپنے ہی درمیان میں پلے بڑھے اپنے ہی جیسے کردار کے ایک آدمی یا عورت کے کہنے پر… جو خود کسی قابل نہیں، جسکے پاس خود کوئی اختیار نہیں… جو خود اپنے نفع نقصان پر قادر نہیں… جو خود اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے دوسروں کی پناہ کا محتاج ہو… 
.
لیڈرز چاہے مذہبی ہوں یا سیاسی اور عوام… دونوں نے کبھی اپنا اپنا انجام نہیں دیکھا… صبح شام، دن رات ایک کر دیتے ہیں یہ رہنما… اربوں کی دولت جمع کر لیتے ہیں، محل بنا لیتے ہیں لیکن کبھی استعمال نہیں کر پاتے اور جو کچھ استعمال کر لیں تو گالیاں کھاتے ہیں، الزام سہتے ہیں، لعنت ملامت ہوتی ہے، کبھی انکے والدین کو برا کہا جا رہا ہوتا ہے اور کبھی بچوں کو بد دعائیں… یہی انکی زندگی کا حاصل ہوتا ہے…
.
عوام کو کیا ملتا ہے… خود کشی، خود سوزی، بھوک، فاقے، بیماریاں، محتاجی، بد حالی، ذلت………. روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے لئے سڑکوں پر آۓ دن احتجاج، کتے بلیوں کی طرح دھوپ میں مارے مارے پھرنا، خواری اور ذلت نہیں تو پھر کیا ہے… کیا مذاق ہوتا ہے کہ ہزاروں اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر جمع ہو کر بھی اتنے بے بس کہ صرف سٹیج پر کھڑے رہنماؤں کے اشارے کے پابند ہوتے ہیں… ڈگڈگی انکے ہاتھ میں ہوتی ہے اور عوام بندر کی طرح انکے احکامات پر عمل کرتے ہیں… ناچ جاؤ، ناچ گئے… گانا شروع کردو، گانے لگے… تالیاں بجاؤ، تالیاں بجانے لگے… جلسہ ختم کردو، گھر واپس آ گئے… میں تو یہ سوچتی ہوں کہ کتنے خوش ہوتے ہونگے عوام کی بے بسی کا تماشہ لگا کر یہ سیاست دان… 
.
ہزاروں لاکھوں ایک ساتھ جمع ہو کی بھی کوئی قوت نہیں بنتے، کوئی مطالبہ لے کر اپنے لیڈرز پر دباؤ نہیں ڈالتے کہ یہ قانون بناؤ، یہ بل پاس کرو… جب الله رب العزت کو چھوڑ کر، اس کے دے ہوۓ آئین سے منہ موڑ کر، اس کی ہدایات کو ٹھکرا کر، ادھر ادھر بھٹکو گے تو یہ ذلت تو ملے گی… 
.
اور مزے کی بات یہ کی عوام اور لیڈرز، دونوں ایک دوسرے پر الزام بھی لگاتے ہیں… اور پھر ایک دوسرے کے ہی پاس جاتے ہیں…. سیاستدان ووٹ کے لئے اور عوام مسائل کے حل کے لئے… 
قرآن ایسے عوام اور ایسے لیڈرز کے بارے میں کیا کہتا ہے….“کمزور ہیں مدد مانگنے والے اور وہ جن سے مدد مانگی جاتی ہے…” (سوره الحج) 
.
شخصیت پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان بے وقوف بہت بنتا ہے… اگر اس کو چاہا جاۓ تب بھی اور وہ کسی کو چاہے تب بھی… یہ سوچ ہی نہیں آتی کہ میں ہوں یا کوئی اور… ہیں تو انسان ہی، غلطی کر سکتے ہیں… محاسبہ بھی ہو سکتا ہے… تنقید بھی ہو سکتی ہے… مخالفت بھی ہو سکتی ہے… بے وقوفوں کی طرح بس کسی ایک شخص کی تعریفیں ہی تعریفیں ہوئی چلی جارہی ہیں… کوئی اسکے خلاف زبان نہ کھولے… الٹا سیدھا کچھ بھی کر کے اس کا دفاع کرنا ہے… زبان سے حق کے بجاۓ چکنی چپڑی باتیں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں…
.
شخصیت پرستی کی ایک تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک رکشے والے نے مجھ سے کہا کہ ‘باجی میں تو کہتا ہوں کہ یہی حکومت رہے، یوسف رضا گیلانی جیسا ایماندار، مڈل کلاس اور غریبوں سے محبت کرنے والا انسان وزیر اعظم رہے تو ملک کے حالات بدل جائیں گے’… میں صرف اس کا منہ دیکھتی رہ گئی… اور تعلیم یافتہ لوگوں کی نا اہلی کا ماتم کرتی رہ گئی…
.
اسی طرح کہیں دنیا میں ایسا قائد دیکھا ہے کسی نے، ناچنے گانے والا اور وہ بھی انتہا درجے چھچھورے پن کے ساتھ….
.
نواز شریف کی پرستش کرنے والوں نے تو حد ہی کر دی کہ محبت میں اتنے نعرے لگاۓ کہ لیڈر کو ہی بولنے نہ دیا… اورتواورماروی میمن صاحبہ نے کیا پلٹا کھایا… اور دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی حساب نہیں لیا… نواز شریف نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ تو مشرف کے ساتھ تھیں اس کے ہر جرم میں اور ماروی میمن نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے کتنا کرپشن کیا اور کتنا قرضہ کھایا… 
.
پرویز مشرف صاحب کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہوگا کہ عوام پرسے شخصیت پرستی کا بھوت اگر اترے تو کیا رنگ دکھاتا ہے… یا ہو سکتا ہے کہ عافیہ صدیقی کی آہ لے ڈوبی ہو…
.
عمران خان صاحب کے پرستاروں کو کم از کم یہ تو پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بھائی یہ کس وقت کا عمرہ اور فوٹو سیشن کیا جارہا ہے… اور اگر حج بھی ہو توچھوڑا جا سکتا ہے خاص کر اگر اتنے سارے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسلہ ہے…  ایسا حج تو نہ ہو کر بھی مقبول ہوتا ہے…
.
 

Understanding of a 14 Year Old

Have you ever tried to listen to a teenager age 14, their feelings, their opinion, their reservations.  The adults usually think of them ‘underage’ to discuss anything while they are fantastic people inside.  These teenagers are not children, they are grown up people, they are passionate, they just need the right guidance.

Do Pakistani parents and teachers want to know how children feel about them?  Are Pakistani parents and teachers easy to talk to for their children?

FIRST CONVERSATION: NATIONAL AFFAIRS

Teen) Is there a shortage of water in Pakistan?

Ans) Yes, there is.

Teen) But we never had a shortage in our house.

Ans) That is because you are living in a city and you have built a well underground and use motor to pull water to the tank on your roof.  So you have a proper arrangement for 24 hour water supply.

Teen) Why don’t other people do the same arrangement?

Ans) May be they are poor and can’t afford this arrangement, they are uneducated and can’t think of all these methods.  One reason for shortage is that we waste gallons of water everyday.  So we are responsible for the shortage.

Teen) Why can’t we purify the sea water and make it drinkable?

Ans) It is a good idea and Gen. Pervaiz Musharraf had a planning on it but he couldn’t accomplish it.  Beside that, who’s gonna do it?

Teen) Who’s Pervaiz Musharraf? The government should do something about it.

Ans) Gen. Pervaiz Musharraf was the president of Pakistan right before Zardari and he belonged to Army.  Do you really think that this sitting government or any other government would ever do anything about these issues?

Teen) No, but someone should do this.

Ans) Who?

Teen) Us, we all together…

Ans) What do you mean by ‘us’ and ‘we all together’….. are you gonna do it , how?  Which people will come together?

Teen) No, I mean educated people, those who have completed their education and are jobless.  If government cannot do it, then they can hire educated people to do that.

Ans) Hmm, the government or our politicians would never do anything that has anything to do with the betterment of people…. and they would never  do anything that would provide job opportunities for educated people.

Teen) Then educated people do it themselves.

Ans) What do you think how much this project will cost? Where would they get the money from?

Teen) Rich people can collect money and hire educated young boys and girls.

Ans) Rich people won’t give their money for free, they will ask for planning in written.  The jobless educated lot will have to do this for free.  I mean do you think that educated boys and girls have ability to sit and think about it and then elaborate and illustrate on paper?  Do you think they would take interest in all this for free?  and let me tell you, if we don’t consider this an issue now, each and everyone including me and you would suffer from the shortage of water.

Teen) so we can’t do anything?

Ans) Why not, you read the chapter in your book, you got the idea which shows your concern about your country and people and exactly this is the purpose of education…. now you write about it on your blog and share it with others.

.

.

SECOND CONVERSATION: FAMILY MATTERS

Q) At your age (of 14), if your parents ask you that how do you want them to treat you…what would you tell them?

Teen) Friendly…

Q) your parents are not friendly?

Teen) No

Q) What is your dream of life at this age?

Teen) Freedom

Q) What are most grateful to Allah for beside His regular blessings like food, clothes, home?

Teen) Having friends.

Q) That is it?

Teen) Ahan…

Q) What kind of freedom… what do you think what is freedom?

Teen) I want permission to go to my friends’ house and have fun.  Freedom means I do what I want to do.

Q) Do you think your parents would ever agree with you and grant you the kind of freedom you want?

Teen) No, they would never.  Mom will say that ask your dad and dad will listen to me, will tell me to go to my room and will be mad at mom that where am I learning all this from.

Q) So your father is the sole authority?

Teen) Yes..

Q) It means if you try to express yourself to your dad, your mom would automatically be in trouble?

Teen) Yes

Q) Hmmm, it means your dreams will never come true?

Teen) I know.

Q) What would you do then?

Teen) I don’t know.

Q) How about if a third person tries indirectly to make your parents realize where they are wrong?

Teen) He would listen to them the first time and then he would never listen to them.

Q) and have you thought where will you find such an adult, because adults support parents and they will advice you to listen to your parents and obey them?

Teen) Yeah, that is the point too.

Q) Do you feel angry about all this?

Teen) Yes, sometimes I feel very angry.

Q) Do you let out your anger?

Teen) Sometimes, and then I am being scolded (verbally).  They say, is this what you are learning in school.

Q) Your parents are not bad parents, right?

Teen) No, they love us.  They give us everything.  But I can’t do anything on my own.

Q) How about if you tell them that you just want freedom to spend some times with your friends and that is it?

Teen) They say, you get time in school and you use facebook… isn’t that enough?

Q) You can tell them that school is not a place for one on one friendly talks as other students and teachers are present there.  Facebook is a written expression and the family members are also there so it does not replace ‘face to face’ chatting.

Teen) They won’t listen.

Q) They don’t allow such ‘face to face’ friendship… is your mom friendly with you?

Teen) She is very friendly but there are few things that I cannot discuss with her.

Q) Like what?

Teen) I cannot tell you either.

.

.

THIRD CONVERSATION: MONEY MATTERS

Q) Do you get pocket money?

Teen) No, mom and dad buy everything for us.  When we want to buy something of our own choice, they say, what will you do with this, this is useless.

Q) So, you want to have pocket money? Why?

Teen) Yes, so I can buy things of my choice.

Q) Do you think teenagers, boys or girls, at the age of 14 should be allowed to raise their own pocket money?

Teen) Yes

Q) Why? So when you go for shopping, the shopkeeper cannot cheat with you?

Teen) Yes

Q) Do you think your parents are easy to talk to about these issues?

Teen) No, they are not.  They say you are very young to know or talk about these things.

Q) But what if they get you into marriage after two years, like your mom got married at the age of 16?  Shouldn’t you know about all these issues?

Teen) I don’t know.  I don’t think about marriage.

Q) But if your father decides, then?

Teen) I don’t know.

Q) What if your parents find out who is teaching you all this, would I be in trouble?

Teen) Yes, you will lose your job.

Q) It means we both should be careful.

Teen) Yeah…

.

FOURTH CONVERSATION: TEACHERS AND TUTORS

Q) What kind of experiences you had with tutors?

Teen) We had many tutors.  Mom hired one because she was double M.A. but she didn’t know how to teach so mom fired her.  We gave hard time to another one, made her run after us all around, she was also fired.

Q) So you never had a good tutor?

Teen) There was one, she was friendly but she got married.

Q) What qualities do you want to see in your teacher?

Teen) She should be friendly.  She should be able to help us in our homework.  She should satisfy us if we ask her something.

Q) Something what?

Teen) Like, if we ask her questions about things we have in our mind, we want to know about many things.

Q) Don’t you think this is too much to expect from a tutor, she is just there for one or two hours?

Teen) Yeah, but if we ask our teachers in school, they say “Why are you asking this? I don’t have time.  I will tell your mother.”… and if we ask our mom, she says “this is not your age to ask these question, go study”…

Q) Is it only you or all your friends feel this way?

Teen) We all do.

Q) What do you think of me?

Teen) You are okay.  You chat, you make us laugh, you talk to us, you help us in our homework, you teach other things too and you answer our questions.

FIFTH CONVERSATION: MORALITY

Q) Have you ever witnessed your teachers in school cheating or doing something wrong?

Teen) Yes, they help us in exams, not always but sometimes they write answers on board.

Q) Don’t you tell them that this is cheating?

Teen) If I say it, they will say that we are helping you and you are complaining about us.

Q) Do you think it is ok?

Teen) No

Q) So you know that cheating is bad and they shouldn’t do it?

Teen) Yes.

Q) Have you observed them lying to you?

Teen) When they cannot give any answer, they make excuses, they say “period is over, do it at home or I will tell you tomorrow”.

Q) How do you know that they are making excuses, may be they are right?

Teen) because they start looking here and there and they pause between words.

Q) Is this how you all observe everyone?

Teen) Yes, and then we talk about them when they are not there.

************************************************************************************************