Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.


Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.


قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…

As a matter of fact, Pakistan is the matter of Faith.

1-10 Hijri – Prophet Muhammad (pbuh) said, “I feel cool breeze coming from Hind.”  

1867 – Sir Syed Ahmed Khan said, “It was now impossible for Hindus and Muslims to progress as a single nation.”

1930 – Dr. Muhammad Iqbal said, “I therefore demand the formation of a consolidated Muslim State in the best interest of India and Islam.  For India, it means security and peace resulting from an internal balance of power; for Islam, an opportunity to rid itself of the stamp that Arabia Imperialism was forced to give it, to mobilize its law, its education, its culture, and to bring them into closer contact with its own original spirit and with the spirit of modern times.”
23rd March, 1940 
Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah said, ” The Hindus and the Muslims belong to two different religions, philosophies, social customs, and literature.  It is quite clear that Hindus and Muslims derive their inspirations from different sources of history.  They have different epics, their heroes are different, and they have different episodes.  Very often the hero of one is foe of the other, and likewise, their victories and defeats overlap.  To yoke together two such nations under a single state, one as a numerical minority and the other as a majority, must lead to growing discontent and the final destruction of any fabric that may be so built for the government of such a state.”   
The statement of Pakistan Resolution (Lahore Resolution) said, “No constitutional plan would be workable or acceptable to the Muslims unless geographical contiguous units are demarcated into regions which should be so constituted with such territorial re-adjustments as may be necessary.  That the areas in which the Muslims are numerically in majority as in the North-Western and Eastern zones of India should be grouped to constitute independent states in which the constituent units shall be autonomous and sovereign.  
That adequate, effective and mandatory safeguards shall be specifically provided in the constitution for minorities in the units and in the regions for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights of the minorities.”

Pakistan (Lahore) Resolution was drafted by Sir Sikandar Hayat Khan, Chief Minister of Punjab.
It was read by Maulvi Abul-Kasim Fazlul Huq, Chief Minister of Bengal and was seconded by Chaudhry Khaleeq-uz-Zaman.
It was accepted by Maulana Zafar Ali Khan from Punjab, Sardar Aurangzeb from North-West Frontier Province (now Khyber Pakhtunkhwah), Sir Abdullah Haroon from Sindh, Qazi Esa from Baluchistan.  
23rd March is called “Pakistan Day” because on this day Lahore Resolution was unanimously acknowledged by the leaders of Bengal, Baluchistan, Punjab, Sindh and North-West Frontier Province as the legal declaration for a separate Muslim state. 
This resolution is based upon the Two-Nation Theory (TNT) presented by Dr. Muhammad Iqbal, which actually is the reinforcement of the Qur’anic concept of Muslims as a distinguished nation among world communities.  Kalimah Tayyabah (the pure declaration) “There is no deity but Allah, Muhammad is the messenger of Allah” is the soul of this theory which is an incentive sufficient to unite Muslims for the cause of Islam.
The prophecy of Prophet Muhammad (pbuh) gradually developed into an idea, a theory, a statement, a demand, a campaign/movement and finally into a state called Pakistan.  At this point, from achievement to identity and from liberty to responsibility for all Pakistanis.  The idea behind making of Pakistan is similar to the state of Madinah and in that relevance Pakistan has already initiated the process of global domination of Islam.  In making of Pakistan, the world has witnessed that the ‘Victory of Makkah’, as peaceful and unarmed as it was, is possible in any era.  Yet, the struggle to defend it is as bloody as it could be for any promised piece of land.  
May God Bless Pakistan!  Ameen
٢٣ مارچ یوم پاکستان کہلاتا ہے کیونکہ ١٩٤٠ میں اسی دن بنگال، سندھ، بلوچستان، پنجاب اور سرحد کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر نہ صرف علامہ اقبال کے دو نظریے کی بنیاد پر تیار کی گئی قرار داد لاہور کو پاس کیا بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اس پر عمل کرنے کا بھی عہد کیا… علامہ اقبال کا دو قومی نظریہ اصل میں اعادہ ہے قرآن کے اس تصور کا کہ مسلمان دنیا کی ہر قوم سے مختلف اور منفرد ہے… اور کلمہ طیبہ “نہیں کوئی عبادت کے لائق سواۓ الله کے، محمد الله کے رسول ہیں” اس نظریہ کی روح ہے… جو کہیں کے بھی مسلمانوں کو کسی مقصد کے لئے متحد کرنے کے لئے کافی ہے… 
رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا… “مجھے خطہ ہند سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں”… آپ صلی الله علیہ وسلم کے ان الفاظ نے ایک نیک شگون سے، ایک خیال، ایک نظریہ، ایک اعلان، ایک مسودے، ایک قرار داد، ایک مطالبے، ایک تحریک اور با الآخر ایک خطہ زمین کی شکل اختیار کر لی جو پاکستان کہلایا… قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ نظریہ، کامیابی سے شناخت اور آزادی سے ذمہ داری بن گیا… قیام پاکستان اور خلافت مدینہ کا محرک اور محور یہی نظریہ ہے… اور اس لحاظ سے پوری دنیا میں اسلامی خلافت کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم… قیام پاکستان کی صورت میں ساری دنیا کو یہ یقین جو جانا چاہیے کہ خلافت مدینہ اور فتح مکہ جیسے عظیم اور غیر مسلح معرکے آج چودہ سو سال بعد بھی قابل عمل ہیں… البتہ انکی حفاظت اور انکا دفاع بھر پور مسلح  طاقت کے بغیر ممکن نہیں..ا 
پاکستان کوئی عام ملک نہیں… پاکستان کے دفاع اور اس کی ترقی کی ذمہ داری ہر نسل کے ہر شخص پرعائد ہوتی ہے… بالکل اسی طرح جس طرح باقی زندگی کے کام… پچھلے چودہ سو سالوں میں دنیا کا ہر عقیدہ، ہر نظریہ، ہر نظام اور ہر قرارداد آزمائی جا چکی ہے سواۓ اسلام کے… آج ساری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف اٹھی ہوئیں ہیں… بہت سی دشمنی میں، کچھ حیرت میں اور کچھ سوالیہ نشان بن کر… کہ پاکستان ان شخت ترین حالات سے کیسے نمٹے گا… اندرونی طور پر جرائم، جہالت، غفلت اور بیرونی مداخلت اور دشمنی… اور یہی چیلنج ہے آج کے ہر پاکستانی کے لئے… 
یہ صحیح ہے کہ دشمنوں کو اندر تک رسائی سیاست دانوں اور غداروں نے دی… لیکن اس سے بڑی اور بری حقیقت یہ ہے کہ وہ غدار چاہے کسی محکمےمیں ہوں،  ہمارے ہی عام گھروں اور خاندانوں کے لوگ تھے جن کو ہم نے نظر انداز کیا… اور دشمن تخریبی کاروائیوں کے لئے ہمارے ہی درمیان گھومتے پھرتے ہیں… نہ ہم آج تک انھیں پہچان سکے اور نہ انکے خلاف حکمرانوں کو کسی اقدام پر مجبور کرسکے… یہ ہماری غفلت اور نا اہلی ہے… اسی کو جہالت کہتے ہیں اور یہی سب سے برا جرم بھی ہے…
الله پاکستان کی حفاظت فرماۓ… آمین 


“They ask you concerning wine and gambling. Say: “In them is great sin, and some profit, for men; but the sin is greater than the profit.”  Surah Al-Baqarah/The Cow 219

“You who believe intoxicants and gambling, (dedication of) stones, and (divination by) arrows, are an abomination, of Satan’s handiwork: eschew such (abomination), that you may prosper….. Satan’s plan is (but) to excite enmity and hatred between you, with intoxicants and gambling, and hinder you from the remembrance of Allah, and from salah (prayer): will you not then abstain?” Surah Al-Maidah /The Table Spread 90-91


Definition of any intoxication according to Qur’an:

1-  Drinking wine is a sin.  (The definition of sin is disobedience/deliberate violation/transgression/offense to Divine laws)

2- Drinking wine has some profits too but less in proportionate to sin.  

3- Drinking wine/intoxication is an abomination.  (The definition of abomination is detestation/abhorrence/disliked)

4- Wine is Satan’s handiwork.   

5- Wine/intoxication develops feelings of hatred among humans.

6- Wine/intoxication creates enmity among humans.

7-  Wine/intoxication stops from salah (five obligatory daily prayers)

8- Wine/intoxication hinders/obstructs from remembering Allah (SWT).



I am not quoting the ahadith (words of Prophet Muhammad (pbuh)) as many Muslims have issues on their authenticity.  I say sorry to my Prophet (pbuh) for that.  But no Muslim would have a doubt on the words of Qur’an.  The above verses have no words that are difficult to understand.  

Allah (SWT) is free of all needs, likes and dislikes.  Nothing can cause profit and loss to Him.  He Almighty doesn’t want us to drink wine or to be intoxicated.  If I am not a complete fool, I did not read the words like a straight order, “don’t drink wine or wine is prohibited on you”.  I only read the words as “drinking wine is a sin”.  Sin in simple words is “doing something that God doesn’t want us to do OR not doing something that God has told us to do.  

So, the condition to abstain from wine/intoxication is not based upon logically proved advantages or disadvantages of wine but the obedience or disobedience of God Almighty.  Even then, Allah (SWT) has mentioned few disadvantages, if people do care about them.

Drinking wine is a matter of faith.  Unfortunately in Pakistan, it is not considered a sin at government, elite or any level.  Drinking wine is crime, only if poor people are hospitalized and report it to police.  Not even those who don’t drink wine talks about it.  


الله اور اسکے رسول صلی الله علیہ وسلم کی قائم کو ہوئی حدود کو توڑنا گناہ کہلاتا ہے… انسانوں کے بناۓ ہوۓ قوانین کو توڑنا جرم کہلاتا ہے… اور جرم کی تعریف یہ رکھی ہے کہ وہ عمل جو دوسرے انسان کو نقصان پہنچاۓ یا اس کے ساتھ زبردستی اسکی مرضی کے خلاف کیا جاۓ… اور انسانوں کو نقصان پہنچنے اور زبردستی کرنے کے عمل کو ہی گناہ کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے… اور یہ یقین بھی کر لیا گیا ہے کہ کل دین اور مقصد حیات یہی ہے…  
شراب، زنا با الرضا، جوا، عریانی و فحاشی، سود، سور، مردار…. ذاتی پسند اور نا پسند ہے اور بنیادی حقوق…. جس کو برا لگے اپنی آنکھیں بند کر لے… الله سبحانہ و تعالی کی ذات اس سارے قصّے میں کہاں ہے… الله سے انسانوں کا تعلق صرف اتنا رہ گیا ہے کہ خدا انسان کی بغاوتوں کے باوجود بس دیتا ہی رہے اور انسان اسکے احکامات کی دھجیاں اڑاتا رہے… یہ اسکا ذاتی معاملہ ہے…
“اور تم سے پوچھتے ہیں حکم شراب اور جوۓ کا… تو کہو، ان میں گناہ بڑا ہے، اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو… اور انکا گناہ فائدے سے بڑا ہے”… سوره البقرہ ٢١٩ 
“اے ایمان والو! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اور پانسے، گندے کام ہیں شیطان کے، سو ان سے بچتے رہو، شاید تمہارا بھلا ہو”… سوره المائدہ ٩٠ 
“شیطان یہی چاہتا ہے، کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بغض، شراب سے اور جوۓ سے، اور روکے تم کو الله کی یاد سے اور نماز سے، اور پھر اب تم باز آؤگے”…. سوره المائدہ ٩١ 
کئی سالوں سے آۓ دن کچی شراب اور زہریلی شراب کے پکڑے جانے کی خبریں سن سن کر تںگ آ گئی ہوں… شراب پکڑ لیتے ہیں، پی پلا کرانکی خالی بوتلیں چھوڑ دیتے ہیں… شراب والے ان میں شراب بھرکر دوبارہ بیچنا شروع کر دیتے ہیں… غریب اسے پیتے ہیں، ہسپتال جاتے ہیں اور اکثرمرجاتے ہیں… پولیس میں رپورٹ کرائی جاتی ہے… پولیس والے پھر شراب پکڑ لیتے ہیں… اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے…. یہ کاروائی صرف غریبوں کے لئے ہوتی ہے جن کے دماغوں میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ شراب غموں کو بھلا دیتی ہے… محبوب روٹھ گیا تو شراب پینا شروع کردو… بھئی ایک انسان گیا سو گیا، اس میں الله کے قوانین توڑنے کی کیا ضرورت ہے… حالات خراب ہیں شراب پینا شروع کردو… تو کیا اس سے حالات ٹھیک ہو جاتے ہیں…
ہاں امیروں کو کوئی اس لئے نہیں پکڑتا کیونکہ انہوں نے شراب کو حلال کر رکھا ہے… وہ شراب غموں کو بھلانے کے لئے نہیں بلکہ خوشیوں کا لطف بڑھانے کے لئے پیتے ہیں… بہت سوں کو یہ غیر مسلموں میں اپنا مقام اعلی بنانے کے لئے پینی پڑتی ہے… اور کچھ لوگوں کی فطرت ہوتی ہے کہ الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدود توڑیں… اور پھر امیرامراء جس طرح بھی مریں، شراب کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے، نہ اس کے خلاف پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں… وہ شراب کی عزت کرتے ہیں اور پولیس انکی….
دیکھیں نہ سارے سیاستدان، حکمران، جرنیلز، اداکار، گلوکار، شاعر، فنکار، اعلی عہدیداران… کون ہے جو پاکستان میں شراب نہیں پیتا… انکی تو تصویریں بھی شراب پیتے ہوۓ اخباروں میں چھپ جائیں، ٹی وی پر آجائیں تب بھی انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شراب امیروں کی عیّاشی ہے مجبوری نہیں… مزے کی بات کہ جو لوگ شراب نہیں پیتے یا پینا چھوڑ چکے ہیں وہ بھی دوسروں کے پینے کو برا نہیں سمجھتے اور نہ اسکے خلاف آواز اٹھاتے ہیں… 
اگر کوئی ایک ایسا نکتہ ہے جہاں امیراورغریب ایک ہی جیسا رویہ اختیار کریں تو وہ ہے شراب… قرآن سے ثابت ہونے یا نہ ہونے کو تو الگ کر دیں… اگر انسان کی تہذیب اور نفاست کے تقاضوں کو ہی سامنے رکھ لیں تو کون نفیس انسان ایسا ہو گا جو گلی سڑی بدبودار چیز کو ہاتھ لگانا بھی پسند کرے گا… اور وہ بھی لطف لینے کے لئے… شراب پینا توخود ایک ذہنی اورنفسیاتی بیماری کی علامت ہی نہیں بلکہ اس آدمی یا عورت کے قوت ارادی کمزور ہونے کی نشانی بھی ہے…. کیونکہ گندگی اور غلاظت کو کھانے پینے والا کوئی نارمل آدمی یا عورت تو نہیں ہو سکتے… اس قسم کے کمزور ارادہ اور ذہنی بیمار لوگوں کو کسی بھی قسم کا عہدہ یا ذمہ داری کیسے دی جا سکتی ہے… یا ایسے لوگوں کی باتوں کا بھی کیا اعتبار کس نشے میں کی گئی ہوں… نشہ آور لوگ خود کو گناہ گار نہ سمجھیں تو ٹھیک لیکن آئین کے لحاظ سے قانون کے مجرم ہیں، چاہے وہ کوئی بھی نشہ ہو…
لیکن کس کس کو پکڑیں… زرداری، پرویز مشرف، شاہ محمود قریشی، بلاول زرداری، عتیقہ اوڈھو، وڈیرے، چودھری، سردار، جرنیلز، پرانے نۓ اداکار گلوکار شاعر وغیرہ وغیرہ… 
ایسے لوگوں کو انسانوں کے بنیادی حقوق تو دے جا سکتے ہیں، بنیادی احترام بھی کیا جا سکتا ہے، انکے ساتھ ملازمت اور کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے… لیکن ان سے میل جول رکھنے، ساتھ مل بیٹھنے، وقت گذارنے کو کس کا دل چاہے گا… خیرامیروں کی حرکتوں سے تو الله سبحانہ و تعالی خود ہی نمٹ لیں گے… انکو تو ڈھیل ملی ہوئی ہے… 
ہاں غریبوں کو رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے قصّے سناۓ جا سکتے ہیں کہ ان پر تو کیا کیا گذرا لیکن انہوں نے الله کی حدود کو پامال نہیں کیا… لیکن آج ہم نے غربت کا معیار روٹی، کپڑے، مکان اور اختیار کا نہ ہونا رکھ دیا ہے… کوئی محنت کر کے دو روٹی کما ۓ تو اس پر اتنا ترس کھاتے ہیں کہ وہ اپنی کوششوں پر شرمندہ ہو جاۓ… اور سوچے کہ وہ دنیا کا ناکام ترین آدمی یا عورت ہےکیونکہ اسکے بچے برگر اور پیزا نہیں کھاتے، گاڑیوں میں نہیں پھرتے… انھیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ با اختیار اور کامیاب لوگ وہ ہیں جن کے آگے پیچھے چارتعریفیں کرنے والے خوشامدی یا فینزہوں، انکے لئے ہزاروں لوگ نعرے لگائیں اور اپنی قیمتی زندگی قربان کرنے کا عہد کریں… انکی تقدیر بدلنے کے نام پر انکو لوٹیں… پتہ نہیں کونسے اختیار اور کونسے انصاف کا لالچ دیتے ہیں…
الله سبحانہ و تعالی سورہ الرعد میں فرماتے ہیں کہ…”بے شک دلوں کو اطمینان الله ہی کے ذکر سے ملتا ہے”…
اور پاکستان کے سیاست دان ظلم اور دہشت کا نظام لا کر اور لبرل لوگ قرآنی احکامات کے خلاف دلیلیں لا کر انسانوں کو اسی یاد سے دور کردینا چاہتے ہیں… حتی کہ دینی جماعتیں اپنے عالموں اور لیڈرز کو خدا سے آگے لے آتے ہیں… جبھی تو اتنی ایجادوں اور اتنی سہولتوں کے باوجود دلوں کو سکون میسر نہیں…

Man vs The Invisible – انسان بمقابلہ غیبی مخلوقات


دنیا میں لاکھوں انسانوں کا یہ خیال ہے کہ جو چیزیں انسان کے حواس خمسہ سے ثابت نہ ہوں انکا کوئی وجود نہیں ہوتا… یہی نظریہ بہت سے لوگوں کے لئے خدا کے وجود سے انکار کا سبب بھی بنا ہے… باقی بحث تو چھوڑ دیں… لیکن اگر صرف اس خیال پر زندگی کی بنیاد رکھ دی جاۓ کہ جو نظر نہ آۓ، جو سنائی نہ دے، جسے چھوا نہ جا سکے، جسے چکھا نہ جا سکے، جسے سونگھا نہ جا کے… اس کا وجود نہیں… تو پھر انسان شاید دنیا میں کچھ بھی بھی کرنے کے قابل نہ رہے… کیونکہ خیالات، نظریات، تصورات، تشبیہات وہ چیزیں ہیں جو حواس خمسہ سے ثابت نہیں کی جا سکتیں…
 جن، دیو، بھوت، آسیب، سایہ، پری، چڑیل… یہ ہر چینل پر جو جنوں بھوتوں پر تحقیقاتی پروگرامز کیے جا رہے ہیں… عقل سے کام لیں… انسانوں کے علاوہ بھی جو مخلوق ہیں وہ مذاق نہیں ہیں… انسانوں پر نظر رکھے ہوتی ہیں… جب سے دنیا بنی ہے، اربوں انسان پیدا ہوکر مرچکے ہیں… اسلامی عقیدے کے مطابق اچھی ارواح تو آسمان پر ‘رفیق الاعلی’ سے جا ملتی ہیں اور سنا ہے کہ قیامت تک وہیں رہتیں ہیں… ‘رفیق الا اعلی’ کے بارے میں سنا ہے کہ یہ پہلے آسمان یا دنیاوی آسمان کے اوپر یعنی پہلے اور دوسرے آسمان کے بیچ میں کوئی جگہ ہے… اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے جسم کو ہوا یا فضا کی ضرورت ہوتی ہے زندہ رہنے کے لئے، روح کو نہیں… جبکہ گناہ گار روحیں، بد روحوں کی شکل میں آسمان سے دھتکار دی جاتی ہیں اور وہ زمین پر بھٹکتی پھرتی ہیں… نہ صرف یہ بلکہ انہیں رہنے کے لئے جسم کی تلاش ہوتی ہے… اور یہ بھی سنا ہے کہ جادوگر اورعامل ٹائپ لوگ انھیں بلا کر قابو کر لیتے ہیں یا استعمال کرتے ہیں… والله اعلم با الصواب…
کچھ عالم دلیل کے طور پر کہتے ہیں کہ قرآن میں جن چیزوں کا ذکرہے ان کا وجود تو ہے… اور جن چیزوں کا ذکر قرآن میں نہیں ہے یا احادیث میں نہیں ہے، ان کا وجود نہیں… یا تو وہ ذہنی بیماری کا نتیجہ ہیں یا پھرصرف خیالات……… لیکن پھرقرآن میں تو ڈائناسارز کا ذکر بھی نہیں ہے… وہ بھی تو حقیقت بن کر سامنے آگۓ… انسانوں اور جنوں سے پہلے کی مخلوقات ہیں وہ… لیکن قرآن تو جنوں سے پہلے کسی مخلوق کی بات ہی نہیں کرتا…
اگر تو وہ خیالات بھی ہیں یا پھر جنوں کا ہی کوئی روپ، تب بھی حقیقت میں تو پریشانی کا ہی باعث بنتے ہیں… انکے باطنی اور ظاہری اثرات ہوتے ہیں… یہ اس درد، بھوک یا پیاس کی طرح ہوتے ہیں جو دیکھنے والوں، بات کرنے والوں کو، ساتھ رہنے والوں کو نظرنہیں آتا… صرف اسی کو محسوس ہوتا ہے جس کے ہو… 
اور اگر وہ صرف خواب ہیں تو کیا خواب نشانیاں، علامات، تنبیہ یا بشارت نہیں ہوتے؟… پھر تو خوابوں پر بھی یقین رکھنا چھوڑ دیں… 
اے آر وائی والوں کو شاید سمجھ آگئی ہو، دیکھ لی انکی طاقت… شائستہ واحدی صاحبہ کو شاید اس لئے کچھ نہیں ہوا کہ ان کے ساتھ، یا تھوڑے فاصلے پر دعائیں پڑھتے ہوۓ عالم موجود تھے… اور ویسے بھی ایسی چیزیں گروہ یا جماعت کو تنگ نہیں کرتیں بلکہ اکیلے شخص پر اپنا زور آزماتی ہیں… دوسری بات جو انہوں نے کی کہ قبرستان میں کچھ نہیں ہوتا اور وہاں سکوں سے بیٹھ کر پڑھا بھی جا سکتا ہے… دوسرے ملکوں میں قبرستان سلیقے اور صفائی سے بنے ہوتے ہیں، وہاں حالانکہ وہاں غیرمسلم دفن ہوتے ہیں لیکن وحشت نہیں ہوتی… وہاں تو یہ تصور ہو سکتا ہے کہ کوئی قبرستان میں جا کر کتاب لکھ پڑھ لے…… پاکستان میں جہاں کلمہ گو اور جنت کے حقدار دفن ہیں، ذرا کوئی دن میں جاکر دکھاۓ… میں خوف کی بات نہیں کر رہی… وحشت کی بات کر رہی ہوں…
اچھی مخلوق چاہے انسان ہوں، حیوان ہوں یا غیبی یعنی نہ دکھنے والی چیزیں، ان سے کسی کو کوئی نقصان نہیں، یہ سب اپنی اپنی ڈائمینشنز میں کام کرتے رہتے ہیں اور کوئی فورمل انٹرایکشن سے انہیں نقصان نہیں پنہچتا… یہ ایک دوسرے کو پہچانتے بھی ہیں، ہمدرد بھی ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں… جیسے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ “ہڈیاں اور گوبر تمھارے جن بھائیوں کی غذا ہیں”… رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اس فرمان کے مطابق کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہڈیوں اور گوبر کا ڈسپوزل بھی صحیح طریقے سے کریں؟…
آسیب، بدروح، سایہ… بری اور شیطانی مخلوق چاہے انسان ہوں، حیوان ہوں یا نہ دکھائی دینے والی چیزیں، ان سے بچنے کی، ہوشیار رہنے کی ضرورت ہوتی ہے… کیونکہ انکا مقصد ہی نقصان، فساد اور بربادی ہوتا ہے… انسانوں میں سے کچھ انتہائی بری قسمیں یعنی جادوگر، عامل وغیرہ ٹائپ اور باقی شیطانی مخلوق کی تقریبا ملتی جلتی عادتیں ہوتی ہیں… جیسے کہ یہ اندھیری اور محبوس یعنی ایسی جگہوں پر رہتے ہیں جہاں تازہ ہوا کا گزر نہ ہو یا پھر گندگی اور کوڑے پر…
خود سے یا ساری مخلوقات انسان کو مارنے کی یا شدید قسم کا نقصان پنہچانے کی کوشش نہیں کرتیں بلکہ انسانوں سے دور رہتی ہیں…
اگر جادوگرجنوں یا ان مخلوقات کو کسی شخص کو جان سے مارنے کا حکم دے تو پھر یہ اس شخص کو خود کشی کی طرف راغب کرتے ہیں… اور اس کے آس پاس کے ماحول میں ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ صرف مرنے کی سوچے… مثال کے طور پرمالی نقصان، گھر کے لوگوں میں لڑائیاں، نفرتیں، تنہائی، عبادت سے دوری، وغیرہ…
وہ مخلوقات چاہے اچھی ہوں یا بری، جو خود کسی انسان کے پیچھے لگ جائیں، بہت طاقتورہوتی ہیں اور ان سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ اپنی طاقت کے بل پر قابو پاتی ہیں… ان کے مقابلے میں جو جادوئی عمل کے ذریعے بھیجی جاتی ہیں، انھیں بھگایا بھی جا سکتا ہے اور ختم بھی کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ ایک غلامی کی کیفیت میں کسی کے احکامات کی پابند ہوتی ہیں اور اپنی مرضی سے اپنی طاقت استعمال نہیں کر سکتیں… اسی لئے اسلام نے انسانوں کو غلامی سے نجات کا راستہ دکھایا…  
شیطانی مخلوقات سورج ڈوبنے کے ساتھ ساتھ زور پکڑنا شروع کر دیتی ہیں… اندھیرا انکی طاقت ہوتا ہے… سورج کی روشنی میں یہ کمزور پڑجاتے ہیں… اسی طرح بجلی کے بلبز کی روشنی بھی انکو تکلیف دیتی ہے… گھروں اور عمارتوں کے بھی کونوں میں سمٹ جاتے ہیں یا باتھ رومز انکا ٹھکانا ہوتے ہیں… چین میں جو گول عمارتیں بنائی جاتی تھیں انکے پیچھے بھی ایک نظریہ یہ تھا کہ شیطانی ارواح اس میں داخل نہیں ہو سکتیں یا اپنا ٹھکانا نہیں بنا سکتیں… مسجدوں میں بھی گنبد اور کوئی حصّہ گولائی میں ہوتا ہے… کراچی میں ابھی بھی کہیں پرانے گھر وغیرہ ہیں، ان میں دیکھیں تو ڈرائنگ روم یا عام کمرے کی ایک دیوار یا ایک حصّہ گولائی میں ہوتا ہے اور وہ کمرہ نسبتا ٹھنڈا ہوتا ہے… کیوں کہ گولائی کی وجہ سے ایک تو ہوا سرکیولیٹ ہوتی ہے جبکہ کونے ہوا کو بلاک کر دیتے ہیں… دوسرے شیطانی چیزوں کو، جو کہ گرم دھوئیں یا ہوا سے بنی ہیں، رکنے کا موقعہ نہیں ملتا… اور ہوا میں تو ہم ہر وقت سانس لے رہے ہیں… اسی لئے عالم اور عامل پڑھا ہوا پانی کونوں میں چھڑکنے کو کہتے ہیں یا پھونک مارنے کو کہتے ہیں…
انکے بارے میں جو اب تک مختلف عالموں اور لوگوں نے تحقیقات کی ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ شیطانی چیزیں جو بھی ہیں اور جو بھی انکے نام ہیں، انکے کچھ اصول ہوتے ہیں…
یہ عموما اکیلے شخص پر حملہ کرتی ہیں، کسی گروہ پر یا دو تین لوگوں پر نہیں… شاید اسی لئے پہلے زمانے کے بزرگ اکیلے جانے سے منع کرتے تھے…
گھر میں یا گھر کے اندر کمروں میں دروازوں سے یا کھلی جگہوں سے داخل ہوتی ہیں، دیواروں سے نہیں… اسی لئے بزرگ دروازہ کے سامنے سونے سے یا کھلے حصّوں کے راستے میں سونے سے منع کرتے تھے… کیونکہ وہ انکی گزرگاہ ہوتی ہیں… بلکہ نیک مخلوق کی بھی…
جن تو آبادیوں میں رہتے ہیں… مگر دوسری مخلوق عموما انسانوں کی آبادیوں سے دوررہتے ہیں… یہ خود انسانوں کےعلاقوں میں نہیں آتے…بلکہ اگر انسان ان تک پنہچ جائیں تو انکو تنگ کرتے ہیں… 
ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن سنسان علاقوں میں یہ رہتے ہیں وہاں آبادیاں قائم ہوجاتی ہیں… لوگ ان کی جگہوں پر گھراورعمارتیں بنا لیتے ہیں… جس پر انکو غصّہ ہوتا ہے… کیوں کہ ان آباد ہونے والوں میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں… بہت سے قرآن اور دعائیں بھی پڑھتے ہیں جو کہ ان مخلوق کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں… یہ اپنی جگہیں نہیں چھوڑتے اور انسانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں…
جب تک انکو موقع نہ ملے یا موقع نہ دیا جاۓ یہ کسی کے جسم میں داخل نہیں ہوتیں… جن موقعوں کی انہیں خود تلاش ہوتی ہے وہ ہیں، انتہائی خوف کا عالم، قہقہہ مار کر یا انتہائی خوشی کا عالم، انتہائی غم اور رونے پیٹنے کا عالم یا پھرانتہائی غصّے کاعالم… مطلب ایسا حال کہ جس میں انسان اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو اورکسی بھی آس پاس کے اثرات کہ تحت فیصلہ کرے… اسلام نے تو ویسے بھی انتہائی رویوں یا شدت پسندی سے منع فرمایا ہے… اور ذرا سوچیں تو شاید یہی وجہ ہو شراب سے دور رہنے کی… 
یہ چیزیں اکثر سیدھا سونے والوں پر بھی چھلانگ لگا کرجسم میں داخل ہو جاتی ہیں… 
گندگی، ناپاکی اور گناہ کے کام بھی ان مخلوقات کے پیچھے لگ جانے کا سبب بنتے ہیں… 
شیطانی خصوصیات اور مخلوقات پورے چاند کی تاریخوں میں بھی زور پکڑتی ہیں… 
جب عامل اور جادوگرجنوں کوقابو کرکے کسی کو تنگ کرنے، مارنے یا اذیت دینے کا کام سونپتے ہیں تو پھر یہ پابند ہو جاتے ہیں اورموقعوں کی تلاش میں لگ جاتے ہیں… کبھی گھر کے کسی شخص کی آواز میں اپنے شکار کا نام پکارتے ہیں… کبھی کیڑے مکوڑوں کی شکل میں اچانک ظاہرہو کر خوفزدہ کرتے ہیں… کبھی خوابیدہ حالت میں عجب شکل یا حرکتوں سے پریشان کرکے نیند خراب کرتے ہیں… کبھی گھرمیں کھانوں یا دوسری اشیا کو خراب کر کے، بدبودارکرکے، بے جگہ کرکے پریشان کرتے ہیں…عموما یہ پیچھے گردن اور کندھوں پر سوار رہتے ہیں… 
جسم میں خود سے یا کسی جادوئی اثر کے ذریعے سے داخل ہو جائیں تو اکثر اس شخص کو آس پاس کے لوگوں سے دور کرنے کے لئے اس کے جسم میں شدید بدبو بھی پیدا کر دیتی ہے… 

جادو ہو یا آسیب یا سایہ یا کوئی اور چیز… یہ روح اور جسم، دونوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور روحانی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کر سکتے ہیں… کسی جادوگر یا عامل کے ذریعے کیے گۓ جادو کے اثرات کو مختلف طریقوں سے ختم کیا جاتا ہے… پڑھے ہوۓ پانی کو پینا یا چھڑکنا، پینے کے تعویذ، پہننے کے تعویذ، قرآنی آیات، دعائیں، جلانے کے لئے فریضے، دھونی، وغیرہ وغیرہ… جو چیزیں خود سے پیچھے لگ جائیں، ان کا علاج مختلف بھی ہو سکتا ہے… 

لوگ اکثر جمعرات کو اگر بتی جلاتے ہیں… بہت سے عامل اورعالم اپنی بنائی ہوئی خاص اگر بتیاں بھی جلانے کے لئے دیتے ہیں… ایک کثیر تعداد اگربتیوں کو فضول سمجھتی ہے اور کچھ اسے خوشبو کے لئے جلاتے ہیں…
اگر بتیاں جن اشیا سے بنتی ہیں ان میں خوشبو اور دھواں ایسا ہوتا ہے جو شیطانی مخلوقات کے لئے تکلیف کا باعث بنتا ہے… جن تو گرم دھوئیں سے تخلیق کیے گئے ہیں… باقی بھی ایک ٹھوس جسم کی صورت میں موجود نہیں ہوتی بلکہ ہوا میں شامل ہوتی ہیں… لہٰذا اگربتی کا دھواں ہوا میں پھیل کرانکو پریشان کرتا ہے اور وہ وہاں سے ہٹ جاتی ہیں… 
ہرعالم اور ہرعامل، ہرقسم کی غیبی مخلوق کے ایکسپرٹ نہیں ہوتے… اور نہ ہی ہرعالم اور ہر عامل، ہرقسم کے روحانی علاج کر سکتے ہیں… بہت سے عامل یا عالم علاج کرنے کے چکر میں اپنے تجربات بھی کرنا شروع کر دیتے ہیں… اور کبھی کبھی لوگ بھی ایک ہی وقت میں دو دو تین تین عاملوں یا عالموں سے علاج کرانا شروع کردیتے ہیں… جس سے انکے عملیات آپس میں ٹکرا جاتے ہیں… اور علاج کرنے اور کرانے والے، دونوں کو نقصان ہو سکتا ہے… بہت سے عالم یا عامل علاج کا بھاری معاوضہ بھی لیتے ہیں… کوئی کوئی علاج کرنے والے کی مرضی پر چھوڑ دیتے ہیں اور کوئی ایسے بھی ہیں جوصرف ان چیزوں کا خرچ لیتے ہیں جو علاج کے لئے چاہیئں… ایک یا دو ہی ایسے ہونگے جو بغیر کسی معاوضے کےعلاج کردیں… 
ان شیطانی چیزوں میں سے کچھ اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ اگر ان سے قوت اور زبردستی کی جاۓ تو وہ غصّے میں تباہی مچا دیتی ہیں، اس شخص کو بھی نقصان پنہچاتی ہیں جس پر وہ ہیں اور علاج کرنے والے کو بھی برباد کر دیتی ہیں… کچھ نرم علاج سے ہی قابو آجاتی ہیں یا جان چھوڑ دیتی ہیں… 
روحانی یا جسمانی علاج جس قسم کا بھی ہو… اور جس بھی قسم کے اثرات ہوں، کچھ چیزیں ہرحال میں فائدہ مند ہوتی ہیں اور انکے لئے کسی عالم کی اجازت کی ضرورت نہیں… مثلا آیت الکرسی، سوره یٰسین اور درود… آیت الکرسی تو ویسے ہی ہر نماز کے بعد پڑھتے ہیں، ڈرخوف یا مصیبت میں تین یا سات یا گیارہ مرتبہ یا جتنی بار ہو سکے، پڑھ لیتے ہیں… سوره یٰسین بھی رات یا صبح یا مغرب کے بعد اکثر تلاوت کی جاتی ہے… اور درود تو ہے ہی ٹھنڈک کی نشانی، اس کے فائدے بے شمار اور نقصان ایک بھی نہیں… کتنی مرتبہ پڑھیں کوئی پابندی بھی نہیں… 
البتہ قرآنی وظائف کے لئے اجازت ضروری ہے کیوں کہ قرآن کے الفاظ کے مختلف اثرات ہوتے ہیں اگر انھیں قرات یا تلاوت کے بجاۓ وظیفہ بنا لیا جاۓ…
اسی طرح مسنون دعائیں بھی بہترین حفاظت ہیں… لیکن بہت سے کلمات کا وظیفہ کرنے سے پہلے کسی عالم سے مشوره ضرور کر لیں… 
مسنون دعائیں تو بہت سی ہیں… مسنون کلمات میں کچھ بہت مشہورہیں…
تین مرتبہ صبح شام یا رات کو ایک تسبیح – لا حَولَ وَلا قُوَّةَ اِلَّا بِاللهِ  یعنی نہیں طاقت (نیکی کرنے کی اور بدی سے بچنے کی) سواۓ الله (کی مدد) کے …
تین مرتبہ صبح شام – اَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ  یعنی پناہ مانگتا/مانگتی ہوں ہر پیدا کی گئی چیز کی برائی سے… 
ایک تسبیح یا جتنی مرتبہ پڑھ لیں – سُبحَانَ اللهِ وَ بِحَمدِهِ سُبحَانَ اللهِ العَظِيمِ 
ہرکام سے پہلے  بِسمِ اللهِ الرَّحمنِ الرَّحِيمِ  پڑھنا اور اکثر اس کی تسبیح کرنا انتہائی فائدہ مند ہے اور اس کے سواۓ خیر کے کوئی اثرات نہیں ہوتے…
اللهُ اللهُ رَبِي لَا اُشرِكُ بِهِ شَيْأً  یعنی الله الله میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی/کرتا… اکثر پریشانی میں پڑھنا بہت فائدہ مند ہوتا ہے…

Beautiful Supplications











وہ جو تاریک راہوں میں ماری گئیں – A tribute to whales, sharks and dolphins

Everything that Allah (SWT) has created is nature and we, humans, are an essential part of it.  Living organisms or non-living objects, we all bear same characteristics and that is why we should respect each other.  Nature is not only love, it is revengeful too and reacts with an equal magnitude.

When people and nature battle with each other, that’s their fight, God does not interfere and invisible creations just play audience.

Whales, sharks and dolphins, found on the beaches of Karachi and Baluchistan, are neither fish nor women, but still were treated like females all around the world.  Men found them dead, men pulled them out, men stood around them, men climbed on them for photo session, men sold them, men bought them, men will cut them into pieces and then everyone will enjoy the feast.  This is the tradition.

Such a huge, beautiful, lovely mammals are found dead on Karachi beaches.  This is good for them though, better than reaching alive and pulled and teased by the energetic, daring children of Karachi.

Although animals are not just animals but, after all, they are animals.  They can be unfortunate.  They can be lost.  They can be the victims of man’s negligence.  This is how they reach our beaches, I think.

Why are the people of Karachi so negligent about their beaches and their waters and the magnificent creatures under water?

Whales, sharks, dolphins are natural resources.  They are our food.  They are our medicine.  They are the beauty of our waters.  They are precious and priceless, palatable pleasing presents presented to us by powerful nature.  So we should adopt a grateful attitude toward them.

Have we not learned any lesson from all the disasters that we have witnessed in last few years?  Humans were buried alive under the heap of soil, were smashed under rocks, were drowned in muddy flood-water, were stung by mosquitoes (that reminds me of the story of King Nimrod who was killed by a mosquito).  For God’s sake, just once, make nature be proud of us.


نہ وہ مچھلی تھیں اور نہ وہ تھیں عورتیں

جو کراچی کے ساحل پہ پائی گئیں

وہ جو تاریک راہوں میں ماری گئیں

مردہ تن, خستہ جاں, ہو کہ عبرت نشاں, ان کی میت پہ ہے جشن کا سا سماں

چڑھ کے لاشوں پہ انکی ملے اطمیناں, جانور ہے بھلا اس کی عزت کہاں

آدمیت کے ہاتھوں ستائی گئیں

جو کراچی کے ساحل پہ پائی گئیں

وہ جو تاریک راہوں میں ماری گئیں

ایک قدرت کا شاہکار پانی تلے, کس طرح موت سے جا ملی ہے گلے

ان کی بولی لگے, گوشت ان کا بکے, پیٹ ان سے بھرے, اک تماشہ بنے

کیسے لہروں سے خشکی پہ لائی گئیں

جو کراچی کے ساحل پہ پائی گئیں

وہ جو تاریک راہوں میں ماری گئیں

پانیوں کی حدودوں میں گو بند تھیں, پھر بھی حکم خدا پر رضامند تھیں

اپنے مسکن میں کتنی عقلمند تھیں, وہ بھی مخلوق انساں کی مانند تھیں 

بن کے تصویر بے بس دکھائی گئیں   

جو کراچی کے ساحل پہ پائی گئیں

وہ جو تاریک راہوں میں ماری گئیں

This slideshow requires JavaScript.

Fathers in history


 ایک ایسا وقت بھی گذرا تھا, اس بستی کے ہر کوچے پر

 جب کوئی بھی تصویرنہ تھی, اس کرہ ارض کے پردے پر

جب دنیا خالی خالی تھی, سناٹا تھا, ویرانی تھی

بابا آدم, ماں حوا کو, یہاں خلقت ایک بسانی تھی

یہ جوڑا تھا انسانوں کا, اعلی ادنی مطلوب نہیں 

رشتے میں بندھ کر آئے تھے, صرف عورت مرد کا روپ نہیں

تابعداری, نا فرمانی۔۔۔ ہر حال کے تھے سنگھی ساتھی 

دن عیش کے ساتھہ ہی دیکھے تھے, پھر سزا بھی ساتھہ میں ہی کاٹی

دو انساں کیسے جیتے ہیں, روتے روتے ہنستے ہنستے

حوا شوہر پر جاں دیتیں, وہ بیوی کے دیوانے تھے

وہ داعی چین سکون کے تھے, وہ مساوات کے حامی تھے

وہ جب بچے پیدا کرتے, اک لڑکا اک لڑکی ہوتے

آغاز تھا یہ انسانوں کا, جنھیں کائنات سب تکتی تھی

شوہر بیوی, اماں ابا, بھائی بہنا, بیٹا بیٹی


پھر ایسا وقت بھی آیا کہ جب عورت بے توقیر ہوئی 

سارہ اور ہاجرہ بھول گئیں, مریم کی بھی تحقیر ہوئی

پھر لے کر پیار محبت کا, پیغام رسول الله آئے

جو مردوں کے تو باپ نہیں, بیٹی کے والد کہلائے

اپنی بیٹی کی عزت کو, خود آپ کھڑے ہوجاتے تھے

اوروں کی بیٹیوں کے دکھہ پر, کڑھتے اور اشک بہاتے تھے

وہ جنکا فرض عیادت تھا, ایک غیر, یہودی عورت کی

سامان اٹھاتے تھے اسکا جو ان سے نفرت کرتی تھی  

سمجھاتے تھے یہ امت کو, بیٹی رحمت, بیٹی عصمت

کیوں بیٹی زندہ دفن کرو, بیٹی پالو, پالو جنت

فرماتے تھے کہ قابل حب,  مجھے مشک, نماز اور عورت ہیں 

عورت کو جو کمتر جانیں, کیا پھر بھی شامل امت ہیں


وہ وقت بھی آخر کار آیا, انسانیت پامال ہوئی

مردوں پہ غلامی چھائی, عورت ذلت سے بے حال ہوئی

تو قائداعظم  نے آکر, کچھہ یوں سب پر احسان کیا

بن کر بابائے قوم, مسلمانوں کو پاکستان دیا 

دنیا کو جناح نے سکھلایا, بہنیں تقدیر بدلتی ہیں

اور بھائی کا بازو بن کر, ہر مشن پہ ساتھہ نکلتی ہیں

مائیں بہنیں بیوی بیٹی, گونگی بہری تصویر نہیں

یہ قدم ملا کر ساتھہ چلیں, یہ پیروں کی زنجیر نہیں

فرمایا قائداعظم نے, کوئی قوم ترقی کر نہ سکے

جب تک عورت کو ساتھہ نہ لے, جب تک عورت کا ساتھہ نہ دے

How many fathers do I have in history?

Prophet Adam (peace be upon him), the father of entire human species;

Prophet Muhammad (pbuh) – the father of daughters, not sons (as it is said in Qur’an) – who told me about my rights;

Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, the ‘Father of Nation’;

and my biological father, who was the cause of my birth and raised me up;

and then my spiritual fathers, who became the source of guidance.

The first three names are alive but the world has lost them as a character.  They did not appear as a dominating gender but as a partner to their females.  They co-operated, changed the history and influenced the mankind.

I wonder what language did father Adam and mother Hawwa/Eve (peace be upon both of them) speak in Paradise?  How were they sent to earth?  How they felt for being the first human-couple on earth?  How did they feel about beginning human history on earth?  Did they behave like today’s husbands and wives?

I also wonder why did Prophet Muhammad (pbuh) mention women ‘worth loving’, like perfume and prayer/namaz?  He smiled to his wives, discussed matters with them, helped them.  He stood up in respect for his daughter.  He listened to women’s complaints and favoured them against their husbands.  He even visited a sick Jewish woman to know how is she feeling.  He never raised his voice against any woman whether known or strange.

Quaid-e-Azam said that no nation can rise unless their women stand side by side to their men.

The world is not Adamic  anymore.  It has been divided into groups, tribes, nations, race, gender, faith, cultures,  relations and connections – it is not the matter of ‘right and wrong’ anymore – nothing right now seems to unite them, not even Islam as it is redefined by various religious groups.  Women everywhere are in search of their status in society.  Thinking of them as a competitor or a rival, they have lost their own identity.  The identity of being a human being and act like one and a slave of the God Almighty and behave like one.

Why do women go to men to know about their status and rights in Islam, why don’t they find out themselves, why do men have to define things for them?