Flower Show

“Today was good.  Today was fun.  Tomorrow is another one.”  Dr. Suess

 

Advertisements

Children بچے

Once there was a town, where lived many families with their children.  The parents were worried about their children’s behaviour.  They complained to each other that their children are irresponsible, abusive, undisciplined, non-serious about their education.  An old scientist also lived there.  He wanted to help the parents so he prepares a magical formula called “parentade” to improve children’s behaviour.  Parents were excited.  The formula worked.  Children started doing things on time, by themselves.  No more mess on dinning tables, no more shouting and running around, no more fighting.  Genius talks, mind blowing ideas, they all got A+ in their exams.  That was it.  Parents were sick and tired.  They were sick and tired of coping with their children’s extraordinary discipline and responsible behaviour.  Their children refused to accept the fun ideas their parents had for them, instead they started guiding their parents to make their life useful.  Finally, all parents arranged a meeting and invited the scientist.  They wanted him to prepare the antidote to that formula.  They wanted their children back to normal as they were before.

Above is the summary of an English poem “Parentade”, a very interesting idea for parents and to learn their lesson.

.

کب کب ایسا نہیں ہوتا کہ جب جب کمپیوٹر پر کچھ لکھنے بیٹھتی  ہوں تب تب کمپیوٹر کے سب سب بانیوں کوسلام کرنے کو لب مل مل جاتے ہیں، دل کھل کھل جاتا ہے، ذہن دھل دھل جاتا ہے… گو کہ گفتگو میں تکرار ایک عیب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں… انگریزی میں یہ بھی زبان خوبی کہلاتی ہے…

May God guide my parents, ameen!

.
اگر کمپیوٹر شیطانی ایجاد ہے بھی تو فی الحال تو آدھے سے زیادہ اسلام کو پھیلانے اور اسلامی مظاہروں کا کم اسی پر ہو رہا ہے… اردو بھی شاید اب کمپیوٹر پر ہی لکھی پڑھی جا رہی ہے… میں نےتو کچھ بچوں کو کہا بھی کہ بھی انٹرنیٹ پر جواردوٹا ئیپنگ کی سا ئیٹس ہیں ان پر اردو ٹائپ کیا کرو تو اردو کی ہجے ٹھیک ہو جا ے گی… شعروشاعری بھی ہے، کہانیاں بھی، محاورے بھی… طالبعلموں کے لئے تو بہت فاعدہ مند ہے… 
.
پرسوں ڈاکٹرعلی رضا نقوی کی خبر سنی تو دل باغ باغ ہو گیا… ایران کی حکومت نے انہیں کافی ایوارڈز دیے ہیں اوراب ایران کی حکومت نے انھیں اپنے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ سے نوازا ہے… ڈاکٹرعلی رضا نقوی ایک پاکستانی ہیں… انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، دونوں کو علم سے کوئی دلچسپی نہیں… بالکل  ٹھیک کہا…با لکل صحیح اگر اس ملک میں علم کی اہمیت ہوتی تو علم کے  ساتھ گورنر عشرت العباد اتنا بڑا اور برا مذاق نہ کرتے کہ رحمن ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیتے… کھلا جرم ہے یہ… لیکن یہ دلچسپی جب پیدا ہوتی ہے جب اہل زبان اپنی زبان میں نئے خیالات کا تعارف کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی قوم کے مزاج، ذہنی سطح اور مختلف عمروں کا خیال رکھتے ہوۓ… خیر یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اردو میں کچھہ لکھا ہی نہیں جا رہا… حقیقت یہ ہے جو ڈاکٹرعلی رضا نقوی نے بیان کی کہ عوام کو دلچسپی نہیں…
.
تو ایک کام یہ بھی ہے کہ عوام کو بد تمیزی اور جہالت سے نکال کر شائستگی اور اردو کی طرف کیسے لایا جاۓ… اکثر لوگ شائستگی کا مطلب لیتے ہیں چکنی چپڑی باتیں مسکراتے ہو ۓ کرنا، بلاوجہ لوگوں کی تعریف کرنا، جیسے کہ صبح کے شوز میں ہوتی رہتی ہیں… شائستہ نام رکھنے سے، ہندی تلفظ میں بات کرنے سے، بھارتی اداکاروں کے قدموں پر گر پڑنے سے، انکو خدا بنا کر پیش کرنے سے کوئی شائستہ نہیں ہوجاتا… بلکہ یہ امن، دوستی اور انسانیت کا نہایت گھٹیا تصور ہے… لیکن کیا کریں، جب کوئی اپنی ذاتی ترقی اور پیسے کے پیچھے پاگل ہوجاۓ تو اس سے کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے… 
.
ویسے لوگوں کو میری باتیں پسند نہیں آتیں، کہتے ہیں اس طرح کہنے سےلوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں… ارے بھئی، لوگ پاکستان کی قدریں برباد کریں، ملک توڑیں، پاکستانیوں کو غلط سوچ دیں، اردو زبان کے ساتھ مذاق کریں، عورت کی عزت کو ناچنے گانے جلوے دکھانے کے لئے مخصوص کر دیں، معصوم بچوں کے ذہنوں کو منی اور شیلا کی جوانیوں کے تصور سے آلودہ کریں اور میں شائستگی دکھاؤں انکو… انکے دل ٹوٹنے کا خیال کروں، ارے ان کمبختوں کا تو سر توڑ دینا چاہیے… اور اس کالے  بھوتوں کے بادشاہ کا جو لندن میں بیٹھا ہے قیمہ کر دینا چاہیے…
.
خیر… شائستگی کا مطلب ہے ڈھنگ کی باتیں، جس میں ملک و قوم کی عزت اور غیرت کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی ذہنی تعمیر کا بھی خیال رکھا جاۓ… 
.
اس سلسلے میں کچھہ ٹی وی ڈراموں نے اچھی کوشش کی… جیسے کہ “ہمسفر” میں احمد فراز کی غزل… سب کو یاد ہو گئی… ڈراموں کے نام فیض احمد فیض اور دوسرے شاعروں کے مصروں پر بھی اچھی بات ہے… کاش مزاحیہ ڈراموں کے نام محاوروں پر ہوتے… بلکہ پاکستان کی ساٹھہ فیصد آبادی یعنی بچوں کے لئے, جو کہ اکثریت ہونے کے باعث اپنا جمہوری حق رکھتے ہیں, چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو بنائی ہی جا سکتی ہیں… دس ہزار قسم کے علمی مقابلوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے… بچے ویسے ہی مقابلوں سے بڑے خوش ہوتے ہیں… اتنے چینلز ہیں لیکن بچوں کے لئے ایک بھی نہیں… دو چار پروگرامز ہوتے ہیں وہ بھی شاید ہی کوئی بچہ دیکھتا ہو… سب ہندی ڈبنگ کیے ہو ۓ انگلش چینلز دیکھتے ہیں…  دنیا کے بچے جب بڑے ہوۓ تو انہوں نے اپنے بچوں کو کھیلوں کے نئے سٹائلزدیے… پتنگوں، غبّاروں، پتلیوں کے تماشوں، سٹریٹ گمیز، کو نئی شکل، نئے رنگ دیے… امریکا اور دوسرے ممالک میں بڑے بڑے اداکار بچوں کی فلموں میں کام کرتے ہیں، مشہور گلوکار گانے گاتے ہیں، بڑے بڑے با صلاحیت ہدایتکار اور مصنف اس میں دلچسپی لیتے ہیں…
.
پاکستان کی فلمی تاریخ میں “بیداری” واحد فلم ہے جس میں سنتوش کمار صاحب نے کام کیا، کوئی ہیروئن نہیں تھی، صرف بچے اور انکا استاد جو انھیں پاکستان سے محبت کا درس دیتا رہتا ہے… “آؤ بچوں سیرکرائیں تم کو پاکستان کی”، “یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران”، “ہم لاۓ ہیں طوفان سے کشتی نکل کے”… اسی فلم کے گانے تھے جو آج تک گاۓ جا رہے ہیں… ٹی وی پر “عینک والا جن”، سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرامز کے علاوہ کوئی بچوں کی چیز نہیں جو بچوں نے دیکھی ہو شوق سے… اور تو اور چودہ اگست پر یوم آزادی کے پروگرامز میں بھی وہی گھسے پٹے اداکار گلوکار آ جاتے ہیں پرفارمنس کے لئے اور بڑے بوڑھے وزراء اور پرانے اداکار گلوکار خوش ہو کر تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں… ارے ایک ایک منٹ کا سکرپٹ لکھ کر نہیں دیا جا سکتا بچوں کو کہ صدر، وزیراعظم کے سامنے پرفارم کر سکیں…  
.
بچے بچوں سے سیکھتے ہیں اور شوق سے سیکھتے ہیں… پاکستان کے بچوں کا تو جواب نہیں… پہاڑوں جیسی ہمّت ہے انکی… اور دریاؤں اور سمندروں جتنا خون جگر، جو ساری زندگی رستا رہتا ہے اور ختم نہیں ہوتا… کیسے کیسے حالات سے گذرتے ہیں، عجیب بے ہنگم ماں باپ کو برداشت کرتے ہیں… بدتمیز، جاہل، گا لیاں دینے والے اور مجرم سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دہشت سہتے ہیں… اور ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ بڑے ہوں… کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بچوں کا دل چاہتا ہوگا کہ کاش ہمارے ماں باپ ہمارے ہاں پیدا ہو ۓ ہوتے تومزہ چکھا دیتے والدینیت کا…
.
انکی پیدائش کے وقت سے جو ڈرامہ شروع ہوتا ہے تو وہ وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اذیت سے چیخ نہ اٹھیں… اور اس وقت مولوی حضرات سامنے آ جاتے ہیں اپنے جنّت اور جہنّم کے فتوے لے کر… حمایت علی شاعر کے الفاظ کو تھوڑا سے تبدیل کردیں تو ماں باپ سے کہا جا سکتا ہے… تخلیق کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جان کا زیاں، اولاد کو اولاد سمجھ مشغلہ دل نہ بنا… بھوک، پیاس، گندگی، خوف، بیماریاں، زبان اور قومیت کے بارے میں احساس کمتری، چالیس چالیس پچاس پچاس سالوں کی عمروں والے زندہ کارٹون…. کوئی اچھا نظارہ نہیں پاکستان اور خاص کر کراچی کے بچوں کے پاس، جگہ جگہ تو الطاف حسین کی بد صورت تصویروں کی صورت میں اذیت کے سامان موجود ہیں… اچھی سوچ آۓ کہاں سے…

Happiness for Elderly People – خوشیاں بزرگوں کے لئے

The sources of happiness are innumerable.  They are spread all around and are present in every colour, even in dark in form of sweet dreams.
.
Happiness matters a lot in old age.  Elderly people should know how to make their last years cheerful for themselves and memorable for others.  Humans are not scarce and all mankind is one family.  They can make new ties and build new relationships.  It is a blessing to spend time among a group of your own age.  Oldies can make new friends, listen to their stories, comfort each other, share good memories and enjoy hobbies, such as reading, writing, painting, watching movies.  They are weak physically but still can discuss ideas.
.
In Pakistan, retirees, disabled or unwanted parents or grandparents who get to live in shelters or charities should be grateful to God Almighty for handing them over to better care-takers and new companions.  They should also be thankful to the administration, staff and donors to supply them with food, water, clothes and accommodation.
.
To make Pakistan a productive society, people must change their mind-set of relying upon their children in old age.  It was a problem long ago, not now.  Kudos to Mr. Abdus-Sattar Edhi and many other charities for their life time services in this regard.  Recalling the apathy and insensitivity of blood relation instead of enjoying the new fortune is ungratefulness and not a healthy exercise.
.
Old age is not a curse or a disease.  People just need to remind themselves that they can’t be completely useless after having a life time experience of almost everything.  If nothing they can do, still can use their tongue to express their feelings, say invocations in abundance, speak out the truth, teach the goodness, recite Qur’an, names of Allah, wazaif, pure words and say prayers for everyone.
.
However, there are many examples of how some men and women in old age succeeded in sustaining themselves.  There is a lady, illiterate though and underprivileged, at the age of 60, she has found a job to look after disabled old lady in a well-off family.  I have spoken to many rickshaw drivers aged above 70 who are driving rickshaw and making their own money because they don’t want to be a burden on their sons and daughters.  There is a gol-gappay wala, a decent man with a charming smile, age around 65, still working while his sons are earning too.  Many gardeners of age above 70 work at road-side nurseries and provide home services for taking care of plants.
.
If elderly people can find working opportunities under these crucial circumstances, why can’t the educated youth of Pakistan?
.
.
شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی
مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے….
جوش ملیح آبادی
کون کہتا ہے نجومی، ہاتھ دیکھنے والے، زائچہ بنانے والے لوگوں کے مستقبل کے بارے میں پتہ ہوتا ہے کہ کل کیا ہوگا… ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھہ کر کیا دیکھنا نصیب ہوگا یا شام کو اچانک کیا خبر مل جائے گی… ابھی یہی ہوا… اچانک دروازے پر دستک ہوئی، چوکیدار نے کہا باجی نیچے ڈاکٹر ریحانہ آئی ہے آپ کو بلا رہی ہے… میں نے کہا انکو کیسے پتا چلا کہ کہ میں یہاں ہوں اور وہ خود اوپر کیوں نہیں آئیں… کہنے لگا ہمیں نہیں پتہ، آپ نیچے آ کر خود بات کرو… میں گئی تو واقعی وہی تھیں… تین سال بعد دمام سے واپس آئیں ہیں، بتانے لگیں کہ وہاں کینسر ہو گیا تھا، پھر آپریشن ہوا، اب ٹھیک ہیں… شکر خدا کا… حالانکہ نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ہیں پھربھی خواتین کو زندہ دلی کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے بتانے کی ماہر ہیں… ڈاکٹر بھی اپنے علاج کے لئے کبھی کبھی دوسرے ڈاکٹروں کا محتاج ہو جاتا ہے… 
آج کے دور میں سب سے زیادہ کس کی اہمیت ہے؟  بالکل ٹھیک کہا، ٹی وی کی…چلیں ڈراموں کی بات کرتے ہیں… صرف تین ڈرامے…
ڈراموں پر اطہر شاہ خان جيدي کے دو شعر یاد آ گۓ…  
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے ديکھا نہ کسي نے جو قلمکار چلا
چھيڑ محبوب سے لے ڈوبے گي کشتي جيدي
آنکھ سے ديکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
.
“ہمسفر” دیکھنے میں اچھا ہے لیکن اس پر بات کرنے کو کچھہ خاص نہیں ہے…
.
“میرے قاتل میرے دلدار” اچھا ہے، اس میں ہیروئن کا فیصلہ اچھا لگا کہ اس نے اپنے جیٹھہ سے شادی کرلی جس نے اس کا گھر تباہ کیا تھا… کیوں باقی لاٹھی اسی کے ہاتھہ میں ہے جس سے وہ سب کو ٹھیک رکھتا ہے… 
.
“جنت سے نکالی ہوئی عورت”… بڑا اچھا لگا اس میں ثمینہ پیرزادہ کا کردار… گوکہ مجھے یہ خاتون پسند نہیں لیکن ہیں خوبصورت اور بہت اچھی اداکارہ بھی… ایک خاتون کو ساٹھہ سال کی عمرمیں طلاق ہو جائے تواسکی زندگی کیا ہو جاتی ہے… لیکن مجھے بہت ہی پسند آیا کہ ایک تو یہ خاتون جاب کرتی ہیں اور دوسرے کسی کا معاملات میں نہیں بولتی اور تیسرے یہ کہ بیٹے کے گھر میں اپنی وجہ سے مسلے دیکھہ کر وہ اپنے والد کے پرانے گھر میں آ جاتی ہے اور اکیلے رہنے لگتی ہے…
.
اسی طرح کرنا چاہیے، غصے میں نہیں، بلکہ اپنی آزادی اور اختیار کے لئے… مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا… کیا ضروری کہ کسی پر بھی بلاوجہ بوجھہ بنا جائے اور اولاد یا کسی بھی رشتے پر اخلاقی اور جذباتی دباؤ ڈالا جائے… بلکہ مجھے تو ان بوڑھے لوگوں پرغصہ آتا جو ایدھی اور مختلف اداروں میں زندگی گذار رہے ہیں، کھانا پینا مل رہا ہے، ایک چھت کے نیچے ہیں، بہت سے کمانے والوں کا پیسہ ان پر خرچ ہورہا ہے… اور پھر وہ ان رشتوں کو روتے رہتے ہیں جو انکو چھوڑ کر چلے گئے… کیا پتہ مجبوری ہو… اور نہ بھی ہو تو بھئی نئے رشتے بنالیں… انسانوں کی کمی نہیں… شکرکریں کہ گھر کی چخ چخ سے جان چھوٹی… دعا دیں انکو جنہوں نے اتنا انتظام کیا، آپ کو سڑک پر رلنے سے بچا لیا… اب نئی جگہ پر نئے لوگوں سے لطف لیں… ضروری نہیں کہ پچھلوں کی شکایتیں کریں کہ ہے کیسے نکلے… یہ سوچیں آپ نے کہاں کہاں کس کس کو اپنی اولاد کی خاطر نقصان پہنچایا… اور کیا کبھی اولاد کو الله کے احکامات اور احترام انسانیت سکھایا… جس طرح آپ اپنی زندگی کا کنٹرول چاہتے تھے اسی طرح آپ کی بہو بیٹے بیٹیاں بھی چاہتے ہیں… ان کے سر پر سوار نہ رہیں… خود بھی خوش رہیں اور انھیں بھی خوش رہنے دیں… 
بزرگ بہت خوش رہ سکتے ہیں اگر وہ یہ سوچ لیں کہ وہ بیکار نہیں ہیں… اتنی زندگی کے تجربات کے بعد بیکار ہو بھی نہیں سکتے… اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم زبان سے قرآن، درود، کلمات، دعائیں تو پڑھ سکتے ہیں… 
.
اس ڈرامے کی طلاق کا کیس دیکھہ کر باجی کی کالج کی ایک دوست یاد آ گئیں… ان کے والد نے اسی طرح ایک دن غصے میں کھانےکی میز پراپنی خاموش صفت بیوی کو طلاق دے کر بائیس تئیس سال کی شادی ختم کردی… ایک بیٹے کو جو کالج میں ماں کے ساتھ رہنا پڑا اور بیٹی جو کالج میں تھیں اور چھوٹے بیٹے کو باپ کے ساتھہ… پتہ نہیں کیسے سامنا کیا ہوگا ان سب نے باقی سب کا…
.
جب سے پاکستان بنا ہے، کراچی کی قوم پاکستان سے پہلے کی خوشیوں کو روۓ جا رہی ہے… اور پاکستان کے ذریعے ملنے والی تمام خوشیوں کے مواقع برباد کئے چلے جا رہی ہے… پرانی رسمیں، پرانی یادیں، حسرتیں، ملامتیں، اپنےعزیز رشتوں سے کبھی انتہا ہمدردی کبھی شدید انتقام کبھی نہ ختم ہونے والی شکایتیں کبھی دھمکیاں… بس ایک چکرہے جوچلے چلے جا رہا ہے، سب اس سے پریشان لیکن کوئی اسے روکنے پرتیارنہیں…
.
بھئی الله نے اتنی بڑی دنیا بنائی ہے کچھہ اس پر بھی توجہ دے لو، ہزاروں قسم کے لوگ ہیں، حسین نظارے ہیں… خوشحالی اور خوشی وہ چیزیں ہیں جو ہرجگہ اورہررنگ میں بکھری پڑی ہیں… حتی کہ اندھیرے میں بھی خوابوں کی شکل میں… بس لوگوں کے پہچاننے کی دیر ہوتی ہے…
.
.