Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.


Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.


قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…

Who is the most kind and the wisest?

The purpose is of this writing is not to pass any judgement on anyone.  This is just another tiny effort to look into the mirror of Islamic doctrine and see how many scars are left there on heart and soul.

There are 114 surahs in Qur’an and each except one (Surah At-Taubah/The Repentance) begins with the acknowledgement of God’s attributes “In The Name of Allah, The Beneficent/Compassionate, The Merciful”.  The same statement is mentioned once in Surah An-Namal/The Ants, when Prophet Sulaiman/Solomon uses the same words to begin with in a letter to the Queen of Sheba.

The same Quran mentions Prophet Muhammad (pbuh) as the mercy for all the worlds Allah (SWT) has created.  Each and every moment of Prophet Muhammad (pbuh)’s life is an evidence to prove this claim to be true and certainly it has everything to do with his character.  “We have sent you but as the mercy for all worlds”… Surah Al-Anbiya 107

The words of Qur’an and the life of Prophet (pbuh) are beautiful combination of moral laws and court laws – together they are called ‘shariah’/the Islamic code of law.  Any Muslim having a doubt and then preaching it as a defect of Islam, such as ruling on two women as a witness against one man or four marriages for men and only one for woman, is considered a ‘kafir’, which literally means the one who rejects or denies.  So, the word ‘kafir’ shouldn’t be used to for non-Muslims.

Allah (SWT) says in Qur’an, ” And there are, certainly, among the people of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. They do not sell the Verses of Allah for a little price, for them is a reward with their Lord. Surely, Allah is Swift in account.  O you who believe! Endure and be more patient (than your enemy), and guard your territory by stationing army units permanently at the places from where the enemy can attack you, and fear Allah, so that you may be successful.”…. (Surah Aal-e-Imran/The Family of Imran 199/200)

Islam has introduced a very balanced and flexible life-style.  The exceptions and limitations in obligations are already set by the Shariah and they are termed as “hudood or hudood-Allah” in Quran.  Similarly, the Shariah has outlined the emotional expressions prohibiting extremism and exaggeration.

For example, a strong belief in our society about God is that there are no limits for glorifying Allah Almighty.  Yes, there are.  Allah (SWT) has specified how to and when to remember Him formally on daily and yearly basis, i.e. salah/prayer and Hajj/pilgrimage to Makkah.  However, there are no time limit and conditions to communicate with Him for any reason.  He Almighty is awake and present all the time.

Be wild in anger, be crazy in excitement, be pessimist in sadness, be disappointed in trials,  be haughty in richness, be silent for witness, be a support in false accusations, be overjoyed in celebrations, etc. —  this is how life events are dealt in our society, by showing extreme behaviour and this is prohibited in Islam.

Sometimes, people don’t realize that they are acting as they are wiser than Allah (SWT) and prophets.  They do violate the limits of Shariah and then defend themselves and justify their actions by giving lame excuses.  Who do they try to satisfy, God, people around us or themselves?

There are lots of things that we do and we can say that we do them because we like them.  There are many things that we don’t do and we can say that we don’t do them because we don’t like them.  We can simply say that I do this or I don’t do this because this is how understood the religion.  This is better than manipulating religious principles.  This is not wise to corrupt the religion and create complications for others by wrong interpretations of Islamic moral values.

This intentional or unintentional corruption in religion develops a guilt in mind.  This guilt often transforms into an extra-ordinary feeling of kindness and sympathy to others and is exhibited by charity work.  Those who are involved in breaking the system or if not breaking, not building the system usually rejoice themselves by feeding, helping, educating hungry and needy people at large scale.  This is one way to kill that guilt.

In the same manner, people exaggerate while consoling, condoling, grieving, describing, explaining and even guiding.  We mourn for weeks, months and years.  They exaggerate while praising sacred prophets, saints, leaders, heroes, elders, family dynasty, etc.  This exaggeration turns into controversies and contentions and finally leads to physical combats.

Sometimes people unknowingly try to pretend that they are more kind than God Almighty and His prophets.  They have more sympathies with rapists, robbers, adulterers and murderers than with the victims.    Forgiveness has its own conditions.  Forgiveness is when exercised unnecessarily to the wrong people, it benefits the criminal minds only. Only God Almighty has the right to forgive whoever He wills for any or no reason.

Sometimes people behave like they have more ego and temperament than God Almighty and His prophets.  Mostly men try this on women, elders on youngsters, rich on poor, smart on naive.  Raising voice for rights, for choice is also considered a matter of ego.  The Arabic word ‘ana’ meaning ‘I’ with the thought of completeness and absolute powers suits only to God Almighty.

I was just thinking that if Edhi, Ansar Burni Trust and other legitimate charity organizations have established as parallel to the government institutions, why don’t they join together and really make one for the sake of this country.  Edhi’s team works more like a ‘baitul-maal’.  Sarim Burni’s team plays Supreme Court in addition to police and detectives.  Shoukat Khanum Memorial Hospital’s team along with Dr. Adeeb Rizvi and many others can run the best health ministry in the world.  There are many educational institutions like Namal that can replace the board of education in all four provinces and adjacent territories.  Those who are making world records can be the best to deal with foreign affairs.

Who cares who sits in the President House!  People can choose Dr. A. Q. Khan or Justice Wajeehuddin or any other smart, honest and patriot man as a guide and leader.

Unemployed youth can head towards the villages and farms to help farmers to grow more and more food.  You know why, because food is most essential in all necessities.  They can even train themselves as a substitute to law enforcement bodies.  We are missing them any way.

People of Pakistan are a government, then why let the criminals and incompetents draw salaries from assemblies and make others beg for what they deserve?

Is dowry a curse? کیا واقعی جہیز ایک لعنت ہے؟

In Pakistan, dowry is the real attraction of wedding affairs and the bride and groom sides get excited when preparing it for each other.  Some people call it a curse as they can’t afford it and their daughters do not receive any proposals.  They demand the government to make laws against dowry.

Jahez is the form of dowry which is given to the bride by her parents, family and relatives, which consists of dresses, real gold jewelry, bedroom set, utensils and crockery, refrigerator, washing machine and other household stuff.  Sometimes, the groom and his family even demand car or motorbike.

Bari is the type of dowry which is prepared by the groom’s side for bride and it consists of few dresses, bangles and shoes.

Pehnaoniyan is a sort of dowry, mostly dresses, which is gifted to groom’s entire family by bride’s side.

Mehr is the cash amount fixed by both sides and groom is liable to pay it to the bride either at wedding night or any time after that.

Jahez, Bari, Pehnaoniyan and Mehr – all these materialistic exchanges are meant to build trust and strong ties between the two families.  They do if not dealt as a business matter and as a demand from each other.

Anything that was done by Prophet Muhammad (pbuh) cannot be a curse.  He (pbuh) prepared dowry for his daughter Fatimah Zahrah (r.a.) at the time of her wedding with Ali ibn Abi-Talib (r.a.).  It was a very simple dowry, basic household stuff that he (pbuh) and Hazrat Ali could afford.

Jahez is something that parents give their daughters for their love.  Bari shows in-laws’ love to the bride.  Pehnaoniyan is simply a family to family gift.  Mehr is the personal matter between bride and groom.  What can government or police do about it?

The idea of FAD “Fight Against Dowry” is a non-sense.  What right does any NGO or social worker has to go in fight with something that is purely a family matter and even in religion there are no laws about it.  However, people should be advised not to pressurize or threat the other side to buy anything that is out of their reach.


جہیز ایک لعنت ہے… جہیز کے خلاف قانون بننا چاہیے… جہیز پر پابندی لگانی چاہیے… جہیز مانگنے والے لالچی اور گھٹیا لوگ ہوتے ہیں… “فائٹ اگینسٹ ڈاؤری یعنی جہیز کے خلاف جنگ”…
جہیز کے بارے میں یہ وہ باتیں ہیں جو سالوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں… مہر کی رقم اور پہناؤنیاں بھی ایک مسلہ ہوتی ہیں… البتہ بری کے بارے میں آج تک کوئی خاص باتیں نہیں کہی سنی گئیں… یہ رسمیں کہاں سے اور کیسے شروع ہوئیں، انکا معاشرے پر ، لوگوں کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، انکا اسلام سے کوئی تعلق ہے بھی کہ نہیں… یہ کوئی نہیں سوچتا…
جہیز ایک لعنت ہے… کیا وہ عمل جسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم انجام دے چکے ہوں ایک لعنت ہو سکتا ہے؟ اور انہوں نے خود اس کے لئے کوئی اصول یا قانون کیوں نہیں بنایا؟  یا یہ کیوں نہیں کہا کہ جیسا فاطمه کا جہیز ہے ساری مسلمان لڑکیوں کا اسی طرح کا جہیز بننا چاہیے؟… 
جہیز کے خلاف قانون بننا چاہیے… کیا قانون بننا چاہیے کہ جہیز بالکل نہ دیا جاۓ… یا صرف بیڈروم سیٹ اور کپڑے دے جائیں، گاڑی، سکوٹر، فرج، ٹی وی، صوفہ، ڈائنگ ٹیبل، واشنگ مشین، برتن، استری وغیرہ نہیں… یا پھر صرف کپڑے اور زیور اور کچھ نہیں… اور شادی سے پہلے پولیس والے جہیز کا سامان چیک کریں گے؟ 
جہیز پر پابندی لگانی چاہیے… کیا پابندی لگے اور کون لگاۓ… کہ جہیز خالص لڑکی والوں کی مرضی سے لیا دیا جاۓ گا… اور لڑکے کے گھر والے یا خود لڑکا کسی چیز کی فرمائش نہیں کرے گا؟ 
جہیز مانگنے والے لالچی اور گھٹیا لوگ ہوتے ہیں… لڑکے والے کیا سوچ کر لڑکی والوں سے فرمائشیں کرتے ہیں اور لڑکی والے کیسے کہ اپنی بیٹی سے نجات حاصل کرنے کے لئے لڑکے والوں کی ہر نا جائز بات مان لیتے ہیں… جب خود سب مان لیتے ہیں تو پھر قانون اور حکومت سے کیا توقع کرتے ہیں… وہ کیا کریں؟… لڑکے کے گھر والوں کی پٹائی کریں، جہیز کا سامان واپس کروائیں… قانون بنائیں، پابندی لگائیں… 
“فائٹ اگینسٹ ڈاؤری یعنی جہیز کے خلاف جنگ”… کس سے؟ لڑکی والوں سے یا لڑکے والوں سے…
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ اتنے جنگ و جدل، بحث مباحثے، کاروباری لین دین، طنزوطعنہ، چہروں کے بھیانک تاثرات کے بعد شادی شادی کہاں رہ جاتی ہے… اور کون پاگل ہوگا جو یہ سوچے کہ اس طرح لڑکی اور لڑکا خوش رہ سکتے ہیں…
عجیب بات یہ ہے کہ جب کسی کے گھر میں شادی کا موقع آتا ہے تو وہ یہ ساری باتیں بھول جاتے ہیں… شادی چاہے لڑکی کی ہو یا لڑکے کی… خوشی سے زیادہ ایک بوجھ ہی بنی ہوئی ہوتی ہے… لڑکی والے جہیز اور لڑکے والے بری اور دونوں گھرانے مہر کے معاملات میں الجھے ہوتے ہیں… لڑکی کے شادی اور ولیمہ کے جوڑے  لڑکے والے اور لڑکے کے شادی اور ولیمہ کے کپڑے لڑکی والے دیتے ہیں… لڑکی والے پہناؤنیاں دیتے ہیں لڑکے کے تمام گھر والوں کے لئے… کتنے جوڑے دیے، مہنگے دیے، سستے دیے… کتنے سیٹ دیے، سونے کے ہیں، چاندی کے ہیں… لڑکی والے زیادہ مہر رکھوانا چاہتے ہیں کہ لڑکے پر دباؤ رہے جبکہ لڑکے والے کم مہر رکھوانا چاہتے ہیں تاکہ لڑکی ڈر کر رہے… 
میں نے آج تک شادی کے موقعوں پر لڑکی اور لڑکے کے گھر والوں کو سکون اور اطمینان سے انتظامات کرتے نہیں دیکھا… ہاں پریشان ہوتے ضرور دیکھا ہے، خاندان والوں کے سوالات سے ڈرتے ضرور دیکھا ہے، سسرال میں لڑکی کے خوش رہنے کے نام پر پیسہ لٹاتے ضرور دیکھا ہے… لڑکے والوں کو رعب میں رکھنے کے لئے انکے گھر کو بھرتے ضرور دیکھا ہے… بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کی شادیوں پر تنقید تو کر دیتے ہیں لیکن جب انکے اپنے گھر میں شادیاں ہوتی ہیں تو وہی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں… بہت سے خاندان تو جہیز اور بری کو کوئی مسلہ نہیں سمجھتے… انکے خیال میں یہ زندگی اور ہماری روایات کا حصّہ ہیں لہٰذا ان کو تو نبھانا ہی ہے…
اور جس دنیا سے ڈر کر یہ کام کے جا رہے ہوتے ہیں وہ امریکہ، اسرائیل، بھارت اور برطانیہ نہیں… لڑکی اور لڑکے کے اپنے خاندان والے، رشتہ دار اور محلے والے ہوتے ہیں… میں تو کہتی ہوں لعنت جہیز پر نہیں ایسے خاندان والوں، رشتہ داروں اور محلے والوں پر بھیجنی چاہیے جو ایک دشت گرد کی صورت میں ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہیں… زندگی کے لئے عذاب بن جائیں اور خوشیوں کے موقعوں پر غم، دکھ اور پریشانی کا سامان بنیں… اس قسم کی گند کو یا تو صفائی کریں یا پھر اسے دور پھینکیں کوڑے کے ڈھیر پر… اور اپنی بیٹی اور بیٹے کے مستقبل کے بارے میں سوچیں کہ کس طرح یہ خوش رہ سکتے ہیں… 
گنتی کے چند خاندان اور لوگ ہونگے جو شادی کو ایک فرض سمجھ کر انجام دیتے ہیں اور اسے بوجھ اور غم کا سامان نہیں بننے دیتے…

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مثال:
جہیز کو جسٹفائی کرنے کے لئے ہمیشہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مثال دی جاتی ہے کہ انہوں نے بھی تو حضرت فاطمه الزہرہ کو جہیز دیا تھا… عجیب بات ہے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم، حضرت فاطمه الزہرہ اور حضرت علی کی زندگیوں پر، سنتوں پر عمل کرنے کا معاملہ ہو تو ہم کہتے ہیں کہ وہ چنے ہوۓ لوگ تھے، ہم عام لوگ ان جیسے نہیں بن سکتے… وہ زمانہ اور تھا، یہ زمانہ اور ہے… لیکن اپنی رسموں اور روایات  کا دفاع کرنا ہو تو بڑی خوبصورتی سے انکی زندگی کے کسی حصّے کو اپنی زندگی میں فٹ کر لیتے ہیں…
ذرا رسول الله صلی الله علیہ وسلم، حضرت فاطمه الزہرہ اور حضرت علی کی زندگیوں پر نظر تو ڈالیں کہ وہ تھے کس قسم کے لوگ… انکی زندگیوں میں انسانوں، خاندان، رشتہ داروں اور دنیا سے ڈر کر کام کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا… انکا ایمان ہر قسم کے خوف سے پاک تھا… انہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں فٹ نہیں کیا ہوا تھا بلکہ اسلام کے دیے ہوۓ اصولوں پر نہ صرف اپنے آپ کو فٹ کیا کرتے تھے بلکہ اپنے ماننے والوں کے لئے زندگی کی خوشیوں، سکوں اور کامیابی کے اصول بھی وضع کرتے تھے… انکی زندگی کا مقصد کپڑے، جوتے، کھانے اور معاشرے کی مرضی سے جینا نہیں تھا…
حضرت علی تو خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گھر پر پلے بڑھے تھے… انکے پاس کوئی جائیداد نہیں تھی… وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا ہی عکس تھے…
حضرت فاطمه الزہرہ کی شادی کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کو زرہ بیچنے کی ہدایت کی… مطلب کہ لڑکے کو خود اپنی شادی کا انتظام کرنے کو کہا نہ کہ قرض ادھار لے کر ہلا گلا کرنے کو…
مختلف روایات کے مطابق حضرت علی کو چار سو، چارسو اسی یا پچ سو درہم ملے جو انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حوالے کر دیے اور جس سے شادی کا انتظام کیا گیا… جو چیزیں جہیز کے نام پر دی گئیں تھیں وہ یہ تھیں… ایک قمیص، ایک دوپٹہ، ایک کمبل، کجھور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر، دو ٹاٹ کے فرش، چار تکیے، ہاتھ کی چکی، ایک تانبے کا برتن، چمڑے کی مشک، پانی پینے کے لئے لکڑی کا برتن، ایک کھجور کے بنے ہوے پتوں کا برتن، دو مٹی کے آبخورے، مٹی کی صراحی، زمین پر بچنے کے لئے ایک چمڑا، ایک سفید چادر اور ایک لوٹا…
جو لوگ کہ ہیں کہ وہ جہیز اس زمانے کے لحاظ سے تھا اور آج کے دور میں آج کے لحاظ سے…. تو ایسے لوگوں کو شاید معلوم نہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جہیز کا سامان دیکھا تو انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے… جس کو سارے خزانوں کا مالک بنایا گیا ہو اسکی بیٹی کا یہ جہیز… 
کچھ روایات کے مطابق جہیز حضرت علی کی زرہ کی رقم سے ہی خریدا گیا تھا اور حضرت فاطمه الزہرہ کا حق مہر پانی تھا… کہیں ذکر ہے کہ انکا حق مہر چار سو درہم تھا اور باقی رقم سے جہیز خریدا گیا تھا…
بہرحال… رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بیٹی کی محبت میں اس کی شادی کی خوشی میں یا ضروریات زندگی سمجھ کر حضرت فاطمه کو جہیز دیا… یا پھر حضرت علی کے ہی پیسوں سے یہ سب انتظام کیا گیا… وہ ایک مثال ضرور ہے مسلمانوں کے لئے… لازمی نہیں کیونکہ خود الله سبحانہ و تعالی نے قرآن میں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شریعت میں اس بارے میں کوئی قوانین نہیں بناۓ…
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بیٹی کی شادی کے موقع پر محبت کے اظہار کے لئے کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے؟  کیا بیٹی کی ضروریات زندگی کی فہرست کے لئے کوئی قانون بنایا جا سکتا ہے؟  کیا شادی کے موقع پر بیٹی کو کچھ دینا لعنت کہلایا جا سکتا ہے؟  کیا بیٹی کو شادی کی خوشی میں کچھ دینے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟  جو والدین اپنی بیٹی کو اپنی مرضی سے، اسکی محبت میں، زمانے کے خوف سے، رشتہ داروں کے در سے، سسرال میں با عزت رہنے یا کسی بھی وجہ سے جہیز دیتے ہوں تو کیا لڑکے والوں کو گھٹیا اور لالچی کہا جا سکتا ہے؟ کیا بیٹی کو دے جانے والی چیزوں کے خلاف جنگ کی جا سکتی ہے؟ 
جہیز، بری، مہر… خالص گھریلو معاملات ہیں اورانکا براہ راست تعلق دلہا اور دلہن سے ہوتا ہے… اور دلہا اور دلہن کو ہی اس کا فیصلہ کرنے دینا چاہیے… اس میں حکومت اور پولیس کچھ نہیں کر سکتے… خاندان اور رشتہ داروں کا بھی ان سے کوئی تعلق نہیں… ان تینوں کو فرض کی طرح نبھانا یا مسلہ بنانا لڑکی اور لڑکے والوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے…  
مسلہ یہ اسی صورت میں بن سکتے ہیں جب لڑکی والوں کے دل میں دکھاوا، حسد اور مقابلے بازی ہو اور لڑکے والوں کے دل میں لالچ… بھلا لالچ، دکھاوے، حسد، مقابلے بازی…. انکے لئے کیا قانون بنایا جا سکتا ہے…
شادی کو خوشی کا موقع بنانے کے لئے ضروری ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے گھروالے اسے کاروباری شکل نہ دیں… انسان اور اس کے احساسات کپڑوں، جوتوں، زیور اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں…

Beautiful Supplications











Love, Pakistan and Valentine’s Day

 What’s love got to do with Saint Valentines?

All early 14 Saint Valentines were the martyrs of Christianity and had nothing to do with love and romance.  The name “Valentine” is derived from valens meaning worthy, strong and powerful.   It is celebrated in churches in religious terms.

The modern Valentine’s Day has gradually been developed to express love and affection through cordate objects, doves, Cupid and red colour.  Cupid, a character in Latin literature by Apuleius had an ability to make people fall in love.  It is derived from Latin cupido meaning ‘desire’ and Amor meaning ‘love’, is the god of desire and erotic love with his Greek counterpart Eros.

The Valentine’s Day is celebrated in many parts of the world including few Islamic countries on different dates with different names in relation to their own  ‘mythical love stories’.

However, the religious sector in some Islamic countries condemn it for many reasons, such as, it is a Christian day or is being celebrated by Christian or non-Muslims, promotes immodesty and is against their definition of chastity in Islam.  The word ‘chastity’ anyhow is derived from Latin castus meaning ‘pure’.

Pakistani literature, just like other literature around the world, is full of enchanting love stories.  The characters have been depicted romantically in both prose and poetry.  Heer Ranjah, Sussi Punnoon, Sohni Mahivaal, Omar Marvi, Mirza Sahiban, Yusuf Khan and Sherbano, Adam Khan and Durkhanai, Noori Jam Tamachi are some of the most famous one.  Not only that but Pakistanis are also impressed with the tale of Laila Majnoon and Romeo Juliet and Cleopatra and Mark Antony.

Then there are some  said to be true love stories of Emperor Jahagir (real name Nuruddin Salim) with the maid/kaneez Anarkali and with his wife Mehr-un-Nisa famous as Noor-e-Jahan meaning ‘light of the world’  and Noor-Mahal meaning ‘light of the palace’ – and of Emperor Shah Jahan (real name Shahabu-ud-din Muhammad Khurram) with Arjumand Bano, the 14 year old niece of Empress Noor Jahan, got fame as Mumtaz Mahal meaning ‘the jewel of the palace’.  He built Taj Mahal, one of the wonder of the world, in remembrance of her beloved love.

Avoiding the failed love-affairs, there are few successful real life love stories, topping both Quaid-e-Azam and Madam Noor Jahan with Pakistan, Muhammad Ali and his wife Zeba, Santosh Kumar (Moosa Raza) and his wife Sabiha Khanum, Darpan (Ishrat Raza) and his wife Nayyar Sultana.  Beside that, in my family, out of many love-marriages, I would proudly mention my cousin with her husband, both hearing impaired, enjoying their life romantically with triplets, great couple.

Religiously, the story of Prophet Yusuf/Joseph (peace be upon him) and Zulaikha (Potphar’s wife) was popular among Persian poets.

Out of all, I must say that Emperor Shah Jahan stands out for holding 1st position among all successful lovers and as he waited five years to marry her love, they had 14 children and he built Taj Mahal to express the intensity of his love for her.

Religious parties in Pakistan have been protesting against Valentine’s Day celebrations.  Many moderates also condemn it as the way it is celebrated is against their culture and moral values.

Recently, Jamat-e-Islami (the religious-political party) announced February 14 as Yom-e-Haya meaning the ‘day of modesty’ to defy the effects of Valentine’s Day on our youth.

What has modesty to do with love-affairs, marriage-proposals and exchanging gifts for love?

Modesty/Haya is the part of faith since 1433 years and it should be the part of a Muslim’s personality every second of his/her life.  Hazrat Usman among all companions is considered the most modest man, was married to Hazrat Ruqayyah, Hazrat Umm-e-Kulsoom and Hazrat Naila.

Among prophets, Prophet Yahya ibn Prophet Zakariyyah/Jhon the Baptist is famous for being the most modest.

For Muslims, great example comes from Prophet Muhammad (pbuh), who’s character is most appreciated in Qur’an.  He said, “Beloved to me are three things, fragrance, women and salah/namaz/prayer is the coolness of my eyes” – he didn’t use the word ‘my wife’ but women in general.  He married 11 honourable ladies.  Hazrat Kadijah bint Khawailud, the modest lady, proposed him out of love and respect.  Prophet Muhammad (pbuh) was shown Hazrat Ayesha and he fell into love with her.  He (pbuh) has mentioned many times his love for Hazrat Khadijah and Hazrat Ayesha.

Although there is a concept of part-time love according to some religious sects, Islam encourages adulation, loyalty and tenderness for better relationship between spouses.  As I have heard a hadith that the worst among transgressors are those who cause fitnah/evil/trial between husband and wife and try to destroy their relationship.

So, in Islamic history, modesty never stopped any man or woman from sending proposals and marriages of their own choice.

Love is the feeling which is appreciated and celebrated in every religion, in every culture, in every era, at every time, by everyone except Pakistan.

Romance is excitement, sentiment and attachment.  It is not just a childish love-affair between a girl and a boy.  Romance is the beauty and attraction found anywhere and everywhere, it could be in food, in clothes, in books, in pets, in flowers, in forests, in caves, in moon and stars, in work, in passion, in money, in people.  For a lot of people it is in Qur’an, in Muhammad (pbuh), in Salah, in Makkah and Madinah.  It is not flirt or scandal all the times.

The coordination, harmony, melody and engineering in nature is romance.  Isn’t it?

What is the value of love and romance in Pakistan?

In Pakistan, love is related to power and authority; love of Allah, love of Prophet Muhammad (pbuh), love of parents and husband’s power of sexual intercourse.

The society, as a whole, demands and admires the expression of love in form of unilateral devotion, forbearance, sacrifice and tolerance.

Prophet Muhammad (pbuh) said, “Exchange gifts, it increases love”.  While in Pakistan, exchanging gifts is either a trade done on ceremonies and festivals or a romance.  Romance is entitled as ‘vulgarity, sin and kufr/disbelief’ as it is thought to be happened between a male and a female in seclusion.

Is Valentine’s Day celebration non-Islamic?

Heart-shape objects, notes of love, gifts, doves (excluding Cupid for being a Latin fictional character) are the symbols of love and peace.  Whether they are used at Valentines, Eids, birthdays, weddings or other events, they are meant to express same feelings.

The truth is that Pakistanis in particular have forgotten to celebrate anything at all, especially if it has to do something with love.  They find it more convenient to observe SOG days, protest days, strikes, days long mourning and all occasions that are related to death.

Why Pakistani youth seems more interested in celebrating Valentine’s Day and in a Western style?  These youngster live in a society where they don’t see their parents, grandparents, uncles and aunties, couples in neighbourhood in romance, not even to the limit that is allowed in Islam.  All they observe is frustration and resentment in relations.  All they get to see is dust and barrenness and pollution in the environment.  All they have to hear are arguments, justifications and directions.  Beside that, they are always occupied with celebrations and the related controversies.  Isn’t it all very suffocating?

They know that their parents will decide for their fate.  They can’t look out for a life-partner as Islam has allowed them and even after that they are not free to live as they want.  The life they fantasize through movies, love-tales and western culture.

Are the stories of Cinderella or Phoolmadrani (the Urdu version of Cinderella) and of princes and princesses that nani and dadi once used to tell non-Islamic too?

Islam is the religion of beauty, love and relaxation.  It does not leads anyone to dark ages.

شکر ہے ویلنٹانئز شہداء کا کہ جماعت اسلامی کو یوم حیا منانے کا اعزاز دے گئے۔۔۔ حالانکہ حیا کا پیغام اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تایخ۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھی حیا کا پیغام لائے چودہ سو سال گذر گئے۔۔۔ اور یوم حیا کا آج خیال آیا۔۔۔ عیسائیوں اور امریکنوں کے مقابلے پر۔۔۔

یوم حیا تو وہ دن تھا جس دن حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا داغ خود الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کی آیا سے دھویا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت مریم علیہ السلام  کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا دفاع ان کے معصوم بیٹے نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا جواب ان کے اپنے جسم پر موجود لباس نے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کے ذریعے حضرت زینب بنت جحش کا آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھہ نکاح کا اعلان کیا اور منافقوں کی زبانیں بند کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن جماعت اسلامی یا آج کل کے دینی لوگ کیا جانیں۔۔۔ کیا جانیں یہ کسی کی عزتیں بچانا, خوبصورتی اور احسان کے ساتھہ۔۔۔۔ یہ مقابلے کرسکتے ہیں, شک کرسکتے ہیں, تجسس کرسکتے ہیں, الزامات لگا سکتے ہیں, سزا سنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

Who should a man favour – mother or wife?

Am I a woman, or am I a woman?

So what if I am a woman.

Since I am a woman, I am very powerful.  Sooooo powerful that my counter part specie fears me.  Yeah, that is ‘mmmennn’.  Their belief is weaker than my action.  My one bodily move can shake the building of their faith.  They lose their mind.  They take no time to decide between God and me.  Poor men!

They say I’m no wise, not trustworthy, not worth listening to.  I say, “O you who are weak and embarrased! bring evidence of what you belief or just shut up”.  They utter from their mouths which they have no solid proof of.  They flow with liquidity of their immature thoughts and fall into the drowning mud of embarrassment.

Annnnnnd, because I am a woman, I am very greedy and wicked too.  I realized the strong hold of men on all resources.   They do not educate me.  I know no nimble access to my necessities.  I be their slave either this way or that way, to get my provisions.  Legally, there is no way I can get my bread and butter respectfully.  My simplicity is not enough to convince them.  So, I trick men with my adornment and eloquence.  They say I trick them.  That is because they give by tricking.  Yet, they claim that women are born twisted as they were created with the twisted rib of Adam.  Foolish men!

So this is what I am, a woman.

Just kidding!  🙂 It doesn’t happen like this, not always, right?

Men are not that cruel.  Not to their wives in particular.  It is only that they don’t greet women as practiced by the Prophet (pbuh), don’t smile to them in the day time, quite a few times insult them in front of others, keep their womb occupied with their heirs on annual basis.  It is not their fault though.

They are born innocent bhaeee.  Don’t you see how they get confused between mother, sisters and wife, whom to favour?  And look at women how they enjoy the whole situation, fighting over their beloved ‘money laying rooster’, ha ha ha, a stimuli for their satisfaction.

But really, who should men favour – mother or wife?

Why women even create this situation and make it difficult for men to be just and fair?  How can they deny each other’s right. Both have rights and so do men….. as a father and as a husband.

And men are foolish and weak, I have  just proved it.  The time and energy left after job hours does not allow them to make any wise decisions.  Leaving either one is not a wise decision any way unless otherwise demanded by either side.

One thing that mothers should remember it is that, it is children who have to remember that their Paradise lies under the feet of mothers.  It means that mothers should be provided with all the facilities and should be respected as it is due to them.  Mothers cannot use this honour as a weapon to threaten their children and force them to leave their rights that God has granted them.  This is injustice.  Mothers should be wise enough to understand this.

They should also remember that the Paradise under their feet is not liable for daughter-in-law or son-in-law.

Wives should not forget that they do not own every single paisa their husband earn.  Their husband’s mother do have a share in it.  They should remember that if God has given them sons, as they desire, then one day, they will also become mother-in-law and will suffer the same.  Because God is the Most Just.

Mothers and wives! Let your men curb at home, I mean keep them happy at home, so they do not bother to bother other women on streets or anywhere.

So I also be a good woman.  Otherwise you know me….



Fathers in history


 ایک ایسا وقت بھی گذرا تھا, اس بستی کے ہر کوچے پر

 جب کوئی بھی تصویرنہ تھی, اس کرہ ارض کے پردے پر

جب دنیا خالی خالی تھی, سناٹا تھا, ویرانی تھی

بابا آدم, ماں حوا کو, یہاں خلقت ایک بسانی تھی

یہ جوڑا تھا انسانوں کا, اعلی ادنی مطلوب نہیں 

رشتے میں بندھ کر آئے تھے, صرف عورت مرد کا روپ نہیں

تابعداری, نا فرمانی۔۔۔ ہر حال کے تھے سنگھی ساتھی 

دن عیش کے ساتھہ ہی دیکھے تھے, پھر سزا بھی ساتھہ میں ہی کاٹی

دو انساں کیسے جیتے ہیں, روتے روتے ہنستے ہنستے

حوا شوہر پر جاں دیتیں, وہ بیوی کے دیوانے تھے

وہ داعی چین سکون کے تھے, وہ مساوات کے حامی تھے

وہ جب بچے پیدا کرتے, اک لڑکا اک لڑکی ہوتے

آغاز تھا یہ انسانوں کا, جنھیں کائنات سب تکتی تھی

شوہر بیوی, اماں ابا, بھائی بہنا, بیٹا بیٹی


پھر ایسا وقت بھی آیا کہ جب عورت بے توقیر ہوئی 

سارہ اور ہاجرہ بھول گئیں, مریم کی بھی تحقیر ہوئی

پھر لے کر پیار محبت کا, پیغام رسول الله آئے

جو مردوں کے تو باپ نہیں, بیٹی کے والد کہلائے

اپنی بیٹی کی عزت کو, خود آپ کھڑے ہوجاتے تھے

اوروں کی بیٹیوں کے دکھہ پر, کڑھتے اور اشک بہاتے تھے

وہ جنکا فرض عیادت تھا, ایک غیر, یہودی عورت کی

سامان اٹھاتے تھے اسکا جو ان سے نفرت کرتی تھی  

سمجھاتے تھے یہ امت کو, بیٹی رحمت, بیٹی عصمت

کیوں بیٹی زندہ دفن کرو, بیٹی پالو, پالو جنت

فرماتے تھے کہ قابل حب,  مجھے مشک, نماز اور عورت ہیں 

عورت کو جو کمتر جانیں, کیا پھر بھی شامل امت ہیں


وہ وقت بھی آخر کار آیا, انسانیت پامال ہوئی

مردوں پہ غلامی چھائی, عورت ذلت سے بے حال ہوئی

تو قائداعظم  نے آکر, کچھہ یوں سب پر احسان کیا

بن کر بابائے قوم, مسلمانوں کو پاکستان دیا 

دنیا کو جناح نے سکھلایا, بہنیں تقدیر بدلتی ہیں

اور بھائی کا بازو بن کر, ہر مشن پہ ساتھہ نکلتی ہیں

مائیں بہنیں بیوی بیٹی, گونگی بہری تصویر نہیں

یہ قدم ملا کر ساتھہ چلیں, یہ پیروں کی زنجیر نہیں

فرمایا قائداعظم نے, کوئی قوم ترقی کر نہ سکے

جب تک عورت کو ساتھہ نہ لے, جب تک عورت کا ساتھہ نہ دے

How many fathers do I have in history?

Prophet Adam (peace be upon him), the father of entire human species;

Prophet Muhammad (pbuh) – the father of daughters, not sons (as it is said in Qur’an) – who told me about my rights;

Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, the ‘Father of Nation’;

and my biological father, who was the cause of my birth and raised me up;

and then my spiritual fathers, who became the source of guidance.

The first three names are alive but the world has lost them as a character.  They did not appear as a dominating gender but as a partner to their females.  They co-operated, changed the history and influenced the mankind.

I wonder what language did father Adam and mother Hawwa/Eve (peace be upon both of them) speak in Paradise?  How were they sent to earth?  How they felt for being the first human-couple on earth?  How did they feel about beginning human history on earth?  Did they behave like today’s husbands and wives?

I also wonder why did Prophet Muhammad (pbuh) mention women ‘worth loving’, like perfume and prayer/namaz?  He smiled to his wives, discussed matters with them, helped them.  He stood up in respect for his daughter.  He listened to women’s complaints and favoured them against their husbands.  He even visited a sick Jewish woman to know how is she feeling.  He never raised his voice against any woman whether known or strange.

Quaid-e-Azam said that no nation can rise unless their women stand side by side to their men.

The world is not Adamic  anymore.  It has been divided into groups, tribes, nations, race, gender, faith, cultures,  relations and connections – it is not the matter of ‘right and wrong’ anymore – nothing right now seems to unite them, not even Islam as it is redefined by various religious groups.  Women everywhere are in search of their status in society.  Thinking of them as a competitor or a rival, they have lost their own identity.  The identity of being a human being and act like one and a slave of the God Almighty and behave like one.

Why do women go to men to know about their status and rights in Islam, why don’t they find out themselves, why do men have to define things for them?