Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.


Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.


قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…

Is dowry a curse? کیا واقعی جہیز ایک لعنت ہے؟

In Pakistan, dowry is the real attraction of wedding affairs and the bride and groom sides get excited when preparing it for each other.  Some people call it a curse as they can’t afford it and their daughters do not receive any proposals.  They demand the government to make laws against dowry.

Jahez is the form of dowry which is given to the bride by her parents, family and relatives, which consists of dresses, real gold jewelry, bedroom set, utensils and crockery, refrigerator, washing machine and other household stuff.  Sometimes, the groom and his family even demand car or motorbike.

Bari is the type of dowry which is prepared by the groom’s side for bride and it consists of few dresses, bangles and shoes.

Pehnaoniyan is a sort of dowry, mostly dresses, which is gifted to groom’s entire family by bride’s side.

Mehr is the cash amount fixed by both sides and groom is liable to pay it to the bride either at wedding night or any time after that.

Jahez, Bari, Pehnaoniyan and Mehr – all these materialistic exchanges are meant to build trust and strong ties between the two families.  They do if not dealt as a business matter and as a demand from each other.

Anything that was done by Prophet Muhammad (pbuh) cannot be a curse.  He (pbuh) prepared dowry for his daughter Fatimah Zahrah (r.a.) at the time of her wedding with Ali ibn Abi-Talib (r.a.).  It was a very simple dowry, basic household stuff that he (pbuh) and Hazrat Ali could afford.

Jahez is something that parents give their daughters for their love.  Bari shows in-laws’ love to the bride.  Pehnaoniyan is simply a family to family gift.  Mehr is the personal matter between bride and groom.  What can government or police do about it?

The idea of FAD “Fight Against Dowry” is a non-sense.  What right does any NGO or social worker has to go in fight with something that is purely a family matter and even in religion there are no laws about it.  However, people should be advised not to pressurize or threat the other side to buy anything that is out of their reach.


جہیز ایک لعنت ہے… جہیز کے خلاف قانون بننا چاہیے… جہیز پر پابندی لگانی چاہیے… جہیز مانگنے والے لالچی اور گھٹیا لوگ ہوتے ہیں… “فائٹ اگینسٹ ڈاؤری یعنی جہیز کے خلاف جنگ”…
جہیز کے بارے میں یہ وہ باتیں ہیں جو سالوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں… مہر کی رقم اور پہناؤنیاں بھی ایک مسلہ ہوتی ہیں… البتہ بری کے بارے میں آج تک کوئی خاص باتیں نہیں کہی سنی گئیں… یہ رسمیں کہاں سے اور کیسے شروع ہوئیں، انکا معاشرے پر ، لوگوں کی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے، انکا اسلام سے کوئی تعلق ہے بھی کہ نہیں… یہ کوئی نہیں سوچتا…
جہیز ایک لعنت ہے… کیا وہ عمل جسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم انجام دے چکے ہوں ایک لعنت ہو سکتا ہے؟ اور انہوں نے خود اس کے لئے کوئی اصول یا قانون کیوں نہیں بنایا؟  یا یہ کیوں نہیں کہا کہ جیسا فاطمه کا جہیز ہے ساری مسلمان لڑکیوں کا اسی طرح کا جہیز بننا چاہیے؟… 
جہیز کے خلاف قانون بننا چاہیے… کیا قانون بننا چاہیے کہ جہیز بالکل نہ دیا جاۓ… یا صرف بیڈروم سیٹ اور کپڑے دے جائیں، گاڑی، سکوٹر، فرج، ٹی وی، صوفہ، ڈائنگ ٹیبل، واشنگ مشین، برتن، استری وغیرہ نہیں… یا پھر صرف کپڑے اور زیور اور کچھ نہیں… اور شادی سے پہلے پولیس والے جہیز کا سامان چیک کریں گے؟ 
جہیز پر پابندی لگانی چاہیے… کیا پابندی لگے اور کون لگاۓ… کہ جہیز خالص لڑکی والوں کی مرضی سے لیا دیا جاۓ گا… اور لڑکے کے گھر والے یا خود لڑکا کسی چیز کی فرمائش نہیں کرے گا؟ 
جہیز مانگنے والے لالچی اور گھٹیا لوگ ہوتے ہیں… لڑکے والے کیا سوچ کر لڑکی والوں سے فرمائشیں کرتے ہیں اور لڑکی والے کیسے کہ اپنی بیٹی سے نجات حاصل کرنے کے لئے لڑکے والوں کی ہر نا جائز بات مان لیتے ہیں… جب خود سب مان لیتے ہیں تو پھر قانون اور حکومت سے کیا توقع کرتے ہیں… وہ کیا کریں؟… لڑکے کے گھر والوں کی پٹائی کریں، جہیز کا سامان واپس کروائیں… قانون بنائیں، پابندی لگائیں… 
“فائٹ اگینسٹ ڈاؤری یعنی جہیز کے خلاف جنگ”… کس سے؟ لڑکی والوں سے یا لڑکے والوں سے…
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ اتنے جنگ و جدل، بحث مباحثے، کاروباری لین دین، طنزوطعنہ، چہروں کے بھیانک تاثرات کے بعد شادی شادی کہاں رہ جاتی ہے… اور کون پاگل ہوگا جو یہ سوچے کہ اس طرح لڑکی اور لڑکا خوش رہ سکتے ہیں…
عجیب بات یہ ہے کہ جب کسی کے گھر میں شادی کا موقع آتا ہے تو وہ یہ ساری باتیں بھول جاتے ہیں… شادی چاہے لڑکی کی ہو یا لڑکے کی… خوشی سے زیادہ ایک بوجھ ہی بنی ہوئی ہوتی ہے… لڑکی والے جہیز اور لڑکے والے بری اور دونوں گھرانے مہر کے معاملات میں الجھے ہوتے ہیں… لڑکی کے شادی اور ولیمہ کے جوڑے  لڑکے والے اور لڑکے کے شادی اور ولیمہ کے کپڑے لڑکی والے دیتے ہیں… لڑکی والے پہناؤنیاں دیتے ہیں لڑکے کے تمام گھر والوں کے لئے… کتنے جوڑے دیے، مہنگے دیے، سستے دیے… کتنے سیٹ دیے، سونے کے ہیں، چاندی کے ہیں… لڑکی والے زیادہ مہر رکھوانا چاہتے ہیں کہ لڑکے پر دباؤ رہے جبکہ لڑکے والے کم مہر رکھوانا چاہتے ہیں تاکہ لڑکی ڈر کر رہے… 
میں نے آج تک شادی کے موقعوں پر لڑکی اور لڑکے کے گھر والوں کو سکون اور اطمینان سے انتظامات کرتے نہیں دیکھا… ہاں پریشان ہوتے ضرور دیکھا ہے، خاندان والوں کے سوالات سے ڈرتے ضرور دیکھا ہے، سسرال میں لڑکی کے خوش رہنے کے نام پر پیسہ لٹاتے ضرور دیکھا ہے… لڑکے والوں کو رعب میں رکھنے کے لئے انکے گھر کو بھرتے ضرور دیکھا ہے… بہت سے لوگ ایسے ہیں جو دوسروں کی شادیوں پر تنقید تو کر دیتے ہیں لیکن جب انکے اپنے گھر میں شادیاں ہوتی ہیں تو وہی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں… بہت سے خاندان تو جہیز اور بری کو کوئی مسلہ نہیں سمجھتے… انکے خیال میں یہ زندگی اور ہماری روایات کا حصّہ ہیں لہٰذا ان کو تو نبھانا ہی ہے…
اور جس دنیا سے ڈر کر یہ کام کے جا رہے ہوتے ہیں وہ امریکہ، اسرائیل، بھارت اور برطانیہ نہیں… لڑکی اور لڑکے کے اپنے خاندان والے، رشتہ دار اور محلے والے ہوتے ہیں… میں تو کہتی ہوں لعنت جہیز پر نہیں ایسے خاندان والوں، رشتہ داروں اور محلے والوں پر بھیجنی چاہیے جو ایک دشت گرد کی صورت میں ایک دوسرے کے اعصاب پر سوار رہیں… زندگی کے لئے عذاب بن جائیں اور خوشیوں کے موقعوں پر غم، دکھ اور پریشانی کا سامان بنیں… اس قسم کی گند کو یا تو صفائی کریں یا پھر اسے دور پھینکیں کوڑے کے ڈھیر پر… اور اپنی بیٹی اور بیٹے کے مستقبل کے بارے میں سوچیں کہ کس طرح یہ خوش رہ سکتے ہیں… 
گنتی کے چند خاندان اور لوگ ہونگے جو شادی کو ایک فرض سمجھ کر انجام دیتے ہیں اور اسے بوجھ اور غم کا سامان نہیں بننے دیتے…

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مثال:
جہیز کو جسٹفائی کرنے کے لئے ہمیشہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مثال دی جاتی ہے کہ انہوں نے بھی تو حضرت فاطمه الزہرہ کو جہیز دیا تھا… عجیب بات ہے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم، حضرت فاطمه الزہرہ اور حضرت علی کی زندگیوں پر، سنتوں پر عمل کرنے کا معاملہ ہو تو ہم کہتے ہیں کہ وہ چنے ہوۓ لوگ تھے، ہم عام لوگ ان جیسے نہیں بن سکتے… وہ زمانہ اور تھا، یہ زمانہ اور ہے… لیکن اپنی رسموں اور روایات  کا دفاع کرنا ہو تو بڑی خوبصورتی سے انکی زندگی کے کسی حصّے کو اپنی زندگی میں فٹ کر لیتے ہیں…
ذرا رسول الله صلی الله علیہ وسلم، حضرت فاطمه الزہرہ اور حضرت علی کی زندگیوں پر نظر تو ڈالیں کہ وہ تھے کس قسم کے لوگ… انکی زندگیوں میں انسانوں، خاندان، رشتہ داروں اور دنیا سے ڈر کر کام کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا… انکا ایمان ہر قسم کے خوف سے پاک تھا… انہوں نے اسلام کو اپنی زندگیوں میں فٹ نہیں کیا ہوا تھا بلکہ اسلام کے دیے ہوۓ اصولوں پر نہ صرف اپنے آپ کو فٹ کیا کرتے تھے بلکہ اپنے ماننے والوں کے لئے زندگی کی خوشیوں، سکوں اور کامیابی کے اصول بھی وضع کرتے تھے… انکی زندگی کا مقصد کپڑے، جوتے، کھانے اور معاشرے کی مرضی سے جینا نہیں تھا…
حضرت علی تو خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے گھر پر پلے بڑھے تھے… انکے پاس کوئی جائیداد نہیں تھی… وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا ہی عکس تھے…
حضرت فاطمه الزہرہ کی شادی کے موقع پر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کو زرہ بیچنے کی ہدایت کی… مطلب کہ لڑکے کو خود اپنی شادی کا انتظام کرنے کو کہا نہ کہ قرض ادھار لے کر ہلا گلا کرنے کو…
مختلف روایات کے مطابق حضرت علی کو چار سو، چارسو اسی یا پچ سو درہم ملے جو انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حوالے کر دیے اور جس سے شادی کا انتظام کیا گیا… جو چیزیں جہیز کے نام پر دی گئیں تھیں وہ یہ تھیں… ایک قمیص، ایک دوپٹہ، ایک کمبل، کجھور کے پتوں سے بنا ہوا ایک بستر، دو ٹاٹ کے فرش، چار تکیے، ہاتھ کی چکی، ایک تانبے کا برتن، چمڑے کی مشک، پانی پینے کے لئے لکڑی کا برتن، ایک کھجور کے بنے ہوے پتوں کا برتن، دو مٹی کے آبخورے، مٹی کی صراحی، زمین پر بچنے کے لئے ایک چمڑا، ایک سفید چادر اور ایک لوٹا…
جو لوگ کہ ہیں کہ وہ جہیز اس زمانے کے لحاظ سے تھا اور آج کے دور میں آج کے لحاظ سے…. تو ایسے لوگوں کو شاید معلوم نہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جہیز کا سامان دیکھا تو انکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے… جس کو سارے خزانوں کا مالک بنایا گیا ہو اسکی بیٹی کا یہ جہیز… 
کچھ روایات کے مطابق جہیز حضرت علی کی زرہ کی رقم سے ہی خریدا گیا تھا اور حضرت فاطمه الزہرہ کا حق مہر پانی تھا… کہیں ذکر ہے کہ انکا حق مہر چار سو درہم تھا اور باقی رقم سے جہیز خریدا گیا تھا…
بہرحال… رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بیٹی کی محبت میں اس کی شادی کی خوشی میں یا ضروریات زندگی سمجھ کر حضرت فاطمه کو جہیز دیا… یا پھر حضرت علی کے ہی پیسوں سے یہ سب انتظام کیا گیا… وہ ایک مثال ضرور ہے مسلمانوں کے لئے… لازمی نہیں کیونکہ خود الله سبحانہ و تعالی نے قرآن میں اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شریعت میں اس بارے میں کوئی قوانین نہیں بناۓ…
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بیٹی کی شادی کے موقع پر محبت کے اظہار کے لئے کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے؟  کیا بیٹی کی ضروریات زندگی کی فہرست کے لئے کوئی قانون بنایا جا سکتا ہے؟  کیا شادی کے موقع پر بیٹی کو کچھ دینا لعنت کہلایا جا سکتا ہے؟  کیا بیٹی کو شادی کی خوشی میں کچھ دینے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے؟  جو والدین اپنی بیٹی کو اپنی مرضی سے، اسکی محبت میں، زمانے کے خوف سے، رشتہ داروں کے در سے، سسرال میں با عزت رہنے یا کسی بھی وجہ سے جہیز دیتے ہوں تو کیا لڑکے والوں کو گھٹیا اور لالچی کہا جا سکتا ہے؟ کیا بیٹی کو دے جانے والی چیزوں کے خلاف جنگ کی جا سکتی ہے؟ 
جہیز، بری، مہر… خالص گھریلو معاملات ہیں اورانکا براہ راست تعلق دلہا اور دلہن سے ہوتا ہے… اور دلہا اور دلہن کو ہی اس کا فیصلہ کرنے دینا چاہیے… اس میں حکومت اور پولیس کچھ نہیں کر سکتے… خاندان اور رشتہ داروں کا بھی ان سے کوئی تعلق نہیں… ان تینوں کو فرض کی طرح نبھانا یا مسلہ بنانا لڑکی اور لڑکے والوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے…  
مسلہ یہ اسی صورت میں بن سکتے ہیں جب لڑکی والوں کے دل میں دکھاوا، حسد اور مقابلے بازی ہو اور لڑکے والوں کے دل میں لالچ… بھلا لالچ، دکھاوے، حسد، مقابلے بازی…. انکے لئے کیا قانون بنایا جا سکتا ہے…
شادی کو خوشی کا موقع بنانے کے لئے ضروری ہے کہ لڑکی اور لڑکے کے گھروالے اسے کاروباری شکل نہ دیں… انسان اور اس کے احساسات کپڑوں، جوتوں، زیور اور دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں…

Beautiful Supplications











Fathers in history


 ایک ایسا وقت بھی گذرا تھا, اس بستی کے ہر کوچے پر

 جب کوئی بھی تصویرنہ تھی, اس کرہ ارض کے پردے پر

جب دنیا خالی خالی تھی, سناٹا تھا, ویرانی تھی

بابا آدم, ماں حوا کو, یہاں خلقت ایک بسانی تھی

یہ جوڑا تھا انسانوں کا, اعلی ادنی مطلوب نہیں 

رشتے میں بندھ کر آئے تھے, صرف عورت مرد کا روپ نہیں

تابعداری, نا فرمانی۔۔۔ ہر حال کے تھے سنگھی ساتھی 

دن عیش کے ساتھہ ہی دیکھے تھے, پھر سزا بھی ساتھہ میں ہی کاٹی

دو انساں کیسے جیتے ہیں, روتے روتے ہنستے ہنستے

حوا شوہر پر جاں دیتیں, وہ بیوی کے دیوانے تھے

وہ داعی چین سکون کے تھے, وہ مساوات کے حامی تھے

وہ جب بچے پیدا کرتے, اک لڑکا اک لڑکی ہوتے

آغاز تھا یہ انسانوں کا, جنھیں کائنات سب تکتی تھی

شوہر بیوی, اماں ابا, بھائی بہنا, بیٹا بیٹی


پھر ایسا وقت بھی آیا کہ جب عورت بے توقیر ہوئی 

سارہ اور ہاجرہ بھول گئیں, مریم کی بھی تحقیر ہوئی

پھر لے کر پیار محبت کا, پیغام رسول الله آئے

جو مردوں کے تو باپ نہیں, بیٹی کے والد کہلائے

اپنی بیٹی کی عزت کو, خود آپ کھڑے ہوجاتے تھے

اوروں کی بیٹیوں کے دکھہ پر, کڑھتے اور اشک بہاتے تھے

وہ جنکا فرض عیادت تھا, ایک غیر, یہودی عورت کی

سامان اٹھاتے تھے اسکا جو ان سے نفرت کرتی تھی  

سمجھاتے تھے یہ امت کو, بیٹی رحمت, بیٹی عصمت

کیوں بیٹی زندہ دفن کرو, بیٹی پالو, پالو جنت

فرماتے تھے کہ قابل حب,  مجھے مشک, نماز اور عورت ہیں 

عورت کو جو کمتر جانیں, کیا پھر بھی شامل امت ہیں


وہ وقت بھی آخر کار آیا, انسانیت پامال ہوئی

مردوں پہ غلامی چھائی, عورت ذلت سے بے حال ہوئی

تو قائداعظم  نے آکر, کچھہ یوں سب پر احسان کیا

بن کر بابائے قوم, مسلمانوں کو پاکستان دیا 

دنیا کو جناح نے سکھلایا, بہنیں تقدیر بدلتی ہیں

اور بھائی کا بازو بن کر, ہر مشن پہ ساتھہ نکلتی ہیں

مائیں بہنیں بیوی بیٹی, گونگی بہری تصویر نہیں

یہ قدم ملا کر ساتھہ چلیں, یہ پیروں کی زنجیر نہیں

فرمایا قائداعظم نے, کوئی قوم ترقی کر نہ سکے

جب تک عورت کو ساتھہ نہ لے, جب تک عورت کا ساتھہ نہ دے

How many fathers do I have in history?

Prophet Adam (peace be upon him), the father of entire human species;

Prophet Muhammad (pbuh) – the father of daughters, not sons (as it is said in Qur’an) – who told me about my rights;

Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, the ‘Father of Nation’;

and my biological father, who was the cause of my birth and raised me up;

and then my spiritual fathers, who became the source of guidance.

The first three names are alive but the world has lost them as a character.  They did not appear as a dominating gender but as a partner to their females.  They co-operated, changed the history and influenced the mankind.

I wonder what language did father Adam and mother Hawwa/Eve (peace be upon both of them) speak in Paradise?  How were they sent to earth?  How they felt for being the first human-couple on earth?  How did they feel about beginning human history on earth?  Did they behave like today’s husbands and wives?

I also wonder why did Prophet Muhammad (pbuh) mention women ‘worth loving’, like perfume and prayer/namaz?  He smiled to his wives, discussed matters with them, helped them.  He stood up in respect for his daughter.  He listened to women’s complaints and favoured them against their husbands.  He even visited a sick Jewish woman to know how is she feeling.  He never raised his voice against any woman whether known or strange.

Quaid-e-Azam said that no nation can rise unless their women stand side by side to their men.

The world is not Adamic  anymore.  It has been divided into groups, tribes, nations, race, gender, faith, cultures,  relations and connections – it is not the matter of ‘right and wrong’ anymore – nothing right now seems to unite them, not even Islam as it is redefined by various religious groups.  Women everywhere are in search of their status in society.  Thinking of them as a competitor or a rival, they have lost their own identity.  The identity of being a human being and act like one and a slave of the God Almighty and behave like one.

Why do women go to men to know about their status and rights in Islam, why don’t they find out themselves, why do men have to define things for them?

Qaseedah Muhammadiyyah

القصيدة المحمدية

A unique poetry, in which every verse begins with the name of Muhammad (pbuh)

مُحَمَّدٌ اَشرَفُ الاَعرابِ وَالعَجَمِ…مُحَمَّدٌ خَيْرُمَنْ يَّمْشِى عَلى قَدَمِ

مُحَمَّدٌ باسِطُ الَمعْروفِ جامِعُهُ…مُحَمَّدٌ صاحِبُ الاِحْسانِ وَالكَرَمِ

Muhammad is the noblest of Arabs and non-Arabs

Muhammad is the best of those who walk upon legs

Muhammad is a spreader of good and its gatherer

Muhammad is a possessor of beneficence and generosity

مُحَمَّدٌ تاجُ رُسْلُ اللهِ قاطِبَةً… مُحَمَّدٌ صادِقُ الاَقْوالِ وَالكَلِمِ

مُحَمَّدٌ ثابِتُ الميثاقِ حافِظُهُ…مُحَمَّدٌ طَيِّبُ الاَخلاقِ والشِّيَمِ

 Muhammad is exclusively the crown of all Allah’s messengers

Muhammad is true in speech and sayings

Muhammad is an upholder and protector of covenants

Muhammad is of pleasant character and disposition

مُحَمَّدٌ رُوِيَت بِالنُّورِ طِينَتُهُ… مُحَمَّدٌ لَمْ يَزَلْ نُورًا مِّنَ القِدَمِ

مُحَمَّدٌ حاكِمٌ بِالعَدْلِ ذُو شَرَفٍ…مُحَمَّدٌ مَعْدِنُ الاِنْعامِ وَالحِكَمِ

Muhammad’s natural substance was quenched with divine nur

Muhammad’s light has not disappeared since the beginning of time

Muhammad is an upright judge, possessing honour

Muhammad is the source of benefaction and wisdom

مُحَمَّدٌ خَيْرُ خَلْقِ اللهِ مِنْ مُّضَرٍ… مُحَمَّدٌ خَيْرُ رُسْلِ اللهِ كُلِّهِمِ

مُحَمَّدٌ دِينُهُ حَقٌّ نَدِينُ بِهِ… مُحَمَّدٌ مُجْمِلًا حَقًّا عَلى عَلَمِ

 Muhammad is the best of Allah’s creation, from Mudar

 Muhammad is the best of all of Allah’s messengers

Muhammad’s creed is a truth that we profess and adhere to

Muhammad is moderate and decent, befitting of a noble

مُحَمَّدٌ ذِكْرُهُ رُوْحٌ لِاَنْفُسِنا… مُحَمَّدٌ شُكْرُهُ فَرْضٌ عَلَى الْاُمَمِ

مُحَمَّدٌ زِينَةُ الدُّنْيا وَ بَهْجَتُها… مُحَمَّدٌ كاشِفُ الغَمَّاتِ وَالظُّلَمِ

Muhammad’s remembrance is a respite for our souls

Muhammad’s praise is obligatory upon all the nations

Muhammad is the beauty and adornment of this world

Muhammad is a remover of afflictions and darkness

مُحَمَّدٌ سَيِّدٌ طَابَتْ مَنَاقِبُهُ… مُحَمَّدٌ صَاغَهُ الرَّحْمَنُ بِالنِّعَمِ

مُحَمَّدٌ صَفْوَةُ البَارِي وَخِيرَتُهُ… مُحَمَّدٌ طاهِرٌ مِّنْ سائِرِالتُّهَمِ

Muhammad is a master and his virtues are pleasant

Muhammad is the one who the Most Merciful created full of benefit

Muhammad is the Creator’s best and elite

Muhammad is unblemished from all evil suspicions

مُحَمَّدٌ ضاحِكٌ لِلضَّيْفِ مُكْرِمُهُ… مُحَمَّدٌ جارُهُ وَاللهِ لَمْ يُضَمِ

مُحَمَّدٌ طابَتِ الدُّنْيا بِبِعْثَتِهِ… مُحَمَّدٌ جاءَ بِالاَيَاتِ وَالحِكَمِ

Muhammad is cheerful and hospitable to his guest

Muhammad never brought evil to his neigbour, by Allah I swear

Muhammad’s emergence caused the world to become delightful

Muhammad came with Qur’anic verses and multiple wisdoms

مُحَمَّدٌ يَوْمَ بَعْثِ النَّاسِ شافِعُنا… مُحَمَّدٌ نُورُهُ الْهَادِي مِنَ الظُّلَمِ

مُحَمَّدٌ قائِمٌ للهِ ذُوهِمَمٍ …مُحَمَّدٌ خاتَمٌ لِلرُّسْلِ كُلِّهِمِ

Muhammad is our intercessor on the Day when mankind is resurrected

Muhammad’s light is a guide out of darkness

Muhammad is dedicated to Allah, endowed with ambitions

Muhammad is the seal of all of the messengers


Milad Celebrations

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا, لوح وقلم تیرے ہیں

So, if I would be given the pen and the tablet, I would write HONOUR and MERCY for all those who stand for justice and help those who are being oppressed.  May Allah (SWT) help Kashmiris and Palestinians get freedom from their oppressors.  Ameen!

Pakistanis having 12th of Rabi-ul-Awwal and Kashmir Day on the same day, are celebrating the birth of Prophet Muhammad (pbuh) which he never celebrated himself, neither his family and companions ever partied the day like we do.

Can these celebrations resolve the Kashmir dispute?  Can these celebrations reduce the prices of electricity, gas and sugar?  Can these celebrations be the source of income for anyone else beside professional na’at reciters, milad organizers and confectioners?  Do these celebrations promise a respectful life and a better future for women and children on streets?  Can these celebrations be a threat to corruption and crimes in Pakistan?  Hundreds of children and women have been abducted from Data Darbar and other saint’s tombs – even Data and other saints had failed in protecting them from kidnappers and saving their dignity.  Drugs are sold at these places – again the saints in their graves have failed in controlling drug and curing drug addicts.  Then what is the point of celebrating milad at Data Darbar – ARY people should think about it.  Do the organizers, scholars and attendees there know about these problems?

What is the difference between Christian’s confession before father or priest and Milad celebrations while both cost money for wiping sins – more sins, more confessions and more income – good business?

Don’t Pakistani Muslims realize that the world does not trust us?  The world see us as sinners – liar, cheater, dishonest, traitor, irresponsible, careless, illiterate, unjust, torturers, rapist, disrespectful, comedians – and we haven’t proved that we are not.

کیا کہیں کوئی روایت ملتی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کبھی ساری رات بیٹھہ کر صحابیوں سے اپنے لئے قصیدے سنتے دیکھا گیا ہو۔۔۔ یا خود رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے گھنٹوں بیٹھہ کر صحابیوں کو پہلے نبیوں کے قصے سنائے ہوں۔۔۔ 

کیا بارہ ربیع الاول رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں آئی۔۔۔ کیا اہل بیت اور اصحابہ کرام کو بارہ ربیع الاول کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ یا جنوبی ایشیا کے مسلمان علم, عقل اور ایمان میں اہل بیت اور اصحابہ کرام سے زیادہ ہیں۔۔۔ 

بجلی کے بحران سے تباہ شدہ ملک میں بارہ دن سے بجلی کے بلبوں سے چراغاں ہورہاہے۔۔۔ کتنے ہزار یونٹس بجلی خرچ ہو چکی ہے۔۔۔ تعلیمی اداروں کی بجلی کٹ رہی ہے, فیکٹریاں بند پڑی ہیں, بجلی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔۔۔ کیامسلمانوں کا معاشرہ اتنا لاتعلق ہوتا ہے اپنی معیشت سے, اپنے مسائل سے۔۔۔

ملک میں پچھلے کئی سال سے چینی کابحران ہے۔۔۔ چینی کی قیمتیں دگنی ہوگئیں۔۔۔ کچھہ اندازہ ہے گنے کی فصلوں کا کیا حال ہے, کتنے سو ٹن چینی کی مٹھائی بٹ چکی ہے میلادوں میں۔۔۔ کیا اتنا میٹھا کھانا ضروری ہے ربیع الاول میں۔۔۔ 

بارہ ربیع الاول کا احترام اپنی جگہ۔۔۔ اسکے آخرت میں ثواب کا معاملہ اپنی جگہ۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت میلاد  اور نعتوں سے مشروط نہیں۔۔۔  رائیونڈ کے اجتماع, درس قرآن, قرآن خوانیاں, میلاد۔۔۔ اتنے سالوں میں اس خطے کے چالیس پچاس کروڑ مسلمانوں نے دنیا کو کیا دیا۔۔۔ خود کو کیا دیا۔۔۔ 

کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی زندگی کا مقصد مسکینیت, ماتم, سوگ, من چاہی رسومات, مولوی کی اطاعت, دنیا سے بے خبری, غیر ذمہ داری, گندگی, بدنظامی, بھیک مانگنا تھا۔۔۔ اگر ایسا تھا تو اس کے لئے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو کچھہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی الله سبحانہ وتعالی کو کوئی نظام دینے کی۔۔۔ کیونکہ مسکینیت, ماتم, سوگ, من چاہی رسومات, مولوی کی اطاعت, دنیا سے بے خبری, غیر ذمہ داری, گندگی, بھیک, بدنظامی تو عربوں میں پہلے سے موجود تھیں۔۔۔ 

شاید بہت ساری غفلتوں کا احساس دلانے کے لئے اس سال بارہ ربیع الاول اور یوم کشمیر ایک ہی دن پڑے ہیں۔۔۔

ایک میرا ہی رحمت پہ دعوی نہیں

شاہ کی ساری امت پہ لاکھوں سلام

  Just imagine, if Prophet Muhammad (pbuh) really gets a chance of visiting Pakistan tonight, would he join the na’at and milad mehfils and enjoy his praises or would he cry for men, women and children spending the night on streets, some hungry, others may be sick,  no sanctuary in mosques for women while they are being raped on the streets – and who would he call true ashiqan-e-rasool, those who are guarding the borders of Islamic Republic of Pakistan or those who are busy hitting jack-pot on the night of Milad-un-Nabi?


Social/Economic Development – 8th Grade Syllabus

Part of the syllabus:


Social Development can be defined as the process in which a country organizes its wealth and resources and utilizes them to improve the quality of life.  It argues that social interaction is necessary for progress and relief as it helps in understanding problems and suggests possible solutions.

Economic Development is a process in which a country’s resources and imports are used to increase wealth and generate more revenue.  It is meant to ensure better working opportunities, skilled labour, professional environment and an overall prosperous economic condition.

What is the common factor in all kinds of development?  Why is it important to make right decisions about development?

‘Change’ is the common factor in all kinds of development.  Any development is useless if it does not bring any change or if change is not accepted.  Development brings changes that are irreversible.  Any man-made features once planned and fixed cannot be reversed.  That is why it is important to study all necessary geographical and social aspects carefully and make right decisions about development.

Why are ‘people’ considered the key resource for economic and social development?

People are the key resource for economic and social development.  People are the manufacturer, labourer, inventor, producer, investor, organizer, operator, transporter and user.  All natural features on land and natural resources are used up by people satisfy their needs and desires.

People’s needs vary because of various resources, geographical features and different climate.  That is, people in countries with hot climate wear, eat and drink differently than those who live in countries with cold climates.  Populations of agricultural countries have different working hours as compared to the industrial countries.  The dwellers of coastal and mountainous areas face different weather challenges.

Countries of the world depend upon each other to grow their wealth for strong economy.  The economists and traders plan for good financial opportunities, seek international markets and consider domestic and foreign economic policies.  Agricultural countries look out for new ways and skilled labour for high yield of crops.  Cattle and livestock need people who can use them and take care of them properly.  Goods are traded and transported domestically and internationally by land vehicles or via air or ships.

All these tasks are planned and accomplished by people.  People work for people, thus life goes on.

Countries vary in size geographically as well as by the number of population.   Countries with low human resource need more people to work for them.  Individuals of high populated regions emigrate to those countries in search of employment.

The emigrants need to know the laws of the land they travel to and must learn how to evolve in a strange society without creating issues.




Content that is not the part of syllabus…

What are the objectives of social/economic development?

The objectives of social development/community development are; developing progressive approach, discussing grave issues in order to reduce their negative impact, establishing good social relations, promoting good values, addressing health issues, counseling youth and elders in stress and depression, enhancing learning process and developing skills, gathering new ideas and organizing resources to work on them.

The objectives of economic development are to improve working conditions, to create jobs, to build a fair tax system, to improve quality of life through economic means.

The importance of social development/social interaction in Islam:

Islamic ethics are the soul of Islamic society.  Social interaction in Islam is all about good manners, with the purpose to promote peace, respect, trust and unity.  Prophet Muhammad (pbuh) said, “I have been sent to perfect good manners.”

“And when you are greeted with a greeting, greet in return with what is better than it, or return it equally.” (Surah An-Nisa, 86) [The recommended greeting is to say “Assalam-u-Alaikum meaning ‘peace be upon you’]

“O you who believe! enter not houses other than your own, until you have asked permission and greeted those in them, that is better for you, in order that you remember.” (Surah An-Nur, 27)

“….But when you enter houses, greet one another with a greeting from Allah, blessed and good….” (Surah An-Nur, 61)

According to a hadith narrated by the Prophet (pbuh) are six; return greetings, accept invitation, good advice, visiting the sick, supplicate for the one who sneezes and attend the funeral procession. [The return of greeting is ‘wa alaikum as-salam meaning ‘may peace be upon you too/ the one who sneezes should say ‘Al-hamdulillah meaning ‘praise be to Allah’ and others around should utter ‘yarhamukallah’ meaning ‘may Allah have mercy on you’ which should be returned by saying ‘yahdeekumullahu khairun’ meaning ‘may Allah guide you to the goodness’.]

Abu Hauraira reported from the Prophet (pbuh), “every small bone of everyone has upon it a charitable act fro everyday upon which the sun rises.  Bringing about justice between two is an act of charity.  Helping a man get on his mount, lifting him onto it or helping him put his belongings onto it, is a charitable act.  A good word is a charitable act.  Every step you take toward the prayer is a charitable act.  And removing a harmful thing from the path is a charitable act.”

Prophet Muhammad (pbuh) said, “do not be envious of one another, do not inflate prices by overbidding against one another, do not hate one another, do not turn away from one another, do not enter into commercial transaction when others have entered into that (transaction), but be you, O slaves of Allah, as brothers.  A Muslim is a brother of another Muslim, he neither oppresses him, nor does he lie to him, nor does he look down upon or humiliate him.  Piety is here (and he pointed to his chest three times).  It is evil enough for a Muslim to humiliate his brother.  All things of a Muslim are sacred for his brother-in-faith; his blood, his property, and his honour.”



It is the study of social life of humans and animals and the human behaviour.

main branches of social science:

Anthropology, Economics, Education, Geography, History, Law, Linguistics, Political Science, Public Administration, Psychology and Sociology are the main branches of social science.


Quotes on change and development:

“But the Monasticism (isolation) which they invented for themselves, We did not prescribe for them, but (they sought it) only to please Allah therewith, but that they did not observe it with the right observance”….  Al-Qur’an – Surah Hadeed/The Iron 27

“Verily! Allah does not change people’s condition (to a good one) unless they do not change their state themselves.” Al-Qur’an – Surah Ra’ad/The Thunder 11

“Facilitate things to people, do not make it hard for them; give them good tidings and do not make them run away.”…..Prophet Muhammad (pbuh) ‘s words reported by Anas bin Malik in Sahih Al-Bukhari

“Whoever would be glad to have his livelihood expanded and his life prolonged should maintain family ties.”  Prophet Muhammad (pbuh)

“Religion is sincerity.” Prophet Muhammad (pbuh)


“You have to stand guard over the development and maintenance of Islamic democracy, Islamic social justice and the equality of manhood in your own native soil.” Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, The Founder of Pakistan

“If we want to make this great State of Pakistan happy and prosperous, we should wholly and solely concentrate on the well-being of the people, and especially of the masses and the poor… you are free to go to your temples mosques or any other place of worship in this state of Pakistan.”  Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah
“The only effective power, therefore, that counteracts the forces of decay in a people is the rearing of self concentrated individuals.  Such individuals alone reveal the depth of life.  They disclose new standards in the light of which we begin to see that our environment is not wholly inviolable and requires revisions.”  Dr. Muhammad Iqbal in “Reconstruction of Religious Thoughts in Islam”

“If you wish to be heard in the noise of this world, let your soul be dominated by a single idea. It is the man with a single idea who creates political and social revolutions, establishes empires and gives law to the world.”  Allama Iqbal – Stray Reflections

“Some people are ok with doing nothing all day after they retire, but then some people if they had nothing to do would go mad and start banging their heads against a wall.”  Dr. Abdul Qadeer Khan

“Fulfill your mission and a great sublime future awaits your enthusiasm and action. Remember: ‘cowards die many times before death; the valiant never taste death but once.’ This is the only course of action which suits any self-respecting people and certainly the Muslim Nation.”  Madr-e-Millat Fatimah Jinnah

“Businesses owned by responsible and organized merchants shall eventually surpass those owned by wealthy rulers.”  Ibn Khuldun in Muqaddamah

“Man by nature is a social animal.” Aristotle

“Apply yourself both now and in the next life. Without effort, you cannot be prosperous. Though the land be good, You cannot have an abundant crop without cultivation.”  Plato

“Do not waste your time on Social Questions. What is the matter with the poor is Poverty; what is the matter with the rich is Uselessness.” George Bernard Shaw

“Nothing is more useless in developing a nation’s economy than a gun, and nothing blocks the road to social development more than the financial burden of war.” King Hussein I

“I’m encouraging young people to become social business entrepreneurs and contribute to the world, rather than just making money.  Making money is no fun.  Contributing to and changing the world is a lot more fun.”  Muhammad Yunus

 Social sciences and Islam:

Islam is not just a religion or a code of law.  It is a system which deals with the nature of man and it’s relation to the rest of Allah’s creations.  It rejects the concept of monasticism and suggests people to live in communities.  Islam does not require humans to act supernatural in normal condition and mesmerize the world by performing miracles.  It encourages people to be good and become a dominate force over evil.  It motivates people to surprise the world with courage, determination, patience and perseverance.

The life of Prophet Muhammad (pbuh) is the best example for us all.  He lived like an under-privileged man and his greatest miracle was that he still survived as the most distinguished person and the only man who ruled the lands and hearts as a prophet, a preacher, a leader, a law-maker, a politician, a ruler, a social worker, a reformer, a military commander and a conqueror.

He brought revolution in people’s personal and social life, built the economy, changed the way of politics, purified the faith from corrupted beliefs.  He changed the ways people think and behave.


His solutions were a great relief for everyone.

Few years before his proclamation of prophethood, at the age of 35, he was trusted to solve the dispute of fixing of Hajr-ul-Aswad by the leaders of Makkah.

After Muslim’s migration to Madinah, he tied the migrants (muhajreen) and residents of Madinah (ansar) into the bonds of brotherhood.

For the prisoners of Battle of Badr, those who had nothing to pay for ransom, he suggested that they can teach ten people in Madinah and be free.


Not only that but he introduced to the world the men of desert as the most incredible rulers, generals, law-makers, administrators, educationists, scientists, researchers, explorers, thinkers, philosophers, poets, writers, preachers, scholars, reformers, soldiers and conquerors of the world.  All of them led a social life in a unique way.

Muslim’s Participation in changing the World

Muslims were the master of all sciences.  They ruled the world with the power of their knowledge.

Muhammad ibn Musa Al-Khwarizmi is considered the ‘father of algebra’.

Abū ʿAlī al-Ḥusayn ibn ʿAbd Allāh ibn Sīnā (Avicenna) is regarded as the ‘father of early modern medicine and clinical pharmacology’.  He is also considered the ‘father of the fundamental concept of momentum in physics’ and a pioneer of aromatherapy.

Jabir ibn-Hayyan (Geber) honoured to be the ‘father of chemistry’.

Ahmad ibn Muhammad ibn Kathir Al-Farghani who worked on the measurement of the diameter of the Earth and had the ‘Alfraganus’ crater on moon named after him.

Muhammad ibn Zakariya Razi known as the ‘father of pediatrics’ and a pioneer of neurosurgery and ophthalmology.

Abu Rayhan Al-Beruni is called the ‘father of Indology’ and the ‘father of geodesy’ and was the ‘first anthropologist’.

Ibn Al-Haytham (Alhazen) is regarded as the ‘father of modern optics’ and the ‘founder of experimental psychology’.

Abu Sa’d Al-Ala’ ibn Sahl is credited with first discovering the law of refraction, usually called Snell’s law.

Ibn Zuhr (Avenzoar), the ‘father of experimental surgery’ and pioneer of experimental anatomy, experimental physiology, human dissection, autopsy and tracheotomy.

Abu al-Qasim al-Zahrawi (Abulcasis), the ‘father of modern surgery’.

The most prominent of all Abu Zayd Abdur-Rahman bin Muhammad bin Khaldun who impressed the world most with his work on historiography, sociology/social sciences, economics, Islamic theology, nutrition and astronomy.  He wrote his first book “Lubabul-Muhassal” which is a commentary on Islamic theology of Fakhrud-din Al-Razi, at the age of 19.  He is known as the ‘father of real sociology’.

Muhammad Yunus, the ‘father of micro-credit and micro-finance’.

Lotfi Ali-askerzadeh, the ‘father of Fuzzy Mathematics and Fuzzy set theory’.