Wine

“They ask you concerning wine and gambling. Say: “In them is great sin, and some profit, for men; but the sin is greater than the profit.”  Surah Al-Baqarah/The Cow 219

“You who believe intoxicants and gambling, (dedication of) stones, and (divination by) arrows, are an abomination, of Satan’s handiwork: eschew such (abomination), that you may prosper….. Satan’s plan is (but) to excite enmity and hatred between you, with intoxicants and gambling, and hinder you from the remembrance of Allah, and from salah (prayer): will you not then abstain?” Surah Al-Maidah /The Table Spread 90-91

.

Definition of any intoxication according to Qur’an:

1-  Drinking wine is a sin.  (The definition of sin is disobedience/deliberate violation/transgression/offense to Divine laws)

2- Drinking wine has some profits too but less in proportionate to sin.  

3- Drinking wine/intoxication is an abomination.  (The definition of abomination is detestation/abhorrence/disliked)

4- Wine is Satan’s handiwork.   

5- Wine/intoxication develops feelings of hatred among humans.

6- Wine/intoxication creates enmity among humans.

7-  Wine/intoxication stops from salah (five obligatory daily prayers)

8- Wine/intoxication hinders/obstructs from remembering Allah (SWT).

.

THOSE WHO CLAIM “DRINKING WINE” IS NOT PROVEN HARAM (PROHIBITED) FROM QUR’AN:

I am not quoting the ahadith (words of Prophet Muhammad (pbuh)) as many Muslims have issues on their authenticity.  I say sorry to my Prophet (pbuh) for that.  But no Muslim would have a doubt on the words of Qur’an.  The above verses have no words that are difficult to understand.  

Allah (SWT) is free of all needs, likes and dislikes.  Nothing can cause profit and loss to Him.  He Almighty doesn’t want us to drink wine or to be intoxicated.  If I am not a complete fool, I did not read the words like a straight order, “don’t drink wine or wine is prohibited on you”.  I only read the words as “drinking wine is a sin”.  Sin in simple words is “doing something that God doesn’t want us to do OR not doing something that God has told us to do.  

So, the condition to abstain from wine/intoxication is not based upon logically proved advantages or disadvantages of wine but the obedience or disobedience of God Almighty.  Even then, Allah (SWT) has mentioned few disadvantages, if people do care about them.

Drinking wine is a matter of faith.  Unfortunately in Pakistan, it is not considered a sin at government, elite or any level.  Drinking wine is crime, only if poor people are hospitalized and report it to police.  Not even those who don’t drink wine talks about it.  

.

الله اور اسکے رسول صلی الله علیہ وسلم کی قائم کو ہوئی حدود کو توڑنا گناہ کہلاتا ہے… انسانوں کے بناۓ ہوۓ قوانین کو توڑنا جرم کہلاتا ہے… اور جرم کی تعریف یہ رکھی ہے کہ وہ عمل جو دوسرے انسان کو نقصان پہنچاۓ یا اس کے ساتھ زبردستی اسکی مرضی کے خلاف کیا جاۓ… اور انسانوں کو نقصان پہنچنے اور زبردستی کرنے کے عمل کو ہی گناہ کا درجہ بھی دے دیا گیا ہے… اور یہ یقین بھی کر لیا گیا ہے کہ کل دین اور مقصد حیات یہی ہے…  
.
شراب، زنا با الرضا، جوا، عریانی و فحاشی، سود، سور، مردار…. ذاتی پسند اور نا پسند ہے اور بنیادی حقوق…. جس کو برا لگے اپنی آنکھیں بند کر لے… الله سبحانہ و تعالی کی ذات اس سارے قصّے میں کہاں ہے… الله سے انسانوں کا تعلق صرف اتنا رہ گیا ہے کہ خدا انسان کی بغاوتوں کے باوجود بس دیتا ہی رہے اور انسان اسکے احکامات کی دھجیاں اڑاتا رہے… یہ اسکا ذاتی معاملہ ہے…
.
“اور تم سے پوچھتے ہیں حکم شراب اور جوۓ کا… تو کہو، ان میں گناہ بڑا ہے، اور فائدے بھی ہیں لوگوں کو… اور انکا گناہ فائدے سے بڑا ہے”… سوره البقرہ ٢١٩ 
“اے ایمان والو! یہ جو ہے شراب اور جوا اور بت اور پانسے، گندے کام ہیں شیطان کے، سو ان سے بچتے رہو، شاید تمہارا بھلا ہو”… سوره المائدہ ٩٠ 
“شیطان یہی چاہتا ہے، کہ ڈالے تم میں دشمنی اور بغض، شراب سے اور جوۓ سے، اور روکے تم کو الله کی یاد سے اور نماز سے، اور پھر اب تم باز آؤگے”…. سوره المائدہ ٩١ 
.
کئی سالوں سے آۓ دن کچی شراب اور زہریلی شراب کے پکڑے جانے کی خبریں سن سن کر تںگ آ گئی ہوں… شراب پکڑ لیتے ہیں، پی پلا کرانکی خالی بوتلیں چھوڑ دیتے ہیں… شراب والے ان میں شراب بھرکر دوبارہ بیچنا شروع کر دیتے ہیں… غریب اسے پیتے ہیں، ہسپتال جاتے ہیں اور اکثرمرجاتے ہیں… پولیس میں رپورٹ کرائی جاتی ہے… پولیس والے پھر شراب پکڑ لیتے ہیں… اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے…. یہ کاروائی صرف غریبوں کے لئے ہوتی ہے جن کے دماغوں میں یہ بات بٹھا دی جاتی ہے کہ شراب غموں کو بھلا دیتی ہے… محبوب روٹھ گیا تو شراب پینا شروع کردو… بھئی ایک انسان گیا سو گیا، اس میں الله کے قوانین توڑنے کی کیا ضرورت ہے… حالات خراب ہیں شراب پینا شروع کردو… تو کیا اس سے حالات ٹھیک ہو جاتے ہیں…
.
ہاں امیروں کو کوئی اس لئے نہیں پکڑتا کیونکہ انہوں نے شراب کو حلال کر رکھا ہے… وہ شراب غموں کو بھلانے کے لئے نہیں بلکہ خوشیوں کا لطف بڑھانے کے لئے پیتے ہیں… بہت سوں کو یہ غیر مسلموں میں اپنا مقام اعلی بنانے کے لئے پینی پڑتی ہے… اور کچھ لوگوں کی فطرت ہوتی ہے کہ الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدود توڑیں… اور پھر امیرامراء جس طرح بھی مریں، شراب کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیتے، نہ اس کے خلاف پولیس میں رپورٹ کرتے ہیں… وہ شراب کی عزت کرتے ہیں اور پولیس انکی….
.
دیکھیں نہ سارے سیاستدان، حکمران، جرنیلز، اداکار، گلوکار، شاعر، فنکار، اعلی عہدیداران… کون ہے جو پاکستان میں شراب نہیں پیتا… انکی تو تصویریں بھی شراب پیتے ہوۓ اخباروں میں چھپ جائیں، ٹی وی پر آجائیں تب بھی انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شراب امیروں کی عیّاشی ہے مجبوری نہیں… مزے کی بات کہ جو لوگ شراب نہیں پیتے یا پینا چھوڑ چکے ہیں وہ بھی دوسروں کے پینے کو برا نہیں سمجھتے اور نہ اسکے خلاف آواز اٹھاتے ہیں… 
.
اگر کوئی ایک ایسا نکتہ ہے جہاں امیراورغریب ایک ہی جیسا رویہ اختیار کریں تو وہ ہے شراب… قرآن سے ثابت ہونے یا نہ ہونے کو تو الگ کر دیں… اگر انسان کی تہذیب اور نفاست کے تقاضوں کو ہی سامنے رکھ لیں تو کون نفیس انسان ایسا ہو گا جو گلی سڑی بدبودار چیز کو ہاتھ لگانا بھی پسند کرے گا… اور وہ بھی لطف لینے کے لئے… شراب پینا توخود ایک ذہنی اورنفسیاتی بیماری کی علامت ہی نہیں بلکہ اس آدمی یا عورت کے قوت ارادی کمزور ہونے کی نشانی بھی ہے…. کیونکہ گندگی اور غلاظت کو کھانے پینے والا کوئی نارمل آدمی یا عورت تو نہیں ہو سکتے… اس قسم کے کمزور ارادہ اور ذہنی بیمار لوگوں کو کسی بھی قسم کا عہدہ یا ذمہ داری کیسے دی جا سکتی ہے… یا ایسے لوگوں کی باتوں کا بھی کیا اعتبار کس نشے میں کی گئی ہوں… نشہ آور لوگ خود کو گناہ گار نہ سمجھیں تو ٹھیک لیکن آئین کے لحاظ سے قانون کے مجرم ہیں، چاہے وہ کوئی بھی نشہ ہو…
.
لیکن کس کس کو پکڑیں… زرداری، پرویز مشرف، شاہ محمود قریشی، بلاول زرداری، عتیقہ اوڈھو، وڈیرے، چودھری، سردار، جرنیلز، پرانے نۓ اداکار گلوکار شاعر وغیرہ وغیرہ… 
ایسے لوگوں کو انسانوں کے بنیادی حقوق تو دے جا سکتے ہیں، بنیادی احترام بھی کیا جا سکتا ہے، انکے ساتھ ملازمت اور کاروبار بھی کیا جا سکتا ہے… لیکن ان سے میل جول رکھنے، ساتھ مل بیٹھنے، وقت گذارنے کو کس کا دل چاہے گا… خیرامیروں کی حرکتوں سے تو الله سبحانہ و تعالی خود ہی نمٹ لیں گے… انکو تو ڈھیل ملی ہوئی ہے… 
.
ہاں غریبوں کو رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے قصّے سناۓ جا سکتے ہیں کہ ان پر تو کیا کیا گذرا لیکن انہوں نے الله کی حدود کو پامال نہیں کیا… لیکن آج ہم نے غربت کا معیار روٹی، کپڑے، مکان اور اختیار کا نہ ہونا رکھ دیا ہے… کوئی محنت کر کے دو روٹی کما ۓ تو اس پر اتنا ترس کھاتے ہیں کہ وہ اپنی کوششوں پر شرمندہ ہو جاۓ… اور سوچے کہ وہ دنیا کا ناکام ترین آدمی یا عورت ہےکیونکہ اسکے بچے برگر اور پیزا نہیں کھاتے، گاڑیوں میں نہیں پھرتے… انھیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ با اختیار اور کامیاب لوگ وہ ہیں جن کے آگے پیچھے چارتعریفیں کرنے والے خوشامدی یا فینزہوں، انکے لئے ہزاروں لوگ نعرے لگائیں اور اپنی قیمتی زندگی قربان کرنے کا عہد کریں… انکی تقدیر بدلنے کے نام پر انکو لوٹیں… پتہ نہیں کونسے اختیار اور کونسے انصاف کا لالچ دیتے ہیں…
.
الله سبحانہ و تعالی سورہ الرعد میں فرماتے ہیں کہ…”بے شک دلوں کو اطمینان الله ہی کے ذکر سے ملتا ہے”…
.
اور پاکستان کے سیاست دان ظلم اور دہشت کا نظام لا کر اور لبرل لوگ قرآنی احکامات کے خلاف دلیلیں لا کر انسانوں کو اسی یاد سے دور کردینا چاہتے ہیں… حتی کہ دینی جماعتیں اپنے عالموں اور لیڈرز کو خدا سے آگے لے آتے ہیں… جبھی تو اتنی ایجادوں اور اتنی سہولتوں کے باوجود دلوں کو سکون میسر نہیں…
.
.PRESIDENTS OF ISLAMIC REPUBLIC OF PAKISTAN VIOLATING QUR’AN AND CONSTITUTION
……………………………………………………………………………………………….
Advertisements

Do we care what is good for us?

I want to know if Coca Cola contains alcohol for real.  I hate PEPSI so I don’t care about it.  Oh yeah, and if clear soft drinks contain it too.  Those who are not into alcohol intentionally don’t have to worry about it.  They can drink ginger water instead after a heavy meal, just boil a piece of ginger in water, let it cool down and drink it.  Lemonade with a very little amount of sugar and pinch of black pepper early morning is a healthy substitute too.  Green tea is the best anyway. 
.
.

.
.
.
.
.
.

.

.
.
.
.
I want to know if Rose Petal factory has burned down as my shopkeeper informed me a week ago.  It wasn’t on news channels.  First I thought that he is just making it up because he doesn’t have their products.  But I couldn’t find them anywhere.  Rose Petal paper-towel and facial tissues are better in quality.  I wish I had enough money to buy a big forest, have a factory and produce my own Rubik paper-towels and tissues of Bounty quality.  They taste good.  No bhaeee, not the paper roll, the rose petal.  I used eat them when I was little.
.
.

.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
I want to know the reason of keeping dozens of chickens in tiny cages at shops.  No one speaks for them.  I think it hurts their feet to stand in a cage.  Sometimes they sit on top of each other because of insufficient space.  Their cages and the shops are always stinky.  I wish I had a little farm where I can keep my own chickens neat and clean.  The chickens bear too much torture before serving people as a meal.  A man is what he eats and may be that is why people torture each other.
.
.
I want to know if Islam is the part of humanity or humanity is the part of Islam.  People, just like being the key resource, are the key runner of the entire system.  People are not God, they shouldn’t be treated as God, they shouldn’t play God, they shouldn’t try to ignore God and shouldn’t try to replace God with people.  
Sharmeen Ubaid Chinoy after winning the Oscar, said that she will keep working on ‘Saving Face’ and will bring more awards home.  I say God-forbid if this happens. How cruel it is to celebrate a recovery without feeling the pain victims go through. Shouldn’t people like her now make a movie on revealing the culprits and film their punishment to receive more awards.
.
.

.

Who is the most kind and the wisest?

The purpose is of this writing is not to pass any judgement on anyone.  This is just another tiny effort to look into the mirror of Islamic doctrine and see how many scars are left there on heart and soul.

There are 114 surahs in Qur’an and each except one (Surah At-Taubah/The Repentance) begins with the acknowledgement of God’s attributes “In The Name of Allah, The Beneficent/Compassionate, The Merciful”.  The same statement is mentioned once in Surah An-Namal/The Ants, when Prophet Sulaiman/Solomon uses the same words to begin with in a letter to the Queen of Sheba.

The same Quran mentions Prophet Muhammad (pbuh) as the mercy for all the worlds Allah (SWT) has created.  Each and every moment of Prophet Muhammad (pbuh)’s life is an evidence to prove this claim to be true and certainly it has everything to do with his character.  “We have sent you but as the mercy for all worlds”… Surah Al-Anbiya 107

The words of Qur’an and the life of Prophet (pbuh) are beautiful combination of moral laws and court laws – together they are called ‘shariah’/the Islamic code of law.  Any Muslim having a doubt and then preaching it as a defect of Islam, such as ruling on two women as a witness against one man or four marriages for men and only one for woman, is considered a ‘kafir’, which literally means the one who rejects or denies.  So, the word ‘kafir’ shouldn’t be used to for non-Muslims.

Allah (SWT) says in Qur’an, ” And there are, certainly, among the people of the Scripture (Jews and Christians), those who believe in Allah and in that which has been revealed to you, and in that which has been revealed to them, humbling themselves before Allah. They do not sell the Verses of Allah for a little price, for them is a reward with their Lord. Surely, Allah is Swift in account.  O you who believe! Endure and be more patient (than your enemy), and guard your territory by stationing army units permanently at the places from where the enemy can attack you, and fear Allah, so that you may be successful.”…. (Surah Aal-e-Imran/The Family of Imran 199/200)

Islam has introduced a very balanced and flexible life-style.  The exceptions and limitations in obligations are already set by the Shariah and they are termed as “hudood or hudood-Allah” in Quran.  Similarly, the Shariah has outlined the emotional expressions prohibiting extremism and exaggeration.

For example, a strong belief in our society about God is that there are no limits for glorifying Allah Almighty.  Yes, there are.  Allah (SWT) has specified how to and when to remember Him formally on daily and yearly basis, i.e. salah/prayer and Hajj/pilgrimage to Makkah.  However, there are no time limit and conditions to communicate with Him for any reason.  He Almighty is awake and present all the time.

Be wild in anger, be crazy in excitement, be pessimist in sadness, be disappointed in trials,  be haughty in richness, be silent for witness, be a support in false accusations, be overjoyed in celebrations, etc. —  this is how life events are dealt in our society, by showing extreme behaviour and this is prohibited in Islam.

Sometimes, people don’t realize that they are acting as they are wiser than Allah (SWT) and prophets.  They do violate the limits of Shariah and then defend themselves and justify their actions by giving lame excuses.  Who do they try to satisfy, God, people around us or themselves?

There are lots of things that we do and we can say that we do them because we like them.  There are many things that we don’t do and we can say that we don’t do them because we don’t like them.  We can simply say that I do this or I don’t do this because this is how understood the religion.  This is better than manipulating religious principles.  This is not wise to corrupt the religion and create complications for others by wrong interpretations of Islamic moral values.

This intentional or unintentional corruption in religion develops a guilt in mind.  This guilt often transforms into an extra-ordinary feeling of kindness and sympathy to others and is exhibited by charity work.  Those who are involved in breaking the system or if not breaking, not building the system usually rejoice themselves by feeding, helping, educating hungry and needy people at large scale.  This is one way to kill that guilt.

In the same manner, people exaggerate while consoling, condoling, grieving, describing, explaining and even guiding.  We mourn for weeks, months and years.  They exaggerate while praising sacred prophets, saints, leaders, heroes, elders, family dynasty, etc.  This exaggeration turns into controversies and contentions and finally leads to physical combats.

Sometimes people unknowingly try to pretend that they are more kind than God Almighty and His prophets.  They have more sympathies with rapists, robbers, adulterers and murderers than with the victims.    Forgiveness has its own conditions.  Forgiveness is when exercised unnecessarily to the wrong people, it benefits the criminal minds only. Only God Almighty has the right to forgive whoever He wills for any or no reason.

Sometimes people behave like they have more ego and temperament than God Almighty and His prophets.  Mostly men try this on women, elders on youngsters, rich on poor, smart on naive.  Raising voice for rights, for choice is also considered a matter of ego.  The Arabic word ‘ana’ meaning ‘I’ with the thought of completeness and absolute powers suits only to God Almighty.

I was just thinking that if Edhi, Ansar Burni Trust and other legitimate charity organizations have established as parallel to the government institutions, why don’t they join together and really make one for the sake of this country.  Edhi’s team works more like a ‘baitul-maal’.  Sarim Burni’s team plays Supreme Court in addition to police and detectives.  Shoukat Khanum Memorial Hospital’s team along with Dr. Adeeb Rizvi and many others can run the best health ministry in the world.  There are many educational institutions like Namal that can replace the board of education in all four provinces and adjacent territories.  Those who are making world records can be the best to deal with foreign affairs.

Who cares who sits in the President House!  People can choose Dr. A. Q. Khan or Justice Wajeehuddin or any other smart, honest and patriot man as a guide and leader.

Unemployed youth can head towards the villages and farms to help farmers to grow more and more food.  You know why, because food is most essential in all necessities.  They can even train themselves as a substitute to law enforcement bodies.  We are missing them any way.

People of Pakistan are a government, then why let the criminals and incompetents draw salaries from assemblies and make others beg for what they deserve?

All Hail or Hell to the Democracy

“He said, “Do you observe that which you have been worshipping,  you and your ancient fathers?  Verily! They are enemies to me, save the Lord of the ‘Alameen (mankind, jinns and all that exists)… Who has created me, and it is He Who guides me… And it is He Who feeds me and gives me to drink… And when I am ill, it is He Who cures me… And Who will cause me to die, and then will bring me to life (again)… And Who, I hope will forgive me my faults on the Day of Recompense (the Day of Resurrection)… My Lord! Bestow hikmat (religious knowledge, right judgement of the affairs) on me, and join me with the righteous people… And grant me an honourable mention in later generations… And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight..” (Surah Ash-Shu’ara/The Poets)

“Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, inclining towards truth and I am not of those who associates others with Allah…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“Say (O Muhammad, pbuh), Verily, my prayer, my sacrifice, my living and my dying are for Allah, the Lord of all the worlds…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“And if Allah touches you with hurt, there is none who can remove it but He; and if He intends any good for you, there is none who can repel His favour which He causes it to reach whomsoever of His slaves He will.  And He is the Oft-Forgiving, Most Merciful.”  (Surah Yunus/Jonah, the Prophet)

Glorifying God Almighty or glorifying a person – what sounds more efficacious?  A quick answer to this would be ‘Glorifying God’, and we do glorify Him.

Yeah, we do glorify and remember Him – a timeless Being at times, an unlimited Being with limitations, the One beyond logic with reasons, the most direct One through sources.

But when it comes to glorify humans directly or indirectly, we disregard timings, limitations and logical reasons.  We pledge our lives to that person, we do sacrifices for his cause and we die in his/her name.

This is not leadership.  Breaking divine rules for a person, is not leadership.  Do things in a person’s name instead of God Almighty, is not leadership.  This is misguidance.

The way political workers and supporters hail their leaders and obey them is a non-sense.  They worship one person like crazy, they go wild at his/her insult, they become unjust while defending a morally corrupt person.

A party leader is party leader, he/she is not the god or goddess that the whole nation must hail otherwise suffer the wrath of their workers.  If they are so concerned with the dignity and honour of their leader, why don’t they ask him/her to behave human, civilized and normal?

How did the companions praised Prophet Muhammad (pbuh)?  Did Prophet Muhammad (pbuh) ever used his companions or people to be a threat for his enemies?  How disciplined and civilized were his companions and admirers, do we care?

Do political leaders and religious leaders have the rights to misuse or abuse moral values whenever and wherever they want?  Just because they have succeeded in gathering .05% or .50% of the population at one place.

Well, I say “NOT HAIL BUT HELL TO THESE LEADERS, THEIR WORKERS AND THIS DEMOCRACY”.

.

“ابراہیم نے کہا، اچھا کیا تم نے کبھی سوچا، کیا ہیں یہ جن کی تم پوجا کرتے رہے ہو؟  تم اور تمھارے وہ باپ دادا جو پہلے ہو گزرے… کیونکہ یہ سب تو میرے دشمن ہیں، سواۓ رب العالمین کے… جس نے پیدا کیا ہے مجھے، پھروہی میری رہنمائی فرماتا ہے… اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے… اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے… اور وہی جو مجھے موت دے گا، پھر دوبارہ زندہ کرے گا… اور وہی جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بخش دے گا میری خطائیں روز جزا… اے میرے مالک! عطا فرما تو مجھے حکمت اور شامل فرما تو مجھے صالحین میں… اور باقی رکھ میرا ذکر خیر بعد والوں میں… اور شامل فرما تو مجھے نعمت بھری جنّت کے وارثوں میں…” (سوره الشعراء) 
“(کہا ابراہیم نے) بے شک کر لیا میں نے اپنا رخ اس ہستی کی طرف جس نے پیدا کے ہیں آسمان و زمین یکسو ہو کر…” (سوره الانعام) 
“کہ دو، بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت، سب الله کے لئے ہے… جو رب ہے سارے جہانوں کا… (سوره الانعام) 
“اور اگر پہنچاۓ تم کو الله کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اس کا مگر وہی اور اگر پنہچانا چاہے تم کو وہ کوئی بھلائی تو نہیں ہے پھرنے والا کوئی اس کے فضل کو….” (سوره یونس) 
.
سارا کا سارا قرآن اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ الله سبحانہ و تعالی جو وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں…
.
شخصیت پرستی کیا ہے… یہی نہ کہ کسی انسان سے اتنی محبت یا عقیدت کرے، یا اتنا خوف کھاۓ، یا اتنی امید لگاۓ کہ خدا کو بھول جاۓ… اس کے کہنے پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا لے… قرآن کے مقابلے پر اپنے من چاہے قوانین نافذ کرے… اس کے لئے جان دینے کا عہد کرے اور دے بھی دے…
.
خدا پرستی کے مقابلے پر شخصیت پرستی پاکستانیوں کا سب سے پرانا اور پسندیدہ عیب ہے اور سارے فساد اور موجودہ حالات کی جڑ بھی… سیاستدان ہوں، مولانا ہوں، اداکار ہوں، گلوکار ہوں، ماں باپ ہوں، میاں ہو، بیوی ہو، محبوب یا محبوبائیں ہوں، پیر یا عامل ہوں…. غرض یہ کہ اپنی زندگی کو کسی نہ کسی انسان کے ہاتھوں میں دیے رکھتے ہیں کہ وہ اس سے کھیلے… اور باقی سب کے حقوق پورے نہیں کرتے…
.
میرے خیال میں رسول صلی الله علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں کسی اور کا نام محمد نہیں تھا… لیکن اس کے با وجود ان کی پہچان انکا کردار تھا…  ‘امین’ اور ‘صادق’ کے نام سے مکے کے لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ کس کی بات کی جارہی ہے… یہی حال بعد میں صحابہ کا بھی تھا… صدیق، فاروق، غنی، حیدر، سیف الله… یہ القاب انہوں نے خود اپنے ناموں کے ساتھ نہیں لگاۓ تھے بلکہ دوسروں نے انہیں ان کے نام کا حصّہ بنایا تھا…
.
صحابہ رسول صلی الله علیہ وسلم کی شخصیت کو پوجتے نہیں تھے… بلکہ انکے احکامات کو احکامات خدا جان کر ان پر عمل کرتے تھے… رسول صلی الله علیہ وسلم  سے اپنی محبت کے اظہار کے لئے اپنی مرضی کے طریقے اختیار نہیں کر رکھے تھے انہوں نے… دوسری بات یہ کہ رسول صلی الله علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کے باوجود اپنے گھروالوں کے، محلے کے، دوستوں کے، رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھتے تھے…
.
.
آج ہم اپنے معاشرے میں کتنے لوگوں کو انکو کردار سے بلکہ اچھے کردار سے پہچانتے ہیں… یہاں لوگ پیشے، عہدے، اور طبقے سے پہچانے جاتے اور عزت کیے جاتے ہیں…
ڈاکٹر، اینجنیرز، وکیل، جج، ہیڈ ماسٹر، استاد، چیف ایگزیکیٹو، منیجر، افسر، سیاسی لیڈر، سردار، وڈیرے، بزنس مین، صدر، گورنر، وزیر، ممبر قومی اسمبلی، کونسلر، مولانا صاحب، شاہ صاحب، مفتی صاحب، پیر صاحب، حافظ صاحب…….. بس اسی طرح ہم اپنے لوگوں کو پہچانتے بھی ہیں، انکی عزت بھی کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے بھی ہیں… یہ سیاہ کریں یا سفید، صحیح کریں یا غلط… کسی کو ان سے سوال کرنے کا حق نہیں ہوتا… کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہوتا… کسی کے پاس انکے احتساب کے اختیار نہیں ہوتا… 
.
پاکستان میں ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ جو باکردار ہو عوام اسے سوشل ورکر کی حثیت سے تو قبول کر لیتی ہے لیکن رہنما یا سیاستداں کی حیثیت سے نہیں… پاکستانیوں کا حال دیکھیں… پٹھان، بلوچی، پنجابی، سندھی، بنگالی، اردو بولنے والے، شیعہ، سنی، تبلیغی، اہل سنت، آغا خانی، قادیانی، پیپلز پڑتی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ، عوامی نیشنل پڑتی، تحریک انصاف، ڈیفنس والے، گلشن والے، کینٹ والے، نارتھ ناظم آباد والے، لالو کھیت والے، اورنگی ٹاون والے، ملیر والے، ڈاکٹر، استاد، تاجر، مزدور …. کتنے سارے کنوؤں میں بند مینڈک ہیں ہم سب… اپنے اپنے فائدے کے لئے نکلے، ٹرٹراۓ اور پھر اندر… 
پاکستان میں جو جس عہدے پر بیٹھ گیا یا بٹھا دیا گیا، نہ تو وہ خود ہٹنے کا نام لیتا ہے، نہ ہی دوسرے اس کے سامنے دم مار سکتے ہیں… عقیدت ہو، خوف ہو، محبت ہو، مقصد ہو، مطلب ہو یا مذاق… کوئی بھی وجہ ہو، ہمارے ہاں ایک شخص کو خدا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی جاتی ہے… اس اپنے ہی جیسے بے بس انسان سے ساری امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں… وہی مسائل کا حل سوچے اور وہی ان پرعمل کرنے کے لئے یا کرنے کے لئے اپنی زندگی برباد کر لے… عوام تو کیا کرتی ہے… نعرے لگاۓ، اور کام نکلتا دیکھا تو صحیح ورنہ کسی دوسرے کے سا ۓ میں پناہ ڈھونڈنے نکل پڑے…
.
ہماری قوم نے لیڈر یعنی رہنما کے لئے کوئی معیار سامنے نہیں رکھا کہ کوئی لیڈر بننے سے پہلے سوچے کہ اسکی عوام اسے کن خصوصیات کے ساتھ قبول کرے گی…
ہم کبھی اس ایک انسانی خدا کے کردار کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے، پوچھتے نہیں اور اگر کوئی انکو بتاۓ تو الٹا اس کا دفاع کرتے ہیں… صرف روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے وعدوں پر بک جاتے ہیں، غلام بن جاتے ہیں، رسولوں کی تعلیمات بھول جاتے ہیں، الله کے وعدوں پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنے رب کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں… کس کے کہنے پر؟ اپنے ہی درمیان میں پلے بڑھے اپنے ہی جیسے کردار کے ایک آدمی یا عورت کے کہنے پر… جو خود کسی قابل نہیں، جسکے پاس خود کوئی اختیار نہیں… جو خود اپنے نفع نقصان پر قادر نہیں… جو خود اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے دوسروں کی پناہ کا محتاج ہو… 
.
لیڈرز چاہے مذہبی ہوں یا سیاسی اور عوام… دونوں نے کبھی اپنا اپنا انجام نہیں دیکھا… صبح شام، دن رات ایک کر دیتے ہیں یہ رہنما… اربوں کی دولت جمع کر لیتے ہیں، محل بنا لیتے ہیں لیکن کبھی استعمال نہیں کر پاتے اور جو کچھ استعمال کر لیں تو گالیاں کھاتے ہیں، الزام سہتے ہیں، لعنت ملامت ہوتی ہے، کبھی انکے والدین کو برا کہا جا رہا ہوتا ہے اور کبھی بچوں کو بد دعائیں… یہی انکی زندگی کا حاصل ہوتا ہے…
.
عوام کو کیا ملتا ہے… خود کشی، خود سوزی، بھوک، فاقے، بیماریاں، محتاجی، بد حالی، ذلت………. روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے لئے سڑکوں پر آۓ دن احتجاج، کتے بلیوں کی طرح دھوپ میں مارے مارے پھرنا، خواری اور ذلت نہیں تو پھر کیا ہے… کیا مذاق ہوتا ہے کہ ہزاروں اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر جمع ہو کر بھی اتنے بے بس کہ صرف سٹیج پر کھڑے رہنماؤں کے اشارے کے پابند ہوتے ہیں… ڈگڈگی انکے ہاتھ میں ہوتی ہے اور عوام بندر کی طرح انکے احکامات پر عمل کرتے ہیں… ناچ جاؤ، ناچ گئے… گانا شروع کردو، گانے لگے… تالیاں بجاؤ، تالیاں بجانے لگے… جلسہ ختم کردو، گھر واپس آ گئے… میں تو یہ سوچتی ہوں کہ کتنے خوش ہوتے ہونگے عوام کی بے بسی کا تماشہ لگا کر یہ سیاست دان… 
.
ہزاروں لاکھوں ایک ساتھ جمع ہو کی بھی کوئی قوت نہیں بنتے، کوئی مطالبہ لے کر اپنے لیڈرز پر دباؤ نہیں ڈالتے کہ یہ قانون بناؤ، یہ بل پاس کرو… جب الله رب العزت کو چھوڑ کر، اس کے دے ہوۓ آئین سے منہ موڑ کر، اس کی ہدایات کو ٹھکرا کر، ادھر ادھر بھٹکو گے تو یہ ذلت تو ملے گی… 
.
اور مزے کی بات یہ کی عوام اور لیڈرز، دونوں ایک دوسرے پر الزام بھی لگاتے ہیں… اور پھر ایک دوسرے کے ہی پاس جاتے ہیں…. سیاستدان ووٹ کے لئے اور عوام مسائل کے حل کے لئے… 
قرآن ایسے عوام اور ایسے لیڈرز کے بارے میں کیا کہتا ہے….“کمزور ہیں مدد مانگنے والے اور وہ جن سے مدد مانگی جاتی ہے…” (سوره الحج) 
.
شخصیت پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان بے وقوف بہت بنتا ہے… اگر اس کو چاہا جاۓ تب بھی اور وہ کسی کو چاہے تب بھی… یہ سوچ ہی نہیں آتی کہ میں ہوں یا کوئی اور… ہیں تو انسان ہی، غلطی کر سکتے ہیں… محاسبہ بھی ہو سکتا ہے… تنقید بھی ہو سکتی ہے… مخالفت بھی ہو سکتی ہے… بے وقوفوں کی طرح بس کسی ایک شخص کی تعریفیں ہی تعریفیں ہوئی چلی جارہی ہیں… کوئی اسکے خلاف زبان نہ کھولے… الٹا سیدھا کچھ بھی کر کے اس کا دفاع کرنا ہے… زبان سے حق کے بجاۓ چکنی چپڑی باتیں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں…
.
شخصیت پرستی کی ایک تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک رکشے والے نے مجھ سے کہا کہ ‘باجی میں تو کہتا ہوں کہ یہی حکومت رہے، یوسف رضا گیلانی جیسا ایماندار، مڈل کلاس اور غریبوں سے محبت کرنے والا انسان وزیر اعظم رہے تو ملک کے حالات بدل جائیں گے’… میں صرف اس کا منہ دیکھتی رہ گئی… اور تعلیم یافتہ لوگوں کی نا اہلی کا ماتم کرتی رہ گئی…
.
اسی طرح کہیں دنیا میں ایسا قائد دیکھا ہے کسی نے، ناچنے گانے والا اور وہ بھی انتہا درجے چھچھورے پن کے ساتھ….
.
نواز شریف کی پرستش کرنے والوں نے تو حد ہی کر دی کہ محبت میں اتنے نعرے لگاۓ کہ لیڈر کو ہی بولنے نہ دیا… اورتواورماروی میمن صاحبہ نے کیا پلٹا کھایا… اور دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی حساب نہیں لیا… نواز شریف نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ تو مشرف کے ساتھ تھیں اس کے ہر جرم میں اور ماروی میمن نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے کتنا کرپشن کیا اور کتنا قرضہ کھایا… 
.
پرویز مشرف صاحب کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہوگا کہ عوام پرسے شخصیت پرستی کا بھوت اگر اترے تو کیا رنگ دکھاتا ہے… یا ہو سکتا ہے کہ عافیہ صدیقی کی آہ لے ڈوبی ہو…
.
عمران خان صاحب کے پرستاروں کو کم از کم یہ تو پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بھائی یہ کس وقت کا عمرہ اور فوٹو سیشن کیا جارہا ہے… اور اگر حج بھی ہو توچھوڑا جا سکتا ہے خاص کر اگر اتنے سارے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسلہ ہے…  ایسا حج تو نہ ہو کر بھی مقبول ہوتا ہے…
.
 

Haya – Life and Modesty

Once Arabs were a society that was indulged in adultery, vulgarity and great sins.  Pagans of Makkah were rude, uncivilized, barbaric, cheaters, liars, abusive and obscene.

Prophet Muhammad (pbuh), a person from the same society, diverted them towards piety, purity, modesty, simplicity and goodness.  He did not curse pagan’s faith, did not criticize their rituals, never raised his eye-brows and changed his voice harsh against their immodest activities, never confined himself to his beloveds, never refuses to help those who hated him.  He never stampeded on streets to terrorize Makkans with the power of his anger, except at the time of victory of Makkah, such a unique incident when he invaded the city with peace and forgiveness.

He was a socially developed person by nature; full of wisdom, admirer of beauty and pleasure, a symbol of grace and modesty/haya, confident in himself and smiling to people.  He knew how to and when to communicate with people.  He openly declared that he loves three things the most and those were perfume, salah and women (he did not use the name of any relationship).  And what he said, he always meant.

Haya/modesty is an inevitable part of Muslims’ faith, both men and women.  It is also categorized as one of the prophetic attributes.  With the root letters ‘ha and ya’, it literally means ‘life’ in Arabic.  In religious terms, it has been described as covering body (practice the ruling of sitr/body parts that should be covered), shyness (lower gaze/extreme softness), chastity (staying away from sex related activities), timidity (lack of confidence/not so sure), modesty (a moderate behaviour/simplicity/humbleness).  Haya is not a culture or tradition.  Haya is not a gender-based characteristic.  Haya requires not to shut women inside their houses and their disconnection to God’s world.

Beside its literal meanings, the most suitable word for ‘haya’ in English is ‘modesty’.  Allah (SWT) created the world with balance.  “He has set up the Balance (of Justice),  In order that ye may not transgress (due) balance.  So establish weight with justice and fall not short in the balance.” Surah Ar-Rahman/The Most Compassionate.  God brought universe into existence with balance (equilibrium, harmony, limits, due proportion, moderation).  The balance, with above synonyms, ensures life, not in span but in quality.  This entire surah describes the diversity of things working in their own limitations, which Allah (SWT) mentions as “the blessings from your Lord” and He orders us not to destroy it.

“And a sign for them is the night, We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness.  And the sun runs on its fixed course for a term (appointed). That is the Decree of the All-Mighty, the All-Knowing.  And the moon, We have measured for it mansions (to traverse) till it returns like the old dried curved date stalk.  It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.”  Surah Yaseen.

Prophet Muhammad (pubh) said, “Haya/modesty does not bring but goodness.”  He is right.  A humble, moderate, pure and simple behaviour causes nothing but beauty, pleasure and relaxation.  The way he ate, drank, walked, talked, greeted people, welcomed his opponents, treated animals, cheered children, respected women, helped the needy, behaved at home, led campaigns (both preaching and political), fought battles, treated prisoners, imposed laws, told stories, tolerated enmity, settled disputes, explained Qur’an, delivered sermons, ruled Madinah, ran the government – all reveal the secrets of his extraordinary, unique, short-time success in driving people towards piety, purity, modesty, simplicity and goodness.

So in general, haya is a process of knowing your own limitations and letting others (diversities) live and work in their specified boundaries/hudood.  Qur’an has warned us at many places not to break the limits that Allah (SWT) has ordained on every Muslim.  Haya is used in Urdu in the meanings of limitations too, such as, ‘haya karo, masjid main kharay ho ker jhoot boltay ho…. kuch to haya kur, maan baap se is tarah baat kertay hain…. oye haya kur, is ne teray liye bohat qurbaniyyan di hain….. koi haya nahi, jo munh main ataa hay buk deta/deti hay…. oye haya ker, Allah ka khata hay aur Allah ki na farmani kerta hay…. etc.

The world right now is under the process of globalization, all countries under one flag, the whole world population under unified system – many evil powers have imposed wars in order to control the entire globe.  It is only Islam which is worthy of being the ruling power of the world because it is based on characteristics and merit.  People of the world are looking for solutions to their problems and what Muslims are showing them is anger, fire, hatred to their beloved days.

George Bernard Shaw said, “If any religion had the chance of ruling over England, nay Europe within the next hundred years, it could be Islam.  I have always held the religion of Muhammad in high estimation because of its wonderful vitality. It is the only religion which appears to me to possess that assimilating capacity to the changing phase of existence which can make itself appeal to every age. I have studied him – the wonderful man and in my opinion for from being an anti-Christ, he must be called the Savior of Humanity.  I believe that if a man like him were to assume the dictatorship of the modern world he would succeed in solving its problems in a way that would bring it the much needed peace and happiness: I have prophesied about the faith of Muhammad that it would be acceptable to the Europe of tomorrow as it is beginning to be acceptable to the Europe of today.”

http://www.emro.who.int/publications/healthedreligion/IslamicPerspective/Chapter3.htm  The site mentions how considerate was Prophet Muhammad (pbuh) regarding carefulness and precautions.

Jamat-e-Islami announced to observe ‘Yom-e-Haya’ meaning ‘the modesty day’ on 14th February.

Christians have their reason to celebrate Valentine’s Day on 14th February.  Just like Muslims celebrate their own occasions with their own understanding.  For Muslims, if everyday is a mother’s day, father’s day, sister and brother’s day, teacher’s day, when what could be the reason for observing ‘haya’ on one day.  Haya should also be practiced everyday.  It is not just Valentine’s Day which non-Islamic.  Jahez, rape, infanticide, birthdays, Happy New Year parties, mayon and mehndi, prostitution in every neigbourhood, drug, illiteracy (inability to read and write), beggary, standing and cheering on the body of dead animals, cows and goats eating from garbage, cats and dogs wandering in search of food,  also fall into this category.

Prophet Muhammad (pbuh) said,  “Cursed be everyone who causes harm to a believer or schemes against him.”

The Prophet (pbuh) said: “No believer may humiliate himself”. When he was asked how any person would humiliate himself, he said: “By exposing himself to risks with which he cannot cope.” (it doesn’t mean that one should not experiment or try but with preparations and precautions.)

He (pbuh) said, “Shall I tell you the definition of a believer? He is one with whom people feel themselves and their property to be safe. A Muslim is the one who does not abuse people by word or deed.”

See the following photo in the light of above hadith, what are we showing to the world, our ability to burn things out, is it according to what Prophet (pbuh) said?  Why do veiling women only show up with danda/sticks and fire?  Does Islam stop women to step out for positive reasons, such as planting flowers and trees, volunteering at Edhi centers in taking care of orphans and traveling within the allowed distance to educate children?

Islam strictly forbids cursing or insulting other’s faith and festivals.  According to Qur’anic logic, if you do that, you will get the same reaction from the other side.  Muslims should are not advised to instigate a situation against anyone but to settle down matters wisely.

Many people suggest that Prophet Muhammad (pbuh) should be kept out of discussions.  Why?  Allah (SWT) says in Surah Al-Ahzab, “in Prophet’s seerah/character, there is the best example for you”.  Discussions based on what is haram and what is halal are incomplete without including Prophet Muhammad (pbuh).  We cannot treat him like a maulvi or a scholar that we drag him in at nikah/wedding sermon, divorce, aqiqah, for reading Qur’an or do milad otherwise we just keep him out of our lives.  He is guidance for us in every aspect of our lives.  He is nothing to be afraid of.

Many say, the anger is not against Christians or their festivals but Muslims who follow non-Islamic traditions.  This is just like cursing and burning kids in neighbourhood to show anger against your own child because he/she is following them.  It is your failure, you should curse yourself, burn banners with your name on them, you stand in front of the mirror and say to yourself ‘get lost’ and ‘my foot’.

Islam did not come to exterminate other’s religion, culture and traditions.  It came to introduce people the best way to a quality life.  It came to show how beautifully, peacefully and prosperously the whole mankind live under the flag of Islam.


حیا نہیں لاتی مگر خیر۔۔۔۔۔۔۔ 

شکر ہے ویلنٹانئز شہداء کا کہ جماعت اسلامی کو یوم حیا منانے کا اعزاز دے گئے۔۔۔ حالانکہ حیا کا پیغام اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تایخ۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھی حیا کا پیغام لائے چودہ سو سال گذر گئے۔۔۔ اور یوم حیا کا آج خیال آیا۔۔۔ عیسائیوں اور امریکنوں کے مقابلے پر۔۔۔

یوم حیا تو وہ دن تھا جس دن حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا داغ خود الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کی آیات سے دھویا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت مریم علیہ السلام کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا دفاع ان کے معصوم بیٹے نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا جواب ان کے اپنے جسم پر موجود لباس نے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کے ذریعے حضرت زینب بنت جحش کا آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھہ نکاح کا اعلان کیا اور منافقوں کی زبانیں بند کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن جماعت اسلامی یا آج کل کے دینی لوگ کیا جانیں۔۔۔ کیا جانیں یہ کسی کی عزتیں بچانا, خوبصورتی اور احسان کے ساتھہ۔۔۔۔ یہ مقابلے کرسکتے ہیں, شک کرسکتے ہیں, تجسس کرسکتے ہیں, الزامات لگا سکتے ہیں, سزا سنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

سمجھہ نہیں آیا کہ اگر مسلمانوں کے لئے ہر دن ماں کادن, ہر دن باپ کا دن, ہر دن محبت کا دن۔۔۔ تو پھر حیا کے لئے ایک خاص دن کیوں۔۔۔ حیا بھی ہر دن ہونی چاہئے۔۔۔۔

ہمارے دینی لوگوں کی ذہنیت ملاحظہ ہو۔۔۔۔ لال مسجد کی خواتین ڈنڈے لے کر نکل آئیں سڑکوں پر۔۔۔ جماعت اسلامی کی خواتین نے سڑکوں پر آکر دنیا کو دکھایا کہ ہم جلانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔۔۔

بس۔۔۔ یہی سیکھا سکھایا قرآن سے۔۔۔ مارنا, جلانا۔۔۔ 

اسلام سے محبت کا اظہار بھی بے چارے دوسروں سے نفرت کا اظہار کرکے کرتے ہیں۔۔۔ اور کوئی طریقہ نہیں سیکھا شاید۔۔۔  چلو سستی شہرت ہی سہی, دنیا میں مشہور تو ہوئے۔۔۔

وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔ بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔۔۔

حیا کا کلچر عام کرو, یہ کام صبح سے شام کرو

مارو تھپڑ بیٹوں کو گر وہ آنکھہ لگا ئیں عورت پر

قیمہ کردو شوہروں کا گر وہ ہاتھہ اٹھائیں بیوی پر

شرم دلاؤ بھائیوں کو گر وہ تاک میں جائیں لڑکی کے

نظرمیں رکھو باپوں کو جب پاس کھڑے ہوں کھڑکی کے

 مردوں کی مصروفیت کا چوبیس گھنٹے انتظام کرو

حیا کا کلچر عام کرو, یہ کام صبح سے شام کرو

Beautiful Supplications

 WE LEARN MORE BY LISTENING THAN TALKING.  

WORDS OF GLORIFICATION AND REPENTANCE FOR THOSE WHO HAVE BEEN UNGRATEFUL TO THEIR PARENTS AND THEIR PARENTS ARE NOT PLEASED WITH THEM.  

http://www.youtube.com/watch?v=TVx64HgWtPo

.

.

.

DUA-E-KUMAIL, A PRAYER TAUGHT BY HAZRAT ALI TO HAZRAT KUMAIL

http://www.youtube.com/watch?v=58C7efLec5M

.

.

.

DUA-E-NOORUN ALA NOOR

http://www.youtube.com/watch?v=v0-Npm092xo

Love, Pakistan and Valentine’s Day

 What’s love got to do with Saint Valentines?

All early 14 Saint Valentines were the martyrs of Christianity and had nothing to do with love and romance.  The name “Valentine” is derived from valens meaning worthy, strong and powerful.   It is celebrated in churches in religious terms.

The modern Valentine’s Day has gradually been developed to express love and affection through cordate objects, doves, Cupid and red colour.  Cupid, a character in Latin literature by Apuleius had an ability to make people fall in love.  It is derived from Latin cupido meaning ‘desire’ and Amor meaning ‘love’, is the god of desire and erotic love with his Greek counterpart Eros.

The Valentine’s Day is celebrated in many parts of the world including few Islamic countries on different dates with different names in relation to their own  ‘mythical love stories’.

However, the religious sector in some Islamic countries condemn it for many reasons, such as, it is a Christian day or is being celebrated by Christian or non-Muslims, promotes immodesty and is against their definition of chastity in Islam.  The word ‘chastity’ anyhow is derived from Latin castus meaning ‘pure’.

Pakistani literature, just like other literature around the world, is full of enchanting love stories.  The characters have been depicted romantically in both prose and poetry.  Heer Ranjah, Sussi Punnoon, Sohni Mahivaal, Omar Marvi, Mirza Sahiban, Yusuf Khan and Sherbano, Adam Khan and Durkhanai, Noori Jam Tamachi are some of the most famous one.  Not only that but Pakistanis are also impressed with the tale of Laila Majnoon and Romeo Juliet and Cleopatra and Mark Antony.

Then there are some  said to be true love stories of Emperor Jahagir (real name Nuruddin Salim) with the maid/kaneez Anarkali and with his wife Mehr-un-Nisa famous as Noor-e-Jahan meaning ‘light of the world’  and Noor-Mahal meaning ‘light of the palace’ – and of Emperor Shah Jahan (real name Shahabu-ud-din Muhammad Khurram) with Arjumand Bano, the 14 year old niece of Empress Noor Jahan, got fame as Mumtaz Mahal meaning ‘the jewel of the palace’.  He built Taj Mahal, one of the wonder of the world, in remembrance of her beloved love.

Avoiding the failed love-affairs, there are few successful real life love stories, topping both Quaid-e-Azam and Madam Noor Jahan with Pakistan, Muhammad Ali and his wife Zeba, Santosh Kumar (Moosa Raza) and his wife Sabiha Khanum, Darpan (Ishrat Raza) and his wife Nayyar Sultana.  Beside that, in my family, out of many love-marriages, I would proudly mention my cousin with her husband, both hearing impaired, enjoying their life romantically with triplets, great couple.

Religiously, the story of Prophet Yusuf/Joseph (peace be upon him) and Zulaikha (Potphar’s wife) was popular among Persian poets.

Out of all, I must say that Emperor Shah Jahan stands out for holding 1st position among all successful lovers and as he waited five years to marry her love, they had 14 children and he built Taj Mahal to express the intensity of his love for her.

Religious parties in Pakistan have been protesting against Valentine’s Day celebrations.  Many moderates also condemn it as the way it is celebrated is against their culture and moral values.

Recently, Jamat-e-Islami (the religious-political party) announced February 14 as Yom-e-Haya meaning the ‘day of modesty’ to defy the effects of Valentine’s Day on our youth.

What has modesty to do with love-affairs, marriage-proposals and exchanging gifts for love?

Modesty/Haya is the part of faith since 1433 years and it should be the part of a Muslim’s personality every second of his/her life.  Hazrat Usman among all companions is considered the most modest man, was married to Hazrat Ruqayyah, Hazrat Umm-e-Kulsoom and Hazrat Naila.

Among prophets, Prophet Yahya ibn Prophet Zakariyyah/Jhon the Baptist is famous for being the most modest.

For Muslims, great example comes from Prophet Muhammad (pbuh), who’s character is most appreciated in Qur’an.  He said, “Beloved to me are three things, fragrance, women and salah/namaz/prayer is the coolness of my eyes” – he didn’t use the word ‘my wife’ but women in general.  He married 11 honourable ladies.  Hazrat Kadijah bint Khawailud, the modest lady, proposed him out of love and respect.  Prophet Muhammad (pbuh) was shown Hazrat Ayesha and he fell into love with her.  He (pbuh) has mentioned many times his love for Hazrat Khadijah and Hazrat Ayesha.

Although there is a concept of part-time love according to some religious sects, Islam encourages adulation, loyalty and tenderness for better relationship between spouses.  As I have heard a hadith that the worst among transgressors are those who cause fitnah/evil/trial between husband and wife and try to destroy their relationship.

So, in Islamic history, modesty never stopped any man or woman from sending proposals and marriages of their own choice.

Love is the feeling which is appreciated and celebrated in every religion, in every culture, in every era, at every time, by everyone except Pakistan.

Romance is excitement, sentiment and attachment.  It is not just a childish love-affair between a girl and a boy.  Romance is the beauty and attraction found anywhere and everywhere, it could be in food, in clothes, in books, in pets, in flowers, in forests, in caves, in moon and stars, in work, in passion, in money, in people.  For a lot of people it is in Qur’an, in Muhammad (pbuh), in Salah, in Makkah and Madinah.  It is not flirt or scandal all the times.

The coordination, harmony, melody and engineering in nature is romance.  Isn’t it?

What is the value of love and romance in Pakistan?

In Pakistan, love is related to power and authority; love of Allah, love of Prophet Muhammad (pbuh), love of parents and husband’s power of sexual intercourse.

The society, as a whole, demands and admires the expression of love in form of unilateral devotion, forbearance, sacrifice and tolerance.

Prophet Muhammad (pbuh) said, “Exchange gifts, it increases love”.  While in Pakistan, exchanging gifts is either a trade done on ceremonies and festivals or a romance.  Romance is entitled as ‘vulgarity, sin and kufr/disbelief’ as it is thought to be happened between a male and a female in seclusion.

Is Valentine’s Day celebration non-Islamic?

Heart-shape objects, notes of love, gifts, doves (excluding Cupid for being a Latin fictional character) are the symbols of love and peace.  Whether they are used at Valentines, Eids, birthdays, weddings or other events, they are meant to express same feelings.

The truth is that Pakistanis in particular have forgotten to celebrate anything at all, especially if it has to do something with love.  They find it more convenient to observe SOG days, protest days, strikes, days long mourning and all occasions that are related to death.

Why Pakistani youth seems more interested in celebrating Valentine’s Day and in a Western style?  These youngster live in a society where they don’t see their parents, grandparents, uncles and aunties, couples in neighbourhood in romance, not even to the limit that is allowed in Islam.  All they observe is frustration and resentment in relations.  All they get to see is dust and barrenness and pollution in the environment.  All they have to hear are arguments, justifications and directions.  Beside that, they are always occupied with celebrations and the related controversies.  Isn’t it all very suffocating?

They know that their parents will decide for their fate.  They can’t look out for a life-partner as Islam has allowed them and even after that they are not free to live as they want.  The life they fantasize through movies, love-tales and western culture.

Are the stories of Cinderella or Phoolmadrani (the Urdu version of Cinderella) and of princes and princesses that nani and dadi once used to tell non-Islamic too?

Islam is the religion of beauty, love and relaxation.  It does not leads anyone to dark ages.

شکر ہے ویلنٹانئز شہداء کا کہ جماعت اسلامی کو یوم حیا منانے کا اعزاز دے گئے۔۔۔ حالانکہ حیا کا پیغام اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تایخ۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھی حیا کا پیغام لائے چودہ سو سال گذر گئے۔۔۔ اور یوم حیا کا آج خیال آیا۔۔۔ عیسائیوں اور امریکنوں کے مقابلے پر۔۔۔

یوم حیا تو وہ دن تھا جس دن حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا داغ خود الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کی آیا سے دھویا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت مریم علیہ السلام  کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا دفاع ان کے معصوم بیٹے نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا جواب ان کے اپنے جسم پر موجود لباس نے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کے ذریعے حضرت زینب بنت جحش کا آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھہ نکاح کا اعلان کیا اور منافقوں کی زبانیں بند کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن جماعت اسلامی یا آج کل کے دینی لوگ کیا جانیں۔۔۔ کیا جانیں یہ کسی کی عزتیں بچانا, خوبصورتی اور احسان کے ساتھہ۔۔۔۔ یہ مقابلے کرسکتے ہیں, شک کرسکتے ہیں, تجسس کرسکتے ہیں, الزامات لگا سکتے ہیں, سزا سنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔