B.A. Notes in Urdu

 

اردو نوٹس بیچلرز کے لئے۔۔۔ بیچلرز انگریزی کا لفظ ہے جسکا مطلب ہے کنوارا۔۔۔ اسکو چودھویں سال کی ڈگری کا نام کیوں دیاگیا اور پاکستان میں اسکا مقصد سمجھہ نہیں آتا۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کچھ لیولز ہونے چاہئیں انکا کوئی بھی نام رکھا جائے, کوئی بھی کسی بھی عمر میں جو لیول پاس کرے اسکو وہ ڈگری دے دیں۔۔۔

کیونکہ تعلیمی عمل کو چودہ سال تک کھینچنے کے لئے خواہ مخواہ کا سلیبس بنایا جاتاہے,  کون کتابیں لکھ رہا ہے, کیا لکھہ رہا ہے, کون سے اسباق ہیں اور انکا موضوع کیا ہے… کچھہ چیزیں پہلی کلاس سےایم اے تک پڑھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی طالبعلم نہ انھیں سمجھتے ہیں نہ ان پر بحث کر سکتے ہیں… مثلا تاریخ پاکستان, نظریہ پاکستان, اردو ادب, انگلش لٹریچر۔۔۔

ہر نئی نسل نئی حکومت کی طرح برے نظام کی وجہ اپنے سے پہلوں کی غفلت کو قرار دیتی ہے۔۔۔  لیکن نئی نسل یہ بھول جاتی ہے کہ پچھلی نسل کی غفلت کی وجہ نئی نسل ہی ہوتی ہے۔۔۔ ہر نسل کے لوگ جب اپنی اولادوں کے لئے خود غرض ہو جائیں, دوسروں کاحق ماریں, جھوٹے دستاویزات بنوائیں, رشوت لیں, رشوت دیں۔۔۔ تواگلی نسل کو جینے کے لئے صرف ایک  جرائم پیشہ معاشرہ ہی ملتا ہے جسکے حصہ دار خود انکے گھر اور خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے بیچلرز کی ڈگری کا مقصد کیا ہوتا ہے۔۔۔ پہلی جماعت سے بیچلرز تک چودہ سال اور مونٹیسوری سے سولہ سال بنتے ہیں۔۔۔ اور بیچلرز کی ڈگری لینے والے کی عمر انیس بیس اکیس سال کی تو  ضرورہو گی۔۔۔ تو ایک انسان کے پچے یا بچی کو سولہ یاچودہ سال کے مسلسل تعلیمی عمل کے بعد کس قابل ہو جانا چاہئے۔۔۔ کس حد سمجھدار اور باشعور ہو جانا چاہئے۔۔۔  کس قسم کی باتیں اسے سمجھہ آجانی چاہئیں۔۔۔ کس حد تک فیصلے کرنے اور انھیں نبھانے کی اہلیت ہونی چاہئیے۔۔۔ مذہبی, سیاسی, قانونی اورسماجی مسائل کی کس حد تک سمجھہ ہونی چاہئے اور انکو حل کرنے میں کیا کردار ہونا چاہئے۔۔۔۔ کس مضمون پر کتنا عبورہونا چاہئے۔۔۔ کیا مضامین کی کومبینیشن آج کل کے حساب سے ہے۔۔۔۔ کیا بیچلرز کی ڈگری طلبہ وطالبات کو موجودہ دور اور حالات کے حساب سے ملازمتوں یا کاروبار کے لئے تیار کرتی ہے یا اسکا مقصد یہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اگر ملازمت یا کاروبار کے لئے تیاری نہیں تو پھر چودہ یا سولہ سال سات آٹھہ گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔

ہمارے بچے ساتویں نہیں تو آٹھویں جماعت سے تو ضرورعشق ورومانس کی باتیں سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ اور بہت اچھی طرح والدین, ٹیچرز, محلے والوں کو چکر بھی دے دیتے ہیں۔۔۔اسکے لئے انھیں کسی ٹریننگ یا استاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ اور اس طرح پانچ چھہ سال میں اس فیلڈ کی اونچ نیچ کو خوب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن باقی معاملات کے معاملے میں نہ صرف وہ بچے بنے رہتے ہیں بلکہ ایک حد تک خود کو احمق, بے وقوف اور ناکارہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ اکثر والدین, رشتہ دار یا دوست وغیرہ بھی انھیں اسی قسم کی خصوصیات کا احساس دلادلا کر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

 چودہ یاسولہ سال زندگی کا ایک بہت بڑا اوراہم حصہ ہوتے ہیں۔۔۔ اتنےعرصے تو جانوروں کو ٹریننگ دی جائے تو وہ بھی قابل توجہ کام سر انجام دینے لگتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہ کام اس حد تک ان جانوروں کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں کہ انھیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے تو ان کی کمیونٹی انھیں قبول نہیں کرتی۔۔۔ اور نہ ہی وہ خود جنگل کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں۔۔۔ ساتھہ ساتھہ ایسے جانور اپنے مالک کےلئے کمائی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔۔۔ اپنے مالک کے ایک اشارے یا منہ سے نکلنے والے ایک لفظ سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

اب ذرا بیچلرز ڈگری کے خواہشمند یا وہ جو یہ ڈگری حاصل  کر چکے ہیں اپنا موازنہ ان جانوروں سے کریں, اس میں سرکس کے جانور بھی شامل ہیں۔۔۔ کہ کیا سیکھا اور کیاکرنے کے قابل ہیں۔۔۔

اردو زبان کے اصل مجرم کون ہیں۔۔۔ وہ جو خود تو بڑے اردو ادب کے ستون کہلائے مگر اپنی اولادوں کوانگریزوں کا پرستار چھوڑ گئے۔۔۔ وہ جنھوں نےقوم کو یہ سوچ دی کہ اردو زبان میں عشق ومحبت کے قصے سنائے جاسکتے ہیں, انتقام و نفرت و سازشوں سے  بھر پور اسکرپٹس لکھے جا سکتے ہیں, فتووں سے بھری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔۔۔ لیکن ملک وقوم کی کی ترقی کا کام نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ یا وہ جو اپنی اولادوں کو باہر کی یونیورسیٹیز میں پڑھاتے ہیں مگرقوم کو اردو کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ یا خود ساری عوام جو نہ بولنے کو تیار, نہ سننے کو, نہ کچہ کرنے کو۔۔۔

ہمیں کیوں اپنے اس جرم کا احساس نہیں ہوتا کہ ہرایرے غیرے کو اسکول کھولنے کی اجازت دے کر, ہر قسم کا سلیبس باہر سے درآمد کر کے, اپنے میں سے ہی اٹھے ہوئے مجرمانہ ذہنیت کے استادوں استانیوں کو تعلیمی اداروں کوبرباد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرکے ہم نے اپنے ہی بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔۔۔

بیچلرز کے لیول کے لئے کورس کی کتابیں ضروری ہیں یا کالجز اور یونیورسٹیز میں ایک تفصیلی سلیبس دے کر طلبہ سے تحقیقی کام کروانا۔۔۔ جبکہ ایک طرف حال یہ ہے کہ تیسری چوتھی پانچویں جماعت کے بچوں کو اردو میں نظم, شعر, مضمون, کہانیاں لکھنے کو دی جاتی ہیں۔۔۔ ضروردیں لیکن اسکے لئے انھیں پڑھنے کا وقت, تیاری کا وقت دیں نہ کہ بچے ٹیوشن یا بڑوں سے چیزیں لکھوا کر نمبر حاصل کریں۔۔۔

سیاق و سباق کے ساتھہ تشریح کریں, کسی ایک شاعر, ادیب, افسانہ نگار کے حالات زندگی لکھیں یا فن پر تبصرہ کریں, کسی نظم یا سبق پر تبصرہ کریں یا خلاصہ لکھیں۔۔ سروے کرکے دیکھہ لیں کہ یہ کتنا بڑا بوجھہ ہے طلبہ پر۔۔۔ اور جب بوجھہ ہلکا کرنے کے لئے والدین, اساتذہ ہی راستے فراہم کردیں توپھرجہالت کا شکوہ حکومت سے کرنا بےکارہے۔۔۔۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ نثر میں جو اقتباسات اور شاعری کے جو حصے منتخب کئے گئے ہیں وہ کس بناء پر۔۔۔  کتاب کے آخر میں مشکل الفاظ کے معنی بھی دے دیا کریں کیونکہ سو دو سو سال پرانی اردو تو اب بولی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اب تو لب ولہجہ بھی پاکستانی نہیں رہا۔۔۔ کم از کم کراچی میں تو ہندوستانی فلموں کا لہجہ اور الفاظ  نئی نسل کی شخصیت کا حصہ ہیں۔۔۔ بلکہ کافی ساری ٹیچرز اور اسکول اونرز بھی اسی تلفظ میں بات کرتی ہیں۔۔۔

کیا پاکستان میں پہلی جماعت یا مونٹیسوری سے بیچلرز تک مضامین, خاص طور پر اردو اور اسلامیات میں کوئی سیکوینس یادرجہ بندی ہے۔۔۔ کہ کس عمر یا جماعت کے بچوں میں کم از کم اتنی پڑھنے یا لکھنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔۔۔

What is Bachelor’s Degree? http://www.collegeonline.org/library/choosing-degree/bachelors-degree

As the examination days for Bachelors are approaching closer,  Google search for notes in Urdu is increasing every day.  Most searches are for Psychology, Political Science and Education notes in Urdu language.

There are many websites and facebook pages available for Urdu readers but they mostly consist of poetry, excerpts from Urdu Literature, religious substance by religious groups and news in general.  Nothing I could find that can help the students with discussions and explanation in Urdu.

I still don’t understand the reason of category “Arts” and for including Political Science, International Relations and Education in it.  To make things easier why don’t we introduce the credit system (like in many other countries).  Students can achieve the degree by availing certain credit points for different subjects.  Government will have to provide the syllabus and students can do their research to prepare notes and give examination.

The students of Arts or B.A. are mostly private students.  Even regular students don’t attend classes since they complain that lecturers and teachers ask them to come to the coaching in the evening and get the marks.  If this is really happening, no matter what , students must complain this to someone, inform personally or write to the authorities.

 

 قومی شناختی کارڈ کے لئے, ڈرائیونگ کے لئے, ووٹ ڈالنے کے لئے بلکہ شاید نکاح کے لئے بھی۔۔۔ اٹھارہ سال کا ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارہ سال دنیا میں گذارنے کے بعدایک لڑکا یا لڑکی اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنی شناخت کرواسکیں, ذاتی حیثیت میں بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔۔۔ شاید اسلئے کہ ان پربھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھنے کے بعد اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارویں سال تک پہنچتے پہنچتے ایک لڑکا یا لڑکی کم از کم دو الیکشن سیزنز تو دیکھہ ہی لیتے ہیں, اسکا طریقہ, اسکا نتیجہ, اس پر بحث مباحثہ انکے ذہن میں رہ جاتا ہے, اور وہ ذہنی طور پراس قابل ہوتے ہیں کہ ملک وقوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔۔۔ اور جو ملک اور قوم کے لئے صحیح یا غلط شخص کا انتخاب کرنے کی اہلیت رکھتا ہو وہ اپنے ذاتی زندگی کافیصلہ کرنے کابھی حق رکھتا ہے۔۔۔ اسکا مطلب ہے کہ قومی شناختی کارڈ ذمہ داری اورسمجھداری کی علامت ہے۔۔۔

کیا یہ معلومات یعنی قومی شناختی کارڈ کی اہمیت, ووٹ کی اہمیت, ٹریفک کے قوانین, شادی اور طلاق سے متعلق قرآنی احکامات,  ہمارےتعلیمی کورس کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں۔۔۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ وطالبات یعنی سولہ سترہ سال کے نوجوانوں کوان اہم موضوعات کے بارے میں بتانا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔۔۔ 

لیکن یہ باتیں ہیں اٹھارویں سال میں آنے سے پہلے کی۔۔۔ اٹھارہ کے بعد کیا کیا جائے, کیا سیکھا جائے, کیا سمجھا جائے۔۔۔

Why eighteenth year of life seems suitable for NIC, for driving, for right to vote and even for marriage?  What a person can witness and experience in just eighteen years?  Or is it enough time to become responsible for dealing personal affairs as well as communal and national matters?

What youth is supposed to do at eighteen, shouldn’t they be educated about those matters before their legitimate time?

اچھا چلیں یہ پوچھہ لیتے ہیں کہ بی اے کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔۔۔ ملازمت ڈھونڈنی ہے یا ماسٹر کرنا ہے۔۔۔

ہمارے معاشرے میں اس سوال کے متوقع اور پسندیدہ جوابات ہیں … مجھے آگے پڑھنا ہے, بہت قابل بننا ہے, دنیامیں نام پیدا کرنا ہے, باعزت مقام بنانا ہے, اپنےخواب پورے کرنے ہیں, غریبوں کا سہارا بننا ہے, ملک وقوم کی خدمت کرنی ہے۔۔۔

ان جوابات پر میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔ کہ سب سے پہلے تویہ سارے کام کرنے کے لئےہمت, توانائی, وقت اور جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بیچلرز کرنے تک آدھی بھی نہیں رہ جاتے۔۔۔ چودہ پندرہ سولہ سترہ سال کے تعلیمی عمل میں یہ سارے خزانے کام آجاتے ہیں اور یہ سارے کام خواب بن جاتے ہیں۔۔۔

دوسری بات یہ کہ بھئی کتنا پڑھ لینا ہے, کتابوں سے رٹ رٹ کر امتحان دے دے کر  چودہ پندرہ سولہ سترہ سال ایک ہی طور زندگی گذار کر جی نہیں بھر جاتا۔۔۔ کتنا قابل بننا ہے,  ویسے بھی زیادہ پڑھ لکھہ کرانسان قابل نہیں قابیل بن جاتا ہے۔۔۔ اور دنیا میں نام پیداکرنے اور مقام بنانے کی بات ہے تو میں نے خود پی ایچ ڈیز کو لانڈرومیٹ چلاتے اور عام سی پرنسپل کی جاب کرتے دیکھا ہے۔۔۔

غریبوں کا سہارا بننا اور ملک وقوم کی خدمت دو بہت پیچیدہ مسئلے ہیں جنکو بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں سمجھہ سکتےاورنہ بہت زیادہ غیر پڑھےلکھے۔۔۔ کیونکہ دونوں کاموں کا تعلق ایک مضبوط سماجی اور معاشی نظام سے ہے۔۔۔ جبکہ دونوں کومحض نیکی ثواب کا کام سمجھہ کرکسی خاص وقت اور حالات میں کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ ایک نظام کی شکل اختیار نہیں کرپاتے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےکہ ہم میں سے ہرایک زیادہ سے زیادہ غریبوں کا سہارا بن کرخدا سے نزدیک ہوناچاہتاہے اور اسے انسانیت کی خدمت اور سب سے بڑی عبادت سمجھتاہے۔۔۔ اور آج خدا نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں کی خواہش کے مطابق دردمند, بے بس, مجبور, بےسہارا, غریب لوگ کڑوڑوں کی تعداد میں سامنے لاکر کھڑے کردئیے ہیں کہ کروانکی مدد اور ہو جاؤ میرے نزدیک۔۔۔  یہ کڑوڑوں بے سہارا وہ لوگ ہیں جو کل تک ہمارے رزق کا سامان کررہے تھے۔۔۔ اگر ہم نے انکے مسائل میں دلچسپی لے کر انھیں بہتری کی طرف لے آئے ہوتےتوآج ہم ایک آسان زندگی گذار رہے ہوتے۔۔۔

پس ثابت یہ ہوا کہ نیکی کرنے کی دعا مانگنے سے پہلے اسکی منصوبہ بندی بھی کرلینی چاہئیے اور ذہنی اور  جسمانی طور پر خود کونیکی کے مواقع فراہم کرنے والےحالات کے لئے تیار بھی کرلینا چاہئیے۔۔۔

اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ انسان کسی قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ دشمنوں کو للکار کرمٹانے کی باتیں کرنے والے, روٹی کپڑا مکان فراہم کرنے کے دعوے کرنے والے, انسانوں کو آزادی اور انسانی حقوق کا خواب دکھا کر لادینیت یا سیکیولرازم کی طرف لانے والے, اپنے جوش ایمانی سےلوگوں کی تقدیریں بدل دینےوالے, اپنے خطبات سے اور فتووں سے دوسروں کے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔ مچھر جیسے حقیر سمجھے جانے والے کیڑے کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔۔۔ دوا کام آرہی ہے نہ دعا۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا کہ… ہو عالم ایجاد میں جو صاحب ایجاد, ہردورمیں کرتا ہے طواف اسکا زمانہ۔۔۔۔۔۔

اقبال کا مطلب شاید سائنسی ایجادات بھی رہا ہو جنکی وجہ سے مسلمان صاحب ایمان مغربی دنیا کے غلام بن گئے ہیں کیونکہ سائنسی چیزیں ایجاد کرنا ہمارے ہاں کفر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کافر ایجاد کرے تو مصلحتا استعمال کرنے کا فتوی موجود ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن یقینا صاحب ایجاد سے اقبال کی مراد صاحب تدبیر ہے یعنی مشکلات سے نکلنے کے لئے وقت اور حالات کے حساب سے حل بتانے والا۔۔۔ کیونکہ مسلمان اپنی حرکتوں کی وجہ سے دشمنوں کو اپنے پیچھے لگا لاتے ہیں اور جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے نکلنے کے لئے صاحب تدبیر لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ جو بعد میں قوم کے ہیرو یا باپ کہلاتے ہیں۔۔۔

ویسے جو بی اے کے بعد جابس تلاش کرنا چاہتے ہیں انکے خیال میں انھیں کس قسم کی جابس مل سکتی ہیں۔۔۔ انکی تنخواہ کتنی ہوسکتی ہے۔۔۔ اس تنخواہ میں وہ کب تک گذارہ کرسکتے ہیں۔۔۔

بی اے کی ڈگری تو ویسے بھی کئی سال پہلے اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔۔۔ بی اے میں پڑھائے جانے والے مضامین کا پاکستان میں کیا کام۔۔۔ نفسیات, سیاسیات, عمرانیات, معاشیات, گھریلو معاشیات, لائبریری سائنس, تاریخ, اسلامی تاریخ, تاریخ پاکستان, بین الاقوامی تعلقات, عربی, فارسی, تعلیم, سوشل ورک, جغرافیہ۔۔۔۔

تو جس نظام جس تعلیم کا فائدہ نہ ہو اسے بدل کیوں نہیں دیتے۔۔۔ اپنے لئے نہ سہی, اگلی نسلوں کے لئے سہی۔۔۔وہ دعا دینگی کہ کوئی ہمارے لئے کام  آسان کرگیا۔۔۔

میر امن دہلوی  – 1809 – 1733              سرسید احمد خان – 1898 – 1817

مولوی نذیر احمد – 1912 – 1831            مولانا محمد حسین آزاد – 1910 – 1832

سید مہدی علی محسن الملک – 1907 – 1837     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857         مولوی عبدالحق – 1961 – 1870

منشی پریم چند – 1936 – 1880             مرزا فرحت الله بیگ – 1947 – 1884

رشید احمد صدیقی – 1977 – 1892         احمد شاہ پطرس بخاری – 1958 – 1898

غلام عباس – 1982 – 1909        خواجہ میر درد – 1784 – 1720             میر تقی میر – 1810 – 1722

خواجہ حیدر علی آتش – 1846 – 1778   مرزا اسد الله خاں غالب – 1869 – 1797

مومن خان مومن – 1856 – 1800        نواب مرزا خان داغ دہلوی – 1905 – 1831

سید فضل الحسن حسرت موہانی – 1951 – 1875     علی سکندر جگر مراد آبادی – 1960 – 1890

علامہ اقبال – 1938 – 1977     فیض احمد فیض – 1984 – 1911

مرزا محمد رفیع سودا – 1781 – 1703     شیخ محمد ابراہیم ذوق – 1854 – 1789

میر ببر علی انیس – 1874 – 1802     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

نظیر اکبر بادی – 1830 – 1735     علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857

سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی – 1921 – 1843      شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی – 1982 – 1896

سیماب اکبر آبادی – 1951 – 1880    احسان دانش – 1983 – 1892

حفیظ جالندھری – 1982 – 1900

یہ اردو ادب کے چند مشہور نام ہیں۔۔۔ کچھہ شاعر اور کچھہ نثر نگار۔۔۔ ان میں سے کچھہ کےنام پہلی جماعت سے سنتے اور پڑھتے چلے آئے ہیں پھر بھی نہ انکی تاریخ پیدائش یاد ہوتی ہے نہ تاریخ وفات, نہ جگہ پیدائش اور نہ وجہ پیدائش۔۔۔ چودہ سالوں کے دوران جب انکا نام آئے نوٹس بنانے کے لئے بھاگ دوڑ مچی ہوتی ہے۔۔۔ ان میں سر فہرست نام ہے سرسید احمد خان, علامہ اقبال اور غالب۔۔۔

ویسے اتنے سارے ناموں میں صاحب تدبیر کون نکلا۔۔۔ میرے حساب سے علامہ اقبال۔۔۔ ایک وژن دے کر ہندوستان کی مسلمان اقلیت کو پاکستان کی مسلمان اکثریت میں بدل دیا۔۔۔ قلم اور سوچ کی طاقت کا صحیح استعمال۔۔۔

باقی سب بھی ٹھیک تھے, انہوں نے اپنے لحاظ ادبی کام بھی کئے, سیاسی بھی, مذہبی بھی اور سماجی بھی۔۔۔ مزاح بھی لکھا اور بچوں کے ئے بھی۔۔۔ غزل, نعت, مرثیہ, رباعی, نظمیں۔۔۔۔۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انکے کلام میں یہ سب مل جاتا ہے۔۔۔

دوسرا بڑا نام حفیظ جالندھری کا ہے جنھوں نے اقبال کے تصور پاکستان کے مقصد کو سمجھتے ہوئے قومی ترانہ لکھہ ڈالا اور کیا کمال لکھا کہ جتنی مرتبہ پڑھیں مزہ آتا ہے۔۔۔ کم الفاظ کے شعروں کے قافیہ اسطرح ملائے ہیں کہ نہ پڑنا مشکل نہ یاد کرنا اور مقصد بھی سمجھہ آجائے دو قومی نظریے کا۔۔۔

ویسے ان دو بڑے ناموں کو ہم نہ جانے کیوں پیچھے رکھتے ہیں۔۔۔ حسد کرنے یا مقابلے کی بات نہیں۔۔۔ ذرا سب کی تاریخیں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ سب ہی اگے پیچھے ایکدوسرے کے زمانے سے وابستہ تھے۔۔۔ ایک ہی خطے کے رہنے والے تھے۔۔۔ ان میں سب سے پرانے میر درد اور سب سے نئے فیض احمد فیض ہیں۔۔۔ لیکن جس نے کچھہ حاصل کرلیا وہ دو بڑے نام یہی تھے۔۔۔ اقبال اور حفیظ جالندھری۔۔۔

ویسے بی اے  کے باقی مضامین بھی پڑھنے کی نہیں بلکہ ٹی وی پروگرامز دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔۔۔ تقریبا سارے مضامین کے موضوعات پر کسی نہ کسی چینل پر بات چیت یا بحث ہورہی ہوتی ہے۔۔۔ اخبارات اور رسالوں سے بھی نوٹس بنائے جاسکتے ہیں۔۔۔

سیاسیات میں دنیا کی مشہور تقریریں بھی شامل کرنی چاہئیں جن میں قائد اعظم کی تقاریر بھی شامل ہوں اوران لوگوں کے حالات زندگی جن کی کوششوں نے انکے ملکوں کی سیاست پرمثبت اثر ڈالا۔۔۔ خواہ مخواہ میں صدیوں پرانےسیاسی نظام جو اب کہیں نہیں ان پر بحث کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ انھیں تو حوالہ کے لئے پڑھیں اور بس۔۔۔ البتہ خلافت مدینہ اور رسالت کے سیاسی پہلوؤں کو ضرور کورس میں شامل ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔

ایجو کیشن تو مضمون نہیں بلکہ خود ایک کیٹیگوری ہے۔۔۔ اس میں تو سارے ہی مضامین آجاتے ہیں۔۔۔

بلکہ آرٹس گروپ ختم کرکے جتنے مضامین ہیں انھیں دو بنیادی کیٹیگوریز سیاسیات اور تعلیم میں لازمی کردیں۔۔۔ دو سال یعنی سات سو تیس دن کافی ہو سکتے ہیں اگرصحیح طریقے سے پابندی کے ساتھہ پڑھایا جائے۔۔۔

یہ جو کچھہ اسباق اور کچھہ مشقیں ہم تقریبا ہر سال کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں وہ طریقہ بھی تبدیل ہونا چاہئیے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو  سوچنے کے لئے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو سوچنے کے لئے۔۔۔

 

اردو زبان کے امتحانات۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کے ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے کیا۔۔۔ اتنا غصہ آتا تھا پرچوں میں الٹے سیدھے سوال پڑھ کر۔۔۔

روشنی ڈالئے, اظہار خیال کیجئے, تبصرہ کیجیے۔۔۔  بھئی یہ بھی تو بتائیں یہ سب کرتے کیسے ہیں۔۔۔ کیا اظہار خیال کا مطلب ہوتا ہے ذاتی رائے, توواقعی سچی رائے لکھنے پر نمبرز مل جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو قسم کے سوال سب سے زہر لگتے تھے۔۔۔ ایک یہ کہ, بتائیے شاعر اس شعر میں کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی وہ شاعر جو انتقال فرما چکے ہیں۔۔۔ بھئی یہ تو شاعر خود ہی بتا سکتاہے, ہمیں کیا پتہ اب کہ وہ کسں سے کیاکہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اصولا اس قسم کے سوالات کے لئے زندہ شاعروں کی شاعری کا انتخاب کرناچاہیے کہ انسان کبھی ملاقات کرکے پوچھہ ہی لے کہ بھئی آپ اپنے شعروں میں کیا کہنا چاہتے ہیں, تفصیل سے بتائیے, امتحانات میں جوابات لکھنے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسےجو شاعرآج زندہ ہیں انکا کلام انکے مرنے کے بعد اردو سلیبس کا حصہ بنے گا۔۔۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ امتحانات میں سوالات کا اندازجب تک بھی یہی رہے گا۔۔۔ لہذا آج کے شاعروں کو چاہیے کہ کل کے طلبہ وطالبات کی آسانی کے لئے اپنی شاعری کی وجوہات , اپنے خیالات قلمبند یا فلمبند کروا جائیں۔۔۔

ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اگرزندہ شعراء, ادیب اور افسانہ نگاروں کے لکھے کو پڑھایا جائے, بلکہ اردو کے پیپرز انھیں سے چیک کروائے جائیں۔۔۔ ایک تو انکا دل ہی خوش ہو جائے گا, دوسرے انکو کام مل جائے گا, تیسرے ان میں مزید بہتر اور کچھہ نیا لکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔۔۔

اچھا, دوسرا سوال جو کہ سوال نہیں بلکہ مطالبہ ہوتا تھا اور مجھے نہایت عجیب لگتا تھا وہ یہ کہ۔۔۔ فلاں فلاں بات یا کسی کے جملے پر بحث کیجئے۔۔۔ اب پہلی بات تو یہ کہ ہمارے گھر میں بحث مباحثے پر پابندی تھی, امی کوسخت برا لگتا تھا زبان چلانا, اسلئے پحث کرنا ہی نہیں آتی تھی۔۔۔ دوسرے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کاپی پر بحث کیسے کی جاتی ہے کیونکہ بحث کرنے کے لئے کسی دوسرے کا سامنے ہونا اور بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔ خود ہی خود تو یا پڑھا جا سکتا ہے یا لکھا جاسکتاہے, بحث نہیں کی جاسکتی۔۔۔

یہ تو اب پتہ چلا کہ کسی بات کی بال کی کھال اتار دینا, کہاں سے شروع ہوئی, کیسے شروع ہوئی, اس کے اچھے یابرے اثرات کیاہوئے, انجام کیا ہوا۔۔۔ یہ سب کچھہ لکھنا بحث کرنا کہلاتا ہے۔۔۔

اچھا ٹیچرز اتنا بتاتے نہیں جتنا امتحانات میںلکھنے کو دیتے ہیں۔۔۔ اورآجکل تواورغضب ہے۔۔۔ کچھہ بھی نہیں بتاتے اور سب کچھہ پوچھہ لیتے ہیں۔۔۔

 سب سے بڑا سانحہ تعلیمی دور کا یہ ہوتا ہے کہ ساری چیزیں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رفتہ رفتہ سمجھہ میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور پڑھے لکھے کا حال اس کرکٹر جیسا ہوجاتا ہے جو خود تو کبھی صحیح نہ کھیل پائے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وہ مشورے دیتاہے, وہ تنقیدیں کرتا ہے  جیسے بابائے کرکٹ ہے۔۔۔

اچھامزے کی بات یہ ہے کہ سارے طالبعلم اپنے زمانےمیں برے نظام تعلیم کا رونا رورہے ہوتے ہیں۔۔۔ مگرجب والدین بنتے ہیں تو کہتے ہیں, ہمارے زمانے میںبھی تو آخرپڑھائی ہوتی تھی, ہمارے اساتذہ ایسے سخت اور قابل ہوتے تھے, ایک آجکل کے ٹیچرز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب کہتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی یا کے ٹیچرز کل انھیں کے زمانے کے اسٹوڈینٹس تھے۔۔۔ کل انھوں نے جو سیکھا آج سکھا رہے ہیں۔۔۔

یہ کوئی نہیں کرتا کہ بی اے کے ایجوکیشن/تعلیم منتخب کرنے والوں سے پوچھے کہ تمھارے ہوتے ہوئے  تعلیمی نظام میں بہتری کے بجائے براوقت کیسے آیا۔۔۔ سترہ, اٹھارہ, انیس, بیس, اکیس۔۔۔ پانچ سالہ اعلی تعلیم کا کیا نتیجہ نکلا۔۔۔۔

کم عمری میں اگرکسی نے کوئی بہت بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے تو اب تک صرف دوشخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ۔۔۔ محمد بن قاسم الثقفی اورفاتح سلطان محمد یا محمد ثانی۔۔۔

محمد بن قاسم الثقفی کاتعلق شہر طائف سے تھا جہاں توہین رسالت کی گئی اسطرح کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتھر مارمار کرشدید زخمی کر دیاگیا, اور جب الله سبحانھ وتعالی نے فرشتے بھیجے یہ پوچھنے کے لئے کہ اگرآپ صلی الله علیہ وسلم چاہیں توشہر کو انتقاما تباہ کردیا جائےتو فرمایا کہ نہیں, یہ نادان لوگ ہیں, شاید ان کی نسلوں میں سے ایمان والے لوگ پیدا ہوں۔۔۔ پتہ نہیں طائف کے باشندوں کو معلوم ہے کہ نہیں کہ وہ کتنی عظیم قوم ہیں, انکا ایک بیس سالہ نوجوان ہندوستان کی سرزمین اور خاص طورپرسندھ کی سرزمین کے لئے رحمت بن کرآیا۔۔۔ کبھی پاکستانیوں نے طائف والوں کا شکریہ اداکیا۔۔۔۔۔۔ صرف سترہ سال کی عمر میں کامیاب فوجی آپریشن کیا اور ہنوستان میں پہلےاسلامی سیاسی نظام کی بنیاد ڈالی۔۔۔ کل بیس سالہ زندگی, نہ قبر کا نام و نشاں, نہ کوئی  پتھریلی یادگار۔۔۔ لیکن آٹھہ سو سال بعد بھی کڑوڑوں مسلمان بغیر کسی مطلب کےعزت اورفخر سے نام لیتے ہیں۔۔۔

فاتح سلطان محمد کاتعلق ترکی سے تھا۔۔۔ اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی حکومت کا خاتمہ کردیا۔۔۔ ترکی کے لوگ پانچ سو سال بعد بھی انھیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔۔۔  اور باقی اسلامی دنیا بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔۔۔ 

تصور کیا جاسکتا ہے کہ اتنی چھوٹی عمروں میں اتنی بڑی کامیابی کے لئے انکی سولہ سترہ سال کی عمر تک کی زندگی کیسی گذری ہوگی۔۔۔ یہ ہمارے مسلمان نوجوان تھے جن پر ان کے بڑوں نے بھروسہ کرکے اتنی بڑی ذمہ داریاں ڈالیں۔۔۔

اب ذرا آج کے بڑے اور نوجوان, دونوں کا رویہ دیکھیں زندگی, قوم اور ملک کے بارے میں۔۔۔ کیا آج کے بڑوں کو حجاج بن یوسف اور سلطان مراد کی طرح اپنی تربیت اور تعلیم پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے کسی چھوٹے کو اتنا بڑاکام کرنے دیں کہ ملک وقوم کی تاریخ بدل جائے۔۔۔ کیا ہمارے ہاں نوجوانوں کو ملک وقوم سے متعلق کوئی نور بصیرت دیا بھی جاتا ہےکہ نہیں۔۔۔

اوپر والے دونوں سوالوں کا جواب ہے نہیں۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں اولاد کو ملک وقوم کی امانت نہیں بلکہ بہت عرصہ تک اپنابچہ ہی سمجھا جاتا ہے اوربچہ بھی اسی میں خوش رہتا ہے کہ میں معصوم ہوں لہذا بڑا کام کرنے سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ نور بصیرت جن ذرائع سے سمجھہ آتا ہے یعنی صبر مطلب کہ جمے رہنا, حکمت یعنی صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھہ,  تزکیہ نفس مطلب کہ غیر ضروری باتوں اور کاموں سے اجتناب, تفکر, یقین۔۔۔ اسکے لئے وقت کس کے پاس ہے۔۔۔

البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں کچھہ نہ کچھہ نوجوان اتنی مایوسیوں اور بند ماحول میں بھی خود ہی اپنے لئے زندگی کاراستہ چن لیتے ہیں اور اسطرح اکثر دوسروں کے لئے بھی زندگی آسان کردیتے ہیں۔۔۔

توہین رسالت کے ذکر پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا نام یادآجاتا ہے اور ساتھہ ہی ممتاز قادری, جس نے کچھہ ملاؤں کی جوشیلی تقریریں سن کر اقدام قتل کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ ملازمت تو حکومت کی کررہا تھا مگر اسکی وفاداریاں مولویوں کے ساتھہ تھیں, اس نے اپنی عقل, اپنے جذبات, اپنے اعمال کو اپنے عالموں کے اختیار میں دے رکھا تھا۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملا دوسروں کو تو جوش دلاتے ہیں لیکن خود کوئی ایسا کام نہیں کرتے۔۔…۔ اور جو انکی تقریریں سن کر قانون ہاتھہ میں لے اسے جنتی قرار دے کر لوگوں کو اسکے پیچھے لگا دیتے ہیں۔۔۔

ہماری فلم انڈسٹری اوراردو ادب کےکچھہ لکنے والوں نے بہت پہلے سے اس سوچ کو عام کیا ہوا ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر خودانتقام لینے والا اور اس کے لئے قانون کو توڑنے والا عوام کا ہیرو ہوتا ہے۔۔۔

شاید اسی عام تاثر کی وجہ سے ہمارے ہاں کے ہر مردوں عورتوں کو اپنی غلطیاں, اپنے جرائم جسٹفائے کرنے کی عادت ہوگئ ہے۔۔۔ اور شاید اسی لئے ممتاز قادری کا جرم ہمیں نظر نہیں آرہا۔۔۔

توہین رسالت کا قانون ہونا چاہئے اس میں تو کوئی بحث ہی نہیں۔۔۔ لیکن توہین کے مجرم کو بغیر وارننگ قتل کرنا, تعلیم سے ہٹانا, ڈرانا دھمکانا, گھریا علاقے سے نکال دینا۔۔۔ کونسا اسلام ہے۔۔۔ کیا اسلامی طریقہ یہ نہیں کہ اسے عدالت میں لےجایا جائے, اسکی بات سنی جائے, اسکو بحث کرنے کاموقع دیا جائے۔۔۔ کیا پتہ وہ توبہ ہی کرلے۔۔۔

ویسے بھی اسلامی تعلیمات کامقصد انسانوں کی اصلاح کرنے کا موقع دینا ہے, فورا سزانہیں۔۔۔ اور پھراگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے رسول کی, قرآن کی عزت کرے تو پھر وجہ بھی توفراہم کریں۔۔۔۔

ویسے کیا مولوی ہونے کے لئے ضروری کہ وہ مسکین, دوسروں کی خیرات زکواہ پر پلنے والا, محدود سے علم والا, بے ڈول روتا پیٹتا شخص ہو۔۔۔ یا پھرایک خاص لباس پہنے, گردن اکڑائے, اپنی کرسی پر بیٹھہ کر دوسرے فرقوں کی برائیاں نکالنے والا, لوگوں کے عام مسائل سے ہٹ کراپنی خانقاہوں اور آستانوں پردکانداروں کی طرح بیٹھہ کرگاہگوں کا انتظار کرنے والا بے ڈول کوئی شخص ہو۔۔۔ آخر مولوی کوئی نارمل انسان کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ سوال کرے, سوال سنے, جواب دے, جواب لے۔۔۔

 

Is current educational process in private schools worth spending money on it?

How many O’ Levels students have completed their A’ Levels since it’s introduction in Pakistan?  How many of them have really achieved what they wanted?

ایک اہم بات ہے اوروہ یہ, کہ طلبہ کو خود بھی پوچھنا اورسوچنا چاہئے۔۔۔ کہ بی اے میں دو سال کے لئے ایجوکیشن اور پھر مزید بی ایڈ کے لئے دو یاتین سال کی پڑھائی کا مقصد کیا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں جتنی دیر لگتی ہے رزلٹ آنے اور تعلیمی سال شروع ہونے میں, تو چار پانچ سال کے بجائے تقریبا سات سال لگ جاتے ہیں۔۔۔ بی اے سال اول کی طالبعلم جوعموما اٹھارہ انیس سال کی ہوتی ہے, بی ایڈ کرنے تک پچیس چھبیس کی ہوجاتی ہے۔۔۔ اکثر تو اس دوران اس کی شادی ہوجاتی ہے اور ملازمت اسے گھر اور بچوں کے لئے کرنی پڑتی ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عام پرائیویٹ اسکولوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس لڑکیاں کم تنخواہ پر رکھہ کر کام چلایا جاتا ہے۔۔۔ لڑکے شاید ہی ایجوکیشن میں آتے ہوں گے۔۔۔

پھر یہ کہ دوسال ایجوکیشن پڑھنے کے بعد ان میں کیا صلاحیتیں پیدا ہوئیں کیا وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ۔۔۔ آزادانہ اور مثبت سوچ رکھتے ہوں۔۔۔ کسی بھی موضوع پر لکھہ سکیں یابحث کرسکیں۔۔۔ پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرسکیں۔۔۔  کسی بھی درجہ کے بچوں کو نتیجہ خیز بنیادی تعلیم دے سکیں۔۔۔ تعلیمی نظام میں جو غلطیاں ہیں انھیں تبدیل کرسکیں۔۔۔

آج تک کےبحث ومباحثوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج تک ہم نے اپنے نظام تعلیم کی ناکامی کا صرف ایک اندازہ لگایا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ شاید ہم مغربی دنیا کے نظام تعلیم کو نہ صحیح سمجھہ پائے اور نہ رائج کرپائے۔۔۔ نتیجہ کے طور پہ ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو یا تومغربی دنیامیں کامیابی حاصل کرچکے ہوں یا کم از کم اسکے حق میں بول سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اندازہ نہ لگا پائے کہ یہی تو ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے۔۔۔

دوسری اہم سوچنے والی بات یہ ہے۔۔۔ کہ ہمارے ایجوکیشن/ تعلیم کے سلیبس میں حسب عادت غیر ملکیوں کے نظریات کے علاوہ دارلعلوم دیو بند, علی گڑھ تحریک, ندوہ العلماء وغیرہ کا ذکر ہے لیکن کہیں بھی ابوعلی الحسین ابن عبدالله ابن سینا اور ابن طفیل کے نام کا ذکر نہیں جنکے نام خاص طور پرایجوکیشنل فلاسفی یعنی فلسفہ تعلیم کے موضوع پر مغربی دنیا میں افلاطون اورارسطو کے ساتھہ آتے ہیں۔۔۔ بو علی سینا نے مونٹیسوری اور یوتھہ کی تعلیم کے اصول وضع کئے۔۔۔ ہم جانتے نہیں۔۔۔ یہ مسلمانوں پر ظلم نہیں تو کیا ہے۔۔۔ ایجوکیشنل سائیکا لوجی کی انگلش کی کتاب (جسکو ڈاکٹر عبدالرؤف نے لکھا ہے جو کہ کافی ڈگریز ہولڈر ہیں) سے اسلامی حوالہ جات غائب ہیں۔۔۔ ایجوکیشن کی انگلش میں کورس بک کا سائز ہے تقریبا پانچ انچ بائے   تقریبا سات انچ اور کل صفحات کی تعداد ایک سو چونتیس۔۔۔ گو کہ اس میں امتحانات میں آنے والے عام سوالات کے جوابات  موجود ہیں اور طلبہ نے صرف رٹا لگانا ہے۔۔۔  لیکن طلبہ کے تعلیمی رجحان کے لحاظ سے تو یہ چھوٹی کمزور سی کتاب بھی بہت موٹی ہے۔۔۔

عربیوں نے اپنے مفکرین کے مجسمے بنا کر انکو خراج تحسین پیش کیااورہم ایک علامہ اقبال کی قدر نہ کر سکے۔۔۔  البتہ ہمارے سیاستدانوں نے افتتاحی تختیوں کی یا پھر چوک پر پتھر سے بنے آرٹ کی شکل میں اپنی نا اہلی کے ثبوت ضرور چھوڑے ہیں۔۔۔ کراچی میں جگہ جگہ نصب ملیں گی۔۔۔  میں اسے کہتی ہوں اپنی زندگی میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے کتبے لگانا۔۔۔ کیونکہ یہ تختیاں ہوتی ہیں جن پر انکے کل کارناموں کی تاریخ لکھی ہوتی ہےانھیں اپنی قوم سے تو توقع ہوتی نہیں کہ وہ انھیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےاور سچی بات ہےکہ ۔۔۔ جس قسم کے نظام تعلیم کی پاکستان میں ضرورت ہے اس کے لئے ماں اور باپ تو اگلےسو سال تک راضی نہیں ہوں گے,  سرپرست ہاتھہ نہیں رکھنے دینگے, ڈونرز فنڈنگ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔

پہلی چیز تو یہ پسند نہیں آئے گی کہ تعلیمی کورس سب کے لئےایک جیسا ہو, دوسرے یہ کہ لوکل سلیبس پر مشتمل ہو, تیسرے یہ کہ بچوں کو گدھا بنائے بغیر کچھہ سکھایا جائے, چوتھے یہ کہ مقابلہ بازی نہ ہو, پانچویں یہ کہ موجودہ طریقوں اور سوچ سے ہٹ کر ہو, چھٹے یہ کہ کم بجٹ کا ہو, ساتویں یہ کہ اس میں کسی کی شو شا نہ ہو۔۔۔۔۔۔

لہذا یہ تجربہ کیا جاسکتا ہے صرف یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں پر۔۔۔

شاید اسی لئے زیادہ تر رسولوں اور پیغمبروں کو والدین کے ہوتے ہوئے بھی ایک یا دونوں والدین سے دور رکھہ  کرپالا گیاہو۔۔۔

ان یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نیوٹرل ہوتے ہیں۔۔۔ اگرانھیں اچھائی کی طرف راغب نہ کیا جائے تو خودبخود برائی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔۔۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ معاشرے کے خلاف انتقامی جذبات و خیالات بھر کر ان کو اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور معاشرے پر کس بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں اسکی مثالوں سے صرف پاکستانی معاشرہ نہیں بلکہ ساری دنیا بھری پڑی ہے۔۔۔

نظام تعلیم میں سے ذرا دیر کو تربیت اورتنظیم والاحصہ نکال دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہماری زندگیوں سے تو یہ عرصہ دراز سےغائب ہی ہے اور والدین سمیت کوئی اس میں ذاتی طور پر اورعملی طور حصہ لینے پرتیار نہیں۔۔۔ بلکہ شاید وزارت تعلیم سے بھی اسکا مطالبہ کرنے پر تیارنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میرے حساب سے جو کچھہ وزارت تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ہے لکھنا اور پڑھنا سکھانا اور حساب کتاب کی سمجھہ بوجھہ پیدا کرنا۔۔۔

پھر وزارت تعلیم ملک کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاملات سے بیگانہ رہتی ہے جہاں امراء ور شرفاء کےبچے کچھہ سیکھنے سکھانے جاتے ہیں۔۔۔ اور باقی جوآبادی بچی اس کا شاید دس فیصد سرکاری اسکولوں کا رخ کرتا ہوگا۔۔۔ تو اتنی کم تعداد کے لئے صرف لکھنے پڑھنے اور تھوڑے بہت حساب کتاب سکھانے کا بندوبست کرنا موجودہ تعلیمی بجٹ میں کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہے بھی تو تعلیمی بجٹ کو بلاوجہ کے اور فضول ترین بے نظیر انکم سپورٹ کے بجٹ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔۔

I don’t know why has Turkey agreed upon supporting the most useless Benazir Income Support Program in Pakistan?  Oh, I get it.  It could be the program to generate income for Benazir’s poor family.  Any country must visit Pakistan and take public opinion before responding to our official beggars.

اچھا اس بجٹ میں سے تعلیمی اداروں کی دیکھہ بھال بھی نکال دیں تو جو کام بچا وہ خیراتی اداروں میں اور یتیم خانوں میں ہو ہی رہا ہے۔۔۔ لہذا پاکستان میں کم از کم دس سال تک وزارت تعلیم کی ضرورت نہیں۔۔۔

اب جو کام بچا ہے تعلیم سے متعلق, یعنی لکھنا پڑھنا گننا, اسکے لئے پورا پورا سال ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچے تو زیادہ جلدی اور اچھا نتیجہ دے سکتے ہیں۔۔۔

اپنے ملک کا جو بیڑہ ہم سب نے مل کرغرق کیا ہے۔۔۔ اسکو دیکھتے ہوئے اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ بھلا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔ ملازمتیں تو پہلے ہی کہیں نہیں ہیں۔۔۔

بہت آسانی سےسمجھہ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ پرائیویٹ اسکولوں کالجوں والے یا تو ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر تے ہیں یا پھر پرائیویٹ اداروں کے درمیان گھومتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں کالجوں میں جائیں بھی تو مقصد کچھہ دینا نہیں ہوتا بلکہ آسان ملازمت اور حکومتی مراعات کا حصول ہوتاہے, اسی لئے ان سے بہت امیدیں رکھنا فضول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری اور خیراتی اسکولوں اور اداروں میں تھوڑ ے بہت ہی سہی پڑھے لکھے باشعور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ فٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔

اس کے علاوہ بھی ذرا دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سے مسلمان ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک بھی پاکستان سےبد تر حالت میں ملیں گے۔۔۔ پڑھنے پڑھانے والوں کے لئے ہر ملک کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں اسکی کچھہ شرائط ہیں۔۔۔ ایک صبر یعنی جلد بازی نہ کرنا۔۔۔ دوسرا قناعت یعنی بہت زیادہ کی توقع نہ رکھنا۔۔۔ تیسرا تسلسل کے لئے مستقل جگہ اور اسباب کا انتظام ہونا تاکہ غیر متوقع حالات کا اثرنہ پڑے ۔۔۔ چوتھے, کیونکہ مستقل مزاجی سے کسی مقصد کے لئے کام کرنے والوں کی کمی رہتی ہے, اس کے لئے متبادل انتظام رکھنا۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ دو ہزار گیارہ میں بھی کسی نے مونٹیسوری اورایلمینٹری کلاسز میں وڈیوز اور کمپیوٹرز کو مستقل ذریعہ تعلیم نہیں بنایا۔۔۔ جبکہ پرائیویٹ, سرکاری اور خیراتی۔۔۔ سارے تعلیمی ادارے اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ اکثر انسانی ذرائع کا اچھا متبادل  بھی ثابت ہوتے ہیں۔۔۔

کسی نے بہت اچھی بات کی تھی کبھی۔۔۔ کہ ساری اردو الف سے ے, ساری انگلش اے سے زی/زیڈ اور سارا حساب ایک سے دس تک کے ہندسوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کم ازکم اتنی تعلیم تو کوئی بھی دے سکتا ہے اور کوئی بھی لے سکتا ہے۔۔۔ اور کتنے سال لگتے ہیں اتنی سی چیزیں سکھانے میں۔۔۔ کیا الف سے آم, ب سے بلی , آموں کی تعداد اور رنگ, بلیوں کی حرکات بتانے کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

سب سے پہلا کام تو یہ کرسکتےہیں کہ کچھہ عرصہ کے لئے تعلیمی عمل کو تین بنیادی حصوں/لیولز میں تقسیم کردیں۔۔۔  پہلے حصہ کا تعلق عمراورکسی مقررہ وقت سے نہ ہو بلکہ اسکا مقصد صرف اور صرف خود سے پڑھنے, لکھنے اور گننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو۔۔۔  ایک خاص بنیادی درجے تک  کا امتحان جو بھی جس عمر اورجس حال میں بھی پاس کرلے اسے ایک ڈگری دے دیں۔۔۔ ایسے امتحان ہر چھہ ماہ بعد لئے جا سکتے ہیں۔۔۔ معاشرہ انسانوں پرمحنت کرنے سے بنتا ہے, چیزوں پر نہیں۔۔۔ انسان صحیح ہوں تو چیزیں رفتہ رفتہ صحیح ہوجاتیں ہیں۔۔۔

اگر ایجوکیشن/ تعلیم کو نویں جماعت  سے شروع کردیں۔۔۔۔۔۔ ( جوکہ مشکل نہیں کیونکہ یہ تجربہ  بہت پہلے ہمارے اسکول میں نویں جماعت میں کیا جا چکا ہے اور وہ بھی سائنس کی کیٹیگوری میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کالج کے مزید دوسال ملا کراسے چار سال کابنادیں۔۔۔ اگر اس چار سالہ کورس میں چھٹیوں کی تعداد کم کر کے وقت اور ایام کی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھہ پڑھایاجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں۔۔۔

کیا مشکل ہے۔۔۔ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

کیا کہا حکومت نہیں کرے گی, نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت کی بات کون کررہاہے۔۔۔ یہاں عوام اور حکومت ایک دوسرے کی سنتے ہی کب ہیں اورکب پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں میں تو آج تک بھی مونٹیسوری سسٹم نہیں ہے۔۔۔ پھر یہ ہمارے تعلیمی اور معاشرتی نظام کا حصہ کیسے بن گیا کہ اس کے  بغیر سانس نہیں لیا جاسکتا۔۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔۔ پرائیوٹ, یہ ملک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر پرائیویٹلی ہی چل رہا ہے۔۔۔ آغا خان بورڈ, اسلامی فرقوں کے اسکول, حفظ کے مدرسے, او لیولز۔۔۔ کیا سرکار فنڈنگ کرتی ہے۔۔۔ تونویں جماعت یعنی چودہ سالہ بچوں کے لئے چار سال کا تعلیم کا کورس, بیس سال کی عمر میں ایک نوجوان یا  نو جوانی علم دینے کے لئے تیار۔۔۔  حکومت یہ تبدیلی لے آئے تو کیا ہی بات ہے۔۔

ویسے جہاں اتنے تجربات ہور رہے ہیں وہاں ایک اور سہی۔۔۔ مطلب یہ کہ نظام واقعی بدل دیں۔۔۔ نہیں, نہیں, بھئی کتابیں نہ بدلیں, سلیبس تبدیل کرلیں۔۔۔ نویں جماعت سے جو مضامین کا مرکب یا کامبینیشن دیا جاتا ہے سائنس, آرٹس, ہوم اکنامکس اور کامرس کا۔۔۔ وہ آج کی دنیا میں فضول ہے۔۔۔ اسکے بدلے تمام طلبہ کے لئے نویں دسویں میں تمام مضامین کا آسان تعارف یا بنیادیات لازمی کردیں۔۔۔ کالج لیول سے مین کیٹیگوریز میڈیسن/طب, انجینئرنگ, تعلیم, زراعت, ماحولیات, اور قانون کردیں۔۔۔

جو مضامین بلا وجہ آرٹس گروپ میں تھے یعنی سائیکالوجی/نفسیات, سوشیالوجی/عمرانیات, پولیٹیکل سائنس/سیاسیات, انٹرنیشنل ریلیشنز/بین الاقوامی تعلقات, اکانومی/معاشیات, لائبریری سائنس, جغرافیہ, تاریخ پاکستان, تاریخ اسلام, سوشل ورک, عربی, فارسی وغیرہ کو دو یا تین اختیاری مضامین کی حیثیت سے مین کیٹیگوریز میں شامل  کردیں۔۔۔ بلکہ کمپیوٹر سائنس, بزنس/ کاروبار, فلسفہ کو بھی ان میں شامل کردیں۔۔۔ کیونکہ یہ وہ مضامین ہیں جن کاتعلق اوپر والی تمام مین کیٹیگوریز سے ہے۔۔۔

اس طرح دوسالوں میں اگر مین کیٹیگوریز کے چھہ پیپرز ہوں تو اردو لازمی, انگلش لازمی اور چار اختیاری مضامین ملاکر کل بارہ پیپرز بنیں گے۔۔۔ یعنی ایک سال میں چھہ پیپرز۔۔۔

اگلے دوسالوں یعنی بیچلرز ک لئےاسی کا ایڈوانس لیول ہوگا۔۔۔

اس طرح پہلی سے آٹھویں جماعت, نویں دسویں اور انٹرمیڈیٹ۔۔۔ تین بنیادی درجہ یا لیولز بن گئے۔۔۔ ان بارہ سالوں کے بعد تقریبا اٹھارہ سال کی عمر ایک لڑکا یا لڑکی معاشرے میں اپنا کوئی  رول ادا کرنے کے قابل ہونگے۔۔۔

ہوم اکنامکس ننانوے فیصد لڑکیوں کے لئے ہے اور اسکے لئے میمن فاؤنڈیشن اور دوسرے پرائیویٹ ادارے موجود ہیں اور بہت اچھا کام کررہے ہیں۔۔۔ اسی طرح فائن آرٹس کے اپنے کالجزاورسینٹرز ہیں۔۔۔

حکومت کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں اس لئے انھیں ہوم اکنامکس اور فائن آرٹس پر ضائع نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

اس طرح سرکاری کالجز میں مزیدطالبعلموں کے لئے جگہ بن جائے گی۔۔۔


 

 

 

Advertisements

A Believer’s Discipline

A discipline is a relation between work and time, that is; executing action or work and/or dividing it into fragments or steps in accordance with the time duration, controlling desires according to time and situations (as the word for discipline in Arabic is ‘inzuibaat’/nazm-wa-zabt in Urdu), or it can be simply defined as distribution of time for work.  The discipline is a sign of a system.

The total time of the Universe (from beginning till its end) divided into the time of galaxies and solar systems.  Then in our solar system, time distributed to planets according to their movement.   Then on planet Earth, time is divided into seasons, day and night, then different countries have different sun-rise and sun-set timings, and then distribution of time into working hours, sleeping time, fun time according to people’s need and desires. (courtesy meta-existence)

The things in the sky and on earth have been assigned their specific tasks with no change in them and that is their discipline to serve humans.  Sun shines to give heat and light, moon appears to show the months, earth orbits and spins to cause seasons and days and nights, trees grow with fruits and flowers, plants give food and medicine, cattle, wild animals, sea animals, birds, etc.

تمام انسان مرد و عورت حضرت آدم کی اولاد ہیں۔۔۔ اور رنگ, نسل, قبیلے, زبان ان کی آپس میں پہچان کا ذریعہ۔۔۔ ہر رنگ, نسل, قبیلے, زبان کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں, ایک دوسرے کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔ یہ وفاداری کہلاتی ہے۔۔۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی کسی دوسری قوم کے لئےاپنی قوم کانقصان کرے تو یہ غداری کہلاتی ہے۔۔۔

ہر قبیلے یا قوم کےافراد کے آپس میں واسطے یا رابطے کی وجہ یا تو خون کے رشتے ہوتے ہیں یا پھر کام , جس میں مقصد یا تحریک بھی شامل ہے, یا اخلاقیات  جیسے کہ بیمار کی عیادت, پڑوسی کی دیکھہ بھال, مسکین کو کھانا کھلانا, قیدی کو چھڑوانا, غلام کو آزاد کروانا۔۔۔۔ یہ تینوں وجوہات بہت مضبوط اور بااثر عناصر ہیں کیونکہ انکے نتائج نکلتے ہیں۔۔۔ یہ تینوں عناصر عملی بھی ہیں لہذا وقت اور حالات کے پابند ہوتے ہیں اسی لئے انکے قوانین موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔

انکے علاوہ دو خیالی یا احساساتی عنصر بھی افراد کے درمیان رابطے کا کام دیتے ہیں اور وہ ہیں محبت اور دوستی۔۔۔ انکے اثرات بھی عملوالصلحت کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔ وقت وحالات کی قید سے آزاد, زندگی کو قائم اور متحرک تو رکھتے ہیں اور انفرادی اور وقتی فائدے بھی پہنچاتے ہیں لیکن ظلم کے نظام کے خلاف دیوار نہیں بنتے۔۔۔ 

اسلام ایک نظریاتی عقیدہ ہے جو انسانوں کو انکے رنگ, نسل, قبیلے, زبان سے نہیں بلکہ انکے کردار سے پہچانتا ہے اور اعمال کی بنیاد پر انکا احتساب کرتا ہے۔۔۔ اسی لئے اسلام کا کوئی وطن نہیں, وہ ہر جگہ اپنی نشانیوں کے ساتھہ موجود ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ سچائی, امانتداری, انصا ف, مساوات, خلوص, ایفائے عہد, گواہی, بہادری, حکمت, علم۔۔۔ جب ان خصوصیات کے ساتھہ ایمان بالله اور ایمان با لاخرہ شامل ہوجائے تو وہ شخص مسلمان اور وہ جگہ اسلامی ریاست کہلاتی ہے۔۔۔

رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ حکومت کفر پر چل سکتی ہے ظلم پرنہیں۔۔۔ جیسے خدا نے یہ کائنات اپنے حکم کے تحت عدل پر قائم کی۔۔۔ اور اپنی رحمت اور محبت سے اسے چلا رہا ہے۔۔۔ اسی طرح ایک اسلامی ریاست بھی ہوتی ہے۔۔۔ نظام عدل پہ قائم رہتی ہے اور عملوالصلحت,  محبتوں اور دوستیوں کی وجہ سے چلتی رہتی ہے۔۔۔

اور اگر الله پر ایمان اور آخرت یعنی حساب کتاب کا ڈر نہ ہو تو یہی محبتیں, دوستیاں رشتہ داریاں, وفاداریاں نا انصافی, جرائم, تعصب, نفرت, فرقہ بندیوں, فساد اور خون  خرابہ کاسبب بنتی ہیں۔۔۔ پاکستان اور دنیا کا حال ہمارے سامنے ہے۔۔۔ سورہ المعارج میں ارشاد ہوتا ہے۔۔۔ اور نہ پوچھے گا کوئی جگری دوست اپنے جگر دوست کو حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔۔۔ خواہش کر ے گا مجرم کاش وہ فدیے میں دیدے اس دن عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو, اپنی بیوی کواور اپنے بھائی کو۔۔۔ اور اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دیا کرتا تھا, اوران سبکو جو زمین میں ہیں۔۔۔۔

انسان چاہے کسی مذہب, کسی قوم سے ہوں یا لا دین یا خدا کے منکر بھی ہوں۔۔۔ انکی سوچ, خواہشات, مختلف حالات میں ردعمل, تقریبا تقریبا ایک جیسا ہوتا ہے۔۔۔ اسی لئے ہر قوم کی عوام نے مختلف زمانوں اورعلاقوں کے باوجود اپنے نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات کے ساتھہ ایک جیس سلوک کیا۔۔۔ حتی کہ مسلمانوں نے بھی ہر قوم کی طرح خود کو فرقوں, علاقوں اور زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرلیا۔۔۔۔ لہذا آج وہ بھی اس گلوبلائزیشن کا حصہ بن چکے ہیں جسکا عقیدہ  خدا کی وحدانیت نہیں بلکہ انسانیت ہے۔۔۔ جسکا عمل الله کے پسند یا ناپسند کی پابندی نہیں بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل ہے۔۔۔ جس کا احتساب خدا کے قوانین نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہو ئے آئین ہیں۔۔۔ جس میں باتیں آسمانوں کی کی جاتی ہیں لیکن نظرانسانی قد سے اوپر نہیں جاتی۔۔۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ہر انسان کو خدا کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔۔۔

سورہ الجاثیہ میں بیان ہوتا ہے۔۔۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا اس شخص کو, جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنالیا۔۔۔ تو الله نے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا اور اسکےکانوں اور دل پرمہر لگادی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔۔۔ کون اسے ہدایت دے سکتاہے جسے الله نے گمراہ کردیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



دنیا میں اکثر, انسانوں کو نیکی, بھلائی کی طرف راغب کرنے, حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے, انسانی مساوات کا تصور پیدا کرنے کےلئے جانوروں اور چیزوں کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانی کی طرح بہنا سیکھو جو سبکو سیراب کرتاہے, سورج کی  روشنی بنو جو سب کے لئے زندگی کا باعث ہے, درخت خود دھوپ میں کھڑے ہو کر سب کو سایہ فراہم کرتے ہیں, چیونٹی ہمت نہیں ہارتی, شیر کی طرح بہادر بنو, امن کا نشان فاختہ,  کووں کا ایکا الو عقلمند ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ آسمان, زمین, سورج, چاند, درخت, پھول, پودے, گائے, بکری, شیر, پرندے۔۔۔۔۔۔ یہ سب ایک لکھی لکھائی سکرپٹ کے مطابق اپنے کام کر رہے ہیں۔۔۔ یہی انکی تقدیر ہے  یہی انکا ڈسپلن اور یہی عبادت۔۔۔ ان کی کوئی مرضی یا ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ تھک گئے ہیں, دل نہیں چاہ رہا, آج کچھہ نیا کرتے ہیں۔۔۔۔ اسی لئے جانوروں کے کاٹنے, مارنے کے قوانین نہیں, حساب کتاب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرعد, آٹھویں آیت۔۔۔ ہرچیز اس کے سامنے ہے ایک تناسب کےساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ القمر۔۔۔ بےشک ہم نے تخلیق کیا ہر شئے کو مقررہ اندازے کی ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرحمن۔۔۔ اور توازن قائم کیا ہر شئے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسا ن اشرف المخوقات ہے۔۔۔ وہ ان چیزوں سے سیکھہ سکتا ہے, انکو استعمال کرسکتا ہے مگر اپنی زنگی کے مقصد اورکاموں کا ان سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ انسان کو نیت, ارادے اور خواہشات کے ساتھہ پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الشمس۔۔۔ قسم ہے نفس انسانی کی اور جیسا اسے ہموار کیا, پھر الہام کردی اس پر اس کی بدی اور پرہیز گاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیدائشی مسلمان, ہندو, یہودی, عیسائی, لادین یا خدا کے منکر اشخاص کے درمیان کیا فرق ہوتاہے۔۔۔ ان سب مذاہب کے چودہ, پندرہ, سولہ بلکہ اٹھارہ بیس سال کے بچوں کا انتقال ہو تاہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ معصوم تھا۔۔۔ کیونکہ انھوں نے شعوری طورپر کوئی مذہب کوئی زندگی کاراستہ اپنایا نہیں ہوتا۔۔۔ اپنے نفس میں موجود نیکی اور بدی کی صلاحیتوں کو آزمایا نہیں ہوتا۔۔۔  اسی لئے بچوں کو بھی کبھی پھولوں, کبھی فرشتوں کی طرح معصوم کہا جاتا ہے۔۔

انبیاء, رسل اور بہت سے اہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی بھی معصومین کہلاتے ہیں کیونکہ ان کی زندگیاں مکمل طور پر الله کی رضا کے تابع ہوتی تھیں۔۔۔ انکی دنیاوی خواہشات بھی الله کے حکم مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔۔۔ بظاہر دنیا کے کاموں میں مصروف نظر آنے والے یہ لوگ ہر لمحہ اپنے رب کے احکامات کاانتظار کرتے تھے۔۔۔ اور حکم ملتے ہی باقی سب کام چھوڑ دیتے تھے۔۔۔  یہی انبیاء اور رسولوں کا ڈسپلن تھا یعنی جو احکامات الله کی طرف سے نازل ہو چکے ہیں ان کی پابندی, اور کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار رکھنا۔۔۔ اسی لئے جب کوئی قوم اپنے نبی کو اذیت دیتی, ان پر ظلم کرتی تو اسے تباہ کردیا جاتا۔۔۔

انسانوں میں بچے, نبی اوراہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی معصوم ہوتے ہیں۔۔۔

اب بچ گئی باقی انسانیت۔۔۔ جو اپنی نیتوں, حق خود ارادیت اور اعمال کے بازپرس کے لئے خدائے واحد کے سامنے حاضر ہوگی۔۔۔ اورتمام معصومین کو نکال کر تمام آسمانی کتابوں کی مخاطب یہی باقی انسانیت ہے۔۔۔ اور یہ بات پچھلی پوسٹ ,عملوالصالحات, میں بیان ہو چکی ہے کہ نیکی, بھلائی, اچھائی انسان کے اعلی کردار کی نشانی تو ہوتی ہے, گمراہوں کو ہدایت بھی دلا تی ہے, انفرادی یا اجتماعی طور پر ضرورتمندوں کی حاجات بھی پوری کرتی ہے, اور مظلوموں کو وقتی طور پر دلاسابھی دیتی ہے۔۔۔ آخرت میں آگ کے عذاب سے بچنے کا سامان بھی ہوں گی اور پل صراط پر روشنی بھی۔۔۔۔ اور اسی وجہ سے نیکی, بھلائی, اچھائی دنیا کے چلتے رہنے کا ذریعہ ہے۔۔۔

لیکن یہ ظالم کا ہاتھہ نہیں روکتی۔۔۔ لوگوں کو ان کا حق واپس نہیں دلاتی۔۔۔ ضروریات زندگی پورے کرنے کے مستقل ذرائع نہیں فراہم کرتی۔۔۔ گمراہی سے  ہدایت پانے والوں کو ایک اجتماعی قوت نہیں بناتی۔۔۔۔

Good deeds have no timings and no conditions, they can be done any time, to anyone, by anyone.   Likewise love and friendship are feelings and are not bound to time and situations.  That is why these three elements are a great tool of democracy.  They are the energy which keeps life moving in any circumstances.  But even together, they don’t build a power that can be used to form a system –> a force that attracts good-doers/pious people to stand at one platform and cause a resistance against evil, a strength to persecute or stop evil, a source that guarantees a continuity in provisions.
To turn into such power, they must be transformed into principals, rules and laws.  Laws are meant to be imposed and must be obeyed at their time, conditions and circumstances.
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت۔۔۔ وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو۔۔۔ آتی نہیں کچھہ کام یہاں عقل خداداد
اے مرد خدا تجھہ کو وہ قوت نہیں حاصل۔۔۔ جابیٹھہ کسی غار میں الله کو کریاد
مسکینی ومحکومی ونومیدی جاوید۔۔۔ جس کایہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
ملا کوجو ہے ہند میں سجدے کی اجازت۔۔۔ ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

 

 نیکی, بھلائی, اچھائی دوستی اورمحبت کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن انھیں ایک قوت بننے کے لئے اصولوں اور قوانین کی شکل اختیار کرنی پڑتی ہے۔۔۔ اصول اور قوانین ایک مقررہ وقت کے, حالات یا کیفیات کے پابند ہوتے ہیں۔۔۔ 

مثلا الله تعالی سےانفرادی رابطے, الله کو یاد کرنے اور فریاد کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن نماز کو, مل کر ایک جماعت کی شکل میں الله تعالی کے سامنے حاضر ہونے کا ذریعہ بنایا۔۔۔ یہ سماجی نظام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح صدقہ وخیرات کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن زکات اسلام کا مکمل معاشی نظام ہے جس میں زکات دینے والے, زکات لینے والے اور زکات تقسیم کرنے والے, سب شریعت کے اصولوں کے پابند ہوتےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح بیت الله کی زیارت کا, رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم کی زیارت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن حج کومسلمانوں کے بین الاقوامی تعلقات ومعاملات اور بین الاقوامی مرکزیت کا ذریعہ بنادیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح رمضان کے مہینے میں روزوں کا نظام انفرادی, اجتماعی, مالی, جسمانی فائدوں سے بھرا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وراثت, شادی, طلاق, انصاف, گواہی, جنگ کے قوانین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا ڈسپلن یا نظام زندگی کیا ہے۔۔۔۔۔۔

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات۔۔۔ مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

ایک مومن کی زندگی انبیاء کرام اور صحابہ کی زندگیوں کا عکس اور عام انسانوں کے برعکس ہوتی ہے۔۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انبیاء اور رسل حضرت جبرئیل کے ذریعے الله سے براہ راست ہدایات پاتے تھے اور صحابہ رسول سے۔۔۔ جبکہ مومن کو اپنی فراست سے کام لینا پڑتا ہے۔۔۔ رسول صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ مومن کی فراست سے ڈرو, کیونکہ وہ الله کی نظر سے دیکھتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا تصور ایک عام مسلمان سے ذرا ہٹ کے ہے۔۔۔۔ اسکی سوچ اپنے قبیلے, اپنے خاندان, اپنی روایات, اپنی قوم, ظاہری لباس, اور مروجہ نظام تک محدود نہیں ہوتی۔۔۔  زمین کے کسی خطے میں ہو, ایک کے بعد ایک رونما ہونے والے حالات میں وہ الله کی تدبیر ہوتا ہے۔۔۔۔  قرآن میں مومنین کی نشانیاں جگہ جگہ بیان کی گئیں ہیں۔۔۔ احادیث مبارکہ میں بھی مومن کی خصوصیات کا ذکر ملتاہے۔۔۔۔۔ مومن کی زندگی میں اولیت الله کے ان احکامات کی پابندی ہے جو ایک شرعی نظام کے طور پر قیامت تک کے لئے صادر کئے گئے ہیں لہذا وہ احکا مات تو تقدیر بن گئے ہیں, جنکی پابندی سارے مسلمانوں پر لازم ہے۔۔۔ لیکن اس سے بڑھہ کر وہ احساس ذمہ داری جو رسول صلی الله علیہ والہ وسلم سبکے کاندھوں پر ڈال گئے ہیں اسے فرصت سے نہیں بیٹھنے دیتی۔۔۔ لہذا انکو پورا کرنے کے لئے اسے مقررہ اوقات کار والے طریقوں سے الگ ہونا پڑتا ہے۔۔۔ اپنی زندگی کے معمولات کواپنے مقصد حیات کی راہ میں مجبوری نہیں  بننے دیتا۔۔۔۔ اسلامی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ پاکستان میں قائداعظم  سے اچھی مثال کیا ہوسکتی ہے۔۔۔۔ جنکا ڈسپلن تھا۔۔۔ کام, کام, اور بس کام۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا۔۔۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن, قاری نظرآتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

رسول صلی الله علیہ وسلم کل ایمان, کل اخلاق, کل نظام تھے۔۔۔ مومنین اس کل کا جزو ہیں۔۔۔ اسی لئے ہر مومن میں رسول صلی الله علیہ وسلم کی کسی خاصیت کی زیادتی نظر آئے گی اور کہیں کمی۔۔۔ اور اسی لئے مومنین ملکر جماعت کے طورپر تو اسلامی شریعت نافذ کر سکتے ہیں۔۔۔ ایک ون مین شو کے طور پر نہیں۔۔۔

امت کا زوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلفائے راشدین کے دور کے فورا بعد جو بات فتنہ بنی اور آج تک فساد کا باعث ہے وہ یہی ون مین شو والی حاکمیت ہے۔۔۔ اور مسلمانوں کے زوال کا    سبب اس سے لاتعلقی یا اسکے خلاف خاموشی۔۔۔ عام مسلمانوں کی اسی لاتعلقی اور خاموشی کا پہلا نتیجہ کربلا کی صورت میں نکلا۔۔پھر مسلمانوں نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے دور بھی دیکھے۔۔۔ اور آج فلسطین, کشمیر, عراق, افغانستان,  لیبیا, مسلمان افریقی ممالک, پاکستان۔۔۔ جہاں جہاں مسلمان ہیں, رو پیٹ رہے ہیں۔۔۔ لیکن کوئی اپنے ملاؤں, عالموں, سیاسی شیطانوں, علاقائیت,روایات چھوڑ کرایک ہونے کو تیار نہیں۔۔۔

مسلمانوں میں نیک کام کرنے والوں کی کمی نہیں۔۔۔ لیکن ٹیم ورک کی کمی ہے۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تیرہ سال لگائے اس نظام کو صحابہ کی شخصیت کا حصہ بنانے میں جس کو انھوں نے آگے نافذ کر نا تھا۔۔۔۔ جبکہ مسلمانوں میں نظام ایک شخص کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اسکے مرتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔


Unified Education in Pakistan

Unified educational system is in favour of common Pakistanis and is necessary for Pakistan’s peace and progress.  Those who are sincere to Pakistan must keep it a priority even if it take years in implementation.  It is going to be the most difficult task to gather the representatives of public schools, private schools, madrasahs, schools run by political figures, Agha Khan system, O’ Levels and home-schooling for the purpose to help in designing a unified syllabus from first to matriculation.

یکساں تعلیم کا کوئی بھی آئیڈیا فضول ہے اگر وہ عام لوگوں کو ملک کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کا اوراقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا موقع فراہم نہ کرے۔۔۔۔۔۔  لہذا پاکستان میں امن, ترقی, خوشحالی اور مضبوط  دفاعی طاقت کے لئے یکساں تعلیم کے ساتھہ ساتھہ  قوانین میں تبدیلی یا نئے قوانین ضروری ہیں۔۔۔

مثلا سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لئے انٹرمیڈیٹ کے ساتھہ سیاسیات, بین الاقوامی تعلقات, معاشیات کا علم لازمی ہو۔۔۔ امیدوار لازمی طور پر حکومت پاکستان سے سند یافتہ ہو۔۔۔ لازمی طور پر پاکستانی قومیت رکھتا ہو۔۔۔ اپنے علاقے میں اسکا کردار کیا ہے۔۔۔ ذریعہ آمدنی, ذاتی اثاثے کیا ہیں۔۔۔

ایک یکساں یا قومی تعلیمی نظام کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ مضامین اور موضوعات سب کے لئے لازمی ہوں۔۔۔ بلکہ ایسا نظام تعلیم جس میں مختلف عقائد, مختلف نظریات اور مختلف زبان بولنے والوں کے لئے چوائس موجود ہو۔۔۔ اوریہ کسی کے لئے بھی علم وہنر سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرسکے۔۔۔ لیکن ہوں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں۔۔۔
دنیا کا کوئی ملک اورکوئی نظام اس سے زیادہ یونیفائیڈ تعلیمی نظام نہیں دے سکتا۔۔۔

 اگر کسی جگہ کے لوگ ایک زبان بولتے ہوں, انکے عقائد ایک ہوں اور نظریات میں بھی فرق نہ ہو۔۔۔ اسکے باوجود بھی وہ اس سے زیادہ یکساں تعلیم کا تصور نہیں دے سکتے۔۔۔ کیونکہ بہرحال اگرانھوں دنیا کی باقی قوموں کے ساتھہ معاشی اور سیاسی روابط رکھنے ہیں توپھران کے نظام اور نظریات کو کسی حد تک اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنانا پڑے گا۔۔۔

اور یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں۔۔۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں موجود ہے ۔۔۔ اور غیر اسلامی بھی نہیں۔۔۔ 


کیا پاکستان میں مدرسے, سرکاری اسکول,  پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول اور ہوم اسکولنگ مرکزی حکومت کے تحت کام نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسکتے ہیں اگر بنیادی تعلیم کے علاوہ پرائیویٹ اسکولز کے مشکل, مہنگےاور درآمد شدہ سلیبس کو اور مدرسے کے کورسزکو ایڈوانس مضامین کی فہرست میں ڈال دیا جائے۔۔۔ اس طرح بنیادی تعلیم تو سب کے لئے ایک جیسی ہو گی لیکن ایلیٹ, غیر ملکی, مذہبی, صوبائی یا اور دوسری زبانیں بولنے والوں کے لئے اختیاری مضامین کی شکل میں چوائس موجود ہوگی۔۔۔ اہم بات یہ ہوگی کہ سند حکومت پاکستان کی ہو۔۔۔ اس کے لئے جگہیں بدلنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔ اپنی اپنی جگہوں پر تعلیم حاصل کریں اور امتحانات دیں۔۔۔  اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کردیا جائے۔۔۔ پرائیویٹ اسکول کالجز, مدرسے۔۔۔ سب اپنی جگہ پر بنیادی تعلیم کا سرکاری ریکوائرمنٹ پوری کریں۔۔۔ پھر طلبہ چاہیں جو مضامین ایڈوانس لیول پرپڑھیں۔۔۔ 

اسکے فوائد کیا ہونگے۔۔۔

سارا کا سارا تعلیمی نظام ایک مرکز کے تحت کام کرے گا۔۔۔ جس سے مرکزی حکومت کو اہمیت حاصل ہو گی, وہ مضبوط بھی ہوگی ۔۔

علمی بنیادوں پرلوگوں کی تقسیم اور تفاخر بہت حد تک کم ہو جائے گی۔۔۔ کیونکہ تمام کے تمام مضامین پر تعلیمی اسناد پہ ٹھپہ یاسیل مرکزی حکومت کی ہو گی۔۔۔

پاکستان میں سب سے بڑا تعلیمی فرق مدرسہ اور اسکولز کی تعلیم میں ہے۔۔۔ ایک کو شرعی تعلیم کہہ کر محدود کردیا۔۔۔ دوسرے کو جدید تعلیم کہہ کر کفر یا غیر شرعی یا دنیاوی قرار دے دیا۔۔۔ پاکستان کے ماحول میں دینی اور ماڈریٹ کا فرق بھی کچھہ کم ہوگا۔۔۔ اوردینی لوگوں کی آئے دن کے نفاذ شریعت کی دھمکیوں کا زور بھی کم ہوگا۔۔۔ اور دونوں قسم کے لوگ ایک ہی مرکز تلےآجائیں گے۔۔۔

صوبوں کے درمیان تعلیمی فرق بھی کم رہ جائے گا۔۔۔ ایک صوبے کے رہنے والے کو دوسرے صوبے میں جاکر تعلیمی سلسلہ بدل جانے کی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیراتی اسکولوں اور فلاحی اداروں کے بچوں کا کم از کم علمی بنیادوں پر احساس محرومی ختم ہوجائے گا۔۔۔ انکے پاس بھی کیونکہ  سرکاری سند ہوگی۔۔۔

پھر یہ کہ پرائیویٹ یا ہوم اسکولنگ والے بچوں کے لئے جو سائنس نہ لینے کی پابندی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ سائنس تو میٹرک تک لازمی ہی ہوگی۔۔۔ 

یہ سب کرنا آسان نہیں۔۔۔

چوں کہ ہمارا حکمران طبقہ جاہل اور ذہنی طور پر غلامانہ سوچ رکھتا ہے  وہ امریکہ اور مغربی دنیا کےاشارے کے بغیر کچھہ نہیں کرتا۔۔۔ اس لئے عوام کو ہی شور مچانا پڑے گا۔۔۔ اپنے اپنے علاقے کے سیاستدانوں اور حکومت پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔۔۔ اور وہ بھی کافی عرصے تک۔۔۔ 

دوسرا بڑا مسئلہ دینی فرقے ہیں۔۔۔  انکا کسی بھی معاملے کو سمجھداری سے نمٹانا نہ ممکن سا لگتا ہے۔۔۔ لیکن بہرحال معجزات بھی تو ہو سکتے ہیں۔۔۔  

تیسرا مسئلہ او لیولز اور آغا خان بورڈ۔۔۔ پرائیوٹ اسکولز اور برٹش تو او لیولز کے نام پر کڑوڑوں روپے احمق پاکستانیوں سے کمارہے ہیں۔۔۔ بھلا وہ اس لوٹ مار کو کیسے بند ہونے دینگے۔۔۔ دو سال بعد کا کورس دوسال پہلے پڑھا دیا تواس سے معیار بلند تو نہیں ہو جاتا۔۔۔

چوتھا مسئلہ ہے ہمارا طریقہ تعلیم جو خاص طور پر ابتدائی درجات میں اور ویسے بھی کتابوں اور کاپیوں کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اکثر تین یا چار سال کےبچوں کو بھی کتابوں اور کاپیوں سے لکھنے پڑھنے پر لگادیا جاتا ہے۔۔۔ یکساں تعلیم کا سن کر سب کا ذہن جائے گا ایک جیسی کتابوں کی طرف۔۔۔ حالانکہ یکساں تعلیم کا مقصد یکساں نتیجہ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ یکساں طریقہ تعلیم۔۔۔

پانچواں مسئلہ ہے خیراتی اسکولوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا۔۔۔ یہ تو چلتے ہی عطیات زکات پر ہیں۔۔۔ کوئی معیارقائم ہوگیا تو چندہ کون دے گا۔۔۔
چھٹا مسئلہ وہ اسکول جو سیاسی شخصیات نے کھولے ہیں یا انکے پرنسپلز بنکے بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ برداشت کر لیں گے کہ انکا اور انکی مخالف پاڑٹی کے اسکول کا معیار ایک جیسا ہو۔۔۔

ساتواں مسئلہ یہ کہ حکومت کی طرف سے بنیادی تعلیم کا سلیبس ترتیب کون دے گا۔۔۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں بپبلیکیشنز ہیں اور ساری ہی کہیں نہ کہیں استعمال ہورہی ہیں۔۔۔ اسی طرح مدرسے کے کورسز ہیں, سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں ہیں۔۔۔ کوئی کسی کتاب کو ابتدائی درجہ کے لئے موزوں سمجھتا ہے تو دوسرا اسے ایڈوانس لیول رکھتا ہے۔۔۔ کیا مدرسے, سرکاری اسکول, پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول کےنمائندے اور ہوم اسکولنگ کی طرف سے والدین اس میں ایک سطح پہ آکر حصہ لیں گے۔۔۔

آٹھواں مسئلہ بنیادی تعلیم کی تعریف اور اسکا معیارکیا ہونا چاہئے۔۔۔ یہ کون بتائے گا۔۔۔

What could/should be the definition of unified education in Pakistan?  Is unified education the synonym of fundamental education?

PHONICS:

I totally disagree with introducing phonics to our educational system at any level except for if there is a dire need of it.  Such as for especial children.

Pakistan’s modern education system is founded upon foreign-based ideas, methods, contents and curriculums.  Phonics is one of the method that was introduced with the purpose of quality education.  On one side, we have a government that consists of illiterate ministers and parliamentarians like Jamshed Dasti who are possessed with ignorance.  On the other side, we have educated people who are obsessed with imported items.  Both groups are dangerous for our identity as they both lack confidence, wisdom and spirit of freedom.  In short, they are slave-minds.

Western countries are developed and advanced countries.  One reason of their progress is that they don’t import but introduce ideas.  Now, instead of learning from them, we try to copy them as it is.  We waste our energy and time in convincing people that this imitation will get us some respect in the Western world.  What a rubbish!

These countries introduced phonics as a technique to enhance reading ability through sound of letters.  It is sound of a letter at the beginning or at the ending of a word, sound of vowels and sound of a compound.  English is their mother tongue.  This is the language they communicate in 365 days a year.  Before introducing any idea to their system, they study their people and the nature of requirement, they design it in a form of step-by-step guideline, they compose it in a timely manner, they train faculties, they prepare parents’ mind to accept it, their purpose of introduction is not to rip off money, it is to bring improvement.  Phonics may be good for them because they are not in hurry.  They don’t teach in large groups.  They don’t have to pressurize their children for quick learning so that they can get first position.  They don’t want to run away from their country after higher education.

Still I don’t get it that how do they figure out that at what age or level, their student should know the sound of letter ‘c’ as /s/ or /k/ — or ‘g’ as /g/ or /j/– then the difference between c and k and g and j –or the sound of ‘ph’ as /f/– or the sound of letter ‘u’ in but, put, use, blue — or merging the sounds of two vowels like in ‘road’, ‘lead’, belief — or when to use ‘the’ as ‘tha’ or ‘thee’ — or when do letters become silent?….at what age or level, students won’t need to use phonics?….. is phonics really meant for all students in general or only for special children?

In alcoholic societies, children are born with slow mental progress, brain disorders, mental retardation, low tolerance, difficulty in reading and relating connections and reasons.  So phonics is a useful technique for them in general.

Pakistanis are very talented people.  Lacking healthy environment and health facilities, our children are still born normal.  It is parents and the overall system that suck their abilities to progress.

Phonics is not good for our children.  It is damaging their brain, slowing down their learning abilities, burdening them with confusing sounds of a foreign language.  Our Montessori teachers are intermediate or B.A, B.Sc or B.Com.  They are not trained to deal with children, how to teach, how to behave, how to handle them.  Even the ones certified from Early Childhood Training Centers don’t know how to plan for phonics.  Even their sounds of letter differ in length and pronunciation.  For example, 95% of them mix up the short vowel sounds of ‘a’ and ‘e’, ‘v’ and ‘w’…. pronouncing very to vaary, was to vas, bed to baad, red to raad.  Also, it is a non-sense to teach normal children the normal things sounding like animals, aa, baa, caa, daa, skipping e, faa, haa, skipping i, at ‘G’ they are confused if alone it sounds like ‘g’ or ‘j’.  A child who is not even familiar with the sequence of letter, how can he learn their sounds skipping vowels and with exceptions?

If this is all we are doing to teach English as a language, both in speaking or reading, then we should focus on improving children’s listening skills, through stories, discussions, discipline and instructions.

 

 

 

 

 

MATRICULATION:

Matriculation is the tenth year of regular schooling system.  Generally, matriculation is defined as a process that prepares students for college level.  In America, it is part of the high-school which ends at Twelfth Grade.  Prior to partition, in South Asian region, it was regarded as a sign of honour and wisdom.  Even after the establishment of Pakistan, “matric paas students” were preferred for jobs and matrimonial proposals.

One aspect of our overall failure is that our governments never planned for improving educational system according to the growth in population and in comparison to the new world challenges.

The situation we are facing right now is that on one hand we have masters and bachelors complaining about suitable job opportunities while lacking professionalism.  On the other hand, we have a huge number of matriculated youth being hired at low salaries obviously not fulfilling any professional requirements.  Another horrible reality that we face in our system is that we never think of solving problems according to the mental and social level of our own people.  Most of our celebrities from different fields of Fine Arts, when don’t find anything else to do or let’s say when they think of serving nation, they start opening school or join some famous chains at high position.  Durdana Butt, Rahat Kazmi, Huma Akbar, Afshan Ahmed, Khushbakht Shuja’at, Jawad Ahmed, Shezad Roy and many more.  Have they ever tried to sit together and discussed how they can bring a change in the existing system, how they can get together to build a unified educational system that has something to do with Pakistan and with the people of Pakistan???

In Ninth and Tenth Grades, subjects are divided into three or four main groups which doesn’t make a sense.  At least not now.  Students have to choose to study either from Science Group, Arts or Humanitarian Group, Commerce Group or may be computer.  After two years of study, the Science group students have no idea about even the basic concepts of Economy, Psychology, Sociology, Education, Political Science, Sociology etc.  The Arts/Humanitarian group remain ignorant about simple Math, the basics of Zoology, Botany, Biology, Physics, Chemistry etc.  In Science group they don’t focus on writing skills and speech power.  Now what if a Science student has to deliver a speech about plantation to grow economy or write an essay on wild life in Sindh or prepare a Science syllabus for Elementary classes.  The career choices for Arts group students are to become a writer, singer, musician, performer, painter etc.  What if they have to write a true story of a zookeeper hero falls into love with a marine-biologist or a drama about a singer studying plants part-time.  All of them have zero knowledge about environment.

I just remembered this drama of Indus TV (I forgot the name) that was about a hospital, doctors, nurses and patients.  I really thought that it was a parody of some American medical shows because the whole serial was totally non-scientific.  The serial didn’t teach a single medical term to the viewers, neither it brought any awareness about health and hygiene.  They didn’t even discussed the problems of doctors and patients in our society.  Each episode was focused on the make up and style of female actresses (doctors/nurses), love affair between the staff, emotional scenes of patients coming depressing background.

Back to the point, this two-years of matriculation becomes useless if they decide not to (as most of the students do) join any college or institution for further studies.  The matriculated students are not given jobs on the basis of subject grouping.  The idea is to eliminate grouping subjects in Ninth and Tenth Grade and to introduce an intensive occupational studies course of one or two year instead to equip our students with the fundamentals of main subjects in each existing group.  Girls are usually hired as assistant teacher, teacher, receptionist, office-helper, factory worker etc.  Boys get jobs as sales person, clerk, cashier, messenger, dyer, courier etc. Many other countries are doing it.  My two-years of occupational studies course was composed to accounting, business maths, writing skills, keyboarding, typing, business law, psychology, personal management, fundamentals of computer, literature, business management etc.  Why can’t we introduce such kind of grouping here?

ہمارے ملک میں تعلیم کی منصوبہ بندی کی جتنی  کمی ہے اس سے کہیں زیادہ زندگی کی منصوبہ بندی کی کمی ہے۔۔۔ تعلیم کا معیار جتنا کم ہے تربیت کا معیار اس سے بھی کم۔۔۔ جتنا تعلیمی نظام بگڑاہواہے اس سے زیادہ سماجی اورسیاسی نظام بگڑا ہوا ہے۔۔۔ حالانکہ تعلیم سے پہلے ان سب چیزوں کاہونا ضروری ہے۔۔۔ یعنی زندگی کی منصوبہ بندی,  تربیت کا معیار اور مضبوط سماجی اورسیاسی نظام۔۔۔۔۔۔

ہمارے ہاں عام تعلیم کی حد میٹرک یعنی دسویں جماعت ہے۔۔۔ اسکی ایک وجہ لوگوں کے معاشی حالات انھیں لڑکوں کو آگے پڑھانے کی اجازت نہیں دیتےاور وہ کسی کام سیکھنے پر بٹھا دئے جاتے ہیں۔۔۔ لڑکیوں کی شادی ہوجاتی ہے یا منگنی۔۔۔ پھر وہ جب موقع ملے پرائیوٹ ہی پڑھتی ہیں۔۔۔ اکثر پرائیوٹ اسکول میں میٹرک یا انٹر پاس لڑکیوں کوٹیچرز رکھا جاتا ہے جو کم تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔۔۔ دوسری وجہ تعلیم کی اہمیت کو نہ پہچاننا۔۔۔ اکثریت اسے اسکول کالجز کی کاروائی سمجھتی ہے, جس میں امتحان پاس کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوتاہے۔۔۔ اور جو اہمیت بتائی جاتی ہے اسکے مطابق ملازمتوں کا نہ ملنا۔۔۔ کم عمر میں کم تعلیم اوربے تربیتی کے ساتھہ آگے بڑھنے کاراستہ کرپشن ہوتاہے۔۔۔

میٹرک پاس بچوں میں ان صلاحیتوں کی ازحد کمی ہوتی ہے جو ایک لڑکا یا لڑکی میں دس بارہ سال کی اسکولنگ اور گھریلو تربیت کے نتیجے میں ہونی چاہئیں۔۔۔ سوچ, رکھہ رکھاؤ, انفرادیت, معلومات عامہ, آگے بڑھنے کا جذبہ, بہتری کی خواہش, مسائل کو سمجھنا انکا حل تلاش کرنا, منصوبہ بندی کرنا, خودانحصاری۔۔۔۔۔۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نویں جماعت سے جومضامین کی گروپنگ کی جاتی ہے اور اس میں موجود مواد کا انتخاب  اکثر بے فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر سائنس گروپ کے بچے ایجوکیشن, سیاسیات, معاشیات کے تصور سے بھی ناآشنا ہوتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ایک سائنس کے طالب علم کو کمانا تو ہوتا ہی ہے, اس کا تعلق ملکی سیاست اور تعلیمی نظام سے بھی ہو تا ہے, لوگوں کی نفسیات سے بھی ہوتا ہے۔۔۔ خاص طورپر ان بچوں کے لئے جنھوں نےمیٹرک کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہہ دیناہو۔۔۔ لازمی ہے کہ وہ ضروری مضامین کے بنیادی تصور اور انکی حقیقی زندگی میں کارآمد ہونے سے واقف ہوں۔۔۔

آٹھویں جاعت کابچہ عموما تیرہ سال کاہوتا ہے۔۔۔ اگر نویں اور دسویں یعنی دو سال مضامین کی گروپنگ کے بجائےایک ایسا تعلیمی کورس مرتب کردیا جائے جس میں موجود مواد انکے کام کاہو تو تعلیمی نظام اورسماجی نظام دونوں میں بہتری آسکتی ہے۔۔۔

فوری طور پر حکومتی سطح پر تو تبدیلی ناممکن ہے۔۔۔ لیکن دن بہ دن بڑھتی ہوئی آزمائشوں کا آسانی سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی نئی راہ تو نکالنی پڑے گی۔۔۔ لوگوں کے ذہنوں کو بہتر تبدیلی کے لئے آمادہ کرنا شاید دنیاکاسب سے مشکل کام ہوتاہے۔۔۔ باہر ممالک کی طرح اگر ایک سال یا دو سال کا  آکیوپیشنل اسٹڈیز کا انٹینسو کورس جس میں کتابوں سے زیادہ تحقیق, بحث اور لکھنا شامل ہو متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔۔۔ جس سائنس, آرٹس, کامرس, کمپیوٹر کے بجائے پرفیشنل اسکلز کو ابھارنے پر مرکوز کیا جائے۔۔۔ کیونکہ ابھی تو حال یہ ہے کہ ہمارے ببیچلرز اور ماسٹرز کوبھی ملازمت کی درخواستیں نہیں  لکھنی آتیں۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

EDUCATIONISTS:

We all have endorsed the fact that our schools and colleges are worthless places for providing with any useful training or education of at least international level.  If they do then what do we complain about.  If they don’t then we must think of ways changing it.  In order to change it, we must discuss what kind of change do we want and why.

Since we all know our teachers, most of them have no passion for their profession, others are either over-burned with piles of responsibilities or are obstructed due to limited resources.

The private institutions (from Montessori to college level) can make a difference by using technology at their premises.  Few years ago, I gave this idea to a school owner that the principals of different schools in a certain area can arrange a workshop once a month for teachers’ training.  They can gather at some place and exchange their expertise.  They can exchange good ideas, curriculum and other activities.  They can also watch educational videos to learn effective teaching skills.  Plus they can plan community visits and inter-school competitions.

Principals can sit together and think of ways to reduce the cost of education and make it affordable for parents.  For teachers’ convenience, they must provide them with some kind of help in their daily routine.  They must be given enough time to get organized, to check students’ work and a precise syllabus according to students’ level.

Preschools, schools and colleges can use videos, CDs and DVDs to occupy children with educational learning.  Children can be kept involved with Adam’s World, Sound Vision and Astrolab productions, Seasame Street, Barney, Between the Loins (children’s show about vowels) and other good shows on daily basis.  They can learn new vocabulary, songs, games and manners by watching these videos.  Just half-hour video everyday can play a big role in keeping them busy with something interesting for their age.  That half-hour or one hour will be a spare time for teachers to relax a little and finish their checking.

Even public schools, colleges and universities can take advantage of the technology (I don’t want to call it a new technology since it belongs to the last century).

If the public and private institutions are not interested in it, still a great idea for charity schools and other places where unwanted or homeless children are accommodated for any reason.  Such as Edhi’s children section, orphanages, etc.

Many of our high profiles like Ms. Afshan Ahmed, Madam Khushbakht Shuja’at, Mr. Rahat Kazmi, Madam Durdana Butt, Mr. Shezad Roy, Mr. Jawad Ahmed and many others who claim that they are very sensitive towards the issues of our society, must sit together and plan something.  All these ‘sensitive’ educationists can influence the parents with whatever they come up with (something like negotiations or conclusions).

Cost-Reduction in Education:  It’s possible.

1) Little children can learn to write and to draw things on slates (old fashioned) instead of wasting money on copies/notebooks and drawing copies.

2) Instead of buying books in Montessori, they can learn alphabets, numbers and words on board or charts.

3) Instead of buying supplies, school can charge a little amount from each parents and purchase the necessary items in bulk on discount,  keep them in classes and train children to share them, use them and organize them.

4)  Painting school walls with cartoons and animals looks horrible and messy, it doesn’t help them in learning.  Instead, take them to the nearby park, zoo, keep a pet or give them some other activities to show them the real colours of life.  They need to be trained to face the reality, not to be lost in myths and mysteries or unnecessary imaginations.

5) Avoid phonics, it makes normal children read like foolish.  Just teach them the letters like a normal insaan ka bacha is supposed to learn.  Children are human beings too, they should not learn to read by making strange animal sounds.  After all, our teachers don’t know how and when to teach phonics.

 

 

 

 

New Political Science جدیدسیاسیات

Isn’t it time to change the way we think and discuss things in educational institutions, if we really do so?

Don’t we need to design a new syllabus for Political Science?  What should be the contents of the new syllabus?

لفظ مہاجراسم مفاعل ہے اور نکلا ہے ہ ج ر یا ہجرسے,  یعنی ترک کردینا, چھوڑ دینا۔۔۔ اردو میں جدائی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔۔۔  عام زبان میں مہاجر وہ شخص ہوا جو اپنا وطن, اپنا علاقہ کسی وجہ سے چھوڑنے پر مجبور ہوجائےاور کسی دوسرے ملک یا علاقے مں عارضی طور پر پناہ لے۔۔۔ اس وقت تک کے لئے جب تک اسکے اپنے ملک میں حالات اچھے ہو جائیں اور وہ واپس جا سکے۔۔۔ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمان کچھہ عرصے بعد مکہ واپس آگئے تھے۔۔۔

وہ شخص جو اس نیت سے کسی دوسری جگہ جائے کہ وو وہاں مستقل رہے گا, گھربار بنائےگا, اس ملک کے باشندوں کے ساتھہ مل کر وہاں کے نظام کا حصہ بن جائے گا, مہا جرنہیں کہلایا جاسکتا۔۔۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے مسلمان مدینے کی خلافت قائم ہوتے ہی بھائی بھائی اور برابر کے شہری بنا دئے گئے تھے۔۔۔ اور مہاجرین اور انصار کا فرق مٹادیا گیا تھا۔۔۔

  شہری ہونا مہاجر ہونے کے الٹ ہے۔۔۔ شہری ہونے کا مطلب ہے اپنے ملک, اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھہ مخلص اور وفادار ہونا۔۔۔ انکے ساتھہ مل کرمعاشرے کی تعمیر میں حصہ لینا۔۔۔ حتی کہ سب کے مستقبل کی فکرکرنا۔۔۔

جو شخص اپنے ہوش و حواس کے ساتھہ اپنی قومیت بدلنے کا فیصلہ کرے اس ملک کا شہری ہی کہلاے گا, مہاجر نہیں۔۔۔ البتہ اس قوم کے لوگ اس شخص کی وفاداری کو پرکھتے ضرور ہیں۔۔۔ مثال کے طورپر امریکہ میں وہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لئے پانچ سال وہاں رہنا ضروری ہے, شاید اس لئے کہ پانچ سال میں وہ وہاں کے نظام, رسم وروایات کو اچھی طرح سمجھہ لے, اس دوران انھیں ایلین شپ یا ایک اجنبی کی طرح رہنے کے لئے کارڈ دے دیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر اسے بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد وہ حلف یعنی زبانی عہدو پیماں کرواتے ہیں۔۔۔ میں یہ عہد کرتا/کرتی ہوں۔۔۔ حلف دیتا/ دیتی ہوں کہ۔۔۔ میں ترک تعلق کا اعلان کرتا/کرتی ہوں۔۔۔ ہرقسم کی وفاداری اور تعلق سے۔۔۔ کسی بھی غیرملکی بادشاہت, ریاست,اور نظام سے جس کا/کی میں آج تک وفادار یا شہری تھا/تھی۔۔۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قوانین اور آئین کی پاسداری کروں گا/گی اوروفاداررہوں گا/گی۔۔۔ ہراندرونی اوربیرونی دشمن کے خلاف۔۔۔ اوریہ کہ میں پوری سچائ کے ساتھہ یہ عہد نبھاؤں گا/گی۔۔۔ اوریہ کہ ملکی قوانین کے تحت جب ضرورت پڑی,  اسلحہ رکھہ سکتا/سکتی ہوں, مسلح افواج کا غیر مسلح کاموں میں ساتھہ دوں گا/گی, شہری ہدایات کے مطابق قومی سطح کے کام کروں گا/گی۔۔۔۔ اورمیں یہ ذمہ داری آزادی کے ساتھہ, بغیر کسی ذہنی دباؤ یا غفلت اوربدل جانے کی نیت کے قبول کرتا/کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنے سخت حلف کے بعد کسی شخص کوامریکہ کے نظام کو بنانے یعنی ووٹ ڈالنے کا حق مل جاتا ہے۔۔۔ اس حلف کے بغیر وہ شخص روٹی,  کپڑا, مکان, گھومنا پھرنا, تعلیم حاصل کرنا, شادی کرنا, مطلب یہ کہ عام زندگی کے سارے کام سر انجام دے سکتا ہے۔۔۔ لیکن اس نظام کے تحت جو وہاں کے وفادار شہریوں نے حق رائے دہی کے بعد مل کر بنایا ہے۔۔۔
پاکستان میں ووٹ ڈالنے یعنی موجودہ نظام کو چلانے یا بدلنے کے لئےاپنا حق استعمال کرنے کی شرط اٹھارہ سال کا ہونے کی ہے۔۔۔ جسکا نشان قومی شناختی کارڈ ہے۔۔۔ غیر ملکی یہاں کی شہریت کیسے حاصل کرسکتے ہیں, اور انکے لئے ووٹ ڈالنے کی کیا شرائط ہیں,یہ چیزیں کالج سلیبس کا حصہ ہونی چاہئیں۔۔۔ ساتھہ ہی ہمارا حلف نامہ۔۔۔

بات ہو رہی تھی مہاجر کی۔۔۔ پتہ یہ چلا کہ مہاجر ہونا ایک عارضی حالت ہوتی ہے, چاہے کچھہ دنوں یامہینوں کے لئے ہو یاکئی سالوں کے لئے۔۔۔ کوئی بھی ملک انسانی بنیادوں پر مہاجروں کو روٹی, کپڑا, مکان اور سیر سپاٹے کی اجازت تو دے سکتا ہے, ان کوکمانے کی اجازت دے کران سے ٹیکس وصول کرسکتا ہے۔۔۔ لیکن ان سے وفاداری کاحف لئے بغیرانکو نظام ادل بدل کرنے کی اجازت  نہیں دیتا۔۔۔
 
ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ جیسی ایک عظیم ہجرت بر صغیر کے مسلمانوں نے بھی کی۔۔۔ 1947میں لاکھوں لوگ بھارت سے پاکستان آئے۔۔۔ بہت سے لوگ ہجرت کے دوران سفر مارے گئے۔۔۔ جو پاکستان پہنچ گئے وہ واپس جانے کے لئے نہیں آئے تھے اس لئے وہ یہاں رہنے والوں کی طرح پاکستانی شہری ہوئے۔۔۔
لیکن الله جانے وہ کون سی وجوہات تھیں کہ بہت سے لوگ خود کو سالوں مہاجر کہلواتے رہے۔۔۔ کیا ان کا واپس بھارت جانے کا ارادہ تھا یا پاکستان کو مسافر خانہ سمجھہ کر رہنا تھا کہ جب موقع لگے کہیں اور چلے جائیں گے۔۔۔
اگر ایسا تھا تو ہجرت کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق انھیں پاکستانی نظام یا لوگوں کی شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں۔۔۔ ہاں یہاں رہنے کاحق ضرور تھا, لیکن اگر وہ یہاں اپنے قدم نہ جما سکے تو کسی کا کیا قصور۔۔۔
اس سے بڑا ظلم انسان اپنےاوپر کیا کرسکتا ہے کہ قانونی طور پر کسی ملک کا شہری ہوتے ہوئے بھی نفسیاتی طورپر خود کو مہاجر سمجھے۔۔۔  بھلا ایسا شخص دوسروں کے ساتھہ مل کر کیاکسی معاشرے کی تعمیر میں حصہ لے سکتا ہے۔۔۔
اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو کسی قوم کےبہت سے شہریوں کو مہاجر ہونے کا احساس دلا دلا کر ان کو بے سکون رکھے۔۔۔ انکے قدم جمانے کے بجائے اکھاڑنے کا سبب بنے۔۔۔ انکوماضی کی قومیت کا احساس دلا کرباقی لوگوں سے الگ ہونے کا احساس دلائے۔۔۔ اور اس طرح تفرقے اور تعصب پھیلانے کاسبب بنے۔۔۔
کیا دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے شخص کو لیڈرشپ کی اجازت دیگا۔۔۔

ایک مسلمان کے لئے پوری دنیا الله کی سلطنت ہوتی ہے اور وہ خود خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔۔۔ جس ملک میں رہے قوانین کی پاسداری اس پر لازم ہوتی ہے اور اپنے ایمان کی حفاظت فرض۔۔۔ایک جگہ کواچھا کہنے یا اپنی شہریت بدلنے کے عمل کو  جسٹفائے کرنے کے لئے اپنے وطن کو بدنام کرنا کم از کم کسی مسلمان کا طرز عمل تو نہیں ہوسکتا۔۔۔

ماضی میں سینکڑوں بلکہ لاکھوں کڑوڑوں مسلمانوں نے اپنے وطن سے دوسرے ملکوں کا سفر کیا۔۔۔  مگرجن کا مقصد سائنسی علوم حاصل کرنا یا حدیثوں کا علم حاصل کرنا یا  تحقیق, تجارت, سیاحت, مظلوموں کی مدد, انسانیت کی خدمت وغیرہ تھا۔۔۔ انھیں اپنے مقاصد کے لئے بھوک پیاسا بھی رہنا پڑا, قیدبھی اٹھانی پڑی, خوف اور دشمنیوں کابھی سامنا کرنا پڑا۔۔۔ ان میں سے بہت سوں کے نام تاریخ کی کتابوں میں مختلف کامیابیوں کے حوالے سے درج ہیں۔۔۔ ان کا یہ سفر ہجرت میں بھی شمار نہیں ہوتا۔۔۔  جنھوں نے محض ہجرت کی پیٹ بھرنے, تن ڈھانپنے اور سر پر چھت بنانے کے لئے, انکے نام تو انکی اپنی نسلوں کو بھی یاد نہیں۔۔۔
عام حالات میں ہجرت کے لئے شریعت نے کچھہ شرائط مقرر کیں ہیں۔۔۔ مثلا تجارت, جہاد, شادی, تبلیغ۔۔۔ لیکن یہ ایک عارضی رخصت ہے نہ کہ مستقل اجازت۔۔۔

خیر اس پرمزیداور حتمی روشنی تو علماء دین ہی ڈال سکتے ہیں۔۔۔ میں نے تو صرف اپناحق اظہاررائے استعمال کیا ہے۔۔۔

God’s Argumentation

This is how our beloved Allah (SWT) gives proofs of His Existence and Powers to His misguided slaves, so they think and return to their Lord in repentance.

Surah Al-e-Imran/The Family of Imran 168 (death)

“These are the very people who, while they themselves stayed at home, said of their brethren, who had gone to the battle and had been slain, “If they had listened to us, they would not have been slain.”

Tell them, “If you really believe in what you say, you should turn away your own death, when it comes to you.”

Surah Al-Mu’minoon/The Believers 91 (Oneness of God)

“No son did Allah beget, nor is there any god along with Him: (if there were many gods), behold, each god would have taken away what he had created, and some would have lorded it over others! Glory to Allah. (He is free) from the (sort of) things they attribute to Him!”

Surah Al-Furqan/The Criterion (Oneness of God)

“Yet have they taken, besides him, gods that can create nothing but are themselves created; that have no control of hurt or good to themselves; nor can they control death nor life nor resurrection.” 3

“Those who reject Faith say: “Why is not the Qur’an revealed to him all at once? Thus (is it revealed), that We may strengthen thy heart thereby, and We have rehearsed it to thee in slow, well-arranged stages, gradually.” 32

Surah Al-Waqi’ah/The Event 57-74 (Existence of God)

“It is We Who have created you: why will you not witness the Truth? ….. Do you then see?- The (human Seed) that you throw out,-     Is it you who create it, or are We the Creator? ….. We have decreed death to be your common lot, and We are not to be frustrated, from changing your Forms and creating you (again) in (forms) that you know not.  And you certainly know already the first form of creation: why then do you not celebrate His praises? …..

“See you the seed that you sow in the ground?  Is it you that cause it to grow, or are We the Cause?  Were it Our Will, We could crumble it to dry powder, and you would be left in wonderment”

(Saying), “We are indeed left with debts (for nothing):     “Indeed are we shut out (of the fruits of our labour)”

See you the water which you drink?  Do you bring it down (in rain) from the cloud or do We?  Were it Our Will, We could make it salt (and unpalatable): then why do you not give thanks?

See you the Fire which you kindle?  Is it you who grow the tree which feeds the fire, or do We grow it?  We have made it a memorial (of Our handiwork), and an article of comfort and convenience for the denizens of deserts.

Then celebrate with praises the name of thy Lord, the Supreme!”

Surah Al-Waqi’ah/The Event 80-87 (man’s independence)

“A Revelation from the Lord of the Worlds.  Is it such a Message that ye would hold in light esteem?  And have you made it your livelihood that you should declare it false?”

“Then why do you not (intervene) when (the soul of the dying man) reaches the throat,-  And you the while (sit) looking on,-  But We are nearer to him than you, and yet see not”

“Then why do you not,- If you are exempt from (future) account,- call back the soul, if you are true (in the claim of independence)?”

Surah Al-Hajj/The Pilgrimage 72-73 (polytheism)

“When Our Clear Signs are rehearsed to them, you will notice a denial on the faces of the Unbelievers! they nearly attack with violence those who rehearse Our Signs to them. Say, “Shall I tell you of something (far) worse than these Signs? It is the Fire (of Hell)! Allah has promised it to the Unbelievers! and evil is that destination!”

“O men! Here is a parable set forth! listen to it!  Those on whom, besides Allah, you call, cannot create (even) a fly, if they all met together for the purpose! and if the fly should snatch away anything from them, they would have no power to release it from the fly. Feeble are those who petition and those whom they petition!”

Surah Al-Hujraat/The Apartments 17 (Being a Muslim)

They think they have done you a favour by becoming Muslims.  Say: “Do not consider your Islam a favour to me.  No Indeed!  It is Allah Who has favoured you by guiding you to faith, if you are telling the truth.”

Surah Al-Mulk/The Sovereignty, Control 3-4 (Oneness of God)

“He Who created the seven heavens one above another:  No want of proportion will you see in the Creation of ((Allah)) Most Gracious. So turn your vision again: see you any flaw?  Again turn your vision a second time: (your) vision will come back to you dull and discomfited, in a state worn out.”

Surah Al-Mulk/The Sovereignty, Control (Powers of God)

“Do you feel secure that He Who is in heaven will not cause you to be swallowed up by the earth when it shakes (as in an earthquake)? Or do you feel secure that He Who is in Heaven will not send against you a violent tornado (with showers of stones), so that you shall know how (terrible) was My warning?  But indeed men before them rejected (My warning): then how (terrible) was My rejection (of them)?” 16-18

“Do they not observe the birds above them, spreading their wings and folding them in?  None can uphold them except ((Allah)) Most Gracious: Truly ((Allah)) Most Gracious: Truly it is He that watches over all things.” 19

“Say: “It is He Who has created you (and made you grow), and made for you the faculties of hearing, seeing, feeling and understanding: little thanks it is ye give” 23

“Say: “See ye?- If your stream be some morning lost (in the underground earth), who then can supply you with clear-flowing water?” 30

Surah Al-Qiyamah/The Resurrection 36-40 (Life after Death)

“Does man think that he will be left uncontrolled, (without purpose)?  Was he not a drop of sperm emitted (in lowly form)?  Then did he become a leech-like clot; then did ((Allah)) make and fashion (him) in due proportion.   And of him He made two sexes, male and female.  Has not He, (the same), the power to give life to the dead?”

Surah Al-Isra/The Night Journey 40-43 (Oneness of God)

“Has then your Lord (O Pagans!) preferred for you sons, and taken for Himself daughters among the angels? Truly ye utter a most dreadful saying!   We have explained (things) in various (ways) in this Qur’an, in order that they may receive admonition, but it only increases their flight (from the Truth)!”

“Say: If there had been (other) gods with Him, as they say,- behold, they would certainly have sought out a way to the Lord of the Throne!  Glory to Him! He is high above all that they say!- Exalted and Great (beyond measure)!”

Surah Al-Isra/The Night Journey 49-51 (Life after Death)

They say: “What! when we are reduced to bones and dust, should we really be raised up (to be) a new creation?”

Say: “(Nay!) be you stones or iron, or created matter which, in your minds, is hardest (to be raised up),- (Yet shall you be raised up)!

then will they say: “Who will cause us to return?” Say: “He who created you first!”

Then will they wag their heads towards thee, and say, “When will that be?” Say, “May be it will be quite soon!”

Surah Al-Isra/The Night Journey 94-95 (Prophet-hood)

“What kept men back from belief when Guidance came to them, was nothing but this: they said, “Has Allah sent a man (like us) to be (His) Messenger.”  Say, “If there were settled, on earth, angels walking about in peace and quiet, We should certainly have sent them down from the heavens an angel for an apostle.”

Surah Al-Qalam/The Pen 35-47 (man’s arrogance)

“Shall We then treat the People of Faith like the People of Sin?  What is the matter with you? How judge you?”

“Or have you a book through which you learn – That you shall have, through it whatever you choose?”

“Or have you covenants with Us to oath, reaching to the Day of Judgment, (providing) that you shall have whatever you shall demand?”

“Ask them, which of them will stand surety for that!”

“Or have they some “Partners” (in Allah)? Then let them produce their “partners”, if they are truthful!”

“The Day that the shin shall be laid bare, and they shall be summoned to bow in adoration, but they shall not be able,- Their eyes will be cast down,- ignominy will cover them; seeing that they had been summoned aforetime to bow in adoration, while they were whole, (and had refused).”

“Then leave Me alone with such as reject this Message: by degrees shall We punish them from directions they perceive not.  A (long) respite will I grant them: truly powerful is My Plan.”

“Or is it that you (O Muhammad) do ask them for a reward, so that they are burdened with a load of debt?”

Or that the Unseen is in their hands, so that they can write it down?”

Surah An-Namal/The Ants 88 (Signs of God)

“You see the mountains, thinking them to be firmly fixed, but in reality they (are in constant motion) and pass by (with the movement of the earth) like the passing of the clouds. (And so will they be crumbled on Doomsday so as to take on the form particular to the other world.) This is the pattern of God Who has perfected everything. He is fully aware of all that you do.”

Surah Fatir/Originator  11-17 (Powers of God)

“And Allah did create you from dust; then from a sperm-drop; then He made you in pairs. And no female conceives, or lays down (her load), but with His knowledge. Nor is a man long-lived granted length of days, nor is a part cut off from his life, but is in a Decree (ordained). All this is easy to Allah.”

“Nor are the two bodies of flowing water alike,- the one palatable, sweet, and pleasant to drink, and the other, salt and bitter. Yet from each (kind of water) do you eat flesh fresh and tender, and you extract ornaments to wear; and you see the ships therein that plough the waves, that you may seek (thus) of the Bounty of Allah that you may be grateful.”

“He merges Night into Day, and he merges Day into Night, and he has subjected the sun and the moon (to his Law): each one runs its course for a term appointed. Such is Allah your Lord: to Him belongs all Dominion. And those whom ye invoke besides Him have not the least power.  If you invoke them, they will not listen to your call, and if they were to listen, they cannot answer your (prayer). On the Day of Judgment they will reject your “Partnership”. and none, (O man!) can tell you (the Truth) like the One Who is acquainted with all things.”

“O ye men! It is ye that have need of Allah. but Allah is the One Free of all wants, worthy of all praise.  If He so pleased, He could blot you out and bring in a New Creation.  Nor is that all difficult for Allah.

 

Surah Qaaf/the letter qaaf  (Life After Death)

“But they wonder that there has come to them a Warner from among themselves.   So the Unbelievers say: “This is a wonderful thing!  What! When we die and become dust, (shall we live again?) That is a (sort of) return far (from our understanding).”

We already know how much of them the earth takes away: With Us is a record guarding (the full account).  But they deny the Truth when it comes to them: so they are in a confused state.  Do they not look at the sky above them?- How We have made it and adorned it, and there are no flaws in it?  And the earth – We have spread it out, and set thereon mountains standing firm, and produced therein every kind of beautiful growth (in pairs)-  To be observed and commemorated by every devotee turning (to Allah … And We send down from the sky rain charted with blessing, and We produce therewith gardens and Grain for harvests;  And tall (and stately) palm-trees, with shoots of fruit-stalks, piled one over another;- As sustenance for ((Allah)’s) Servants;- and We give (new) life therewith to land that is dead: Thus will be the Resurrection.” 2-11

“Were We then weary with the first Creation, that they should be in confused doubt about a new Creation?  It was We Who created man, and We know what dark suggestions his soul makes to him: for We are nearer to him than (his) jugular vein.” 15-16

Surah Al-Ghashiyah/The Overwhelming 17-20 (Signs of God)

“Do they not look at the Camels, how they are made?   And at the Sky, how it is raised high?   And at the Mountains, how they are fixed firm?  And at the Earth, how it is spread out?”

 

Beautiful Discussions/Dialogues

The Art of Discussion or Argument that Qur’an teaches:

Surah Al-Anbiya/The Prophets 52-66 (Prophet Ibraheem/Abraham peace be upon him)

“Behold! He (Abraham) said to his father and his people, “What are these images, to which you are (so assiduously) devoted?”

They said, “We found our fathers worshipping them.”

He said, “Indeed you have been in manifest error – you and your fathers.”

They said, “Have you brought us the Truth, or are you one of those who jest?”

He said, “Nay, your Lord is the Lord of the heavens and the earth, He Who created them (from nothing): and I am a witness to this (Truth)…. “And by Allah, I have a plan for your idols – after you go away and turn your backs”….. So he broke them to pieces, (all) but the biggest of them, that they might turn (and address themselves) to it.

They said, “Who has done this to our gods? He must indeed be some man of impiety!” …. They said, “We heard a youth talk of them: He is called Abraham.” ….. They said, “Then bring him before the eyes of the people, that they may bear witness.” ….. They said, “Are you the one that did this with our gods, O Abraham?” ….

He said: “Nay, this was done by – this is their biggest one! ask them, if they can speak intelligently!” ….. So they turned to themselves and said, “Surely you are the ones in the wrong!” …..

Then were they confounded with shame: (they said), “You know well that these (idols) do not speak!”  (Abraham) said, “Do you then worship, besides Allah, things that can neither be of any good to you nor do you harm?”

Surah Al-Baqarah/The Cow 258  (Prophet Ibraheem/Abaraham peace be upon him)

Have you not looked at him who disputed with Ibrâhim (Abraham) about his Lord (Allâh), because Allâh had given him the kingdom?

When Ibrâhim (Abraham) said (to him): “My Lord (Allâh) is He Who gives life and causes death.”

He said, “I give life and cause death.”

Ibrâhim (Abraham) said, “Verily! Allâh causes the sun to rise from the east; then cause it you to rise from the west.”

So the disbeliever was utterly defeated. And Allâh guides not the people, who are Zâlimûn (wrong-doers).

Surah Al-An’aam/The Cattle 74-83 (Prophet Ibrahim/Abraham peace be upon him)

“Lo! Abraham said to his father Azar: “Do you take idols as gods? For I see you and your people in manifest error.”

So also did We show Abraham the power and the laws of the heavens and the earth, that he might (with understanding) have certitude.

When the night covered him over, He saw a star: He said: “This is my Lord.” But when it set, He said: “I love not those that set.”

When he saw the moon rising in splendour, he said: “This is my Lord.” But when the moon set, He said: “unless my Lord guide me, I shall surely be among those who go astray.”

When he saw the sun rising in splendour, he said: “This is my Lord; this is the greatest (of all).” But when the sun set, he said: “O my people! I am indeed free from your (guilt) of giving partners to Allah.

“For me, I have set my face, firmly and truly, towards Him Who created the heavens and the earth, and never shall I give partners to Allah.”

His people disputed with him. He said: “(Come) you to dispute with me, about Allah, when He (Himself) has guided me? I fear not those you associate with Allah. Unless my Lord wills, (nothing can happen). My Lord comprehends in His knowledge all things. Will you not (yourselves) be admonished?

“How should I fear those you associate with Allah, when you fear not to give partners to Allah without any warrant having been given to you? Which of (us) two parties have more right to security? (tell me) if you know.

“It is those who believe and confuse not their beliefs with wrong – that are (truly) in security, for they are on (right) guidance.”

That was the proof about Us, which We gave to Abraham (to use) against his people: We raise whom We will, degree after degree: for your Lord is full of wisdom and knowledge.

Surah Al-Baqarah/The Cow 260 (Prophet Ibraheem/Abraham peace be upon him)

And (remember) when Ibrahim said, “My Lord! Show me how You give life to the dead.”

He (Allah) said: “Do you not believe?”

He (Ibrahim) said: “Yes (I believe), but to be stronger in faith.”

He said: “Take four birds, then cause them to incline towards you (then slaughter them, cut them into pieces, and then put a portion of them on every hill, and call them, they will come to you in haste. And know that Allah is All-Mighty, All-Wise.”

Surah Al-Araaf/The Heights 143 (Prophet Moosa/Moses peace be upon him)

When Moses came to the place appointed by Us, and his Lord addressed him, He said: “O my Lord! show (Thyself) to me, that I may look upon thee.”

Allah said: “By no means you can see Me (direct); But look upon the mount; if it abide in its place, then shall you see Me.” When his Lord manifested His glory on the Mount, He made it as dust. And Moses fell down in a swoon.

When he recovered his senses he said: “Glory be to You! to You I turn in repentance, and I am the first to believe.”

Surah Ash-Shua’raa/The Poets 18-51 (Prophet Moosa/Moses peace be upon him)

(Pharaoh) said: “Did we not cherish you as a child among us, and did you not stay in our midst many years of your life?  And you did a deed of your which (you know) you did, and you are an ungrateful (wretch)!”

Moses said: “I did it then, when I was in error.  So I fled from you (all) when I feared you; but my Lord has (since) invested me with judgment (and wisdom) and appointed me as one of the apostles.   “And this is the favour with which you do reproach me,- that you had enslaved the Children of Israel!”

Pharaoh said: “And what is the ‘Lord and Cherisher of the worlds’?”

(Moses) said: “The Lord and Cherisher of the heavens and the earth, and all between,- if you want to be quite sure.”

(Pharaoh) said to those around: “Did you not listen (to what he says)?”

(Moses) said: “Your Lord and the Lord of your fathers from the beginning!”

(Pharaoh) said: “Truly your apostle who has been sent to you is a veritable madman!”

(Moses) said: “Lord of the East and the West, and all between! if you only had sense!”

(Pharaoh) said: “If you do put forward any god other than me, I will certainly put you in prison!”

(Moses) said: “Even if I showed you something clear (and) convincing?

(Pharaoh) said: “Show it then, if you tell the truth!”

So (Moses) threw his rod, and behold, it was a serpent, plain (for all to see)!  And he drew out his hand, and behold, it was white to all beholders!

(Pharaoh) said to the Chiefs around him: “This is indeed a sorcerer well- versed:  His plan is to get you out of your land by his sorcery; then what is it you counsel?

They said: “Keep him and his brother in suspense (for a while), and dispatch to the Cities heralds to collect- And bring up to you all (our) sorcerers well-versed.”  So the sorcerers were got together for the appointment of a day well-known, and the people were told: “Are you (now) assembled?-  “That we may follow the sorcerers (in religion) if they win?”

So when the sorcerers arrived, they said to Pharaoh: “Of course – shall we have a (suitable) reward if we win?

He said: “Yea, (and more),- for you shall in that case be (raised to posts) nearest (to my person).”

Moses said to them: “Throw you – that which you are about to throw!”

So they threw their ropes and their rods, and said: “By the might of Pharaoh, it is we who will certainly win!”

Then Moses threw his rod, when, behold, it straightway swallows up all the falsehoods which they fake!

Then did the sorcerers fall down, prostrate in adoration, Saying: “We believe in the Lord of the Worlds,  The Lord of Moses and Aaron.”

Said (Pharaoh): “Believe you in Him before I give you permission? surely he is your leader, who has taught you sorcery! but soon shall you know! “Be sure I will cut off your hands and your feet on opposite sides, and I will cause you all to die on the cross!”

They said: “No matter! for us, we shall but return to our Lord!  Only, our desire is that our Lord will forgive us our faults, that we may become foremost among the believers!”

Surah An-Naml/The Ants 16-44 (Prophet Suleman/Solomon peace be upon him)

And Solomon was David’s heir. He said: “O ye people! We have been taught the speech of birds, and on us has been bestowed (a little) of all things: this is indeed Grace manifest (from Allah.)”   And before Solomon were marshalled his hosts,- of Jinns and men and birds, and they were all kept in order and ranks.   At length, when they came to a (lowly) valley of ants, one of the ants said: “O ye ants, get into your habitations, lest Solomon and his hosts crush you (under foot) without knowing it.”

So he smiled, amused at her speech; and he said: “O my Lord! so order me that I may be grateful for Thy favours, which thou hast bestowed on me and on my parents, and that I may work the righteousness that will please Thee: And admit me, by Thy Grace, to the ranks of Thy righteous Servants.”

And he took a muster of the Birds; and he said: “Why is it I see not the Hoopoe? Or is he among the absentees?  I will certainly punish him with a severe penalty, or execute him, unless he bring me a clear reason (for absence).”

But the Hoopoe tarried not far: he (came up and) said: “I have compassed (territory) which thou hast not compassed, and I have come to thee from Saba with tidings true.  I found (there) a woman ruling over them and provided with every requisite; and she has a magnificent throne.  I found her and her people worshipping the sun besides Allah. Satan has made their deeds seem pleasing in their eyes, and has kept them away from the Path,- so they receive no guidance,-  (Kept them away from the Path), that they should not worship Allah, Who brings to light what is hidden in the heavens and the earth, and knows what you hide and what you reveal.

“(Allah)!- there is no god but He!- Lord of the Throne Supreme!”

(Solomon) said: “Soon shall we see whether you have told the truth or lied!  Go you, with this letter of mine, and deliver it to them: then draw back from them, and (wait to) see what answer they return”

(The queen) said: “You chiefs! here is delivered to me – a letter worthy of respect.   It is from Solomon, and is (as follows): ‘In the name of Allah, Most Gracious, Most Merciful:  Be you not arrogant against me, but come to me in submission (to the true Religion).'”

She said: “You chiefs! advise me in (this) my affair: no affair have I decided except in your presence.”

They said: “We are endued with strength, and given to vehement war: but the command is with you; so consider what you will command.”

She said: “Kings, when they enter a country, despoil it, and make the noblest of its people its meanest thus do they behave.  But I am going to send him a present, and (wait) to see with what (answer) return (my) ambassadors.”

Now when (the embassy) came to Solomon, he said: “Will you give me abundance in wealth? But that which Allah has given me is better than that which He has given you! Nay it is you who rejoice in your gift!  Go back to them, and be sure we shall come to them with such hosts as they will never be able to meet: We shall expel them from there in disgrace, and they will feel humbled (indeed).”

He said (to his own men): “You chiefs! which of you can bring me her throne before they come to me in submission?”

Said an ‘Ifrit, of the Jinns: “I will bring it to you before you rise from your counsil: indeed I have full strength for the purpose, and may be trusted.”

Said one who had knowledge of the Book: “I will bring it to you within the twinkling of an eye!” Then when (Solomon) saw it placed firmly before him, he said: “This is by the Grace of my Lord!- to test me whether I am grateful or ungrateful! and if any is grateful, truly his gratitude is (a gain) for his own soul; but if any is ungrateful, truly my Lord is Free of all Needs, Supreme in Honour !”

He said: “Transform her throne out of all recognition by her: let us see whether she is guided (to the truth) or is one of those who receive no guidance.”

So when she arrived, she was asked, “Is this your throne?” She said, “It was just like this; and knowledge was bestowed on us in advance of this, and we have submitted to Allah (in Islam).”

And he diverted her from the worship of others besides Allah. for she was (sprung) of a people that had no faith.

She was asked to enter the lofty Palace: but when she saw it, she thought it was a lake of water, and she (tucked up her skirts), uncovering her legs. He said: “This is but a palace paved smooth with slabs of glass.”

She said: “O my Lord! I have indeed wronged my soul: I do (now) submit (in Islam), with Solomon, to the Lord of the Worlds.”

Surah Yusuf/Prophet Yusuf 22-29 (Prophet Yusuf/Joseph peace be upon him)

When Joseph attained His full manhood, We gave him power and knowledge: thus do We reward those who do right.  But she in whose house he was, sought to seduce him from his (true) self: she fastened the doors, and said: “Now come, thou (dear one)!”

He said: “(Allah) forbid! truly (thy husband) is my lord! he made my sojourn agreeable! truly to no good come those who do wrong!”

And (with passion) did she desire him, and he would have desired her, but that he saw the evidence of his Lord: thus (did We order) that We might turn away from him (all) evil and shameful deeds: for he was one of Our servants, sincere and purified.

So they both raced each other to the door, and she tore his shirt from the back: they both found her lord near the door. She said: “What is the (fitting) punishment for one who formed an evil design against thy wife, but prison or a grievous chastisement?”

He said: “It was she that sought to seduce me – from my (true) self.”

And one of her household saw (this) and bore witness, (thus):- “If it be that his shirt is rent from the front, then is her tale true, and he is a liar!  But if it be that his shirt is torn from the back, then is she the liar, and he is telling the truth!”

So when he saw his shirt,- that it was torn at the back,- (her husband) said: “Behold! It is a snare of you women! truly, mighty is your snare!  O Joseph, pass this over! (O wife), ask forgiveness for your sin, for truly you have been at fault!”

 

 

Interest in Islam

On the authority of Hasan ibn Ali ibn Abi-Talib (peace be upon him), the Prophet Muhammad (pbuh) said, ” Leave what you have doubt about for what you have no doubt about”.  (Arbaeen-Navavi)

“She is the principal of a college.  She is very educated and a nice lady.  She is very kind and always eager to pull people out of trouble.  Though she is drawing a good salary and can afford to live independently but prefers to live with her strict husband.  She gives loan and asks for only 5% profit in return, meaning five thousand on one lac.  That is cheaper than bank.”

This introduction of a college principal in a gathering was very surprising for me.  I interrupted that this isn’t profit, this is interest (ribah) which is strictly forbidden in Islam.  Riba is a war declared with Allah and His Prophet (pbuh).

Her reply was, “Yeah, you may think like that but how I take it is as business.  Look, she is giving a favor to someone spending her money.  She should get something back in return.  She can keep it in bank and get the profit.  That will be interest too.  The other person may use it to do some business or to pay off debt.”  The lady herself is running a beauty parlor and very smartly deals her financial and social matters.  She wasn’t interested in religious issues at all.  However, she knew it very well that what I was talking about.

Women interested in taking interest on money but not interested in discussing money in Islam.  I wonder how they satisfy their hearts on Islam?

I came home and recalled all my memory regarding ‘interest/riba’.  From my childhood I heard people of Karachi (who unfortunately are considered educated for some stupid reasons) blaming Pathans, Punjabi, Gujrati and Memon communities for exploiting people by taking excess money on loans.  The same was the economic tradition of Arabs before Islam.  Jews are the most famous for establishing their economy on Riba/interest.

For the sake of argument, let’s say they all were ignorant.  Then what is this?  Our educated lot can’t differentiate between Trade and Riba.  They know what is written in the course books of Islamiyat.  They read Qur’an in Qur’an-khuwanis.  They proudly celebrate milad for blessings.

Thank goodness my child didn’t get to study in schools and colleges run and managed by educated-illiterates.

What are our Islamic extremists fighting against?  The religious groups in Pakistan want to impose Shari’ah…on people, who know the limitations set by Qur’an, still willingly and logically reject the faith…in houses and on streets???

We curse the banking system introduced to us by Jews.  We curse mullahs and scholars for corrupting Islamic teachings with their own perceptions.  Why don’t we curse ourselves for failing in establishing the fair and just economic system ordained to us by our Lord…… in our houses.  We cheat in property dealings, we play mockery in inheritance, we are dishonest in money matters…. and now our smart, honourable women stepping over Qur’an by replacing Riba with trade or as trade???????????????????????????

O God, please be witnessed, I don’t want to be the part of this corruption so help me out with clear guidance and understanding of Your Book.  Ameen!

“That which you give as riba to increase the peoples’ wealth increases not with God; but that which you give in charity, seeking the goodwill of God, multiplies manifold.”  (Surah Al-Rum/The Rome, 39)

“And for their taking riba even though it wa forbidden for them, and their wrongful appropriation of other peoples’ property, We have prepared for those among them who reject faith a grievous punishment.”  (Surah An-Nisa/The Women, 61)

“O believers, take not doubled and redoubled riba, and fear God so that you may prosper.  Fear the fire which has been prepared for those who reject faith, and obey God and the Prophet so that you may receive mercy.”  (Surah Al-e-Imran/The Family of Imran, 130-132)

Those who benefit from ribah shall be raised like those who have been driven to madness by the touch of the Devil; this is because they say: “Trade is like riba” while God has permitted trade and forbidden riba. Hence those who have received the admonition from their Lord and desist, may have what has already passed, their case being entrusted to God; but those who revert shall be the inhabitants of the fire and abide therein forever….. God deprives riba of all blessing but blesses charity; He loves not the ungrateful sinner.”  (Surah Al-Baqarah/The Cow, 275/276)

“O believers, fear God and give up the ribah that remains outstanding if you are believers….. If you do not do so, then be sure of being at war with God and His Messenger.   But, if you repent, you can have your principal.  Neither should you commit injustice nor should you be subjected to it….. If the debtor is in difficulty, let him have respite until it is easier, but if you forgo out of charity, it is better for you if you realize….. and fear the Day when you shall be returned to the Lord and every soul shall be paid in full what it has earned and no one shall be wronged.  (Surah Al-Baqarah/The Cow, 278-281)