Education

University Education:

“A fool’s brain digests philosophy into folly, science into superstition, and art into pedantry. Hence University education.” George Bernard Shaw
There is only one point that convinces me to prefer madrassah education over the entire regular educational system in Pakistan (though I don’t believe in both of them) that at least madrassah students are certain about their knowledge and beliefs that they learn there. They have firm believe in their teachers and scholars and are ever ready to defend them. They are sure that their teachers guiding them to the right path.
While students of schools, colleges and universities are doubtful about their past, confused about what they are learning now, not sure about how will it benefit them in the future. As a result, they don’t respect their teachers and they don’t stand to defend them.

Socialization in Education: 

The idea of going through a process of socialization in educational institutions fails when students take no interest in discussing and solving community problems, most of the time even ignore their own parents and siblings after they finish their education. All they seem interested in getting married, having children, going abroad and live in isolation.

The concept of socialization in the educational system of Pakistan is limited to create a competitive environment for our children. Which finally leads them to a create a mess by ignoring social laws and to live selfish by neglecting others’ rights. That is the reason we see no respect for each other and no community bonding among our individuals.

انگریزی میں لکھتے لکھتےخیال آیا کہ آخر لکھہ کس کے لئے رہی ہوں۔ جس قوم سے میرا تعلق ہے وہ دنیا میں بدنام بہت ہے۔ لہذاانگریزتو توجہ دینگے نہیں۔۔۔۔۔ اور پھر انکے ہاں ایک سے ایک لکھنے والا موجود ہےاور اتنے ہی پڑھنے والے۔۔۔۔۔ ترقی یافتہ لوگ ہیں۔۔۔۔ منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے سال میں ایک مرتبہ وہ اگر ہمیں پڑھیں بھی تو کیا پڑھیں۔ پاکستان کےسیاسی حالات یامعاشی حالات یا معاشرتی اقدار یا تعلیمی سرگرمیاں یا مذہبی انتہا پسندی یا ہماری اجتماعی بے راہ روی کی نت نئی کہانیاں۔۔۔ ان کہانیوں سےتو ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کو دلچسپی نہیں غیر ملکیوں کو کیا ہو گی۔۔۔۔۔

ملک میں رہنے والے وہ افراد جو انگریزی جانتے ہیں انھیں کدوبھی میری باتیں سمجھہ نہیں آتیں کیونکہ انکی  تعلیمی بنیاد اٹھارویں صدی کے انگریز شاعروں اور ناول نگاروں کی سوچ پر ہوئی ہوتی ہے۔ یا انگریزوں کے عطا کردہ انسانیت کےفلسفے پر۔۔۔۔ پھر بات یہ بھی ہے کہ یہ سیاستدانوں اور دینی لوگوں کے لئے بے ضرر ہوتے ہیں۔۔۔۔ انکے مطلب کا مصالحہ بھی موجود نہیں۔۔۔۔

انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں میں اب رہ گئے بالکل واجبی سی انگلش سمجھنے یا بالکل نہ سجھنے والے۔ انھیں میری واجبی سی انگلش سے کیا کام۔۔۔۔ انکے مطلب کی چیزیں گھٹیا ہندوستانی فلموں اور گانوں کی صورت میں انٹرنیٹ پر موجودہیں۔۔۔۔۔

باقی بچ گئی بے شعورعوام۔۔۔ جسکےبل پہ سارے سیاستدانوں اور دینی لوگوں کے کاروبار چل رہے ہیں۔۔۔۔  سیاستدانوں اور دینی لوگوں کی ذہنی ہم آہنگی اور ورکنگ کوآرڈینیشن یعنی کام کرنے کے باہمی طریقوں نے عام عوام کو اپنی ہی زندگی سے بیزارکردیاہے۔۔۔ وہ ملک وقوم کا کیا سوچیں گے۔۔۔

عجیب سی بات لگتی ہے کہ الله رسول اسلام قرآن کے لئی جان دینا انتہا پسندی کہلاتا ہے۔ لیکن بھٹو خاندان۔ زرداری نواز شریف۔ الطاف حسین۔ شاہی سید اور نہ جانے کتنے سیاسی اور دینی لیڈرز ہیں جنکی پارٹی یا جماعتوں کے لئے جان دینا شہادت ہے۔۔۔۔۔  دنیا بھر کا فساد مچا نے ۔ سارے زمانے کی کرپشن کرنے اور ملک وقوم کا پرچم بیچنے کے باوجود اتنا بڑا رتبہ۔۔۔۔ کاش کہ شہید ہونا اتنا ہی آسان ہوتا۔۔۔

ہماری روایات میں سے ایک یہ بھی ہےکہ جب ہمیں اپنے بچوں کو تہذیب نرمی محبت انسانیت سکھانی ہوتی ہے تو انھیں مشنری اسکولز میں ڈال دیتے ہیں یا باہر آکسفورڈ وغیرہ پڑھنے بھیج دیتے ہیں۔۔۔ شاید اپنے آپ سے ہر مسلمان بالکل ہی مایوس ہو چکاہے یاشاید اس جانوروں جیسے جینے پر صبرآ گیا ہے۔۔۔ لیکن جب زرداری خاندان کے بلاول زرداری کو جانوروں کی طرح گلا پھاڑ پھاڑ کر تقریر کرتے دیکھا تو انگریزی طریقہ تعلیم پرسے بھی اعتباراٹھہ گیا۔۔۔۔۔ جان چاہئے جان دینگے سر چاہئے سر دینگے۔۔۔۔۔ یہ شاید آکسفورڈ کا اس سال کا سلیبس تھا۔۔۔۔۔  سائیں ابن زرداری آپکا خالی سر لے کرکیا کرنا ہے۔ سر تو اسکا چاہئے جو آپکے سر میں باتیں بھرتا ہے۔۔۔۔۔

پاکستان کے مشنری اسکول بھی اداکاراور گلو کار ہی پیدا کرسکے۔ جہاں تک تہذیب سکھانے کاتعلق ہے فی الحال تو وہ بھی فیل ہو گئے۔۔۔۔ ہماری بلڈنگ ہی میں ایک فیملی کے پانچ بچے سینٹ جانز میں جاتے رہے ہیں۔ بڑا لڑکا اب بی کام پہلے سال میں ہے۔ عام جاہل مردوں کی طرح سڑک پر فخریہ تھوکتا ہے۔ بچوں کےکوڑا پھینکنے کے آداب بھی باقی قوم سے مختلف نہیں۔۔۔۔۔

ایک بات اس قوم کی بہت اچھی ہے۔ زندہ لوگوں کوکتنی ہی اذیتیں دیں۔ مرنے پر انکا سوگ ضرور منا لیتے ہیں۔۔۔۔

Yep, missionary schools have also failed in producing good citizens.  Muslims send their children to them so they will learn manners.  The family lives upstairs has six children.  Five of them go to St. Johns School.  The eldest son is now in B. Com part one.  Their street manners are no different than the usual kids.  He spits on the street.  Rest of the children throw garbage out of the balcony or in the duck.  I complained a couple of times and the mother lied on my face that it’s not her children.
Karachi’s Language:

The purpose of spending fourteen or sixteen years in an educational institution is useless if that degree makes you do something that an illiterate can also do and may be in a better way.

I always heard that education polishes your personality, purifies and organizes your thoughts, distinguishes your from an ignorant, helps you developing new ideas, enables you to express yourself in a positive way, etc.

Karachi was thought to be the city of educated people.  How did these educated people help the rest of the 70% illiterates around the country?  Did they deliver any positive message on Karachi’s behalf?  Who represents Karachi in Pakistan and on international level?

سوچا الطاف حسین سے ایم کیو ایم کی سرکاری زبان میں بات کریں۔۔۔ اس زبان کوسرعام کیا ہے ایم کیو ایم کے نائب روحانی پیشوامصطفے کمال اور  ایم کیو ایم اور جیو کی روح رواں بیوی جویریہ اور شوہر سعود نے۔۔۔۔

ویسے کیا خیال ہے۔۔۔ جویریہ اور سعود اپنی بیٹی کو یہ زبان سکھانا پسند کریں گے جو انکی پروڈکشنز میں استعمال کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو پھر قوم کے بچوں کو کیوں۔۔۔۔ شاید اسی طرح فن, قوم اور پاکستان کی خدمت کی جاتی ہے آجکل۔۔۔ تہذیب واخلاق بیچ کر۔۔۔

ابے الطاف, سن ریا ہے کہ نئیں۔۔۔ ابے لندن میں بیٹھہ کر بولےچلا جا ریا ہے بولےچلا جا ریا ہے بے تکا۔۔۔ ابے یہاں آ کر سب کے سامنے بات کر۔۔۔ مرد بن مرد۔۔۔ابے رشتہ ہے کیا اس زمین سے تیرا۔۔۔ دوسروں کے پاسپورٹ ہاتھہ میں لے کر تصویریں کھنچواتا ہے۔۔۔ پہلے دشمنی کیوں پالی جو اب اپنے آقاؤں کے قدموں میں پناہ لئے بیٹھا ہے۔۔۔ابے یہاں آ کر غور سے لوگوں کی بددعائیں سن۔۔۔ کب تک کراچی والوں سے ان کا روزگار چھینتا رہےگا سوگ کے بہانے۔۔۔ باز آجا باز آجا نئیں تو لوگ وہیں آکر تیری تکہ بوٹی بنائیں گے۔۔۔

کیسا لگا۔۔۔ نہیں اچھا لگا۔۔۔ لیکن کیوں۔۔۔ شکر کریں الو کاپٹھا نہیں کہا۔۔۔ مصطفے کمال کے منہ سے اتنی مرتبہ سنی کہ یہ گالی بھی مقدس لگنےلگی ہے۔۔

سوال یہ ہے کہ ناچنے گانے والوں پر۔۔۔ جن کا دین ایمان پیسہ ہوتا ہے,  جن کے نزدیک فن کی نہ کوئی سرحد ہوتی ہےنہ حد۔۔۔ کس حد تک اعتبار کیا جاسکتا ہے نظام کو بنانے کے لئے۔۔۔ یہ دوسروں کے لکھے ہوئے بول گانے اور دوسروں کے سیٹ کئے ہوئے اسکرپٹ پڑھنے کے عادی لوگ, دوسروں کے اشاروں پر رونے اور ہنسنے اوردوسروں کی تعریفوں کے محتاج لوگ۔۔۔ یہ بھلا قوم کو کیا سوچ دے سکتے ہیں۔۔۔ سوائے کہ عام  لوگوں کو اپنے فیشن, میک اپ, اداؤں, بے تکی باتوں, تیس کے بعد تین سال کے بچوں والی حرکتوں میں الجھا کر رکھیں۔۔۔

ان ذہنی مریضوں سے کوئی بھی سیاسی پاڑٹی کیا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔۔۔ شاید فنڈ ریزنگ۔۔۔ بس۔۔۔

ویسے بھی ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو یا تو تعلیم میں ناکام رہے یا تعلیم یافتہ بننے کا شوق نہیں ہوتا۔۔۔

اگر وحید مراد صاحب جیسے کامیاب لوگ بھی اس حسرت میں مر جائیں کہ ان کی ایم اے کی ڈگری کام نہ آسکی ۔۔۔ اگر معین اختر صاحب جیسی شخصیت یہ پوچھتی مرجائے کہ ہم کس قسم کے لوگ ہیں اور ہم نے کیا کیا۔۔۔ اگر مہدی حسن خان جییسا فنکار اپنی آخری عمر میں اپنے ہی فیلڈ کے لوگوں کی عیادت نہ پا سکیں۔۔۔ اگر محمدعلی صاحب جیسا سخی, نرم دل اور کامیاب انسان اپنی زندگی کے آخری سال اپنے محل کی قید میں اداس گزاردے تو لعنت ہے ایسی فیلڈ پر۔۔۔

لوگ کہتے رہے کہ پڑھےلکھے لوگ اداکاری گلو کاری میں آئیں گے تو فن ترقی کرے گا۔۔۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اسکول کالج کے طلبہ وطالبات کی اصل فیلڈز سے توجہ ہٹ گئی۔۔۔ اورجو آئے ڈگریاں لے کر وہ بھی بندر کی طرح اس ڈگڈگی پر ناچنے لگے جس پر غیر پڑھےلکھے اداکار گلو کارناچتے رہے۔۔۔ اور آوازیں آئیں کہ بھئی مسئلہ یہ ہے کہ باشعور ہدایتکار اور لکھنے والے موجود نہیں۔۔۔

اور اصل مسئلہ ہے بھی یہی۔۔۔ لوگ بندر بن کر تماشہ کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں لیکن کوئی ڈگڈگی بجانے والا نہیں بننا چاہتا۔۔۔

ہالی ووڈ کی فلمز دیکھہ کر بے وقوف انسان بھی اندازہ لگا سکتاہے کہ ہدایتکار پڑھا لکھا ہو تو کتے بلی اور بندروں تک سے اداکاری کروالیتا ہے۔۔۔ گلوکاری کے لئے ریاض کی ضرورت ہوتی ہے ڈگری کی نہیں۔۔۔ میڈم نورجہاں, ریشماں, نصیبو لال, علن فقیر ثبوت ہیں۔۔۔

مارننگ شو کی میزبانی  اور نئے نئے کپڑے پہن کرلہرانا, ادائیں دکھانا یعنی ماڈلنگ ۔۔۔ گھروں میں کام کرنے والی ماسی بھی کر سکتی ہے۔۔۔ ایسی بے تکی باتوں کے لئے میڈیکل کی سیٹ یاچودہ سالہ ڈگری ضایع کرنے کی کیا ضرورت ۔۔۔

اور تو اور چار پانچ گنے چنے گھسے پٹے شو بز کے لوگوں کو ایوارڈز بھی مل رہے ہوتے ہیں۔۔۔ بقول حمیرا ارشد کون دے رہا ہے کیوں دے رہا ہے ایوارڈز۔۔۔۔۔۔


EDUCATIONAL GANGSTERS:

The exams of B.A. Part I, Arts Group, began after a gap of more than 18 months.  The exams of 2010 are being taken in 2011.  First the result of intermediate came out six months later.  Then the registration date was announced after 16 months since the intermediate exams.  That was a long period for students to get prepared for their papers.  It’s only five subjects that they have to study.  Then they also get gap of five or ten days between each paper.

For me, this is all a waste of time.  The results of any year should be declared within three months after the examinations are over.  The students don’t need to pay for two kind of registrations (one is just the registration, the other one for examination).  As soon as the result is out, students can be given a month to do both (if it has to be two registrations) registrations at the same time.  That will save their time and they won’t lose their interest.  The gap between the papers shouldn’t be more than two or three days.  The invigilators should always be from other groups so they can’t help students in cheating.  Lecturers don’t teach in colleges for many good reasons.  They ask students to join their coaching centers in the evening.  They sell notes and guess papers.  They do private tutoring.  Some of them sell marks and positions and make extra income.  In several colleges, students are forced to fill out the form for a political party at the time of admission.  So students should raise their voice against this network of ‘educational-gangsters’.  This is for their own goodness.

The Arts Group consists of subjects such as Political Science, Sociology, Psychology, Education, Economy, Home Economics, International Relations, Library Science, Islamic History, Geography, Optional Languages; Bengali, Persian, French, Arabic. All these subjects are important.  There should be a precise up-to-date syllabus of each of these subjects, relevant to our society and our ideology.

بی اے سال اول آرٹس گروپ کے امتحان ڈیڑھ سال کے وقفے کے بعد شروع ہوئے  یعنی دو ہزار دس میں ہونے والے امتحانات  جنوری دو ہزار گیارہ میں ہوئے اور پرسوں ختم ہوگئے۔۔۔ گروپ کوئی بھی ہو, پانچ پرچے ہوتے ہیں یعنی پانچ مضامین, جسکی تیاری کے لئے تین سو پینسٹھہ دن کے علاوہ بھی چار چھہ مہینے زیادہ ہی دیے جاتے ہیں۔۔۔ سلیبس زیادہ نہیں ہے۔۔۔ سالوں پرانی کتابیں اور اس میں غیر دلچسپ اور غیر معیاری موضوعات اور اسباق۔۔۔ رٹا لگا نا ہو تو ایک مہینے میں تیاری ہو سکتی ہے۔۔۔ پھر پرچوں کے دوران پانچ دس دن کی چھٹی۔۔۔

پرسوں آخری پرچہ سیاسیات یا پولٹکل سائنس کا تھا۔۔۔ بہت کم لڑکیاں تھیں۔۔۔ کچھہ لڑکیاں دو گھنٹے بعد ہی نکل آئیں کچھہ چالیس منٹ پہلے۔۔۔ باہر آکر انھوں نے بتایا کہ پرچہ بڑا آسان تھا فورا کرلیا۔۔۔ بعد میں میری بیٹی نے بتایا کہ جو لڑکیاں بہت پہلے باہر آجاتی ہیں انکے پاس سے پھرے نکلتے ہیں۔۔۔ کسی کے اسکارف میں سے, کسی کے بالوں میں سے, کسی کے جوتوں سے, حتی کہ انڈرگارمنٹس میں سے پرچے نکلے, کسی نے ایڈمٹ کارڈ کے پیچھے لکھا ہوتاہے۔۔۔ مجھے یہ سمجھہ نہیں آئی کہ انھوں نے پچھلے پانچ سو پچاس دنوں کیا کیا۔۔۔ ایک مضون کے لئے اوسط ایک سو دس دن ملے۔۔۔ یعنی سوا تین مہینے۔۔۔ ہر ہفتے ایک سوال یاد کریں تب بھی پندرہ بیس سوال تو یاد ہو ہی سکتے ہیں۔۔۔ وہی لوٹ پھیر کر ہرسال آتے ہیں۔۔۔

خیر میرے نزدیک ہی تین لڑکیاں کوئی چالیس منٹ پہلے باہر آکربیٹھہ گئیں۔۔۔ ان میں سے ایک نے شکایت کی کہ ۔۔۔ لڑکیاں دوران امتحان کچھہ بتاتی نہیں, میں نے تو پیچھے حافظاؤں کے گروپ کو خوب سنائیں کہ آپ خود تو گرپ بنا کر ایکدوسرے کی مدد کر رہی ہو اور ہمیں کہہ رہی ہو کہ نقل بری بات ہے۔۔۔ اور ٹیچرز سے پوچھو تو کہہ دیتی ہیں ہمیں نہیں پتہ۔۔۔

باقی دونوں نے کہا کہ ہم جاب کرتے ہیں۔۔۔ ایک تو پرھنے کاموقع نہیں ملتا دوسرے تیاری کیسے کریں,  پھر امتحان والے دن کی چھٹی لینا۔۔۔

میں نے تھوڑی دیر ان کی باتیں سنیں پھر دخل اندازی کی۔۔۔ ان سے کہا کہ آپکے جوبھی مسائل ہیں اسکا مطلب یہ نہیں کہ آپکو امتحان والے دن نقل کی اجازت دے دی جائے, آپکے پاس سال بھر سے زیادہ ہوتا ہےتیاری کے لئے۔۔۔ رہا ٹیچرز کا نہ بتانا تو وہ نہیں بتاسکتیں کیونکہ انھیں کچھہ پتہ نہیں ہوتا اور اسکی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اساتذہ اپنے سبجیکٹس کے علاوہ کچھہ اور نہیں پڑھتے۔۔۔ اگر سائنس گروپ کے تھے تو انھیں آرٹس کا کیا پتہ۔۔۔ آرٹس گروپ کے مضامین میں سیاسیات, معاشیات, ایجوکیشن, نفسیات, عمرانیات وغیرہ شامل ہیں۔۔۔ یہ سارے مضامین دلچسپ بھی ہیں اور معاشرے کی بہتری کے لئے ضروری بھی۔۔۔ ان پر توخاص توجہ دینی چاہئے۔۔۔

میری باتیں سن کر وہ لڑکیاں وہاں سے اٹھہ کرچلی گئیں۔۔۔ لیکن میں یہ سوچ رہی ہوں کہ وہ کچھہ زیادہ غلط بھی نہیں تھیں۔۔۔

ہمارے ہاں اسکول کالجز کا رخ اوسط طبقے کے لوگ کرتے ہیں  جنکی زندگی مسائل سے بھری پڑی ہے۔۔۔ باقی دو طبقات کو نہ تعلیم سے دلچسپی نہ مسائل سے۔۔۔ اوسط گھرانوں کی لڑکیوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے شادی۔۔۔ اسی سوچ کے ساتھہ وہ بڑی ہوتی ہیں۔۔۔ میٹرک سے بھی پہلے انکے رشتوں کی تلا ش شروع ہوجاتی ہے۔۔۔ جب تک شادی نہ ہو پڑھتی رہتی ہیں۔۔۔ اگروالد کا انتقال ہو جائے, بھائی نکمے نکلیں, یا حالات خراب ہوں تو جاب شروع کردیتی ہیں پھر جاب کے مسئلے الگ۔۔۔ اگر ہمارے ہاں میٹرک کی تعلیم بھی معیاری ہو تو بات بن جائے۔۔۔ پھر گھروں کا ماحول, گھریلو خواتین کے موضوعات, کچھہ بھی تو علمی نہیں ہے۔۔۔

آئے دن کی تقریبات, مہمانداری, دوستانے, رسم وروایات,غیرملکی چینلز, انٹرنیٹ اور موبائل فونز کا غلط استعمال۔۔۔

جب تک خود کو ان چیزوں سے آزاد نہیں کریں گے کیسے وقت ملے گا صحیح کاموں کے لئے۔۔۔

Advertisements

B.A. Notes in Urdu

 

اردو نوٹس بیچلرز کے لئے۔۔۔ بیچلرز انگریزی کا لفظ ہے جسکا مطلب ہے کنوارا۔۔۔ اسکو چودھویں سال کی ڈگری کا نام کیوں دیاگیا اور پاکستان میں اسکا مقصد سمجھہ نہیں آتا۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کچھ لیولز ہونے چاہئیں انکا کوئی بھی نام رکھا جائے, کوئی بھی کسی بھی عمر میں جو لیول پاس کرے اسکو وہ ڈگری دے دیں۔۔۔

کیونکہ تعلیمی عمل کو چودہ سال تک کھینچنے کے لئے خواہ مخواہ کا سلیبس بنایا جاتاہے,  کون کتابیں لکھ رہا ہے, کیا لکھہ رہا ہے, کون سے اسباق ہیں اور انکا موضوع کیا ہے… کچھہ چیزیں پہلی کلاس سےایم اے تک پڑھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی طالبعلم نہ انھیں سمجھتے ہیں نہ ان پر بحث کر سکتے ہیں… مثلا تاریخ پاکستان, نظریہ پاکستان, اردو ادب, انگلش لٹریچر۔۔۔

ہر نئی نسل نئی حکومت کی طرح برے نظام کی وجہ اپنے سے پہلوں کی غفلت کو قرار دیتی ہے۔۔۔  لیکن نئی نسل یہ بھول جاتی ہے کہ پچھلی نسل کی غفلت کی وجہ نئی نسل ہی ہوتی ہے۔۔۔ ہر نسل کے لوگ جب اپنی اولادوں کے لئے خود غرض ہو جائیں, دوسروں کاحق ماریں, جھوٹے دستاویزات بنوائیں, رشوت لیں, رشوت دیں۔۔۔ تواگلی نسل کو جینے کے لئے صرف ایک  جرائم پیشہ معاشرہ ہی ملتا ہے جسکے حصہ دار خود انکے گھر اور خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے بیچلرز کی ڈگری کا مقصد کیا ہوتا ہے۔۔۔ پہلی جماعت سے بیچلرز تک چودہ سال اور مونٹیسوری سے سولہ سال بنتے ہیں۔۔۔ اور بیچلرز کی ڈگری لینے والے کی عمر انیس بیس اکیس سال کی تو  ضرورہو گی۔۔۔ تو ایک انسان کے پچے یا بچی کو سولہ یاچودہ سال کے مسلسل تعلیمی عمل کے بعد کس قابل ہو جانا چاہئے۔۔۔ کس حد سمجھدار اور باشعور ہو جانا چاہئے۔۔۔  کس قسم کی باتیں اسے سمجھہ آجانی چاہئیں۔۔۔ کس حد تک فیصلے کرنے اور انھیں نبھانے کی اہلیت ہونی چاہئیے۔۔۔ مذہبی, سیاسی, قانونی اورسماجی مسائل کی کس حد تک سمجھہ ہونی چاہئے اور انکو حل کرنے میں کیا کردار ہونا چاہئے۔۔۔۔ کس مضمون پر کتنا عبورہونا چاہئے۔۔۔ کیا مضامین کی کومبینیشن آج کل کے حساب سے ہے۔۔۔۔ کیا بیچلرز کی ڈگری طلبہ وطالبات کو موجودہ دور اور حالات کے حساب سے ملازمتوں یا کاروبار کے لئے تیار کرتی ہے یا اسکا مقصد یہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اگر ملازمت یا کاروبار کے لئے تیاری نہیں تو پھر چودہ یا سولہ سال سات آٹھہ گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔

ہمارے بچے ساتویں نہیں تو آٹھویں جماعت سے تو ضرورعشق ورومانس کی باتیں سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ اور بہت اچھی طرح والدین, ٹیچرز, محلے والوں کو چکر بھی دے دیتے ہیں۔۔۔اسکے لئے انھیں کسی ٹریننگ یا استاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ اور اس طرح پانچ چھہ سال میں اس فیلڈ کی اونچ نیچ کو خوب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن باقی معاملات کے معاملے میں نہ صرف وہ بچے بنے رہتے ہیں بلکہ ایک حد تک خود کو احمق, بے وقوف اور ناکارہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ اکثر والدین, رشتہ دار یا دوست وغیرہ بھی انھیں اسی قسم کی خصوصیات کا احساس دلادلا کر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

 چودہ یاسولہ سال زندگی کا ایک بہت بڑا اوراہم حصہ ہوتے ہیں۔۔۔ اتنےعرصے تو جانوروں کو ٹریننگ دی جائے تو وہ بھی قابل توجہ کام سر انجام دینے لگتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہ کام اس حد تک ان جانوروں کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں کہ انھیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے تو ان کی کمیونٹی انھیں قبول نہیں کرتی۔۔۔ اور نہ ہی وہ خود جنگل کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں۔۔۔ ساتھہ ساتھہ ایسے جانور اپنے مالک کےلئے کمائی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔۔۔ اپنے مالک کے ایک اشارے یا منہ سے نکلنے والے ایک لفظ سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

اب ذرا بیچلرز ڈگری کے خواہشمند یا وہ جو یہ ڈگری حاصل  کر چکے ہیں اپنا موازنہ ان جانوروں سے کریں, اس میں سرکس کے جانور بھی شامل ہیں۔۔۔ کہ کیا سیکھا اور کیاکرنے کے قابل ہیں۔۔۔

اردو زبان کے اصل مجرم کون ہیں۔۔۔ وہ جو خود تو بڑے اردو ادب کے ستون کہلائے مگر اپنی اولادوں کوانگریزوں کا پرستار چھوڑ گئے۔۔۔ وہ جنھوں نےقوم کو یہ سوچ دی کہ اردو زبان میں عشق ومحبت کے قصے سنائے جاسکتے ہیں, انتقام و نفرت و سازشوں سے  بھر پور اسکرپٹس لکھے جا سکتے ہیں, فتووں سے بھری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔۔۔ لیکن ملک وقوم کی کی ترقی کا کام نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ یا وہ جو اپنی اولادوں کو باہر کی یونیورسیٹیز میں پڑھاتے ہیں مگرقوم کو اردو کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ یا خود ساری عوام جو نہ بولنے کو تیار, نہ سننے کو, نہ کچہ کرنے کو۔۔۔

ہمیں کیوں اپنے اس جرم کا احساس نہیں ہوتا کہ ہرایرے غیرے کو اسکول کھولنے کی اجازت دے کر, ہر قسم کا سلیبس باہر سے درآمد کر کے, اپنے میں سے ہی اٹھے ہوئے مجرمانہ ذہنیت کے استادوں استانیوں کو تعلیمی اداروں کوبرباد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرکے ہم نے اپنے ہی بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔۔۔

بیچلرز کے لیول کے لئے کورس کی کتابیں ضروری ہیں یا کالجز اور یونیورسٹیز میں ایک تفصیلی سلیبس دے کر طلبہ سے تحقیقی کام کروانا۔۔۔ جبکہ ایک طرف حال یہ ہے کہ تیسری چوتھی پانچویں جماعت کے بچوں کو اردو میں نظم, شعر, مضمون, کہانیاں لکھنے کو دی جاتی ہیں۔۔۔ ضروردیں لیکن اسکے لئے انھیں پڑھنے کا وقت, تیاری کا وقت دیں نہ کہ بچے ٹیوشن یا بڑوں سے چیزیں لکھوا کر نمبر حاصل کریں۔۔۔

سیاق و سباق کے ساتھہ تشریح کریں, کسی ایک شاعر, ادیب, افسانہ نگار کے حالات زندگی لکھیں یا فن پر تبصرہ کریں, کسی نظم یا سبق پر تبصرہ کریں یا خلاصہ لکھیں۔۔ سروے کرکے دیکھہ لیں کہ یہ کتنا بڑا بوجھہ ہے طلبہ پر۔۔۔ اور جب بوجھہ ہلکا کرنے کے لئے والدین, اساتذہ ہی راستے فراہم کردیں توپھرجہالت کا شکوہ حکومت سے کرنا بےکارہے۔۔۔۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ نثر میں جو اقتباسات اور شاعری کے جو حصے منتخب کئے گئے ہیں وہ کس بناء پر۔۔۔  کتاب کے آخر میں مشکل الفاظ کے معنی بھی دے دیا کریں کیونکہ سو دو سو سال پرانی اردو تو اب بولی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اب تو لب ولہجہ بھی پاکستانی نہیں رہا۔۔۔ کم از کم کراچی میں تو ہندوستانی فلموں کا لہجہ اور الفاظ  نئی نسل کی شخصیت کا حصہ ہیں۔۔۔ بلکہ کافی ساری ٹیچرز اور اسکول اونرز بھی اسی تلفظ میں بات کرتی ہیں۔۔۔

کیا پاکستان میں پہلی جماعت یا مونٹیسوری سے بیچلرز تک مضامین, خاص طور پر اردو اور اسلامیات میں کوئی سیکوینس یادرجہ بندی ہے۔۔۔ کہ کس عمر یا جماعت کے بچوں میں کم از کم اتنی پڑھنے یا لکھنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔۔۔

What is Bachelor’s Degree? http://www.collegeonline.org/library/choosing-degree/bachelors-degree

As the examination days for Bachelors are approaching closer,  Google search for notes in Urdu is increasing every day.  Most searches are for Psychology, Political Science and Education notes in Urdu language.

There are many websites and facebook pages available for Urdu readers but they mostly consist of poetry, excerpts from Urdu Literature, religious substance by religious groups and news in general.  Nothing I could find that can help the students with discussions and explanation in Urdu.

I still don’t understand the reason of category “Arts” and for including Political Science, International Relations and Education in it.  To make things easier why don’t we introduce the credit system (like in many other countries).  Students can achieve the degree by availing certain credit points for different subjects.  Government will have to provide the syllabus and students can do their research to prepare notes and give examination.

The students of Arts or B.A. are mostly private students.  Even regular students don’t attend classes since they complain that lecturers and teachers ask them to come to the coaching in the evening and get the marks.  If this is really happening, no matter what , students must complain this to someone, inform personally or write to the authorities.

 

 قومی شناختی کارڈ کے لئے, ڈرائیونگ کے لئے, ووٹ ڈالنے کے لئے بلکہ شاید نکاح کے لئے بھی۔۔۔ اٹھارہ سال کا ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارہ سال دنیا میں گذارنے کے بعدایک لڑکا یا لڑکی اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنی شناخت کرواسکیں, ذاتی حیثیت میں بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔۔۔ شاید اسلئے کہ ان پربھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھنے کے بعد اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارویں سال تک پہنچتے پہنچتے ایک لڑکا یا لڑکی کم از کم دو الیکشن سیزنز تو دیکھہ ہی لیتے ہیں, اسکا طریقہ, اسکا نتیجہ, اس پر بحث مباحثہ انکے ذہن میں رہ جاتا ہے, اور وہ ذہنی طور پراس قابل ہوتے ہیں کہ ملک وقوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔۔۔ اور جو ملک اور قوم کے لئے صحیح یا غلط شخص کا انتخاب کرنے کی اہلیت رکھتا ہو وہ اپنے ذاتی زندگی کافیصلہ کرنے کابھی حق رکھتا ہے۔۔۔ اسکا مطلب ہے کہ قومی شناختی کارڈ ذمہ داری اورسمجھداری کی علامت ہے۔۔۔

کیا یہ معلومات یعنی قومی شناختی کارڈ کی اہمیت, ووٹ کی اہمیت, ٹریفک کے قوانین, شادی اور طلاق سے متعلق قرآنی احکامات,  ہمارےتعلیمی کورس کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں۔۔۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ وطالبات یعنی سولہ سترہ سال کے نوجوانوں کوان اہم موضوعات کے بارے میں بتانا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔۔۔ 

لیکن یہ باتیں ہیں اٹھارویں سال میں آنے سے پہلے کی۔۔۔ اٹھارہ کے بعد کیا کیا جائے, کیا سیکھا جائے, کیا سمجھا جائے۔۔۔

Why eighteenth year of life seems suitable for NIC, for driving, for right to vote and even for marriage?  What a person can witness and experience in just eighteen years?  Or is it enough time to become responsible for dealing personal affairs as well as communal and national matters?

What youth is supposed to do at eighteen, shouldn’t they be educated about those matters before their legitimate time?

اچھا چلیں یہ پوچھہ لیتے ہیں کہ بی اے کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔۔۔ ملازمت ڈھونڈنی ہے یا ماسٹر کرنا ہے۔۔۔

ہمارے معاشرے میں اس سوال کے متوقع اور پسندیدہ جوابات ہیں … مجھے آگے پڑھنا ہے, بہت قابل بننا ہے, دنیامیں نام پیدا کرنا ہے, باعزت مقام بنانا ہے, اپنےخواب پورے کرنے ہیں, غریبوں کا سہارا بننا ہے, ملک وقوم کی خدمت کرنی ہے۔۔۔

ان جوابات پر میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔ کہ سب سے پہلے تویہ سارے کام کرنے کے لئےہمت, توانائی, وقت اور جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بیچلرز کرنے تک آدھی بھی نہیں رہ جاتے۔۔۔ چودہ پندرہ سولہ سترہ سال کے تعلیمی عمل میں یہ سارے خزانے کام آجاتے ہیں اور یہ سارے کام خواب بن جاتے ہیں۔۔۔

دوسری بات یہ کہ بھئی کتنا پڑھ لینا ہے, کتابوں سے رٹ رٹ کر امتحان دے دے کر  چودہ پندرہ سولہ سترہ سال ایک ہی طور زندگی گذار کر جی نہیں بھر جاتا۔۔۔ کتنا قابل بننا ہے,  ویسے بھی زیادہ پڑھ لکھہ کرانسان قابل نہیں قابیل بن جاتا ہے۔۔۔ اور دنیا میں نام پیداکرنے اور مقام بنانے کی بات ہے تو میں نے خود پی ایچ ڈیز کو لانڈرومیٹ چلاتے اور عام سی پرنسپل کی جاب کرتے دیکھا ہے۔۔۔

غریبوں کا سہارا بننا اور ملک وقوم کی خدمت دو بہت پیچیدہ مسئلے ہیں جنکو بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں سمجھہ سکتےاورنہ بہت زیادہ غیر پڑھےلکھے۔۔۔ کیونکہ دونوں کاموں کا تعلق ایک مضبوط سماجی اور معاشی نظام سے ہے۔۔۔ جبکہ دونوں کومحض نیکی ثواب کا کام سمجھہ کرکسی خاص وقت اور حالات میں کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ ایک نظام کی شکل اختیار نہیں کرپاتے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےکہ ہم میں سے ہرایک زیادہ سے زیادہ غریبوں کا سہارا بن کرخدا سے نزدیک ہوناچاہتاہے اور اسے انسانیت کی خدمت اور سب سے بڑی عبادت سمجھتاہے۔۔۔ اور آج خدا نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں کی خواہش کے مطابق دردمند, بے بس, مجبور, بےسہارا, غریب لوگ کڑوڑوں کی تعداد میں سامنے لاکر کھڑے کردئیے ہیں کہ کروانکی مدد اور ہو جاؤ میرے نزدیک۔۔۔  یہ کڑوڑوں بے سہارا وہ لوگ ہیں جو کل تک ہمارے رزق کا سامان کررہے تھے۔۔۔ اگر ہم نے انکے مسائل میں دلچسپی لے کر انھیں بہتری کی طرف لے آئے ہوتےتوآج ہم ایک آسان زندگی گذار رہے ہوتے۔۔۔

پس ثابت یہ ہوا کہ نیکی کرنے کی دعا مانگنے سے پہلے اسکی منصوبہ بندی بھی کرلینی چاہئیے اور ذہنی اور  جسمانی طور پر خود کونیکی کے مواقع فراہم کرنے والےحالات کے لئے تیار بھی کرلینا چاہئیے۔۔۔

اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ انسان کسی قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ دشمنوں کو للکار کرمٹانے کی باتیں کرنے والے, روٹی کپڑا مکان فراہم کرنے کے دعوے کرنے والے, انسانوں کو آزادی اور انسانی حقوق کا خواب دکھا کر لادینیت یا سیکیولرازم کی طرف لانے والے, اپنے جوش ایمانی سےلوگوں کی تقدیریں بدل دینےوالے, اپنے خطبات سے اور فتووں سے دوسروں کے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔ مچھر جیسے حقیر سمجھے جانے والے کیڑے کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔۔۔ دوا کام آرہی ہے نہ دعا۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا کہ… ہو عالم ایجاد میں جو صاحب ایجاد, ہردورمیں کرتا ہے طواف اسکا زمانہ۔۔۔۔۔۔

اقبال کا مطلب شاید سائنسی ایجادات بھی رہا ہو جنکی وجہ سے مسلمان صاحب ایمان مغربی دنیا کے غلام بن گئے ہیں کیونکہ سائنسی چیزیں ایجاد کرنا ہمارے ہاں کفر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کافر ایجاد کرے تو مصلحتا استعمال کرنے کا فتوی موجود ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن یقینا صاحب ایجاد سے اقبال کی مراد صاحب تدبیر ہے یعنی مشکلات سے نکلنے کے لئے وقت اور حالات کے حساب سے حل بتانے والا۔۔۔ کیونکہ مسلمان اپنی حرکتوں کی وجہ سے دشمنوں کو اپنے پیچھے لگا لاتے ہیں اور جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے نکلنے کے لئے صاحب تدبیر لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ جو بعد میں قوم کے ہیرو یا باپ کہلاتے ہیں۔۔۔

ویسے جو بی اے کے بعد جابس تلاش کرنا چاہتے ہیں انکے خیال میں انھیں کس قسم کی جابس مل سکتی ہیں۔۔۔ انکی تنخواہ کتنی ہوسکتی ہے۔۔۔ اس تنخواہ میں وہ کب تک گذارہ کرسکتے ہیں۔۔۔

بی اے کی ڈگری تو ویسے بھی کئی سال پہلے اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔۔۔ بی اے میں پڑھائے جانے والے مضامین کا پاکستان میں کیا کام۔۔۔ نفسیات, سیاسیات, عمرانیات, معاشیات, گھریلو معاشیات, لائبریری سائنس, تاریخ, اسلامی تاریخ, تاریخ پاکستان, بین الاقوامی تعلقات, عربی, فارسی, تعلیم, سوشل ورک, جغرافیہ۔۔۔۔

تو جس نظام جس تعلیم کا فائدہ نہ ہو اسے بدل کیوں نہیں دیتے۔۔۔ اپنے لئے نہ سہی, اگلی نسلوں کے لئے سہی۔۔۔وہ دعا دینگی کہ کوئی ہمارے لئے کام  آسان کرگیا۔۔۔

میر امن دہلوی  – 1809 – 1733              سرسید احمد خان – 1898 – 1817

مولوی نذیر احمد – 1912 – 1831            مولانا محمد حسین آزاد – 1910 – 1832

سید مہدی علی محسن الملک – 1907 – 1837     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857         مولوی عبدالحق – 1961 – 1870

منشی پریم چند – 1936 – 1880             مرزا فرحت الله بیگ – 1947 – 1884

رشید احمد صدیقی – 1977 – 1892         احمد شاہ پطرس بخاری – 1958 – 1898

غلام عباس – 1982 – 1909        خواجہ میر درد – 1784 – 1720             میر تقی میر – 1810 – 1722

خواجہ حیدر علی آتش – 1846 – 1778   مرزا اسد الله خاں غالب – 1869 – 1797

مومن خان مومن – 1856 – 1800        نواب مرزا خان داغ دہلوی – 1905 – 1831

سید فضل الحسن حسرت موہانی – 1951 – 1875     علی سکندر جگر مراد آبادی – 1960 – 1890

علامہ اقبال – 1938 – 1977     فیض احمد فیض – 1984 – 1911

مرزا محمد رفیع سودا – 1781 – 1703     شیخ محمد ابراہیم ذوق – 1854 – 1789

میر ببر علی انیس – 1874 – 1802     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

نظیر اکبر بادی – 1830 – 1735     علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857

سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی – 1921 – 1843      شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی – 1982 – 1896

سیماب اکبر آبادی – 1951 – 1880    احسان دانش – 1983 – 1892

حفیظ جالندھری – 1982 – 1900

یہ اردو ادب کے چند مشہور نام ہیں۔۔۔ کچھہ شاعر اور کچھہ نثر نگار۔۔۔ ان میں سے کچھہ کےنام پہلی جماعت سے سنتے اور پڑھتے چلے آئے ہیں پھر بھی نہ انکی تاریخ پیدائش یاد ہوتی ہے نہ تاریخ وفات, نہ جگہ پیدائش اور نہ وجہ پیدائش۔۔۔ چودہ سالوں کے دوران جب انکا نام آئے نوٹس بنانے کے لئے بھاگ دوڑ مچی ہوتی ہے۔۔۔ ان میں سر فہرست نام ہے سرسید احمد خان, علامہ اقبال اور غالب۔۔۔

ویسے اتنے سارے ناموں میں صاحب تدبیر کون نکلا۔۔۔ میرے حساب سے علامہ اقبال۔۔۔ ایک وژن دے کر ہندوستان کی مسلمان اقلیت کو پاکستان کی مسلمان اکثریت میں بدل دیا۔۔۔ قلم اور سوچ کی طاقت کا صحیح استعمال۔۔۔

باقی سب بھی ٹھیک تھے, انہوں نے اپنے لحاظ ادبی کام بھی کئے, سیاسی بھی, مذہبی بھی اور سماجی بھی۔۔۔ مزاح بھی لکھا اور بچوں کے ئے بھی۔۔۔ غزل, نعت, مرثیہ, رباعی, نظمیں۔۔۔۔۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انکے کلام میں یہ سب مل جاتا ہے۔۔۔

دوسرا بڑا نام حفیظ جالندھری کا ہے جنھوں نے اقبال کے تصور پاکستان کے مقصد کو سمجھتے ہوئے قومی ترانہ لکھہ ڈالا اور کیا کمال لکھا کہ جتنی مرتبہ پڑھیں مزہ آتا ہے۔۔۔ کم الفاظ کے شعروں کے قافیہ اسطرح ملائے ہیں کہ نہ پڑنا مشکل نہ یاد کرنا اور مقصد بھی سمجھہ آجائے دو قومی نظریے کا۔۔۔

ویسے ان دو بڑے ناموں کو ہم نہ جانے کیوں پیچھے رکھتے ہیں۔۔۔ حسد کرنے یا مقابلے کی بات نہیں۔۔۔ ذرا سب کی تاریخیں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ سب ہی اگے پیچھے ایکدوسرے کے زمانے سے وابستہ تھے۔۔۔ ایک ہی خطے کے رہنے والے تھے۔۔۔ ان میں سب سے پرانے میر درد اور سب سے نئے فیض احمد فیض ہیں۔۔۔ لیکن جس نے کچھہ حاصل کرلیا وہ دو بڑے نام یہی تھے۔۔۔ اقبال اور حفیظ جالندھری۔۔۔

ویسے بی اے  کے باقی مضامین بھی پڑھنے کی نہیں بلکہ ٹی وی پروگرامز دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔۔۔ تقریبا سارے مضامین کے موضوعات پر کسی نہ کسی چینل پر بات چیت یا بحث ہورہی ہوتی ہے۔۔۔ اخبارات اور رسالوں سے بھی نوٹس بنائے جاسکتے ہیں۔۔۔

سیاسیات میں دنیا کی مشہور تقریریں بھی شامل کرنی چاہئیں جن میں قائد اعظم کی تقاریر بھی شامل ہوں اوران لوگوں کے حالات زندگی جن کی کوششوں نے انکے ملکوں کی سیاست پرمثبت اثر ڈالا۔۔۔ خواہ مخواہ میں صدیوں پرانےسیاسی نظام جو اب کہیں نہیں ان پر بحث کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ انھیں تو حوالہ کے لئے پڑھیں اور بس۔۔۔ البتہ خلافت مدینہ اور رسالت کے سیاسی پہلوؤں کو ضرور کورس میں شامل ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔

ایجو کیشن تو مضمون نہیں بلکہ خود ایک کیٹیگوری ہے۔۔۔ اس میں تو سارے ہی مضامین آجاتے ہیں۔۔۔

بلکہ آرٹس گروپ ختم کرکے جتنے مضامین ہیں انھیں دو بنیادی کیٹیگوریز سیاسیات اور تعلیم میں لازمی کردیں۔۔۔ دو سال یعنی سات سو تیس دن کافی ہو سکتے ہیں اگرصحیح طریقے سے پابندی کے ساتھہ پڑھایا جائے۔۔۔

یہ جو کچھہ اسباق اور کچھہ مشقیں ہم تقریبا ہر سال کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں وہ طریقہ بھی تبدیل ہونا چاہئیے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو  سوچنے کے لئے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو سوچنے کے لئے۔۔۔

 

اردو زبان کے امتحانات۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کے ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے کیا۔۔۔ اتنا غصہ آتا تھا پرچوں میں الٹے سیدھے سوال پڑھ کر۔۔۔

روشنی ڈالئے, اظہار خیال کیجئے, تبصرہ کیجیے۔۔۔  بھئی یہ بھی تو بتائیں یہ سب کرتے کیسے ہیں۔۔۔ کیا اظہار خیال کا مطلب ہوتا ہے ذاتی رائے, توواقعی سچی رائے لکھنے پر نمبرز مل جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو قسم کے سوال سب سے زہر لگتے تھے۔۔۔ ایک یہ کہ, بتائیے شاعر اس شعر میں کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی وہ شاعر جو انتقال فرما چکے ہیں۔۔۔ بھئی یہ تو شاعر خود ہی بتا سکتاہے, ہمیں کیا پتہ اب کہ وہ کسں سے کیاکہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اصولا اس قسم کے سوالات کے لئے زندہ شاعروں کی شاعری کا انتخاب کرناچاہیے کہ انسان کبھی ملاقات کرکے پوچھہ ہی لے کہ بھئی آپ اپنے شعروں میں کیا کہنا چاہتے ہیں, تفصیل سے بتائیے, امتحانات میں جوابات لکھنے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسےجو شاعرآج زندہ ہیں انکا کلام انکے مرنے کے بعد اردو سلیبس کا حصہ بنے گا۔۔۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ امتحانات میں سوالات کا اندازجب تک بھی یہی رہے گا۔۔۔ لہذا آج کے شاعروں کو چاہیے کہ کل کے طلبہ وطالبات کی آسانی کے لئے اپنی شاعری کی وجوہات , اپنے خیالات قلمبند یا فلمبند کروا جائیں۔۔۔

ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اگرزندہ شعراء, ادیب اور افسانہ نگاروں کے لکھے کو پڑھایا جائے, بلکہ اردو کے پیپرز انھیں سے چیک کروائے جائیں۔۔۔ ایک تو انکا دل ہی خوش ہو جائے گا, دوسرے انکو کام مل جائے گا, تیسرے ان میں مزید بہتر اور کچھہ نیا لکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔۔۔

اچھا, دوسرا سوال جو کہ سوال نہیں بلکہ مطالبہ ہوتا تھا اور مجھے نہایت عجیب لگتا تھا وہ یہ کہ۔۔۔ فلاں فلاں بات یا کسی کے جملے پر بحث کیجئے۔۔۔ اب پہلی بات تو یہ کہ ہمارے گھر میں بحث مباحثے پر پابندی تھی, امی کوسخت برا لگتا تھا زبان چلانا, اسلئے پحث کرنا ہی نہیں آتی تھی۔۔۔ دوسرے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کاپی پر بحث کیسے کی جاتی ہے کیونکہ بحث کرنے کے لئے کسی دوسرے کا سامنے ہونا اور بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔ خود ہی خود تو یا پڑھا جا سکتا ہے یا لکھا جاسکتاہے, بحث نہیں کی جاسکتی۔۔۔

یہ تو اب پتہ چلا کہ کسی بات کی بال کی کھال اتار دینا, کہاں سے شروع ہوئی, کیسے شروع ہوئی, اس کے اچھے یابرے اثرات کیاہوئے, انجام کیا ہوا۔۔۔ یہ سب کچھہ لکھنا بحث کرنا کہلاتا ہے۔۔۔

اچھا ٹیچرز اتنا بتاتے نہیں جتنا امتحانات میںلکھنے کو دیتے ہیں۔۔۔ اورآجکل تواورغضب ہے۔۔۔ کچھہ بھی نہیں بتاتے اور سب کچھہ پوچھہ لیتے ہیں۔۔۔

 سب سے بڑا سانحہ تعلیمی دور کا یہ ہوتا ہے کہ ساری چیزیں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رفتہ رفتہ سمجھہ میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور پڑھے لکھے کا حال اس کرکٹر جیسا ہوجاتا ہے جو خود تو کبھی صحیح نہ کھیل پائے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وہ مشورے دیتاہے, وہ تنقیدیں کرتا ہے  جیسے بابائے کرکٹ ہے۔۔۔

اچھامزے کی بات یہ ہے کہ سارے طالبعلم اپنے زمانےمیں برے نظام تعلیم کا رونا رورہے ہوتے ہیں۔۔۔ مگرجب والدین بنتے ہیں تو کہتے ہیں, ہمارے زمانے میںبھی تو آخرپڑھائی ہوتی تھی, ہمارے اساتذہ ایسے سخت اور قابل ہوتے تھے, ایک آجکل کے ٹیچرز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب کہتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی یا کے ٹیچرز کل انھیں کے زمانے کے اسٹوڈینٹس تھے۔۔۔ کل انھوں نے جو سیکھا آج سکھا رہے ہیں۔۔۔

یہ کوئی نہیں کرتا کہ بی اے کے ایجوکیشن/تعلیم منتخب کرنے والوں سے پوچھے کہ تمھارے ہوتے ہوئے  تعلیمی نظام میں بہتری کے بجائے براوقت کیسے آیا۔۔۔ سترہ, اٹھارہ, انیس, بیس, اکیس۔۔۔ پانچ سالہ اعلی تعلیم کا کیا نتیجہ نکلا۔۔۔۔

کم عمری میں اگرکسی نے کوئی بہت بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے تو اب تک صرف دوشخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ۔۔۔ محمد بن قاسم الثقفی اورفاتح سلطان محمد یا محمد ثانی۔۔۔

محمد بن قاسم الثقفی کاتعلق شہر طائف سے تھا جہاں توہین رسالت کی گئی اسطرح کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتھر مارمار کرشدید زخمی کر دیاگیا, اور جب الله سبحانھ وتعالی نے فرشتے بھیجے یہ پوچھنے کے لئے کہ اگرآپ صلی الله علیہ وسلم چاہیں توشہر کو انتقاما تباہ کردیا جائےتو فرمایا کہ نہیں, یہ نادان لوگ ہیں, شاید ان کی نسلوں میں سے ایمان والے لوگ پیدا ہوں۔۔۔ پتہ نہیں طائف کے باشندوں کو معلوم ہے کہ نہیں کہ وہ کتنی عظیم قوم ہیں, انکا ایک بیس سالہ نوجوان ہندوستان کی سرزمین اور خاص طورپرسندھ کی سرزمین کے لئے رحمت بن کرآیا۔۔۔ کبھی پاکستانیوں نے طائف والوں کا شکریہ اداکیا۔۔۔۔۔۔ صرف سترہ سال کی عمر میں کامیاب فوجی آپریشن کیا اور ہنوستان میں پہلےاسلامی سیاسی نظام کی بنیاد ڈالی۔۔۔ کل بیس سالہ زندگی, نہ قبر کا نام و نشاں, نہ کوئی  پتھریلی یادگار۔۔۔ لیکن آٹھہ سو سال بعد بھی کڑوڑوں مسلمان بغیر کسی مطلب کےعزت اورفخر سے نام لیتے ہیں۔۔۔

فاتح سلطان محمد کاتعلق ترکی سے تھا۔۔۔ اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی حکومت کا خاتمہ کردیا۔۔۔ ترکی کے لوگ پانچ سو سال بعد بھی انھیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔۔۔  اور باقی اسلامی دنیا بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔۔۔ 

تصور کیا جاسکتا ہے کہ اتنی چھوٹی عمروں میں اتنی بڑی کامیابی کے لئے انکی سولہ سترہ سال کی عمر تک کی زندگی کیسی گذری ہوگی۔۔۔ یہ ہمارے مسلمان نوجوان تھے جن پر ان کے بڑوں نے بھروسہ کرکے اتنی بڑی ذمہ داریاں ڈالیں۔۔۔

اب ذرا آج کے بڑے اور نوجوان, دونوں کا رویہ دیکھیں زندگی, قوم اور ملک کے بارے میں۔۔۔ کیا آج کے بڑوں کو حجاج بن یوسف اور سلطان مراد کی طرح اپنی تربیت اور تعلیم پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے کسی چھوٹے کو اتنا بڑاکام کرنے دیں کہ ملک وقوم کی تاریخ بدل جائے۔۔۔ کیا ہمارے ہاں نوجوانوں کو ملک وقوم سے متعلق کوئی نور بصیرت دیا بھی جاتا ہےکہ نہیں۔۔۔

اوپر والے دونوں سوالوں کا جواب ہے نہیں۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں اولاد کو ملک وقوم کی امانت نہیں بلکہ بہت عرصہ تک اپنابچہ ہی سمجھا جاتا ہے اوربچہ بھی اسی میں خوش رہتا ہے کہ میں معصوم ہوں لہذا بڑا کام کرنے سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ نور بصیرت جن ذرائع سے سمجھہ آتا ہے یعنی صبر مطلب کہ جمے رہنا, حکمت یعنی صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھہ,  تزکیہ نفس مطلب کہ غیر ضروری باتوں اور کاموں سے اجتناب, تفکر, یقین۔۔۔ اسکے لئے وقت کس کے پاس ہے۔۔۔

البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں کچھہ نہ کچھہ نوجوان اتنی مایوسیوں اور بند ماحول میں بھی خود ہی اپنے لئے زندگی کاراستہ چن لیتے ہیں اور اسطرح اکثر دوسروں کے لئے بھی زندگی آسان کردیتے ہیں۔۔۔

توہین رسالت کے ذکر پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا نام یادآجاتا ہے اور ساتھہ ہی ممتاز قادری, جس نے کچھہ ملاؤں کی جوشیلی تقریریں سن کر اقدام قتل کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ ملازمت تو حکومت کی کررہا تھا مگر اسکی وفاداریاں مولویوں کے ساتھہ تھیں, اس نے اپنی عقل, اپنے جذبات, اپنے اعمال کو اپنے عالموں کے اختیار میں دے رکھا تھا۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملا دوسروں کو تو جوش دلاتے ہیں لیکن خود کوئی ایسا کام نہیں کرتے۔۔…۔ اور جو انکی تقریریں سن کر قانون ہاتھہ میں لے اسے جنتی قرار دے کر لوگوں کو اسکے پیچھے لگا دیتے ہیں۔۔۔

ہماری فلم انڈسٹری اوراردو ادب کےکچھہ لکنے والوں نے بہت پہلے سے اس سوچ کو عام کیا ہوا ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر خودانتقام لینے والا اور اس کے لئے قانون کو توڑنے والا عوام کا ہیرو ہوتا ہے۔۔۔

شاید اسی عام تاثر کی وجہ سے ہمارے ہاں کے ہر مردوں عورتوں کو اپنی غلطیاں, اپنے جرائم جسٹفائے کرنے کی عادت ہوگئ ہے۔۔۔ اور شاید اسی لئے ممتاز قادری کا جرم ہمیں نظر نہیں آرہا۔۔۔

توہین رسالت کا قانون ہونا چاہئے اس میں تو کوئی بحث ہی نہیں۔۔۔ لیکن توہین کے مجرم کو بغیر وارننگ قتل کرنا, تعلیم سے ہٹانا, ڈرانا دھمکانا, گھریا علاقے سے نکال دینا۔۔۔ کونسا اسلام ہے۔۔۔ کیا اسلامی طریقہ یہ نہیں کہ اسے عدالت میں لےجایا جائے, اسکی بات سنی جائے, اسکو بحث کرنے کاموقع دیا جائے۔۔۔ کیا پتہ وہ توبہ ہی کرلے۔۔۔

ویسے بھی اسلامی تعلیمات کامقصد انسانوں کی اصلاح کرنے کا موقع دینا ہے, فورا سزانہیں۔۔۔ اور پھراگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے رسول کی, قرآن کی عزت کرے تو پھر وجہ بھی توفراہم کریں۔۔۔۔

ویسے کیا مولوی ہونے کے لئے ضروری کہ وہ مسکین, دوسروں کی خیرات زکواہ پر پلنے والا, محدود سے علم والا, بے ڈول روتا پیٹتا شخص ہو۔۔۔ یا پھرایک خاص لباس پہنے, گردن اکڑائے, اپنی کرسی پر بیٹھہ کر دوسرے فرقوں کی برائیاں نکالنے والا, لوگوں کے عام مسائل سے ہٹ کراپنی خانقاہوں اور آستانوں پردکانداروں کی طرح بیٹھہ کرگاہگوں کا انتظار کرنے والا بے ڈول کوئی شخص ہو۔۔۔ آخر مولوی کوئی نارمل انسان کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ سوال کرے, سوال سنے, جواب دے, جواب لے۔۔۔

 

Is current educational process in private schools worth spending money on it?

How many O’ Levels students have completed their A’ Levels since it’s introduction in Pakistan?  How many of them have really achieved what they wanted?

ایک اہم بات ہے اوروہ یہ, کہ طلبہ کو خود بھی پوچھنا اورسوچنا چاہئے۔۔۔ کہ بی اے میں دو سال کے لئے ایجوکیشن اور پھر مزید بی ایڈ کے لئے دو یاتین سال کی پڑھائی کا مقصد کیا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں جتنی دیر لگتی ہے رزلٹ آنے اور تعلیمی سال شروع ہونے میں, تو چار پانچ سال کے بجائے تقریبا سات سال لگ جاتے ہیں۔۔۔ بی اے سال اول کی طالبعلم جوعموما اٹھارہ انیس سال کی ہوتی ہے, بی ایڈ کرنے تک پچیس چھبیس کی ہوجاتی ہے۔۔۔ اکثر تو اس دوران اس کی شادی ہوجاتی ہے اور ملازمت اسے گھر اور بچوں کے لئے کرنی پڑتی ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عام پرائیویٹ اسکولوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس لڑکیاں کم تنخواہ پر رکھہ کر کام چلایا جاتا ہے۔۔۔ لڑکے شاید ہی ایجوکیشن میں آتے ہوں گے۔۔۔

پھر یہ کہ دوسال ایجوکیشن پڑھنے کے بعد ان میں کیا صلاحیتیں پیدا ہوئیں کیا وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ۔۔۔ آزادانہ اور مثبت سوچ رکھتے ہوں۔۔۔ کسی بھی موضوع پر لکھہ سکیں یابحث کرسکیں۔۔۔ پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرسکیں۔۔۔  کسی بھی درجہ کے بچوں کو نتیجہ خیز بنیادی تعلیم دے سکیں۔۔۔ تعلیمی نظام میں جو غلطیاں ہیں انھیں تبدیل کرسکیں۔۔۔

آج تک کےبحث ومباحثوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج تک ہم نے اپنے نظام تعلیم کی ناکامی کا صرف ایک اندازہ لگایا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ شاید ہم مغربی دنیا کے نظام تعلیم کو نہ صحیح سمجھہ پائے اور نہ رائج کرپائے۔۔۔ نتیجہ کے طور پہ ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو یا تومغربی دنیامیں کامیابی حاصل کرچکے ہوں یا کم از کم اسکے حق میں بول سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اندازہ نہ لگا پائے کہ یہی تو ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے۔۔۔

دوسری اہم سوچنے والی بات یہ ہے۔۔۔ کہ ہمارے ایجوکیشن/ تعلیم کے سلیبس میں حسب عادت غیر ملکیوں کے نظریات کے علاوہ دارلعلوم دیو بند, علی گڑھ تحریک, ندوہ العلماء وغیرہ کا ذکر ہے لیکن کہیں بھی ابوعلی الحسین ابن عبدالله ابن سینا اور ابن طفیل کے نام کا ذکر نہیں جنکے نام خاص طور پرایجوکیشنل فلاسفی یعنی فلسفہ تعلیم کے موضوع پر مغربی دنیا میں افلاطون اورارسطو کے ساتھہ آتے ہیں۔۔۔ بو علی سینا نے مونٹیسوری اور یوتھہ کی تعلیم کے اصول وضع کئے۔۔۔ ہم جانتے نہیں۔۔۔ یہ مسلمانوں پر ظلم نہیں تو کیا ہے۔۔۔ ایجوکیشنل سائیکا لوجی کی انگلش کی کتاب (جسکو ڈاکٹر عبدالرؤف نے لکھا ہے جو کہ کافی ڈگریز ہولڈر ہیں) سے اسلامی حوالہ جات غائب ہیں۔۔۔ ایجوکیشن کی انگلش میں کورس بک کا سائز ہے تقریبا پانچ انچ بائے   تقریبا سات انچ اور کل صفحات کی تعداد ایک سو چونتیس۔۔۔ گو کہ اس میں امتحانات میں آنے والے عام سوالات کے جوابات  موجود ہیں اور طلبہ نے صرف رٹا لگانا ہے۔۔۔  لیکن طلبہ کے تعلیمی رجحان کے لحاظ سے تو یہ چھوٹی کمزور سی کتاب بھی بہت موٹی ہے۔۔۔

عربیوں نے اپنے مفکرین کے مجسمے بنا کر انکو خراج تحسین پیش کیااورہم ایک علامہ اقبال کی قدر نہ کر سکے۔۔۔  البتہ ہمارے سیاستدانوں نے افتتاحی تختیوں کی یا پھر چوک پر پتھر سے بنے آرٹ کی شکل میں اپنی نا اہلی کے ثبوت ضرور چھوڑے ہیں۔۔۔ کراچی میں جگہ جگہ نصب ملیں گی۔۔۔  میں اسے کہتی ہوں اپنی زندگی میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے کتبے لگانا۔۔۔ کیونکہ یہ تختیاں ہوتی ہیں جن پر انکے کل کارناموں کی تاریخ لکھی ہوتی ہےانھیں اپنی قوم سے تو توقع ہوتی نہیں کہ وہ انھیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےاور سچی بات ہےکہ ۔۔۔ جس قسم کے نظام تعلیم کی پاکستان میں ضرورت ہے اس کے لئے ماں اور باپ تو اگلےسو سال تک راضی نہیں ہوں گے,  سرپرست ہاتھہ نہیں رکھنے دینگے, ڈونرز فنڈنگ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔

پہلی چیز تو یہ پسند نہیں آئے گی کہ تعلیمی کورس سب کے لئےایک جیسا ہو, دوسرے یہ کہ لوکل سلیبس پر مشتمل ہو, تیسرے یہ کہ بچوں کو گدھا بنائے بغیر کچھہ سکھایا جائے, چوتھے یہ کہ مقابلہ بازی نہ ہو, پانچویں یہ کہ موجودہ طریقوں اور سوچ سے ہٹ کر ہو, چھٹے یہ کہ کم بجٹ کا ہو, ساتویں یہ کہ اس میں کسی کی شو شا نہ ہو۔۔۔۔۔۔

لہذا یہ تجربہ کیا جاسکتا ہے صرف یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں پر۔۔۔

شاید اسی لئے زیادہ تر رسولوں اور پیغمبروں کو والدین کے ہوتے ہوئے بھی ایک یا دونوں والدین سے دور رکھہ  کرپالا گیاہو۔۔۔

ان یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نیوٹرل ہوتے ہیں۔۔۔ اگرانھیں اچھائی کی طرف راغب نہ کیا جائے تو خودبخود برائی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔۔۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ معاشرے کے خلاف انتقامی جذبات و خیالات بھر کر ان کو اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور معاشرے پر کس بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں اسکی مثالوں سے صرف پاکستانی معاشرہ نہیں بلکہ ساری دنیا بھری پڑی ہے۔۔۔

نظام تعلیم میں سے ذرا دیر کو تربیت اورتنظیم والاحصہ نکال دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہماری زندگیوں سے تو یہ عرصہ دراز سےغائب ہی ہے اور والدین سمیت کوئی اس میں ذاتی طور پر اورعملی طور حصہ لینے پرتیار نہیں۔۔۔ بلکہ شاید وزارت تعلیم سے بھی اسکا مطالبہ کرنے پر تیارنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میرے حساب سے جو کچھہ وزارت تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ہے لکھنا اور پڑھنا سکھانا اور حساب کتاب کی سمجھہ بوجھہ پیدا کرنا۔۔۔

پھر وزارت تعلیم ملک کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاملات سے بیگانہ رہتی ہے جہاں امراء ور شرفاء کےبچے کچھہ سیکھنے سکھانے جاتے ہیں۔۔۔ اور باقی جوآبادی بچی اس کا شاید دس فیصد سرکاری اسکولوں کا رخ کرتا ہوگا۔۔۔ تو اتنی کم تعداد کے لئے صرف لکھنے پڑھنے اور تھوڑے بہت حساب کتاب سکھانے کا بندوبست کرنا موجودہ تعلیمی بجٹ میں کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہے بھی تو تعلیمی بجٹ کو بلاوجہ کے اور فضول ترین بے نظیر انکم سپورٹ کے بجٹ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔۔

I don’t know why has Turkey agreed upon supporting the most useless Benazir Income Support Program in Pakistan?  Oh, I get it.  It could be the program to generate income for Benazir’s poor family.  Any country must visit Pakistan and take public opinion before responding to our official beggars.

اچھا اس بجٹ میں سے تعلیمی اداروں کی دیکھہ بھال بھی نکال دیں تو جو کام بچا وہ خیراتی اداروں میں اور یتیم خانوں میں ہو ہی رہا ہے۔۔۔ لہذا پاکستان میں کم از کم دس سال تک وزارت تعلیم کی ضرورت نہیں۔۔۔

اب جو کام بچا ہے تعلیم سے متعلق, یعنی لکھنا پڑھنا گننا, اسکے لئے پورا پورا سال ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچے تو زیادہ جلدی اور اچھا نتیجہ دے سکتے ہیں۔۔۔

اپنے ملک کا جو بیڑہ ہم سب نے مل کرغرق کیا ہے۔۔۔ اسکو دیکھتے ہوئے اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ بھلا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔ ملازمتیں تو پہلے ہی کہیں نہیں ہیں۔۔۔

بہت آسانی سےسمجھہ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ پرائیویٹ اسکولوں کالجوں والے یا تو ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر تے ہیں یا پھر پرائیویٹ اداروں کے درمیان گھومتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں کالجوں میں جائیں بھی تو مقصد کچھہ دینا نہیں ہوتا بلکہ آسان ملازمت اور حکومتی مراعات کا حصول ہوتاہے, اسی لئے ان سے بہت امیدیں رکھنا فضول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری اور خیراتی اسکولوں اور اداروں میں تھوڑ ے بہت ہی سہی پڑھے لکھے باشعور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ فٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔

اس کے علاوہ بھی ذرا دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سے مسلمان ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک بھی پاکستان سےبد تر حالت میں ملیں گے۔۔۔ پڑھنے پڑھانے والوں کے لئے ہر ملک کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں اسکی کچھہ شرائط ہیں۔۔۔ ایک صبر یعنی جلد بازی نہ کرنا۔۔۔ دوسرا قناعت یعنی بہت زیادہ کی توقع نہ رکھنا۔۔۔ تیسرا تسلسل کے لئے مستقل جگہ اور اسباب کا انتظام ہونا تاکہ غیر متوقع حالات کا اثرنہ پڑے ۔۔۔ چوتھے, کیونکہ مستقل مزاجی سے کسی مقصد کے لئے کام کرنے والوں کی کمی رہتی ہے, اس کے لئے متبادل انتظام رکھنا۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ دو ہزار گیارہ میں بھی کسی نے مونٹیسوری اورایلمینٹری کلاسز میں وڈیوز اور کمپیوٹرز کو مستقل ذریعہ تعلیم نہیں بنایا۔۔۔ جبکہ پرائیویٹ, سرکاری اور خیراتی۔۔۔ سارے تعلیمی ادارے اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ اکثر انسانی ذرائع کا اچھا متبادل  بھی ثابت ہوتے ہیں۔۔۔

کسی نے بہت اچھی بات کی تھی کبھی۔۔۔ کہ ساری اردو الف سے ے, ساری انگلش اے سے زی/زیڈ اور سارا حساب ایک سے دس تک کے ہندسوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کم ازکم اتنی تعلیم تو کوئی بھی دے سکتا ہے اور کوئی بھی لے سکتا ہے۔۔۔ اور کتنے سال لگتے ہیں اتنی سی چیزیں سکھانے میں۔۔۔ کیا الف سے آم, ب سے بلی , آموں کی تعداد اور رنگ, بلیوں کی حرکات بتانے کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

سب سے پہلا کام تو یہ کرسکتےہیں کہ کچھہ عرصہ کے لئے تعلیمی عمل کو تین بنیادی حصوں/لیولز میں تقسیم کردیں۔۔۔  پہلے حصہ کا تعلق عمراورکسی مقررہ وقت سے نہ ہو بلکہ اسکا مقصد صرف اور صرف خود سے پڑھنے, لکھنے اور گننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو۔۔۔  ایک خاص بنیادی درجے تک  کا امتحان جو بھی جس عمر اورجس حال میں بھی پاس کرلے اسے ایک ڈگری دے دیں۔۔۔ ایسے امتحان ہر چھہ ماہ بعد لئے جا سکتے ہیں۔۔۔ معاشرہ انسانوں پرمحنت کرنے سے بنتا ہے, چیزوں پر نہیں۔۔۔ انسان صحیح ہوں تو چیزیں رفتہ رفتہ صحیح ہوجاتیں ہیں۔۔۔

اگر ایجوکیشن/ تعلیم کو نویں جماعت  سے شروع کردیں۔۔۔۔۔۔ ( جوکہ مشکل نہیں کیونکہ یہ تجربہ  بہت پہلے ہمارے اسکول میں نویں جماعت میں کیا جا چکا ہے اور وہ بھی سائنس کی کیٹیگوری میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کالج کے مزید دوسال ملا کراسے چار سال کابنادیں۔۔۔ اگر اس چار سالہ کورس میں چھٹیوں کی تعداد کم کر کے وقت اور ایام کی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھہ پڑھایاجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں۔۔۔

کیا مشکل ہے۔۔۔ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

کیا کہا حکومت نہیں کرے گی, نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت کی بات کون کررہاہے۔۔۔ یہاں عوام اور حکومت ایک دوسرے کی سنتے ہی کب ہیں اورکب پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں میں تو آج تک بھی مونٹیسوری سسٹم نہیں ہے۔۔۔ پھر یہ ہمارے تعلیمی اور معاشرتی نظام کا حصہ کیسے بن گیا کہ اس کے  بغیر سانس نہیں لیا جاسکتا۔۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔۔ پرائیوٹ, یہ ملک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر پرائیویٹلی ہی چل رہا ہے۔۔۔ آغا خان بورڈ, اسلامی فرقوں کے اسکول, حفظ کے مدرسے, او لیولز۔۔۔ کیا سرکار فنڈنگ کرتی ہے۔۔۔ تونویں جماعت یعنی چودہ سالہ بچوں کے لئے چار سال کا تعلیم کا کورس, بیس سال کی عمر میں ایک نوجوان یا  نو جوانی علم دینے کے لئے تیار۔۔۔  حکومت یہ تبدیلی لے آئے تو کیا ہی بات ہے۔۔

ویسے جہاں اتنے تجربات ہور رہے ہیں وہاں ایک اور سہی۔۔۔ مطلب یہ کہ نظام واقعی بدل دیں۔۔۔ نہیں, نہیں, بھئی کتابیں نہ بدلیں, سلیبس تبدیل کرلیں۔۔۔ نویں جماعت سے جو مضامین کا مرکب یا کامبینیشن دیا جاتا ہے سائنس, آرٹس, ہوم اکنامکس اور کامرس کا۔۔۔ وہ آج کی دنیا میں فضول ہے۔۔۔ اسکے بدلے تمام طلبہ کے لئے نویں دسویں میں تمام مضامین کا آسان تعارف یا بنیادیات لازمی کردیں۔۔۔ کالج لیول سے مین کیٹیگوریز میڈیسن/طب, انجینئرنگ, تعلیم, زراعت, ماحولیات, اور قانون کردیں۔۔۔

جو مضامین بلا وجہ آرٹس گروپ میں تھے یعنی سائیکالوجی/نفسیات, سوشیالوجی/عمرانیات, پولیٹیکل سائنس/سیاسیات, انٹرنیشنل ریلیشنز/بین الاقوامی تعلقات, اکانومی/معاشیات, لائبریری سائنس, جغرافیہ, تاریخ پاکستان, تاریخ اسلام, سوشل ورک, عربی, فارسی وغیرہ کو دو یا تین اختیاری مضامین کی حیثیت سے مین کیٹیگوریز میں شامل  کردیں۔۔۔ بلکہ کمپیوٹر سائنس, بزنس/ کاروبار, فلسفہ کو بھی ان میں شامل کردیں۔۔۔ کیونکہ یہ وہ مضامین ہیں جن کاتعلق اوپر والی تمام مین کیٹیگوریز سے ہے۔۔۔

اس طرح دوسالوں میں اگر مین کیٹیگوریز کے چھہ پیپرز ہوں تو اردو لازمی, انگلش لازمی اور چار اختیاری مضامین ملاکر کل بارہ پیپرز بنیں گے۔۔۔ یعنی ایک سال میں چھہ پیپرز۔۔۔

اگلے دوسالوں یعنی بیچلرز ک لئےاسی کا ایڈوانس لیول ہوگا۔۔۔

اس طرح پہلی سے آٹھویں جماعت, نویں دسویں اور انٹرمیڈیٹ۔۔۔ تین بنیادی درجہ یا لیولز بن گئے۔۔۔ ان بارہ سالوں کے بعد تقریبا اٹھارہ سال کی عمر ایک لڑکا یا لڑکی معاشرے میں اپنا کوئی  رول ادا کرنے کے قابل ہونگے۔۔۔

ہوم اکنامکس ننانوے فیصد لڑکیوں کے لئے ہے اور اسکے لئے میمن فاؤنڈیشن اور دوسرے پرائیویٹ ادارے موجود ہیں اور بہت اچھا کام کررہے ہیں۔۔۔ اسی طرح فائن آرٹس کے اپنے کالجزاورسینٹرز ہیں۔۔۔

حکومت کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں اس لئے انھیں ہوم اکنامکس اور فائن آرٹس پر ضائع نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

اس طرح سرکاری کالجز میں مزیدطالبعلموں کے لئے جگہ بن جائے گی۔۔۔


 

 

 

A Believer’s Discipline

A discipline is a relation between work and time, that is; executing action or work and/or dividing it into fragments or steps in accordance with the time duration, controlling desires according to time and situations (as the word for discipline in Arabic is ‘inzuibaat’/nazm-wa-zabt in Urdu), or it can be simply defined as distribution of time for work.  The discipline is a sign of a system.

The total time of the Universe (from beginning till its end) divided into the time of galaxies and solar systems.  Then in our solar system, time distributed to planets according to their movement.   Then on planet Earth, time is divided into seasons, day and night, then different countries have different sun-rise and sun-set timings, and then distribution of time into working hours, sleeping time, fun time according to people’s need and desires. (courtesy meta-existence)

The things in the sky and on earth have been assigned their specific tasks with no change in them and that is their discipline to serve humans.  Sun shines to give heat and light, moon appears to show the months, earth orbits and spins to cause seasons and days and nights, trees grow with fruits and flowers, plants give food and medicine, cattle, wild animals, sea animals, birds, etc.

تمام انسان مرد و عورت حضرت آدم کی اولاد ہیں۔۔۔ اور رنگ, نسل, قبیلے, زبان ان کی آپس میں پہچان کا ذریعہ۔۔۔ ہر رنگ, نسل, قبیلے, زبان کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں, ایک دوسرے کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔ یہ وفاداری کہلاتی ہے۔۔۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی کسی دوسری قوم کے لئےاپنی قوم کانقصان کرے تو یہ غداری کہلاتی ہے۔۔۔

ہر قبیلے یا قوم کےافراد کے آپس میں واسطے یا رابطے کی وجہ یا تو خون کے رشتے ہوتے ہیں یا پھر کام , جس میں مقصد یا تحریک بھی شامل ہے, یا اخلاقیات  جیسے کہ بیمار کی عیادت, پڑوسی کی دیکھہ بھال, مسکین کو کھانا کھلانا, قیدی کو چھڑوانا, غلام کو آزاد کروانا۔۔۔۔ یہ تینوں وجوہات بہت مضبوط اور بااثر عناصر ہیں کیونکہ انکے نتائج نکلتے ہیں۔۔۔ یہ تینوں عناصر عملی بھی ہیں لہذا وقت اور حالات کے پابند ہوتے ہیں اسی لئے انکے قوانین موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔

انکے علاوہ دو خیالی یا احساساتی عنصر بھی افراد کے درمیان رابطے کا کام دیتے ہیں اور وہ ہیں محبت اور دوستی۔۔۔ انکے اثرات بھی عملوالصلحت کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔ وقت وحالات کی قید سے آزاد, زندگی کو قائم اور متحرک تو رکھتے ہیں اور انفرادی اور وقتی فائدے بھی پہنچاتے ہیں لیکن ظلم کے نظام کے خلاف دیوار نہیں بنتے۔۔۔ 

اسلام ایک نظریاتی عقیدہ ہے جو انسانوں کو انکے رنگ, نسل, قبیلے, زبان سے نہیں بلکہ انکے کردار سے پہچانتا ہے اور اعمال کی بنیاد پر انکا احتساب کرتا ہے۔۔۔ اسی لئے اسلام کا کوئی وطن نہیں, وہ ہر جگہ اپنی نشانیوں کے ساتھہ موجود ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ سچائی, امانتداری, انصا ف, مساوات, خلوص, ایفائے عہد, گواہی, بہادری, حکمت, علم۔۔۔ جب ان خصوصیات کے ساتھہ ایمان بالله اور ایمان با لاخرہ شامل ہوجائے تو وہ شخص مسلمان اور وہ جگہ اسلامی ریاست کہلاتی ہے۔۔۔

رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ حکومت کفر پر چل سکتی ہے ظلم پرنہیں۔۔۔ جیسے خدا نے یہ کائنات اپنے حکم کے تحت عدل پر قائم کی۔۔۔ اور اپنی رحمت اور محبت سے اسے چلا رہا ہے۔۔۔ اسی طرح ایک اسلامی ریاست بھی ہوتی ہے۔۔۔ نظام عدل پہ قائم رہتی ہے اور عملوالصلحت,  محبتوں اور دوستیوں کی وجہ سے چلتی رہتی ہے۔۔۔

اور اگر الله پر ایمان اور آخرت یعنی حساب کتاب کا ڈر نہ ہو تو یہی محبتیں, دوستیاں رشتہ داریاں, وفاداریاں نا انصافی, جرائم, تعصب, نفرت, فرقہ بندیوں, فساد اور خون  خرابہ کاسبب بنتی ہیں۔۔۔ پاکستان اور دنیا کا حال ہمارے سامنے ہے۔۔۔ سورہ المعارج میں ارشاد ہوتا ہے۔۔۔ اور نہ پوچھے گا کوئی جگری دوست اپنے جگر دوست کو حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔۔۔ خواہش کر ے گا مجرم کاش وہ فدیے میں دیدے اس دن عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو, اپنی بیوی کواور اپنے بھائی کو۔۔۔ اور اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دیا کرتا تھا, اوران سبکو جو زمین میں ہیں۔۔۔۔

انسان چاہے کسی مذہب, کسی قوم سے ہوں یا لا دین یا خدا کے منکر بھی ہوں۔۔۔ انکی سوچ, خواہشات, مختلف حالات میں ردعمل, تقریبا تقریبا ایک جیسا ہوتا ہے۔۔۔ اسی لئے ہر قوم کی عوام نے مختلف زمانوں اورعلاقوں کے باوجود اپنے نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات کے ساتھہ ایک جیس سلوک کیا۔۔۔ حتی کہ مسلمانوں نے بھی ہر قوم کی طرح خود کو فرقوں, علاقوں اور زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرلیا۔۔۔۔ لہذا آج وہ بھی اس گلوبلائزیشن کا حصہ بن چکے ہیں جسکا عقیدہ  خدا کی وحدانیت نہیں بلکہ انسانیت ہے۔۔۔ جسکا عمل الله کے پسند یا ناپسند کی پابندی نہیں بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل ہے۔۔۔ جس کا احتساب خدا کے قوانین نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہو ئے آئین ہیں۔۔۔ جس میں باتیں آسمانوں کی کی جاتی ہیں لیکن نظرانسانی قد سے اوپر نہیں جاتی۔۔۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ہر انسان کو خدا کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔۔۔

سورہ الجاثیہ میں بیان ہوتا ہے۔۔۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا اس شخص کو, جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنالیا۔۔۔ تو الله نے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا اور اسکےکانوں اور دل پرمہر لگادی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔۔۔ کون اسے ہدایت دے سکتاہے جسے الله نے گمراہ کردیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



دنیا میں اکثر, انسانوں کو نیکی, بھلائی کی طرف راغب کرنے, حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے, انسانی مساوات کا تصور پیدا کرنے کےلئے جانوروں اور چیزوں کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانی کی طرح بہنا سیکھو جو سبکو سیراب کرتاہے, سورج کی  روشنی بنو جو سب کے لئے زندگی کا باعث ہے, درخت خود دھوپ میں کھڑے ہو کر سب کو سایہ فراہم کرتے ہیں, چیونٹی ہمت نہیں ہارتی, شیر کی طرح بہادر بنو, امن کا نشان فاختہ,  کووں کا ایکا الو عقلمند ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ آسمان, زمین, سورج, چاند, درخت, پھول, پودے, گائے, بکری, شیر, پرندے۔۔۔۔۔۔ یہ سب ایک لکھی لکھائی سکرپٹ کے مطابق اپنے کام کر رہے ہیں۔۔۔ یہی انکی تقدیر ہے  یہی انکا ڈسپلن اور یہی عبادت۔۔۔ ان کی کوئی مرضی یا ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ تھک گئے ہیں, دل نہیں چاہ رہا, آج کچھہ نیا کرتے ہیں۔۔۔۔ اسی لئے جانوروں کے کاٹنے, مارنے کے قوانین نہیں, حساب کتاب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرعد, آٹھویں آیت۔۔۔ ہرچیز اس کے سامنے ہے ایک تناسب کےساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ القمر۔۔۔ بےشک ہم نے تخلیق کیا ہر شئے کو مقررہ اندازے کی ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرحمن۔۔۔ اور توازن قائم کیا ہر شئے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسا ن اشرف المخوقات ہے۔۔۔ وہ ان چیزوں سے سیکھہ سکتا ہے, انکو استعمال کرسکتا ہے مگر اپنی زنگی کے مقصد اورکاموں کا ان سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ انسان کو نیت, ارادے اور خواہشات کے ساتھہ پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الشمس۔۔۔ قسم ہے نفس انسانی کی اور جیسا اسے ہموار کیا, پھر الہام کردی اس پر اس کی بدی اور پرہیز گاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیدائشی مسلمان, ہندو, یہودی, عیسائی, لادین یا خدا کے منکر اشخاص کے درمیان کیا فرق ہوتاہے۔۔۔ ان سب مذاہب کے چودہ, پندرہ, سولہ بلکہ اٹھارہ بیس سال کے بچوں کا انتقال ہو تاہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ معصوم تھا۔۔۔ کیونکہ انھوں نے شعوری طورپر کوئی مذہب کوئی زندگی کاراستہ اپنایا نہیں ہوتا۔۔۔ اپنے نفس میں موجود نیکی اور بدی کی صلاحیتوں کو آزمایا نہیں ہوتا۔۔۔  اسی لئے بچوں کو بھی کبھی پھولوں, کبھی فرشتوں کی طرح معصوم کہا جاتا ہے۔۔

انبیاء, رسل اور بہت سے اہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی بھی معصومین کہلاتے ہیں کیونکہ ان کی زندگیاں مکمل طور پر الله کی رضا کے تابع ہوتی تھیں۔۔۔ انکی دنیاوی خواہشات بھی الله کے حکم مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔۔۔ بظاہر دنیا کے کاموں میں مصروف نظر آنے والے یہ لوگ ہر لمحہ اپنے رب کے احکامات کاانتظار کرتے تھے۔۔۔ اور حکم ملتے ہی باقی سب کام چھوڑ دیتے تھے۔۔۔  یہی انبیاء اور رسولوں کا ڈسپلن تھا یعنی جو احکامات الله کی طرف سے نازل ہو چکے ہیں ان کی پابندی, اور کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار رکھنا۔۔۔ اسی لئے جب کوئی قوم اپنے نبی کو اذیت دیتی, ان پر ظلم کرتی تو اسے تباہ کردیا جاتا۔۔۔

انسانوں میں بچے, نبی اوراہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی معصوم ہوتے ہیں۔۔۔

اب بچ گئی باقی انسانیت۔۔۔ جو اپنی نیتوں, حق خود ارادیت اور اعمال کے بازپرس کے لئے خدائے واحد کے سامنے حاضر ہوگی۔۔۔ اورتمام معصومین کو نکال کر تمام آسمانی کتابوں کی مخاطب یہی باقی انسانیت ہے۔۔۔ اور یہ بات پچھلی پوسٹ ,عملوالصالحات, میں بیان ہو چکی ہے کہ نیکی, بھلائی, اچھائی انسان کے اعلی کردار کی نشانی تو ہوتی ہے, گمراہوں کو ہدایت بھی دلا تی ہے, انفرادی یا اجتماعی طور پر ضرورتمندوں کی حاجات بھی پوری کرتی ہے, اور مظلوموں کو وقتی طور پر دلاسابھی دیتی ہے۔۔۔ آخرت میں آگ کے عذاب سے بچنے کا سامان بھی ہوں گی اور پل صراط پر روشنی بھی۔۔۔۔ اور اسی وجہ سے نیکی, بھلائی, اچھائی دنیا کے چلتے رہنے کا ذریعہ ہے۔۔۔

لیکن یہ ظالم کا ہاتھہ نہیں روکتی۔۔۔ لوگوں کو ان کا حق واپس نہیں دلاتی۔۔۔ ضروریات زندگی پورے کرنے کے مستقل ذرائع نہیں فراہم کرتی۔۔۔ گمراہی سے  ہدایت پانے والوں کو ایک اجتماعی قوت نہیں بناتی۔۔۔۔

Good deeds have no timings and no conditions, they can be done any time, to anyone, by anyone.   Likewise love and friendship are feelings and are not bound to time and situations.  That is why these three elements are a great tool of democracy.  They are the energy which keeps life moving in any circumstances.  But even together, they don’t build a power that can be used to form a system –> a force that attracts good-doers/pious people to stand at one platform and cause a resistance against evil, a strength to persecute or stop evil, a source that guarantees a continuity in provisions.
To turn into such power, they must be transformed into principals, rules and laws.  Laws are meant to be imposed and must be obeyed at their time, conditions and circumstances.
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت۔۔۔ وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو۔۔۔ آتی نہیں کچھہ کام یہاں عقل خداداد
اے مرد خدا تجھہ کو وہ قوت نہیں حاصل۔۔۔ جابیٹھہ کسی غار میں الله کو کریاد
مسکینی ومحکومی ونومیدی جاوید۔۔۔ جس کایہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
ملا کوجو ہے ہند میں سجدے کی اجازت۔۔۔ ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

 

 نیکی, بھلائی, اچھائی دوستی اورمحبت کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن انھیں ایک قوت بننے کے لئے اصولوں اور قوانین کی شکل اختیار کرنی پڑتی ہے۔۔۔ اصول اور قوانین ایک مقررہ وقت کے, حالات یا کیفیات کے پابند ہوتے ہیں۔۔۔ 

مثلا الله تعالی سےانفرادی رابطے, الله کو یاد کرنے اور فریاد کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن نماز کو, مل کر ایک جماعت کی شکل میں الله تعالی کے سامنے حاضر ہونے کا ذریعہ بنایا۔۔۔ یہ سماجی نظام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح صدقہ وخیرات کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن زکات اسلام کا مکمل معاشی نظام ہے جس میں زکات دینے والے, زکات لینے والے اور زکات تقسیم کرنے والے, سب شریعت کے اصولوں کے پابند ہوتےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح بیت الله کی زیارت کا, رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم کی زیارت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن حج کومسلمانوں کے بین الاقوامی تعلقات ومعاملات اور بین الاقوامی مرکزیت کا ذریعہ بنادیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح رمضان کے مہینے میں روزوں کا نظام انفرادی, اجتماعی, مالی, جسمانی فائدوں سے بھرا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وراثت, شادی, طلاق, انصاف, گواہی, جنگ کے قوانین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا ڈسپلن یا نظام زندگی کیا ہے۔۔۔۔۔۔

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات۔۔۔ مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

ایک مومن کی زندگی انبیاء کرام اور صحابہ کی زندگیوں کا عکس اور عام انسانوں کے برعکس ہوتی ہے۔۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انبیاء اور رسل حضرت جبرئیل کے ذریعے الله سے براہ راست ہدایات پاتے تھے اور صحابہ رسول سے۔۔۔ جبکہ مومن کو اپنی فراست سے کام لینا پڑتا ہے۔۔۔ رسول صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ مومن کی فراست سے ڈرو, کیونکہ وہ الله کی نظر سے دیکھتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا تصور ایک عام مسلمان سے ذرا ہٹ کے ہے۔۔۔۔ اسکی سوچ اپنے قبیلے, اپنے خاندان, اپنی روایات, اپنی قوم, ظاہری لباس, اور مروجہ نظام تک محدود نہیں ہوتی۔۔۔  زمین کے کسی خطے میں ہو, ایک کے بعد ایک رونما ہونے والے حالات میں وہ الله کی تدبیر ہوتا ہے۔۔۔۔  قرآن میں مومنین کی نشانیاں جگہ جگہ بیان کی گئیں ہیں۔۔۔ احادیث مبارکہ میں بھی مومن کی خصوصیات کا ذکر ملتاہے۔۔۔۔۔ مومن کی زندگی میں اولیت الله کے ان احکامات کی پابندی ہے جو ایک شرعی نظام کے طور پر قیامت تک کے لئے صادر کئے گئے ہیں لہذا وہ احکا مات تو تقدیر بن گئے ہیں, جنکی پابندی سارے مسلمانوں پر لازم ہے۔۔۔ لیکن اس سے بڑھہ کر وہ احساس ذمہ داری جو رسول صلی الله علیہ والہ وسلم سبکے کاندھوں پر ڈال گئے ہیں اسے فرصت سے نہیں بیٹھنے دیتی۔۔۔ لہذا انکو پورا کرنے کے لئے اسے مقررہ اوقات کار والے طریقوں سے الگ ہونا پڑتا ہے۔۔۔ اپنی زندگی کے معمولات کواپنے مقصد حیات کی راہ میں مجبوری نہیں  بننے دیتا۔۔۔۔ اسلامی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ پاکستان میں قائداعظم  سے اچھی مثال کیا ہوسکتی ہے۔۔۔۔ جنکا ڈسپلن تھا۔۔۔ کام, کام, اور بس کام۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا۔۔۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن, قاری نظرآتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

رسول صلی الله علیہ وسلم کل ایمان, کل اخلاق, کل نظام تھے۔۔۔ مومنین اس کل کا جزو ہیں۔۔۔ اسی لئے ہر مومن میں رسول صلی الله علیہ وسلم کی کسی خاصیت کی زیادتی نظر آئے گی اور کہیں کمی۔۔۔ اور اسی لئے مومنین ملکر جماعت کے طورپر تو اسلامی شریعت نافذ کر سکتے ہیں۔۔۔ ایک ون مین شو کے طور پر نہیں۔۔۔

امت کا زوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلفائے راشدین کے دور کے فورا بعد جو بات فتنہ بنی اور آج تک فساد کا باعث ہے وہ یہی ون مین شو والی حاکمیت ہے۔۔۔ اور مسلمانوں کے زوال کا    سبب اس سے لاتعلقی یا اسکے خلاف خاموشی۔۔۔ عام مسلمانوں کی اسی لاتعلقی اور خاموشی کا پہلا نتیجہ کربلا کی صورت میں نکلا۔۔پھر مسلمانوں نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے دور بھی دیکھے۔۔۔ اور آج فلسطین, کشمیر, عراق, افغانستان,  لیبیا, مسلمان افریقی ممالک, پاکستان۔۔۔ جہاں جہاں مسلمان ہیں, رو پیٹ رہے ہیں۔۔۔ لیکن کوئی اپنے ملاؤں, عالموں, سیاسی شیطانوں, علاقائیت,روایات چھوڑ کرایک ہونے کو تیار نہیں۔۔۔

مسلمانوں میں نیک کام کرنے والوں کی کمی نہیں۔۔۔ لیکن ٹیم ورک کی کمی ہے۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تیرہ سال لگائے اس نظام کو صحابہ کی شخصیت کا حصہ بنانے میں جس کو انھوں نے آگے نافذ کر نا تھا۔۔۔۔ جبکہ مسلمانوں میں نظام ایک شخص کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اسکے مرتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔


Ummah – Nation

THE WORD ‘UMMAH’ IN QUR’AN

1) Common Origin of The World Population:

“Mankind was one single nation (ummah), and Allah sent Messengers with glad tidings and warnings; and with them He sent the Book in truth, to judge between people in matters wherein they differed;”….. Surah Al-Baqarah/The Cow 213

Mankind was but one ummah, but differed (later). Had it not been for a Word that went forth before from your Lord, their differences would have been settled between them”….. Surah Younus/The Jonah 19

In Islam, Prophet Adam (peace be upon him) is believed to be the first human being created by God Almighty, later on accompanied by Hawwa (A.S).  He was also the first man on earth and the first Prophet (the man with guidance) for his generations.  It doesn’t matter what scientists figure out about the beginning of the human history. Whichever the era it was, Prophet Adam (peace be upon him) was certainly the man to produce human species.

 

2) Common Origin of All Religions:

“The same religion has He established for you as that which He enjoined on Noah – the which We have sent by inspiration to you – and that which We enjoined on Abraham, Moses, and Jesus: Namely, that you should remain steadfast in religion, and make no divisions therein:”…. Surah Ash-Shura/The Council 13

According to Islamic teachings, all Prophets from Prophet Adam (peace be upon him) to Prophet Muhammad (peace be upon him) preached the same message which was the message of Islam.  Islam literally means ‘peace’ and ‘submission’/’to surrender’.  So their purpose was same and that was to keep nations and societies peaceful and convince people to accept the guidance (general teachings) and guideline (laws) from their Lord.  The difference that we see in Prophets’ guidelines was not of the fundamental teachings but due to their appointment in different eras and under different conditions.

 

3) Freedom of Choice: 

“O mankind! We created you from a single (pair) of a male and a female, and made you into nations and tribes, that you may recognize each other)”…. Surah Al-Hujraat/The Apartments 13

“If Allah so willed, He could make you all one people (ummah): But He leaves straying whom He pleases, and He guides whom He pleases: but you shall certainly be called to account for all your actions”……  Surah An-Nahl/The Bee 93

Allah (SWT) willingly put the differences between His creation; living and non-living, people and animals, men and women, races and tribes, guided and misguided, righteous and criminals, submissive and transgressors.  All are given a time calculated for them and at the end, they will be gathered for accountability.  People forgot about their origin and gave more importance to the conditions they were born in.  They conquered others to enslave them.  They fought over seizing resources.  Gradually they became either strangers or enemies to each other.

 

 4) Prophets by race/nations:

“To every people (ummah) was sent an apostle: when their apostle comes (before them), the matter will be judged between them with justice, and they will not be wronged”…… Surah Younus/Jonnah 47

To make their accountability easy and fruitful, Allah (SWT) appointed guided men in every nation.  Those guided men were from their own race or tribes so their people have no problem in understanding their teachings.

 

5) Universal Brotherhood:

“And verily this Brotherhood (ummah) of you all is a single Brotherhood (ummah), and I am your Lord and Cherisher: therefore fear Me (and no other)”…… Surah Mu’minoon/The Believers 52

The human history began with Prophet Adam (peace be upon him).  The chain of prophet-hood continued till Prophet Isa/Jesus (peace be upon him).  Each prophet was sent to their own people, reminded them of their origin.  The number is said to be one hundred and twenty four thousand.  That was a big number and almost all the nations till then had received the one unified message of peace.  That was “All mankind is created by Allah and will return to Him for accountability and reward or punishment.  So all nations should turn to Him in submission.”

Now what needed was to turn this unified call to nations and tribes into an international one.  So the message is conveyed from one single platform in form of one ultimately modified source of guidance meaning “Qur’an”.  God planned to do that through Arabs as they had descended from the same genealogical root of Prophet Ibraheem/Abraham (peace be upon him) as were Jews and Christians.  They both had the most prophets without any gap and had the knowledge of divine books.  Thus, had more ability to understand the message of Qur’an than any other nation.

 

6) Prophet with International Call to all mankind:

“Muhammad is not but a messenger.  Other messengers have passed on before him…” Surah Al-e-Imran/The Family of Imran 144

“Muhammad is not the father of anyone of your men, but he is the messenger of Allah and last of the Prophets.  And ever is Allah, of all things, Knowing”…Surah Al-Ahzaab/The Groups 40

“And those who believe and do righteous deeds and believe in what has been sent down upon Muhammad – and it is the truth from their Lord.  He will remove from them their misdeeds and amend their condition”….Surah Muhammad 2

“Muhammad is the messenger of Allah; and those with him are strong against the disbelievers, compassionate among themselves…” Surah Al-Fatha 29

“And when Jesus, the son of Mary said, “O Children of Israel, indeed I am the messenger of Allah to you confirming what came before me of the Torah and bringing good tidings of a messenger to come after me, whose name is Ahmed”… Surah As-Saff/The Ranks, The Battle Array 6

Prophet Muhammad (pbuh) not only preached but succeeded in establishing a state according to Divine Laws.  As he is the seal on prophet-hood, mankind doesn’t have to wait for any more prophets but to turn to him for guidance.  

So the name of Muhammad ibn Abadullah (peace be upon him) was selected to be the final Prophet of God.  Muhammad literally means “the praised one”.  He belonged to the noble family of Quresh tribe who were the descendants of Prophet Ibraheem’s son Prophet Ismaeel/Ishmael (peace be upon him).

His sons died in their infancy though, he is honoured by all believers and they love him more than their fathers.

 

7) The Criteria for being the best Ummah:

“You are the best of peoples (ummahs), evolved for mankind, enjoining what is right, forbidding what is wrong, and believing in Allah. If only the People of the Book had faith, it were best for them: among them are some who have faith, but most of them are perverted transgressors” ….Surah Ale-e-Imran/The Familly of Imran 110

So it is not only Muslims who were guided but there were believers among Christians and Jews.  The task given to us is to deliver right and forbid wrong (which in one term can be defined as ‘justice’).

 

8 ) Ka’abah, the center of Ummah’s Faith and Unity:

“Thus, have We made of you an Ummah justly balanced, that you might be witnesses over the nations, and the Messenger a witness over yourselves; and We appointed the Qibla, the which you were used to, only to test those who followed the Messenger from those who would turn on their heels (From the Faith). Indeed it was (A change) momentous, except to those guided by Allah. And never would Allah Make your faith of no effect. For Allah is to all people Most surely full of kindness, Most Merciful.  Surah Al-Baqarah/The Cow 143

The Muslim concept of ummah is not of race, tribe or nation.  Ummah in Islamic understanding is the group of people helping each other for one cause and one mission ordained according to the final revelation.  That one cause is to establish a system of peace, justice and equality at international level.  Ka’abah was made the sign of centralization as it was built by Prophet Ibraheem (peace be upon him), the common leader of three big religions; Islam, Christianity and Judaism.

 

9) One Ultimate Goal of Ummah or the Purpose of Globilization:

 “O you who believe! stand out firmly for justice, as witnesses to Allah, even as against yourselves, or your parents, or your kin, and whether it be (against) rich or poor: for Allah can best protect both. Follow not the lusts (of your hearts), lest you swerve, and if you distort (justice) or decline to do justice, verily Allah is well- acquainted with all that you do”…. Surah An-Nisa/The Women 135

One unified message from One Lord to the whole mankind, providing nations with a platform or a center which can be trusted for the deliverance of peace and justice – this is the actual and ultimate task of Muslims which they should have worked upon.

10) Muslim Ummah:

“The Believers are but a single Brotherhood (ummah): So make peace and reconciliation between your two (contending) brothers; and fear Allah, that ye may receive Mercy”… Surah Al-Hujraat/The Apartments 10

 

MUSLIM UMMAH – PEOPLE BY FAITH

Qur’an used the word ‘Ummah’ for community, nation, people, generation by ethnicity or tribes.  For Muslims, it is used as to define as people by faith.   Faith is more important for Muslims than their race and heritage.

Being the followers of the world’s second largest religion, comprising almost one-fourth of the world population with approximately 1.60 billion individuals, with possessing world’s all natural resources and Pakistan being a nuclear power – instead of being on the leading position, why are Muslims so oppressed?

There was a time when Africa was known as the Muslim continent.  Now sixty percent of the Muslim population lives in Asia.

Afghanistan, Algeria, Azerbaijan, Comoros, Djibouti, Iran, Jordan, Kuwait, Libya, Maldives, Mauritania, Morocco, Niger, Pakistan, Palestine, Saudi Arabia, Senegal, Somalia, Tunisia, Turkey, Uzbekistan, Western Sahara and Yemen – these twenty three out of almost sixty Islamic countries have 95-100% Muslim population.

With such a big majority, what are the causes their low literacy rate, corruption and pollution? Why couldn’t they ever establish an Islamic welfare system in their territories? With the Muslims’ ratio of 1:4 to the world, why is the world so terrorized of Muslims – Why one Muslim failed in introducing Qur’an to three non-Muslims (not necessarily disbelievers) around him?

Fourteen hundred years have passed and the fundamentals of Islam are still hidden from the world.  What we see as ‘non-Muslims embracing Islam’ is not happening due to Muslim’s character but non-Muslim’s own interest and study of Qur’an.

 

Career and Employment Opportunities

The process of globalization has revealed the fact that all countries of the world are facing the same problems (may not be with the same intensity) and are threatened with the same consequences.  High population growth rate, decreasing food resources, severe environmental issues, scarcity of non-renewable resources and ideological extremism (religious and political) – these are the global challenges which people have to face wherever they go and choose to live.  So living where doesn’t matter anymore.  It is how useful can one prove himself/herself in solving issues without blaming a particular place or region.

Again, according to Abi Sina, a child at the age of 14 should be given choices to choose subjects for his/her career.

For children who are now 13 or fourteen years old, what matters as career are the employment (jobs/self-employment) opportunities that will be available for them after six or eight or ten years.  What could be the challenges for them when entering the practical world as a beginner?  Would the nature of jobs be the same in ten years as it is now?

In Pakistan, what is commonly understood by career opportunities is the job that can provide them with all luxuries of life and they typical professions, such as doctor, engineer, pilot, bank manager, hotel manager, professor or lecturer, modeling, acting, singing, drama writer, etc.  All degree and diploma holders dream to find a job where they can enjoy turning sides on a revolving chair in front of a big table covered with computer, printer, telephone, intercom, bunch of pen and markers, note-pads and a peon to serve them with tea, coffee and snacks.  They don’t want to work in villages.  They don’t want to work at low level.

For self-employment, the common dream is to gain 100% profit along with bossing around and with no loss and no expenditures at all.  We don’t do maintenance which can create many jobs.  We don’t modify things or premises.   That increases self-employment.

Growing up with this wrong concept of progress and prosperity, everyone looks depressed and unhappy with what he/she is doing.

If career-based education at the age of 14 is made second level and student in 9th and 10th Grade are expected to gain some professional skills along with basic knowledge of most subjects – then for the third level, new professions can be introduced as career.  (This is not a new idea, most countries are already doing this and that is why they have low unemployment rate and capacity to adjust immigrants from under-developed countries).

Pakistan is blessed with all seasons, all kind of geographical features, almost all kind of natural resources.  We have more suitable circumstances of doing research, development and investment.  Our beaches are ruined, our rivers are polluted, our forest are destroyed, our agricultural lands are spoiled, our botanical capabilities are still undiscovered, our animals are endangered,  our fishing industry is lost, our humans are abused and misused.  The things needed to fill the environment are “understanding the change”,  “innovation”, “try different”, “try in a better way”, “developing theories or hypothesis based on own observations or experiences”, etc.

The reason for no research in Pakistan is said to be the lack of funding.  The government seats are always occupied by the non-eligible politicians backed up by wicked bureaucracy.

What about the fundraising, donations, charities?  We have thousands of welfare homes collecting money for charity purpose.  They can buy a land with this money, use it for farming, botanical, fishery or other money generated projects along with research facilities and employment as well.  They can invest in building beautiful sites, landscapes or other attraction for tourism (even inter-cities tourism can produce good income.

So for me, the reason for no or low or slow research in Pakistan is the lack of interest and passion to achieve some goals.  Pakistan, on both government and public level, is not a poor country.  It is just that both of them don’t want to distribute wealth according to Islamic laws.  Both of them don’t acknowledge the rights of other eligible elements in their income.

For Example:

Karachi is the main center of economical activities in Pakistan.  It serves as the land of opportunities for citizens of other provinces.  Now take a look around for career or employment opportunities in Karachi in next ten years.

Most of the land is used for residential or official purposes.  That provides more accommodation to humans.  Thus, Karachi’s economic life is mainly based upon services.  The high birth rate in country would result in increase in city’s population, therefore, would require more power and water and planning for proper sewerage – and obviously more food.

How can public parks, wildlife conservation parks and sports centers be maintained to serve better in next ten years?

It is also an industrial hub so it manufactures products.  Service sector requires food, cement, wood, steel and iron, fabric material, wool, leather, handcrafts, glass, rubber, plastic, metals, minerals, gas, petrol, etc.  Out of these, food, wood, cotton, wool, leather, rubber are renewable items – Do they grow in Karachi or are imported from other places for industrial use?  Others, even if they are available in Karachi right now, they might become scarce in future for being non-reproducible.

What would be the sources of power and energy in future?

Karachi has a long coastal line, main seaport and fishing harbour.  How can these features provide career-based employment of international standard or any levels of jobs in next ten years?

How would the government and people of Karachi deal with landfills, bad environmental condition and health issues for the next decade?

Karachi

 

 

 

 

Youthism

Ibn Sina or Avicenna, in 11th century wrote that children after the age of 14 should be given choices in subjects of their interests to decide for their career.

This means that children at the age of  14 are ready to learn about what they can do in next six or eight years or after completing their education.

Following the guideline prescribed by Abi Sina, we can do it easily by dividing the educational process into three levels.  https://rubikh.wordpress.com/2011/10/09/b-a-education-%D8%A8%DB%8C-%D8%A7%DB%92-%D8%A7%DB%8C%D8%AC%D9%88%DA%A9%DB%8C%D8%B4%D9%86/

In Pakistan, I remember only one school in Faisalabad which claimed to give career choices from Sixth Grade but that was in 1999 and it was a private school.

—————————————————————————————————

“It is not the favour they do to us.  This is their responsibility to provide us with knowledge and facilities – They have spent their lives, it is now our time to enjoy”, commonly uttered by most youngsters about their parents and elders.

First, think about it, where did parents consumed their lives since their children were born?  Who did they spent money and time for since the birth of their children?

And just why should parent do that?  Don’t they have their own life, their own dreams, their own interests and hobbies to spend time and money upon?  Why should parents waste their resources on their children – just because they are responsible to bring them into this world and that is why they have to love them or they want something in return?

Even if children think about returning, not attention, not love, not respect, not care but only the money equal to the amount their parents have spent upon them – would they be able to?  At least that will help their parents to live an independent life in their old age.

 ہمارے ان نوجوانوں کو جنھیں حالات کی وجہ سے پڑھنے لکھنے کے مواقع نہیں ملتے الگ کردیں۔۔۔ اور باقی نوجوان طالبعلموں کی زندگی پرنظر ڈالیں۔۔۔

ایک آسانی جو ہمارے طالبعلموں کو ضرور ملتی ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ انکی اکثریت کے والدین یا سرپرست انکے تعلیمی اخراجات بھی پورے کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس میں رکاوٹ نہ آئے۔۔۔ کم ہی کسی کو اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کےلئے کمانا پڑتا ہے۔۔۔ یہ سلسلہ کم از کم چودھویں جماعت تک جاری رہتا ہے۔۔۔ اور بچوں سے والدین یا سرپرست صرف یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ علم حاصل کریں۔۔۔ اس مقصد کے لئے خود کو منظم کرنا نوجوانوں کی اپنی ذمہ داری ہوتی ہے, انکے بڑوں کی نہیں۔۔۔  ساتھہ ہی اس بات کا احساس بھی کہ والدین کے فراہم کئے گئے ذرائع ضائع نہ ہوں۔۔۔۔ جو طالبعلم خود کو منظم نہیں کرپاتے وہ اصل میں اپنا وقت نہیں بلکہ اپنے والدین کی محنت ضائع کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اسکا حق نہیں۔۔۔ اکثر بچے اس بات کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ تو والدین یا بڑوں کا فرض ہوتا ہے۔۔۔

ذرااندازہ لگائیں کہ بارہ یاچودہ سالوں میں تعلیم پر کتنا خرچہ آتا ہے۔۔۔ اتنا خرچہ کوئی انسان کسی دوسرے پر کیوں کر سکتا ہے۔۔۔۔ یا تواسے اس شخص سے بہت محبت ہو گی کہ اتنے سالوں تک اپنی کمائی اس پر خرچ کرے یا پھر کوئی فائدہ مطلوب ہوگا۔۔۔  پہلی صورت کا تو کوئی بدل نہیں ہوسکتا کیونکہ کوئی اولاد اتنے عرصے اپنے والدین کو اتنی توجہ نہیں دے سکتی۔۔۔ لیکن دوسری صورت میں تو یہ تعلیم قرض ہو گئی۔۔۔ تو اس صورت میں نوجوانوں کا کیا فرض بنتا ہے۔۔۔ اور کچھہ نہیں تو اتنا تو کرسکتے ہیں کہ اپنی زندگی شروع کرنے سے پہلے یا اس وقت تک زندگی شروع ہی نہ کریں جب تک کم از کم بارہ یاچودہ سالوں کی تعلیم کا خرچہ والدین کو واپس نہ لوٹادیں تاکہ وہ اپنا بڑھاپا آرام سے گذارلیں۔۔۔ پھر اپنا جو دل چاہیں کریں۔۔۔

تعلیم یافتہ لوگوں پر دوسرا قرض ان کے ملک اور معاشرے کا ہوتا ہے۔۔۔ سوچنے کی بات ہے کہ ملک کے صدر, وزیراعظم, وزیروں اور فلاحی کام کرنے والوں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی کمائی سے حاصل کئے ہوئے ٹیکس کی آمدنی کا کچھہ حصہ بچوں کو علم دینے کے لئے نظام بنانے پر خرچ کرے۔۔۔   ماں باپ پیدا کرتے ہیں, ماں باپ ہی علم دیں اپنے اپنے طور پر۔۔۔ جیسے اسکولنگ سسٹم سے پہلے ہوا کرتا تھا۔۔۔ لوگ اپنے اپنے طورعلم حاصل کرنے کے لئے سفر کرتے, تکلیفیں اٹھاتےتھے۔۔۔۔۔۔ اس ٹیکس میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا پیسہ شامل ہوتا ہے۔۔۔ اسلئے یہ قرض اصل میں حکومت کا نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کا ہوتا ہے۔۔۔ لہذا  کوئی بھی تعلیم حاصل کر کے احسان نہیں کرتا کہ اس کا جو دل چاہے کرتا پھرے یا جہاں منہ اٹھے چلا جائے۔۔۔ بلکہ وہ ذمہ دار ہوجاتا ہے کہ اس بات کا کہ والدین, ملک اور معاشرے کو اس احسان کے بدلے کچھہ تو دے۔۔۔ پیسہ, اچھی سوچ, اچھا عمل, کچھہ وقت۔۔۔ 

مختصرا یہ کہ اگر کوئی ڈگری حاصل کرکے اس قابل ہوگیا ہے کہ اپنے لئےکچھہ کرسکے تووہ کامیاب ہوا۔۔۔ اب وہ یہ شکایت تو نہیں کرسکتا کہ وہ ناکارہ ہے۔۔۔  اسکے سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کامیابی میں جن لوگوں نے حصہ لیا انکو کیا ملا بدلے میں۔۔۔ 

نوجوان نسل میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اگر ان کو بالفرض اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے بھی پڑ جائیں یا اپنی زندگی کی ذمہ داریاں وقت سے پہلے اٹھانا بھی پڑ  جائیں تو وہ اس پر فخر کرنے کے بجائے دوسروں پر احسان سمجھتے ہیں۔۔۔

یا یہ کہ کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اپنے لئے خود کچھہ کرکے۔۔۔ عموما اس سوچ کا نتیجہ ملک چھوڑ جانے یا معاشرے سے الگ اپنی من پسند زندگی گذارنے کی صورت میں نکلتا ہے۔۔۔ اکثر ملک چھوڑ جانے والے یہ احسان بھی جتاتے ہیں کہ ملک میں کچھہ نہیں اور یہ نظام انکے زرمبادلہ پہ چل رہا ہے۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ زرمبادلہ ملکی آمدنی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ احسان نہیں بلکہ کفارہ یا تلافی ہوتی ہے معاشرے کے ان احسانات کے بدلے جن کی وجہ سے کوئی کچھہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔۔۔۔

—————————————————————————————————

ابی سینا کے مطابق چودہ سال کا بچہ اس قابل ہوتا ہے کہ اسے مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں تعلیم اور رہنمائی دی جاسکے۔۔۔  یہ بات آٹھہ نو سو سال پہلے کہی گئی۔۔۔ کیا آج ہم اپنے بچوں کو ابی سینا کے تجویز کردہ طریقہ تعلیم کے مطابق علم دے رہے ہیں۔۔۔ کیا ہما رے نوجوان بیس سال کی عمر میں گھر, علاقے, کسی ادارے یا ملک کا کام کرنے یا باگ دوڑ سنبھالنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔۔۔ یا اس قابل ہوتے ہیں کہ غلط چیزوں کو صحیح کرسکیں۔۔۔ صحیح چیزوں کو نئےانداز سے پیش کر سکیں۔۔۔


Unified Education in Pakistan

Unified educational system is in favour of common Pakistanis and is necessary for Pakistan’s peace and progress.  Those who are sincere to Pakistan must keep it a priority even if it take years in implementation.  It is going to be the most difficult task to gather the representatives of public schools, private schools, madrasahs, schools run by political figures, Agha Khan system, O’ Levels and home-schooling for the purpose to help in designing a unified syllabus from first to matriculation.

یکساں تعلیم کا کوئی بھی آئیڈیا فضول ہے اگر وہ عام لوگوں کو ملک کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کا اوراقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا موقع فراہم نہ کرے۔۔۔۔۔۔  لہذا پاکستان میں امن, ترقی, خوشحالی اور مضبوط  دفاعی طاقت کے لئے یکساں تعلیم کے ساتھہ ساتھہ  قوانین میں تبدیلی یا نئے قوانین ضروری ہیں۔۔۔

مثلا سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لئے انٹرمیڈیٹ کے ساتھہ سیاسیات, بین الاقوامی تعلقات, معاشیات کا علم لازمی ہو۔۔۔ امیدوار لازمی طور پر حکومت پاکستان سے سند یافتہ ہو۔۔۔ لازمی طور پر پاکستانی قومیت رکھتا ہو۔۔۔ اپنے علاقے میں اسکا کردار کیا ہے۔۔۔ ذریعہ آمدنی, ذاتی اثاثے کیا ہیں۔۔۔

ایک یکساں یا قومی تعلیمی نظام کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ مضامین اور موضوعات سب کے لئے لازمی ہوں۔۔۔ بلکہ ایسا نظام تعلیم جس میں مختلف عقائد, مختلف نظریات اور مختلف زبان بولنے والوں کے لئے چوائس موجود ہو۔۔۔ اوریہ کسی کے لئے بھی علم وہنر سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرسکے۔۔۔ لیکن ہوں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں۔۔۔
دنیا کا کوئی ملک اورکوئی نظام اس سے زیادہ یونیفائیڈ تعلیمی نظام نہیں دے سکتا۔۔۔

 اگر کسی جگہ کے لوگ ایک زبان بولتے ہوں, انکے عقائد ایک ہوں اور نظریات میں بھی فرق نہ ہو۔۔۔ اسکے باوجود بھی وہ اس سے زیادہ یکساں تعلیم کا تصور نہیں دے سکتے۔۔۔ کیونکہ بہرحال اگرانھوں دنیا کی باقی قوموں کے ساتھہ معاشی اور سیاسی روابط رکھنے ہیں توپھران کے نظام اور نظریات کو کسی حد تک اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنانا پڑے گا۔۔۔

اور یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں۔۔۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں موجود ہے ۔۔۔ اور غیر اسلامی بھی نہیں۔۔۔ 


کیا پاکستان میں مدرسے, سرکاری اسکول,  پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول اور ہوم اسکولنگ مرکزی حکومت کے تحت کام نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسکتے ہیں اگر بنیادی تعلیم کے علاوہ پرائیویٹ اسکولز کے مشکل, مہنگےاور درآمد شدہ سلیبس کو اور مدرسے کے کورسزکو ایڈوانس مضامین کی فہرست میں ڈال دیا جائے۔۔۔ اس طرح بنیادی تعلیم تو سب کے لئے ایک جیسی ہو گی لیکن ایلیٹ, غیر ملکی, مذہبی, صوبائی یا اور دوسری زبانیں بولنے والوں کے لئے اختیاری مضامین کی شکل میں چوائس موجود ہوگی۔۔۔ اہم بات یہ ہوگی کہ سند حکومت پاکستان کی ہو۔۔۔ اس کے لئے جگہیں بدلنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔ اپنی اپنی جگہوں پر تعلیم حاصل کریں اور امتحانات دیں۔۔۔  اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کردیا جائے۔۔۔ پرائیویٹ اسکول کالجز, مدرسے۔۔۔ سب اپنی جگہ پر بنیادی تعلیم کا سرکاری ریکوائرمنٹ پوری کریں۔۔۔ پھر طلبہ چاہیں جو مضامین ایڈوانس لیول پرپڑھیں۔۔۔ 

اسکے فوائد کیا ہونگے۔۔۔

سارا کا سارا تعلیمی نظام ایک مرکز کے تحت کام کرے گا۔۔۔ جس سے مرکزی حکومت کو اہمیت حاصل ہو گی, وہ مضبوط بھی ہوگی ۔۔

علمی بنیادوں پرلوگوں کی تقسیم اور تفاخر بہت حد تک کم ہو جائے گی۔۔۔ کیونکہ تمام کے تمام مضامین پر تعلیمی اسناد پہ ٹھپہ یاسیل مرکزی حکومت کی ہو گی۔۔۔

پاکستان میں سب سے بڑا تعلیمی فرق مدرسہ اور اسکولز کی تعلیم میں ہے۔۔۔ ایک کو شرعی تعلیم کہہ کر محدود کردیا۔۔۔ دوسرے کو جدید تعلیم کہہ کر کفر یا غیر شرعی یا دنیاوی قرار دے دیا۔۔۔ پاکستان کے ماحول میں دینی اور ماڈریٹ کا فرق بھی کچھہ کم ہوگا۔۔۔ اوردینی لوگوں کی آئے دن کے نفاذ شریعت کی دھمکیوں کا زور بھی کم ہوگا۔۔۔ اور دونوں قسم کے لوگ ایک ہی مرکز تلےآجائیں گے۔۔۔

صوبوں کے درمیان تعلیمی فرق بھی کم رہ جائے گا۔۔۔ ایک صوبے کے رہنے والے کو دوسرے صوبے میں جاکر تعلیمی سلسلہ بدل جانے کی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیراتی اسکولوں اور فلاحی اداروں کے بچوں کا کم از کم علمی بنیادوں پر احساس محرومی ختم ہوجائے گا۔۔۔ انکے پاس بھی کیونکہ  سرکاری سند ہوگی۔۔۔

پھر یہ کہ پرائیویٹ یا ہوم اسکولنگ والے بچوں کے لئے جو سائنس نہ لینے کی پابندی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ سائنس تو میٹرک تک لازمی ہی ہوگی۔۔۔ 

یہ سب کرنا آسان نہیں۔۔۔

چوں کہ ہمارا حکمران طبقہ جاہل اور ذہنی طور پر غلامانہ سوچ رکھتا ہے  وہ امریکہ اور مغربی دنیا کےاشارے کے بغیر کچھہ نہیں کرتا۔۔۔ اس لئے عوام کو ہی شور مچانا پڑے گا۔۔۔ اپنے اپنے علاقے کے سیاستدانوں اور حکومت پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔۔۔ اور وہ بھی کافی عرصے تک۔۔۔ 

دوسرا بڑا مسئلہ دینی فرقے ہیں۔۔۔  انکا کسی بھی معاملے کو سمجھداری سے نمٹانا نہ ممکن سا لگتا ہے۔۔۔ لیکن بہرحال معجزات بھی تو ہو سکتے ہیں۔۔۔  

تیسرا مسئلہ او لیولز اور آغا خان بورڈ۔۔۔ پرائیوٹ اسکولز اور برٹش تو او لیولز کے نام پر کڑوڑوں روپے احمق پاکستانیوں سے کمارہے ہیں۔۔۔ بھلا وہ اس لوٹ مار کو کیسے بند ہونے دینگے۔۔۔ دو سال بعد کا کورس دوسال پہلے پڑھا دیا تواس سے معیار بلند تو نہیں ہو جاتا۔۔۔

چوتھا مسئلہ ہے ہمارا طریقہ تعلیم جو خاص طور پر ابتدائی درجات میں اور ویسے بھی کتابوں اور کاپیوں کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اکثر تین یا چار سال کےبچوں کو بھی کتابوں اور کاپیوں سے لکھنے پڑھنے پر لگادیا جاتا ہے۔۔۔ یکساں تعلیم کا سن کر سب کا ذہن جائے گا ایک جیسی کتابوں کی طرف۔۔۔ حالانکہ یکساں تعلیم کا مقصد یکساں نتیجہ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ یکساں طریقہ تعلیم۔۔۔

پانچواں مسئلہ ہے خیراتی اسکولوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا۔۔۔ یہ تو چلتے ہی عطیات زکات پر ہیں۔۔۔ کوئی معیارقائم ہوگیا تو چندہ کون دے گا۔۔۔
چھٹا مسئلہ وہ اسکول جو سیاسی شخصیات نے کھولے ہیں یا انکے پرنسپلز بنکے بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ برداشت کر لیں گے کہ انکا اور انکی مخالف پاڑٹی کے اسکول کا معیار ایک جیسا ہو۔۔۔

ساتواں مسئلہ یہ کہ حکومت کی طرف سے بنیادی تعلیم کا سلیبس ترتیب کون دے گا۔۔۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں بپبلیکیشنز ہیں اور ساری ہی کہیں نہ کہیں استعمال ہورہی ہیں۔۔۔ اسی طرح مدرسے کے کورسز ہیں, سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں ہیں۔۔۔ کوئی کسی کتاب کو ابتدائی درجہ کے لئے موزوں سمجھتا ہے تو دوسرا اسے ایڈوانس لیول رکھتا ہے۔۔۔ کیا مدرسے, سرکاری اسکول, پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول کےنمائندے اور ہوم اسکولنگ کی طرف سے والدین اس میں ایک سطح پہ آکر حصہ لیں گے۔۔۔

آٹھواں مسئلہ بنیادی تعلیم کی تعریف اور اسکا معیارکیا ہونا چاہئے۔۔۔ یہ کون بتائے گا۔۔۔

What could/should be the definition of unified education in Pakistan?  Is unified education the synonym of fundamental education?

PHONICS:

I totally disagree with introducing phonics to our educational system at any level except for if there is a dire need of it.  Such as for especial children.

Pakistan’s modern education system is founded upon foreign-based ideas, methods, contents and curriculums.  Phonics is one of the method that was introduced with the purpose of quality education.  On one side, we have a government that consists of illiterate ministers and parliamentarians like Jamshed Dasti who are possessed with ignorance.  On the other side, we have educated people who are obsessed with imported items.  Both groups are dangerous for our identity as they both lack confidence, wisdom and spirit of freedom.  In short, they are slave-minds.

Western countries are developed and advanced countries.  One reason of their progress is that they don’t import but introduce ideas.  Now, instead of learning from them, we try to copy them as it is.  We waste our energy and time in convincing people that this imitation will get us some respect in the Western world.  What a rubbish!

These countries introduced phonics as a technique to enhance reading ability through sound of letters.  It is sound of a letter at the beginning or at the ending of a word, sound of vowels and sound of a compound.  English is their mother tongue.  This is the language they communicate in 365 days a year.  Before introducing any idea to their system, they study their people and the nature of requirement, they design it in a form of step-by-step guideline, they compose it in a timely manner, they train faculties, they prepare parents’ mind to accept it, their purpose of introduction is not to rip off money, it is to bring improvement.  Phonics may be good for them because they are not in hurry.  They don’t teach in large groups.  They don’t have to pressurize their children for quick learning so that they can get first position.  They don’t want to run away from their country after higher education.

Still I don’t get it that how do they figure out that at what age or level, their student should know the sound of letter ‘c’ as /s/ or /k/ — or ‘g’ as /g/ or /j/– then the difference between c and k and g and j –or the sound of ‘ph’ as /f/– or the sound of letter ‘u’ in but, put, use, blue — or merging the sounds of two vowels like in ‘road’, ‘lead’, belief — or when to use ‘the’ as ‘tha’ or ‘thee’ — or when do letters become silent?….at what age or level, students won’t need to use phonics?….. is phonics really meant for all students in general or only for special children?

In alcoholic societies, children are born with slow mental progress, brain disorders, mental retardation, low tolerance, difficulty in reading and relating connections and reasons.  So phonics is a useful technique for them in general.

Pakistanis are very talented people.  Lacking healthy environment and health facilities, our children are still born normal.  It is parents and the overall system that suck their abilities to progress.

Phonics is not good for our children.  It is damaging their brain, slowing down their learning abilities, burdening them with confusing sounds of a foreign language.  Our Montessori teachers are intermediate or B.A, B.Sc or B.Com.  They are not trained to deal with children, how to teach, how to behave, how to handle them.  Even the ones certified from Early Childhood Training Centers don’t know how to plan for phonics.  Even their sounds of letter differ in length and pronunciation.  For example, 95% of them mix up the short vowel sounds of ‘a’ and ‘e’, ‘v’ and ‘w’…. pronouncing very to vaary, was to vas, bed to baad, red to raad.  Also, it is a non-sense to teach normal children the normal things sounding like animals, aa, baa, caa, daa, skipping e, faa, haa, skipping i, at ‘G’ they are confused if alone it sounds like ‘g’ or ‘j’.  A child who is not even familiar with the sequence of letter, how can he learn their sounds skipping vowels and with exceptions?

If this is all we are doing to teach English as a language, both in speaking or reading, then we should focus on improving children’s listening skills, through stories, discussions, discipline and instructions.

 

 

 

 

 

MATRICULATION:

Matriculation is the tenth year of regular schooling system.  Generally, matriculation is defined as a process that prepares students for college level.  In America, it is part of the high-school which ends at Twelfth Grade.  Prior to partition, in South Asian region, it was regarded as a sign of honour and wisdom.  Even after the establishment of Pakistan, “matric paas students” were preferred for jobs and matrimonial proposals.

One aspect of our overall failure is that our governments never planned for improving educational system according to the growth in population and in comparison to the new world challenges.

The situation we are facing right now is that on one hand we have masters and bachelors complaining about suitable job opportunities while lacking professionalism.  On the other hand, we have a huge number of matriculated youth being hired at low salaries obviously not fulfilling any professional requirements.  Another horrible reality that we face in our system is that we never think of solving problems according to the mental and social level of our own people.  Most of our celebrities from different fields of Fine Arts, when don’t find anything else to do or let’s say when they think of serving nation, they start opening school or join some famous chains at high position.  Durdana Butt, Rahat Kazmi, Huma Akbar, Afshan Ahmed, Khushbakht Shuja’at, Jawad Ahmed, Shezad Roy and many more.  Have they ever tried to sit together and discussed how they can bring a change in the existing system, how they can get together to build a unified educational system that has something to do with Pakistan and with the people of Pakistan???

In Ninth and Tenth Grades, subjects are divided into three or four main groups which doesn’t make a sense.  At least not now.  Students have to choose to study either from Science Group, Arts or Humanitarian Group, Commerce Group or may be computer.  After two years of study, the Science group students have no idea about even the basic concepts of Economy, Psychology, Sociology, Education, Political Science, Sociology etc.  The Arts/Humanitarian group remain ignorant about simple Math, the basics of Zoology, Botany, Biology, Physics, Chemistry etc.  In Science group they don’t focus on writing skills and speech power.  Now what if a Science student has to deliver a speech about plantation to grow economy or write an essay on wild life in Sindh or prepare a Science syllabus for Elementary classes.  The career choices for Arts group students are to become a writer, singer, musician, performer, painter etc.  What if they have to write a true story of a zookeeper hero falls into love with a marine-biologist or a drama about a singer studying plants part-time.  All of them have zero knowledge about environment.

I just remembered this drama of Indus TV (I forgot the name) that was about a hospital, doctors, nurses and patients.  I really thought that it was a parody of some American medical shows because the whole serial was totally non-scientific.  The serial didn’t teach a single medical term to the viewers, neither it brought any awareness about health and hygiene.  They didn’t even discussed the problems of doctors and patients in our society.  Each episode was focused on the make up and style of female actresses (doctors/nurses), love affair between the staff, emotional scenes of patients coming depressing background.

Back to the point, this two-years of matriculation becomes useless if they decide not to (as most of the students do) join any college or institution for further studies.  The matriculated students are not given jobs on the basis of subject grouping.  The idea is to eliminate grouping subjects in Ninth and Tenth Grade and to introduce an intensive occupational studies course of one or two year instead to equip our students with the fundamentals of main subjects in each existing group.  Girls are usually hired as assistant teacher, teacher, receptionist, office-helper, factory worker etc.  Boys get jobs as sales person, clerk, cashier, messenger, dyer, courier etc. Many other countries are doing it.  My two-years of occupational studies course was composed to accounting, business maths, writing skills, keyboarding, typing, business law, psychology, personal management, fundamentals of computer, literature, business management etc.  Why can’t we introduce such kind of grouping here?

ہمارے ملک میں تعلیم کی منصوبہ بندی کی جتنی  کمی ہے اس سے کہیں زیادہ زندگی کی منصوبہ بندی کی کمی ہے۔۔۔ تعلیم کا معیار جتنا کم ہے تربیت کا معیار اس سے بھی کم۔۔۔ جتنا تعلیمی نظام بگڑاہواہے اس سے زیادہ سماجی اورسیاسی نظام بگڑا ہوا ہے۔۔۔ حالانکہ تعلیم سے پہلے ان سب چیزوں کاہونا ضروری ہے۔۔۔ یعنی زندگی کی منصوبہ بندی,  تربیت کا معیار اور مضبوط سماجی اورسیاسی نظام۔۔۔۔۔۔

ہمارے ہاں عام تعلیم کی حد میٹرک یعنی دسویں جماعت ہے۔۔۔ اسکی ایک وجہ لوگوں کے معاشی حالات انھیں لڑکوں کو آگے پڑھانے کی اجازت نہیں دیتےاور وہ کسی کام سیکھنے پر بٹھا دئے جاتے ہیں۔۔۔ لڑکیوں کی شادی ہوجاتی ہے یا منگنی۔۔۔ پھر وہ جب موقع ملے پرائیوٹ ہی پڑھتی ہیں۔۔۔ اکثر پرائیوٹ اسکول میں میٹرک یا انٹر پاس لڑکیوں کوٹیچرز رکھا جاتا ہے جو کم تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔۔۔ دوسری وجہ تعلیم کی اہمیت کو نہ پہچاننا۔۔۔ اکثریت اسے اسکول کالجز کی کاروائی سمجھتی ہے, جس میں امتحان پاس کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوتاہے۔۔۔ اور جو اہمیت بتائی جاتی ہے اسکے مطابق ملازمتوں کا نہ ملنا۔۔۔ کم عمر میں کم تعلیم اوربے تربیتی کے ساتھہ آگے بڑھنے کاراستہ کرپشن ہوتاہے۔۔۔

میٹرک پاس بچوں میں ان صلاحیتوں کی ازحد کمی ہوتی ہے جو ایک لڑکا یا لڑکی میں دس بارہ سال کی اسکولنگ اور گھریلو تربیت کے نتیجے میں ہونی چاہئیں۔۔۔ سوچ, رکھہ رکھاؤ, انفرادیت, معلومات عامہ, آگے بڑھنے کا جذبہ, بہتری کی خواہش, مسائل کو سمجھنا انکا حل تلاش کرنا, منصوبہ بندی کرنا, خودانحصاری۔۔۔۔۔۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نویں جماعت سے جومضامین کی گروپنگ کی جاتی ہے اور اس میں موجود مواد کا انتخاب  اکثر بے فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر سائنس گروپ کے بچے ایجوکیشن, سیاسیات, معاشیات کے تصور سے بھی ناآشنا ہوتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ایک سائنس کے طالب علم کو کمانا تو ہوتا ہی ہے, اس کا تعلق ملکی سیاست اور تعلیمی نظام سے بھی ہو تا ہے, لوگوں کی نفسیات سے بھی ہوتا ہے۔۔۔ خاص طورپر ان بچوں کے لئے جنھوں نےمیٹرک کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہہ دیناہو۔۔۔ لازمی ہے کہ وہ ضروری مضامین کے بنیادی تصور اور انکی حقیقی زندگی میں کارآمد ہونے سے واقف ہوں۔۔۔

آٹھویں جاعت کابچہ عموما تیرہ سال کاہوتا ہے۔۔۔ اگر نویں اور دسویں یعنی دو سال مضامین کی گروپنگ کے بجائےایک ایسا تعلیمی کورس مرتب کردیا جائے جس میں موجود مواد انکے کام کاہو تو تعلیمی نظام اورسماجی نظام دونوں میں بہتری آسکتی ہے۔۔۔

فوری طور پر حکومتی سطح پر تو تبدیلی ناممکن ہے۔۔۔ لیکن دن بہ دن بڑھتی ہوئی آزمائشوں کا آسانی سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی نئی راہ تو نکالنی پڑے گی۔۔۔ لوگوں کے ذہنوں کو بہتر تبدیلی کے لئے آمادہ کرنا شاید دنیاکاسب سے مشکل کام ہوتاہے۔۔۔ باہر ممالک کی طرح اگر ایک سال یا دو سال کا  آکیوپیشنل اسٹڈیز کا انٹینسو کورس جس میں کتابوں سے زیادہ تحقیق, بحث اور لکھنا شامل ہو متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔۔۔ جس سائنس, آرٹس, کامرس, کمپیوٹر کے بجائے پرفیشنل اسکلز کو ابھارنے پر مرکوز کیا جائے۔۔۔ کیونکہ ابھی تو حال یہ ہے کہ ہمارے ببیچلرز اور ماسٹرز کوبھی ملازمت کی درخواستیں نہیں  لکھنی آتیں۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

EDUCATIONISTS:

We all have endorsed the fact that our schools and colleges are worthless places for providing with any useful training or education of at least international level.  If they do then what do we complain about.  If they don’t then we must think of ways changing it.  In order to change it, we must discuss what kind of change do we want and why.

Since we all know our teachers, most of them have no passion for their profession, others are either over-burned with piles of responsibilities or are obstructed due to limited resources.

The private institutions (from Montessori to college level) can make a difference by using technology at their premises.  Few years ago, I gave this idea to a school owner that the principals of different schools in a certain area can arrange a workshop once a month for teachers’ training.  They can gather at some place and exchange their expertise.  They can exchange good ideas, curriculum and other activities.  They can also watch educational videos to learn effective teaching skills.  Plus they can plan community visits and inter-school competitions.

Principals can sit together and think of ways to reduce the cost of education and make it affordable for parents.  For teachers’ convenience, they must provide them with some kind of help in their daily routine.  They must be given enough time to get organized, to check students’ work and a precise syllabus according to students’ level.

Preschools, schools and colleges can use videos, CDs and DVDs to occupy children with educational learning.  Children can be kept involved with Adam’s World, Sound Vision and Astrolab productions, Seasame Street, Barney, Between the Loins (children’s show about vowels) and other good shows on daily basis.  They can learn new vocabulary, songs, games and manners by watching these videos.  Just half-hour video everyday can play a big role in keeping them busy with something interesting for their age.  That half-hour or one hour will be a spare time for teachers to relax a little and finish their checking.

Even public schools, colleges and universities can take advantage of the technology (I don’t want to call it a new technology since it belongs to the last century).

If the public and private institutions are not interested in it, still a great idea for charity schools and other places where unwanted or homeless children are accommodated for any reason.  Such as Edhi’s children section, orphanages, etc.

Many of our high profiles like Ms. Afshan Ahmed, Madam Khushbakht Shuja’at, Mr. Rahat Kazmi, Madam Durdana Butt, Mr. Shezad Roy, Mr. Jawad Ahmed and many others who claim that they are very sensitive towards the issues of our society, must sit together and plan something.  All these ‘sensitive’ educationists can influence the parents with whatever they come up with (something like negotiations or conclusions).

Cost-Reduction in Education:  It’s possible.

1) Little children can learn to write and to draw things on slates (old fashioned) instead of wasting money on copies/notebooks and drawing copies.

2) Instead of buying books in Montessori, they can learn alphabets, numbers and words on board or charts.

3) Instead of buying supplies, school can charge a little amount from each parents and purchase the necessary items in bulk on discount,  keep them in classes and train children to share them, use them and organize them.

4)  Painting school walls with cartoons and animals looks horrible and messy, it doesn’t help them in learning.  Instead, take them to the nearby park, zoo, keep a pet or give them some other activities to show them the real colours of life.  They need to be trained to face the reality, not to be lost in myths and mysteries or unnecessary imaginations.

5) Avoid phonics, it makes normal children read like foolish.  Just teach them the letters like a normal insaan ka bacha is supposed to learn.  Children are human beings too, they should not learn to read by making strange animal sounds.  After all, our teachers don’t know how and when to teach phonics.