اسمعیل میرٹھی کی نظمیں

.

برسات 
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا  
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا 
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی  
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی 
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی  
تو بے جان مٹی میں جان آگئی 
زمیں سبزے سے لہلانے لگی  
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی 
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل  
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل 
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے  
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے 
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا  
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا 
.
پانی ہے کیا چیز 
دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی  
جو دانا ہو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے  
گرہ کھل جاۓ تو فورا ہوا ہے 
نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ  
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ 
جو ہلکا ہو اسے سر پر اٹھاۓ  
جو بھاری ہو اسے غوطہ دلاۓ
لگے گرمی تو اڑ جاۓ ہوا پر  
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر 
ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے  
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے 
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے  
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے 
اسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں  
اسی سے تازہ دم ہوتے ہیں حیواں 
تواضع سے سدا پستی میں بہنا  
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
.
سچ کہو 
سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ              
ہے بھلے مانسو کا پیشہ سچ 
سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز    
سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز 
سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد      
فکر سے پاک, رنج سے آزاد 
سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر      
جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر 
سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو      
سہل کرتا ہے سخت مشکل کو 
سچ ہے سارے معاملوں کی جان      
سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان 
سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف  
سچ کرادے گا سب قصور معاف 
وہی دانا ہے جو کہ ہے سچا  
اس میں بڈھا ہو یا کوئی بچہ 
ہے برا جھوٹ بولنے والا
آپ کرتا ہے اپنا منہ کالا 
فائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ  
جاۓ گا ایک روز بھانڈا پھوٹ 
جھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو
جھوٹ ذلت کی بات ہے اخ تھو! 
.
شفق 
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار          
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار 
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ              
جنھیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ 
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے              
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے 
ذرا دیر میں رنگ بدلے کی                
بنفشی و نارنجی و چنپئی
یہ کیا بھید ہے! کیا کرامات ہے            
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے 
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے          
باڑ بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ 
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ  
ہرے بن میں گویا لگادی ہے آگ 
اب آثار پیدا ہوۓ رات کے                  
کہ پردے چھٹے لال بانات کے 
.
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
اگر طاق میں تم نے رکھ دی کتاب        
تو کیا دو گے کل امتحاں میں جواب 
نہ پڑھنے سے بہتر ہے پڑھنا جناب  
کہ ہو جاؤ گے ایک دن کامیاب
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
نہ تم ہچکچاؤ، نہ ہرگز ڈرو                
جہاں تک بنے کام پورا کرو 
مشقّت اٹھاؤ، مصیبت بھرو                
طلب میں جیو، جستجو میں مرو
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
زیاں میں بھی ہے فائدہ کچھ نہ کچھ      
تمہیں مل رہے گا صلہ کچھ نہ کچھ 
ہر اک درد کی ہے دوا کچھ نہ کچھ      
کبھی تو لگے گا پتا کچھ نہ کچھ 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
تردّد کو آنے نہ دو اپنے پاس  ہے        
بے ہودہ خوف اور بے جا ہراس 
رکھو دل کو مضبوط، قائم حواس        
کبھی کامیابی کی چھوڑو نہ آس 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
.
 

Incomplete Personality – نا مکمّل شخصیت

Beside appearance, a personality is also identified and judged by its language, pronunciation and its appropriate usage.  Somehow, people of Pakistan have become negligent about correcting their children’s pronunciation.

They totally ignore the fact that how much wrong pronunciation irritates the listeners, they actually lose interest in listening to that person.  Parents don’t realize that incorrect pronunciation is a big defect in their children’s personality and not correcting is a big negligence.

.

آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
.
.
.

Confusions in Basic Arabic Grammar – عربی قواعد میں پیچیدگیاں

One of the miracles of is that it is the only book which is read and memorized by millions without understanding its language.

The miracle of Arabic language is that millions of Muslims learn Arabic with the intention of understanding Qur’an without having any attachment with Arabs.

Pakistanis learn Arabic for the same purpose.  The great advantage they have is that all (29) Arabic Alphabets are the part of Urdu Alphabets and are pronounced same in both languages.  More than 75% of Urdu words are taken from Arabic language and are used in the same meanings.  That is why the process of understanding Qur’an is much easier for Pakistanis as compared to other nations.

The books that are used in madrassahs and language institutions to teach Arabic make Arabic learning little complicated.  Putting the contents in all books together even don’t give an organized image of Arabic grammar.  Most books either explain more about verbs than noun and particles.  The writers select contents on the basis of their own preference of grammatical terms.

Generally, what they all teach is that Arabic alphabets compose two kinds of words; Mozoo’ (meaningful words) and Muhmil (meaningless).  Muhmil words have no types so they end right here.

Mozoo’ words are then categorized into two kinds; Mufrid (single word) called Kalimah and Murakkab (compound) which could be a sentence too.

Kalimah (single meaningful word) is divided into three types; Noun, Verb and Particles.  This means that entire Arabic vocabulary of meaningful words belong to one of these types.  Each type has its own definition and properties and words following the properties fall into that category.

.

The examples of these properties are as follows:

1- Particles are Mabni (their movements/sounds don’t change).  They have no gender, no numbers, no common or proper state and no cases of being subject or object.

2- Verbs are divided into past and present (present tense with signs makes future tense).  Past tense is all Mabni.  Verbs have gender, number and case of being subject or object beside action.  They have no common or proper state.

3- Nouns have gender, number, state of common and proper noun and case of being subject or object.  There is no concept of it in Arabic language.  A word has to be either masculine or feminine.

.

Still there are many things mentioned in the books are uncleared and create confusions for non -Arab students.  Although these complications are only literally and may cause confusion in learning language but not in Qur’anic understanding.  For example,
1- Ism Mushtaq (nouns derived from Masdar, the true nouns) are said to be six, seven or eight, depending upon how writers understand it.
2- Zameer (pronouns) are called noun but are not put under noun’s category.  Neither they are categorized as a separate one.
3- All verbs are said to be derived from Masdar (like Ism Mushtaq) but have their own category due to their own particular signs and formation.  
4- Ism Mansoob (nouns that show relation, like Pakistani, Arabian, Semitic) is neither under noun nor compound.
5- Some books include Murakkab Mana Sarf and Mazji (two kinds of compound) in compounds and some don’t.
6- Verbs have either three types or five, while all formations of verbs are derived from the two basic tenses, past and present.
7- Words of question or interrogation are called nouns while they don’t fulfill the properties to be a noun but particles.
8- “harf amilah dar fail mazara’ jazmah” (particles which cause change in ending sound and make it soundless) are either four or five?
9- Some words are called ‘noun to show time and place’  and at the same time they are called preposition without the change in their use or meaning.
.
.
قرآن دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جسکو کروڑوں لوگ سمجھے بغیرپڑھنا سیکھ لیتے ہیں… یہ بات خود قرآن کے معجزات میں سے ایک ہے… عربی زبان دنیا کی وہ واحد زبان ہے جسکو کروڑوں لوگ عربی قوم سے کسی تعلق، نسبت یا انسیت کے بغیر صرف اسلام سے محبت کی وجہ سے سیکھتے ہیں… یہ عربی زبان کا معجزہ ہے…
.
پاکستان کے مدارس اور لسانی ادارے عربی زبان کے قواعد پڑھانے کے لئے جو بھی کتابیں استعمال کر رہے ہیں… ان میں کافی قدریں یا اصول مشترک ہیں… لیکن ساتھ ساتھ کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں… یہ پیچیدگیاں شاید عربیوں کے لئے نہ ہوں یا انکے لئے کوئی معنی نہ رکھتی ہوں کیونکہ وہ اہل زبان ہیں… ویسے بھی اہل زبان کے لئے ضروری نہیں کہ انھیں اپنی زبان کے قواعد کا پتہ ہو… جبکہ عجمی یعنی کہ غیرعرب یا تو عربوں کے ساتھ رہ کر بغیرکسی قواعد کے یہ زبان سیکھتے ہیں… یا انہیں قرآن کو سمجھنے کے لئے عربی زبان سیکھنی پڑتی ہے… اہل زبان کی عربی اور قرآن کی عربی میں بہر حال فرق ہے جیسا کہ ہر زبان کی بولی اور قواعد میں فرق ہوتا ہے… اہل زبان کہیں کے بھی ہوں، وہ بات چیت کرتے وقت قواعد کے بارے میں نہیں سوچتے… قواعد کی ضرورت یا تو لکھنے لکھنے کے لئے ہوتی ہے… یا پھر کسی دوسری زبان کو سیکھنے کے لئے…
.
پاکستانی بھی عربی زبان کو قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے ہی سیکھتے ہیں…
قرآن میں جو عربی کے الفاظ استعمال ہوۓ ہیں ان میں کوئی بھی حرف یا لفظ بلا وجہ نہیں ہے… بلکہ ہر حرف، لفظ اور حرکت کا کوئی نہ کوئی مطلب اور مقصد موجود ہے… اس لئے جو لوگ قرآن کو سمجھنے کے لئے عربی سیکھنا چاہتے ہوں انھیں قرآن ہی کے ذخیرہ الفاظ اور جملوں کی بناوٹ پر غور کرنا چاہیے… اور ایسا ممکن نہیں جب تک کہ عربی حروف تہجی، انکے مخرج، الفاظ، انکی حرکات کی پہچان نہ ہو… پاکستانیوں کے لئے یہ بات بھی مسئلہ نہیں کیونکہ اردو زبان کے پچھتر فیصد سے بھی زیادہ الفاظ عربی زبان سے ہی لئے گئے ہیں… اور عربی کے تمام حروف تہجی اردو میں موجود ہیں اور اسی ترتیب میں ہیں…
.
البتہ احادیث مبارکہ کو سمجھنے کے لئے عربی قواعد کے علاوہ عام فہم عربی زبان سے واقف ہونا بھی ضروری ہے…
.
عربی زبان سیکھتے وقت بتایا جاتا ہے کہ عربی حروف تہجی سے دو قسم کے الفاظ بنتے ہیں… موضوع یعنی با معنی الفاظ اور مہمل یعنی بے معنی الفاظ…
مہمل الفاظ کی کوئی قسم نہیں لہذا اگر یہ ہیں تب بھی یہیں ختم ہو جاتے ہیں… جسکا مطلب ہے کہ باقی سارے الفاظ با معنی ہیں… 
موضوع الفاظ دو قسم کے ہوتے ہیں… مفرد یعنی اکیلا لفظ جسے کلمہ بھی کہتے ہیں…اور مرکب یعنی کچھ الفاظ کا مجموعہ،  جو کہ جملہ بھی ہو سکتا ہے… 
کلمہ کی تین قسمیں ہیں… اسم، فعل اور حرف … اس کا مطلب ہے کہ تمام کے تمام با معنی الفاظ ان تین میں سے کسی ایک سے تعلق ضرور رکھتے ہوں گے… ورنہ وہ مہمل ہونگے…
.
کلمات کو اسم، فعل اور حرف میں تقسیم کرنے کی وجہ انکی علامات، حرکات اور استعمال ہے…
مثال کے طور پر…..
١) تمام حروف مبنی ہوتے ہیں یعنی انکے اعراب تبدیل نہیں ہوتے… حروف میں  مذکر موَنث، واحد تثنیہ جمع، رفع نصب جر اور نکرہ اور معرفہ  نہیں ہوتا…
٢) فعل میں مذکر موَنث، واحد تثنیہ جمع اور رفع نصب جر کی خاصیت موجود ہوتی ہے لیکن نکرہ  معرفہ نہیں ہوتا… فعل ماضی پورا مبنی ہوتا ہے…
٣) اسم میں مذکر موَنث، واحد تثنیہ جمع، رفع نصب جر اور نکرہ اور معرفہ کی خصوصیت ہوتی ہیں… اسم مبنی بھی ہو سکتے ہیں اور معرب بھی…
.
.
پیچیدگیاں:
.
١) عربی زبان کو سکھانے کے لئے لکھی گئی کتابوں میں اکثر اصطلاحات کی تعریفوں میں صرف فرق ہی نہیں ہوتا بلکہ انکی تقسیم بھی عجیب انداز سے کی گئی ہوتی ہے… مثال کے طور پر کسی کتاب میں اسم مشتق کی چھ ، کسی میں سات اور کسی میں آٹھ قسمیں ہیں… مطلب کہ کسی نے ایک قسم کو دوسرے سے ملا دیا تو کسی نے علحیدہ رکھا… ایک کتاب میں فعل اور اسم کے کچھ حصّے ہوتے ہیں اور دوسرے 
٢) ضمائر کو اسم بھی کہا گیا ہے لیکن نہ تو انہیں اسم کے ما تحت رکھا گیا ہے نہ انکی کوئی الگ قسم بنائی گئی ہے… کیونکہ بہر حال یہ فعل اور حرف تو ہیں نہیں…
٣) فعل کو الگ کلمہ کیوں بنایا گیا ہے جبکہ تمام افعال اسم مصدر سے ماخوذ ہوتے ہیں… اور سواۓ نکرہ معرفہ (عام اور خاص) کے باقی تینوں حالتیں موجود ہوتی ہیں…
٤) اسم منسوب کو نہ اسم میں رکھا گیا ہے نہ مرکبات میں…
٥) کچھ کتابوں میں مرکب منع صرف اور مرکب مزجی کو مرکبات میں شامل نہیں کیا گیا…
٦) کہیں فعل یا افعال کی قسمیں تین فعل ماضی، فعل مضارع اور فعل امر بتائی ہیں اور فعل نہیں اور کہیں فعل جحد ملا کرپانچ….
٧) کسی میں “حرف عاملہ در فعل مضارع جازمہ” چار ہیں اور کہیں پانچ…

٨) استفہامیہ یا سوالیہ کلمات کو اسم میں کیوں ڈالا جبکہ یہ حرف کو خصوصیات پر پورا اترتے ہیں، اسم کی نہیں…
٩) کچھ الفاظ کو اسم ظروف بھی کہا گیا ہے اور ساتھ ہی حرف عاملہ در اسم” میں “حرف جر” بنایا گیا ہے… کیوں؟ جبکہ استعمال وہی ہے…
.

Minor Issues – چھوٹی چھوٹی ارادی غفلتیں

…  بڑی ہی عجیب سی بات ہے ملک بدترین حالات میں اور ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح ہے 

تقریبا ہر کسی کی زبان سے ایک جملہ نکلتا ہے… “دیکھیں یہ تو چھوٹی سی بات ہے، ہمیں اصل ایشوز پر توجہ دینی چاہیے”… لیکن آخر جنھیں اصل ایشوز کہا جاتا ہے وہ ہیں کیا؟… 
جملہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن یہ جملہ کب کہا جاتا ہے… عموما جب کسی مرد یا عورت سے بات کرتے ہوۓ کوئی ایسا اعتراض سامنے آ جاۓ جسکا تعلق انکی ذات سے بھی ہو… چھوٹی چھوٹی غفلتوں کو جان بوجھ کر جسٹفاۓ کرنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے… مثالیں بہت مل جائیں گی…
اگر بات کرتے کرتے یہ مسلہ آجاۓ کہ……
.
١) تعلیم اور نظام اردو زبان میں چلایا جاۓ یا انگلش میں… تو جواب ملتا ہے “دیکھیں زبان سے کچھ نہیں ہوتا، اب دنیا میں ترقی کے لئے انگلش ضروری ہے، اور اردو میں کونسا ریسرچ کرنی ہے… زبان کوئی بھی ہو بس ہم ترقی کریں، اچھی قوم بنیں کیونکہ اصل مسلہ ہماری پسماندگی ہے… وغیرہ”
.
٢) آج کل گھروں میں، ٹی وی پر، اسکولوں میں اردو کے الفاظ کا تلفظ بگاڑ کر استعمال کیا جاتا ہے… لائف بواۓ کول فریش صابن کے کمرشل میں ایک جاہل خاتون خود کو معصوم ظاہر کرتے ہوۓ لفظ خارش کو کھارش کہتی ہیں… ٹیچرز، بچے، ماڈرن بننے کی کوشش کرنے والی خواتین، اپنا لاڈلا پن ظاہر کرنے والی خواتین، اداکارائیں وغیرہ… حتی کہ بڑے بڑے عوام کے چہیتے نفسیاتی ڈاکٹر تک ہیلتھہ  ٹی وی چینلز پر غلط تلفظ سے اردو بولتے ہیں، اردو کے رول ماڈل بننا چاہتے ہوں گے… یہ بیماری خواتین میں زیادہ ہے…
چھوٹی سی بات ہے نہ، شاید بے چارے لوگوں کے بڑے بڑے مسلے حل کرنے والے اپنی ہی ذات کی اس کمی کو پورا کرنے کے قابل نہیں … 
بڑے فخر سے خیال کو کھیال، آخری کو آ کھری، خود کو کھد، غلطی کو گلتی، پیغام کو پیگام، نغنہ کو نگما، غلام کو گلام، قیمہ کو کیمہ، قیامت کو کیامت، اقبال کو اکبال، اور خ غ  ق کے سارے الفاظ کو بگاڑ بگاڑ کر بولتے ہیں… تو جواب آتا ہے “یہ چھوٹی سی بات ہے، ظاہر ہے آج کل کا ماحول ہے، لیکن ہمیں مل کر ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہیے، اصل مسلہ ہے کہ جہالت ختم کریں، بلا بلا…”…
.
٣) پان کھا کر یا بغیر پان کھاۓ جگہ جگہ تھوکنا بری بات ہے…. “دیکھیں یہ تو چھوٹی سی بات ہے، اصل تو یہ جو کوڑے کے بڑے بڑے ڈھیر جا بجا پڑے ہوۓ انھیں حکومت ہٹاۓ ان سے بیماریاں پھیلتی ہیں”…
.
٤) اسکول کالج چند گھنٹوں کے لئے علم حاصل کرنے کی جگہ ہیں، یہاں گانے بجانے ناچنے کی تربیت نہیں دینی چاہیے اس کے لئے بہت ادارے، ٹی وی چینلز، اسٹیج کافی ہیں… “دیکھیں یہ چھوٹی سی بات ہے ناچنے گانے سے کچھ نہیں ہوتا، یہ تو بچوں کے لئے ضروری ہے، بس نظام تعلیم ٹھیک ہونا چاہیے، اس پر ہم توجہ نہیں دیتے”…
.
٥) ٹی وی پر یا پبلک میں مرد اور خواتین اپنے لباس کا خیال رکھیں… “کیا پہنا، کیسے لگ رہے ہیں، یہ سب کی ذاتی پسند نا پسند کا معاملہ ہے… اصل چیز ہے کہ انسان کسی کا دل نہ دکھاۓ، کسی کو تکلیف نہ دے، اچھے کام کرے”…
.
٦) فلاحی نظام عوام کی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے یا عوام میں ہو تب بھی توایک مرکزی نظام کے تحت ہو، یہ چھوٹے چھوٹے ادارے کھول کر جو وسائل کو ضائع کیا جاتا ہے یہ نہ ہو … “لوگوں کی مرضی ہے، انکے پیسے وہ کسی کو بھی دیں یا خود کوئی ادارہ کھولیں کوئی پابندی تو نہیں”… 
.
٧) پرہیزعلاج سے بڑھ کر ہے، اس لئے ہسپتال کھولنے کے بجاۓ ماحول کو صحتمند بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، مریض اور مرض خود بخود کم ہو جائیں گے… “لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جاتا ہے، وہاں بھی ہسپتال ہیں، یہ سب الله کی طرف سے ہوتا ہے”… 
.
٩) شراب پر پابندی ہونی چاہیے… “دیکھیں شراب کا ایک تو کوئی واضح حکم قرآن میں موجود نہیں… دوسرے ترقی یافتہ قومیں اگر ان چکّروں میں پڑتی تو آج اتنی خوشحال نہ ہوتیں”…
.
١٠) سارے گھر والوں کو چاہیے کہ جب انکے مرد گھر سے نکلیں تو انھیں احساس دلادیں کہ باہرنکلنے والی خواتین کسی گھر کی عزت ہیں، انکے لئے شیطان کا روپ دھرنے کے بجاۓ انھیں بھی عزت سے دیکھنا… “لڑکی یا عورت کو خود ہی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے، مردوں کی عادتیں تو ایسی ہی ہوتی ہیں”…
.
١١) ہندوستانی میڈیا کا بوائیکاٹ کریں، انکے چینلز بند کریں، تین تین چار چار سال کے بچوں کے ذہن اور روح آلودہ ہوتی ہے، خواتین کی بے حرمتی اور انھیں کس نظر سے دیکھنا چاہیے وہیں سے سیکھتے ہیں لڑکے… “یہ کیا بات ہوئی، ہم بھی تو ہندستانی فلمیں دیکھ دیکھ کر بڑے ہوۓ ہیں، ہمارے کردار اور تہذیب پر تو کوئی فرق نہیں پڑا اور ہمارے گھر کے مرد بھی صحیح ہیں، اصل چیز ہے کہ تعلیم کا نظم اچھا ہو”…
.
اب ذرا ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذرا ایک ساتھ جمع کریں… 
قومی زبان قوم کی علامت نہیں، ضروری وہ زبان ہے جس سے دولت کمی جاۓ …
قومی زبان کو بگاڑ کر بولنا آئین میں لکھا ہے قومی جرم نہیں ہے… زبان نہیں دل دیکھیں… حالانکہ دلوں کا
حال صرف الله جانتا ہے… ہمیں تو زبان ہی دی ہے پہچان کے لئے…
جگہ جگہ تھوکنے کا تعلق تہذیب سے نہیں ہے… کسی آئینے میں اپنا منہ دیکھ کر اس پر بھی تھوک لیں نہ…
اسکولوں کالجوں میں گانا ناچنا تعلیمی نظام کا حصّہ ہے… تو پھر اور کونسی چیز علم سے دوری کا سبب ہے؟
کسی بھی قسم کا لباس اورحلیہ پبلک میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا… حلیہ حلیہ ہوتا ہے گندا ہو یا ننگا…
لوگوں کے دس، پچاس، سو، ہزار ذاتی مال ہوتے ہوۓ بھی قومی دولت کا حصّہ ہوتے ہیں، اسے ضائع کرنا ذاتی پسند ہے… 
ماحولیات ایک غیر ضروری بحث ہے… خوبصورتی اور صفائی جیسی اعلی صفات سے اس قوم کا کیا تعلق…
شراب جائز ہے جرنیل کے لئے بھی، تمام شو بز کے لئے بھی، سیاستدانوں کے لئے بھی اور عوام کے لئے بھی (تو پھر باقی نشہ آور چیزوں پر کیوں پابندی ہے؟)…
عورت پر پابندی بھی اور ذمہ داری بھی، مردوں کو گھر اور سڑک پر کھلی چھٹی… 
گھروں میں بے حیائی، ننگے پن اور فحاشی سے تہذیب اور اخلاق پر کوئی اثر نہیں پڑتا… تو پھرریپ کا رونا کیوں روتے ہو… 
.
اور پتہ نہیں ایسی ہی کتنی باتیں ہیں… گویا ہر مشہور اور غیر مشہور شخص نے اپنی طرف سے تھوڑے  تھوڑے دھبّے لگاۓ ہوۓ ہیں… چھوٹی چھوٹی باتیں جن کی وجہ سے انھیں افراد کے بڑے بڑے کارنامے بھی بے سود اور غیر موثرہو کر رہ گۓ ہیں… 
.

Urdu! Pakistan Salutes You! تجھے پاکستان کا سلام اردو

The title is adopted from the poem on Urdu “tujhay nahi sadi ka salam Urdu/the new millennium salutes you, O Urdu”  by an Indian poet and Urdu lover Ms. Haya Lata.

Urdu is the national language of Pakistan.  It is our national symbol and our identity.  National language is not a threat to any provincial or local language.  It is a source of communication and it fills linguistic gap among communities speaking different languages.  

Urdu is well-spoken and understood in India too.  Both India and Pakistan share the history of Urdu and literature as well.

Those who do not value their national language and actually try people to divert from it are the enemies of nation. 

The history of Urdu is available on internet.  Thousands of  Urdu websites are there to entertain the lovers of Urdu language and share their favourite poetry, excerpts, opinion or discussions.  Some of them are really impressive

But their participants are very few.

Today we complain that our new generation is too negligent towards their values, tradition and history.  All these things are either learned through books or passed by the elders in the family. 

How are children going to learn traditions, values and history when they are not given time to spend time with their elders and/or read books?

Teachers in schools and colleges can’t do anything about learning and reading Urdu unless parents show their interest and develop interest in their children too.  

.

اردو پاکستان کی قومی زبان… قومی زبان کسی بھی صوبائی یا علاقائی زبان کے لئے خطرہ نہیں ہوتی… بلکہ ملک میں مختلف زبانیں بولنے والی قوموں کے لئے رابطے کا کام انجام دیتی ہے… قومی زبان کی وجہ سے ملک کے لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی نہیں رہتے… 
ارود تو ویسے بھی صرف پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی بولی،  سمجھی اور لکھی جاتی ہے… کیونکہ اس کی شروعات انہی دونوں ملکوں میں ہوئی… 
.
جو عناصر قومی زبان کی اہمیت ختم کرنے میں آگے آگے ہوتے ہیں، وہ اصل میں قومی یگانگت کے دشمن ہوتے ہیں اور عوام کو ایک دوسرے سے دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں…

آج ہم اپنی نئی نسل کے گمراہ ہو جانے کا شکوہ کرتے ہیں… انکے اور انکے والدین اور بزرگوں کے درمیان جو دوری اور بیگانگی ہے اس کا رونا روتے ہیں… شکایات کرتے ہیں کہ نئی نسل کو تہذیب اور روایت کا علم نہیں، انہیں اپنی تاریخ نہیں معلوم….

تاریخ، تہذیب، روایات، یا تو کتابوں میں تحریر ہوتی ہیں یا پھر بزرگ اپنی اولادوں کو منتقل کرتے ہیں… مثال کے طور پر اگر کوئی اپنے بچوں سے صحیح اردو نہ بولے، انھیں انگلش کے سحر میں مبتلا کر دے، انھیں اتنا وقت ہی نہ دے کہ وہ بزرگوں کے ساتھ بیٹھ سکیں اور ان سے کچھ سیکھ سکیں… تو پھر کس بات کا گلہ اور کس سے… اور کیوں الزام حکومت پر اور نظام پر لگائیں… جب سارا قصور اپنا ہو…
کیوں نہیں ہم اپنے بچوں کو ارود میں لوریاں دیتے، کہانیاں سناتے… کیوں ان کو شعرو شاعری کا شوق نہیں دلاتے… شعرو شاعری تو گفتگو کا ایک فن ہے… 
.
صبح کا پہلا پیام اردو
ڈھلتی ہوئی سی جیسے شام اردو
اتریں جاں تارے وہی بام اردو
بڑی کمسن  گلفام اردو 
جیسے نئے سال کا یہ دن ہو نیا
اور بیتے سال کی ہو آخری دعا 
نیا سال نئی  رام رام اردو 
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
مجھے تو یہ امی کے دلار سی لگے
اور میرے ابو جی کے پیار سی لگے
بڑے بھائی کی یہ پھٹکار سی لگے
چھوٹی بہنا کی یہ پکار سی لگے
میرے لئے دوستوں کی دوستی سی یہ
دشمنوں کی پیاری پیاری دشمنی سی یہ
جیسے رشتوں کا ایک جام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
کبھی محبوبہ یہ ادب کی لگے
بات کرے اپنی تو سب کی لگے
قوم کی لگے نہ مذھب کی لگے
مجھے یہ زبان جیسے رب کی لگے
جو یہ کہتے ہیں زبان غیر ہے
انکے دلوں میں تو فقط بیر ہے
جاہل دیں تجھے الزام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
یہیں پے ہے جنمی، یہیں پہ ہے پلی
یہیں پہ جوان ہوئی پھولی و پھلی
یہیں کا ہے پھول یہ یہیں کی ہے کلی
خشبووں کی ڈولیوں میں بیٹھ جو چلی
چاہے پیا کا ہو گھر پردیس میں
پیھر تو اس کا ہے اس دیس میں
تجھے چاہے ہند کی عوام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
بن تمھارے محفلوں میں نور نہیں ہے
شاعری کی مانگ میں سیندور نہیں ہے
شعرکوئی جیسے مشہور نہیں ہے
ہو کے با ادب بھی شعور نہیں ہے
تجھے قطعات اور رباعی کی قسم 
رکھنا مجاز میں یہی تو دم خم 
تیری ہی تیری ہے غلام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
کیا بتاؤں یہ زباں ہے میرے لئے کیا
سر پہ رکھا ہو جیسے دست خدا
جیسے مل جاۓ مجے آپ کی دعا 
شہرتوں نے جیسے مجھے ہولے سے چھوا
میرا خاندان پہچان ہے یہی
میری آن بان اور شان ہے یہی
آ ۓ میرے کام ہر گام اردو 
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
اور بھی عظیم اور مہان تو بنے 
اور بھی حسین اور جوان تو بنے 
دل بنے کسی کا ایمان تو بنے
کسی کا خدا یا بھگوان تو بنے
اور کیا دعائیں دوں میں تجھ کو سکھی
میں تو خود تیری ہی پناہ میں پلی
اور ہو جہاں میں تیرا نام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
.