Which one is a better choice?

Burying daughters alive when they are infant or toddler OR raise them to adulthood and push them into the dungeon of unending trials, frighten them, torture them, listen to their screams and pleadings, throw acid on them, kill them?

Unfortunately, no other options are there for women to decide their fate.

Morally, legally and logically, both these choices are a sin but who cares about it.  Sin is no more a sin in civilized world until it is proven as a crime.

Arab tribes before Islam used to bury little daughters alive.  Now, we bury them after making their long horror movie.  

“And when the girl-child who was buried alive is asked, upon what sin was she killed for?”  Surah At-Takweer/The Rolling Up

“When one of them gets a baby girl, his face becomes darkened with overwhelming grief. Ashamed, he hides from the people, because of the bad news given to him. He even ponders: should he keep the baby grudgingly, or bury her in the dust. Miserable indeed is their judgment.” Surah An-Nahl/The Bee

Prophet Muhammad (pbuh) strictly condemned the act of burying little girls alive.  He strongly urged men to treat women gently and with kindness.  Most Muslims men disobey the Prophet (pbuh), which is a practical blasphemy.  Yet, no religious leaders raise their voice against this disobedience and pass verdict on this blasphemy.

On the contrary, women are forced to shut their mouth and tolerate torture in lieu of Paradise.

“So their Lord accepted of them (their supplication and answered them), “Never will I allow to be lost the work of any of you, be he male or female. You are (members) one of another…” Surah Al-e-Imran/The Family of Imran 195

Okay, both ways God Almighty be happy with women.  What about men, would God be happy the way men control women and spread the carpet full of nails and thorns for them to walk on it in order to please God?



World Women’s Day – بین الاقوامی یوم نسواں

 “(In principle) corrupt women are for corrupt men and corrupt men for corrupt women; just as good, pure women are for pure men and pure men for pure women…” (Surah An-Noor)

This is the Quranic or Divine rule for the companionship of men and women.  They don’t get attracted to each other by their appearance but by their instinct of evil desires or virtues.

But even Muslims seldom doubt on this rule as each man and woman consider themselves pure, innocent, pious and sin-free person.  Men don’t pray and read Quran but they want their wives to be a punctual in religion and women do the same thing.  Women do cheat on their husbands and yet blame them for enjoying prostitute gatherings and men do the same thing.  Parents lie and expect their children to speak truth.  Men and women watch adult movies and obscene clippings and want their children to grow up pious.  They want to save little ones from the moral and financial corruption they couldn’t resist.

It is women who demand dowry and create all kinds of problems at homes, they burn their daughter-in-laws, they conspire for their sister-in-laws, they hate their mother-in-laws and then they are the one who step out and shout slogans against dowry.

I still don’t get it that what is the real purpose of observing women’s day.  Women’s rights are seized by their own men, women’s are tortured and abused by their men at home.  Those men rule the world outside home – the employer, the officer, the colleague, the vendor, the agent.  Who do then women stand against and who do they ask for help?

Don’t most women realize that they are abused by men because of how they amuse men?  Or take it this way that women abuse themselves when they try to amuse wrong men the wrong way.

What do they demand as their right – food, clothes, shelter, healthy environment, educational and working opportunities, their participation and representation in national and social issues OR dancing and singing on the streets, exposing their body parts?  And if they do so then why do they complain about men behaving like men and treating them like women, while they both don’t behave humanly?

Why isn’t there a day for men too, don’t they have problems created by women, don’t they suffer frustrations and commit crimes due to them?  Why don’t men tell the world how they feel when women are around and if they want to protect their dignity as well as women’s honour or they take advantage of the situation?



تپش تو چھاؤں میں سورج سے بھی زیادہ ہے
جھلس رہا ہوں کہ شیشے کے سائبان میں ہوں
” خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے اور خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے… پاک مرد پاک عورتوں کے لئے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے…” (سوره النور) 
یہ قرآنی اصول ہے… لہذا عورتوں کو مردوں کی اور مردوں کو عورتوں کی شکایات کرنے سے پہلے اپنے کردار اور اوصاف بھی دیکھ لینے چاہییں… عورت اور مرد انسان پیدا کے گۓ ہیں… اگر عورت صرف خود عورت سمجھ کر اور عورت ہی کی خصوصیت کے ساتھ دنیا میں پیش کرے گی تو پھر مرد بھی صرف مرد بن کر ہی اس سے ملیں گے… 
عالمی یوم نسواں… خواتین کا عالمی دن… بین الاقوامی قوتوں نے چاہا کہ یہ دن یا کوئی بھی دن منائیں تو منا لیا… جو جو موضوع انہوں نے اس حوالے سے چاہا کہ اجاگر ہوں وہ کر دیے… اور کیوں نہ ہو ہما رے اور بین الاقوامی قوتوں کے درمیان یہ آقا اور غلاموں جیسا تعاون… آخر کو دنیا کے معاملات بگاڑنے میں انکی عقلمندی اور ہمارے انکی عقل پر ایمان لانے کا بہت بڑا حصّہ ہے….
اگر عورتوں کا عالمی دن ہو سکتا ہے تو مردوں کا کیوں نہیں؟  کیا مردوں کے مسائل نہیں ہوتے… انکے ساتھ بھی تو زیادتیاں ہوتی ہیں… انھیں بھی گھر کے اندر اور باہر پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے… انکی تربیت میں کمی یا زیادتی بھی تو مسائل کو ہی جنم دیتی ہے… 
اگر یہ عالمی دن ہر قسم کی خواتین کے لئے ہے تو اس کا اصل مقصد کیا ہوا؟ کیونکہ خواتین کوئی الگ مخلوق تو ہیں نہیں کہ ایک دن انکو سب دیکھیں اور انکی باتیں کریں اور تماشہ لگائیں… عورتیں خوش ہوں مبارکباد دیں کہآگیا آگیا ہمارا دن آگیا آگیا جیسے سال میں ایک مرتبہ عید بھی آتی ہے… خوشحال، مطمئن خواتین ان خواتین کا ذکر کریں جن پر ظلم ہوۓ ہیں… انکے لئے آواز اٹھائیں… اور مظلوم خواتین کو تھوڑی تسلی ہو جاۓ کہ کوئی ہمارا ہمدرد ہے… اور مل جل کر دن گزار لیا جاۓ…
اگر یہ دن مظلوم خواتین کے لئے ہے تو مبارکباد کیسی اور کس کی طرف سے کس کو؟ جس حساب سے ہم پورے سال خواتین کے حقوق، آزادی، مظلومیت، تشدّد اور جہالت کا رونا روتے رہتے ہیں… اس حساب سے تو سال کے تین سو پینسٹھ دن ہی خواتین کا ہی دن منایا جا رہا ہوتا ہے… تو اس ایک دن میں کیا خاص بات ہے… اور میں تو کہتی ہوں کیسی مظلومیت اور کیسے حقوق… ایم کیو ایم کے جلسے میں کیا کیا نہ کر گئیں… طوائفیں شریفوں کے گھروں میں نہیں آسکتیں تو کیا ہوا، گھروں کی  معزز خواتین تو سرعام ناچ گا سکتیں ہیں… اگر خوشبخت شجاعت صاحبہ دو لاکھ خواتین سے صرف اتنا بھی وعدہ لے لیتیں کہ وہ کوڑا سڑکوں پر نہیں پھینکیں گی اور اپنا اردو کا تلفظ ٹھیک کر لیں گی… تو یہ سمجھا جا سکتا تھا کہ انکا تعلیم و تہذیب سے کوئی تعلق رہ گیا ہے… 
عجیب ترین بات یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین کے ساتھ جس بھی قسم کی زیادتی ہو وہ گھر میں ہو رہی ہوتی ہے لیکن انصاف مانگنے وہ سڑکوں پر نکل جاتی ہیں… لیکن کس سے، دوسرے مردوں سے جو کہ در حقیقت دوسرے مرد نہیں ہوتے بلکہ دوسروں کے مرد ہوتے ہیں اور کہیں نہ کہیں اپنی خواتین کے ساتھ زیادتیوں میں ملوث ہوتے ہیں؟… باپ، شوہر، بھائی، بیٹے، بہنوئی، جیٹھ، دیور، سسر، داماد، چچا، ماموں، تایا… اور ان سے رشتے میں بندھی ہوئی خواتین… اور پھر وہی مرد گھروں سے باہر کام کرتے ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ گھر سے باہر کی دنیا کے مالک بن جاتے ہیں… مختلف اداروں میں، مختلف کاروبار میں، مختلف روپ میں… 
ایک تازہ مثال وحیدہ شاہ کی ہی لے لیں… صرف تھپڑ ہی مارے تھے، زنا با لجبر نہیں کیا تھا، قتل نہیں کیا تھا، عورت کو برہنہ سر بازار نہیں گھمایا تھا… لیکن ہزاروں مرد نکل آۓ سڑکوں پر اور جھٹ پٹ سزا ہو گئی وحیدہ شاہ کو… وحیدہ شاہ کے گھر کے مردوں کو بھی شاید موت آ گئی تھی… یہی اگر وحیدہ شاہ کے باپ، بھائی، بیٹے یا شوہر کا معاملہ ہوتا تو وہ خود سڑکوں پر ماری ماری پھر رہی ہوتیں انکی عزت بچانے کے لئے… 
جبکہ ہزاروں مرد جنسی زیادیوں، قتل، عورتوں کو برہنہ کر کے سرعام پھرانے، تیزاب یا مٹی کا تیل یا پٹرول پھینک کر جلانے، ناک کان کاٹنے جیسے بھیانک جرائم کرتے ہیں اور نہ تو انکی خواتین انکے خلاف کوئی اقدام کرتی ہیں، نہ پولیس، نہ حکام اورنہ ہی علاقے کے مرد…
مرد اور عورت اگر دونوں انسان ہیں اور دونوں ہی ایک دوسرے کے لئے مسائل کا باعث ہیں تو انسانوں کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا، انسانی مسائل سے نجات کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا، عزت و احترام کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا؟  
مردوں اور عورتوں کے مسائل تربیت اور انصاف نہ ہونے کی وجہ سے ہیں… تو پھر انصاف اور تربیت کا عالمی دن کیوں نہیں منایا جاتا؟
انسانی کرداروں کے بجاۓ  انسانی کردار کا دن کیوں نہیں منایا جاتا؟  
ذرا سوچیں اگر ایک ایک دن بھی اس طرح منا لیں تو کتنا سدھر جاۓ دنیا…. کہ آج سچ کا عالمی دن ہے تو آج کسی حال میں جھوٹ نہیں بولنا ہے… آج ایمانداری کا عالمی دن ہے تو آج کسی بھی صورت کسی کو دھوکہ نہیں دینا ہے… آج احترام کا عالمی دن ہے تو آج سب کو نظریں جھکا کر اچھے الفاظ میں بات کرنی ہے… آج امانت داری کا عالمی دن ہے تو آج کسی کی چیزوں میں، باتوں میں یا عزت میں خیانت نہیں کرنی ہے… آج رشک کرنے کا عالمی دن ہے، اس لئے آج کسی سے حسد نہیں کرنی بلکہ کوئی اچھائی تلاش کر کے تعریف کرنی ہے اس کے لئے کہتے ہیں “بَارَكَ اللهُ فِيْكَ” لڑکوں یا مردوں کے لئے اور “بَارَكَ اللهُ فِيْكِ” لڑکیوں اور عورتوں کے لئے، مطلب یہ کہ الله آپ کو برکت دے، یا سیدھا سیدھا “ماشاء الله” کہ دیں…. آج دعاؤں کا عالمی دن ہے تو آج صرف ایک دوسرے کو دعائیں ہی دعائیں دینی ہیں کسی بھی زبان میں… آج برداشت کا عالمی دن ہے تو آج ہر ایک کی بد تمیزی کو نظرانداز کرنا ہے… وغیرہ وغیرہ….
خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر میں اداکارہ میرا، ریما، صائمہ، ثنا، ریشم، نرگس، سنگیتا اور بہت سی ایسی ہی خواتین سے گذارش کروں گی کہ براۓ مہربانی فن اور اداکاری کے نام پر اپنے جسم کے حصّوں کو اتنے شدید جھٹکے نہ دیا کریں کہ ایسا لگے وہ ابھی آپ کے جسم سے نکل کر آپ کے چاہنے والوں اور پرستاروں کی گود میں جا گریں گے… خیر سے اسی کو بے ہودگی اور بے حیائی کہتے ہیں… فن اور اداکاری کے ذریعے دولت اکٹھی کرنا آپ کا حق ہے… فن اور اداکاری کے نام پر اپنے جسم کو آخری حدوں تک ننگا کرنا بھی آپ کا حق ہے لیکن شاید پبلک میں نہیں… اپنے ہی جسم کو برہنہ کر کے اپنے ہی ملک و قوم کے مردوں کو دیوانہ بنایا اور بھٹکایا تو کیا کمال کیا؟  تو پھر زرداری جیسے مرد ہی میرا کو صدارتی ایوارڈز دے سکتے ہیں کیوں کہ ایسے ہی کم نسلوں کو آپ تفریح فراہم کر رہی ہوتی ہیں… خیر ہو سکتا ہے کہ آپ کو عزت اور شرم و ہی کی یہی تعریف بتائی جاتی ہو…
عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پر وہ ایک عہد کریں کہ کم از کم کسی ایسے لڑکے یا مرد سے شادی نہیں کریں گی جو کس بھی قسم کے کرائسس سے گذرا ہو اور پھر نارمل نہ ہو سکا ہو… ہمارے معاشرے میں ایسے مرد سری زندگی خود کو مظلوم سمجھتے رہتے ہیں اور عیش کرتے ہیں… کبھی امّاں آگے پیچھے، کبھی بہنیں دائیں بائیں، کبھی بیٹی کو جذباتی بلیک میلنگ، کبھی بیوی کو دھمکیاں اور تشدد… کبھی نشے میں غموں کا علاج ڈھونڈ رہے ہیں… کبھی طوائفوں کے در پر پڑے اپنی ناکامیوں کی داستان سنا رہے ہیں… خوب مزے ہو رہے ہیں… ایسے مردوں کی نفسیاتی کیفیت اور باؤلا پن بھگتنے کے لئے انکی شادی کر دی جاتی ہے… اور وہ ساری زندگی اپنی محرومیوں اور زیادتیوں کا بدلہ اپنی بیوی سے لیتے رہتے ہیں جس کا کوئی قصور نہیں ہوتا… ایسے مردوں کو ایک سال باسی روٹی گرم پانی سے دو وقت کھلانی چاہیے اور دونوں کھانوں کے درمیان میں بارہ گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیے….شادی سے پہلے لڑکوں اور مردوں کا ایک سالہ چیک اپ ہونا ضروری ہے اور دماغی امراض کے ڈاکٹر اور نفسیاتی معالج سے سرٹیفکیٹ لینا چاہیے کہ یہ انسان کا بچہ بن کر نارمل زندگی گزار سکتا ہے کہ نہیں… لڑکے کے گھر والوں کے بارے میں بھی چھان بین کرنی چاہیے کہ انکو کیا کیا دماغی تکلیفیں ہیں… نارمل ہیں کہ نہیں… 
خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر خواتین عہد کریں کہ وہ کسی دوسری خاتون کے حقوق نہیں چھینیں گی، اس کو برباد نہیں کریں گی، اس کے منہ سے نوالہ نہیں چھینیں گی… طعنے نہیں دیں گی، اس کو گھر کے مردوں کے ذریعے تشدد نہیں کرائیں گی… اپنے بیٹوں کے عیب چھپا کر کسی لڑکی کو تباہ نہیں کریں گی… 

Children بچے

Once there was a town, where lived many families with their children.  The parents were worried about their children’s behaviour.  They complained to each other that their children are irresponsible, abusive, undisciplined, non-serious about their education.  An old scientist also lived there.  He wanted to help the parents so he prepares a magical formula called “parentade” to improve children’s behaviour.  Parents were excited.  The formula worked.  Children started doing things on time, by themselves.  No more mess on dinning tables, no more shouting and running around, no more fighting.  Genius talks, mind blowing ideas, they all got A+ in their exams.  That was it.  Parents were sick and tired.  They were sick and tired of coping with their children’s extraordinary discipline and responsible behaviour.  Their children refused to accept the fun ideas their parents had for them, instead they started guiding their parents to make their life useful.  Finally, all parents arranged a meeting and invited the scientist.  They wanted him to prepare the antidote to that formula.  They wanted their children back to normal as they were before.

Above is the summary of an English poem “Parentade”, a very interesting idea for parents and to learn their lesson.


کب کب ایسا نہیں ہوتا کہ جب جب کمپیوٹر پر کچھ لکھنے بیٹھتی  ہوں تب تب کمپیوٹر کے سب سب بانیوں کوسلام کرنے کو لب مل مل جاتے ہیں، دل کھل کھل جاتا ہے، ذہن دھل دھل جاتا ہے… گو کہ گفتگو میں تکرار ایک عیب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں… انگریزی میں یہ بھی زبان خوبی کہلاتی ہے…

May God guide my parents, ameen!

اگر کمپیوٹر شیطانی ایجاد ہے بھی تو فی الحال تو آدھے سے زیادہ اسلام کو پھیلانے اور اسلامی مظاہروں کا کم اسی پر ہو رہا ہے… اردو بھی شاید اب کمپیوٹر پر ہی لکھی پڑھی جا رہی ہے… میں نےتو کچھ بچوں کو کہا بھی کہ بھی انٹرنیٹ پر جواردوٹا ئیپنگ کی سا ئیٹس ہیں ان پر اردو ٹائپ کیا کرو تو اردو کی ہجے ٹھیک ہو جا ے گی… شعروشاعری بھی ہے، کہانیاں بھی، محاورے بھی… طالبعلموں کے لئے تو بہت فاعدہ مند ہے… 
پرسوں ڈاکٹرعلی رضا نقوی کی خبر سنی تو دل باغ باغ ہو گیا… ایران کی حکومت نے انہیں کافی ایوارڈز دیے ہیں اوراب ایران کی حکومت نے انھیں اپنے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ سے نوازا ہے… ڈاکٹرعلی رضا نقوی ایک پاکستانی ہیں… انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، دونوں کو علم سے کوئی دلچسپی نہیں… بالکل  ٹھیک کہا…با لکل صحیح اگر اس ملک میں علم کی اہمیت ہوتی تو علم کے  ساتھ گورنر عشرت العباد اتنا بڑا اور برا مذاق نہ کرتے کہ رحمن ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیتے… کھلا جرم ہے یہ… لیکن یہ دلچسپی جب پیدا ہوتی ہے جب اہل زبان اپنی زبان میں نئے خیالات کا تعارف کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی قوم کے مزاج، ذہنی سطح اور مختلف عمروں کا خیال رکھتے ہوۓ… خیر یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اردو میں کچھہ لکھا ہی نہیں جا رہا… حقیقت یہ ہے جو ڈاکٹرعلی رضا نقوی نے بیان کی کہ عوام کو دلچسپی نہیں…
تو ایک کام یہ بھی ہے کہ عوام کو بد تمیزی اور جہالت سے نکال کر شائستگی اور اردو کی طرف کیسے لایا جاۓ… اکثر لوگ شائستگی کا مطلب لیتے ہیں چکنی چپڑی باتیں مسکراتے ہو ۓ کرنا، بلاوجہ لوگوں کی تعریف کرنا، جیسے کہ صبح کے شوز میں ہوتی رہتی ہیں… شائستہ نام رکھنے سے، ہندی تلفظ میں بات کرنے سے، بھارتی اداکاروں کے قدموں پر گر پڑنے سے، انکو خدا بنا کر پیش کرنے سے کوئی شائستہ نہیں ہوجاتا… بلکہ یہ امن، دوستی اور انسانیت کا نہایت گھٹیا تصور ہے… لیکن کیا کریں، جب کوئی اپنی ذاتی ترقی اور پیسے کے پیچھے پاگل ہوجاۓ تو اس سے کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے… 
ویسے لوگوں کو میری باتیں پسند نہیں آتیں، کہتے ہیں اس طرح کہنے سےلوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں… ارے بھئی، لوگ پاکستان کی قدریں برباد کریں، ملک توڑیں، پاکستانیوں کو غلط سوچ دیں، اردو زبان کے ساتھ مذاق کریں، عورت کی عزت کو ناچنے گانے جلوے دکھانے کے لئے مخصوص کر دیں، معصوم بچوں کے ذہنوں کو منی اور شیلا کی جوانیوں کے تصور سے آلودہ کریں اور میں شائستگی دکھاؤں انکو… انکے دل ٹوٹنے کا خیال کروں، ارے ان کمبختوں کا تو سر توڑ دینا چاہیے… اور اس کالے  بھوتوں کے بادشاہ کا جو لندن میں بیٹھا ہے قیمہ کر دینا چاہیے…
خیر… شائستگی کا مطلب ہے ڈھنگ کی باتیں، جس میں ملک و قوم کی عزت اور غیرت کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی ذہنی تعمیر کا بھی خیال رکھا جاۓ… 
اس سلسلے میں کچھہ ٹی وی ڈراموں نے اچھی کوشش کی… جیسے کہ “ہمسفر” میں احمد فراز کی غزل… سب کو یاد ہو گئی… ڈراموں کے نام فیض احمد فیض اور دوسرے شاعروں کے مصروں پر بھی اچھی بات ہے… کاش مزاحیہ ڈراموں کے نام محاوروں پر ہوتے… بلکہ پاکستان کی ساٹھہ فیصد آبادی یعنی بچوں کے لئے, جو کہ اکثریت ہونے کے باعث اپنا جمہوری حق رکھتے ہیں, چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو بنائی ہی جا سکتی ہیں… دس ہزار قسم کے علمی مقابلوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے… بچے ویسے ہی مقابلوں سے بڑے خوش ہوتے ہیں… اتنے چینلز ہیں لیکن بچوں کے لئے ایک بھی نہیں… دو چار پروگرامز ہوتے ہیں وہ بھی شاید ہی کوئی بچہ دیکھتا ہو… سب ہندی ڈبنگ کیے ہو ۓ انگلش چینلز دیکھتے ہیں…  دنیا کے بچے جب بڑے ہوۓ تو انہوں نے اپنے بچوں کو کھیلوں کے نئے سٹائلزدیے… پتنگوں، غبّاروں، پتلیوں کے تماشوں، سٹریٹ گمیز، کو نئی شکل، نئے رنگ دیے… امریکا اور دوسرے ممالک میں بڑے بڑے اداکار بچوں کی فلموں میں کام کرتے ہیں، مشہور گلوکار گانے گاتے ہیں، بڑے بڑے با صلاحیت ہدایتکار اور مصنف اس میں دلچسپی لیتے ہیں…
پاکستان کی فلمی تاریخ میں “بیداری” واحد فلم ہے جس میں سنتوش کمار صاحب نے کام کیا، کوئی ہیروئن نہیں تھی، صرف بچے اور انکا استاد جو انھیں پاکستان سے محبت کا درس دیتا رہتا ہے… “آؤ بچوں سیرکرائیں تم کو پاکستان کی”، “یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران”، “ہم لاۓ ہیں طوفان سے کشتی نکل کے”… اسی فلم کے گانے تھے جو آج تک گاۓ جا رہے ہیں… ٹی وی پر “عینک والا جن”، سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرامز کے علاوہ کوئی بچوں کی چیز نہیں جو بچوں نے دیکھی ہو شوق سے… اور تو اور چودہ اگست پر یوم آزادی کے پروگرامز میں بھی وہی گھسے پٹے اداکار گلوکار آ جاتے ہیں پرفارمنس کے لئے اور بڑے بوڑھے وزراء اور پرانے اداکار گلوکار خوش ہو کر تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں… ارے ایک ایک منٹ کا سکرپٹ لکھ کر نہیں دیا جا سکتا بچوں کو کہ صدر، وزیراعظم کے سامنے پرفارم کر سکیں…  
بچے بچوں سے سیکھتے ہیں اور شوق سے سیکھتے ہیں… پاکستان کے بچوں کا تو جواب نہیں… پہاڑوں جیسی ہمّت ہے انکی… اور دریاؤں اور سمندروں جتنا خون جگر، جو ساری زندگی رستا رہتا ہے اور ختم نہیں ہوتا… کیسے کیسے حالات سے گذرتے ہیں، عجیب بے ہنگم ماں باپ کو برداشت کرتے ہیں… بدتمیز، جاہل، گا لیاں دینے والے اور مجرم سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دہشت سہتے ہیں… اور ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ بڑے ہوں… کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بچوں کا دل چاہتا ہوگا کہ کاش ہمارے ماں باپ ہمارے ہاں پیدا ہو ۓ ہوتے تومزہ چکھا دیتے والدینیت کا…
انکی پیدائش کے وقت سے جو ڈرامہ شروع ہوتا ہے تو وہ وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اذیت سے چیخ نہ اٹھیں… اور اس وقت مولوی حضرات سامنے آ جاتے ہیں اپنے جنّت اور جہنّم کے فتوے لے کر… حمایت علی شاعر کے الفاظ کو تھوڑا سے تبدیل کردیں تو ماں باپ سے کہا جا سکتا ہے… تخلیق کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جان کا زیاں، اولاد کو اولاد سمجھ مشغلہ دل نہ بنا… بھوک، پیاس، گندگی، خوف، بیماریاں، زبان اور قومیت کے بارے میں احساس کمتری، چالیس چالیس پچاس پچاس سالوں کی عمروں والے زندہ کارٹون…. کوئی اچھا نظارہ نہیں پاکستان اور خاص کر کراچی کے بچوں کے پاس، جگہ جگہ تو الطاف حسین کی بد صورت تصویروں کی صورت میں اذیت کے سامان موجود ہیں… اچھی سوچ آۓ کہاں سے…

Happiness for Elderly People – خوشیاں بزرگوں کے لئے

The sources of happiness are innumerable.  They are spread all around and are present in every colour, even in dark in form of sweet dreams.
Happiness matters a lot in old age.  Elderly people should know how to make their last years cheerful for themselves and memorable for others.  Humans are not scarce and all mankind is one family.  They can make new ties and build new relationships.  It is a blessing to spend time among a group of your own age.  Oldies can make new friends, listen to their stories, comfort each other, share good memories and enjoy hobbies, such as reading, writing, painting, watching movies.  They are weak physically but still can discuss ideas.
In Pakistan, retirees, disabled or unwanted parents or grandparents who get to live in shelters or charities should be grateful to God Almighty for handing them over to better care-takers and new companions.  They should also be thankful to the administration, staff and donors to supply them with food, water, clothes and accommodation.
To make Pakistan a productive society, people must change their mind-set of relying upon their children in old age.  It was a problem long ago, not now.  Kudos to Mr. Abdus-Sattar Edhi and many other charities for their life time services in this regard.  Recalling the apathy and insensitivity of blood relation instead of enjoying the new fortune is ungratefulness and not a healthy exercise.
Old age is not a curse or a disease.  People just need to remind themselves that they can’t be completely useless after having a life time experience of almost everything.  If nothing they can do, still can use their tongue to express their feelings, say invocations in abundance, speak out the truth, teach the goodness, recite Qur’an, names of Allah, wazaif, pure words and say prayers for everyone.
However, there are many examples of how some men and women in old age succeeded in sustaining themselves.  There is a lady, illiterate though and underprivileged, at the age of 60, she has found a job to look after disabled old lady in a well-off family.  I have spoken to many rickshaw drivers aged above 70 who are driving rickshaw and making their own money because they don’t want to be a burden on their sons and daughters.  There is a gol-gappay wala, a decent man with a charming smile, age around 65, still working while his sons are earning too.  Many gardeners of age above 70 work at road-side nurseries and provide home services for taking care of plants.
If elderly people can find working opportunities under these crucial circumstances, why can’t the educated youth of Pakistan?
شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی
مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے….
جوش ملیح آبادی
کون کہتا ہے نجومی، ہاتھ دیکھنے والے، زائچہ بنانے والے لوگوں کے مستقبل کے بارے میں پتہ ہوتا ہے کہ کل کیا ہوگا… ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھہ کر کیا دیکھنا نصیب ہوگا یا شام کو اچانک کیا خبر مل جائے گی… ابھی یہی ہوا… اچانک دروازے پر دستک ہوئی، چوکیدار نے کہا باجی نیچے ڈاکٹر ریحانہ آئی ہے آپ کو بلا رہی ہے… میں نے کہا انکو کیسے پتا چلا کہ کہ میں یہاں ہوں اور وہ خود اوپر کیوں نہیں آئیں… کہنے لگا ہمیں نہیں پتہ، آپ نیچے آ کر خود بات کرو… میں گئی تو واقعی وہی تھیں… تین سال بعد دمام سے واپس آئیں ہیں، بتانے لگیں کہ وہاں کینسر ہو گیا تھا، پھر آپریشن ہوا، اب ٹھیک ہیں… شکر خدا کا… حالانکہ نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ہیں پھربھی خواتین کو زندہ دلی کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے بتانے کی ماہر ہیں… ڈاکٹر بھی اپنے علاج کے لئے کبھی کبھی دوسرے ڈاکٹروں کا محتاج ہو جاتا ہے… 
آج کے دور میں سب سے زیادہ کس کی اہمیت ہے؟  بالکل ٹھیک کہا، ٹی وی کی…چلیں ڈراموں کی بات کرتے ہیں… صرف تین ڈرامے…
ڈراموں پر اطہر شاہ خان جيدي کے دو شعر یاد آ گۓ…  
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے ديکھا نہ کسي نے جو قلمکار چلا
چھيڑ محبوب سے لے ڈوبے گي کشتي جيدي
آنکھ سے ديکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
“ہمسفر” دیکھنے میں اچھا ہے لیکن اس پر بات کرنے کو کچھہ خاص نہیں ہے…
“میرے قاتل میرے دلدار” اچھا ہے، اس میں ہیروئن کا فیصلہ اچھا لگا کہ اس نے اپنے جیٹھہ سے شادی کرلی جس نے اس کا گھر تباہ کیا تھا… کیوں باقی لاٹھی اسی کے ہاتھہ میں ہے جس سے وہ سب کو ٹھیک رکھتا ہے… 
“جنت سے نکالی ہوئی عورت”… بڑا اچھا لگا اس میں ثمینہ پیرزادہ کا کردار… گوکہ مجھے یہ خاتون پسند نہیں لیکن ہیں خوبصورت اور بہت اچھی اداکارہ بھی… ایک خاتون کو ساٹھہ سال کی عمرمیں طلاق ہو جائے تواسکی زندگی کیا ہو جاتی ہے… لیکن مجھے بہت ہی پسند آیا کہ ایک تو یہ خاتون جاب کرتی ہیں اور دوسرے کسی کا معاملات میں نہیں بولتی اور تیسرے یہ کہ بیٹے کے گھر میں اپنی وجہ سے مسلے دیکھہ کر وہ اپنے والد کے پرانے گھر میں آ جاتی ہے اور اکیلے رہنے لگتی ہے…
اسی طرح کرنا چاہیے، غصے میں نہیں، بلکہ اپنی آزادی اور اختیار کے لئے… مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا… کیا ضروری کہ کسی پر بھی بلاوجہ بوجھہ بنا جائے اور اولاد یا کسی بھی رشتے پر اخلاقی اور جذباتی دباؤ ڈالا جائے… بلکہ مجھے تو ان بوڑھے لوگوں پرغصہ آتا جو ایدھی اور مختلف اداروں میں زندگی گذار رہے ہیں، کھانا پینا مل رہا ہے، ایک چھت کے نیچے ہیں، بہت سے کمانے والوں کا پیسہ ان پر خرچ ہورہا ہے… اور پھر وہ ان رشتوں کو روتے رہتے ہیں جو انکو چھوڑ کر چلے گئے… کیا پتہ مجبوری ہو… اور نہ بھی ہو تو بھئی نئے رشتے بنالیں… انسانوں کی کمی نہیں… شکرکریں کہ گھر کی چخ چخ سے جان چھوٹی… دعا دیں انکو جنہوں نے اتنا انتظام کیا، آپ کو سڑک پر رلنے سے بچا لیا… اب نئی جگہ پر نئے لوگوں سے لطف لیں… ضروری نہیں کہ پچھلوں کی شکایتیں کریں کہ ہے کیسے نکلے… یہ سوچیں آپ نے کہاں کہاں کس کس کو اپنی اولاد کی خاطر نقصان پہنچایا… اور کیا کبھی اولاد کو الله کے احکامات اور احترام انسانیت سکھایا… جس طرح آپ اپنی زندگی کا کنٹرول چاہتے تھے اسی طرح آپ کی بہو بیٹے بیٹیاں بھی چاہتے ہیں… ان کے سر پر سوار نہ رہیں… خود بھی خوش رہیں اور انھیں بھی خوش رہنے دیں… 
بزرگ بہت خوش رہ سکتے ہیں اگر وہ یہ سوچ لیں کہ وہ بیکار نہیں ہیں… اتنی زندگی کے تجربات کے بعد بیکار ہو بھی نہیں سکتے… اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم زبان سے قرآن، درود، کلمات، دعائیں تو پڑھ سکتے ہیں… 
اس ڈرامے کی طلاق کا کیس دیکھہ کر باجی کی کالج کی ایک دوست یاد آ گئیں… ان کے والد نے اسی طرح ایک دن غصے میں کھانےکی میز پراپنی خاموش صفت بیوی کو طلاق دے کر بائیس تئیس سال کی شادی ختم کردی… ایک بیٹے کو جو کالج میں ماں کے ساتھ رہنا پڑا اور بیٹی جو کالج میں تھیں اور چھوٹے بیٹے کو باپ کے ساتھہ… پتہ نہیں کیسے سامنا کیا ہوگا ان سب نے باقی سب کا…
جب سے پاکستان بنا ہے، کراچی کی قوم پاکستان سے پہلے کی خوشیوں کو روۓ جا رہی ہے… اور پاکستان کے ذریعے ملنے والی تمام خوشیوں کے مواقع برباد کئے چلے جا رہی ہے… پرانی رسمیں، پرانی یادیں، حسرتیں، ملامتیں، اپنےعزیز رشتوں سے کبھی انتہا ہمدردی کبھی شدید انتقام کبھی نہ ختم ہونے والی شکایتیں کبھی دھمکیاں… بس ایک چکرہے جوچلے چلے جا رہا ہے، سب اس سے پریشان لیکن کوئی اسے روکنے پرتیارنہیں…
بھئی الله نے اتنی بڑی دنیا بنائی ہے کچھہ اس پر بھی توجہ دے لو، ہزاروں قسم کے لوگ ہیں، حسین نظارے ہیں… خوشحالی اور خوشی وہ چیزیں ہیں جو ہرجگہ اورہررنگ میں بکھری پڑی ہیں… حتی کہ اندھیرے میں بھی خوابوں کی شکل میں… بس لوگوں کے پہچاننے کی دیر ہوتی ہے…

Human Empowerment – مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا

‘Women Empowerment’, what is so fascinating about this slogan?  And more stupid it sounded when thousands of men sent their women on streets to beg before a politician who being the citizen of another country, self-exiled for many years, promised them to help in getting their rights through Pakistani parliament.  It appeared to be even more hideous when women started the jalsa with emotional speeches and ended with singing and dancing for no reason.

Which rights and authority are they talking about – that women will not be treated inhumanly at homes (the homes that they had come from), get their rights of education and making decisions for their life?  These rights are already mentioned in both constitutions – Qur’an and the national constitution of Pakistan.  It is only that men and women don’t respect both of them and obey none.

Those women at Bagh-e-Jinnah were representing thirty or fourty thousand families of Karachi.  Were they there as a victim of their men’s injustice at home?  Then what would parliament do about this?  If Altaf Hussain is their saviour, as their quaid he can just order the Karachiite men to behave and that is it.  This way it would set an example for ‘macho man’ all over Pakistan.

So basically, what I think that this jalsa was arranged to achieve many goals, such as, diverting people’s attention from Balochistan issue and to warm Imran Khan to keep his hands off Karachi – but to solve women’s issues.

Just think about it.  There was no Altaf Hussain when Ms. Fatimah Jinnah, Mrs. Rana Liaquat Ali Khan and Mrs. Bilqees Edhi were born.  How these honourable ladies grew up to be so powerful and stepped forward with leading and administrative qualities.  Their men at home encouraged them and helped them, not the stupid strangers on the streets.

LEARNING is important for women.  Women need to learn how to read, write and calculate, how to raise their sons not as their supporting cane but as a useful citizens for all, how to discuss issues with their men at home and find their solution, how to keep their honour while being out on the streets.  Why do they wait for men to give them a purpose of life, define their status in society, teach them what Qur’an says about their status?

Men’s period of tranquility begins when they accept women as equal human beings and let them live and perform accordingly. Crushing women’s rights in the name of securing their honour and dignity results in men’s own destruction.

عبدالستار ایدھی کو پاکستان نے ایک شناخت دی جس کا بدلہ انہوں نے نیکیوں کے ایک ختم نہ ہونے والے سلسلے کو شروع کر کے دیا…اور آج ایدھی صاحب ذاتی طور پر ایک بہت بڑا نام ہی نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان ہیں… 
١٩٢٨ گجرات میں پیدا ہو ۓ… انیس سال کی عمر میں ١٩٤٧ میں ہجرت کر کے پاکستان آۓ… ١٩٥١ میں اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت ایدھی ٹرسٹ کے نام سے  میٹھادر میں ایک ڈسپنسری  قائم کر کے باقاعدہ فلاح وہ بہبود کا سلسلہ شروع کیا… ١٩٦٥ میں ٣٧ سال کی عمرمیں ١٨ سالہ  بلقیس ایدھی صاحبہ سے شادی کی جو کے انکی ہی ڈسپنسری میں نرس تھیں… انکے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں نے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہو ۓ انکے مشن میں انکا ساتھہ دیا… 
انسانوں کی فلاح و بہبود کے اسلامی تصور کو عملی طور پر ثابت جس طرح ان دونوں نے کیا، آج کے زمانے میں اور پاکستان میں اسکی مثال نہیں ملتی… 
انکی کامیابی کا راز کیا ہے… دونوں میاں بیوی کوئی خاص تعلیم یافتہ نہیں… دولتمند بھی نہیں تھے… دونوں انگلش سے بلکل فارغ… لیکن بچے پڑھے لکھے بلکہ فیصل ایدھی تو ڈاکٹر ہیں… سٹائلش بھی نہیں… لیکن حکومت کی برابری کی سطح پر ایک فلاحی نظام قائم کر کے دکھانا اور چلانا بہت بڑا کارنامہ ہے… کونسی فلاحی عامه کی سروس ہے جسکا ایدھی فاونڈیشن  نے انتظام نہیں کیا ہوا ہے… 
انکی اہلیہ بلقیس ایدھی صاحبہ گو کہ کبھی کبھی ایدھی صاحب کی ایک شوہر کی حیثیت سے.شکایات کرتی نظر آتی ہیں .. لیکن انہوں نے ایدھی صاحب کا جس طرح ساتھہ دیا خاص طور پر خواتین کے معاملات حل کرنے میں اور انکو صحیح سوچ دینے میں، انکو عزت کا راستہ دکھانے میں، انکو ایک چھت مہیا کرنے میں… وہ انکا بڑا کارنامہ ہی نہیں بلکہ انکی حکمت اور سمجھداری کی علامت ہے… ایدھی صاحب لا کھہ کوشش سے بھی خواتین کے لئے خود کچھ نہیں کر سکتے تھے… 
مادرملّت اور رعنا لیاقت علی خان کی  قائدانہ اور انتظامی صلاحیتیں تمام پاکستانی خواتین کا لئے مثال ہیں… محترمہ فاطمه جناح اور رعنا لیاقت علی خان کے بعد بلقیس ایدھی صاحبہ تیسری خاتون ہیں جنہوں نے اپنے عورت ہونے کا ہر لحاظ سے بہترین استعمال کیا… اور اپنے ہی گھر کے مردوں کے ساتھہ مل کر پاکستان کی بہتری کے لئے کام کیا… عورتوں کے حقوق، آزادی، اختیار کیا ہوتا ہے کس حد تک ہوتا ہے اور اسے پاکستان کی عزت، معاشرتی قدروں اوردینی حدود کو قائم رکھتے ہوۓ کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، کس طرح خود کوعورتیں قابل بھروسہ اورقابل عمل بنا سکتی ہیں… ان خواتین نے سکھایا… 
یہ وہ خواتین ہیں جن کو سخت ترین حالات ملے کام کرنے کے لئے، اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لئے، عورت کی طاقت اور ہمّت کا صحیح مظاہرہ کرنے کے لئے، عورت کا ایک انسان ہونے کے ناطے اپنا حق اور اختیار استعمال کرنے کے لئے، عورت کے درست اور بروقت فیصله  کرنے کی اہلیت دکھانے کے لئے … انکو عیش وعشرت، سہولتوں، گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر معاشرے کو جہنّم بنانے کے طریقوں، چار نوالوں اور پانچ کپڑوں اور چند زیورات کے لئے سازش اور چالاکیاں کرنے، شوہر کو قابو کرنے اور بھائیوں کو بھڑکانے کے منصوبوں سے کوئی سروکار نہ تھا… انکی زندگی کا مقصد اپنے جسم کی چوٹی چوٹی خواہشات پوری کرنا نہیں تھا بلکہ پاکستان جیسے تحفے کا احترام کرنا، اس خطہ زمین کا نام روشن کرنا اور اپنی قوم کے لوگوں کو انکے پیروں پر کھڑا کرنا اور انھیں خودداری کا راستہ دکھانا تھا…
اگر انکے گھر کے مرد انکی راہ میں رکاوٹ بنتے تو کیا یہ اتنا سب کچھ کر پاتیں؟  یا اگر یہ خواتین اپنے مردوں کی راہ کی رکاوٹ بن جاتیں تو وہ مستقل مزاجی کے ساتھ کام کر پاتے؟  کیا تحریک پاکستان کامیاب ہوتی اور پاکستانی میں اتنے بڑے بڑے فلاحی ادارے قائم ہوتے؟  تو بات ساری ہے ایک دوسرے کو سمجھنے کی…. معاشرے ہمیشہ سے مردوں کے ہاتھوں میں رہے ہیں اور شاید قیامت تک رہیں گے… کامیاب صرف وہ معاشرے ہو ۓ جہاں مردوں نے خواتین کو انسان تسلیم کیا اور پہلے انکو انکے حقوق اور عزت انکے گھروں میں دئے…. 
چاہے معامله عورتوں کو گھرکی چار دیواری کے اندر بٹھاکر رکھنے کا ہو یا تعلیم، ملازمت یا کسی بھی مقصد کے لئے گھر سے باہر جانے کی اجازت دینے کا… ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی تب ہی ہوتی ہے جب ایک خاندان کی عورتیں اور مرد مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، کسی بھی قسم کے حالات میں کوئی متفقہ راستہ اختیار کرتے ہیں، گھر کے اندر انصاف اور آزادی را ۓ کی فضا پیدا کرتے ہیں… ہر رشتہ دوسرے رشتے کی آزادی اور حقوق کا خیال رکھتا ہے… ایک گھر کے افراد ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں… 
یہ ہوتی ہے مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا… جب مرد اور عورت مل کرخوشی خوشی  ذمہ داریاں بانٹ لیتے ہیں… جس کو جو آسان لگے اور وہ اسے ایک طویل عرصے تک انجام دے سکے…


Answers to Students’ Queries

Students are humans too.  They have brains to think and mind to judge.  They want to know about many things.  They want to discuss issues and express their opinions.

Q1) What is the link between social development and economic development?

Q2) Why do we have to learn all this?  What are we gonna do with it?

Ans) Let second go first.

Education is not just to finish syllabus, give exams and get a degree.

The reason you have to learn all this is that you have to learn how to live in this world.  Because if you don’t, people will live your life and you will have to be dependent upon people to live.

Right now you are relying upon your parents.  They are feeding you, they are buying you clothes, you live in their house.  They cannot do that forever.  After 10 or 15 years, you will have to take care of yourself.  You will have a family of your own.  How will you do that?

Now come to the first question.

Before understanding the terms and the link between them, just remember two things; first, you need money to buy necessities of life.  With more money, you can get luxuries you want.  Second, economic development does not prosper in a society which is not socially prepared for it.

Economic development is a process of gathering resources in order to generate more revenue, people of which are the key resource.

Economic development is not a convenience to work 9 to 5 and get salary at the end of the month.  It is to create a convenient environment for such conveniences.  People work 9 to 5 or flexible hours in offices, factories, hospitals, clinics, pharmacies, airports, seaports, schools, colleges, malls and shops, etc.  These places provide employment.  If they run properly, expand and make good profit, they can produce more job vacancies.

There are many people who do not want to work just 8 hours a day.  They want to earn more money than monthly salary.  They have saved some money and are capable of running a business.  If they own a shop or a factory or a clinic, they would need helpers.  That would create more jobs for people.

Television channels, radio stations, newspaper and magazines also contribute in job activities.

People also work at places owned by the government, such as electric and gas corporations, police department, public schools and colleges, government hospitals, national T.V. channel, national airline, etc.

Foreigners, the citizens of other countries, can also be good source of income.  They visit our country, pay for accommodation, do shopping and buy souvenirs.

It is people earn from people.  People employee people.  People are the part of any economic cycle.  People should know that they need each other, so they should try to be as helpful as they can in financial matters.

Social development is a process of organizing and utilizing human energies in a way that can satisfy their needs and desires.  It is a process of thinking and struggling for betterment in all aspects.

The true link between the two terms is that when you think about ‘better life’ (which is social development), you think of having money at the same time and how to avail it.  You look out for possibilities in your very surroundings or in a far place.  You find out that money making requires things that you must to consider; appearance, objectives, degree, skills, experience, job hours, working environment, nature of job/job description, attitude, moral values, job-manners, chances of learning more and earning more, etc.

People cannot be selected for jobs with inappropriate appearance.  They cannot keep a job or run a business if they are short-tempered, dishonest, disloyal, crooked and fraud and untrustworthy.

Just think about it.

Would your parents hire a tutor if he/she appears lousy, does not come on time and is not qualified for teaching?

Would you eat from a restaurant that is unhygienic and serves cheap quality food to customers?

Would people go to a doctor who’s clinic is dirty and he/she is not kind and expert in his profession?

Which shopkeeper would get more business, the one who does not weigh or measure accurately or the one who is honest?

How long can a crooked and fraud real estate agent, a sales person, a motor mechanic, a pharmacist or anyone run their business?  How will they end up finally?

Would foreigners visit your country if your streets and roads are full of dirt and garbage, there are no pleasing sights, historical landmarks are not maintained, or people are living a miserable life?

So, what is the conclusion?  You want business from world, you want world to respect you, you world to trust you – you will have to provide reasons for that or nothing will happen.

Social and Economic Development in Pakistan

Let’s start from where we are standing right now.  How optimistic are you, the students, about the working opportunities when you will complete your suggested course of study?  You are not living 50 or 60 years ago when families were fed on the earning of one person.  The unemployment rate was high at that time too but they survived because they were contented with whatever they had.  Their purpose of life was to give families “roti, kapra and makan”.  You are living at the same place but in a different era.  You are growing up in a competitive environment, domestically and internationally.  Your working field is not limited to your national boundaries.  It encompasses the entire globe and thus, you need to prepare yourself for global challenges to achieve your goals.

Before comparing yourself to the students of advanced countries and your life-style to their life-style, just do compare the opportunities too.  Students in foreign countries start working part-time at the age of 14 or 15.  By the age of 16, 17, 18, they have to live on their own, unless they agree to pay their share in rent, food and utilities.  They don’t bother their parents to have enough money for their wedding shopping, dowry and other events.  They celebrate what they can afford.  They don’t mourn and blame their parents if they can’t.  They are not after luxuries but what gives them pleasure and keeps them independent.  They take responsibility of their actions and behaviour.

In contrast, you take for granted all the favours done to you by your parents.  Remember, your parents are not your servants.  They have a right to live their lives too.  Having children and raising them up is not a life time confinement.  You have a right to stand for your rights but not at the cost of your parent’s earnings.  Your abilities to support yourself financially following all moral values would be the best proof to support your demand for freedom.





Haya – Life and Modesty

Once Arabs were a society that was indulged in adultery, vulgarity and great sins.  Pagans of Makkah were rude, uncivilized, barbaric, cheaters, liars, abusive and obscene.

Prophet Muhammad (pbuh), a person from the same society, diverted them towards piety, purity, modesty, simplicity and goodness.  He did not curse pagan’s faith, did not criticize their rituals, never raised his eye-brows and changed his voice harsh against their immodest activities, never confined himself to his beloveds, never refuses to help those who hated him.  He never stampeded on streets to terrorize Makkans with the power of his anger, except at the time of victory of Makkah, such a unique incident when he invaded the city with peace and forgiveness.

He was a socially developed person by nature; full of wisdom, admirer of beauty and pleasure, a symbol of grace and modesty/haya, confident in himself and smiling to people.  He knew how to and when to communicate with people.  He openly declared that he loves three things the most and those were perfume, salah and women (he did not use the name of any relationship).  And what he said, he always meant.

Haya/modesty is an inevitable part of Muslims’ faith, both men and women.  It is also categorized as one of the prophetic attributes.  With the root letters ‘ha and ya’, it literally means ‘life’ in Arabic.  In religious terms, it has been described as covering body (practice the ruling of sitr/body parts that should be covered), shyness (lower gaze/extreme softness), chastity (staying away from sex related activities), timidity (lack of confidence/not so sure), modesty (a moderate behaviour/simplicity/humbleness).  Haya is not a culture or tradition.  Haya is not a gender-based characteristic.  Haya requires not to shut women inside their houses and their disconnection to God’s world.

Beside its literal meanings, the most suitable word for ‘haya’ in English is ‘modesty’.  Allah (SWT) created the world with balance.  “He has set up the Balance (of Justice),  In order that ye may not transgress (due) balance.  So establish weight with justice and fall not short in the balance.” Surah Ar-Rahman/The Most Compassionate.  God brought universe into existence with balance (equilibrium, harmony, limits, due proportion, moderation).  The balance, with above synonyms, ensures life, not in span but in quality.  This entire surah describes the diversity of things working in their own limitations, which Allah (SWT) mentions as “the blessings from your Lord” and He orders us not to destroy it.

“And a sign for them is the night, We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness.  And the sun runs on its fixed course for a term (appointed). That is the Decree of the All-Mighty, the All-Knowing.  And the moon, We have measured for it mansions (to traverse) till it returns like the old dried curved date stalk.  It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.”  Surah Yaseen.

Prophet Muhammad (pubh) said, “Haya/modesty does not bring but goodness.”  He is right.  A humble, moderate, pure and simple behaviour causes nothing but beauty, pleasure and relaxation.  The way he ate, drank, walked, talked, greeted people, welcomed his opponents, treated animals, cheered children, respected women, helped the needy, behaved at home, led campaigns (both preaching and political), fought battles, treated prisoners, imposed laws, told stories, tolerated enmity, settled disputes, explained Qur’an, delivered sermons, ruled Madinah, ran the government – all reveal the secrets of his extraordinary, unique, short-time success in driving people towards piety, purity, modesty, simplicity and goodness.

So in general, haya is a process of knowing your own limitations and letting others (diversities) live and work in their specified boundaries/hudood.  Qur’an has warned us at many places not to break the limits that Allah (SWT) has ordained on every Muslim.  Haya is used in Urdu in the meanings of limitations too, such as, ‘haya karo, masjid main kharay ho ker jhoot boltay ho…. kuch to haya kur, maan baap se is tarah baat kertay hain…. oye haya kur, is ne teray liye bohat qurbaniyyan di hain….. koi haya nahi, jo munh main ataa hay buk deta/deti hay…. oye haya ker, Allah ka khata hay aur Allah ki na farmani kerta hay…. etc.

The world right now is under the process of globalization, all countries under one flag, the whole world population under unified system – many evil powers have imposed wars in order to control the entire globe.  It is only Islam which is worthy of being the ruling power of the world because it is based on characteristics and merit.  People of the world are looking for solutions to their problems and what Muslims are showing them is anger, fire, hatred to their beloved days.

George Bernard Shaw said, “If any religion had the chance of ruling over England, nay Europe within the next hundred years, it could be Islam.  I have always held the religion of Muhammad in high estimation because of its wonderful vitality. It is the only religion which appears to me to possess that assimilating capacity to the changing phase of existence which can make itself appeal to every age. I have studied him – the wonderful man and in my opinion for from being an anti-Christ, he must be called the Savior of Humanity.  I believe that if a man like him were to assume the dictatorship of the modern world he would succeed in solving its problems in a way that would bring it the much needed peace and happiness: I have prophesied about the faith of Muhammad that it would be acceptable to the Europe of tomorrow as it is beginning to be acceptable to the Europe of today.”

http://www.emro.who.int/publications/healthedreligion/IslamicPerspective/Chapter3.htm  The site mentions how considerate was Prophet Muhammad (pbuh) regarding carefulness and precautions.

Jamat-e-Islami announced to observe ‘Yom-e-Haya’ meaning ‘the modesty day’ on 14th February.

Christians have their reason to celebrate Valentine’s Day on 14th February.  Just like Muslims celebrate their own occasions with their own understanding.  For Muslims, if everyday is a mother’s day, father’s day, sister and brother’s day, teacher’s day, when what could be the reason for observing ‘haya’ on one day.  Haya should also be practiced everyday.  It is not just Valentine’s Day which non-Islamic.  Jahez, rape, infanticide, birthdays, Happy New Year parties, mayon and mehndi, prostitution in every neigbourhood, drug, illiteracy (inability to read and write), beggary, standing and cheering on the body of dead animals, cows and goats eating from garbage, cats and dogs wandering in search of food,  also fall into this category.

Prophet Muhammad (pbuh) said,  “Cursed be everyone who causes harm to a believer or schemes against him.”

The Prophet (pbuh) said: “No believer may humiliate himself”. When he was asked how any person would humiliate himself, he said: “By exposing himself to risks with which he cannot cope.” (it doesn’t mean that one should not experiment or try but with preparations and precautions.)

He (pbuh) said, “Shall I tell you the definition of a believer? He is one with whom people feel themselves and their property to be safe. A Muslim is the one who does not abuse people by word or deed.”

See the following photo in the light of above hadith, what are we showing to the world, our ability to burn things out, is it according to what Prophet (pbuh) said?  Why do veiling women only show up with danda/sticks and fire?  Does Islam stop women to step out for positive reasons, such as planting flowers and trees, volunteering at Edhi centers in taking care of orphans and traveling within the allowed distance to educate children?

Islam strictly forbids cursing or insulting other’s faith and festivals.  According to Qur’anic logic, if you do that, you will get the same reaction from the other side.  Muslims should are not advised to instigate a situation against anyone but to settle down matters wisely.

Many people suggest that Prophet Muhammad (pbuh) should be kept out of discussions.  Why?  Allah (SWT) says in Surah Al-Ahzab, “in Prophet’s seerah/character, there is the best example for you”.  Discussions based on what is haram and what is halal are incomplete without including Prophet Muhammad (pbuh).  We cannot treat him like a maulvi or a scholar that we drag him in at nikah/wedding sermon, divorce, aqiqah, for reading Qur’an or do milad otherwise we just keep him out of our lives.  He is guidance for us in every aspect of our lives.  He is nothing to be afraid of.

Many say, the anger is not against Christians or their festivals but Muslims who follow non-Islamic traditions.  This is just like cursing and burning kids in neighbourhood to show anger against your own child because he/she is following them.  It is your failure, you should curse yourself, burn banners with your name on them, you stand in front of the mirror and say to yourself ‘get lost’ and ‘my foot’.

Islam did not come to exterminate other’s religion, culture and traditions.  It came to introduce people the best way to a quality life.  It came to show how beautifully, peacefully and prosperously the whole mankind live under the flag of Islam.

حیا نہیں لاتی مگر خیر۔۔۔۔۔۔۔ 

شکر ہے ویلنٹانئز شہداء کا کہ جماعت اسلامی کو یوم حیا منانے کا اعزاز دے گئے۔۔۔ حالانکہ حیا کا پیغام اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تایخ۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھی حیا کا پیغام لائے چودہ سو سال گذر گئے۔۔۔ اور یوم حیا کا آج خیال آیا۔۔۔ عیسائیوں اور امریکنوں کے مقابلے پر۔۔۔

یوم حیا تو وہ دن تھا جس دن حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا داغ خود الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کی آیات سے دھویا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت مریم علیہ السلام کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا دفاع ان کے معصوم بیٹے نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا جواب ان کے اپنے جسم پر موجود لباس نے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کے ذریعے حضرت زینب بنت جحش کا آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھہ نکاح کا اعلان کیا اور منافقوں کی زبانیں بند کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن جماعت اسلامی یا آج کل کے دینی لوگ کیا جانیں۔۔۔ کیا جانیں یہ کسی کی عزتیں بچانا, خوبصورتی اور احسان کے ساتھہ۔۔۔۔ یہ مقابلے کرسکتے ہیں, شک کرسکتے ہیں, تجسس کرسکتے ہیں, الزامات لگا سکتے ہیں, سزا سنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

سمجھہ نہیں آیا کہ اگر مسلمانوں کے لئے ہر دن ماں کادن, ہر دن باپ کا دن, ہر دن محبت کا دن۔۔۔ تو پھر حیا کے لئے ایک خاص دن کیوں۔۔۔ حیا بھی ہر دن ہونی چاہئے۔۔۔۔

ہمارے دینی لوگوں کی ذہنیت ملاحظہ ہو۔۔۔۔ لال مسجد کی خواتین ڈنڈے لے کر نکل آئیں سڑکوں پر۔۔۔ جماعت اسلامی کی خواتین نے سڑکوں پر آکر دنیا کو دکھایا کہ ہم جلانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔۔۔

بس۔۔۔ یہی سیکھا سکھایا قرآن سے۔۔۔ مارنا, جلانا۔۔۔ 

اسلام سے محبت کا اظہار بھی بے چارے دوسروں سے نفرت کا اظہار کرکے کرتے ہیں۔۔۔ اور کوئی طریقہ نہیں سیکھا شاید۔۔۔  چلو سستی شہرت ہی سہی, دنیا میں مشہور تو ہوئے۔۔۔

وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔ بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔۔۔

حیا کا کلچر عام کرو, یہ کام صبح سے شام کرو

مارو تھپڑ بیٹوں کو گر وہ آنکھہ لگا ئیں عورت پر

قیمہ کردو شوہروں کا گر وہ ہاتھہ اٹھائیں بیوی پر

شرم دلاؤ بھائیوں کو گر وہ تاک میں جائیں لڑکی کے

نظرمیں رکھو باپوں کو جب پاس کھڑے ہوں کھڑکی کے

 مردوں کی مصروفیت کا چوبیس گھنٹے انتظام کرو

حیا کا کلچر عام کرو, یہ کام صبح سے شام کرو