Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.


Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.


قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…

Happy Pakistan Day – 23rd March

Today is 23rd Mach, The Pakistan Day.   Is this the day for government to announce a holiday and media to show their interest in it?  What is common man’s participation in celebrating it?

That is it.  Whatever has happened is past.  The youth should take over Pakistan now.  They are talented, they are energetic, they are powerful.  They can make mistakes and learn from them.  I bet they don’t want to listen to the failure stories of our politicians.  No more unnecessary discussion for them.  They would want to see their fellows making world records.  They should stand up against unnecessary rituals and traditions.  They should force government to listen to them.  They should demand for what they want.


کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے؟

وہ کیا گردوں تھا ، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا؟

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالاتھا جس نے پاﺅں میں تاجِ سرِدارا

تمدن آ فریں ،خلّاقِ آ ئین ِ جہاں داری

وہ صحرائے عرب ، یعنی شتر بانوں کا گہوار ا

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہونہیں سکتی

کہ تو گفتار ، وہ کردار تو ثابت ، وہ سیارہ 

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آبا کی

جودیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتاہے سیپارا

آج ٢٣ مارچ ٢٠١٢ ہے… یوم پاکستان… آج کے دن کی ایک عام پاکستانی کی زندگی میں کیا اہمیت ہے… شاید یہ کہ حکومت نے چھٹی کا اعلان کردیا ہے… اور میڈیا کی طرف سے شوروغوغا غل غپاڑہ مچایا جانا ہے کہ “قوم قومی جوش جذبے کے ساتھ یوم پاکستان منا رہی ہے”… لیکن یہ تو حکومت اور میڈیا کی آوازیں ہیں… عام پاکستانی کی آواز کیا ہے… 
کیا آج کے عام پاکستانی کے قومی جوش جذبے کا مقابلہ ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کے جلسے میں موجود ایک عام ہندوستانی سے کیا جا سکتا ہے؟… کیا انکے نزدیک اقبال پارک کی اہمیت منٹو پارک سے زیادہ ہے؟… کیا وہ مینار پاکستان کی طرح قرارداد پاکستان کو بھی سر اٹھا کردیکھنے کے قابل سمجھتے ہیں؟…. 
١٩٤٠ کے ایک عام ہندوستانی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی ہمت اورشعور تھا کہ اپنے لئے ایک الگ خطہ زمین کا مطالبہ کرے اور اسے قائم کر کے دکھا دے… کیا ٢٠١٢ کے کسی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی جرات اور مردانگی ہے کہ اس خطہ زمین کا دفاع کرسکے… 
زبان کی طاقت سے، کہ بات کہہ لے یا نغمہ بن جاۓ 
الفاظ کی طاقت سے، کہ تقریر یا شاعری کر لے 
ہاتھ کی طاقت سے، کہ گریبان پکڑ لے 
ہتھیارکی طاقت سے، کہ رعب میں لا سکے 
قلم کی طاقت سے، کہ تحریرسے سمجھا ۓ  
علم کی طاقت سے، کہ دلیل سے راہ دکھا ۓ 
یا پھرایمان کی طاقت سے، کہ خدا کا پیغام اور رسول کا ترجمان بن جا ۓ 
پاکستان کو بننا چاہیے تھا کہ نہیں؟… یہ فیصلہ ١٤ اگست ١٩٤٠ کو ہو گیا تھا…
پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے کہ سیکیولر؟… یہ دلائل علامہ اقبال کے ١٩٣٠ کے خطبۂ الہ آباد میں اور قائد اعظم کے ١٩٤٠ کے خطبۂ صدارت میں دیے جا چکے ہیں… اور وہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ…
پاکستان میں لوگ گمراہ اور مجرمانہ ذہنیت کے کیوں ہیں اور اتنے مسائل اور مصیبتوں میں کیوں گھرے ہیں؟… اس کا جواب… سوره المائدہ کی آیت ٥١ میں ہے، “اور الله ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا”….. سوره الانعام کی آیت ٢١ میں ہے، “اور بے شک، ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے”….. سوره الانعام، آیت ٤٧، “اور کہو ان سے کہ تم دیکھتے نہیں کہ جب الله کا عذاب آتا ہے، اچانک یا علی الاعلان، تو کیا ہلاک کرتا ہے کسی کو ظالموں کے سوا؟”…….
پاکستان کا اب کیا ہوگا اور اس کو اب کون سنبھالے گا؟…. پاکستان میں ایک دو نہیں اٹھارہ کڑوڑ انسان بستے ہیں… ان میں کچھ نہیں کچھ نہیں تو ١٠ کڑوڑ بچے اور نو جوان تو ہیں ہی… یہ سب کے سب تو باہر جانے سے رہے… چند ہزار چلے بھی گئی تو باقی کہاں جائیں گے… بس وہی سنبھالیں گے بھی….
ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کے بہت سے بزرگ اپنی انا، خاندانی روایات، جذباتی بلیک میلنگ اوراپنی ذات کے سحر سے بھر نہیں نکلنے والے… جو ٥٠ سے اوپر ہیں اور “میں نہ مانوں” قسم کے ہیں، ان کو انکے حال پر چھوڑ دیا جا ۓ… 
پاکستان نوجوانوں کے حوالے کر دیا جاۓ… کامیاب نہیں بھی ہوۓ تو ناکامیوں کے مزے تو اڑالیں گے… ان کے دل میں یہ حسرت نہ ہو گی کہ کچھ بھی نہیں کیا… اچھا نہیں تو برا کر کے دکھادیں گے… بیٹھے تو نہیں رہیں گے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے… ظاہر ہے جس قسم کا خوفناک ماحول بزرگ پاکستانیوں نے پچھلے ٢٠، ٣٠ سالوں میں تخلیق کیا ہے… اس میں ان بچوں اور جوانوں نے کیا سیکھنا ہے… گھروں میں بزرگوں کا خوف، سڑکوں پر سیاسی غنڈوں کا…… لہذا غلطیاں بھی یہ خوفناک ہی کریں گے… کرنے دیں… خود ہی سیکھ لیں گے جینا…
اور نوجوانوں کو بس اتنا خیال ضرور کرنا ہو گا کہ پرانی رسم، رواج، روایات، دینی ہوں یا سماجی یا خاندانی، بری یا فالتو ہیں تو ان سے جان چھڑائیں… چاہے کتنا ہی کوئی برا مانے… بلا وجہ کے منفی محاورے اور کہاوتوں کو گفتگو سے باہر نکال دیں… 
١٠ کڑوڑ بچے چند نکمے سیاست دانوں کی ناکامیوں کی کہانیاں سن کر کیا سیکھیں گے… بچے بچوں سے اور نوجوان نو جوانوں سے سیکھتے ہیں…بڑوں کو تو انکی ہدایت کا کام کرنا چاہے… جب یہ گرنے لگیں تو سنبھال لیں…
ہاں اس نسل کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ….اپنی زبان، اپنی زمین، اپنی قوم …. انکے بغیر کتنی بھی بڑی کامیابی ہو، مقبول نہیں ہوتی، دنیا اسے مانتی ہی نہیں… دنیا میں بہت سے پاکستانی بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہے ہیں لیکن دوسرے ملکوں کی شہریت کی وجہ پاکستانی انہیں نہیں جانتے… عبد القدیر خان، عبد الستار ایدھی، عمران خان، ارفع کریم،  شرمین چناۓ کو ساری دنیا پاکستان کے نام سے پہچانتی ہے… 
کاش نو جوانوں کو علامہ اقبال کی آہ سحر لگ جا ۓ… انکی نظر، انکا سوز جگر اور نور بصیرت مل جا ۓ….
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے 
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 
World Youth Scrabble Championship

As a matter of fact, Pakistan is the matter of Faith.

1-10 Hijri – Prophet Muhammad (pbuh) said, “I feel cool breeze coming from Hind.”  

1867 – Sir Syed Ahmed Khan said, “It was now impossible for Hindus and Muslims to progress as a single nation.”

1930 – Dr. Muhammad Iqbal said, “I therefore demand the formation of a consolidated Muslim State in the best interest of India and Islam.  For India, it means security and peace resulting from an internal balance of power; for Islam, an opportunity to rid itself of the stamp that Arabia Imperialism was forced to give it, to mobilize its law, its education, its culture, and to bring them into closer contact with its own original spirit and with the spirit of modern times.”
23rd March, 1940 
Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah said, ” The Hindus and the Muslims belong to two different religions, philosophies, social customs, and literature.  It is quite clear that Hindus and Muslims derive their inspirations from different sources of history.  They have different epics, their heroes are different, and they have different episodes.  Very often the hero of one is foe of the other, and likewise, their victories and defeats overlap.  To yoke together two such nations under a single state, one as a numerical minority and the other as a majority, must lead to growing discontent and the final destruction of any fabric that may be so built for the government of such a state.”   
The statement of Pakistan Resolution (Lahore Resolution) said, “No constitutional plan would be workable or acceptable to the Muslims unless geographical contiguous units are demarcated into regions which should be so constituted with such territorial re-adjustments as may be necessary.  That the areas in which the Muslims are numerically in majority as in the North-Western and Eastern zones of India should be grouped to constitute independent states in which the constituent units shall be autonomous and sovereign.  
That adequate, effective and mandatory safeguards shall be specifically provided in the constitution for minorities in the units and in the regions for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights of the minorities.”

Pakistan (Lahore) Resolution was drafted by Sir Sikandar Hayat Khan, Chief Minister of Punjab.
It was read by Maulvi Abul-Kasim Fazlul Huq, Chief Minister of Bengal and was seconded by Chaudhry Khaleeq-uz-Zaman.
It was accepted by Maulana Zafar Ali Khan from Punjab, Sardar Aurangzeb from North-West Frontier Province (now Khyber Pakhtunkhwah), Sir Abdullah Haroon from Sindh, Qazi Esa from Baluchistan.  
23rd March is called “Pakistan Day” because on this day Lahore Resolution was unanimously acknowledged by the leaders of Bengal, Baluchistan, Punjab, Sindh and North-West Frontier Province as the legal declaration for a separate Muslim state. 
This resolution is based upon the Two-Nation Theory (TNT) presented by Dr. Muhammad Iqbal, which actually is the reinforcement of the Qur’anic concept of Muslims as a distinguished nation among world communities.  Kalimah Tayyabah (the pure declaration) “There is no deity but Allah, Muhammad is the messenger of Allah” is the soul of this theory which is an incentive sufficient to unite Muslims for the cause of Islam.
The prophecy of Prophet Muhammad (pbuh) gradually developed into an idea, a theory, a statement, a demand, a campaign/movement and finally into a state called Pakistan.  At this point, from achievement to identity and from liberty to responsibility for all Pakistanis.  The idea behind making of Pakistan is similar to the state of Madinah and in that relevance Pakistan has already initiated the process of global domination of Islam.  In making of Pakistan, the world has witnessed that the ‘Victory of Makkah’, as peaceful and unarmed as it was, is possible in any era.  Yet, the struggle to defend it is as bloody as it could be for any promised piece of land.  
May God Bless Pakistan!  Ameen
٢٣ مارچ یوم پاکستان کہلاتا ہے کیونکہ ١٩٤٠ میں اسی دن بنگال، سندھ، بلوچستان، پنجاب اور سرحد کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر نہ صرف علامہ اقبال کے دو نظریے کی بنیاد پر تیار کی گئی قرار داد لاہور کو پاس کیا بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں اس پر عمل کرنے کا بھی عہد کیا… علامہ اقبال کا دو قومی نظریہ اصل میں اعادہ ہے قرآن کے اس تصور کا کہ مسلمان دنیا کی ہر قوم سے مختلف اور منفرد ہے… اور کلمہ طیبہ “نہیں کوئی عبادت کے لائق سواۓ الله کے، محمد الله کے رسول ہیں” اس نظریہ کی روح ہے… جو کہیں کے بھی مسلمانوں کو کسی مقصد کے لئے متحد کرنے کے لئے کافی ہے… 
رسول صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا… “مجھے خطہ ہند سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں”… آپ صلی الله علیہ وسلم کے ان الفاظ نے ایک نیک شگون سے، ایک خیال، ایک نظریہ، ایک اعلان، ایک مسودے، ایک قرار داد، ایک مطالبے، ایک تحریک اور با الآخر ایک خطہ زمین کی شکل اختیار کر لی جو پاکستان کہلایا… قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ نظریہ، کامیابی سے شناخت اور آزادی سے ذمہ داری بن گیا… قیام پاکستان اور خلافت مدینہ کا محرک اور محور یہی نظریہ ہے… اور اس لحاظ سے پوری دنیا میں اسلامی خلافت کی طرف اٹھنے والا پہلا قدم… قیام پاکستان کی صورت میں ساری دنیا کو یہ یقین جو جانا چاہیے کہ خلافت مدینہ اور فتح مکہ جیسے عظیم اور غیر مسلح معرکے آج چودہ سو سال بعد بھی قابل عمل ہیں… البتہ انکی حفاظت اور انکا دفاع بھر پور مسلح  طاقت کے بغیر ممکن نہیں..ا 
پاکستان کوئی عام ملک نہیں… پاکستان کے دفاع اور اس کی ترقی کی ذمہ داری ہر نسل کے ہر شخص پرعائد ہوتی ہے… بالکل اسی طرح جس طرح باقی زندگی کے کام… پچھلے چودہ سو سالوں میں دنیا کا ہر عقیدہ، ہر نظریہ، ہر نظام اور ہر قرارداد آزمائی جا چکی ہے سواۓ اسلام کے… آج ساری دنیا کی نظریں پاکستان کی طرف اٹھی ہوئیں ہیں… بہت سی دشمنی میں، کچھ حیرت میں اور کچھ سوالیہ نشان بن کر… کہ پاکستان ان شخت ترین حالات سے کیسے نمٹے گا… اندرونی طور پر جرائم، جہالت، غفلت اور بیرونی مداخلت اور دشمنی… اور یہی چیلنج ہے آج کے ہر پاکستانی کے لئے… 
یہ صحیح ہے کہ دشمنوں کو اندر تک رسائی سیاست دانوں اور غداروں نے دی… لیکن اس سے بڑی اور بری حقیقت یہ ہے کہ وہ غدار چاہے کسی محکمےمیں ہوں،  ہمارے ہی عام گھروں اور خاندانوں کے لوگ تھے جن کو ہم نے نظر انداز کیا… اور دشمن تخریبی کاروائیوں کے لئے ہمارے ہی درمیان گھومتے پھرتے ہیں… نہ ہم آج تک انھیں پہچان سکے اور نہ انکے خلاف حکمرانوں کو کسی اقدام پر مجبور کرسکے… یہ ہماری غفلت اور نا اہلی ہے… اسی کو جہالت کہتے ہیں اور یہی سب سے برا جرم بھی ہے…
الله پاکستان کی حفاظت فرماۓ… آمین 

Understanding of a 14 Year Old

Have you ever tried to listen to a teenager age 14, their feelings, their opinion, their reservations.  The adults usually think of them ‘underage’ to discuss anything while they are fantastic people inside.  These teenagers are not children, they are grown up people, they are passionate, they just need the right guidance.

Do Pakistani parents and teachers want to know how children feel about them?  Are Pakistani parents and teachers easy to talk to for their children?


Teen) Is there a shortage of water in Pakistan?

Ans) Yes, there is.

Teen) But we never had a shortage in our house.

Ans) That is because you are living in a city and you have built a well underground and use motor to pull water to the tank on your roof.  So you have a proper arrangement for 24 hour water supply.

Teen) Why don’t other people do the same arrangement?

Ans) May be they are poor and can’t afford this arrangement, they are uneducated and can’t think of all these methods.  One reason for shortage is that we waste gallons of water everyday.  So we are responsible for the shortage.

Teen) Why can’t we purify the sea water and make it drinkable?

Ans) It is a good idea and Gen. Pervaiz Musharraf had a planning on it but he couldn’t accomplish it.  Beside that, who’s gonna do it?

Teen) Who’s Pervaiz Musharraf? The government should do something about it.

Ans) Gen. Pervaiz Musharraf was the president of Pakistan right before Zardari and he belonged to Army.  Do you really think that this sitting government or any other government would ever do anything about these issues?

Teen) No, but someone should do this.

Ans) Who?

Teen) Us, we all together…

Ans) What do you mean by ‘us’ and ‘we all together’….. are you gonna do it , how?  Which people will come together?

Teen) No, I mean educated people, those who have completed their education and are jobless.  If government cannot do it, then they can hire educated people to do that.

Ans) Hmm, the government or our politicians would never do anything that has anything to do with the betterment of people…. and they would never  do anything that would provide job opportunities for educated people.

Teen) Then educated people do it themselves.

Ans) What do you think how much this project will cost? Where would they get the money from?

Teen) Rich people can collect money and hire educated young boys and girls.

Ans) Rich people won’t give their money for free, they will ask for planning in written.  The jobless educated lot will have to do this for free.  I mean do you think that educated boys and girls have ability to sit and think about it and then elaborate and illustrate on paper?  Do you think they would take interest in all this for free?  and let me tell you, if we don’t consider this an issue now, each and everyone including me and you would suffer from the shortage of water.

Teen) so we can’t do anything?

Ans) Why not, you read the chapter in your book, you got the idea which shows your concern about your country and people and exactly this is the purpose of education…. now you write about it on your blog and share it with others.




Q) At your age (of 14), if your parents ask you that how do you want them to treat you…what would you tell them?

Teen) Friendly…

Q) your parents are not friendly?

Teen) No

Q) What is your dream of life at this age?

Teen) Freedom

Q) What are most grateful to Allah for beside His regular blessings like food, clothes, home?

Teen) Having friends.

Q) That is it?

Teen) Ahan…

Q) What kind of freedom… what do you think what is freedom?

Teen) I want permission to go to my friends’ house and have fun.  Freedom means I do what I want to do.

Q) Do you think your parents would ever agree with you and grant you the kind of freedom you want?

Teen) No, they would never.  Mom will say that ask your dad and dad will listen to me, will tell me to go to my room and will be mad at mom that where am I learning all this from.

Q) So your father is the sole authority?

Teen) Yes..

Q) It means if you try to express yourself to your dad, your mom would automatically be in trouble?

Teen) Yes

Q) Hmmm, it means your dreams will never come true?

Teen) I know.

Q) What would you do then?

Teen) I don’t know.

Q) How about if a third person tries indirectly to make your parents realize where they are wrong?

Teen) He would listen to them the first time and then he would never listen to them.

Q) and have you thought where will you find such an adult, because adults support parents and they will advice you to listen to your parents and obey them?

Teen) Yeah, that is the point too.

Q) Do you feel angry about all this?

Teen) Yes, sometimes I feel very angry.

Q) Do you let out your anger?

Teen) Sometimes, and then I am being scolded (verbally).  They say, is this what you are learning in school.

Q) Your parents are not bad parents, right?

Teen) No, they love us.  They give us everything.  But I can’t do anything on my own.

Q) How about if you tell them that you just want freedom to spend some times with your friends and that is it?

Teen) They say, you get time in school and you use facebook… isn’t that enough?

Q) You can tell them that school is not a place for one on one friendly talks as other students and teachers are present there.  Facebook is a written expression and the family members are also there so it does not replace ‘face to face’ chatting.

Teen) They won’t listen.

Q) They don’t allow such ‘face to face’ friendship… is your mom friendly with you?

Teen) She is very friendly but there are few things that I cannot discuss with her.

Q) Like what?

Teen) I cannot tell you either.




Q) Do you get pocket money?

Teen) No, mom and dad buy everything for us.  When we want to buy something of our own choice, they say, what will you do with this, this is useless.

Q) So, you want to have pocket money? Why?

Teen) Yes, so I can buy things of my choice.

Q) Do you think teenagers, boys or girls, at the age of 14 should be allowed to raise their own pocket money?

Teen) Yes

Q) Why? So when you go for shopping, the shopkeeper cannot cheat with you?

Teen) Yes

Q) Do you think your parents are easy to talk to about these issues?

Teen) No, they are not.  They say you are very young to know or talk about these things.

Q) But what if they get you into marriage after two years, like your mom got married at the age of 16?  Shouldn’t you know about all these issues?

Teen) I don’t know.  I don’t think about marriage.

Q) But if your father decides, then?

Teen) I don’t know.

Q) What if your parents find out who is teaching you all this, would I be in trouble?

Teen) Yes, you will lose your job.

Q) It means we both should be careful.

Teen) Yeah…



Q) What kind of experiences you had with tutors?

Teen) We had many tutors.  Mom hired one because she was double M.A. but she didn’t know how to teach so mom fired her.  We gave hard time to another one, made her run after us all around, she was also fired.

Q) So you never had a good tutor?

Teen) There was one, she was friendly but she got married.

Q) What qualities do you want to see in your teacher?

Teen) She should be friendly.  She should be able to help us in our homework.  She should satisfy us if we ask her something.

Q) Something what?

Teen) Like, if we ask her questions about things we have in our mind, we want to know about many things.

Q) Don’t you think this is too much to expect from a tutor, she is just there for one or two hours?

Teen) Yeah, but if we ask our teachers in school, they say “Why are you asking this? I don’t have time.  I will tell your mother.”… and if we ask our mom, she says “this is not your age to ask these question, go study”…

Q) Is it only you or all your friends feel this way?

Teen) We all do.

Q) What do you think of me?

Teen) You are okay.  You chat, you make us laugh, you talk to us, you help us in our homework, you teach other things too and you answer our questions.


Q) Have you ever witnessed your teachers in school cheating or doing something wrong?

Teen) Yes, they help us in exams, not always but sometimes they write answers on board.

Q) Don’t you tell them that this is cheating?

Teen) If I say it, they will say that we are helping you and you are complaining about us.

Q) Do you think it is ok?

Teen) No

Q) So you know that cheating is bad and they shouldn’t do it?

Teen) Yes.

Q) Have you observed them lying to you?

Teen) When they cannot give any answer, they make excuses, they say “period is over, do it at home or I will tell you tomorrow”.

Q) How do you know that they are making excuses, may be they are right?

Teen) because they start looking here and there and they pause between words.

Q) Is this how you all observe everyone?

Teen) Yes, and then we talk about them when they are not there.


Walking Bus – پیدل چلیے

Our early school years were in early 70s.  Karachi wasn’t a crowded place like it is now.  Traffic was also less than now and so was the pollution.  There were few private schools around but not all of them had facility of school vans.  Our school was at such a distance that we were unable to go by ourselves.  Being a very busy housewife, ammi had not time so she hired an old lady for pick and drop.  As she was already looking for some work, few more parents from our neighbourhood hired her for the same reason.  Ammi told us not to let her carry our school bags because she was physically weak and used to wear burqa (traditional covering consists of long loose gown to cover the entire body and veiled scarf to cover head, shoulder and chest).  It was a fun walk for us.  We had to walk behind or by her side on the way to school and back home.  It was a ten-minute distance which we used to cover by watching out the riders, stepping up and down on sidewalks, plucking flowers from plants hanging over the boundary walls of houses and seeing people getting ready for the day.


If this was an equivalent to the concept of Walking Bus, then it had very few advantages.  For parents, it was a cheap pick, drop facility and a safe trip of children to and from school.  For uneducated, poor, old age people, it provided with a good source of income.  It was us who made our short journey fun because at that time there were no public parks around and we were not allowed to play out on the streets.

In 1992, David Engwicht, a social innovator from Brisbane, Australia, introduced the idea of “Walking Bus” in order to solve traffic related problems.  The concept also served as a physical activity for children, awareness to the surroundings and building good terms among community members.  His idea crossed the borders and reached UK and USA with more objectives pertaining to the problems in their societies.
Many children in most countries do walk to school in groups but it cannot be defined as Walking Bus.  Walking Bus has its own particular initiatives along with the flexibility in size, use of transportation, walking rules or any useful idea related to traffic and children.
“واکنگ بس یا پیدل بس” کے نام سے ١٩٩٢میں پیش کئے جانے والے اس خیال کو دنیا کے بہت سے ممالک نے اپنایا اوراپنی نئی نسل کو فائدہ پہنچایا… اس کا مقصد بنیادی طورپربچوں میں ٹریفک اور ماحولیات کے متعلق احساس پیدا کرنا تھا… کسی بھی علاقے کے کچھ بچے مل کرایک یا دو بڑے اشخاص کی نگرانی میں گھر سے سکول تک اور سکول ختم ہونے کے بعد واپس گھرتک پیدل راستہ طے کرتے ہیں… اس دوران وہ آس پاس کی چیزوں پر نظر ڈالتے اور اس پر بات چیت بھی کرتے جاتے ہیں… راستے میں کیا چیز صحیح ہے اور کیا غلط، کوئی تبدیلی آنی چاہیے یا نہیں… انہیں اپنےعلاقے کے مسائل سے دلچسپی پیدا ہوتی ہے… دوسرے یہ کہ علاقے کے لوگ ایک دوسرے سے اجنبی نہیں رہتے…
کیا پاکستان میں ایسے تجربات نہیں کئے جا سکتے؟… ضروری نہیں کہ ہر کام بڑے پیمانے پر ہو … مجھے یاد ہے، آٹھہ نوسال پہلے کی بات ہے… ہم صبح منہ اندھیرے اور اکثرشام کو بھی نزدیک کے پارک جایا کرتے تھے… وہاں ایک شخص اکیلا آیا کرتا تھا، کوئی پچاس پچپن کے درمیاں عمرہوگی … اور بچوں کو جمع کر کے انکے ساٹھ فٹبال کھیلتا اور پھر ایک تھیلی ہاتھ میں پکڑ کر بچوں سے پارک میں بکھرے ہوۓ کاغذ وغیرہ چنواتا… لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں، آٹے میں نمک کے برابر… 
اور کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم چلتے چلتے راستے میں ملنے والے بچوں سے ہیلو ہاۓ ہی کر لیں… ایسے ہی روک کر سلام کرلیں، کوئی اچھا جملہ کہہ دیں… ابھی عادی نہیں ہیں، آھستہ آھستہ ہو جا ئیں گے… میڈیا کے لوگوں کو تو بڑا شوق ہوتا ہے خود کو منوانے کا اور مشہور ہونے کا… وہ یہ کام بہت اچھی طرح کر سکتے ہیں… اس طرح پاکستانی چہروں کو بھی مثبت پہچان ملے گی… ورنہ بھارتی اداکاروں کا جادو توڑنا بہت مشکل ہے…
پاکستان میں بھی بہت پہلے پیدل سکول جانے کا رواج تھا… اب بھی بچے نزدیک کے سکول پیدل ہی جاتے ہیں… اکثردو یا تین بچے ملکرجاتے اور آتے ہیں… لیکن اسے “واکنگ بس یا پیدل بس” کا نام نہیں دیاجا سکتا کیوںکہ اس میں ایک تو کسی بڑے کی نگرانی کا اور دوسرے راستہ طے کرنے کا اصل مقصد بھی پورا ہونا ضروری ہے… یعنی بچوں میں ٹریفک اور ماحولیات سے لگاؤ پیدا کرنا…
پاکستان میں اگر بڑے ساتھ ہوتے بھی ہیں، چاہے پیدل یا گاڑی میں تو وہ خود قانون توڑ رہے ہوتے ہیں… جگہ جگہ تھوکنا، سگنل توڑنا، غلط گاڑی کھڑی کرنا، کوڑا پھیلانا، سگریٹ پینا… 
دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں میں ہر شخص اک ترقی پسند یا بہتری کی سوچ رکھتا ہے… اس کی سوچ کا تعلق صرف اس کی اپنی ذات اور خاندان کے فائدوں کی حد تک نہیں ہوتا بلکہ وہ اس سے اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی مستفید کرتا ہے… ان ملکوں میں بھی سیاسی جماعتیں ہوتی ہیں، دینی گروہ ہوتے ہیں… لیکن وہ اک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو کر عوام کو تقسیم نہیں کرتے… نہ اپنے معاشرے میں نفرت کو
بڑھنے دیتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں… 
پاکستان میں تعلیم کا گرتا ہوا معیار اور جہالت کا بڑھتا ہوا تناسب کوئی اختلافی مسلہ نہیں… لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب چند بچے کچھے پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ لوگ بھی اپنے تمام اختیارات کے دعوؤں کے باوجود کوئی تعلیمی بہتری لانے کے معاملے  بے بس نظرآتے ہیں… جو خود بے بس ہو وہ کسی دوسرے کو اختیار کیسے دلا سکتا ہے… اور اگرکوئی یہ کہے کہ ووٹ ملے گا تو کام ہوگا اور پارلیمنٹ میں بل پاس ہوگا تو اس سے بڑھ کر دھوکے باز کوئی نہیں… 
پاکستانی معاشرہ مغربی دنیا کے پڑھے لکھے معاشروں سے بہت مختلف ہے… سماجی قدروں کے اعتبار کے لحاظ سے بھی اور مذہبی عقائد کے لحاظ سے بھی… اور ترقی کے نام پر ان دونوں سے ٹکرانا بیوقوفی نہیں جرم بھی ہے کیوں کہ یہ صرف اور صرف فساد اور نفرت کو جنم  دیتا ہے … اور یہی ہو بھی رہا ہے… آزادی اور حقوق کے مغربی تصور کو پھیلانے کے لئے کسی بھی قسم کے میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ خطرناک ہے اگر سوچ سمجھ کر نہ کیا جائے… لیکن وہ ہو چکا ہے… آج ہماری نوجوان نسل پریشان حال کھڑی ہے کہ کدھر جائے…
بقول غالب…
ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر  
کعبہ میرے پیچھے ہے، کلیسا میرے آگے 
یہ بات ٹھیک ہے کہ سیاستدانوں نے پاکستان کو پوری دنیا میں نہ صرف بدنام کیا بلکہ اکیلا بھی کردیا… لیکن عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے… خاص کرپاکستانی تارکین وطن… جنہوں نے باہر ملکوں میں رہ کر بھی  کبھی پاکستان کے حق میں کوئی لابی، کوئی فورم نہیں بنایا… یہ سارے کام ہم سیاسی جماعتوں پر چھوڑ دیتے ہیں… گلوبلا ئزیشن کے بعد دنیا تیرا میرا ملک نہیں رہ گئی… ہر ملک کے دوسرے ملک کے ساتھ مفادات ہیں اور کسی ایک ملک کا خطرے میں ہونا اس پورے خطّے کے لئے خطرہ ہوتا ہے…  لہٰذا اگر پاکستانی چاہتے تو بہت سے معاملات میں دلچسپی لے کر حکومت اور سیاسی جماعتوں پر دباؤ ڈال سکتے تھے جیسے کہ تعلیم، صحت، ماحولیات، انصاف… صرف عطیات بھیج دینے سے تو قومی فرض ادا نہیں ہو جاتا… اب بھی کیا بگڑا ہے… 

Children بچے

Once there was a town, where lived many families with their children.  The parents were worried about their children’s behaviour.  They complained to each other that their children are irresponsible, abusive, undisciplined, non-serious about their education.  An old scientist also lived there.  He wanted to help the parents so he prepares a magical formula called “parentade” to improve children’s behaviour.  Parents were excited.  The formula worked.  Children started doing things on time, by themselves.  No more mess on dinning tables, no more shouting and running around, no more fighting.  Genius talks, mind blowing ideas, they all got A+ in their exams.  That was it.  Parents were sick and tired.  They were sick and tired of coping with their children’s extraordinary discipline and responsible behaviour.  Their children refused to accept the fun ideas their parents had for them, instead they started guiding their parents to make their life useful.  Finally, all parents arranged a meeting and invited the scientist.  They wanted him to prepare the antidote to that formula.  They wanted their children back to normal as they were before.

Above is the summary of an English poem “Parentade”, a very interesting idea for parents and to learn their lesson.


کب کب ایسا نہیں ہوتا کہ جب جب کمپیوٹر پر کچھ لکھنے بیٹھتی  ہوں تب تب کمپیوٹر کے سب سب بانیوں کوسلام کرنے کو لب مل مل جاتے ہیں، دل کھل کھل جاتا ہے، ذہن دھل دھل جاتا ہے… گو کہ گفتگو میں تکرار ایک عیب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں… انگریزی میں یہ بھی زبان خوبی کہلاتی ہے…

May God guide my parents, ameen!

اگر کمپیوٹر شیطانی ایجاد ہے بھی تو فی الحال تو آدھے سے زیادہ اسلام کو پھیلانے اور اسلامی مظاہروں کا کم اسی پر ہو رہا ہے… اردو بھی شاید اب کمپیوٹر پر ہی لکھی پڑھی جا رہی ہے… میں نےتو کچھ بچوں کو کہا بھی کہ بھی انٹرنیٹ پر جواردوٹا ئیپنگ کی سا ئیٹس ہیں ان پر اردو ٹائپ کیا کرو تو اردو کی ہجے ٹھیک ہو جا ے گی… شعروشاعری بھی ہے، کہانیاں بھی، محاورے بھی… طالبعلموں کے لئے تو بہت فاعدہ مند ہے… 
پرسوں ڈاکٹرعلی رضا نقوی کی خبر سنی تو دل باغ باغ ہو گیا… ایران کی حکومت نے انہیں کافی ایوارڈز دیے ہیں اوراب ایران کی حکومت نے انھیں اپنے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ سے نوازا ہے… ڈاکٹرعلی رضا نقوی ایک پاکستانی ہیں… انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام، دونوں کو علم سے کوئی دلچسپی نہیں… بالکل  ٹھیک کہا…با لکل صحیح اگر اس ملک میں علم کی اہمیت ہوتی تو علم کے  ساتھ گورنر عشرت العباد اتنا بڑا اور برا مذاق نہ کرتے کہ رحمن ملک کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دیتے… کھلا جرم ہے یہ… لیکن یہ دلچسپی جب پیدا ہوتی ہے جب اہل زبان اپنی زبان میں نئے خیالات کا تعارف کرتے ہیں اور وہ بھی اپنی قوم کے مزاج، ذہنی سطح اور مختلف عمروں کا خیال رکھتے ہوۓ… خیر یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اردو میں کچھہ لکھا ہی نہیں جا رہا… حقیقت یہ ہے جو ڈاکٹرعلی رضا نقوی نے بیان کی کہ عوام کو دلچسپی نہیں…
تو ایک کام یہ بھی ہے کہ عوام کو بد تمیزی اور جہالت سے نکال کر شائستگی اور اردو کی طرف کیسے لایا جاۓ… اکثر لوگ شائستگی کا مطلب لیتے ہیں چکنی چپڑی باتیں مسکراتے ہو ۓ کرنا، بلاوجہ لوگوں کی تعریف کرنا، جیسے کہ صبح کے شوز میں ہوتی رہتی ہیں… شائستہ نام رکھنے سے، ہندی تلفظ میں بات کرنے سے، بھارتی اداکاروں کے قدموں پر گر پڑنے سے، انکو خدا بنا کر پیش کرنے سے کوئی شائستہ نہیں ہوجاتا… بلکہ یہ امن، دوستی اور انسانیت کا نہایت گھٹیا تصور ہے… لیکن کیا کریں، جب کوئی اپنی ذاتی ترقی اور پیسے کے پیچھے پاگل ہوجاۓ تو اس سے کچھ بھی توقع رکھی جا سکتی ہے… 
ویسے لوگوں کو میری باتیں پسند نہیں آتیں، کہتے ہیں اس طرح کہنے سےلوگوں کے دل ٹوٹ جاتے ہیں… ارے بھئی، لوگ پاکستان کی قدریں برباد کریں، ملک توڑیں، پاکستانیوں کو غلط سوچ دیں، اردو زبان کے ساتھ مذاق کریں، عورت کی عزت کو ناچنے گانے جلوے دکھانے کے لئے مخصوص کر دیں، معصوم بچوں کے ذہنوں کو منی اور شیلا کی جوانیوں کے تصور سے آلودہ کریں اور میں شائستگی دکھاؤں انکو… انکے دل ٹوٹنے کا خیال کروں، ارے ان کمبختوں کا تو سر توڑ دینا چاہیے… اور اس کالے  بھوتوں کے بادشاہ کا جو لندن میں بیٹھا ہے قیمہ کر دینا چاہیے…
خیر… شائستگی کا مطلب ہے ڈھنگ کی باتیں، جس میں ملک و قوم کی عزت اور غیرت کے ساتھ ساتھ اپنے لوگوں کی ذہنی تعمیر کا بھی خیال رکھا جاۓ… 
اس سلسلے میں کچھہ ٹی وی ڈراموں نے اچھی کوشش کی… جیسے کہ “ہمسفر” میں احمد فراز کی غزل… سب کو یاد ہو گئی… ڈراموں کے نام فیض احمد فیض اور دوسرے شاعروں کے مصروں پر بھی اچھی بات ہے… کاش مزاحیہ ڈراموں کے نام محاوروں پر ہوتے… بلکہ پاکستان کی ساٹھہ فیصد آبادی یعنی بچوں کے لئے, جو کہ اکثریت ہونے کے باعث اپنا جمہوری حق رکھتے ہیں, چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو بنائی ہی جا سکتی ہیں… دس ہزار قسم کے علمی مقابلوں کا انتظام کیا جا سکتا ہے… بچے ویسے ہی مقابلوں سے بڑے خوش ہوتے ہیں… اتنے چینلز ہیں لیکن بچوں کے لئے ایک بھی نہیں… دو چار پروگرامز ہوتے ہیں وہ بھی شاید ہی کوئی بچہ دیکھتا ہو… سب ہندی ڈبنگ کیے ہو ۓ انگلش چینلز دیکھتے ہیں…  دنیا کے بچے جب بڑے ہوۓ تو انہوں نے اپنے بچوں کو کھیلوں کے نئے سٹائلزدیے… پتنگوں، غبّاروں، پتلیوں کے تماشوں، سٹریٹ گمیز، کو نئی شکل، نئے رنگ دیے… امریکا اور دوسرے ممالک میں بڑے بڑے اداکار بچوں کی فلموں میں کام کرتے ہیں، مشہور گلوکار گانے گاتے ہیں، بڑے بڑے با صلاحیت ہدایتکار اور مصنف اس میں دلچسپی لیتے ہیں…
پاکستان کی فلمی تاریخ میں “بیداری” واحد فلم ہے جس میں سنتوش کمار صاحب نے کام کیا، کوئی ہیروئن نہیں تھی، صرف بچے اور انکا استاد جو انھیں پاکستان سے محبت کا درس دیتا رہتا ہے… “آؤ بچوں سیرکرائیں تم کو پاکستان کی”، “یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران”، “ہم لاۓ ہیں طوفان سے کشتی نکل کے”… اسی فلم کے گانے تھے جو آج تک گاۓ جا رہے ہیں… ٹی وی پر “عینک والا جن”، سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرامز کے علاوہ کوئی بچوں کی چیز نہیں جو بچوں نے دیکھی ہو شوق سے… اور تو اور چودہ اگست پر یوم آزادی کے پروگرامز میں بھی وہی گھسے پٹے اداکار گلوکار آ جاتے ہیں پرفارمنس کے لئے اور بڑے بوڑھے وزراء اور پرانے اداکار گلوکار خوش ہو کر تالیاں بجا رہے ہوتے ہیں… ارے ایک ایک منٹ کا سکرپٹ لکھ کر نہیں دیا جا سکتا بچوں کو کہ صدر، وزیراعظم کے سامنے پرفارم کر سکیں…  
بچے بچوں سے سیکھتے ہیں اور شوق سے سیکھتے ہیں… پاکستان کے بچوں کا تو جواب نہیں… پہاڑوں جیسی ہمّت ہے انکی… اور دریاؤں اور سمندروں جتنا خون جگر، جو ساری زندگی رستا رہتا ہے اور ختم نہیں ہوتا… کیسے کیسے حالات سے گذرتے ہیں، عجیب بے ہنگم ماں باپ کو برداشت کرتے ہیں… بدتمیز، جاہل، گا لیاں دینے والے اور مجرم سیاست دانوں اور حکمرانوں کی دہشت سہتے ہیں… اور ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ تہذیب یافتہ، تعلیم یافتہ، ترقی یافتہ بڑے ہوں… کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بچوں کا دل چاہتا ہوگا کہ کاش ہمارے ماں باپ ہمارے ہاں پیدا ہو ۓ ہوتے تومزہ چکھا دیتے والدینیت کا…
انکی پیدائش کے وقت سے جو ڈرامہ شروع ہوتا ہے تو وہ وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک وہ اذیت سے چیخ نہ اٹھیں… اور اس وقت مولوی حضرات سامنے آ جاتے ہیں اپنے جنّت اور جہنّم کے فتوے لے کر… حمایت علی شاعر کے الفاظ کو تھوڑا سے تبدیل کردیں تو ماں باپ سے کہا جا سکتا ہے… تخلیق کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جان کا زیاں، اولاد کو اولاد سمجھ مشغلہ دل نہ بنا… بھوک، پیاس، گندگی، خوف، بیماریاں، زبان اور قومیت کے بارے میں احساس کمتری، چالیس چالیس پچاس پچاس سالوں کی عمروں والے زندہ کارٹون…. کوئی اچھا نظارہ نہیں پاکستان اور خاص کر کراچی کے بچوں کے پاس، جگہ جگہ تو الطاف حسین کی بد صورت تصویروں کی صورت میں اذیت کے سامان موجود ہیں… اچھی سوچ آۓ کہاں سے…

Human Empowerment – مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا

‘Women Empowerment’, what is so fascinating about this slogan?  And more stupid it sounded when thousands of men sent their women on streets to beg before a politician who being the citizen of another country, self-exiled for many years, promised them to help in getting their rights through Pakistani parliament.  It appeared to be even more hideous when women started the jalsa with emotional speeches and ended with singing and dancing for no reason.

Which rights and authority are they talking about – that women will not be treated inhumanly at homes (the homes that they had come from), get their rights of education and making decisions for their life?  These rights are already mentioned in both constitutions – Qur’an and the national constitution of Pakistan.  It is only that men and women don’t respect both of them and obey none.

Those women at Bagh-e-Jinnah were representing thirty or fourty thousand families of Karachi.  Were they there as a victim of their men’s injustice at home?  Then what would parliament do about this?  If Altaf Hussain is their saviour, as their quaid he can just order the Karachiite men to behave and that is it.  This way it would set an example for ‘macho man’ all over Pakistan.

So basically, what I think that this jalsa was arranged to achieve many goals, such as, diverting people’s attention from Balochistan issue and to warm Imran Khan to keep his hands off Karachi – but to solve women’s issues.

Just think about it.  There was no Altaf Hussain when Ms. Fatimah Jinnah, Mrs. Rana Liaquat Ali Khan and Mrs. Bilqees Edhi were born.  How these honourable ladies grew up to be so powerful and stepped forward with leading and administrative qualities.  Their men at home encouraged them and helped them, not the stupid strangers on the streets.

LEARNING is important for women.  Women need to learn how to read, write and calculate, how to raise their sons not as their supporting cane but as a useful citizens for all, how to discuss issues with their men at home and find their solution, how to keep their honour while being out on the streets.  Why do they wait for men to give them a purpose of life, define their status in society, teach them what Qur’an says about their status?

Men’s period of tranquility begins when they accept women as equal human beings and let them live and perform accordingly. Crushing women’s rights in the name of securing their honour and dignity results in men’s own destruction.

عبدالستار ایدھی کو پاکستان نے ایک شناخت دی جس کا بدلہ انہوں نے نیکیوں کے ایک ختم نہ ہونے والے سلسلے کو شروع کر کے دیا…اور آج ایدھی صاحب ذاتی طور پر ایک بہت بڑا نام ہی نہیں بلکہ پاکستان کی پہچان ہیں… 
١٩٢٨ گجرات میں پیدا ہو ۓ… انیس سال کی عمر میں ١٩٤٧ میں ہجرت کر کے پاکستان آۓ… ١٩٥١ میں اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت ایدھی ٹرسٹ کے نام سے  میٹھادر میں ایک ڈسپنسری  قائم کر کے باقاعدہ فلاح وہ بہبود کا سلسلہ شروع کیا… ١٩٦٥ میں ٣٧ سال کی عمرمیں ١٨ سالہ  بلقیس ایدھی صاحبہ سے شادی کی جو کے انکی ہی ڈسپنسری میں نرس تھیں… انکے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں نے اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہو ۓ انکے مشن میں انکا ساتھہ دیا… 
انسانوں کی فلاح و بہبود کے اسلامی تصور کو عملی طور پر ثابت جس طرح ان دونوں نے کیا، آج کے زمانے میں اور پاکستان میں اسکی مثال نہیں ملتی… 
انکی کامیابی کا راز کیا ہے… دونوں میاں بیوی کوئی خاص تعلیم یافتہ نہیں… دولتمند بھی نہیں تھے… دونوں انگلش سے بلکل فارغ… لیکن بچے پڑھے لکھے بلکہ فیصل ایدھی تو ڈاکٹر ہیں… سٹائلش بھی نہیں… لیکن حکومت کی برابری کی سطح پر ایک فلاحی نظام قائم کر کے دکھانا اور چلانا بہت بڑا کارنامہ ہے… کونسی فلاحی عامه کی سروس ہے جسکا ایدھی فاونڈیشن  نے انتظام نہیں کیا ہوا ہے… 
انکی اہلیہ بلقیس ایدھی صاحبہ گو کہ کبھی کبھی ایدھی صاحب کی ایک شوہر کی حیثیت سے.شکایات کرتی نظر آتی ہیں .. لیکن انہوں نے ایدھی صاحب کا جس طرح ساتھہ دیا خاص طور پر خواتین کے معاملات حل کرنے میں اور انکو صحیح سوچ دینے میں، انکو عزت کا راستہ دکھانے میں، انکو ایک چھت مہیا کرنے میں… وہ انکا بڑا کارنامہ ہی نہیں بلکہ انکی حکمت اور سمجھداری کی علامت ہے… ایدھی صاحب لا کھہ کوشش سے بھی خواتین کے لئے خود کچھ نہیں کر سکتے تھے… 
مادرملّت اور رعنا لیاقت علی خان کی  قائدانہ اور انتظامی صلاحیتیں تمام پاکستانی خواتین کا لئے مثال ہیں… محترمہ فاطمه جناح اور رعنا لیاقت علی خان کے بعد بلقیس ایدھی صاحبہ تیسری خاتون ہیں جنہوں نے اپنے عورت ہونے کا ہر لحاظ سے بہترین استعمال کیا… اور اپنے ہی گھر کے مردوں کے ساتھہ مل کر پاکستان کی بہتری کے لئے کام کیا… عورتوں کے حقوق، آزادی، اختیار کیا ہوتا ہے کس حد تک ہوتا ہے اور اسے پاکستان کی عزت، معاشرتی قدروں اوردینی حدود کو قائم رکھتے ہوۓ کس طرح استعمال کیا جاتا ہے، کس طرح خود کوعورتیں قابل بھروسہ اورقابل عمل بنا سکتی ہیں… ان خواتین نے سکھایا… 
یہ وہ خواتین ہیں جن کو سخت ترین حالات ملے کام کرنے کے لئے، اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لئے، عورت کی طاقت اور ہمّت کا صحیح مظاہرہ کرنے کے لئے، عورت کا ایک انسان ہونے کے ناطے اپنا حق اور اختیار استعمال کرنے کے لئے، عورت کے درست اور بروقت فیصله  کرنے کی اہلیت دکھانے کے لئے … انکو عیش وعشرت، سہولتوں، گھر کی چار دیواری میں بیٹھ کر معاشرے کو جہنّم بنانے کے طریقوں، چار نوالوں اور پانچ کپڑوں اور چند زیورات کے لئے سازش اور چالاکیاں کرنے، شوہر کو قابو کرنے اور بھائیوں کو بھڑکانے کے منصوبوں سے کوئی سروکار نہ تھا… انکی زندگی کا مقصد اپنے جسم کی چوٹی چوٹی خواہشات پوری کرنا نہیں تھا بلکہ پاکستان جیسے تحفے کا احترام کرنا، اس خطہ زمین کا نام روشن کرنا اور اپنی قوم کے لوگوں کو انکے پیروں پر کھڑا کرنا اور انھیں خودداری کا راستہ دکھانا تھا…
اگر انکے گھر کے مرد انکی راہ میں رکاوٹ بنتے تو کیا یہ اتنا سب کچھ کر پاتیں؟  یا اگر یہ خواتین اپنے مردوں کی راہ کی رکاوٹ بن جاتیں تو وہ مستقل مزاجی کے ساتھ کام کر پاتے؟  کیا تحریک پاکستان کامیاب ہوتی اور پاکستانی میں اتنے بڑے بڑے فلاحی ادارے قائم ہوتے؟  تو بات ساری ہے ایک دوسرے کو سمجھنے کی…. معاشرے ہمیشہ سے مردوں کے ہاتھوں میں رہے ہیں اور شاید قیامت تک رہیں گے… کامیاب صرف وہ معاشرے ہو ۓ جہاں مردوں نے خواتین کو انسان تسلیم کیا اور پہلے انکو انکے حقوق اور عزت انکے گھروں میں دئے…. 
چاہے معامله عورتوں کو گھرکی چار دیواری کے اندر بٹھاکر رکھنے کا ہو یا تعلیم، ملازمت یا کسی بھی مقصد کے لئے گھر سے باہر جانے کی اجازت دینے کا… ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی تب ہی ہوتی ہے جب ایک خاندان کی عورتیں اور مرد مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں، کسی بھی قسم کے حالات میں کوئی متفقہ راستہ اختیار کرتے ہیں، گھر کے اندر انصاف اور آزادی را ۓ کی فضا پیدا کرتے ہیں… ہر رشتہ دوسرے رشتے کی آزادی اور حقوق کا خیال رکھتا ہے… ایک گھر کے افراد ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں… 
یہ ہوتی ہے مرد کے سکون اور عورت کے اختیار کی ابتدا… جب مرد اور عورت مل کرخوشی خوشی  ذمہ داریاں بانٹ لیتے ہیں… جس کو جو آسان لگے اور وہ اسے ایک طویل عرصے تک انجام دے سکے…