Minor Issues – چھوٹی چھوٹی ارادی غفلتیں

…  بڑی ہی عجیب سی بات ہے ملک بدترین حالات میں اور ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ وہ صحیح ہے 

تقریبا ہر کسی کی زبان سے ایک جملہ نکلتا ہے… “دیکھیں یہ تو چھوٹی سی بات ہے، ہمیں اصل ایشوز پر توجہ دینی چاہیے”… لیکن آخر جنھیں اصل ایشوز کہا جاتا ہے وہ ہیں کیا؟… 
جملہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن یہ جملہ کب کہا جاتا ہے… عموما جب کسی مرد یا عورت سے بات کرتے ہوۓ کوئی ایسا اعتراض سامنے آ جاۓ جسکا تعلق انکی ذات سے بھی ہو… چھوٹی چھوٹی غفلتوں کو جان بوجھ کر جسٹفاۓ کرنا بھی ایک فیشن بن گیا ہے… مثالیں بہت مل جائیں گی…
اگر بات کرتے کرتے یہ مسلہ آجاۓ کہ……
.
١) تعلیم اور نظام اردو زبان میں چلایا جاۓ یا انگلش میں… تو جواب ملتا ہے “دیکھیں زبان سے کچھ نہیں ہوتا، اب دنیا میں ترقی کے لئے انگلش ضروری ہے، اور اردو میں کونسا ریسرچ کرنی ہے… زبان کوئی بھی ہو بس ہم ترقی کریں، اچھی قوم بنیں کیونکہ اصل مسلہ ہماری پسماندگی ہے… وغیرہ”
.
٢) آج کل گھروں میں، ٹی وی پر، اسکولوں میں اردو کے الفاظ کا تلفظ بگاڑ کر استعمال کیا جاتا ہے… لائف بواۓ کول فریش صابن کے کمرشل میں ایک جاہل خاتون خود کو معصوم ظاہر کرتے ہوۓ لفظ خارش کو کھارش کہتی ہیں… ٹیچرز، بچے، ماڈرن بننے کی کوشش کرنے والی خواتین، اپنا لاڈلا پن ظاہر کرنے والی خواتین، اداکارائیں وغیرہ… حتی کہ بڑے بڑے عوام کے چہیتے نفسیاتی ڈاکٹر تک ہیلتھہ  ٹی وی چینلز پر غلط تلفظ سے اردو بولتے ہیں، اردو کے رول ماڈل بننا چاہتے ہوں گے… یہ بیماری خواتین میں زیادہ ہے…
چھوٹی سی بات ہے نہ، شاید بے چارے لوگوں کے بڑے بڑے مسلے حل کرنے والے اپنی ہی ذات کی اس کمی کو پورا کرنے کے قابل نہیں … 
بڑے فخر سے خیال کو کھیال، آخری کو آ کھری، خود کو کھد، غلطی کو گلتی، پیغام کو پیگام، نغنہ کو نگما، غلام کو گلام، قیمہ کو کیمہ، قیامت کو کیامت، اقبال کو اکبال، اور خ غ  ق کے سارے الفاظ کو بگاڑ بگاڑ کر بولتے ہیں… تو جواب آتا ہے “یہ چھوٹی سی بات ہے، ظاہر ہے آج کل کا ماحول ہے، لیکن ہمیں مل کر ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہیے، اصل مسلہ ہے کہ جہالت ختم کریں، بلا بلا…”…
.
٣) پان کھا کر یا بغیر پان کھاۓ جگہ جگہ تھوکنا بری بات ہے…. “دیکھیں یہ تو چھوٹی سی بات ہے، اصل تو یہ جو کوڑے کے بڑے بڑے ڈھیر جا بجا پڑے ہوۓ انھیں حکومت ہٹاۓ ان سے بیماریاں پھیلتی ہیں”…
.
٤) اسکول کالج چند گھنٹوں کے لئے علم حاصل کرنے کی جگہ ہیں، یہاں گانے بجانے ناچنے کی تربیت نہیں دینی چاہیے اس کے لئے بہت ادارے، ٹی وی چینلز، اسٹیج کافی ہیں… “دیکھیں یہ چھوٹی سی بات ہے ناچنے گانے سے کچھ نہیں ہوتا، یہ تو بچوں کے لئے ضروری ہے، بس نظام تعلیم ٹھیک ہونا چاہیے، اس پر ہم توجہ نہیں دیتے”…
.
٥) ٹی وی پر یا پبلک میں مرد اور خواتین اپنے لباس کا خیال رکھیں… “کیا پہنا، کیسے لگ رہے ہیں، یہ سب کی ذاتی پسند نا پسند کا معاملہ ہے… اصل چیز ہے کہ انسان کسی کا دل نہ دکھاۓ، کسی کو تکلیف نہ دے، اچھے کام کرے”…
.
٦) فلاحی نظام عوام کی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے یا عوام میں ہو تب بھی توایک مرکزی نظام کے تحت ہو، یہ چھوٹے چھوٹے ادارے کھول کر جو وسائل کو ضائع کیا جاتا ہے یہ نہ ہو … “لوگوں کی مرضی ہے، انکے پیسے وہ کسی کو بھی دیں یا خود کوئی ادارہ کھولیں کوئی پابندی تو نہیں”… 
.
٧) پرہیزعلاج سے بڑھ کر ہے، اس لئے ہسپتال کھولنے کے بجاۓ ماحول کو صحتمند بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، مریض اور مرض خود بخود کم ہو جائیں گے… “لیکن دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تو صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جاتا ہے، وہاں بھی ہسپتال ہیں، یہ سب الله کی طرف سے ہوتا ہے”… 
.
٩) شراب پر پابندی ہونی چاہیے… “دیکھیں شراب کا ایک تو کوئی واضح حکم قرآن میں موجود نہیں… دوسرے ترقی یافتہ قومیں اگر ان چکّروں میں پڑتی تو آج اتنی خوشحال نہ ہوتیں”…
.
١٠) سارے گھر والوں کو چاہیے کہ جب انکے مرد گھر سے نکلیں تو انھیں احساس دلادیں کہ باہرنکلنے والی خواتین کسی گھر کی عزت ہیں، انکے لئے شیطان کا روپ دھرنے کے بجاۓ انھیں بھی عزت سے دیکھنا… “لڑکی یا عورت کو خود ہی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے، مردوں کی عادتیں تو ایسی ہی ہوتی ہیں”…
.
١١) ہندوستانی میڈیا کا بوائیکاٹ کریں، انکے چینلز بند کریں، تین تین چار چار سال کے بچوں کے ذہن اور روح آلودہ ہوتی ہے، خواتین کی بے حرمتی اور انھیں کس نظر سے دیکھنا چاہیے وہیں سے سیکھتے ہیں لڑکے… “یہ کیا بات ہوئی، ہم بھی تو ہندستانی فلمیں دیکھ دیکھ کر بڑے ہوۓ ہیں، ہمارے کردار اور تہذیب پر تو کوئی فرق نہیں پڑا اور ہمارے گھر کے مرد بھی صحیح ہیں، اصل چیز ہے کہ تعلیم کا نظم اچھا ہو”…
.
اب ذرا ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو ذرا ایک ساتھ جمع کریں… 
قومی زبان قوم کی علامت نہیں، ضروری وہ زبان ہے جس سے دولت کمی جاۓ …
قومی زبان کو بگاڑ کر بولنا آئین میں لکھا ہے قومی جرم نہیں ہے… زبان نہیں دل دیکھیں… حالانکہ دلوں کا
حال صرف الله جانتا ہے… ہمیں تو زبان ہی دی ہے پہچان کے لئے…
جگہ جگہ تھوکنے کا تعلق تہذیب سے نہیں ہے… کسی آئینے میں اپنا منہ دیکھ کر اس پر بھی تھوک لیں نہ…
اسکولوں کالجوں میں گانا ناچنا تعلیمی نظام کا حصّہ ہے… تو پھر اور کونسی چیز علم سے دوری کا سبب ہے؟
کسی بھی قسم کا لباس اورحلیہ پبلک میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا… حلیہ حلیہ ہوتا ہے گندا ہو یا ننگا…
لوگوں کے دس، پچاس، سو، ہزار ذاتی مال ہوتے ہوۓ بھی قومی دولت کا حصّہ ہوتے ہیں، اسے ضائع کرنا ذاتی پسند ہے… 
ماحولیات ایک غیر ضروری بحث ہے… خوبصورتی اور صفائی جیسی اعلی صفات سے اس قوم کا کیا تعلق…
شراب جائز ہے جرنیل کے لئے بھی، تمام شو بز کے لئے بھی، سیاستدانوں کے لئے بھی اور عوام کے لئے بھی (تو پھر باقی نشہ آور چیزوں پر کیوں پابندی ہے؟)…
عورت پر پابندی بھی اور ذمہ داری بھی، مردوں کو گھر اور سڑک پر کھلی چھٹی… 
گھروں میں بے حیائی، ننگے پن اور فحاشی سے تہذیب اور اخلاق پر کوئی اثر نہیں پڑتا… تو پھرریپ کا رونا کیوں روتے ہو… 
.
اور پتہ نہیں ایسی ہی کتنی باتیں ہیں… گویا ہر مشہور اور غیر مشہور شخص نے اپنی طرف سے تھوڑے  تھوڑے دھبّے لگاۓ ہوۓ ہیں… چھوٹی چھوٹی باتیں جن کی وجہ سے انھیں افراد کے بڑے بڑے کارنامے بھی بے سود اور غیر موثرہو کر رہ گۓ ہیں… 
.
Advertisements

Prophet Muhammad (pbuh) and Deprivation

‘Mehroomeen’ is the Arabic word used in Qur’an for ‘those who are deprived’.  
“those in whose wealth, there is a known right for petitioner and deprived”… Surah Al-Ma’arij
.
Both petitioners and deprived lack all basic necessities of life.  Petitioners but feel no shame in asking help from people around.  The ‘mehroomeen’ hesitate because they don’t want the world to know about their miserable plight.
.
Now Prophet Muhammad (pbuh) and his companions also suffered the extreme shortage of food, clothes, shelter and power/status.  They never begged, never complained about their inadequacy.  At the same time, they never felt ashamed of their poverty.  people of Makkah and Madinah witnessed them living like an ordinary people, mending their clothes and shoes, laboring for their families, digging trenches, carrying loads.
They mission of life was quite different from what we have now “food, clothes, shelter and high status”.
.
Prophet Muhammad (pbuh) was born an orphan.  He lost his mother at the age of 6, grandfather at the age of 10.  His beloved uncle Abu-Talib and wife Khadijah died when he was facing a severe boycott from his people.  He suffered hunger, thirst and threats.  He was planned to be murdered by Makkans and he had to migrate from his birthplace.  His sons died at infancy.  Once he had to spend a month in Masjid An-Nabwi in protest to his wives.  He fought battles.  He lead a group of people and turned them into a nation.  The Prophet (pbuh)’s life style teaches us that the real deprivation is not lacking basic needs.
.
The real deprivation is the disappointment in the mercy of Allah Almighty and in His authority over all provisions.  The worst feeling of deprivation occurs when a person becomes neglectful even his/her own goodness. 
“Say (Allah says)! O my slaves! who have transgressed against themselves (by sins)! Despair not of the Mercy of Allah…verily, Allah forgives all sins.  Truly, He is Oft-Forgiving, Most Merciful.  And turn in repentance and in obedience with true Faith to to your Lord and submit to Him, before the torment comes upon you, then you will not be helped”… Surah Az-Zumr

“and enjoin prayer on your family and strictly adhere to it, and We do not ask for provision from you, (rather) We provide for you.  And it is fearing God that brings about best results”… Surah Ta-Ha
“and do not follow him whose heart We have made neglectful of Our remembrance – the one who has followed his own desires and his matter has crossed the limits”… Surah Al-Khaf/The Cave
“and be you not like those who forgot Allah; (in return) He made them forget themselves (their own souls)! such are the rebellious transgressors!”… Surah Al-Hasr
 
 
.
میں تو کہتی ہوں کہ “مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے… وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے”…
زندگی تو نام ہی محرومیوں کا ہے… زندگی کی ایک کمی کو دوسری زیادتی سے کیسے پورا کرتے ہیں اور وہ بھی کسی کے ساتھ زیادتی کے بغیر… یہ کمال ہے انسانیت کا اگر کوئی کر کے دکھا دے… 
لہٰذا کوئی کچھ بھی کہے، کتنا ہی تذلیل کرے، کتنے ہی طعنے دے، وقتی صدمہ اور ذلت کا احساس تو ہونا لازمی اور فطری عمل ہے لیکن وہ ایک مستقل احساس محرومی بن کرزندگی کے ساتھ نہیں چل سکتا… کیونکہ یہ بات تو خود ہی ہتھیار ڈالنے، خود ہی اپنے آپ کو دنیا کے لئے مشق ستم بنانے کے لئے پیش کرنا… تواگر انسان خود مطمئن ہے، خود اپنے آپ کو جوابدہی کے لئے تیار رکھے، اپنا دفاع کرنا جانتا ہے… اس کو بھلا کون احساس محرومی میں مبتلا کر سکتا ہے…
اورامیر امراء کی تو عادت ہوتی ہے… دولت اور اختیارات کی زیادتی انھیں انسانیت سے کافی دور کردیتی ہے… اور یہ رویہ جب سے دنیا بنی ہے تب سے ہے اور قیامت تک رہے گی… کوئی نئی بات نہیں… لیکن اصل تغیر اور انقلاب آتا ہے غرباء کے رد عمل سے… 
“اور وہ جن کے مالوں میں مقررہ حق ہے مانگنے والوں اور محرومین کے لئے”… سوره المعارج 
اسلام میں محرومین یقینا انہی لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس روٹی، کپڑے، مکان، اختیارات کی حد درجے کمی ہو… انکا حق ہے مسلمانوں کی کمائی میں… جیسے کہ مانگنے والوں کا… بات سمجھ آئی کہ نہیں… محرومین اورسائلوں کے حالات ایک جیسے ہوتے ہیں… لیکن محرومین مانگتے نہیں ہیں…  ان میں احساس محرومی ہوتا ہے اسی لئے انکی محرومین کہ گیا… کیونکہ جس میں احساس محرومی نہیں وہ تو ہاتھ پھیلا نے میں شرم محسوس نہیں کرے گا… لہٰذا محرومین ہاتھ  تو نہیں پھیلاتے لیکن ساتھ ہی اتنے با اعتماد بھی نہیں ہوتے کہ اپنی حالت لوگوں پر ظاہر کریں… اور جو اپنی حالت پر شرمندگی کی وجہ سے خاموش ہو وہ معاشرتی، سماجی اور قومی مسائل میں بھی پیچھے رہتا ہے… آواز اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی اس میں… کسی کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا وہ….
.
روٹی، کپڑے، مکان اور اختیارات کی کمی تو رسول صلی الله علیہ وسلم اور انکے صحابہ کے پاس بھی تھی بلکہ ان میں سے بہت سے تو زندگی کے آخری سانس تک اس کمی کو پورا نہ کرسکے… تو کیا رسول صلی الله علیہ وسلم اور انکے صحابہ محرومین کہلاۓ؟…. اور مکہ کے سرداروں، امیر امراء نے انکو احساس محرومی میں مبتلاکرنے کی کوشش بھی کی… کیا وہ کامیاب ہو ۓ؟… کیا وہ اپنے فاقے، اپنی غربت، اپنی خستہ حالت لوگوں سے چھپاتے تھے؟… کیا لوگوں نے انھیں باسی روٹی پانی سے کھاتے نہیں دیکھا؟… کیا رسول صلی الله علیہ وسلم اور انکے صحابہ کے کپڑوں پر پیوند نہیں دیکھے گئے؟… کیا مکے مدینے کے عوام انکی محنت مزدوری کرنے، بوجھ اٹھانے، خندقیں کھودنے، بکریاں چرانے کے گواہ نہیں؟…. 
یہ سب روٹی، کپڑے، مکان اور اختیارات کے نہ ہونے کے باوجود نہ صرف محرومین بلکہ معاشرے کے ہر طبقے کے حق میں رحمت بن کر، عدل بن کر، رہنما بن کر کھڑے ہوۓ… کسی کی ملامت انھیں پریشان نہیں کرتی…
.
محرومین کی زندگی کا مقصد تو روٹی، کپڑا، مکان اور اختیارات ہو سکتا ہے… انقلاب لانے والوں کا نہیں… 
محرومین قابل رحم اور قابل عزت ہوتے ہیں… لیکن ان میں اور انقلاب لانے والوں میں بہت فرق ہوتا ہے…
 .
اور محرومی کس بات کی… جانتے ہیں ایک مسلمان کے لئے بڑی بڑی محرومیاں کیا ہوتی ہیں؟
١) سب سے بڑی محرومی اس کائنات کی یہ ہے کہ انسان الله تبارک و تعالی کی رحمت  سے مایوس ہوجاۓ … سوره الزمر میں رب العالمین کا ارشاد ہے…
“کہہ دو! (الله فرماتا ہے) اے میرے بندوں! جنہوں نے ظلم کیا ہے اپنی جانوں پر، مایوس نہ ہونا الله کی رحمت سے… بلا شبہ معاف کردیتا ہے سارے گناہ… یقینا وہ تو ہے ہی معاف فرمانے والا، مہربان… اور پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور فرمانبردار بن جاؤ اس کے، اس سے پہلے کہ آ جاۓ تم پر عذاب… پھر نہ مدد مل سکے تمہیں کہیں سے بھی…”
٢) جب انسان رزق کے معاملے میں خدا سے مایوس ہو جاۓ، وہ محرومی ہوتی ہے… 
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں… جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کف جو…علامہ اقبال 
“اور حکم دو اپنے گھر والوں کو نماز کا اور پابند رہو خود بھی… نہیں مانگتے ہم تم سے رزق، ہم تو رزق دیتے ہیں تمہیں… اور انجام کی بھلائی تقوی سے ہے”…. سوره طہ….
٣) محرومی کی ایک اور بدترین صورت وہ ہے جب انسان خود سے غافل ہو جاۓ… اسے یہی نہ معلوم ہو کہ اس کی بھلائی کس میں ہے…
“اور تو اس شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے, اورہو لیا پیچھے وہ اپنی خواہشات کے اور حد سے بڑھ گیا”… سوره الکھف 
“اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو الله کو بھلا بیٹھے، پھر الله نے ان کی جانوں کو ہی ان سے بھلا دیا (وہ اپنی بھلائی ہی بھول گئے) اور یہی ہیں فاسق log… سوره الحشر 
.
.

Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 2

In Pakistan, ‘sense of deprivation’ seems more like a political strategy than a moral deficit.  Politicians have brain washed people’s mind by using this term over and over in their speeches and statements.  They started with the soft-synonyms “poor, exploited and oppressed” few decades ago.  Their verbal scheme (i.e shouting and choice of words in repetition) has disabled people from thinking process. Over and over and over, things heard and seen become the part of personality.
.
Nation’s sense of deprivation – this strategy of disabling their own people also helps politicians to receive funds from other countries.  I wonder which countries are funding Pakistani government (Zardari and People’s Party) for Benazir Income Support Program, which is an evil planning to increase their bank balances and nothing else.  Nawaz Shareef, in power, despoiled his own people’s money under the title of “loan-free Pakistan”.  Now he is involved in looting millions by distributing laptops.
.
Why am I sure that this is a planning?  That is because I am one hundred one percent sure that our politicians (even educated) are unable to write their own speeches.  They hire people to write it for them or it is given to them written by some hidden hands.  Our politicians can think evil but they are zero in writing skills.
.
Is it only shortage of food, clothing, shelter, high status that causes this feeling of not having anything or missing a news from Bollywood develops this tension?
I haven’t seen anyone sighing for lacking proper education, good leadership, healthy environment, nature, playground, freedom.
With the basic thoughts all corrupted, how can people be trusted to support any revolutionary movement.  When they say it, they don’t mean it.  They just repeat it following the social trend around the world.

انکا زمانہ، انکی عدالت اور انھیں کی تعزیرات… انکا دوست زمانہ سارا، اپنی دوست خدا کی ذات…

پاکستان میں احساس محرومی ایک اخلاقی کمزوری سے زیادہ ایک سیاسی حکمت عملی اور دین کے نام پر ایک ہتھکنڈا لگتا ہے… 
کئی سال پہلے کا ذکر ہے کہ پاکستانی لیڈرز پاکستانی عوام سے خطاب کرتے وقت “غیور، محنت کش اوربہادر”  کے الفاظ استعمال کرتے تھے… پچھلے کئی سالوں میں تمام کے تمام سیاستدان ہر پلیٹ فارم پر پاکستانی عوام کی تعریف کے لئے “غریب، بےبس اور مظلوم” کے الفاظ استعمال کرتے ہیں کیونکہ غیر ملکوں سے لوٹ کھسوٹ کے لئے اسی طرح دولت ملتی ہے… بینظیر کے نام، ذات، عزت اور لاش… سب بیچ کھائی پیپلز پارٹی نے بینظر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر… نواز شریف نے تو قرضہ اتارنے کے نام پر اپنے ہی پاکستانیوں کی جیبیں کاٹ لیں… اوراب لیپ ٹاپ کے فیض عام پر کروڑوں کا غبن…
خود ہی قوم کی مسیحائی کا دعوی لے کر کھڑے ہوتے رہے اور مسلسل قوم کی برین واشنگ کرتے رہے بار بار “غریب، بےبس اور مجبور” کہہ کہہ کر… نتیجہ یہ کہ عوام نے سوچنا ہی چھوڑ دیا کہ وہ کچھ سوچ بھی سکتے ہیں… اور چند مہینوں سے پے در پے “احساس محرومی” کا لفظ استعمال کر کر کے انکی بچی کچھی صلاحیتیں بھی ختم کرنے اور وہیں ذہنی طور پر پیرالا ئز کرنے کی حکمت عملی پر عمل ہو رہا ہے…
مجھے اس بات کا یقین… کہ یہ حکمت عملی ہے، اتفاق نہیں… اس لئے ہورہا ہے کہ ہمارے ہاں سیاست میں کوئی اس قابل نہیں کہ خود اپنی تقریریں لکھ سکے… ظاہر ہے یہ سب کسی سے لکھواتے ہیں… اور جس سے یہ لکھوائیں، وہ انکا چمچہ تو ہو سکتا ہے، اس ملک کا خیر خواہ نہیں… اس کا دماغ کسی اور کے ہی زیر اثر ہوتا ہے… تو تقریرکا متن باقاعدہ سوچ سمجھ کر لکھ کر دیا جاتا ہے… ذرا ان سب کی تقریریں جمع کریں، انکی ٹائم لائن بنیں اور موازنہ کریں… خود ہی بھید کھل جائے گا… 
.
یہ تو ہو گئی سیاستدانوں کی بات… اب دیکھیں کہ عوام کا کیا رویہ ہے… اور عوام سے کسی بھی قسم کے انقلاب کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے…
کبھی عوام سے پوچھیں کہ انکے نزدیک “احساس محرومی” کی کیا تعریف ہے… اور وہ کس محرومیوں کا شکار ہیں… 
احساس محرومی روٹی، کپڑا، مکان، کا نہ ہونا ہے؟ احساس محرومی کا تعلق گھرکے دو سو، چار سو، ہزار گز ہونے سے ہے؟ کیا فیشن سے دوری احساس محرومی کو جنم دیتی ہے؟  کیا کسی دن بالی ووڈ کی خبر مس کردینا بھی احساس محرومی کی ایک شکل ہے؟…
کیا کبھی عوام نے میں سے کسی نے یہ کہا کہ اچھی تعلیم کے نہ ہونے سے ہمیں احساس محرومی ہورہا ہے… اچھی لیڈر شپ نہ ہونے کی وجہ سے ہم دنیا میں احساس کمتری کا شکار ہیں… ہمیں قرآن سے دوری جینے نہیں دے رہی اور ہم احساس محرومی سے مرے چلے جا رہے ہیں، حلق سے نوالہ نہیں اتررہا… صاف ستھرا اور صحتمند ماحول نہ ہونے کی وجہ سے ہم خود کو محرومین سا محسوس کرتے ہیں… ہمارے احساس محرومی کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں رنگ برنگے پرندوں کی چہچہاہٹ نہیں سنائی دیتی؟؟؟
.
کسی بھی شخص کو… جو لالچ، بےغیرتی اور کم ظرفی سے پاک ہو… پاکستانیوں کا لیڈر بننے سے پہلے عوام کا رویہ ضرور دیکھ لینا اور سوچ ضرور پڑھ لینی چاہیے… کیونکہ انکی سوچ وہی ایجنڈا ہیں جو انکے ذہنوں میں ٹھونس ٹھونس کر بٹھا دے گئے ہیں اور ہمارے شوبز کے لوگوں نے اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے…. اس لئے ہمارے سیاستدانوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ عوام کو کس طرح ڈیل کرنا ہے…
.

Sense of Deprivation – احساس محرومی – Part 1

What urged me to write on this topic is the statement of a politician, “the sense of deprivation in people is causing the demand for new provinces”.  What I say, it is not ‘new provinces’ we are going to make but we are dividing the provinces with many cities into many small size provinces.  Who knows in future, further sense of deprivation would cause further division of citi-sized provinces into town-size and then neighbourhood-size provinces.  I think they were called tribes.  So we will become a tribal society.

.

Deprivation generally means missing some or more necessities of life, lacking physical abilities or mental powers, losing possessions or will to do something, etc.
.
People say that the increase in crime rate is due to deprivation.  According to psychologists, the feeling of deprivation can force people to jealousy, murder, depression and suicide.

What has come into observance, the practical meaning of word ‘deprivation’ in my country is to choose or create a reason or reasons to develop ‘sense of deprivation’, mostly to seek favours or win sympathies from others.  The strong stimuli behind this self-conspiracy is the fear of taking responsibility of actions and decisions.  Everybody wants to stand up proudly saying, “yeah, I know I am a sinful person, but at least I didn’t do this and that……(a long list of good intentions never practiced in real).”  People are in a greed of having everything while losing nothing.  This is an unnatural and evil behaviour.  They never get to realize that they keep losing everything and while getting nothing at the end but regrets and feelings of deprivation.   I hope I made my point clear to myself.  Thank You Lord!
.
As Pakistani society has divided itself into many occupational, status-based, age-wise and religious communities………such as youth, elders, politicians, show-biz, doctors, teachers, nurses, lawyers, journalists, farmers or Defense Area, Cant. Area, Gulshan Area, North Nazimabad Area, Gulberg Area, Model Town Area, Laloo-Khait, Surjani Town, Malir Town, Saudabad, Khokrapaar or Agha Khani Community, Khoja Community, Hindu Community, Christian Community, Memon Community, Dehli-Sodagraan Community, Saadaat Amroha Community, Rizvia Society, etc. (such division among Muslims except for administerial purpose is a kufr)………….. they all have developed their own “sense of deprivation”.
Religious people feel deprived when lose their donors and find themselves helpless for earning by physical work.
Politicians, when don’t get votes, go furious due to depression and go to any extent in revenge from both opposition and people.
Show-biz tycoons indulge into the lust of deprivation when don’t get awards and appreciation or lose fans.
Women are the most deprived part of our society as they are never satisfied with what they have and keep exploiting the term “women’s rights”.
Women love to live alive in a continuous state of depression related to their bodily shape, facial attraction and fashion.
Students convince themselves that they can’t study because of lacking facilities and good educational system.
Elders waste their old age in pushing their children into guilt by reminding the favours they had done to them and for not getting the same return.
Under-privileged think they have all the rights to become a crime-activist and prostitutes as the result of people’s negligence and as the system demands them to be.  The most famous dialogue preached by dramas and movies is, “what has society given to us? now its time to take revenge from society”.

;

قسم سے کہہ رہی ہوں اس ملک کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر کوئی، ہر کوئی، ہر شعبے کا ہر شخص، ہر گھر میں بیٹھا ہوا ہر شخص، اپنی کمیونٹی کی ایک برائی سننے کو تیار نہیں، الٹا اپنے اپنے کنوؤں کے مینڈکوں کے ہر الٹے سیدھے کام کا دفاع کرتے ہیں… ہر ایسی تنقید کو جس سے انکے دل کا چور سامنے آجاۓ  اور انکی تہذیب، روشن خیالی اور ملک و قوم کی خدمت کا پول کھل جاۓ… کہتے ہیں کہ یہ فالتو باتیں ہیں… کام کی باتوں پر توجہ دیں… مطلب کے جو انکے مطابق کام کی بات ہو وہ اہم ہے اور وہی سب کو کرنی چاہیے… واہ! کیا آزادی راۓ اور جمہوریت ہے… مطلب یہ کہ زبان تمہاری، الفاظ ہمارے… ہم تو جیسے پاگل ہیں…
.
اور جب زرداری، الطاف حسین، نواز شریف اور دوسرے سیاسی شیطانوں پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے… تو پھر شوبز کے لوگ اور کھلاڑی کس کھیت کی مولی ہیں اور کیوں معصومیت کے ڈھونگ میں انہیں بخشا جاۓ… ارے غلط باتیں ہیں، الزامات ہیں تو دفاع کرو، سچ بتادو سب کو… ورنہ اعتراف کرو…
اور میں ٹھری دل جلی، پاگل، جاہل، خود سر، بد تہذیب اور بدتمیز… ایسی ہی باتیں کرتی رہوں گی جب تک دل چاہے گا… کیسی باتیں.. ایسی… کہ میرے لحاظ سے ملک کے تمام شعبوں کے لوگ برابر کے حساس، منحت کش، سچے، معصوم، ایماندار ہیں… اور سب کا حکومت کے مال پر برابر کا حق ہے… ہر شہری چاہے جس فیلڈ کا ہو برابر ہے… ورنہ سب شیطان یا سب غافل یا سب پاگل اور جاہل…
.
آج بات کرنی ہے میں نے “احساس محرومی” کی…
.
آج تک تو مہنگائی، غربت، جہالت اور دہشتگردی کو سسٹم کی ناکامی کی جڑ بتایا جاتا تھا… آج ایک نیا بیان سنا ایک سیاستدان کا کہ احساس محرومی کی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے… کوئی کہ رہا ہے کہ احساس محرومی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے… یہ تو کہا ہی جاتا ہے کہ احساس محرومی کے وجہ سے ڈپریشن ہوتا ہے… لوگ خود کشی تک کر لیتے ہیں…دوسروں سے حسد کرنے لگتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کو قتل کر دیتے ہیں…
.
احساس تو سمجھ آ گیا… یہ محرومی کیا ہے… اگر محرومی چیزوں کے نہ ہونے کو کہتے ہیں تو اس لحاظ سے تو پاکستان کا ہر شخص خود کو محروم سمجھتا ہے… سب کے اپنے اپنے احساس محرومیوں کے معیار ہیں…
سیاستدانوں کو ووٹ نہ ملیں، مخالف جیت جائیں تو انھیں احساس محرومی ہو جاتا ہے…
دینی لوگوں کو چندہ نہ ملے تو وہ محرومین میں شامل کرلیتے ہیں اپنے آپ کو…
شوبز کے لوگوں کو ایوارڈ نہ ملے، ہزار بارہ سو لوگ تعریف نہ کریں تب تک وہ احساس محرومی کا شکار رہتے ہیں…
خواتین کو انکے من چاہے حقوق نہ ملیں تو انکی محرومی کا احساس انھیں کچھ کرنے نہیں دیتا…
طلبہ طالبات کو سہولتیں نہ ملیں تو احساس محرومی کی وجہ سے پڑھنے سے انکار کر دیتے ہیں…
بزرگوں کی بات نہ مانی جاۓ اور انکو انکے مزاج کے مطابق عزت نہ دی جاۓ تو وہ احساس محرومی سے ہر وقت چڑچڑے ہی بنے رہتے ہیں…
کھلاڑیوں کو موقع نہ ملتا رہے جب تک کہ وہ کبھی نہ کبھی کامیاب ہوکر دکھا دیں، انکا احساس محرومی ختم نہیں ہوتا…
غریب کا احساس محرومی کہ اسکے پاس کچھ بھی نہیں ہے، اسکو ہر قسم کے جرائم پر مجبور کر دیتا ہے…
.
اور ایک نئی بات بھی سامنے آئی کہ اگر کسی کی اصلاح بھی کرو تو اس کو بھی خواہ مخواہ احساس محرومی ہونے لگتا ہے کہ ہاۓ میرا دل توڑ دیا…
.
اگر محرومی معاشرے میں کوئی مقام نہ ہونے نہ پہچانے جانے کو کہتے ہیں کہ آتے جاتے ہر کوئی سلام کوئی کیوں نہیں کرتا… تو پھر یہ خالص شوبز کا ڈپریشن ہے… اور ان لوگوں کا جن کی نظر میں عزت ہوتی ہی وہ ہے جو دوسروں کے تعریف کرنے سے بنے… اسی لئے ہمارے معاشرے کی اکثریت اور خاص کر نوجوان ہر قسم کا کام ہر حد تک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں… کہ بس لوگ آگے پیچھے بھاگیں، ٹوٹ پڑیں آٹو گراف لینے کے لئے…
.
پچھلے کئی سالوں میں جو نظر آیا پریشان اور بے سکون نظر آیا… جس سے پوچھو کہ کیسے حال ہیں وہ مہنگائی کا رونا رونے لگتا ہے… بیماریوں کی تفصیل بتانا شروع کر دیتا ہے… تھکاوٹ، وقت کی کمی، مایوسی، بیزاری… پہلے تو کچھ دوسروں کے معاملات کی کھوج کرتے تھے لیکن اب تو ایک بھاگ دوڑ سی مچی ہوئی ہے… اور اسکے ساتھ ہی ذرا نظر ڈالیں شاپنگ سینٹرز پر، فاسٹ فوڈ کی دکانوں پر، بوتیک پر، شادی ہالز پر، دن بدن سڑکوں پر بڑھتی ہوئی نئی نئی گاڑیوں پر، مختلف مقاصد کے لئے نکلنے والی ریلیوں پر جن میں اکثر گاڑیاں اور موٹر سائیکلز گلی گلی پھرائی جاتی ہیں… ایک ایک گلی میں چار چار مہنگے اسکولوں پر… آۓ دن ہونے والی شادیاں اور ہر سال پیدا ہونے والے بچے…
.
یہ سب دیکھ کر صرف ایک احساس ہوتا ہے مجھے اور وہ یہ کہ اس قوم کو سب کچھ دے کرجن چیزوں  سے محروم کر دیا گیا ہے اور وہ ہے “سکون، آرام، چین، شکرگذاری، احسان مندی”…
.
احساس محرومی میں غلطی کس کی ہوتی ہے… انکی جو دوسروں کو اپنے سے کم تر جان کر انکو انکی محرومیوں کا احساس دلاتے ہیں… یا انکی جو خود کو احساس محرومی میں مبتلا کر لیتے ہیں…
عوامی سطح پر تو خیر جو اخلاق ہے ہماری ٩٥% عوام کا… عام لوگ اپنے سے نیچے والوں کو حقیر کرتے ہیں اور اپنے سے اوپر والوں سے حقیر ہو جاتے ہیں… لیکن اس میں ایک بہت بڑا اور برا کردار ہمارے سیاسی شیطانوں اور دینی تماشہ بازوں کا بھی ہے… جب اپنے ہی ووٹرز کو روٹی، کپڑا، مکان جیسی بنیادی ضروریات کو زندگی کا مقصد بنا کر پیش کیا جاۓ تاکہ لوگ اپنی چار پانچ فٹ کی ذات اور چند انچ کے پیٹ سے آگے کبھی کچھ سوچ ہی نہ سکے… ایک سے لے کر ہزار کپڑے، میچنگ جوتے، زیورات، صرف اور صرف کھانوں کی انٹرٹینمنٹ اور کھانوں کی پکنک اور پھر زمینوں کے گز بڑھانے کی کوشش…
اور پھر کوئی اور آجاۓ جاہل عوام کو اختیارات کے خواب دکھا نے… یا پھر غیر ملکی ثقافت اور رسموں اور رواجوں کے آئینے میں سکون اور خوشیوں کو تلاش کرنے کی تھیراپیز کرائی جاتی ہیں… دینی جماعتیں اور مذہبی علماء اکثر دنیا کی ہوس نہ کرنے اور دنیا کی آسائشیں چھوڑ دینے کو پریشانیوں سے نجات اور سکون باعث بتاتے ہیں…
.
خیر جو بھی ہے، ایک سوال یہ ضرور پوچھنا چاہیے سب کو خود سے کہ ہمیں کوئی احساس محرومی ہے کہ نہیں؟ اور ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کہیں یہ صرف ناشکری کا نتیجہ تو نہیں… کیونکہ الله ظالم تو نہیں کہ اٹھارہ کروڑ کے اٹھارہ کروڑ کو سزا یا آزمائش میں مبتلا کر دے…
.

“Nothing can undo Pakistan.” – Quaid-e-Azam, 24 Oct, 1947

Those who believe in Pakistan need no logic and no explanation regarding the ideology of Pakistan and its establishment.

They still need to prepare themselves to explain it to those who do not believe in it.

Sometimes, the questions are easy to satisfy others’ queries.  Not always, as some elements are not meant to be productive as they pretend.  They condition their inner satisfaction to ambiguities, chaos and disruption.

I personally came to face such people in my close surroundings.

1) The demand and making of Pakistan was not rightful?

The question has lost its validity on 14 August, 1947.  Those who recall the critics of Quaid-e-Azam only try to justify either their failure in Pakistan or their exit to foreign countries.

2) Did Quaid-e-Azam want to make Pakistan a secular state or Islamic?

This is also not a valid question as Quaid-e-Azam did not create the theory himself.  He adopted the Two-Nation Theory from Allama Iqbal and worked on it.  One must read and understand Allama Iqbal to find the answer of this question.  The people of Pakistan or politicians cannot change it.

3) Indians and Pakistanis shared same culture and traditions so we are same not different?

Allama Iqbal in his presidential address in Allahabad in 1930 stated:

“Let me tell you frankly that, at the present moment, the Muslims of India are suffering from two evils.  The first is the want of personalities. The second evil from which the Muslims of India are suffering is that the community is fast losing what is called the herd instinct. This [loss] makes it possible for individuals and groups to start independent careers without contributing to the general thought and activity of the community.”

In his presidential address 0n 23rd March, 1940, Quaid-e-Azam said, 

“The Hindus and Muslims belong to two different religious philosophies, social customs, and literature[s]. They neither intermarry nor interdine together, and indeed they belong to two different civilisations which are based mainly on conflicting ideas and conceptions. Their aspects [=perspectives?] on life, and of life, are different. It is quite clear that Hindus and Mussalmans derive their inspiration from different sources of history. They have different epics, their heroes are different, and different episode[s]. Very often the hero of one is a foe of the other, and likewise their victories and defeats overlap. To yoke together two such nations under a single state, one as a numerical minority and the other as a majority, must lead to growing discontent, and final. destruction of any fabric that may be so built up for the government of such a state.”

This is natural that when communities live together, they do inspire each other with their living style.  Muslims in India were mostly a convert from the religion of their ancestors.  They did embrace Islam but still being part of the same community, they couldn’t get rid of many rituals and traditions.  They didn’t get a chance to study Islam and understand its teachings.  They mostly relied upon their preachers/maulvis who were invited to resolve matrimonial affairs, such as marriage, divorce, aqeeqah, Bismillah, ameen.  Otherwise their job was to deliver sermon, adhan and teaching Qur’an in mosques or madrasahs.  So people other than that, remained the same as they were before.

So it is not like Hindus and Muslims had the same culture and traditions but Muslims were not aware of the true knowledge of their own religion.  Many Pro-India and moderate Muslims do not  mind it and are inclined more towards Indians than Muslim communities around the world.  As business communities rank financial growth as their first priority, they also avoid to take such issues on serious notes.

4) Why can’t India and Pakistan have friendly ties?

Friendly ties refer to a state of equality and sincerity.  There are so many disputes and grave issues need to be solved before dreaming of friendly terms between the two countries.

UN has failed in convincing India to respect UN Resolution about Kashmiri rights to choose their fate.  There are water disputes and other political issues that need to be resolved.

The idea of trade between two countries and declaring India a favourite nation without concerning how Kashmiris feel about it is a sin for sure.

.

پہلے سوالات تھے کہ پاکستان بننا چاہیے تھا کہ نہیں؟… پاکستان کو سیکیولر ہونا چاہیے کہ نہیں؟…. پاکستانیوں کے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟… 
جب انکے سوالات مل گئے تو اب نئے سوالات پیدا ہو گئے… 
بھارت اور پاکستان دوست ہو سکتے ہیں کہ نہیں… ہماری تاریخ ایک ہے… ہماری ثقافت ایک ہے… ہماری روایات ایک ہیں… ہمارا انکا کیا جگھڑا؟… 
کاش اس ملک میں اور اس ملک میں لوگوں کو پڑھنے اور صحیح طرح پڑھنے کی عادت ہوتی… علامہ اقبال اور قائد اعظم تقریبا ہر بات کا جواب دے گئے، کوئی سمجھنا نہ چاہے تو اور بات ہے… اور یہ نہ سمجھنے کی وبا خود کو امن کا داعی سمجھنے والوں، شو بز کے لوگوں اور کاروباری حضرات میں زیادہ پائی جاتی ہے… اور شاید اس میں کوئی بری بات بھی نہیں کیونکہ ان کمیونٹیز میں مالی فائدہ اولین ترجیح ہوتا ہے… اسی لئے وہ اپنا دامن بچاتے ہیں ثقافت اور معاشرت کے فرق کی بحث میں پڑنے سے… 
خیر…. علامہ اقبال کے ١٩٣٠ کے الہ آباد کے خطبۂ صدارت اور قائداعظم کے ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کے خطبۂ صدارت پڑھنے سے یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ ہندؤں اور مسلمانوں کے مذہب اور معاشرت میں کتنا فرق ہے… 
بر صغیر میں مسلمان اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر مسلمان ضرور ہوگئے تھے… لیکن اپنا ملک، شہر یا گھر بار نہیں چھوڑے تھے… دینی حضرات یا مولویوں کی ضرورت شادی، طلاق، عقیقہ، بسم اللہ، آمین جیسی رسموں کے وقت پڑتی رہی… یا پھر وہ مسجد میں اذان، جمعہ کے خطبے دیتے یا مدرسوں میں قرآن کی تعلیم… اسکے علاوہ گوشت کھانا شروع کر دیا، پانچ ارکان، وغیرہ… باقی زندگی کے رسم و رواج کافی حد تک وہی رہے… اور جاتے بھی تو کہاں جاتے… 
اس لئے یہ مسلمان بادشاہوں، علماء اور عوام کی غفلت اور غیر ذمہ داری تھی کہ انہوں نے خود کو اسلام کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کی سمجھ بوجھ سے دور رکھا… اور نتیجتا ہندؤں اور انگریزوں کے ہاتھوں سب گنوا بیٹھے… 
اگر مسلمان اور ہندو ایک جیسے ہوتے اور خوش تھے تو اتنی بڑی خونی تاریخ لکھنے کی ضرورت نہ ہوتی…. خود عوام ہی اقبال اور قائد کے خلاف ہو جاتی…. 
.

.

Urdu! Pakistan Salutes You! تجھے پاکستان کا سلام اردو

The title is adopted from the poem on Urdu “tujhay nahi sadi ka salam Urdu/the new millennium salutes you, O Urdu”  by an Indian poet and Urdu lover Ms. Haya Lata.

Urdu is the national language of Pakistan.  It is our national symbol and our identity.  National language is not a threat to any provincial or local language.  It is a source of communication and it fills linguistic gap among communities speaking different languages.  

Urdu is well-spoken and understood in India too.  Both India and Pakistan share the history of Urdu and literature as well.

Those who do not value their national language and actually try people to divert from it are the enemies of nation. 

The history of Urdu is available on internet.  Thousands of  Urdu websites are there to entertain the lovers of Urdu language and share their favourite poetry, excerpts, opinion or discussions.  Some of them are really impressive

But their participants are very few.

Today we complain that our new generation is too negligent towards their values, tradition and history.  All these things are either learned through books or passed by the elders in the family. 

How are children going to learn traditions, values and history when they are not given time to spend time with their elders and/or read books?

Teachers in schools and colleges can’t do anything about learning and reading Urdu unless parents show their interest and develop interest in their children too.  

.

اردو پاکستان کی قومی زبان… قومی زبان کسی بھی صوبائی یا علاقائی زبان کے لئے خطرہ نہیں ہوتی… بلکہ ملک میں مختلف زبانیں بولنے والی قوموں کے لئے رابطے کا کام انجام دیتی ہے… قومی زبان کی وجہ سے ملک کے لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی نہیں رہتے… 
ارود تو ویسے بھی صرف پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی بولی،  سمجھی اور لکھی جاتی ہے… کیونکہ اس کی شروعات انہی دونوں ملکوں میں ہوئی… 
.
جو عناصر قومی زبان کی اہمیت ختم کرنے میں آگے آگے ہوتے ہیں، وہ اصل میں قومی یگانگت کے دشمن ہوتے ہیں اور عوام کو ایک دوسرے سے دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں…

آج ہم اپنی نئی نسل کے گمراہ ہو جانے کا شکوہ کرتے ہیں… انکے اور انکے والدین اور بزرگوں کے درمیان جو دوری اور بیگانگی ہے اس کا رونا روتے ہیں… شکایات کرتے ہیں کہ نئی نسل کو تہذیب اور روایت کا علم نہیں، انہیں اپنی تاریخ نہیں معلوم….

تاریخ، تہذیب، روایات، یا تو کتابوں میں تحریر ہوتی ہیں یا پھر بزرگ اپنی اولادوں کو منتقل کرتے ہیں… مثال کے طور پر اگر کوئی اپنے بچوں سے صحیح اردو نہ بولے، انھیں انگلش کے سحر میں مبتلا کر دے، انھیں اتنا وقت ہی نہ دے کہ وہ بزرگوں کے ساتھ بیٹھ سکیں اور ان سے کچھ سیکھ سکیں… تو پھر کس بات کا گلہ اور کس سے… اور کیوں الزام حکومت پر اور نظام پر لگائیں… جب سارا قصور اپنا ہو…
کیوں نہیں ہم اپنے بچوں کو ارود میں لوریاں دیتے، کہانیاں سناتے… کیوں ان کو شعرو شاعری کا شوق نہیں دلاتے… شعرو شاعری تو گفتگو کا ایک فن ہے… 
.
صبح کا پہلا پیام اردو
ڈھلتی ہوئی سی جیسے شام اردو
اتریں جاں تارے وہی بام اردو
بڑی کمسن  گلفام اردو 
جیسے نئے سال کا یہ دن ہو نیا
اور بیتے سال کی ہو آخری دعا 
نیا سال نئی  رام رام اردو 
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
مجھے تو یہ امی کے دلار سی لگے
اور میرے ابو جی کے پیار سی لگے
بڑے بھائی کی یہ پھٹکار سی لگے
چھوٹی بہنا کی یہ پکار سی لگے
میرے لئے دوستوں کی دوستی سی یہ
دشمنوں کی پیاری پیاری دشمنی سی یہ
جیسے رشتوں کا ایک جام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
کبھی محبوبہ یہ ادب کی لگے
بات کرے اپنی تو سب کی لگے
قوم کی لگے نہ مذھب کی لگے
مجھے یہ زبان جیسے رب کی لگے
جو یہ کہتے ہیں زبان غیر ہے
انکے دلوں میں تو فقط بیر ہے
جاہل دیں تجھے الزام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
یہیں پے ہے جنمی، یہیں پہ ہے پلی
یہیں پہ جوان ہوئی پھولی و پھلی
یہیں کا ہے پھول یہ یہیں کی ہے کلی
خشبووں کی ڈولیوں میں بیٹھ جو چلی
چاہے پیا کا ہو گھر پردیس میں
پیھر تو اس کا ہے اس دیس میں
تجھے چاہے ہند کی عوام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
بن تمھارے محفلوں میں نور نہیں ہے
شاعری کی مانگ میں سیندور نہیں ہے
شعرکوئی جیسے مشہور نہیں ہے
ہو کے با ادب بھی شعور نہیں ہے
تجھے قطعات اور رباعی کی قسم 
رکھنا مجاز میں یہی تو دم خم 
تیری ہی تیری ہے غلام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
کیا بتاؤں یہ زباں ہے میرے لئے کیا
سر پہ رکھا ہو جیسے دست خدا
جیسے مل جاۓ مجے آپ کی دعا 
شہرتوں نے جیسے مجھے ہولے سے چھوا
میرا خاندان پہچان ہے یہی
میری آن بان اور شان ہے یہی
آ ۓ میرے کام ہر گام اردو 
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
اور بھی عظیم اور مہان تو بنے 
اور بھی حسین اور جوان تو بنے 
دل بنے کسی کا ایمان تو بنے
کسی کا خدا یا بھگوان تو بنے
اور کیا دعائیں دوں میں تجھ کو سکھی
میں تو خود تیری ہی پناہ میں پلی
اور ہو جہاں میں تیرا نام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
.

Happy Pakistan Day – 23rd March

Today is 23rd Mach, The Pakistan Day.   Is this the day for government to announce a holiday and media to show their interest in it?  What is common man’s participation in celebrating it?

That is it.  Whatever has happened is past.  The youth should take over Pakistan now.  They are talented, they are energetic, they are powerful.  They can make mistakes and learn from them.  I bet they don’t want to listen to the failure stories of our politicians.  No more unnecessary discussion for them.  They would want to see their fellows making world records.  They should stand up against unnecessary rituals and traditions.  They should force government to listen to them.  They should demand for what they want.

.

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تونے؟

وہ کیا گردوں تھا ، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا؟

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالاتھا جس نے پاﺅں میں تاجِ سرِدارا

تمدن آ فریں ،خلّاقِ آ ئین ِ جہاں داری

وہ صحرائے عرب ، یعنی شتر بانوں کا گہوار ا

گدائی میں بھی وہ اللہ والے تھے غیور اتنے

کہ منعم کو گدا کے ڈر سے بخشش کا نہ تھا یارا

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہونہیں سکتی

کہ تو گفتار ، وہ کردار تو ثابت ، وہ سیارہ 

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

حکومت کا تو کیا رونا کہ وہ اک عارضی شے تھی

نہیں دنیا کے آئین مسلم سے کوئی چارا

مگر وہ علم کے موتی ،کتابیں اپنے آبا کی

جودیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتاہے سیپارا

.
آج ٢٣ مارچ ٢٠١٢ ہے… یوم پاکستان… آج کے دن کی ایک عام پاکستانی کی زندگی میں کیا اہمیت ہے… شاید یہ کہ حکومت نے چھٹی کا اعلان کردیا ہے… اور میڈیا کی طرف سے شوروغوغا غل غپاڑہ مچایا جانا ہے کہ “قوم قومی جوش جذبے کے ساتھ یوم پاکستان منا رہی ہے”… لیکن یہ تو حکومت اور میڈیا کی آوازیں ہیں… عام پاکستانی کی آواز کیا ہے… 
.
کیا آج کے عام پاکستانی کے قومی جوش جذبے کا مقابلہ ٢٣ مارچ ١٩٤٠ کے جلسے میں موجود ایک عام ہندوستانی سے کیا جا سکتا ہے؟… کیا انکے نزدیک اقبال پارک کی اہمیت منٹو پارک سے زیادہ ہے؟… کیا وہ مینار پاکستان کی طرح قرارداد پاکستان کو بھی سر اٹھا کردیکھنے کے قابل سمجھتے ہیں؟…. 
١٩٤٠ کے ایک عام ہندوستانی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی ہمت اورشعور تھا کہ اپنے لئے ایک الگ خطہ زمین کا مطالبہ کرے اور اسے قائم کر کے دکھا دے… کیا ٢٠١٢ کے کسی آدمی، عورت یا طالب علم میں اتنی جرات اور مردانگی ہے کہ اس خطہ زمین کا دفاع کرسکے… 
.
زبان کی طاقت سے، کہ بات کہہ لے یا نغمہ بن جاۓ 
الفاظ کی طاقت سے، کہ تقریر یا شاعری کر لے 
ہاتھ کی طاقت سے، کہ گریبان پکڑ لے 
ہتھیارکی طاقت سے، کہ رعب میں لا سکے 
قلم کی طاقت سے، کہ تحریرسے سمجھا ۓ  
علم کی طاقت سے، کہ دلیل سے راہ دکھا ۓ 
یا پھرایمان کی طاقت سے، کہ خدا کا پیغام اور رسول کا ترجمان بن جا ۓ 
.
پاکستان کو بننا چاہیے تھا کہ نہیں؟… یہ فیصلہ ١٤ اگست ١٩٤٠ کو ہو گیا تھا…
.
پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے کہ سیکیولر؟… یہ دلائل علامہ اقبال کے ١٩٣٠ کے خطبۂ الہ آباد میں اور قائد اعظم کے ١٩٤٠ کے خطبۂ صدارت میں دیے جا چکے ہیں… اور وہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ…
.
پاکستان میں لوگ گمراہ اور مجرمانہ ذہنیت کے کیوں ہیں اور اتنے مسائل اور مصیبتوں میں کیوں گھرے ہیں؟… اس کا جواب… سوره المائدہ کی آیت ٥١ میں ہے، “اور الله ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا”….. سوره الانعام کی آیت ٢١ میں ہے، “اور بے شک، ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پاتے”….. سوره الانعام، آیت ٤٧، “اور کہو ان سے کہ تم دیکھتے نہیں کہ جب الله کا عذاب آتا ہے، اچانک یا علی الاعلان، تو کیا ہلاک کرتا ہے کسی کو ظالموں کے سوا؟”…….
.
پاکستان کا اب کیا ہوگا اور اس کو اب کون سنبھالے گا؟…. پاکستان میں ایک دو نہیں اٹھارہ کڑوڑ انسان بستے ہیں… ان میں کچھ نہیں کچھ نہیں تو ١٠ کڑوڑ بچے اور نو جوان تو ہیں ہی… یہ سب کے سب تو باہر جانے سے رہے… چند ہزار چلے بھی گئی تو باقی کہاں جائیں گے… بس وہی سنبھالیں گے بھی….
ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کے بہت سے بزرگ اپنی انا، خاندانی روایات، جذباتی بلیک میلنگ اوراپنی ذات کے سحر سے بھر نہیں نکلنے والے… جو ٥٠ سے اوپر ہیں اور “میں نہ مانوں” قسم کے ہیں، ان کو انکے حال پر چھوڑ دیا جا ۓ… 
.
پاکستان نوجوانوں کے حوالے کر دیا جاۓ… کامیاب نہیں بھی ہوۓ تو ناکامیوں کے مزے تو اڑالیں گے… ان کے دل میں یہ حسرت نہ ہو گی کہ کچھ بھی نہیں کیا… اچھا نہیں تو برا کر کے دکھادیں گے… بیٹھے تو نہیں رہیں گے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے… ظاہر ہے جس قسم کا خوفناک ماحول بزرگ پاکستانیوں نے پچھلے ٢٠، ٣٠ سالوں میں تخلیق کیا ہے… اس میں ان بچوں اور جوانوں نے کیا سیکھنا ہے… گھروں میں بزرگوں کا خوف، سڑکوں پر سیاسی غنڈوں کا…… لہذا غلطیاں بھی یہ خوفناک ہی کریں گے… کرنے دیں… خود ہی سیکھ لیں گے جینا…
اور نوجوانوں کو بس اتنا خیال ضرور کرنا ہو گا کہ پرانی رسم، رواج، روایات، دینی ہوں یا سماجی یا خاندانی، بری یا فالتو ہیں تو ان سے جان چھڑائیں… چاہے کتنا ہی کوئی برا مانے… بلا وجہ کے منفی محاورے اور کہاوتوں کو گفتگو سے باہر نکال دیں… 
١٠ کڑوڑ بچے چند نکمے سیاست دانوں کی ناکامیوں کی کہانیاں سن کر کیا سیکھیں گے… بچے بچوں سے اور نوجوان نو جوانوں سے سیکھتے ہیں…بڑوں کو تو انکی ہدایت کا کام کرنا چاہے… جب یہ گرنے لگیں تو سنبھال لیں…
.
ہاں اس نسل کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ….اپنی زبان، اپنی زمین، اپنی قوم …. انکے بغیر کتنی بھی بڑی کامیابی ہو، مقبول نہیں ہوتی، دنیا اسے مانتی ہی نہیں… دنیا میں بہت سے پاکستانی بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہے ہیں لیکن دوسرے ملکوں کی شہریت کی وجہ پاکستانی انہیں نہیں جانتے… عبد القدیر خان، عبد الستار ایدھی، عمران خان، ارفع کریم،  شرمین چناۓ کو ساری دنیا پاکستان کے نام سے پہچانتی ہے… 
.
کاش نو جوانوں کو علامہ اقبال کی آہ سحر لگ جا ۓ… انکی نظر، انکا سوز جگر اور نور بصیرت مل جا ۓ….
.
نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویران سے 
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی 
.
World Youth Scrabble Championship
.
.
.