The Slave Generation

Then We sent Moses and his brother Aaron, with Our Signs and authority manifest, To Pharaoh and his Chiefs: But these behaved insolently: they were an arrogant people…They said: “Shall we believe in two men like ourselves? And their people are subject to us!”…So they accused them of falsehood, and they became of those who were destroyed”….Surah Al-Mu’minoon/The Believers 45-48

“and they said, “What is the matter with this (noble) messenger, that he eats food and walks in the markets?  Why was not an angel sent down along with him, to give warning along with him?”…or that he should have obtained a hidden treasure, or should have had a garden from which to eat” and the unjust said, “you do not follow but a man under a magic spell”…Surah Al-Furqan/The Criterion, The Standard, 7/8

“They say: “We shall not believe in thee, until you cause a spring to gush forth for us from the earth… Or (until) you have a garden of date trees and vines, and cause rivers to gush forth in their midst, carrying abundant water; …Or you cause the sky to fall in pieces, as you say (will happen), against us; or you bring Allah and the angels before (us) face to face:…Or you have a house adorned with gold, or you mount a ladder right into the skies. No, we shall not even believe in thy mounting until you send down to us a book that we could read.” Say: “Glory to my Lord! Am I aught but a man,- an apostle?”… What kept men back from belief when Guidance came to them, was nothing but this: they said, “Has Allah sent a man (like us) to be (His) Messenger”… Say, “If there were settled, on earth, angels walking about in peace and quiet, We should certainly have sent them down from the heavens an angel for an apostle”……Surah Al-Isra/The Night Journey, 90-95

This is how people in the history extended the period of their slavery and couldn’t get rid of their life miseries.  They just can’t believe in things beyond their five senses.  Looks like they never wanted to learn a lesson, they never desired for any guidance.  They just wished to follow a person who can show that somehow he is a better person, he can perform something that they are unable or are lazy to do…and that he provides them a quick solution according to their likes and dislikes…and that he doesn’t interfere in the daily course of life.

This secret of motivating common man towards slavery is not a secret anymore.  Unfortunately, in last several decades, it has been revealed to common people  and now a vast majority of the human population has indulged into this competition.  How can they become the man/woman of the moment, twist people on their fingers and be called successful.  Don’t give them a time to think about the purpose of their existence.  Usurp their rights to become fan of the Prophets.   Break their bonding with God.  Scholars, politicians, performers of different fields…they all claim to solve problems…lol, by their self-fabricated ideologies and thoughts…and people believe in them… then they blame them….they try to get rid.   In the mean time, another performer takes over and the game continues.

ہر دور کے عام آدمی کا مسئلہ رہا ہےغلامانہ ذہنیت کہ وہ بادشاہ یا حکمران یا رسول, پیغمبر, ولی یا سجادہ نشینیوں کے لئے یا کسی کے بھی پیروکار یا مرشد بننے کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ شخص کسی بھی لحاظ سے ان سے مختلف یا بہتر ہو۔۔۔ نسل خاندان میں, دولت میں, رتبے میں, اثر ورسوخ میں یا پھر کرامتیں معجزے دکھانے میں یا کوئی اور غیرمعمولی صلاحتیں ہوں یا عام زندگی سے ہٹ کر اسکا رویہ اور باتیں ہوں۔۔۔ اپنے روز مرہ کے معمو لات اور عقائد میں وہ کوئی تبدیلی یا تنقید گوارا نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔  پوری تاریخ میں صرف اسلام کا پچاس ساٹھہ سالہ دور ایسا گذرا جس میں معیار تقوی کا کردارتھا۔۔۔ اجنبی شخص مجمع میں یہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ ان میں رسول کون ہیں, صحابھ کون ہیں اورعام مسلمان کون ہیں۔۔۔ بعد میں خلفاء راشدین کا بھی یہی حال تھا۔۔۔ کسی کا کوئی الگ پروٹوکول نہیں تھا۔۔۔ اور یہی امن, عدل اورخوشحالی کا راز تھا…اسکے کافی سالوں بعد شاید امریکہ اور یورپ کے لوگوں کو اس راز کا کچھہ حصہ سمجھہ آگیا۔۔۔ مذہبی پابندیوں اور حرام حلال سے ہٹ کر اسلام کے باقی میرٹ سسٹم کو انھوں نے اپنا لیا۔۔۔

بد قسمتی سے عام مسلمان زیادہ عرصے اس راز سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور نہ ہی اس سوچ کو اپنی نسلوں میں منتقل کرسکے۔۔۔ صدیوں پرانی غلامانہ ذہنیت جسے اسلام نے ختم کیا تھاکو زندہ کربیٹھے۔۔۔  نتیجہ سامنے ہے پوری امت کا۔۔۔ صرف پاکستان پر ہی نظر ڈال لیں۔۔۔ ہرمذہبی فرقے کےعلماء, پیر و مرشد یا سجادہ نشین ایک الگ ظاہری شان کے ساتھہ نظرآئیں گے۔۔۔ اسکے ماننے والےچند گھنٹوں یا دنوں کے لئے یاکسی ضرورت کے تحت اس کی بات سنتے ضرور ہیں لیکن ان باتوں کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں بناتے۔۔۔ اوران چند گھنٹوں, دنوں یا ضرورت کے وقت پر کام آنے کی قیمت نذرانے یا تحفے کے طورپر ادا کردی جاتی ہے۔۔۔ ان کرتا دھرتاؤں کو بھی شاید یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عام لوگوں سے اس سے زیادہ تو قع نہیں رکھی جاسکتی۔۔۔ یہ بے شعور لوگ ان کی ظاہری شان اور کرامتوں کی وجہ سے تو انھیں مقدس سمجھتے ہیں۔۔۔ان کرامتوں میں سے ایک دینی کتابوں کو خود پڑھنا بھی ہے۔۔۔ یہ عام لوگ انکے ایک اشارے پر توڑ پھوڑ مچاسکتے ہیں گالیاں دے سکتے ہیں مار سکتے ہیں مر سکتے ہیں۔۔۔ لیکن کسی نظام کو شعور کے ساتھہ اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنا سکتے۔۔۔ اور ایسا کرنے کے لئے جس لیڈرشپ, تربیت اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان عالموں, پیروں اور سجادہ نشینوں کی شخصیت کاحصہ نہیں۔۔۔ کاش عام آدمی اپنے عالموں, پیروں اور سجادہ نشینوں سے یہ پوچھنے کے قابل ہو جائے کہ تنگ ذہن, قوت برداشت سے عاری, مخالفوں پر طنز کےتیر چلانے والے,انکو حقیر کرنے والے, دلوں میں نفرت پیدا کرنے والے, سخت لہجوں میں چیخ چیخ کروعظ وبیان کرنے والے, علم کو محدود کرنے والے اسلام کے علمبردار, رسول کی شفاعت اور جنت کے حقدار کیسے ہو سکتے ہیں۔۔۔ اسلام تو صلح وصفائی, درگذر اوراخوت کی راہ دکھاتا ہے۔۔۔ لیکن ہمارے ہاں عالموں, پیروں اور سجادہ نشینوں کو خدا سمجھا جاتا ہے کہ ان سے سوال کرنا گناہ, انکا احتساب کفر, انکی تصحیح کرنا لعنت اور انکی جاری کردہ کتابوں کے علاوہ پڑھنا یا کسی دوسرے کو سننا فسق ہے۔۔۔۔۔۔
میرے حساب سے انکی سب سے بڑی کرامت اور خصوصیت یہ ہے کہ انھیں عام آدمی کو عام اور غلام رکھنے کا فن آتا ہے۔۔۔

ہمارے سیاستدان بھی اس فن کے ماہر ہیں۔۔۔ جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کی سب سے بڑی کرامت انکی دولت اثر ورسوخ ہیں لہذا وہ مطمئن۔۔۔ ملکوں, شہروں کی تقسیم کی جو بھی منصوبہ بندی باہر سے آئے اس پر انھیں کیا فکر۔۔۔ انکی ایک آواز پر مرنے کے لئے بیوقوف عوام موجود ہوتی ہے۔۔۔ لیکن جو ان میں سے پڑھ لکھہ کر کچھہ ڈگریاں لیکر مولویوں, جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کی غلامی سے آزاد ہونے کی کوشش کریں تو انکو واپس کنوئیں میں بندکرنےکے لئے الطاف حسین جیسے معجزات دکھانے والے موجود ہوتے ہیں۔۔۔ پتوں اور دیواروں پر انکی شبیھ اتررہی ہیں۔۔۔ اپنے چیلوں کو کھانے کی آفر کرنا فرض نہیں کرامت ہے انکی۔۔۔
اور پھر بھی بچ گئے تو  غفلت کی طرف لے جانے والا ایک  اور راستہ کھلاہے۔۔۔ فنونی لطیفو ں کی پے در پےپرفامنس,زندگی اور خوشیوں کے بارے میں میٹھے میٹھے چکنے چپڑے  فلسفے۔۔۔
کتنی عجیب سی بات ہے۔۔۔ علماءقتل کئے جائیں تو شہید, سیاستدان قتل کئے جائیں تو شہید, ان دونوں کے نظریات پر جان دینے والے کارکن شہید۔۔۔ فنونی لطیفوں کا فین بننا انسانیت اور نیکی کی نشانی, عین عبادت۔۔۔ اپنی اولاد اور اپنے نام پہ جائیدادیں بنانا فریضہ اول۔۔۔ لیکن الله اور اسکے رسول کے لئے یہی سب کیا جائے تو انتہا پسندی۔۔۔ مجھے بتاتو سہی اور کافری کیا ہے۔۔۔۔
لیکن کیاکیا جائے۔۔۔ عوام اسی ہلے گلے اور تماشوں کے عادی رہنا چاہتے ہیں۔۔۔ کسی ان دیکھے رب کی غلامی کا فلسفہ عام آدمی کے لئے ہضم کرنا مشکل ہوتاہے۔۔۔ شاید عام انسان براہ راست خدا سے تعلق قائم کرنابھی نہیں چاہتا۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: