B.A. Notes in Urdu

 

اردو نوٹس بیچلرز کے لئے۔۔۔ بیچلرز انگریزی کا لفظ ہے جسکا مطلب ہے کنوارا۔۔۔ اسکو چودھویں سال کی ڈگری کا نام کیوں دیاگیا اور پاکستان میں اسکا مقصد سمجھہ نہیں آتا۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کچھ لیولز ہونے چاہئیں انکا کوئی بھی نام رکھا جائے, کوئی بھی کسی بھی عمر میں جو لیول پاس کرے اسکو وہ ڈگری دے دیں۔۔۔

کیونکہ تعلیمی عمل کو چودہ سال تک کھینچنے کے لئے خواہ مخواہ کا سلیبس بنایا جاتاہے,  کون کتابیں لکھ رہا ہے, کیا لکھہ رہا ہے, کون سے اسباق ہیں اور انکا موضوع کیا ہے… کچھہ چیزیں پہلی کلاس سےایم اے تک پڑھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی طالبعلم نہ انھیں سمجھتے ہیں نہ ان پر بحث کر سکتے ہیں… مثلا تاریخ پاکستان, نظریہ پاکستان, اردو ادب, انگلش لٹریچر۔۔۔

ہر نئی نسل نئی حکومت کی طرح برے نظام کی وجہ اپنے سے پہلوں کی غفلت کو قرار دیتی ہے۔۔۔  لیکن نئی نسل یہ بھول جاتی ہے کہ پچھلی نسل کی غفلت کی وجہ نئی نسل ہی ہوتی ہے۔۔۔ ہر نسل کے لوگ جب اپنی اولادوں کے لئے خود غرض ہو جائیں, دوسروں کاحق ماریں, جھوٹے دستاویزات بنوائیں, رشوت لیں, رشوت دیں۔۔۔ تواگلی نسل کو جینے کے لئے صرف ایک  جرائم پیشہ معاشرہ ہی ملتا ہے جسکے حصہ دار خود انکے گھر اور خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے بیچلرز کی ڈگری کا مقصد کیا ہوتا ہے۔۔۔ پہلی جماعت سے بیچلرز تک چودہ سال اور مونٹیسوری سے سولہ سال بنتے ہیں۔۔۔ اور بیچلرز کی ڈگری لینے والے کی عمر انیس بیس اکیس سال کی تو  ضرورہو گی۔۔۔ تو ایک انسان کے پچے یا بچی کو سولہ یاچودہ سال کے مسلسل تعلیمی عمل کے بعد کس قابل ہو جانا چاہئے۔۔۔ کس حد سمجھدار اور باشعور ہو جانا چاہئے۔۔۔  کس قسم کی باتیں اسے سمجھہ آجانی چاہئیں۔۔۔ کس حد تک فیصلے کرنے اور انھیں نبھانے کی اہلیت ہونی چاہئیے۔۔۔ مذہبی, سیاسی, قانونی اورسماجی مسائل کی کس حد تک سمجھہ ہونی چاہئے اور انکو حل کرنے میں کیا کردار ہونا چاہئے۔۔۔۔ کس مضمون پر کتنا عبورہونا چاہئے۔۔۔ کیا مضامین کی کومبینیشن آج کل کے حساب سے ہے۔۔۔۔ کیا بیچلرز کی ڈگری طلبہ وطالبات کو موجودہ دور اور حالات کے حساب سے ملازمتوں یا کاروبار کے لئے تیار کرتی ہے یا اسکا مقصد یہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اگر ملازمت یا کاروبار کے لئے تیاری نہیں تو پھر چودہ یا سولہ سال سات آٹھہ گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔

ہمارے بچے ساتویں نہیں تو آٹھویں جماعت سے تو ضرورعشق ورومانس کی باتیں سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ اور بہت اچھی طرح والدین, ٹیچرز, محلے والوں کو چکر بھی دے دیتے ہیں۔۔۔اسکے لئے انھیں کسی ٹریننگ یا استاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ اور اس طرح پانچ چھہ سال میں اس فیلڈ کی اونچ نیچ کو خوب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن باقی معاملات کے معاملے میں نہ صرف وہ بچے بنے رہتے ہیں بلکہ ایک حد تک خود کو احمق, بے وقوف اور ناکارہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ اکثر والدین, رشتہ دار یا دوست وغیرہ بھی انھیں اسی قسم کی خصوصیات کا احساس دلادلا کر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

 چودہ یاسولہ سال زندگی کا ایک بہت بڑا اوراہم حصہ ہوتے ہیں۔۔۔ اتنےعرصے تو جانوروں کو ٹریننگ دی جائے تو وہ بھی قابل توجہ کام سر انجام دینے لگتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہ کام اس حد تک ان جانوروں کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں کہ انھیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے تو ان کی کمیونٹی انھیں قبول نہیں کرتی۔۔۔ اور نہ ہی وہ خود جنگل کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں۔۔۔ ساتھہ ساتھہ ایسے جانور اپنے مالک کےلئے کمائی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔۔۔ اپنے مالک کے ایک اشارے یا منہ سے نکلنے والے ایک لفظ سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

اب ذرا بیچلرز ڈگری کے خواہشمند یا وہ جو یہ ڈگری حاصل  کر چکے ہیں اپنا موازنہ ان جانوروں سے کریں, اس میں سرکس کے جانور بھی شامل ہیں۔۔۔ کہ کیا سیکھا اور کیاکرنے کے قابل ہیں۔۔۔

اردو زبان کے اصل مجرم کون ہیں۔۔۔ وہ جو خود تو بڑے اردو ادب کے ستون کہلائے مگر اپنی اولادوں کوانگریزوں کا پرستار چھوڑ گئے۔۔۔ وہ جنھوں نےقوم کو یہ سوچ دی کہ اردو زبان میں عشق ومحبت کے قصے سنائے جاسکتے ہیں, انتقام و نفرت و سازشوں سے  بھر پور اسکرپٹس لکھے جا سکتے ہیں, فتووں سے بھری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔۔۔ لیکن ملک وقوم کی کی ترقی کا کام نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ یا وہ جو اپنی اولادوں کو باہر کی یونیورسیٹیز میں پڑھاتے ہیں مگرقوم کو اردو کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ یا خود ساری عوام جو نہ بولنے کو تیار, نہ سننے کو, نہ کچہ کرنے کو۔۔۔

ہمیں کیوں اپنے اس جرم کا احساس نہیں ہوتا کہ ہرایرے غیرے کو اسکول کھولنے کی اجازت دے کر, ہر قسم کا سلیبس باہر سے درآمد کر کے, اپنے میں سے ہی اٹھے ہوئے مجرمانہ ذہنیت کے استادوں استانیوں کو تعلیمی اداروں کوبرباد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرکے ہم نے اپنے ہی بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔۔۔

بیچلرز کے لیول کے لئے کورس کی کتابیں ضروری ہیں یا کالجز اور یونیورسٹیز میں ایک تفصیلی سلیبس دے کر طلبہ سے تحقیقی کام کروانا۔۔۔ جبکہ ایک طرف حال یہ ہے کہ تیسری چوتھی پانچویں جماعت کے بچوں کو اردو میں نظم, شعر, مضمون, کہانیاں لکھنے کو دی جاتی ہیں۔۔۔ ضروردیں لیکن اسکے لئے انھیں پڑھنے کا وقت, تیاری کا وقت دیں نہ کہ بچے ٹیوشن یا بڑوں سے چیزیں لکھوا کر نمبر حاصل کریں۔۔۔

سیاق و سباق کے ساتھہ تشریح کریں, کسی ایک شاعر, ادیب, افسانہ نگار کے حالات زندگی لکھیں یا فن پر تبصرہ کریں, کسی نظم یا سبق پر تبصرہ کریں یا خلاصہ لکھیں۔۔ سروے کرکے دیکھہ لیں کہ یہ کتنا بڑا بوجھہ ہے طلبہ پر۔۔۔ اور جب بوجھہ ہلکا کرنے کے لئے والدین, اساتذہ ہی راستے فراہم کردیں توپھرجہالت کا شکوہ حکومت سے کرنا بےکارہے۔۔۔۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ نثر میں جو اقتباسات اور شاعری کے جو حصے منتخب کئے گئے ہیں وہ کس بناء پر۔۔۔  کتاب کے آخر میں مشکل الفاظ کے معنی بھی دے دیا کریں کیونکہ سو دو سو سال پرانی اردو تو اب بولی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اب تو لب ولہجہ بھی پاکستانی نہیں رہا۔۔۔ کم از کم کراچی میں تو ہندوستانی فلموں کا لہجہ اور الفاظ  نئی نسل کی شخصیت کا حصہ ہیں۔۔۔ بلکہ کافی ساری ٹیچرز اور اسکول اونرز بھی اسی تلفظ میں بات کرتی ہیں۔۔۔

کیا پاکستان میں پہلی جماعت یا مونٹیسوری سے بیچلرز تک مضامین, خاص طور پر اردو اور اسلامیات میں کوئی سیکوینس یادرجہ بندی ہے۔۔۔ کہ کس عمر یا جماعت کے بچوں میں کم از کم اتنی پڑھنے یا لکھنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔۔۔

What is Bachelor’s Degree? http://www.collegeonline.org/library/choosing-degree/bachelors-degree

As the examination days for Bachelors are approaching closer,  Google search for notes in Urdu is increasing every day.  Most searches are for Psychology, Political Science and Education notes in Urdu language.

There are many websites and facebook pages available for Urdu readers but they mostly consist of poetry, excerpts from Urdu Literature, religious substance by religious groups and news in general.  Nothing I could find that can help the students with discussions and explanation in Urdu.

I still don’t understand the reason of category “Arts” and for including Political Science, International Relations and Education in it.  To make things easier why don’t we introduce the credit system (like in many other countries).  Students can achieve the degree by availing certain credit points for different subjects.  Government will have to provide the syllabus and students can do their research to prepare notes and give examination.

The students of Arts or B.A. are mostly private students.  Even regular students don’t attend classes since they complain that lecturers and teachers ask them to come to the coaching in the evening and get the marks.  If this is really happening, no matter what , students must complain this to someone, inform personally or write to the authorities.

 

 قومی شناختی کارڈ کے لئے, ڈرائیونگ کے لئے, ووٹ ڈالنے کے لئے بلکہ شاید نکاح کے لئے بھی۔۔۔ اٹھارہ سال کا ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارہ سال دنیا میں گذارنے کے بعدایک لڑکا یا لڑکی اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنی شناخت کرواسکیں, ذاتی حیثیت میں بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔۔۔ شاید اسلئے کہ ان پربھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھنے کے بعد اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارویں سال تک پہنچتے پہنچتے ایک لڑکا یا لڑکی کم از کم دو الیکشن سیزنز تو دیکھہ ہی لیتے ہیں, اسکا طریقہ, اسکا نتیجہ, اس پر بحث مباحثہ انکے ذہن میں رہ جاتا ہے, اور وہ ذہنی طور پراس قابل ہوتے ہیں کہ ملک وقوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔۔۔ اور جو ملک اور قوم کے لئے صحیح یا غلط شخص کا انتخاب کرنے کی اہلیت رکھتا ہو وہ اپنے ذاتی زندگی کافیصلہ کرنے کابھی حق رکھتا ہے۔۔۔ اسکا مطلب ہے کہ قومی شناختی کارڈ ذمہ داری اورسمجھداری کی علامت ہے۔۔۔

کیا یہ معلومات یعنی قومی شناختی کارڈ کی اہمیت, ووٹ کی اہمیت, ٹریفک کے قوانین, شادی اور طلاق سے متعلق قرآنی احکامات,  ہمارےتعلیمی کورس کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں۔۔۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ وطالبات یعنی سولہ سترہ سال کے نوجوانوں کوان اہم موضوعات کے بارے میں بتانا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔۔۔ 

لیکن یہ باتیں ہیں اٹھارویں سال میں آنے سے پہلے کی۔۔۔ اٹھارہ کے بعد کیا کیا جائے, کیا سیکھا جائے, کیا سمجھا جائے۔۔۔

Why eighteenth year of life seems suitable for NIC, for driving, for right to vote and even for marriage?  What a person can witness and experience in just eighteen years?  Or is it enough time to become responsible for dealing personal affairs as well as communal and national matters?

What youth is supposed to do at eighteen, shouldn’t they be educated about those matters before their legitimate time?

اچھا چلیں یہ پوچھہ لیتے ہیں کہ بی اے کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔۔۔ ملازمت ڈھونڈنی ہے یا ماسٹر کرنا ہے۔۔۔

ہمارے معاشرے میں اس سوال کے متوقع اور پسندیدہ جوابات ہیں … مجھے آگے پڑھنا ہے, بہت قابل بننا ہے, دنیامیں نام پیدا کرنا ہے, باعزت مقام بنانا ہے, اپنےخواب پورے کرنے ہیں, غریبوں کا سہارا بننا ہے, ملک وقوم کی خدمت کرنی ہے۔۔۔

ان جوابات پر میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔ کہ سب سے پہلے تویہ سارے کام کرنے کے لئےہمت, توانائی, وقت اور جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بیچلرز کرنے تک آدھی بھی نہیں رہ جاتے۔۔۔ چودہ پندرہ سولہ سترہ سال کے تعلیمی عمل میں یہ سارے خزانے کام آجاتے ہیں اور یہ سارے کام خواب بن جاتے ہیں۔۔۔

دوسری بات یہ کہ بھئی کتنا پڑھ لینا ہے, کتابوں سے رٹ رٹ کر امتحان دے دے کر  چودہ پندرہ سولہ سترہ سال ایک ہی طور زندگی گذار کر جی نہیں بھر جاتا۔۔۔ کتنا قابل بننا ہے,  ویسے بھی زیادہ پڑھ لکھہ کرانسان قابل نہیں قابیل بن جاتا ہے۔۔۔ اور دنیا میں نام پیداکرنے اور مقام بنانے کی بات ہے تو میں نے خود پی ایچ ڈیز کو لانڈرومیٹ چلاتے اور عام سی پرنسپل کی جاب کرتے دیکھا ہے۔۔۔

غریبوں کا سہارا بننا اور ملک وقوم کی خدمت دو بہت پیچیدہ مسئلے ہیں جنکو بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں سمجھہ سکتےاورنہ بہت زیادہ غیر پڑھےلکھے۔۔۔ کیونکہ دونوں کاموں کا تعلق ایک مضبوط سماجی اور معاشی نظام سے ہے۔۔۔ جبکہ دونوں کومحض نیکی ثواب کا کام سمجھہ کرکسی خاص وقت اور حالات میں کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ ایک نظام کی شکل اختیار نہیں کرپاتے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےکہ ہم میں سے ہرایک زیادہ سے زیادہ غریبوں کا سہارا بن کرخدا سے نزدیک ہوناچاہتاہے اور اسے انسانیت کی خدمت اور سب سے بڑی عبادت سمجھتاہے۔۔۔ اور آج خدا نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں کی خواہش کے مطابق دردمند, بے بس, مجبور, بےسہارا, غریب لوگ کڑوڑوں کی تعداد میں سامنے لاکر کھڑے کردئیے ہیں کہ کروانکی مدد اور ہو جاؤ میرے نزدیک۔۔۔  یہ کڑوڑوں بے سہارا وہ لوگ ہیں جو کل تک ہمارے رزق کا سامان کررہے تھے۔۔۔ اگر ہم نے انکے مسائل میں دلچسپی لے کر انھیں بہتری کی طرف لے آئے ہوتےتوآج ہم ایک آسان زندگی گذار رہے ہوتے۔۔۔

پس ثابت یہ ہوا کہ نیکی کرنے کی دعا مانگنے سے پہلے اسکی منصوبہ بندی بھی کرلینی چاہئیے اور ذہنی اور  جسمانی طور پر خود کونیکی کے مواقع فراہم کرنے والےحالات کے لئے تیار بھی کرلینا چاہئیے۔۔۔

اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ انسان کسی قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ دشمنوں کو للکار کرمٹانے کی باتیں کرنے والے, روٹی کپڑا مکان فراہم کرنے کے دعوے کرنے والے, انسانوں کو آزادی اور انسانی حقوق کا خواب دکھا کر لادینیت یا سیکیولرازم کی طرف لانے والے, اپنے جوش ایمانی سےلوگوں کی تقدیریں بدل دینےوالے, اپنے خطبات سے اور فتووں سے دوسروں کے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔ مچھر جیسے حقیر سمجھے جانے والے کیڑے کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔۔۔ دوا کام آرہی ہے نہ دعا۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا کہ… ہو عالم ایجاد میں جو صاحب ایجاد, ہردورمیں کرتا ہے طواف اسکا زمانہ۔۔۔۔۔۔

اقبال کا مطلب شاید سائنسی ایجادات بھی رہا ہو جنکی وجہ سے مسلمان صاحب ایمان مغربی دنیا کے غلام بن گئے ہیں کیونکہ سائنسی چیزیں ایجاد کرنا ہمارے ہاں کفر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کافر ایجاد کرے تو مصلحتا استعمال کرنے کا فتوی موجود ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن یقینا صاحب ایجاد سے اقبال کی مراد صاحب تدبیر ہے یعنی مشکلات سے نکلنے کے لئے وقت اور حالات کے حساب سے حل بتانے والا۔۔۔ کیونکہ مسلمان اپنی حرکتوں کی وجہ سے دشمنوں کو اپنے پیچھے لگا لاتے ہیں اور جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے نکلنے کے لئے صاحب تدبیر لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ جو بعد میں قوم کے ہیرو یا باپ کہلاتے ہیں۔۔۔

ویسے جو بی اے کے بعد جابس تلاش کرنا چاہتے ہیں انکے خیال میں انھیں کس قسم کی جابس مل سکتی ہیں۔۔۔ انکی تنخواہ کتنی ہوسکتی ہے۔۔۔ اس تنخواہ میں وہ کب تک گذارہ کرسکتے ہیں۔۔۔

بی اے کی ڈگری تو ویسے بھی کئی سال پہلے اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔۔۔ بی اے میں پڑھائے جانے والے مضامین کا پاکستان میں کیا کام۔۔۔ نفسیات, سیاسیات, عمرانیات, معاشیات, گھریلو معاشیات, لائبریری سائنس, تاریخ, اسلامی تاریخ, تاریخ پاکستان, بین الاقوامی تعلقات, عربی, فارسی, تعلیم, سوشل ورک, جغرافیہ۔۔۔۔

تو جس نظام جس تعلیم کا فائدہ نہ ہو اسے بدل کیوں نہیں دیتے۔۔۔ اپنے لئے نہ سہی, اگلی نسلوں کے لئے سہی۔۔۔وہ دعا دینگی کہ کوئی ہمارے لئے کام  آسان کرگیا۔۔۔

میر امن دہلوی  – 1809 – 1733              سرسید احمد خان – 1898 – 1817

مولوی نذیر احمد – 1912 – 1831            مولانا محمد حسین آزاد – 1910 – 1832

سید مہدی علی محسن الملک – 1907 – 1837     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857         مولوی عبدالحق – 1961 – 1870

منشی پریم چند – 1936 – 1880             مرزا فرحت الله بیگ – 1947 – 1884

رشید احمد صدیقی – 1977 – 1892         احمد شاہ پطرس بخاری – 1958 – 1898

غلام عباس – 1982 – 1909        خواجہ میر درد – 1784 – 1720             میر تقی میر – 1810 – 1722

خواجہ حیدر علی آتش – 1846 – 1778   مرزا اسد الله خاں غالب – 1869 – 1797

مومن خان مومن – 1856 – 1800        نواب مرزا خان داغ دہلوی – 1905 – 1831

سید فضل الحسن حسرت موہانی – 1951 – 1875     علی سکندر جگر مراد آبادی – 1960 – 1890

علامہ اقبال – 1938 – 1977     فیض احمد فیض – 1984 – 1911

مرزا محمد رفیع سودا – 1781 – 1703     شیخ محمد ابراہیم ذوق – 1854 – 1789

میر ببر علی انیس – 1874 – 1802     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

نظیر اکبر بادی – 1830 – 1735     علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857

سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی – 1921 – 1843      شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی – 1982 – 1896

سیماب اکبر آبادی – 1951 – 1880    احسان دانش – 1983 – 1892

حفیظ جالندھری – 1982 – 1900

یہ اردو ادب کے چند مشہور نام ہیں۔۔۔ کچھہ شاعر اور کچھہ نثر نگار۔۔۔ ان میں سے کچھہ کےنام پہلی جماعت سے سنتے اور پڑھتے چلے آئے ہیں پھر بھی نہ انکی تاریخ پیدائش یاد ہوتی ہے نہ تاریخ وفات, نہ جگہ پیدائش اور نہ وجہ پیدائش۔۔۔ چودہ سالوں کے دوران جب انکا نام آئے نوٹس بنانے کے لئے بھاگ دوڑ مچی ہوتی ہے۔۔۔ ان میں سر فہرست نام ہے سرسید احمد خان, علامہ اقبال اور غالب۔۔۔

ویسے اتنے سارے ناموں میں صاحب تدبیر کون نکلا۔۔۔ میرے حساب سے علامہ اقبال۔۔۔ ایک وژن دے کر ہندوستان کی مسلمان اقلیت کو پاکستان کی مسلمان اکثریت میں بدل دیا۔۔۔ قلم اور سوچ کی طاقت کا صحیح استعمال۔۔۔

باقی سب بھی ٹھیک تھے, انہوں نے اپنے لحاظ ادبی کام بھی کئے, سیاسی بھی, مذہبی بھی اور سماجی بھی۔۔۔ مزاح بھی لکھا اور بچوں کے ئے بھی۔۔۔ غزل, نعت, مرثیہ, رباعی, نظمیں۔۔۔۔۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انکے کلام میں یہ سب مل جاتا ہے۔۔۔

دوسرا بڑا نام حفیظ جالندھری کا ہے جنھوں نے اقبال کے تصور پاکستان کے مقصد کو سمجھتے ہوئے قومی ترانہ لکھہ ڈالا اور کیا کمال لکھا کہ جتنی مرتبہ پڑھیں مزہ آتا ہے۔۔۔ کم الفاظ کے شعروں کے قافیہ اسطرح ملائے ہیں کہ نہ پڑنا مشکل نہ یاد کرنا اور مقصد بھی سمجھہ آجائے دو قومی نظریے کا۔۔۔

ویسے ان دو بڑے ناموں کو ہم نہ جانے کیوں پیچھے رکھتے ہیں۔۔۔ حسد کرنے یا مقابلے کی بات نہیں۔۔۔ ذرا سب کی تاریخیں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ سب ہی اگے پیچھے ایکدوسرے کے زمانے سے وابستہ تھے۔۔۔ ایک ہی خطے کے رہنے والے تھے۔۔۔ ان میں سب سے پرانے میر درد اور سب سے نئے فیض احمد فیض ہیں۔۔۔ لیکن جس نے کچھہ حاصل کرلیا وہ دو بڑے نام یہی تھے۔۔۔ اقبال اور حفیظ جالندھری۔۔۔

ویسے بی اے  کے باقی مضامین بھی پڑھنے کی نہیں بلکہ ٹی وی پروگرامز دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔۔۔ تقریبا سارے مضامین کے موضوعات پر کسی نہ کسی چینل پر بات چیت یا بحث ہورہی ہوتی ہے۔۔۔ اخبارات اور رسالوں سے بھی نوٹس بنائے جاسکتے ہیں۔۔۔

سیاسیات میں دنیا کی مشہور تقریریں بھی شامل کرنی چاہئیں جن میں قائد اعظم کی تقاریر بھی شامل ہوں اوران لوگوں کے حالات زندگی جن کی کوششوں نے انکے ملکوں کی سیاست پرمثبت اثر ڈالا۔۔۔ خواہ مخواہ میں صدیوں پرانےسیاسی نظام جو اب کہیں نہیں ان پر بحث کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ انھیں تو حوالہ کے لئے پڑھیں اور بس۔۔۔ البتہ خلافت مدینہ اور رسالت کے سیاسی پہلوؤں کو ضرور کورس میں شامل ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔

ایجو کیشن تو مضمون نہیں بلکہ خود ایک کیٹیگوری ہے۔۔۔ اس میں تو سارے ہی مضامین آجاتے ہیں۔۔۔

بلکہ آرٹس گروپ ختم کرکے جتنے مضامین ہیں انھیں دو بنیادی کیٹیگوریز سیاسیات اور تعلیم میں لازمی کردیں۔۔۔ دو سال یعنی سات سو تیس دن کافی ہو سکتے ہیں اگرصحیح طریقے سے پابندی کے ساتھہ پڑھایا جائے۔۔۔

یہ جو کچھہ اسباق اور کچھہ مشقیں ہم تقریبا ہر سال کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں وہ طریقہ بھی تبدیل ہونا چاہئیے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو  سوچنے کے لئے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو سوچنے کے لئے۔۔۔

 

اردو زبان کے امتحانات۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کے ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے کیا۔۔۔ اتنا غصہ آتا تھا پرچوں میں الٹے سیدھے سوال پڑھ کر۔۔۔

روشنی ڈالئے, اظہار خیال کیجئے, تبصرہ کیجیے۔۔۔  بھئی یہ بھی تو بتائیں یہ سب کرتے کیسے ہیں۔۔۔ کیا اظہار خیال کا مطلب ہوتا ہے ذاتی رائے, توواقعی سچی رائے لکھنے پر نمبرز مل جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو قسم کے سوال سب سے زہر لگتے تھے۔۔۔ ایک یہ کہ, بتائیے شاعر اس شعر میں کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی وہ شاعر جو انتقال فرما چکے ہیں۔۔۔ بھئی یہ تو شاعر خود ہی بتا سکتاہے, ہمیں کیا پتہ اب کہ وہ کسں سے کیاکہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اصولا اس قسم کے سوالات کے لئے زندہ شاعروں کی شاعری کا انتخاب کرناچاہیے کہ انسان کبھی ملاقات کرکے پوچھہ ہی لے کہ بھئی آپ اپنے شعروں میں کیا کہنا چاہتے ہیں, تفصیل سے بتائیے, امتحانات میں جوابات لکھنے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسےجو شاعرآج زندہ ہیں انکا کلام انکے مرنے کے بعد اردو سلیبس کا حصہ بنے گا۔۔۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ امتحانات میں سوالات کا اندازجب تک بھی یہی رہے گا۔۔۔ لہذا آج کے شاعروں کو چاہیے کہ کل کے طلبہ وطالبات کی آسانی کے لئے اپنی شاعری کی وجوہات , اپنے خیالات قلمبند یا فلمبند کروا جائیں۔۔۔

ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اگرزندہ شعراء, ادیب اور افسانہ نگاروں کے لکھے کو پڑھایا جائے, بلکہ اردو کے پیپرز انھیں سے چیک کروائے جائیں۔۔۔ ایک تو انکا دل ہی خوش ہو جائے گا, دوسرے انکو کام مل جائے گا, تیسرے ان میں مزید بہتر اور کچھہ نیا لکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔۔۔

اچھا, دوسرا سوال جو کہ سوال نہیں بلکہ مطالبہ ہوتا تھا اور مجھے نہایت عجیب لگتا تھا وہ یہ کہ۔۔۔ فلاں فلاں بات یا کسی کے جملے پر بحث کیجئے۔۔۔ اب پہلی بات تو یہ کہ ہمارے گھر میں بحث مباحثے پر پابندی تھی, امی کوسخت برا لگتا تھا زبان چلانا, اسلئے پحث کرنا ہی نہیں آتی تھی۔۔۔ دوسرے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کاپی پر بحث کیسے کی جاتی ہے کیونکہ بحث کرنے کے لئے کسی دوسرے کا سامنے ہونا اور بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔ خود ہی خود تو یا پڑھا جا سکتا ہے یا لکھا جاسکتاہے, بحث نہیں کی جاسکتی۔۔۔

یہ تو اب پتہ چلا کہ کسی بات کی بال کی کھال اتار دینا, کہاں سے شروع ہوئی, کیسے شروع ہوئی, اس کے اچھے یابرے اثرات کیاہوئے, انجام کیا ہوا۔۔۔ یہ سب کچھہ لکھنا بحث کرنا کہلاتا ہے۔۔۔

اچھا ٹیچرز اتنا بتاتے نہیں جتنا امتحانات میںلکھنے کو دیتے ہیں۔۔۔ اورآجکل تواورغضب ہے۔۔۔ کچھہ بھی نہیں بتاتے اور سب کچھہ پوچھہ لیتے ہیں۔۔۔

 سب سے بڑا سانحہ تعلیمی دور کا یہ ہوتا ہے کہ ساری چیزیں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رفتہ رفتہ سمجھہ میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور پڑھے لکھے کا حال اس کرکٹر جیسا ہوجاتا ہے جو خود تو کبھی صحیح نہ کھیل پائے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وہ مشورے دیتاہے, وہ تنقیدیں کرتا ہے  جیسے بابائے کرکٹ ہے۔۔۔

اچھامزے کی بات یہ ہے کہ سارے طالبعلم اپنے زمانےمیں برے نظام تعلیم کا رونا رورہے ہوتے ہیں۔۔۔ مگرجب والدین بنتے ہیں تو کہتے ہیں, ہمارے زمانے میںبھی تو آخرپڑھائی ہوتی تھی, ہمارے اساتذہ ایسے سخت اور قابل ہوتے تھے, ایک آجکل کے ٹیچرز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب کہتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی یا کے ٹیچرز کل انھیں کے زمانے کے اسٹوڈینٹس تھے۔۔۔ کل انھوں نے جو سیکھا آج سکھا رہے ہیں۔۔۔

یہ کوئی نہیں کرتا کہ بی اے کے ایجوکیشن/تعلیم منتخب کرنے والوں سے پوچھے کہ تمھارے ہوتے ہوئے  تعلیمی نظام میں بہتری کے بجائے براوقت کیسے آیا۔۔۔ سترہ, اٹھارہ, انیس, بیس, اکیس۔۔۔ پانچ سالہ اعلی تعلیم کا کیا نتیجہ نکلا۔۔۔۔

کم عمری میں اگرکسی نے کوئی بہت بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے تو اب تک صرف دوشخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ۔۔۔ محمد بن قاسم الثقفی اورفاتح سلطان محمد یا محمد ثانی۔۔۔

محمد بن قاسم الثقفی کاتعلق شہر طائف سے تھا جہاں توہین رسالت کی گئی اسطرح کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتھر مارمار کرشدید زخمی کر دیاگیا, اور جب الله سبحانھ وتعالی نے فرشتے بھیجے یہ پوچھنے کے لئے کہ اگرآپ صلی الله علیہ وسلم چاہیں توشہر کو انتقاما تباہ کردیا جائےتو فرمایا کہ نہیں, یہ نادان لوگ ہیں, شاید ان کی نسلوں میں سے ایمان والے لوگ پیدا ہوں۔۔۔ پتہ نہیں طائف کے باشندوں کو معلوم ہے کہ نہیں کہ وہ کتنی عظیم قوم ہیں, انکا ایک بیس سالہ نوجوان ہندوستان کی سرزمین اور خاص طورپرسندھ کی سرزمین کے لئے رحمت بن کرآیا۔۔۔ کبھی پاکستانیوں نے طائف والوں کا شکریہ اداکیا۔۔۔۔۔۔ صرف سترہ سال کی عمر میں کامیاب فوجی آپریشن کیا اور ہنوستان میں پہلےاسلامی سیاسی نظام کی بنیاد ڈالی۔۔۔ کل بیس سالہ زندگی, نہ قبر کا نام و نشاں, نہ کوئی  پتھریلی یادگار۔۔۔ لیکن آٹھہ سو سال بعد بھی کڑوڑوں مسلمان بغیر کسی مطلب کےعزت اورفخر سے نام لیتے ہیں۔۔۔

فاتح سلطان محمد کاتعلق ترکی سے تھا۔۔۔ اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی حکومت کا خاتمہ کردیا۔۔۔ ترکی کے لوگ پانچ سو سال بعد بھی انھیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔۔۔  اور باقی اسلامی دنیا بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔۔۔ 

تصور کیا جاسکتا ہے کہ اتنی چھوٹی عمروں میں اتنی بڑی کامیابی کے لئے انکی سولہ سترہ سال کی عمر تک کی زندگی کیسی گذری ہوگی۔۔۔ یہ ہمارے مسلمان نوجوان تھے جن پر ان کے بڑوں نے بھروسہ کرکے اتنی بڑی ذمہ داریاں ڈالیں۔۔۔

اب ذرا آج کے بڑے اور نوجوان, دونوں کا رویہ دیکھیں زندگی, قوم اور ملک کے بارے میں۔۔۔ کیا آج کے بڑوں کو حجاج بن یوسف اور سلطان مراد کی طرح اپنی تربیت اور تعلیم پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے کسی چھوٹے کو اتنا بڑاکام کرنے دیں کہ ملک وقوم کی تاریخ بدل جائے۔۔۔ کیا ہمارے ہاں نوجوانوں کو ملک وقوم سے متعلق کوئی نور بصیرت دیا بھی جاتا ہےکہ نہیں۔۔۔

اوپر والے دونوں سوالوں کا جواب ہے نہیں۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں اولاد کو ملک وقوم کی امانت نہیں بلکہ بہت عرصہ تک اپنابچہ ہی سمجھا جاتا ہے اوربچہ بھی اسی میں خوش رہتا ہے کہ میں معصوم ہوں لہذا بڑا کام کرنے سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ نور بصیرت جن ذرائع سے سمجھہ آتا ہے یعنی صبر مطلب کہ جمے رہنا, حکمت یعنی صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھہ,  تزکیہ نفس مطلب کہ غیر ضروری باتوں اور کاموں سے اجتناب, تفکر, یقین۔۔۔ اسکے لئے وقت کس کے پاس ہے۔۔۔

البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں کچھہ نہ کچھہ نوجوان اتنی مایوسیوں اور بند ماحول میں بھی خود ہی اپنے لئے زندگی کاراستہ چن لیتے ہیں اور اسطرح اکثر دوسروں کے لئے بھی زندگی آسان کردیتے ہیں۔۔۔

توہین رسالت کے ذکر پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا نام یادآجاتا ہے اور ساتھہ ہی ممتاز قادری, جس نے کچھہ ملاؤں کی جوشیلی تقریریں سن کر اقدام قتل کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ ملازمت تو حکومت کی کررہا تھا مگر اسکی وفاداریاں مولویوں کے ساتھہ تھیں, اس نے اپنی عقل, اپنے جذبات, اپنے اعمال کو اپنے عالموں کے اختیار میں دے رکھا تھا۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملا دوسروں کو تو جوش دلاتے ہیں لیکن خود کوئی ایسا کام نہیں کرتے۔۔…۔ اور جو انکی تقریریں سن کر قانون ہاتھہ میں لے اسے جنتی قرار دے کر لوگوں کو اسکے پیچھے لگا دیتے ہیں۔۔۔

ہماری فلم انڈسٹری اوراردو ادب کےکچھہ لکنے والوں نے بہت پہلے سے اس سوچ کو عام کیا ہوا ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر خودانتقام لینے والا اور اس کے لئے قانون کو توڑنے والا عوام کا ہیرو ہوتا ہے۔۔۔

شاید اسی عام تاثر کی وجہ سے ہمارے ہاں کے ہر مردوں عورتوں کو اپنی غلطیاں, اپنے جرائم جسٹفائے کرنے کی عادت ہوگئ ہے۔۔۔ اور شاید اسی لئے ممتاز قادری کا جرم ہمیں نظر نہیں آرہا۔۔۔

توہین رسالت کا قانون ہونا چاہئے اس میں تو کوئی بحث ہی نہیں۔۔۔ لیکن توہین کے مجرم کو بغیر وارننگ قتل کرنا, تعلیم سے ہٹانا, ڈرانا دھمکانا, گھریا علاقے سے نکال دینا۔۔۔ کونسا اسلام ہے۔۔۔ کیا اسلامی طریقہ یہ نہیں کہ اسے عدالت میں لےجایا جائے, اسکی بات سنی جائے, اسکو بحث کرنے کاموقع دیا جائے۔۔۔ کیا پتہ وہ توبہ ہی کرلے۔۔۔

ویسے بھی اسلامی تعلیمات کامقصد انسانوں کی اصلاح کرنے کا موقع دینا ہے, فورا سزانہیں۔۔۔ اور پھراگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے رسول کی, قرآن کی عزت کرے تو پھر وجہ بھی توفراہم کریں۔۔۔۔

ویسے کیا مولوی ہونے کے لئے ضروری کہ وہ مسکین, دوسروں کی خیرات زکواہ پر پلنے والا, محدود سے علم والا, بے ڈول روتا پیٹتا شخص ہو۔۔۔ یا پھرایک خاص لباس پہنے, گردن اکڑائے, اپنی کرسی پر بیٹھہ کر دوسرے فرقوں کی برائیاں نکالنے والا, لوگوں کے عام مسائل سے ہٹ کراپنی خانقاہوں اور آستانوں پردکانداروں کی طرح بیٹھہ کرگاہگوں کا انتظار کرنے والا بے ڈول کوئی شخص ہو۔۔۔ آخر مولوی کوئی نارمل انسان کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ سوال کرے, سوال سنے, جواب دے, جواب لے۔۔۔

 

Is current educational process in private schools worth spending money on it?

How many O’ Levels students have completed their A’ Levels since it’s introduction in Pakistan?  How many of them have really achieved what they wanted?

ایک اہم بات ہے اوروہ یہ, کہ طلبہ کو خود بھی پوچھنا اورسوچنا چاہئے۔۔۔ کہ بی اے میں دو سال کے لئے ایجوکیشن اور پھر مزید بی ایڈ کے لئے دو یاتین سال کی پڑھائی کا مقصد کیا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں جتنی دیر لگتی ہے رزلٹ آنے اور تعلیمی سال شروع ہونے میں, تو چار پانچ سال کے بجائے تقریبا سات سال لگ جاتے ہیں۔۔۔ بی اے سال اول کی طالبعلم جوعموما اٹھارہ انیس سال کی ہوتی ہے, بی ایڈ کرنے تک پچیس چھبیس کی ہوجاتی ہے۔۔۔ اکثر تو اس دوران اس کی شادی ہوجاتی ہے اور ملازمت اسے گھر اور بچوں کے لئے کرنی پڑتی ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عام پرائیویٹ اسکولوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس لڑکیاں کم تنخواہ پر رکھہ کر کام چلایا جاتا ہے۔۔۔ لڑکے شاید ہی ایجوکیشن میں آتے ہوں گے۔۔۔

پھر یہ کہ دوسال ایجوکیشن پڑھنے کے بعد ان میں کیا صلاحیتیں پیدا ہوئیں کیا وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ۔۔۔ آزادانہ اور مثبت سوچ رکھتے ہوں۔۔۔ کسی بھی موضوع پر لکھہ سکیں یابحث کرسکیں۔۔۔ پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرسکیں۔۔۔  کسی بھی درجہ کے بچوں کو نتیجہ خیز بنیادی تعلیم دے سکیں۔۔۔ تعلیمی نظام میں جو غلطیاں ہیں انھیں تبدیل کرسکیں۔۔۔

آج تک کےبحث ومباحثوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج تک ہم نے اپنے نظام تعلیم کی ناکامی کا صرف ایک اندازہ لگایا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ شاید ہم مغربی دنیا کے نظام تعلیم کو نہ صحیح سمجھہ پائے اور نہ رائج کرپائے۔۔۔ نتیجہ کے طور پہ ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو یا تومغربی دنیامیں کامیابی حاصل کرچکے ہوں یا کم از کم اسکے حق میں بول سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اندازہ نہ لگا پائے کہ یہی تو ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے۔۔۔

دوسری اہم سوچنے والی بات یہ ہے۔۔۔ کہ ہمارے ایجوکیشن/ تعلیم کے سلیبس میں حسب عادت غیر ملکیوں کے نظریات کے علاوہ دارلعلوم دیو بند, علی گڑھ تحریک, ندوہ العلماء وغیرہ کا ذکر ہے لیکن کہیں بھی ابوعلی الحسین ابن عبدالله ابن سینا اور ابن طفیل کے نام کا ذکر نہیں جنکے نام خاص طور پرایجوکیشنل فلاسفی یعنی فلسفہ تعلیم کے موضوع پر مغربی دنیا میں افلاطون اورارسطو کے ساتھہ آتے ہیں۔۔۔ بو علی سینا نے مونٹیسوری اور یوتھہ کی تعلیم کے اصول وضع کئے۔۔۔ ہم جانتے نہیں۔۔۔ یہ مسلمانوں پر ظلم نہیں تو کیا ہے۔۔۔ ایجوکیشنل سائیکا لوجی کی انگلش کی کتاب (جسکو ڈاکٹر عبدالرؤف نے لکھا ہے جو کہ کافی ڈگریز ہولڈر ہیں) سے اسلامی حوالہ جات غائب ہیں۔۔۔ ایجوکیشن کی انگلش میں کورس بک کا سائز ہے تقریبا پانچ انچ بائے   تقریبا سات انچ اور کل صفحات کی تعداد ایک سو چونتیس۔۔۔ گو کہ اس میں امتحانات میں آنے والے عام سوالات کے جوابات  موجود ہیں اور طلبہ نے صرف رٹا لگانا ہے۔۔۔  لیکن طلبہ کے تعلیمی رجحان کے لحاظ سے تو یہ چھوٹی کمزور سی کتاب بھی بہت موٹی ہے۔۔۔

عربیوں نے اپنے مفکرین کے مجسمے بنا کر انکو خراج تحسین پیش کیااورہم ایک علامہ اقبال کی قدر نہ کر سکے۔۔۔  البتہ ہمارے سیاستدانوں نے افتتاحی تختیوں کی یا پھر چوک پر پتھر سے بنے آرٹ کی شکل میں اپنی نا اہلی کے ثبوت ضرور چھوڑے ہیں۔۔۔ کراچی میں جگہ جگہ نصب ملیں گی۔۔۔  میں اسے کہتی ہوں اپنی زندگی میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے کتبے لگانا۔۔۔ کیونکہ یہ تختیاں ہوتی ہیں جن پر انکے کل کارناموں کی تاریخ لکھی ہوتی ہےانھیں اپنی قوم سے تو توقع ہوتی نہیں کہ وہ انھیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےاور سچی بات ہےکہ ۔۔۔ جس قسم کے نظام تعلیم کی پاکستان میں ضرورت ہے اس کے لئے ماں اور باپ تو اگلےسو سال تک راضی نہیں ہوں گے,  سرپرست ہاتھہ نہیں رکھنے دینگے, ڈونرز فنڈنگ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔

پہلی چیز تو یہ پسند نہیں آئے گی کہ تعلیمی کورس سب کے لئےایک جیسا ہو, دوسرے یہ کہ لوکل سلیبس پر مشتمل ہو, تیسرے یہ کہ بچوں کو گدھا بنائے بغیر کچھہ سکھایا جائے, چوتھے یہ کہ مقابلہ بازی نہ ہو, پانچویں یہ کہ موجودہ طریقوں اور سوچ سے ہٹ کر ہو, چھٹے یہ کہ کم بجٹ کا ہو, ساتویں یہ کہ اس میں کسی کی شو شا نہ ہو۔۔۔۔۔۔

لہذا یہ تجربہ کیا جاسکتا ہے صرف یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں پر۔۔۔

شاید اسی لئے زیادہ تر رسولوں اور پیغمبروں کو والدین کے ہوتے ہوئے بھی ایک یا دونوں والدین سے دور رکھہ  کرپالا گیاہو۔۔۔

ان یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نیوٹرل ہوتے ہیں۔۔۔ اگرانھیں اچھائی کی طرف راغب نہ کیا جائے تو خودبخود برائی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔۔۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ معاشرے کے خلاف انتقامی جذبات و خیالات بھر کر ان کو اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور معاشرے پر کس بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں اسکی مثالوں سے صرف پاکستانی معاشرہ نہیں بلکہ ساری دنیا بھری پڑی ہے۔۔۔

نظام تعلیم میں سے ذرا دیر کو تربیت اورتنظیم والاحصہ نکال دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہماری زندگیوں سے تو یہ عرصہ دراز سےغائب ہی ہے اور والدین سمیت کوئی اس میں ذاتی طور پر اورعملی طور حصہ لینے پرتیار نہیں۔۔۔ بلکہ شاید وزارت تعلیم سے بھی اسکا مطالبہ کرنے پر تیارنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میرے حساب سے جو کچھہ وزارت تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ہے لکھنا اور پڑھنا سکھانا اور حساب کتاب کی سمجھہ بوجھہ پیدا کرنا۔۔۔

پھر وزارت تعلیم ملک کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاملات سے بیگانہ رہتی ہے جہاں امراء ور شرفاء کےبچے کچھہ سیکھنے سکھانے جاتے ہیں۔۔۔ اور باقی جوآبادی بچی اس کا شاید دس فیصد سرکاری اسکولوں کا رخ کرتا ہوگا۔۔۔ تو اتنی کم تعداد کے لئے صرف لکھنے پڑھنے اور تھوڑے بہت حساب کتاب سکھانے کا بندوبست کرنا موجودہ تعلیمی بجٹ میں کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہے بھی تو تعلیمی بجٹ کو بلاوجہ کے اور فضول ترین بے نظیر انکم سپورٹ کے بجٹ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔۔

I don’t know why has Turkey agreed upon supporting the most useless Benazir Income Support Program in Pakistan?  Oh, I get it.  It could be the program to generate income for Benazir’s poor family.  Any country must visit Pakistan and take public opinion before responding to our official beggars.

اچھا اس بجٹ میں سے تعلیمی اداروں کی دیکھہ بھال بھی نکال دیں تو جو کام بچا وہ خیراتی اداروں میں اور یتیم خانوں میں ہو ہی رہا ہے۔۔۔ لہذا پاکستان میں کم از کم دس سال تک وزارت تعلیم کی ضرورت نہیں۔۔۔

اب جو کام بچا ہے تعلیم سے متعلق, یعنی لکھنا پڑھنا گننا, اسکے لئے پورا پورا سال ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچے تو زیادہ جلدی اور اچھا نتیجہ دے سکتے ہیں۔۔۔

اپنے ملک کا جو بیڑہ ہم سب نے مل کرغرق کیا ہے۔۔۔ اسکو دیکھتے ہوئے اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ بھلا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔ ملازمتیں تو پہلے ہی کہیں نہیں ہیں۔۔۔

بہت آسانی سےسمجھہ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ پرائیویٹ اسکولوں کالجوں والے یا تو ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر تے ہیں یا پھر پرائیویٹ اداروں کے درمیان گھومتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں کالجوں میں جائیں بھی تو مقصد کچھہ دینا نہیں ہوتا بلکہ آسان ملازمت اور حکومتی مراعات کا حصول ہوتاہے, اسی لئے ان سے بہت امیدیں رکھنا فضول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری اور خیراتی اسکولوں اور اداروں میں تھوڑ ے بہت ہی سہی پڑھے لکھے باشعور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ فٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔

اس کے علاوہ بھی ذرا دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سے مسلمان ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک بھی پاکستان سےبد تر حالت میں ملیں گے۔۔۔ پڑھنے پڑھانے والوں کے لئے ہر ملک کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں اسکی کچھہ شرائط ہیں۔۔۔ ایک صبر یعنی جلد بازی نہ کرنا۔۔۔ دوسرا قناعت یعنی بہت زیادہ کی توقع نہ رکھنا۔۔۔ تیسرا تسلسل کے لئے مستقل جگہ اور اسباب کا انتظام ہونا تاکہ غیر متوقع حالات کا اثرنہ پڑے ۔۔۔ چوتھے, کیونکہ مستقل مزاجی سے کسی مقصد کے لئے کام کرنے والوں کی کمی رہتی ہے, اس کے لئے متبادل انتظام رکھنا۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ دو ہزار گیارہ میں بھی کسی نے مونٹیسوری اورایلمینٹری کلاسز میں وڈیوز اور کمپیوٹرز کو مستقل ذریعہ تعلیم نہیں بنایا۔۔۔ جبکہ پرائیویٹ, سرکاری اور خیراتی۔۔۔ سارے تعلیمی ادارے اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ اکثر انسانی ذرائع کا اچھا متبادل  بھی ثابت ہوتے ہیں۔۔۔

کسی نے بہت اچھی بات کی تھی کبھی۔۔۔ کہ ساری اردو الف سے ے, ساری انگلش اے سے زی/زیڈ اور سارا حساب ایک سے دس تک کے ہندسوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کم ازکم اتنی تعلیم تو کوئی بھی دے سکتا ہے اور کوئی بھی لے سکتا ہے۔۔۔ اور کتنے سال لگتے ہیں اتنی سی چیزیں سکھانے میں۔۔۔ کیا الف سے آم, ب سے بلی , آموں کی تعداد اور رنگ, بلیوں کی حرکات بتانے کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

سب سے پہلا کام تو یہ کرسکتےہیں کہ کچھہ عرصہ کے لئے تعلیمی عمل کو تین بنیادی حصوں/لیولز میں تقسیم کردیں۔۔۔  پہلے حصہ کا تعلق عمراورکسی مقررہ وقت سے نہ ہو بلکہ اسکا مقصد صرف اور صرف خود سے پڑھنے, لکھنے اور گننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو۔۔۔  ایک خاص بنیادی درجے تک  کا امتحان جو بھی جس عمر اورجس حال میں بھی پاس کرلے اسے ایک ڈگری دے دیں۔۔۔ ایسے امتحان ہر چھہ ماہ بعد لئے جا سکتے ہیں۔۔۔ معاشرہ انسانوں پرمحنت کرنے سے بنتا ہے, چیزوں پر نہیں۔۔۔ انسان صحیح ہوں تو چیزیں رفتہ رفتہ صحیح ہوجاتیں ہیں۔۔۔

اگر ایجوکیشن/ تعلیم کو نویں جماعت  سے شروع کردیں۔۔۔۔۔۔ ( جوکہ مشکل نہیں کیونکہ یہ تجربہ  بہت پہلے ہمارے اسکول میں نویں جماعت میں کیا جا چکا ہے اور وہ بھی سائنس کی کیٹیگوری میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کالج کے مزید دوسال ملا کراسے چار سال کابنادیں۔۔۔ اگر اس چار سالہ کورس میں چھٹیوں کی تعداد کم کر کے وقت اور ایام کی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھہ پڑھایاجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں۔۔۔

کیا مشکل ہے۔۔۔ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

کیا کہا حکومت نہیں کرے گی, نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت کی بات کون کررہاہے۔۔۔ یہاں عوام اور حکومت ایک دوسرے کی سنتے ہی کب ہیں اورکب پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں میں تو آج تک بھی مونٹیسوری سسٹم نہیں ہے۔۔۔ پھر یہ ہمارے تعلیمی اور معاشرتی نظام کا حصہ کیسے بن گیا کہ اس کے  بغیر سانس نہیں لیا جاسکتا۔۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔۔ پرائیوٹ, یہ ملک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر پرائیویٹلی ہی چل رہا ہے۔۔۔ آغا خان بورڈ, اسلامی فرقوں کے اسکول, حفظ کے مدرسے, او لیولز۔۔۔ کیا سرکار فنڈنگ کرتی ہے۔۔۔ تونویں جماعت یعنی چودہ سالہ بچوں کے لئے چار سال کا تعلیم کا کورس, بیس سال کی عمر میں ایک نوجوان یا  نو جوانی علم دینے کے لئے تیار۔۔۔  حکومت یہ تبدیلی لے آئے تو کیا ہی بات ہے۔۔

ویسے جہاں اتنے تجربات ہور رہے ہیں وہاں ایک اور سہی۔۔۔ مطلب یہ کہ نظام واقعی بدل دیں۔۔۔ نہیں, نہیں, بھئی کتابیں نہ بدلیں, سلیبس تبدیل کرلیں۔۔۔ نویں جماعت سے جو مضامین کا مرکب یا کامبینیشن دیا جاتا ہے سائنس, آرٹس, ہوم اکنامکس اور کامرس کا۔۔۔ وہ آج کی دنیا میں فضول ہے۔۔۔ اسکے بدلے تمام طلبہ کے لئے نویں دسویں میں تمام مضامین کا آسان تعارف یا بنیادیات لازمی کردیں۔۔۔ کالج لیول سے مین کیٹیگوریز میڈیسن/طب, انجینئرنگ, تعلیم, زراعت, ماحولیات, اور قانون کردیں۔۔۔

جو مضامین بلا وجہ آرٹس گروپ میں تھے یعنی سائیکالوجی/نفسیات, سوشیالوجی/عمرانیات, پولیٹیکل سائنس/سیاسیات, انٹرنیشنل ریلیشنز/بین الاقوامی تعلقات, اکانومی/معاشیات, لائبریری سائنس, جغرافیہ, تاریخ پاکستان, تاریخ اسلام, سوشل ورک, عربی, فارسی وغیرہ کو دو یا تین اختیاری مضامین کی حیثیت سے مین کیٹیگوریز میں شامل  کردیں۔۔۔ بلکہ کمپیوٹر سائنس, بزنس/ کاروبار, فلسفہ کو بھی ان میں شامل کردیں۔۔۔ کیونکہ یہ وہ مضامین ہیں جن کاتعلق اوپر والی تمام مین کیٹیگوریز سے ہے۔۔۔

اس طرح دوسالوں میں اگر مین کیٹیگوریز کے چھہ پیپرز ہوں تو اردو لازمی, انگلش لازمی اور چار اختیاری مضامین ملاکر کل بارہ پیپرز بنیں گے۔۔۔ یعنی ایک سال میں چھہ پیپرز۔۔۔

اگلے دوسالوں یعنی بیچلرز ک لئےاسی کا ایڈوانس لیول ہوگا۔۔۔

اس طرح پہلی سے آٹھویں جماعت, نویں دسویں اور انٹرمیڈیٹ۔۔۔ تین بنیادی درجہ یا لیولز بن گئے۔۔۔ ان بارہ سالوں کے بعد تقریبا اٹھارہ سال کی عمر ایک لڑکا یا لڑکی معاشرے میں اپنا کوئی  رول ادا کرنے کے قابل ہونگے۔۔۔

ہوم اکنامکس ننانوے فیصد لڑکیوں کے لئے ہے اور اسکے لئے میمن فاؤنڈیشن اور دوسرے پرائیویٹ ادارے موجود ہیں اور بہت اچھا کام کررہے ہیں۔۔۔ اسی طرح فائن آرٹس کے اپنے کالجزاورسینٹرز ہیں۔۔۔

حکومت کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں اس لئے انھیں ہوم اکنامکس اور فائن آرٹس پر ضائع نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

اس طرح سرکاری کالجز میں مزیدطالبعلموں کے لئے جگہ بن جائے گی۔۔۔


 

 

 

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

One Response to B.A. Notes in Urdu

  1. طفیل اعوان says:

    متشکرم ،
    بہت خوب اور بہت ہی اعلی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: