I Love Brooms

Making broom is a cottage industry in Pakistan.  Poor families are provided with big, dry date-palm leaves or stalks of different plants.  They shred off the dried part with their hands and gather sticks or stiff fibre of same size to make a bundle of broom.  The sticks on the thicker end are tied together with a wide rubber band or a metal wire.

It is used for sweeping dust and litter, for removing spider webs, for killing lizards, cockroaches and centipedes.  It can be a good weapon against thieves and intruders.

For me, broom is a symbol of unity, discipline and cleanliness.  It is a gift of plants that tells us the story of courage.  It is a tool that teaches us how to serve humans with employment opportunities.  It is going to be my political mark for election if I ever think of participating in electoral campaign.  In my government, Pakistan will be the biggest broom supplier in the world.  The entire broom industry will be given a tax relief if they promise to grow five trees per family every year.  Any publisher printing books on the advantages of brooms will be tax exempted for life time.

تنکا تنکا جوڑ کر جھاڑو بنتی ہے۔۔۔ درختوں کے پتوں کے خشک ہونےپر رہ جانے والے تنکے, جو اپنی قسمت پر رونے اور خاک میں بلاوجہ مٹنےکے بجائے, اتحاد اور تنظیم کی علامت بن کر ماحولیات کی پاکیزگی میں حصہ لینا شروع کردیتے ہیں۔۔۔ جھاڑو بنانے اوربیچنے والوں کے لئے روزگار کاسبب بنتے ہیں۔۔۔ ویسے تو اسے چھپکلی, جھنیگراوردوسرے جانور مارنے کے کام لایا جاتاہے۔۔۔ مکڑیوں کے جالے صفائی کئے جاتے ہیں۔۔۔ اس سے چوروں کو مار جاسکتا ہے۔۔۔ سیاستدانوں کو سونگھا کر بے ہوش کیا جاسکتاہے۔۔۔ جھاڑو ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے میں مدگارر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ جھاڑو کے پیچھے ایک اضافی ڈنڈی لگا کراور کچھہ عملیات پڑھ کر اسے سواری کے کام بھی لایا جاسکتا ہے۔۔۔ اگر وصی شاہ کو جھاڑو کی اہمیت کا اندازہ ہوتاتو وہ کہتے, کاش میں تیرے حسیں ہاتھہ کی جھاڑو ہوتا۔۔۔
قسم سے اگر کبھی میں نے الیکشن لڑا تو میرا انتخابی نشان ہو گا جھاڑو۔۔۔ ہروقت میرے ساتھہ رہے گی, آگے سے صفائی کے لئے, پیچھے سے پٹائی کے لئے۔۔۔ جس کو تھوکتا دیکھا اور دی گھما کے جھاڑو۔۔۔ میری پاڑٹی کا نام ہوگا آل پاکستان سویپنگ لیگ۔۔۔ نعرہ ہوگا, جھاڑو اپنائیے, ماحول بچائیے, صحت بنائیے۔۔۔ ایجنڈا ہوگا,
کتنی پاکیزہ ہے اعمال میں جھاڑو میری, کتنی معصوم ہے کردار میں جھاڑو میری,
اتحاد اور ہے تنظیم علامت اسکی, ایسی جھاڑو کہ جسے دیکھہ کے گھبرائیں یہود,
فوجی بارود سے بھی زیادہ ہو طاقت جسکی, چار تنکوں کی ضرب پڑتےہی مرجائیں ہنود,
جس کے بھی سرپہ پڑے یاد دلا دے اسکو, عہد پارینہ کے بربادئ عاد اور ثمود,
جب چلے سڑکوں پہ آثار مٹادے سارے, کبھی ہوتاتھا یہاں خاک پہ کچرے کا جمود,
ایک تاریخ رقم کرتی ہےجھاڑو میری, دل و دیماغ صفا کرتی ہے جھاڑو میری۔۔۔

عملیات پر یاد آیا کہ خانقاہ جاناتھا۔۔۔ مفتی صاحب کہتے ہیں کہ یہ جن آہستہ ہستہ جائے گا۔۔۔ جسطرح جسمانی بیماریاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں اسی طرح روحانی بیماریاں ہوتی ہیں۔۔۔ بعض تھوڑے سے علاج سے ختم ہوجاتی ہیں اور بعض کینسر, شوگراوردل کی بیماریوں کی طرح ہوتی ہیں انکا ہمیشہ علاج چلتاہے۔۔۔ عام لوگ توعام لوگ, عامل بھی ڈرتے ہیں مجھہ سے۔۔۔ طبیبہ کہتی ہیں بہت خطرناک ہے, انکے تو پسینے چھوٹ گئے تھے, بے چاری ایسی بھاگیں۔۔۔ ابراہیم صاحب اسی کا علاج کرتے کرتےدوسری دنیا منتقل ہوگئے۔۔۔ امی کہتی ہیں میں خود سب سے بڑا جن ہوں اور یہ سب میرے دماغ کا فتور ہے۔۔۔ جبکہ میرا کہنا ہے کہ مجھہ سے بھی بڑے بڑے جن موجود ہیں۔۔۔ میں خود ان سے ڈرتی ہوں۔۔۔

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: