A Believer’s Discipline

A discipline is a relation between work and time, that is; executing action or work and/or dividing it into fragments or steps in accordance with the time duration, controlling desires according to time and situations (as the word for discipline in Arabic is ‘inzuibaat’/nazm-wa-zabt in Urdu), or it can be simply defined as distribution of time for work.  The discipline is a sign of a system.

The total time of the Universe (from beginning till its end) divided into the time of galaxies and solar systems.  Then in our solar system, time distributed to planets according to their movement.   Then on planet Earth, time is divided into seasons, day and night, then different countries have different sun-rise and sun-set timings, and then distribution of time into working hours, sleeping time, fun time according to people’s need and desires. (courtesy meta-existence)

The things in the sky and on earth have been assigned their specific tasks with no change in them and that is their discipline to serve humans.  Sun shines to give heat and light, moon appears to show the months, earth orbits and spins to cause seasons and days and nights, trees grow with fruits and flowers, plants give food and medicine, cattle, wild animals, sea animals, birds, etc.

تمام انسان مرد و عورت حضرت آدم کی اولاد ہیں۔۔۔ اور رنگ, نسل, قبیلے, زبان ان کی آپس میں پہچان کا ذریعہ۔۔۔ ہر رنگ, نسل, قبیلے, زبان کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے ہیں, ایک دوسرے کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہیں۔۔۔ یہ وفاداری کہلاتی ہے۔۔۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی کسی دوسری قوم کے لئےاپنی قوم کانقصان کرے تو یہ غداری کہلاتی ہے۔۔۔

ہر قبیلے یا قوم کےافراد کے آپس میں واسطے یا رابطے کی وجہ یا تو خون کے رشتے ہوتے ہیں یا پھر کام , جس میں مقصد یا تحریک بھی شامل ہے, یا اخلاقیات  جیسے کہ بیمار کی عیادت, پڑوسی کی دیکھہ بھال, مسکین کو کھانا کھلانا, قیدی کو چھڑوانا, غلام کو آزاد کروانا۔۔۔۔ یہ تینوں وجوہات بہت مضبوط اور بااثر عناصر ہیں کیونکہ انکے نتائج نکلتے ہیں۔۔۔ یہ تینوں عناصر عملی بھی ہیں لہذا وقت اور حالات کے پابند ہوتے ہیں اسی لئے انکے قوانین موجود ہیں۔۔۔۔۔۔۔

انکے علاوہ دو خیالی یا احساساتی عنصر بھی افراد کے درمیان رابطے کا کام دیتے ہیں اور وہ ہیں محبت اور دوستی۔۔۔ انکے اثرات بھی عملوالصلحت کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔ وقت وحالات کی قید سے آزاد, زندگی کو قائم اور متحرک تو رکھتے ہیں اور انفرادی اور وقتی فائدے بھی پہنچاتے ہیں لیکن ظلم کے نظام کے خلاف دیوار نہیں بنتے۔۔۔ 

اسلام ایک نظریاتی عقیدہ ہے جو انسانوں کو انکے رنگ, نسل, قبیلے, زبان سے نہیں بلکہ انکے کردار سے پہچانتا ہے اور اعمال کی بنیاد پر انکا احتساب کرتا ہے۔۔۔ اسی لئے اسلام کا کوئی وطن نہیں, وہ ہر جگہ اپنی نشانیوں کے ساتھہ موجود ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ سچائی, امانتداری, انصا ف, مساوات, خلوص, ایفائے عہد, گواہی, بہادری, حکمت, علم۔۔۔ جب ان خصوصیات کے ساتھہ ایمان بالله اور ایمان با لاخرہ شامل ہوجائے تو وہ شخص مسلمان اور وہ جگہ اسلامی ریاست کہلاتی ہے۔۔۔

رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ حکومت کفر پر چل سکتی ہے ظلم پرنہیں۔۔۔ جیسے خدا نے یہ کائنات اپنے حکم کے تحت عدل پر قائم کی۔۔۔ اور اپنی رحمت اور محبت سے اسے چلا رہا ہے۔۔۔ اسی طرح ایک اسلامی ریاست بھی ہوتی ہے۔۔۔ نظام عدل پہ قائم رہتی ہے اور عملوالصلحت,  محبتوں اور دوستیوں کی وجہ سے چلتی رہتی ہے۔۔۔

اور اگر الله پر ایمان اور آخرت یعنی حساب کتاب کا ڈر نہ ہو تو یہی محبتیں, دوستیاں رشتہ داریاں, وفاداریاں نا انصافی, جرائم, تعصب, نفرت, فرقہ بندیوں, فساد اور خون  خرابہ کاسبب بنتی ہیں۔۔۔ پاکستان اور دنیا کا حال ہمارے سامنے ہے۔۔۔ سورہ المعارج میں ارشاد ہوتا ہے۔۔۔ اور نہ پوچھے گا کوئی جگری دوست اپنے جگر دوست کو حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے۔۔۔ خواہش کر ے گا مجرم کاش وہ فدیے میں دیدے اس دن عذاب سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کو, اپنی بیوی کواور اپنے بھائی کو۔۔۔ اور اپنے قریب ترین خاندان کو جو اسے پناہ دیا کرتا تھا, اوران سبکو جو زمین میں ہیں۔۔۔۔

انسان چاہے کسی مذہب, کسی قوم سے ہوں یا لا دین یا خدا کے منکر بھی ہوں۔۔۔ انکی سوچ, خواہشات, مختلف حالات میں ردعمل, تقریبا تقریبا ایک جیسا ہوتا ہے۔۔۔ اسی لئے ہر قوم کی عوام نے مختلف زمانوں اورعلاقوں کے باوجود اپنے نبیوں اور رسولوں کی تعلیمات کے ساتھہ ایک جیس سلوک کیا۔۔۔ حتی کہ مسلمانوں نے بھی ہر قوم کی طرح خود کو فرقوں, علاقوں اور زبانوں کی بنیاد پر تقسیم کرلیا۔۔۔۔ لہذا آج وہ بھی اس گلوبلائزیشن کا حصہ بن چکے ہیں جسکا عقیدہ  خدا کی وحدانیت نہیں بلکہ انسانیت ہے۔۔۔ جسکا عمل الله کے پسند یا ناپسند کی پابندی نہیں بلکہ اپنی خواہشات کی تکمیل ہے۔۔۔ جس کا احتساب خدا کے قوانین نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہو ئے آئین ہیں۔۔۔ جس میں باتیں آسمانوں کی کی جاتی ہیں لیکن نظرانسانی قد سے اوپر نہیں جاتی۔۔۔ یہ وہ نظام ہے جس نے ہر انسان کو خدا کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔۔۔

سورہ الجاثیہ میں بیان ہوتا ہے۔۔۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا اس شخص کو, جس نے اپنی خواہشات کو اپنا خدا بنالیا۔۔۔ تو الله نے اسے گمراہی میں چھوڑ دیا اور اسکےکانوں اور دل پرمہر لگادی اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔۔۔ کون اسے ہدایت دے سکتاہے جسے الله نے گمراہ کردیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



دنیا میں اکثر, انسانوں کو نیکی, بھلائی کی طرف راغب کرنے, حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے, انسانی مساوات کا تصور پیدا کرنے کےلئے جانوروں اور چیزوں کی مثالیں دی جاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پانی کی طرح بہنا سیکھو جو سبکو سیراب کرتاہے, سورج کی  روشنی بنو جو سب کے لئے زندگی کا باعث ہے, درخت خود دھوپ میں کھڑے ہو کر سب کو سایہ فراہم کرتے ہیں, چیونٹی ہمت نہیں ہارتی, شیر کی طرح بہادر بنو, امن کا نشان فاختہ,  کووں کا ایکا الو عقلمند ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ آسمان, زمین, سورج, چاند, درخت, پھول, پودے, گائے, بکری, شیر, پرندے۔۔۔۔۔۔ یہ سب ایک لکھی لکھائی سکرپٹ کے مطابق اپنے کام کر رہے ہیں۔۔۔ یہی انکی تقدیر ہے  یہی انکا ڈسپلن اور یہی عبادت۔۔۔ ان کی کوئی مرضی یا ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ تھک گئے ہیں, دل نہیں چاہ رہا, آج کچھہ نیا کرتے ہیں۔۔۔۔ اسی لئے جانوروں کے کاٹنے, مارنے کے قوانین نہیں, حساب کتاب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرعد, آٹھویں آیت۔۔۔ ہرچیز اس کے سامنے ہے ایک تناسب کےساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ القمر۔۔۔ بےشک ہم نے تخلیق کیا ہر شئے کو مقررہ اندازے کی ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الرحمن۔۔۔ اور توازن قائم کیا ہر شئے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسا ن اشرف المخوقات ہے۔۔۔ وہ ان چیزوں سے سیکھہ سکتا ہے, انکو استعمال کرسکتا ہے مگر اپنی زنگی کے مقصد اورکاموں کا ان سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ انسان کو نیت, ارادے اور خواہشات کے ساتھہ پیدا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورہ الشمس۔۔۔ قسم ہے نفس انسانی کی اور جیسا اسے ہموار کیا, پھر الہام کردی اس پر اس کی بدی اور پرہیز گاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پیدائشی مسلمان, ہندو, یہودی, عیسائی, لادین یا خدا کے منکر اشخاص کے درمیان کیا فرق ہوتاہے۔۔۔ ان سب مذاہب کے چودہ, پندرہ, سولہ بلکہ اٹھارہ بیس سال کے بچوں کا انتقال ہو تاہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ معصوم تھا۔۔۔ کیونکہ انھوں نے شعوری طورپر کوئی مذہب کوئی زندگی کاراستہ اپنایا نہیں ہوتا۔۔۔ اپنے نفس میں موجود نیکی اور بدی کی صلاحیتوں کو آزمایا نہیں ہوتا۔۔۔  اسی لئے بچوں کو بھی کبھی پھولوں, کبھی فرشتوں کی طرح معصوم کہا جاتا ہے۔۔

انبیاء, رسل اور بہت سے اہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی بھی معصومین کہلاتے ہیں کیونکہ ان کی زندگیاں مکمل طور پر الله کی رضا کے تابع ہوتی تھیں۔۔۔ انکی دنیاوی خواہشات بھی الله کے حکم مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔۔۔ بظاہر دنیا کے کاموں میں مصروف نظر آنے والے یہ لوگ ہر لمحہ اپنے رب کے احکامات کاانتظار کرتے تھے۔۔۔ اور حکم ملتے ہی باقی سب کام چھوڑ دیتے تھے۔۔۔  یہی انبیاء اور رسولوں کا ڈسپلن تھا یعنی جو احکامات الله کی طرف سے نازل ہو چکے ہیں ان کی پابندی, اور کسی بھی حالات سے نمٹنے کے لئے خود کو تیار رکھنا۔۔۔ اسی لئے جب کوئی قوم اپنے نبی کو اذیت دیتی, ان پر ظلم کرتی تو اسے تباہ کردیا جاتا۔۔۔

انسانوں میں بچے, نبی اوراہل ایمان یعنی نبی کے حواری یا صحابی معصوم ہوتے ہیں۔۔۔

اب بچ گئی باقی انسانیت۔۔۔ جو اپنی نیتوں, حق خود ارادیت اور اعمال کے بازپرس کے لئے خدائے واحد کے سامنے حاضر ہوگی۔۔۔ اورتمام معصومین کو نکال کر تمام آسمانی کتابوں کی مخاطب یہی باقی انسانیت ہے۔۔۔ اور یہ بات پچھلی پوسٹ ,عملوالصالحات, میں بیان ہو چکی ہے کہ نیکی, بھلائی, اچھائی انسان کے اعلی کردار کی نشانی تو ہوتی ہے, گمراہوں کو ہدایت بھی دلا تی ہے, انفرادی یا اجتماعی طور پر ضرورتمندوں کی حاجات بھی پوری کرتی ہے, اور مظلوموں کو وقتی طور پر دلاسابھی دیتی ہے۔۔۔ آخرت میں آگ کے عذاب سے بچنے کا سامان بھی ہوں گی اور پل صراط پر روشنی بھی۔۔۔۔ اور اسی وجہ سے نیکی, بھلائی, اچھائی دنیا کے چلتے رہنے کا ذریعہ ہے۔۔۔

لیکن یہ ظالم کا ہاتھہ نہیں روکتی۔۔۔ لوگوں کو ان کا حق واپس نہیں دلاتی۔۔۔ ضروریات زندگی پورے کرنے کے مستقل ذرائع نہیں فراہم کرتی۔۔۔ گمراہی سے  ہدایت پانے والوں کو ایک اجتماعی قوت نہیں بناتی۔۔۔۔

Good deeds have no timings and no conditions, they can be done any time, to anyone, by anyone.   Likewise love and friendship are feelings and are not bound to time and situations.  That is why these three elements are a great tool of democracy.  They are the energy which keeps life moving in any circumstances.  But even together, they don’t build a power that can be used to form a system –> a force that attracts good-doers/pious people to stand at one platform and cause a resistance against evil, a strength to persecute or stop evil, a source that guarantees a continuity in provisions.
To turn into such power, they must be transformed into principals, rules and laws.  Laws are meant to be imposed and must be obeyed at their time, conditions and circumstances.
ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت۔۔۔ وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد
وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو۔۔۔ آتی نہیں کچھہ کام یہاں عقل خداداد
اے مرد خدا تجھہ کو وہ قوت نہیں حاصل۔۔۔ جابیٹھہ کسی غار میں الله کو کریاد
مسکینی ومحکومی ونومیدی جاوید۔۔۔ جس کایہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد
ملا کوجو ہے ہند میں سجدے کی اجازت۔۔۔ ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

 

 نیکی, بھلائی, اچھائی دوستی اورمحبت کا کوئی وقت نہیں ہوتا۔۔۔ لیکن انھیں ایک قوت بننے کے لئے اصولوں اور قوانین کی شکل اختیار کرنی پڑتی ہے۔۔۔ اصول اور قوانین ایک مقررہ وقت کے, حالات یا کیفیات کے پابند ہوتے ہیں۔۔۔ 

مثلا الله تعالی سےانفرادی رابطے, الله کو یاد کرنے اور فریاد کرنے کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن نماز کو, مل کر ایک جماعت کی شکل میں الله تعالی کے سامنے حاضر ہونے کا ذریعہ بنایا۔۔۔ یہ سماجی نظام ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح صدقہ وخیرات کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن زکات اسلام کا مکمل معاشی نظام ہے جس میں زکات دینے والے, زکات لینے والے اور زکات تقسیم کرنے والے, سب شریعت کے اصولوں کے پابند ہوتےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح بیت الله کی زیارت کا, رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم کی زیارت کا کوئی وقت مقرر نہیں۔۔۔ لیکن حج کومسلمانوں کے بین الاقوامی تعلقات ومعاملات اور بین الاقوامی مرکزیت کا ذریعہ بنادیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح رمضان کے مہینے میں روزوں کا نظام انفرادی, اجتماعی, مالی, جسمانی فائدوں سے بھرا پڑا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر وراثت, شادی, طلاق, انصاف, گواہی, جنگ کے قوانین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا ڈسپلن یا نظام زندگی کیا ہے۔۔۔۔۔۔

تقدیر کے پابند نباتات و جمادات۔۔۔ مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

ایک مومن کی زندگی انبیاء کرام اور صحابہ کی زندگیوں کا عکس اور عام انسانوں کے برعکس ہوتی ہے۔۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انبیاء اور رسل حضرت جبرئیل کے ذریعے الله سے براہ راست ہدایات پاتے تھے اور صحابہ رسول سے۔۔۔ جبکہ مومن کو اپنی فراست سے کام لینا پڑتا ہے۔۔۔ رسول صلی الله علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔۔۔ مومن کی فراست سے ڈرو, کیونکہ وہ الله کی نظر سے دیکھتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کا تصور ایک عام مسلمان سے ذرا ہٹ کے ہے۔۔۔۔ اسکی سوچ اپنے قبیلے, اپنے خاندان, اپنی روایات, اپنی قوم, ظاہری لباس, اور مروجہ نظام تک محدود نہیں ہوتی۔۔۔  زمین کے کسی خطے میں ہو, ایک کے بعد ایک رونما ہونے والے حالات میں وہ الله کی تدبیر ہوتا ہے۔۔۔۔  قرآن میں مومنین کی نشانیاں جگہ جگہ بیان کی گئیں ہیں۔۔۔ احادیث مبارکہ میں بھی مومن کی خصوصیات کا ذکر ملتاہے۔۔۔۔۔ مومن کی زندگی میں اولیت الله کے ان احکامات کی پابندی ہے جو ایک شرعی نظام کے طور پر قیامت تک کے لئے صادر کئے گئے ہیں لہذا وہ احکا مات تو تقدیر بن گئے ہیں, جنکی پابندی سارے مسلمانوں پر لازم ہے۔۔۔ لیکن اس سے بڑھہ کر وہ احساس ذمہ داری جو رسول صلی الله علیہ والہ وسلم سبکے کاندھوں پر ڈال گئے ہیں اسے فرصت سے نہیں بیٹھنے دیتی۔۔۔ لہذا انکو پورا کرنے کے لئے اسے مقررہ اوقات کار والے طریقوں سے الگ ہونا پڑتا ہے۔۔۔ اپنی زندگی کے معمولات کواپنے مقصد حیات کی راہ میں مجبوری نہیں  بننے دیتا۔۔۔۔ اسلامی تاریخ ایسی شخصیات سے بھری پڑی ہے۔۔۔ پاکستان میں قائداعظم  سے اچھی مثال کیا ہوسکتی ہے۔۔۔۔ جنکا ڈسپلن تھا۔۔۔ کام, کام, اور بس کام۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا۔۔۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن, قاری نظرآتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

رسول صلی الله علیہ وسلم کل ایمان, کل اخلاق, کل نظام تھے۔۔۔ مومنین اس کل کا جزو ہیں۔۔۔ اسی لئے ہر مومن میں رسول صلی الله علیہ وسلم کی کسی خاصیت کی زیادتی نظر آئے گی اور کہیں کمی۔۔۔ اور اسی لئے مومنین ملکر جماعت کے طورپر تو اسلامی شریعت نافذ کر سکتے ہیں۔۔۔ ایک ون مین شو کے طور پر نہیں۔۔۔

امت کا زوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلفائے راشدین کے دور کے فورا بعد جو بات فتنہ بنی اور آج تک فساد کا باعث ہے وہ یہی ون مین شو والی حاکمیت ہے۔۔۔ اور مسلمانوں کے زوال کا    سبب اس سے لاتعلقی یا اسکے خلاف خاموشی۔۔۔ عام مسلمانوں کی اسی لاتعلقی اور خاموشی کا پہلا نتیجہ کربلا کی صورت میں نکلا۔۔پھر مسلمانوں نے چنگیز خان اور ہلاکو خان کے دور بھی دیکھے۔۔۔ اور آج فلسطین, کشمیر, عراق, افغانستان,  لیبیا, مسلمان افریقی ممالک, پاکستان۔۔۔ جہاں جہاں مسلمان ہیں, رو پیٹ رہے ہیں۔۔۔ لیکن کوئی اپنے ملاؤں, عالموں, سیاسی شیطانوں, علاقائیت,روایات چھوڑ کرایک ہونے کو تیار نہیں۔۔۔

مسلمانوں میں نیک کام کرنے والوں کی کمی نہیں۔۔۔ لیکن ٹیم ورک کی کمی ہے۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تیرہ سال لگائے اس نظام کو صحابہ کی شخصیت کا حصہ بنانے میں جس کو انھوں نے آگے نافذ کر نا تھا۔۔۔۔ جبکہ مسلمانوں میں نظام ایک شخص کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اسکے مرتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔


About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: