Politics

Karachi Walay – January 16, 2010

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کےبعد دو مرتبہ حیدری مارکیٹ جانا ہوا۔۔۔ دونوں مرتبہ مارکیٹ بند تھی۔۔۔ میں نے رکشہ والے سےکہا کہ آپ بتادیتے سب بند ہے۔۔۔ کہنے لگا ہمیں بھی نہیں پتہ ہوتا کہ کب کہاں کیا بند ہے۔۔۔ کل بھی بازار سے واپسی پررکشہ میں بیٹھنے لگے تو وہ پریشانی میں فون پر بات کررہا تھا۔۔۔ میں نے پوچھا خیریت۔۔۔ تو کہنے لگا کہ حالات پھر خراب ہو رہے ہیں ۔۔۔ پھر وہ مختلف بازاروں کے نام بتانے لگا کہ بند کروادی ہیں۔۔۔ اسی طرح پرسوں جس رکشہ میں بیٹھے وہ رکشہ والے نے بھی ایک خاتون کو لے جانے سے انکار کردیا۔۔۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میرے گھر سے میسج آیا ہے کہ گلستان جوہر نہ جانا حالات خراب ہیں۔۔۔ اس نے بتایا کہ بنارس کا علاقہ سرحد بن گیا ہے اور میں سرحد کے دوسری جانب رہتا ہوں۔۔۔ ٹارگٹ کلنگ سے چند گھنٹے بعد میں اپنی فیملی کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔ وہ تھوڑی دیر اے این پی کو قصوروار ٹھراتارہا۔۔۔ لیکن جب بات پٹھانوں پہ آئی تو میں نے کہا یہ ٹھیک ہے کہ پٹھانوں کے جینے کا انداز ہم سے مختلف ہے لیکن  ہم نے کسی کو کیاسکھا دیا۔۔۔

کراچی والے بھی تو پاکستان آنے کے بعد اپنی زندگی کے انداز نہ بدل سکے۔۔۔ کیا تہذیب ہے ہماری۔۔۔ سینکڑوں ہندوستانی قومیتوں میں بٹے ہوئے لوگوں کا بے ہنگم اور بے ضبط مجموعہ۔۔۔ کراچی والوں کے تو دلوں میں سرحدیں ہیں۔۔۔ انکے گھروں اور خاندانوں میں کیا ہو رہاہے۔۔۔ کیا سکھارہے ہیں یہ اپنے بچوں کو۔۔۔ ایک سلام کا جواب دینے کے لئے تو زبان بند ہوتی ہے باقی ہر بد تمیزی کروالو۔۔۔ نہ تعلیم سے دلچسپی, نہ اسلام سے, نہ پاکستان سے۔۔۔ ہاں انسانیت کے نام پر جتنا کرپشن ہے کروالو۔۔۔ خواتین کیا کرتی ہیں صبح سے شام۔۔۔ اور جو ظلم ہو تے ہیں ان پر تو صحیح ہوتے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہ مظلوم نہ ہوں تو سب سے بڑی ظالم بن جاتی ہیں۔۔۔ شوہربھی میراغلام رہے, بیٹے بھی میرےحکم کے پابند, بھائی بھی مجھی کوبھریں۔۔۔ ورنہ یہ مظلوم ہیں۔۔۔ کبھی کراچی کی خواتین نے الله کے حقوق کے بارے میں سوچاہے۔۔۔
دوسرا غضب دینی جہلاء ڈھاتے ہیں۔۔۔ خواتین کو انسان کے بجائے عورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔۔۔ چند کاموں پر اسے تسلی دے دیتے ہیں۔۔۔ شوہرکا حق زوجگی پورا کریں ورنہ فرشتے لعنت کرتے ہیں, بچے پیدا کریں تاکہ الله اور رسول محبت کریں, شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرسکتی ہیں, ماں بن جائیں تو حق ہے کہ انکے کہنے پہ بیٹا اپنی بیوی کو طلاق بھی دے سکتا ہے اور بس۔۔۔۔
یہ نہیں بتاتے کہ جب عورت اتنی معذور اور بے بس بنادی جائے تووہ اپنے لئے ہی نہں دوسروں کے لئے بھی عذاب بن جاتی ہے۔۔۔ یہ نہیں بتاتے کہ مسلمان ملکوں کے زوال کے اسباب میں سے ایک خواتین کی اکثریت کا دینی, علمی اور ملکی وقومی معاملات سے لاتعلق ہونابھی تھا۔۔۔
کل ایک دکان پر تھوڑا انتظار کرناپڑا۔۔۔ انکے ہاں ایک آٹھہ نو سال کا لڑکا بھی کام کر رہا تھا۔۔۔ میں نے پوچھا کہ تم وہی ہو جو گاؤں سے آئے تھے۔۔۔ بولا نہیں گاؤں والے سب چلے گئے میں تو نئی کراچی کا ہوں۔۔۔ میں نے پوچھا کہ پڑھتے ہو۔۔۔ جواب دیانہیں۔۔۔ میں نے انکے بڑوں سے کہا کہ اسے تعلیم دلوائیں اور کچھہ نہیں تو میں پڑھادوں گی۔۔۔ ہنس کر کہنے لگے یہ نہیں پڑھ سکتا ہم پر گیا ہے, ہم بھی اسکول سے بھاگ جاتے تھے یہ بھی بھاگ جاتا تھا تو ہم نے ہٹالیا۔۔۔ ان میں سے ایک نے کہا میں نے ہاف میٹرک کیا ہے۔۔۔ میں نے کہا یہ ہاف میٹرک کیا ہوتا ہے۔۔۔ بولا پانچویں کلاس پاس۔۔۔ میں نے کہا آپ چاہتے ہیں کہ یہ بھی آپ کی طرح زندگی گذارے۔۔۔ تو بولے کیا خرابی ہے ہماری زندگی میں۔۔۔ میں نے کہا آپ نہیں چاہتے کہ اس زندگی میں بہتری آئے۔۔۔ تو وہ ہنس کر خاموش ہو گئے۔۔۔
انھیں شاید لفظ بہتر یا بہتری کا مطلب نہیں معلوم تھا۔۔۔ اور معلوم بھی کیسے ہو۔۔۔ اور وہ تعلیم کی طرف کیوں توجہ دیں۔۔۔ تعلیم دینے والوں اور تعلیم حاصل کرنے والوں میں انھیں اپنےسے کیا فرق نظر آتاہے۔۔۔۔ اسی طرح تھوکنا, کھانا پینا, چلنا پھرنا, اسی قسم کی بے سر وپا باتیں, وہی جینے کا انداز۔۔۔ اور انھی کی طرح سسٹم کا رونا گانا۔۔۔
پہلے میں نے سینٹ جونز اسکول کے بچے کو بڑوں کے انداز میں تھوکتے ہو ئے دیکھا۔۔۔ پھر جو فیملی کینیڈاسے آئی ہوئی ہے پچھلے سال سے, انکے پندرہ سالہ بیٹے کو اسی طرح تھو کتے ہو ئے دیکھا کیونکہ وہ بھی اب انھی اسکولوں میں پڑھ رہا ہے۔۔۔
اور اچھا ہی کرتے ہیں وہ جو بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے۔۔۔ کیونکہ پرائیویٹ اسکولوں کے اونرز اور پرنسپلز ہیں ایجنٹ دشمنوں کے۔۔۔ اسلام اور پاکستان کے غدار۔۔۔ انکا مالی بوائے کاٹ ضروری ہے انکو پیسے پیسے کو ترسانا ضروری ہے۔۔۔ جاہل کم از کم اسلام اور پاکستان سے دشمنی تو نہیں کرتے… پڑھائی لکھائی کو بہانہ بنا کربھا گ تو نہیں جاتے۔۔۔
Yeah, I am serious.  I like people not sending their children to schools.  They are wise.  Our school owners and principals are all agents.  There is a need for their economic boycott.  What they fill in students’ mind is all anti-Islam and anti-Pakistan content, uncertainty, insensitivity.  They do not train or educate but over-burden children at very young. When these children finish their education, they are exhausted.  They don’t want to do anything in life but fun.  They don’t want to play any role in building the system.  They just want to run away from their own miserable people.  Instead of solving their problems and guiding them toward a better life, they RUN AWAY and try to justify their RUNNING AWAY.  They don’t feel no sympathy for their community, no passion for their own grooming and for a better life, no patriotism.  All they demonstrate is selfishness.
At least illiterates have one quality in them.  They are loyal to their land.  They can empty their pockets in the name of Allah and Rasool.  They support their relatives.  They respect Quaid-e-Azam and Allama Iqbal as they think that those two were very educated and strong personalities.  Unlike, the literates (parhay likhay jahils), they value their efforts for making Pakistan and they don’t waste time in finding defects in their ideology.
Now as far as I have understood, what do this non-educated people think of  an educated person.  For them, he/she is the one who doesn’t agree with them like stupids, he/she doesn’t speak the same words the same way.  He/she is the one who says something new that they have never heard before.  He/she interferes in their matters and gives a logical opinion with a religious reference and coated with politeness.
Karachiites have cried enough over their elders’ sacrifices.  They are not the same generation.  They need to show what they have done for strengthening the bonding between the people of four provinces.
Mosquito Bites – November 3, 2010

The Prime Minister announced to distribute the mosquito-nets.  Different products to kill mosquitoes are in high demand.  People spend hundreds of rupees to buy these products.  Unfortunately, none of them (the government, the businessmen and the citizens) plan for a neat and clean environment and that shows a very sick mentality of them all.

The solution is very easy.  Each one play their due role.  People should stop littering and spitting around.  Sweepers should pick up the garbage on time.  Government should find a proper place for dumping this trash, should make a law against littering and spitting on the roads and streets and should ask the shopkeepers especially butchers and all kind of food sellers to keep the space clean.  People should also pressurize the shopkeepers to maintain cleanliness.  I do that.  Wherever I go, if I notice these things, I raise my voice.  In the beginning they listened to me and made fun of me.  Now at least they say that I am right….and that they can’t do it, it’s difficult for them.

The first thing regarding manners is to greet each other and thanking each other.  I do that and when people don’t return my salam, I tell them that I expect the same reply from them.  In the beginning, people thought I am a crazy person who speak for the rights of cats or the animals.  Now most the people who know me have started taken care of the cats, at least in front of me.  Just yesterday, I made two of my young shopkeepers responsible to feed few kitten in that market.  I bought a bowl and gave both of them some amount that would be enough for three or four days.  If they fulfill this given task for some time, after they will feel it like their own responsibility and then it will become their habit.  In the beginning they all used to scare the cats and the kitten, now these shopkeepers fear me for they know that I will shout at them until their confession. When they say that nobody else says and does these things, I say that’s because they are not sincere to you.

I believe in the freedom of choice but I can’t let my people live a useless life while even animals have a purpose of their existence.  I can’t tolerate them abusing their surroundings.  I can’t expect foreigners and angels to come and teach them manners and why would they do so?  I have transformed myself into an automatic alarm.  I see anyone napping off-timings, the siren goes on automatically.

The system will change when the issues will be discussed inside the home, among the family members and on the street with the people we deal on daily basis.  They will listen because they know that we are dependent upon each other.  The vegetable or fruit seller, the milk-man, the butcher, the grocer, the PCO, the bookshop owner, the mechanic, the electrician, the tailor, the neighbourhood doctor, the pharmacist etc… they wouldn’t want to lose their daily customers so they will listen to them.

کیا ظلم ہے۔۔۔ حکومت مچھروں سے بچاؤ کے لئے مچھر دانیاں تقسیم کردے گی۔۔۔ کاروباری لوگ مچھر مارنے کی دوائیاں اور پروڈکٹس بنا کر کروڑوں کما لیں گے۔۔۔ عوام خودکو مچھروں سے کٹوا کٹوا کرمر جائیں گے۔۔۔ لیکن مچھروں کی پیدائش ختم کرنے اور صفائی ستھرائی کے انتظامات پر نہ حکومت اقدامات کرے گی۔۔۔ نہ کاروباری لوگ چاہیں گے کہ ختم ہو اور عوام کو تو خیر تمیز ہی نہیں اپنے اچھے برے کی۔۔۔

پرسوں ایک دکان پر گئی تو وہاں سات آٹھہ سال کے ایک نئے لڑکے کو دیکھا۔۔۔ گندے کپڑے۔۔۔ گندے بال۔۔۔ برا حال۔۔۔ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نہاتے نہیں, کنگھا نہیں کرتے, آپکے گھر میں کوئی بڑا نہیں جو آپکی دیکھہ بھال کرے۔۔۔اسی دکان پرکام کرنے والے ایک اور بڑے لڑکے نے کہا کہ یہ ٹنڈو الہ یار سے آیا ہے۔۔۔ بہت تیز ہے یہ تو ہمیں چلا دے۔۔۔۔۔۔۔ اتنی دیر میں مالک دکان نےاس سے کہا کہ چل پانی لاکردے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کہیں سے بھی آیا ہو اسکو تہذیب اور تمیز سکھانا آپکا فرض ہے۔۔۔ دوسری بات یہ کہ چالاکی یہ آپکی صحبت میں سیکھہ رہا ہے۔۔۔ اور اس بچے کو لائے ہیں تو اس کا حلیہ تو درست کردیں۔۔۔ اور ذرا میرے دوپٹوں کے پاس سے ہٹا دیں۔۔۔ دوسرے آدمی نے کہا اسکے ہاتھہ صاف ہیں۔۔۔ انکی بات سن کر میں کافی دیر ہنستی رہی تو وہ شرمندہ ہو گئے۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے ہی کہا کہ بچہ سر سے پاؤں تک میلا ہو رہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہاتھ صاف ہیں۔۔۔۔۔۔ پھر میں نے اس بچے سے ہی کہا کہ بیٹا آپ خود ہی ان سے کہا کرو کہ ان سب کو آپ سے تمیز سے بات کرنی چاہیے۔۔۔
اسی دوران یہ بھی ہوا کہ ایک تین سال کی بچی روتی ہوئی ملی چیخ چیخ کر اپنی ماں کوپکاررہی تھی۔۔۔ مما چاہیے۔۔۔ شکر ہے بچی کو گلا پھاڑ کررونے کی عادت تھی۔۔۔ ورنہ  اتنی خوبصورت بچی کو رات کے وقت جب کہ بازار میں لائٹ بھی نہ ہو غائب کرنامشکل نہیں تھا۔۔۔ خیر پانچ منٹ بعد دیکھا کہ ایک خوبصورت سی خاتون بد حواسی کے عالم میں گرتی پڑتی آئیں۔۔۔ گود میں ایک سالہ بچی اور دو مہینے بعد ایک اور کی آمد کی آثار۔۔۔ پتہ چلا وہ تین سالہ بچی انہی کی تھی۔۔۔۔۔۔ اس دن جتنے بازار دیکھے وہاں ہر دوسری خاتون پریگننٹ اورانکے ہاتھہ میں ایک نو مولود ضرور تھا۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں وہ نانیاں دادیاں کہاں چلی جاتی ہیں جو بڑے ارمانوں کے ساتھہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی اولادیں دیکھنا تو چاہتی ہیں مگر دو منٹ انھیں رکھہ نہیں سکتیں۔۔۔ اور ماں باپ انھیں سنبھال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہیں۔۔۔
اور بازار میں اتنے چھوٹے بچوں کا کیا کام۔۔۔
Shuhada’ – September 17, 2010

”Say: “The Death from which ye flee will truly overtake you: then will ye be sent back to the Knower of things secret and open: and He will tell you (the truth of) the things that ye did!”……Surah Al-Juma’h/Friday

ان سے کہیے۔۔۔ بلاشبہ وہ موت جس سے بھاگ رہے ہو تم۔۔۔ وہ تو ضرور آکر رہے گی تمہارے پاس۔۔۔۔۔۔ سورہ الجمعہ

Another political murder, spicy news for media, good news for children and a hell for those who earn their livelihood on daily basis.

Announcing ten days mourning is a complete non-sense.  May be a nice excuse to gain some lost sympathies.  Just like it happened when Bibi was murdered and Mr. ten percent was made the president one hundred percent.

Do children and poor people know who was Dr. Imran Farooq?  No, they don’t.  Then why are they punished for the murder of someone who never happened to make a difference in their life?  He might have been an important person for the party but what has he done for the people of Pakistan or Karachi?

Quaid-e-Azam’s death anniversary just passed and before that was the Independence Day, what did they all do on those two important occasions?

Are parents really that stupid that they are paying heavy fees for schools-closed almost every week for political reasons?  Then they pay extra to tutors to cover up the syllabus for exams.

And since every person in every political party is considered to be a shaheed, why waiting till death?  Just prefix their names with the word “shaheed” in their lives so at least they would be satisfied that their party do honour them.  Like Shaheed-e-Jazbaat Altaf Hussain, Shaheed-e-Tarriqi-o-Kamal Mustafa Kamal, Shaheed-e-Urdu Dr. Farooq Sattar, Shaheed-e-Mantaq Haider Abbas Rizvi, Shaheed-e-Punjab Nawaz Shareef and Shaheed-e-Nawaz Shahbaz Sharif, Shaheed-e-Intiqaam Shahi Syed, Shaheed-e-Ta’aleem-o-Tarbiyat Khushbakht Shuja’at, Shaheed-e-Corruption Mr. Zardari, Shaheed-e-Zardari Fauzia Wahab, Shaheed-e-Juhalaa Dr. Firdous Aashiq Awan………….. I am tired.

Musharraf and Moin Akhtar – October 19, 2010

“Those whose efforts have been wasted in this life, while they thought that they were acquiring good by their works?….. They are those who deny the Signs of their Lord and the fact of their having to meet Him (in the Hereafter): vain will be their works, nor shall We, on the Day of Judgment, give them any weight…… That is their reward, Hell, because they rejected Faith, and took My Signs and My Messengers by way of jest.”…… Surah Al-Kahf, ayaat 104-106


دنیا میں جن قوموں کو ہم ترقی یافتہ سمجھتے ہیں ان کی کامیابی کی وجہ شراب زنا بے حیائی جؤا بے ہودہ ناچ گانا مذہبی کتابوں اور پابندیوں سے دوری نہیں بلکہ زندگی کے وہ اصول ہیں جو ہر نبی اور رسول کی تعلیمات کا حصہ رہے ہیں۔۔۔ اور نہ ہی یہ ان کی خوشیوں کی وجہ ہے بلکہ انھیں جیسے ہی یہ احساس ہوتا ہے کہ ان گناہوں کی وجہ سے انکی زندگی بےمقصد اور بے لطف ہو گئی ہے وہ دین اسلام کی پابندیوں کو قبول کر لیتے ہیں۔۔۔ ایمانداری ہمدردی خوش اخلاقی صفائی نظم وضبط برداشت ۔۔۔۔۔ اور جب کوئی قوم پڑھی لکھی باشعور ہو تو وہ اپنے لیڈر میں یہی خصوصیات دیکھنا چاہتی ہے۔۔۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ ایسی قوم غیر مسلم ہے تو وہ شراب جوئے زنا ناچ گانے کو مائنڈ نہیں کرے گی کیونکہ یہ سب ان کے مذہب میں جائز ہے۔۔۔ لیکن اگر یہی باشعور قوم مسلمان ہے تو وہ کسی کو لیڈر چنتے وقت یہ دھیان ضروررکھیں گے کہ اس دوسری خصوصیات ہونے کے ساتھہ ساتھہ اسکا کردار ان غلیظ عادتوں سے پاک ہو۔۔۔

جب کوئی شخص خود لیڈر بننا چاہے یا کسی کے کہنے پر بنے۔۔۔ اس کی ذاتیات صرف اس حد تک ہونی چاہئیں کہ اسکوکھانے اور پہننے کو مل رہا ہو۔۔۔ باقی پسند ناپسند سے اسکا کوئی تعلق نہیں رہ جاتا۔۔۔ اور شاید ہمارے لیڈرز یہ کرکے بھی دکھادیں لیکن مسئلہ ہے ہماری قوم جس میں اصل جاہل اور پڑھے لکھے جاہل ایکدوسرے کے شانہ بشانہ مل کر ہر چیز کابیڑہ غرق کرتے ہیں۔۔۔

ہماری قوم نے جب کسی کو لیڈر بنانا ہوتا ہے تو سب سے پہلی برائی اپنے حق میں کرتے ہیں وہ یہ کہ اس شخص کی ذاتیات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔۔۔ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ وہ شخص ان کے مخصوص حلقے یا زبان یا فرقے یا عقیدے یا کاروبار یا طرز زندگی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا یا نہیں۔۔۔ ملک میں رہنے والے دوسرے لوگوں کے لئے وہ یا اسکی پالیسیز کتنی نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔۔۔ اگلے دس بیس پچاس سال میں ملک کی حالت تبدیل ہو سکتی کہ نہیں۔۔۔ اگلی دو تین نسلوں کو ہم سے بہتر ماحول مل سکے گا یا نہیں۔۔۔ جس شخص کو ہم لیڈر بنانے جا رہے ہیں اسکا کردار کیاہے تعلیم و تربیت کیسی ہوئی ہے۔۔۔ اسکا اپنا وژن کیا ہے۔۔۔ پالیسیز کیا ہیں۔۔۔ صرف ذاتی پسند اور ناپسند یا فائدوں کے لئے کسی شخص کو ساری قوم کے سر پر تو نہیں بٹھایا جا سکتا۔۔۔

پاکستانی عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ جو خود لیڈر بن کر سامنے آگئے یا بنا کر لائےگئے انھی کو مجبور ا برداشت کر لیا۔۔۔ ان کی اپنی زندگی میں کوئی اصول نہیں اسی لئے لیڈر بھی بے اصول چن لیتے ہیں اور بعد میں روتے ہیں کہ یہ کیسا نکلا۔۔۔۔ کراچی والوں کی ہی مثال لے لیں۔۔۔ زرداری کو برابھلا کہنے کے بجائے انھیں الطاف حسین کا گریبان پکڑنا چاہیے کہ کیوں فاروق ستار کو بٹھایا زرداری کے حق میں۔۔۔

بے شمار مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مل کر پاکستان کو اس حال میں پہنچا دیا کہ پورا ملک مچھلی بازار لگ رہا ہے۔۔۔ نئی نئی جماعتیں بن گئیں لیکن طریقہ پرانا گھسا پٹا۔۔۔ ایک شخص کی تعریف نعرے بازی ہلڑ بازی جھوٹی جھوٹی جانثاری کی باتیں۔۔۔ نہ کوئی پالیسی نہ منصوبہ بندی نہ کردار سازی نہ تربیت۔۔۔ صرف ہنگامہ بازی۔۔۔۔

جمعہ کو حیدری جانا ہوا تو بازار بند تھا رکشہ والے نے کہا آج جمعے کے بعد کھلے گا کیونکہ ایم کیو ایم کی ریلی ہے اور وہ گاڑیاں پکڑ پکڑ کر ریلی میں شامل کراتے ہیں۔۔۔ میں نے کہا یہ غنڈہ گردی ہے سیاست تو نہیں۔۔۔ بولا اب تو مشرف صاحب تشریف لا رہے ہیں۔۔۔ میں نے کہا جی ہاں جو گلیاں رہ گئی ہیں وہ وہاں بھی شراب خانے کھلوادیں گے۔۔۔

اور یہ سچ بھی ہے۔۔۔ جب کوئی گناہ امیروں اور حکمرانوں کی عادت تہذیب اور فیشن بن جائے تو وہ اسے عوام تک لانے میں تاخیر نہیں کرتے۔۔۔ مشرف صاحب کے سپورٹرز توویسے بھی وہ ہیں جن کی زندگی ذاتی پسند ناپسند  ہلاگلہ ہوتی ہے۔۔۔  دینی پابندیاں  تعلیم وتربیت  قومی حمیت جیسی باتیں مذاق ہوتی ہیں۔۔۔ دولت اور شہرت کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار۔۔۔ اور ان کی اکثریت آخر میں روتی لوگوں کے رویوں کی شکایت کرتی  اور زمانے کی بے حسی کا شکوہ کرتی نظرآتی ہے۔۔۔ بڑے بڑے مشہور اداکارواورگلوکاروں کو ڈپریشن میں مرتے دیکھا گیا۔۔۔ نہ دولت کام آئی نہ شہرت۔۔۔۔ یہ ووٹوں کی تعداد تو بڑھا سکتے ہیں اور عطیات تو دے سکتے ہیں لیکن ملک میں کسی نظام کو قائم کرنے اور لوگوں کی صحیح تربیت کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔۔۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ان کو رائے دینے کاحق ہے لیکن ذرا دل پہ ہاتھہ رکھہ کر بتائیں کہ پاکستانی شو بز کی طرف سے کیا رائے آسکتی ہے سوائے کہ انھیں کچھہ بھی کرنے آزادی دےدی جائے۔۔۔ فخرعالم جیسے اکا دکا ہی ہوں گے۔۔۔
ویسے جو بھی شخص تیس چالیس سال کسی فیلڈ میں کام کرے اور پھر کہے کہ ملک کے حالات اور قوم کی حالت پر رونا آتا ہے تو پھر اس نے ملک وقوم کی خدمت نہیں کی بلکہ ملازمت کرکے اپنے بچوں کے لئے دولت جمع کی۔۔۔ ان حالات میں اسکا بھی اتنا ہی حصہ ہےجتنا دوسروں کا۔۔۔
ملیر کینٹ جانا ہوا تو پتہ چلا کہ فیز ٹو میں معین اختر صاحب رہتے ہیں۔۔۔ دو چار کروڑ کے بنگلے میں۔۔۔ بچے انکے باہر ہیں۔۔۔ اکیلے پن سے بچنے کے لئے رات کو دوستوں کے ساتھہ ہنسنے بولنے کی محفلیں سجا لیتے ہیں۔۔۔ ذاتیات کے قائل لوگ کہیں گے کہ ان کی مرضی۔۔۔ پرسنل چوائس اینڈ پرسنل لائیکس اینڈ ڈسلائیکس۔۔۔ اچھا تو پھر وہ وڈیو کیا ہے جس میں معین اختر صاحب شکوہ کررہے ہیں کہ ہم کس قسم کی قو م ہیں۔۔۔
کروڑوں کی جائیداد جمع کرنا۔۔۔ عیش و عشرت۔۔۔ بدحال قوم پر رونا۔۔۔ پتہ نہیں سیاستدانوں نے شوبز کے لوگوں سے سیکھا یا شوبز کے لوگوںنے سیاستدانوں سے۔۔۔۔

Blessings Taken Back – September 4, 2010

جب انسان الله سبحانھ وتعالی کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا تو وہ نعمتیں واپس لے لی جاتی ہیں یا عذاب بنادی جاتی ہیں۔۔۔ ۔۔۔ زرخیز زمین, پانی, موسم, ,جانور, پرندے, دریا سمندر,اولاد, دولت۔۔۔ ہم سب نے بھی پاکستان کی قدر نہیں کی ۔۔۔ اور خودہی اسے سیاستدانوں اور مولویوں کے ہاتھوں لوٹنے کے لئے چھوڑدیا۔۔۔  اور ہمارےلئے ہر چیز عذاب بن گئی ہے۔۔۔

پہلے زلزلہ آیا اور اسکے دو ڈھائی سال بعد ایم کیو ایم نے عوام کو طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کے لئے بھڑکایا۔۔۔ اگر اس لڑکی پرکوڑے مارے جانے کی وڈیو صحیح بھی تھی تو خود کراچی میں اس سے بہت زیادہ کچھہ  لڑکیوں کے ساتھہ ہو رہا ہے۔۔۔ اسکے خلاف تو کوئی آواز نہیں  اٹھتی۔۔۔ اب سیلاب آیا اور ایم کیو ایم نے وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف عوام کو بھڑ کانا شروع کردیا۔۔۔ آخر انکو اتنا خون خرابہ کرنے میں مزہ کیا آتا ہے۔۔۔

فوج اور عوام کو وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف بھڑکانا اور خود انکے ساتھہ حکومت کے مزے لوٹنا۔۔۔ جتنی توجہ ایم کیو ایم نے طالبان سے عوام کو ڈرانے پر اور فوج کو اپنے ہی ملک میں الجھانے کے طریقوں پردی۔۔۔ اگر اتنی توجہ تعلیم وصحت پر دی ہوتی تو کراچی دوسرے  شہروں کے لئےمثال بن جاتا۔۔۔ لیکن جب سیاستدان  دشمنوں کے ایجنٹ ہوں تو وہ صرف اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ لوگوں اور ملک کی بربادی میں انکا کتنا حصہ ہے۔۔۔ قوم کو کس حد تک بین الاقوامی بھیک کےلئے تیار کردیا ہے۔۔۔ اپنی ہی عوام کے دلوں میں ایکدوسرے کے خلاف کتنی نفرت ڈالڈی ہے۔۔۔ اور یہ ساری سیاسی چالیں ہوتی ہیں صحیح بات سے دھیان بٹانے کے لئے۔۔۔

ایم کیو ایم نے ابھی سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔۔۔ ہزاروں لاکھوں روپے جھنڈوں, گانوں اور وڈیوز پہ خرچ ہوں گے اور کوئی حساب نہیں مانگے گا کہ فنڈنگ کہاں سے ہوئی۔۔۔ بد بختوں کے پاس پاکستان کے پرچم کے لئے ایک پیسہ نہیں ہوتا۔۔۔ قائداعظم پرایک شعر نہیں کہہ سکتے۔۔۔ الطافزم کا نیا چکر چلادیا۔۔۔ جاہل ۔۔۔۔ قدرت کی نشانیاں بھی نہیں سمجھہ سکتے کہ سارے فلسفے, سارے نظریات فیل ہو چکے ہیں۔۔۔ آخری کامیابی اسلام اور پاکستان کو ملی تھی ۔۔۔۔چودہ سال پہلے اور پھر تریسٹھہ برس پہلے۔۔۔ بغیر کسی فوجی آپریشن کے۔۔۔ صرف اور صرف  باشعور لوگوں کی عوامی تحریک کی وجہ سے۔۔۔
ذرا سا غور کریں تو اب توکسی سیاستدان کے پاس کچھہ ہے ہی نہیں۔۔۔ کوئی وژن, کوئی امید, کوئی منصوبہ بندی۔۔۔ صرف نفرتیں, خون خرابہ, مایوسی, بھیک مشن, ایک بڑے ملک کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹنے کے طریقے۔۔۔ ملے گا کسی کو بھی کچھہ نہیں۔۔۔ صرف اپنا اپنا منہ کالا کررہے ہیں۔۔۔

Political Brotherhood – September 2, 2010

کون سے بند کس نے توڑے۔۔۔ کون سے سیلابی ریلے نے کس علاقے میں تباہی مچائی۔۔۔ اب آگے اس آفت سے کیسے نمٹنا ہے۔۔۔ ایم کیو ایم کے پیٹ میں جو وڈیروں اور جاگیر داروں کے خلاف مروڑ اٹھہ رہی ہے توانکا اپنا کیا کردار ہے۔۔۔

خوش بخت شجاعت صاحبہ کے اسکول سمیت کراچی کے تمام دینی, غیر دینی اور مشنری اسکولز میں کونسا سلیبس پڑھایا جاتا ہے۔۔۔ جن ملکوں کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے بچے بڑے ہو کر انھی ملکوں کا ویزہ لیتےہیں۔۔۔ اپنے اپنے شہروں تک کے بارے میں معلومات نہیں۔۔۔ یہ سیاستدان پورے ملک کو بچانے کا دعوی کرتے ہیں۔۔۔ کیوں کہ خود غلامانہ ذہنیت کے مالک ہیں اسی لئے عوام کو وہی تعلیم دیتے ہیں۔۔۔ اور اب آئندہ تو اسکولوں کا مستقبل کیمپ میں تبدیل ہونا ہے۔۔۔ پچھلے دنوں عشرت العباد اور یوسف رضا گیلانی نے جو اسکولوں اور تعلیم کے بارے میں خبریں پڑھ کر نسائی تھیں وہ ایک جیسی تھیں۔۔۔ یہ جو غلامانہ سوچ پیدا کردی گئی ہے کہ اسکولوں کے بغیر تعلیم دی ہی نہیں جاسکتی۔۔۔ مہینوں میں جاہل ہوتی ہوئی قوم دنوں میں جاہل ہوجائے گی۔۔۔

کراچی والوں کا ذہن ابھی تک پاکستان کو قبول نہیں کرسکا۔۔۔ یا توانڈیا کی یاد داشتیں اور پہچان ہے یا پھر کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنے کی باتیں۔۔۔ بیچ میں پاکستان غائب۔۔۔ جسکی غلامی کریں وہ پناہ تو دیتا ہی ہے نہ۔۔۔ چاہے وہ وڈیرے اور جاگیردار ہوں جو ڈاکوؤں کو پناہ دیتے ہیں۔۔۔ چاہے سیاستدان جو کرپٹڈ پولیس کو پناہ دیتے ہیں یامغربی ممالک جو پاکستانی لیڈرز کو پناہ دیتے ہیں۔۔۔

زرداری, نواز شریف اور دوسروں کے بارے میں تو سب سالوں سے جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا کیا اور ان سے کوئی اچھی توقع بھی نہیں۔۔۔ ان کے خلاف بولنے والوں نے کیا کیا۔۔۔ زرداری کو ہی صدر بنادیا۔۔۔ اور پھر بھی مگرمچھہ کے آنسو بہائے جارہے ہیں کہ مجھہ سے عوام کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی۔۔۔ سارے کے سارے مل کے تماشہ دیکھہ رہے ہیں یا قوم کو اطلاعات دیتے رہتے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے وہ ہو رہا ہے۔۔۔ یا پھر ایکدوسرے کو بچانے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف بیانات کا ڈرامہ شروع کردیتے ہیں۔۔۔ عوام میں آکر عوام کی بہتری کی پالیسیز ان میں سے کسی کے پاس نہیں ہیں۔۔۔
دیہاتوں کے لوگ بے چارے اس لئے وڈیروں اور جاگیر داروں کے خلاف نہیں جاتے کہ تمام تر مظالم کے باوجود وہی انکی پناہ ہیں۔۔۔ پڑھے لکھوں کے شہروں میں ان کا مستقبل کیا ہے سوائے کسی مافیا کے ہتھے چڑھ کے بھیک مانگنا۔۔۔ اپنی عورتوں کی  عزت کوپڑھے لکھوں کے ہاتھوں لٹوانا۔۔۔ یا دینی لوگوں کی جمع کی ہوئی بھیک پر پلنا۔۔۔ ان کو معلوم ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ انھیں جاگیر داروں اور وڈیروں کے خلاف بھڑکا تو سکتے ہیں مگر عزت کی زندگی کا راستہ نہیں دکھا سکتے۔۔۔ اورصحیح بھی ہے۔۔۔ جو خود غلامانہ ذہنیت کے ہوں وہ دوسروں کے قدم اکھاڑ تو سکتے ہیں انھیں واپس بسا نہیں سکتے۔۔۔
کراچی کا تعلیمی نظام ہے کیا۔۔۔ آئےدن اسکول بند۔۔۔ مہنگی کتابیں۔۔۔ ہزاروں فیس۔۔۔ غیر تربیت یافتہ ٹیچرز۔۔۔ ٹیوشنز۔۔۔ کوچنگ سینٹرز۔۔۔ نقل سے پاس ہونا۔۔۔ تعلیمی اداروں میں ٹیچرز اور طلبہ کی بے راہ روی۔۔۔ اور اس پر کراچی کے سیاستدانوں کا یہ دعوی کہ وہ پورے ملک کی پڑھی لکھی آواز ہیں۔۔۔
اور یہ تو ثابت ہو ہی چکا ہے کہ ہم کتنے تہذیب یافتہ ہیں۔۔۔ مئیر گالیاں دیتا ہے۔۔۔ گلوکار گالیوں پہ گانے بناتے ہیں۔۔۔ اور تو اور اداکار گالیوں سے بھرمار ڈرامے بناتے ہیں۔۔۔ جویریہ جلیل اور سعود کی پرڈکشنز دیکھہ لیں۔۔۔ اور دعوی پنجابیوں, پٹھانوں کے مقابلے پہ تہذیب یافتہ ہونے کا۔۔۔ کیا تہذیب ہے۔۔۔ ارے پہلے کراچی کی  کوئی تہذیب تو بنالیں۔۔۔ جس شناخت کو تریسٹھہ سال پہلے الله نے دھتکاردیا تھا اسے دوبارہ زندگی کا حصہ بنانا کوئی تہذیب نہیں ہے۔۔۔۔

Change in the system – August 31, 2010

یا الله کیا سارے شیطان اس وقت پاکستان کے سیاستدان بنا دئے گئے ہیں۔۔۔ ابھی تین سال بھی تو پورے نہیں ہوئے۔۔۔ الیکشن کے چند دنوں میں جی جان نچھاور کرنے والے, ملکر عوام کی خدمت کا عہد کرنے والے اور فوج کی واپسی کا راستہ ہمیشہ کے لئے بند کردینے والے۔۔۔ ہمیشہ سے فوج پر الزام لگانے والے سیاستدان اس دفعہ میڈیا پرپیش کی جانے والی سچائیاں برداشت نہ کر سکے ۔۔۔ پڑھے لکھوں کی طرف سے حساب کتاب مانگا گیا۔۔۔ عوام کی طرف سے جوتا پڑا۔۔۔ سیلاب فنڈ میں بے اعتمادی دکھائی گئی۔۔۔ صرف ڈھائی برس میں اتنی ذلت ملی کہ خود ہی فوج کوایس او ایس کی کال دے دی۔۔۔  کیا فوج ان سیاستدانوں کو بچانے کے لئے آئے گی۔۔۔ پہلےکی طرح ان کی بلیک منی لے کر آزاد چھوڑدے گی تاکہ یہ دوسرے ملکوں جاکردوبارہ دس سال بعد والی نسل کا بیڑہ غرق کرنے کی تیاری کریں۔۔۔

اچھا بڑی عجیب سی بات ہے کہ صدر صاحب اور حکومت کو سب لعن طعن کر رہے ہیں اور ظاہر ہے جو حکومت کے شانہ بشانہ کھڑاہو اور خاموش رہے احتجاج نہ کرے تو وہ بھی کھیل میں برابر کا شریک ہے۔۔۔ شاید اسی لئے کہا جا رہا ہے کہ ہم حکومت گرانے کی بات نہیں کررہے۔۔۔ مطلب حکومت میں سب ٹھیک ہے۔۔۔ یہ تووڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف آپریشن ہوگا۔۔۔

جنرل ااشفاق کیانی صاحب۔۔۔ اس دھرتی نے ہمیں ماں بن کر کھلایا پلایا ہے تو پاک فوج نے باپ بن کرہماری حفاظت کی ہے ہر مصیبت میں سہارا دیا ہے۔۔۔ اگر یہ بے وقوف عوام ان شیطانوں کی ہاں میں ہاں ملاکر فوج کو بلائے تو  جب تک ناک رگڑ کر یہ نہ کہہ لیں کہ ہم ڈنڈے کے قابل ہیں ان پر بھروسہ نہیں کیجئے گا۔۔۔ اس مرتبہ آپ عوام سے حلف لیجئے گا کہ کم از کم اگلے تیس سال تک ملک میں جمہوریت کانام نہیں لیا جائے گا۔۔۔ تیس سال کےلئے وہ فوج کے کہنے پر چلیں گے۔۔۔ تاکہ جو منصوبہ ہو وہ پورا بھی ہو جائے۔۔۔ جیسے کہ ڈیمز, بجلی وغیرہ۔۔۔ اوریہ بھی حلف لیں کہ کسی منصوبے کے لئے عوام کی منظوری ضروری نہیں۔۔۔ جو بہتر سمجھا جائے گا کیا جائے گا۔۔۔

تمام تعلیمی اداروں اور شاہراہوں پر سے عوام اپنے ہاتھوں سے بلا تفریق تمام سیاستدانوں کی تصویریں او جھنڈے ہٹائیں گے۔۔۔ صرف اور صرف پاکستان کا قومی پرچم اور علامہ اقبال اور قائداعظم کی تصویریں لگیں گی۔۔۔ روزانہ اسکولوں میں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا جائے گا۔۔۔ میٹرک کے بعد خاص طورپہ کراچی کے لڑکوں کے لئے فوجی تربیت لازمی ہو گی۔۔۔ لڑکیاں بھی کم نہیں۔۔۔ ان کے لئے بھی اچھی مصروفیات لازمی ہوں گی۔۔۔ انڈین چینلز پر پابندی ہوگی۔۔۔ تمام سیاسی کارکن یا تو جیل میں رہیں گے یا سڑکوں پرجھاڑو دیں گے۔۔۔ نصاب تعلیم مجھہ سے پو چھہ کربنائیےگا۔۔۔

باقی کاموں کے لئے دوسرے پڑھے لکھوں سے بھی مشورہ کر لیجئے گا۔۔۔ لیکن ماڈریٹس سے نہیں۔۔۔ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں آپکو کہیں کا کہیں پہنچادیں گے۔۔۔۔۔
یا الله سبحانھ و تعالی میری اکیسویں شب کی پہلی دعا ہے کہ کیانی صاحب کے دل میں اتر جائے میری بات۔۔۔ اور وہ ان پر عمل بھی کرلیں۔۔۔ آمین۔۔۔

Andhon main kana Raja – August 30, 2010

غدار کسے کہتے ہیں۔۔۔ غداری کی تعریف کیا ہے۔۔۔
وفادار کسے کہتے ہیں۔۔۔ وفاداری کی تعریف کیا ہے۔۔۔
ڈرامہ داستان دیکھہ کر یہ احساس ہوا کہ وہ کردار جنہوں نے مسلمان ہو کرہندؤں اور انگریزوں کا ساتھہ دیا اور قائداعظم کو ناکام کرنے کی کوشش کی وہ آج بھی موجود ہیں۔۔۔ اور آج بھی انڈیا کے وفادار ہیں۔۔۔
کراچی میں کھلے عام انڈیا کا کپڑا لوشنز کریمز دوائیں کڑھائی کے موتی ستارے دھاگے بیچے جارہے ہیں۔۔۔ انڈیا کا کاروبار پاکستانی کرنسی سے چمک رہا ہے۔۔۔ اربوں روپے انڈین فلموں اور گانوں کو پروموٹ کرکے انڈیا بھیجے جاتے ہیں جس کو کشمیر اور دوسرے  علاقوں میں قتل عام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔ اور پاکستانی اس ظلم میں انڈین فوج کے ساتھہ برابر کے شریک ہیں۔۔۔ صرف اپنی مستیوں اور ٹائم پاس کرنے کے لئے جس بے غیرتی کے ساتھہ انڈین فلموں اورگانوں کا دفاع کیا جاتا ہےحتی کہ رمضان تک کا احترام بھول جاتے ہیں ۔۔۔ شاید اسی کا بدلہ ہے کہ ہم پہ ہر بڑی آفت رمضان میں آتی ہے۔۔۔
اسکول کالج کے لڑکوں لڑکیوں کوگھر کا یا ملک کا کام کرتے ہوئے موت آتی ہے لیکن انڈین چینلز کے لئے ٹائم ہی ٹائم ہے اور کچھہ کہنے پر جواب ملتا ہے۔۔۔ اس سے کیا ہوتا ہے یہ تو فن ہے انٹرٹینمنٹ ہے۔۔۔
ہاں تو ہم بھی تو فن اور انٹرٹینمنٹ ہی بن کر رہ گئے ہیں دنیا کے لئے۔۔۔ یا تو ہم پہ ترس کھایا جارہا ہے یا لعن طعن کی جارہی ہے یا مذاق اڑایا جارہاہے۔۔۔

مزے کی بات۔۔۔ نہیں بے حسی کی بات یہ ہے کہ میئر عوام کو دنیا کے سامنے الو کاپٹھا کہتا ہے اور عوام پھر بھی کہتی ہے بھئی اوروں سے تو بہتر ہے۔۔۔اسی کو وزیراعظم بننا چاہئے۔۔۔ ہمیں گالی دی تو کیا ہوا چار کام توکر گیا۔۔۔ گالیاں تو ہم بھی دیتے ہیں ایکدوسرے کو۔۔۔ شہزاد رائے نے سالی گا دیا۔۔۔ علی ظفر نے الو کا پٹھا گا دیا ۔۔۔ بھئی کام تو کر رہے ہیں نہ۔۔۔ تہذیب تمیز یہ سب پرانے زمانے کی باتیں ہیں۔۔۔ کیا معیار ہیں عوام کے۔۔۔ تو پھر صرف پیپلز پارٹی ہی میں کیوں برائی نظر آتی ہے۔۔۔
بھئی سیدھی سی بات ہے جن جاگیرداروں اور وڈیروں اور سرمایہ داروں کی شوگراورآٹےکی ملز ہیں وہ اس سے عوام کا خون چوس رہے ہیں۔۔۔ اور جو جاگیردار اور وڈیرے اور سرمایہ دار نہیں ہیں انکی شاید فنڈنگ ہوتی ہےانڈیا سے ۔۔۔ ورنہ اتنے شدومد کے ساتھہ کون اپنے شہرکی عوام کے اخلاق و کردار کا بیڑہ غرق کرتا ہے۔۔۔ مجبوری ہے۔۔۔ کوئی بھی پارٹی چلانا آسان تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔ ایک فون کال پہ ہی لاکھوں کا خرچہ آجاتا ہوگا۔۔۔
اچھا اگر میں قرآنی قانون یعنی آنکھہ کا بدلہ آنکھہ اور کان کابدلہ کان پر عمل کرتے ہوئے مئیر صاحب سے بدلہ لوں اورجواب میں انھیں الو کا پٹھا کہہ دوں تو۔۔۔ بھئی میں عوام ہوں حق ہے میرا اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا۔۔۔۔۔۔ سب میرے ہی خلاف ہو جائیں گے۔۔۔ آپ کو نظر نہیں آتا وہ معزز شخص ہے بھئی۔۔۔ آپ کیا ہیں نہ انڈین فلمیں دیکھتی ہیں نہ انکو کوئی اور فائدہ پہنچاتی ہیں نہ وڈیروں کے ساتھہ تصویریں بنواتی ہیں نہ لوگوں کو طالبان سے ڈراتی ہیں۔۔ ہر وقت پاکستان پاکستان قائداعظم قائداعظم۔۔۔ لہذا آپ تہذیب کے دائرے میں رہئے۔۔۔
ارے بھئی میں کیا کروں۔۔۔ میرے دل میں الله نے کوئی گھٹیا چیز کی محبت ڈالی ہی نہیں۔۔۔ جبھی تو اپنے دل کا خیال رکتی ہوں۔۔۔ بڑا قیمتی ہے میرا دل۔۔۔

Fools are Tools – August 30, 2010

جاگیر داروں اور وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ظلم وجبر سے نکلنے کا راستہ فوج نہیں بلکہ وہ طاقت ہے جو عوام ایکدوسرے کو دیتے ہیں۔۔۔ اور جو عوام اپنے سیاستدانوں سے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے مانگنے کے بجائے خود انکے شیطانی منصوبوں پر بلا سوچے سمجھے لبیک کہتے ہیں وہ ہمیشہ ظلم ہی سہتے ہیں۔۔۔
اب تک بھی کسی سیاسی پارٹی نے کوئی پلاننگ نہیں دی۔۔۔ نہ بجلی کی۔۔۔ نہ پانی کی۔۔۔ نہ زراعت کی۔۔۔ نہ انصاف کی۔۔۔ بلکہ عوام کی تو کوئی بات بھی نہیں کرتا۔۔۔ ہاں ان کو کسی نہ کسی طاقت کے خلاف اٹھہ کھڑا ہونے کے خونی منصوبے ضرور دئے ہیں۔۔۔ جب خود کی آپس میں نہیں بنتی عوام کو بھڑ کادیتے ہیں۔۔۔ اور یہ سزا ہے عوام کے بے شعور اور غافل ہونے کی کہ اپنے ہی لیڈرز کے منصوبوں کے ہاتھوں انکا معاشی اور جسمانی قتل عام ہو۔۔۔

موجودہ حالات میں مطالبات عوام کی طرف سے جانے چاہیں کہ آخر چاہتے کیا ہیں اور اسکی سمجھہ بوجھہ کے لئے سمجھدار لوگوں کو انکی مدد کرنی چاہئے۔۔۔ سمجھنے کی بات ہے طالبان کا جو ہوا کھڑا کیا جاتا ہے موضوع اس سے ہٹ کر واپس جاگیر داروں اور وڈیروں اور سرمایہ داروں پرآگیا ۔۔۔ شاید طالبان کو بریک دی گئی ہے تازہ دم ہونے کی۔۔۔ کیونکہ جس بنیاد پہ سوات میں آپریشن کیاگیااورلاکھوں کو بے گھر کیا گیا کہ طالبان کراچی تک نہ پہنچ جائیں تووہ چند ہزار دہشت گرد تو بقول کچھہ سیاسی پارٹیز کے پہاڑ گنج کی پہاڑیوں پر قابض بھی ہوچکے ہیں۔۔۔ اور بڑے بڑے دعوے کرنے والے اور قوم کو نفسیاتی طور پر خوف میں مبتلا رکھنے والے سیاسی شیطان منہ دیکھتے رہ گئے۔۔۔

اور سیاستدانوں کو اب سیاست چھوڑ کر خبریں پڑھنے کا کام شروع کردیناچاہیے کیونکہ اسی کام میں یہ ایکسپرٹ ہیں۔۔۔ کسی کو بھی دیکھہ لیں یہی جملے ملیں گے۔۔۔۔۔۔ دو بارود سے بھری گاڑیاں شہر میں داخل ہو گئیں ہیں۔۔۔ طالبان نے فلاں علاقے میں اپنی سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔۔۔ چودہ اگست کے موقع پر دہشت گردی متوقع ہے۔۔۔ اتنے سواسکول تباہ ہو چکےہیں اور جو باقی ہیں انکی تباہی کے لئے دہشت گردوں کو اشارہ کردیاگیا ہے۔۔۔ آنےوالے دنوں میں کچھہ بھی نہیں اگ سکے گالہذا ورلڈ بینک سے قرضہ لازمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس سیاسی قائد کا احتساب کرو وہ دوسروں کی ٹیپ چلانے لگتا ہے۔۔۔ انکے خلاف جنگ کا مشورہ دینے لگتا ہے۔۔۔ اوئےہم کسی انسان کےبچے کو اپنا لیڈرنہیں بنا سکتےکیا۔۔۔
عمران خان جتنی دولت تو جاوید میانداد کے پاس بھی ہو گی۔۔۔ تو یہاں کوئی علم کا شہر نہیں بس سکتا یا کوئی اور پراجیکٹ۔۔۔ اور جو ایک اٹھے مصطفے کمال صاحب۔۔۔ ایم کیو ایم کا شو پیس جس کے بل پہ وہ جو نہ کروالیں وہ کم ہے۔۔۔ انھوں نے اپنی تعریف کر کرکےکان پکا دیےکہ انکا چہرہ مبارک دیکھہ کر کوفت ہوتی ہے۔۔۔ بھئی چوبیس میں سے تیئیس گھنٹے کام کیا تو کس کے باپ پر احسان کیا اپنا فرض ادا کیا۔۔۔  کبھی پھوٹے منہ کوئی جماعت قائداعظم کے دن رات مر مٹنے کا بھی ذکر کر دیا کرے۔۔۔ اپنے قائد کا رونا روتے رہیں گے۔۔۔  الله کرے روتے ہی رہو۔۔۔ کبھی خوشیاں نصیب نہ ہوں۔۔۔
اچھا مجھہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ میں بد زبانی کرتی ہوں۔۔۔ رمضان میں بد دعائیں دے رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ اور وہ جو پوری قوم کودھوک دے رہے ہیں۔۔۔ رمضان میں خونی منصوبہ بندی کے لیے عوام کو بھڑکارہے ہیں۔۔۔
اور ویسے بھی دعائیں انسانوں کے لئے کی جاتی ہیں۔۔۔ شیا طین کو تو الله  نے دھتکار دیا ہے۔۔۔۔۔
یا الله پاکستان پر اپنا رحم فرمائیں۔۔۔ جو پاکستان کی شناخت کا عزم لے کر اٹھے اسے کامیاب کردیں  اور جو بندے ماترم کے رکھوالے ہیں  اگر ان میں ہدایت پا جانے کی صلاحیت نہیں توان پر نہ صرف اپنی لعنت فرما ئیں بلکہ انہیں ہمیشہ ناکام و نامراد اوررسوا کردیں۔۔۔ آمین۔۔۔

Politicians vs People of Pakistan – August 27, 2010

Ya Allah, do the same to Dr. Firdous Ashiq Awan so this creature would know that the politicians of Pakistan are the one who actually deserve what people of Sialkot did to those two innocent brothers.  If this witch is a woman from somewhere, she should go to the mother of those brothers and give this statement on her face.

رمضان کا مہینہ جس میں الله سبحانھ وتعالی کافروں پر جہنم کے دروازے بند کردیتے ہیں اور رحمت کے دروازے کھول دیتے ہیں۔۔۔ ہمارے بدنصیب سیاستدان لوگوں کی بد دعائیں سمیٹ رہے ہیں۔۔۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان میں اگر ہمت ہے تو ذرا یہ بیان ان دونوں بھائیوں کی ماں کے سامنے دہرادیں۔۔۔ لیکن نہیں۔۔۔ ایسی بے حس خاتون کو اس وقت تک احساس نہیں ہوگا جب تک اس کے اپنے بچوں کے ساتھہ یہ سلوک نہ ہو۔۔۔
دوسری طرف چاروں صوبوں میں قیامت آئی ہوئی ہے اور الطاف حسین نے ایک اور چٹکلا چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔ جب دیکھا کہ عوام سیاستدانوں کے کرتوتوں سے با خبر ہو کرانکے خلاف ایک ہو رہے ہیں تو میڈیا کا رخ موڑنے کے لئے ایک نے کھڑے ہو کے ایک نیابیان دےدیا۔۔۔ دوسرے نے تنقید کی۔۔۔ اوراب بیان بازی شروع۔۔۔ تاکہ پھر عوام کو اس بحث میں الجھا کرتقسیم کیا جائے۔۔۔ جس کرپٹ حکومت کے ساتھہ یہ کھڑے ہیں اور جس کے لیڈر کو ٹوپیاں پہنائی گئیں پھول نچھاور کئے گئے نائن زیرو پر اور افضا اور بخت آورکو بہنیں قرار دیا گیا۔۔۔ وہ سارا ڈرامہ انھیں بھول گیا۔۔۔  لیکن کیا کراچی کی عوام بھی بھول گئی اور اب دوبارہ بے وقوف بنے گی۔۔۔۔۔۔
اگر کرپٹ سیاستدانوں کا احتساب کرنا ہے تو اسمبلی موجود ہے عدالتیں ہیں۔۔۔ جمہوری طریقوں سے ان کے خلاف اقدامات کریں۔۔۔ پاکستان کا نہ سہی کراچی کا نظام بدل دیں۔۔۔ اسکولوں کا نظام ٹھیک کردیں۔۔۔ مڈل کلاس لوگوں کی پارٹی کے پاس ترقیاتی کاموں کےلئے بجٹ نہیں ہوتا ٹیلیفونک خطاب کے لئے پیسہ اکٹھا ہو جاتاہے۔۔۔ لاکھوںبچے بھوک سے تڑپتے ہیں لیکن پچپن سال کے بوسیدہ قائد کی سالگرہ کا کیک کاٹا جاتاہے۔۔۔ یونیورسیٹیز کے پڑھے ہوؤں کا یہ حال ہے تو زرداری اور نواز شریف کو کیا روئیں۔۔۔۔

نظام ٹھیک کرنے کے لئے فوج کی نہیں ایماندار اور محنتی عوام کی ضرورت ہے۔۔۔ با شعور لوگوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت ہے۔۔۔ ایسی عوام جو زبان رنگ نسل فرقے کا لحاظ کئے بغیر ایکدوسرے کے ساتھہ کھڑی ہو۔۔۔ آپس میں ایکدوسرے سے ہمدردی کرے۔۔۔ اور سیاسی شیطانوں کے بہکاوے میں نہ آئے۔۔۔ بلکہ انکے لئے جوتا ہاتھہ میں پکڑ لے۔۔۔

اگر چین کے عوام ایک ایک اینٹ لگا کر دیوار چین بنا سکتے ہیں۔۔۔ تو پاکستانی کیا ایک ایک اینٹ رکھہ کر ڈیمز نہیں بنا سکتے۔۔۔ ملک میں موجود اور ملک سے باہر دنیا بھر میں موجود پاکستانی کمیونیٹیز ڈیمز کے لئے مہم چلا سکتیں ہیں۔۔۔ جاگیرداری نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرسکتیں ہیں ۔۔۔ اوورسیز پاکستانی کروڑوں روپے کازرمبادلہ بھیجتے ہیں۔۔۔ انکا حق بنتا ہے کہ وہ ملک کے مفاد میں جومنصوبہ ہو حکومت کو اسکے لئے دباؤ ڈالیں۔۔۔ اس سیلاب نے کسی کے مذہب زبان عقیدے فرقے علاقےپارٹی کا لحاظ نہیں کیا۔۔۔ اس آفت کا مقابلہ بھی اسی طرح کیا جا سکتا ہے کہ ان تمام چیزوں کو پیچھے رکھہ کر صرف پاکستان کی بہتری کی بات کی جائے۔۔۔ سیلاب سے متاثرین کو یہ بھروسہ دیا جائے کہ اب وہ وڈیروں اور جاگیرداروں کے رحم و کرم پہ نہیں ہیں بلکہ لاکھوں پاکستانی انکی مدد کر رہےہیں اوران کے ساتھہ ہیں۔۔۔ تعلیم یافتہ باشعور لوگ ان کو نئی سوچ  اور بہتر زندگی کی طرف گائیڈ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ انھیں وڈیروں اور مولویوں کے جبر میں واپس نہیں جانا ہے۔۔۔ اور نہ ہی سیاسی پارٹیز کے بہکاوے میں آنا ہے۔۔۔ صرف قومی پرچم کے تلے ایک قوم ہوکر کام کرنا ہے۔۔۔


یا الله۔۔۔ پلیزپاکستان کی حفاظت فرمائیں۔۔۔ اس سر زمین کو دشمنوں کے شر سے محفظ رکھیے ۔۔۔ آمین

Miracles of Human Efforts – August 20, 2010

“He (Yaqoob) said: I do not complain of my anguish and sorrow to anyone but Allah”……Surah Yusuf, ayah 86…

۔۔۔ کہا یعقوب نے۔۔۔ بے شک میں اپنے رنج والم کی فریاد الله سے کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ سورہ یو سف۔۔۔۔۔

یہ بھی سنت انبیاء ہے کہ صرف الله کے سامنے فریاد کی جائے۔۔۔ یا الله میری بھی فریادیں ہیں۔۔۔ پہلی تو وہی۔۔۔ دنیا کے گھٹیا ترین انسانوں یعنی پاکستان کے سیاستدانوں کے پارٹی جھنڈے۔۔۔ قسم سے الله سبحانھ وتعالی میرا دل کرتا ہے ان کے جھنڈوں کو آگ لگا دوں۔۔۔ اتنی نفرت ہے مجھے ان کے منحوس جھنڈوں اور بد صورت لیڈروں سے۔۔۔

دوسری یہ کہ پلیز عوام کے دل میں یہ بات ڈال دیں کہ وہ ان سیاسی ڈاکوؤں کے بغیر بہترین کارکردگی دکھا سکتےہیں۔۔۔ دینی لوگوں کا تو چلیں یہ ہے کہ ان کی جیب میں عطیات جاتے رہتے ہیں تو ذرا چپ کرکے کو نے میں بیٹھے رہتے ہیں۔۔۔  اب دیکھیں ان ایک ہی تھیلی کے چٹوں بٹوں نے پہلے مل کے زرداری کوصدر بنایا اور اب چپ کر کے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔ اور وہ سیلاب کا فائدہ اٹھا کر پتہ نہیں کہاں کہاں بھاگم بھاگ دستخط کر کر کے آرہے ہیں۔۔۔ آپ نے تو دیکھا تھا نہ کیسے نائن زیرو پہ ٹو پیاں پہنائی گئی تھیں۔۔۔ اور ذرا اے این پی اور ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی دیکھیں۔۔۔ دواؤں کی فیکٹری سے گن پوائنٹ پر پیسے اور دوائیں جمع کر رہے ہیں خدمت خلق کے لئے ورنہ فیکٹری میں آگ لگانے کی دھمکی دیتے ہیں ۔۔۔ بجائے لوگوں  کے کاروبار جہاں جہاں ہیں وہاں سیکیورٹی کا انتظام کریں بد معاشی پر اترے ہوئے ہیں۔۔۔ اور پھررمضان میں لوٹ کے مال پراپنے جھنڈے اونچے کریں گے۔۔۔ تاکہ عوام پاکستان کے پرچم کو بھول جائیں۔۔۔ پلیز یا الله ایسا نہیں ہونے دیجئے گا۔۔۔

تیسری یہ کہ پلیز سیلاب کا امدادی کام ذرا جلدی کرادیں کیونکہ اگر ان بھوتوں کو پتہ چل گیاکہ اتنی خستہ حال عوام بھی رونے پیٹنے کے بجائے خود کچھہ کرنے کے قابل ہیں تو یہ ٹارگٹ کلنگ اور طالبان کا ڈرامہ رچا کر امدادی کام رکوانے کی کوشش کرینگے۔۔۔ امریکی فوجی پہلے ہی بلالئےہیں اپنی مدد کے لئے بد بختوں نے۔۔۔ اور قرضہ حاصل کرنے کے لئے بے چین بیٹھے ہیں بھکاری۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کے لیڈرز اپنی قوم کے لئے کیا کیا کرتے ہیں۔۔۔ ہمارے والے دم ہلاتے ہوئے ہڈی کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔ آزاد قوم کو غلام بنانے کے صلے میں۔۔۔ ان کو اتنی سمجھہ تو دے دیں کہ اپنی ہی عوام سے جوتے گالیاں کوسنے کھانا غیروں کے تعریفی سرٹیفکٹس سے زیادہ بڑی ذلت ہے۔۔۔
چوتھی فریاد یہ ہے کہ ہمیں شکر کرنا سکھا دیں۔۔۔ اس بات پر کہ ہمارا تعلق دنیا کےعظیم با ہمت, ہار نہ ماننے والے انسانوں سے ہے۔۔۔ قادسیہ کے جینرلز, یوسف بن تاشقین, طارق بن زیاد, محمد بن قاسم, سلطان محمد فاتح  قائداعظم اور پتہ نہیں کتنے نام ہیں۔۔۔ اب ذرا دیکھیں آجکل کی نکمی اور ناکارہ عورتیں گھنٹوں انڈین چینلز دیکھیں گی مگر دس پندرہ منٹ اپنے بچوں کے لئے نہیں نکال سکتیں کہ انھیں اپنی تاریخ کی کہانیاں سنائیں۔۔۔ کوئی کمانڈر دریا پر گھوڑے دوڑاکر دشمنوں کو حیران کررہا ہے۔۔۔ کوئی اکیس سال کا سالار رات بھر میں لکڑی کے ٹریکس پر جنگی کشتیاں کنچھوا کر جزیرے کے پار اتار کر فتح حاصل کر رہاہے۔۔۔ کوئی کشتیاں جلا کرجیت رہا ہے۔۔۔ کوئی بیس سال کی عمر میں سندھ فتح کر رہاہے۔۔۔ کوئی سمندری طوفان میں کشتیاں ڈال ناممکن جیت کو ممکن بنادیتا ہے۔۔۔ کوئی ایسا بھی قائد کہ بغیر فوج کے خستہ حال عوام کے ذریعے آزادی کی جنگ جیتتا ہےاور سڑکوں پر نکل آئے تو لاکھوں لوگ پھولوں کی پتییاں نچھاور کرکے عزت دیں اپنی محبت کا اظہارکریں۔۔۔۔۔۔ اور ایک غیر ملکی فنڈنگ اور کارکنوں کے وحشیانہ نعروں پر پلنے والی موجودہ قائدین کا لشکر۔۔۔ بے چارے اپنے آقاؤں کی سیکیورٹی میں نکلتے ہیں پھر بھی ایک کے جوتا پڑ ہی گیا۔۔۔

الله سبحانھ وتعالی۔۔۔ پلیز اس دفعہ سب  تماشہ دیکھہ رہے ہیں۔۔۔ غیر ملکی سربراہان بھی اور ملکی بھیڑئے بھی۔۔۔ کہ سیلاب کی تباہیوں سے فوج اور عوام کیسے نمٹتے ہیں۔۔۔ آپ عوام سے ایسا زبردست کام کروادیں کہ ان سب کے منہ پر تھپڑ پڑے  کہ ان کے بغیر بھی بہت کچھہ ہو سکتا ہے۔۔۔

Who else deserves this? – August 17, 2010

اور تعاون کرو نیکی میں اور پرہیز گاری میں۔۔۔ اورمت تعاون کرو گناہ اور ظلم کے کاموں میں۔۔۔ سورہ المائدہ

“Cooperate with one another in righteousness and piety, and do not cooperate with one another in sin and rancour:  fear Allah, for Allah is strict in punishment”….. ayah 2, Surah Al-Maidah/The Table Spread

 

ساری قوم زرداری پر جوتا پڑنے پر خوش ہے۔۔۔ میرے حساب سے ایک ایک  جوتا محترم عزت مآب شیخ لندن الطاف حسین, نواز شریف, اسفند یار ولی اور دوسرے لیڈرز کا بھی حق ہے کیونکہ ان سب نے زرداری پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اسے صدر بنایا تھا۔۔۔
کافی سالوں سے ایک بہت اچھی عادت پڑ گئی ہے اور وہ ہے سلام کرنا۔۔۔ کوئی دکاندار ہو رکشہ ڈرائیور ہو ٹھیلے والا ہو درزی ہو پڑوسی ہو یا کوئی اور۔۔۔  پہلےاگلے پر سلامتی بھیجی پھر بات کی۔۔۔ یہی ہماری تہذیب ہے اور بہترین اخلاق بھی۔۔۔۔۔۔ پٹھان اور پنجابی رکشہ والوں سے ایک آسانی تھی کہ سلام کا جواب ضرور دیتے تھے۔۔۔ تسلی ہوتی تھی کہ سلامتی کا جواب سلامتی سے ہی ملا۔۔۔ کچھہ دن سے وہ تو نظر نہیں آرہے۔۔۔ کراچی والوں سےپالا پڑ رہا ہے۔۔۔ توقع نہیں ہوتی پھر بھی سلام کرتی ہوں۔۔۔ پرسوں تو ایک سے کہہ بھی دیا کہ بھائی میں نے سلام کیا ہے آپکو سلامتی کی دعا دی ہے۔۔۔ آگے سے جواب ملا جی میں نے نوٹس کیاہے اصل میں یہاں کوئی خاتون سلام نہیں کرتی۔۔۔ میں نے کہا مرد ہی کونسا کرتے ہیں۔۔۔ کتنوں کو بتایا کہ سلام کے جواب میں یہ نہیں کہا جاتا کہ کیاچاہئے , کہاں جانا ہے۔۔۔ لیکن ماشاءالله ڈھٹائی کی حد ہے۔۔۔ حتی کہ پڑھے لکھے لوگ بھی سلام سن کر یہی ردعمل کرتے ہیں۔۔۔

ایک اور حیرت کی بات کہ بہت سے ہٹے کٹوں کو دیکھا کہ روزہ نہیں رکھہ رہے۔۔۔ پان کی وجہ سے۔۔۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے۔۔۔ گرمی کی وجہ سے۔۔۔ اور آگے تو رمضان گرمیوں میں آئیں گے۔۔۔ مصطفے کمال کا کوئی گلا پکڑے کہ اے پڑھےآدمی یہ کون سے بے پھل وپھول درخت لگائے ہیں جن سے انسان چرند پرند کسی کو کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ اس ہریالی سے کتنی آلودگی کم ہو گئی۔۔۔ نیم کے یا دوسرے درخت کتنے ہی آہستہ بڑھیں دو تین سال میں کسی قابل تو ہوہی جاتے ہیں۔۔۔ اور جو گرین بیلٹس پر خزانہ لٹایا گیا ان میں سے بہت سی واپس سمینٹڈ ہو گئیں یا پہلے کی طرح نالوں کی صورت میں کھلی پڑی ہیں۔۔۔ باہر والوں نے بھی ڈگریاں پکڑادیں لیکن یہ بتانا بھول گئے کہ بھلائی کے کاموں سے پہلے عوام کو بھلائی کا شعور دیا جاتا ہے۔۔۔ لندن کے شیخ کی پن ڈراپ سائیلینٹ تقریریں ہوتی ہیں ان میں وہ طا لبان کی برائی کے ساتھہ ساتھہ کارکنوں کو عوام میں شعور بیدار کرنے کا کام بھی سونپ دیا کریں تو قوم کو شاید فائدہ ہوجائے۔۔۔ لیکن عقلمند ہیں جانتے ہیں ایسا کیاتو ووٹ کون دیگا۔۔۔۔۔۔
بہت خوشی ہوئی جب امی نے بتایا کہ وہ تین سال کے بعد اس سال روزے رکھہ رہی ہیں حالانکہ پچھلے تین سال کی طرح اس سال بھی انھوں احتیاطا پورے مہینے کا کفارہ اداکردیا ہے۔۔۔ چھوٹے ماما نے بھی ہمیشہ کی طرح دو ہارٹ سرجریز کے باوجود روزے نہیں چھوڑے۔۔۔ جبکہ ان دونوں کی میڈیکل وجوہات ہیں۔۔۔ بابا کے نزدیک تو ویسے ہی روزہ مردانگی کی علامت ہے۔۔۔

لیکن پاکستان میں عجیب مذاق دیکھا کہ مجبوروں کی مجبوریاں ختم ہی نہیں ہوتیں۔۔۔
الله اس قوم کو شعور دے۔۔۔ آمین۔۔۔

At The Time of National Crisis – August 16, 2010

یہ کتاب ہے کسی شک کے بغیر۔۔۔ ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لئے۔۔۔

“This is the Book with no doubts in it; guidance for those who fear Allah“….ayah 2, Surah Al-Baqarah/The Cow

اور جو شخص ڈرتا رہے گا الله سے۔۔۔ تو الله پیدا کرے گا اسکے لئے نکلنے کی کوئی راہ۔۔۔۔

“And for those who fear Allah, He (ever) prepares a way out”…. ayah 2, Surah At-Talaq/The Divorce

اور رزق دے گااسے ایسے طریقے سے جدھر اسکا گمان بھی نہ جاتا ہو۔۔۔ اور جو بھروسہ کرے الله پر سو وہ اسکے لئے کافی ہے۔۔۔ بلا شبہ الله پورا کرکے رہتا ہے اپنا ارادہ۔۔۔ بے شک مقرر کر رکھی ہے الله نے ہرچیز کے لئے ایک تقدیر۔۔۔

“And He provides for him from (sources) he never could imagine. And if any one puts his trust in Allah, sufficient is ((Allah)) for him. For Allah will surely accomplish his purpose: verily, for all things has Allah appointed a due proportion”…. ayah 3, Surah At-Talaq/The Divorce

اور جو شخص ڈرے الله سے۔۔۔ پیدا کردیتا ہے وہ اسکے معاملات میں آسانی۔۔۔

“and for those who fear Allah, He will make their path easy”…. ayah 4, Surah At-Talaq/The Divorce

اور جو شخص ڈرے گا الله سے۔۔۔ تو وہ دور کردے گا اس سے اسکی برائیوں کو اور عطا فرمائے گا اس کو بڑا اجر۔۔۔

“and if any one fears Allah, He will remove his ills, from him, and will enlarge his reward”…. ayah 5,  Surah At-Talaq/The Divorce

The trails that our nation has been facing for a long time have gotten severe.  Since the official planning is missing at all, every five-year seemed to be planned for a super disaster; 2005 super earthquake in the month of Ramadan, 2010 super flood in Ramadan.  May Allah Subhanau wa Ta’alaa bless each and every individual who are busy in relief efforts and accept their humble voluntarily services at this time of super national crisis.

Another national tragedy is that, as far as I know, none of the wealthy and healthy parliamentarians and other government officials have announced to donate the part of their salary in the relief fund, although they can afford to do that every month.  The president is busy in his world tour.  The only efficient and reliable human resources available is the Pakistan Army who are doing their best as usual.

This flood is a national tragedy.  Just charity organizations can’t handle them all alone.  Not only money and other life necessities but they do need the people to work for them.  How can few thousand personnel take care of millions who are displaced?  and how come after every disaster, we come to know that we are not ready?  Why don’t we just start listing down the things that we need in times like these?  Forget about the government, they won’t do anything for next thousand years.  Why don’t we prepare on our own, the swimmers, the climbers, the diggers, the rescuers, the fire fighters, the counselors, the medical assistants etc…?

It’s time for women (especially the educated one)  to play their effective role.  If somehow, women and girls in different neighbourhoods take the responsibility of teaching and training or at least plan to keep children busy in different activities, that might help in reducing the burden from men and boys and they can do their job systematically.   Many people own houses with lawns and front or back yard or garages where at least 40 to 50 children can be accommodated for few hours on daily basis.  Or private school premises can be utilized for the same purpose in after school hours.  The same neighbourhood can certainly manage for one time meal for them.  School owners and principals can arrange some after school counseling programs for female flood victims.  City and local government can allocate the areas and arrange for the transportation of their safe pick and drop.  They can call for the volunteers and distribute tasks such as to keep the data, teaching, doing activities, counseling, preparing and distributing meals, cleaning off the place and even for how to utilize those victims to help themselves.

People who have relatives living abroad should ask them not to send only donations but also help in providing some working opportunities.  Promote Pakistani culture and Pakistani products whatever the kind of.  Overseas Pakistanis are living in organized societies, they better know how to develop one here in their original land.

Mercy and Kindness – August 4, 2010

ویسے ایک بات میں نے دیکھی اپنے بارے میں۔۔۔ کہ رعب ہے میرا۔۔۔ بھئی الله کا فضل ہے میراکوئی کمال نہیں ہے۔۔۔ مطلب کہ اگر مذاق میں بھی کہہ دوں کہ میں ملنے آرہی ہوں تو ڈرکر بھاگ جاتے ہیں۔۔۔ پہلے تو بہانے بہونے کرتے تھےاب تو ملک چھوڑ کرچلے جاتے ہیں۔۔۔ لاکھہ سمجھاؤ کہ بھئی میری باتوں کو سنجید گی سے نہ لیا کریں۔۔۔ میں تےصرف مخول کیتاسی ۔۔۔۔ یہ تو حال ہے کراچی والوں کے اخلاق کا۔۔۔

اچھامیں محاورات کو جملوں مں استعمال کرکےوکھاؤں۔۔۔


خون کھول اٹھنا۔۔۔ ایم کیوایم اےاین پی اور پیپلز پارٹی کے جھنڈے دیکھہ کر میرا خون کھول اٹھتا ہے۔۔۔

باغ وبہار ہونا۔۔۔ آج دو اسٹالز پر پاکستان کے جھنڈے دیکھہ

کردل باغ وبہار ہو گیا۔۔۔

کان کاٹنا۔۔۔ شیطان نے اپنے ساتھیوںسے کہا بھئی پاکستان کے سیاستدان تو میرے بھی کان کاٹتے ہیں۔۔۔

بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنا۔۔۔ قدرتی آفات کے موقع پر زرداری کا غیر ملکی دورہ۔۔۔ گویابلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔۔۔

آنکھیں دکھانا۔۔۔ عوام کےاپنے حقوق کے لئے احتجاج کرنے پرسارے سیاستدانوں نے یکجا ہوکرعوام کو آنکھیں دکھائیں۔۔۔

خون پسینہ ایک کرنا۔۔۔ سیاستدانوں کی عدم پالیسیوں نے عوام کا خون پسینہ ایک کردیا۔۔۔

آجکل کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر نہیں بلکہ گاؤں بنا ہواہے۔۔۔ دھول اڑاتی پگڈنڈی نما سڑکیں۔۔۔ بے پھول وپھل درخت۔۔۔ ورنہ پرندوں کی ہی آوازوں کا ہی شور ہوتا۔۔۔ جب سب بند تولوگ کھائیں کہاں سے۔۔۔ یہودیوں امریکیوں سے کیا شکایت کریں یہاں تو مسلمان مسلمان کے منہ سے رزق چھیننے اور زمین کے ٹکڑوں پر قتل وغارت کو سیاست کہتے ہیں۔۔۔ گھروں اور شہروں کو ویران اور برباد کرنے کو اسلام کہتے ہیں۔۔۔ پاکستان کو اجاڑکر رکھہ دیا۔۔

Khooni Balain – August 4, 2010

پناہ مانگتی ہوں میں الله کی۔۔۔ پاکستان کے سیاستدانوں سے۔۔۔

کاش امی کی باتیں مان لی ہوتیں۔۔۔ منع کرتی تھیں کہ جنوں بھوتوں کی کہانیاں نہ پڑھو۔۔۔  سچ مچ میں آ جاتے ہیں۔۔۔ لیکن میں نہیں مانتی تھی۔۔۔ اب پتہ چلا کہ امی سچ کہتی تھیں۔۔۔ ساری خونی بلائیں آج سیاسی پارٹیاں بنا کر بیٹھیں ہیں۔۔۔ ہر تھوڑے دنوں کے بعد عوام کا خون پی کر انھیں چین آجاتا ہے۔۔۔ خوف وہراس پھیلانا۔۔۔ ڈرانا۔۔۔ شہر کو ویران کرنا۔۔۔ ان کی فطرت ہے۔۔۔۔۔۔ بابا نے حالانکہ طریقے بتاے ہیں بلاؤں سے نمٹنے کے۔۔۔  وہ تو مل چکے ہیں  نا سر کٹے شیطان سے۔۔۔ لیکن پھر بھی ۔۔۔ اتنوں کا مقابلہ میں اکیلی کیسے کروں۔۔۔ الله معافی ہیں بھی ہاتھی گینڈے جیسے۔۔۔

آدھی کو چھوڑ پوری کو جائے۔۔۔ آدھی پائے نہ پوری پائے۔۔۔ بچپن میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ محاورہ حلوے والی پوری کے لئے کہا گیا ہے۔۔۔ کم ازکم اب ہماری سیاست کے لئے کہا جا سکتا ہے۔۔۔
ایم کیو ایم بے چاروں نے پورے پاکستان کے جھنڈے کو کراچی کی قیمت پر بیچا۔۔۔ کراچی بھی پورا نہ مل سکا۔۔۔
اے این پی اپنا صوبہ  آگ اورخون میں ڈوبا ہواچھوڑ کر کراچی پہ رال ٹپکانے آگئے۔۔۔  بے چارے اگر ساری دنیا کے پختونوں کراچی والوں کے خلاف اکھٹا کرنے کے بجائے یہی دھمکی امریکہ کو دے دیتے تو خیبر پختون خواہ میں آج امن اور خوشحالی ہوتی۔۔۔ پتہ نہیں شاہی سید صاحب اتنے بہادرکب ہوں گے کہ امریکہ اور نیٹو افواج سےسو سالہ بدلہ لیں سکیں اپنے علاقوں کی تباہی کا۔۔۔
پیپلز پارٹی کی تاریخ تو خیر سب ہی جانتے ہیں۔۔۔اتنی لعن طعن کے بعد بے حس ہو گئے ہیں۔۔۔
نواز لیگ شاید انتظار میں ہے کہ کب یہ تینوں جماعتیں ایکدوسرے پرغرانے اور کاٹ کھانے میں نقصان اٹھائیں اور انھیں موقع ملے۔۔۔
ہائے یہ سیاسی گدھ ۔۔۔ پاکستان کے جھنڈے۔۔۔ پاکستان کے ترانے۔۔۔ پاکستان کے نظریہ۔۔۔ پاکستان کی عزت کو بیچ کر خود کو عظیم قائد کہلاتے ہیں۔۔۔ مرجائیں تو شہید۔۔۔ ذرا کارکنوں سے ہٹ کرعام لوگوں کی باتیں سنیں۔۔۔ بد دعائیں۔۔۔ لعنت ملامت۔۔۔ ذلت۔۔۔
آج رضا حیدر صاحب کے سوگ کا دوسرا دن ہے۔۔۔ لوگ دکھہ میں آج بھی مرغن کھانے پکا رہے ہیں۔۔۔ انڈین چینلز کھلے ہؤے ہیں۔۔۔  اور مجھے کسی سے ملنے جانا تھا۔۔۔ بہت اہم۔۔۔ تو سب بند ہے۔۔۔
Pakistan Movement continues – July 27, 2010

کل بازار جانا ہوا۔ پہلے تو رکشہ والے نے ہولا دیا کہ سب بند پڑا ہے۔ ایم کیو ایم کے بندے مارے گئے ہیں۔ میں نے کہا پھر بھی دیکھہ لیں ورنہ میں واپس آجاؤں گی۔ بازار میں پٹھا نوں کی کافی دکانیں واقعی بند تھیں۔ جو ہماراپٹھا ن دکاندارہے وہ کھلا تھا۔ میں نے پو چھا کیا بات ہے پٹھانوں کی دکانیں کیوں بند ہیں۔ کہنے لگا کل پٹھانوں نے ایم کیو ایم کے آدمی ماردئیے۔ میں نے پو چھاکتنے اور کیوں۔۔۔۔ کہنے لگاپچیس بندے مارے ہیں۔ نائن زیرو میں گھس گئے تھے۔ ۔۔۔۔ تو میں نے کہا آپ لوگ کیسےپٹھان ہو اپنا صوبہ توافغا نیوں اور دہشت گردوں کے حوالے کردیا اب کراچی کی زمنیوں پر قبضہ۔ یہاں بھی آگ لگادو گے پھرکون سا شہر برباد کرنے جاؤگے۔ اتنے بہا در ہو تو پہلے اپنا صوبہ واپس لو دہشت گردوں سے۔۔۔ قبضہ ہی کرنا ہے تو اتنی زمین پرکرو جس میں دفن ہونا ہے۔۔۔۔ کہنے لگا بین یکین مانو ام ایسا نائیں اے۔ام تو ادر روزی پہ کھڑا ہے۔۔۔۔۔۔ میں نے کہا پھر آپ انھیں سمجھاتے نہیں ہو۔۔۔۔۔۔ کہنے لگا ام سمجھاتا اے توآگے سے ام کو جواب ملتااے کہ تم بے غیرت پٹھان اے۔ ابی ام خاموش او جاتااے کیا کرے۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر اور ہم اور پٹھان سیا ستدانوں کو لعنت ملامت کرتے رہے۔ پھر شورمچا کچھہ لوگوں نے شٹر گروانے شروع کردئیے۔۔۔ کسی نے کہاایم کیو ایم کی ریلی نکلے گی۔۔۔ کسی نے کہا پیچھے نائن زیرو پہ ایم کیو ایم کا جلسہ ہے۔۔۔
واپسی پر درزی کے پاس رکی تو اس نے ایک اور کہانی سنائی۔ کہنے لگا کل آگئےتھے جھنڈےسلوانے۔۔۔۔۔ میں نے پوچھا کون تو مسکراکر بولا وہی۔۔۔۔۔ میں نےکہا ایم کیو ایم۔۔۔ تو ہاں میں سر ہلانے لگا۔۔۔۔۔ میں نےکہا آپ نے منع کردینا تھا صاف کہہ دیتےکہ غداروں ہم پاکستان کے علاوہ کوئی جھنڈا نہیں بنائیں گے۔ ۔۔۔۔۔ کہنے لگا کہ ہم نےمنع کیا کہ کام کاپریشر زیادہ ہے تو ہمارے دو کاریگراور اگلی گلی میں درزی ہے اسکے بھی دو کاریگراٹھا کر لے گئےپانچ سو جھنڈے  بنوانے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اٹھا کر لے گئے۔۔۔ تعلیم یافتہ جماعت کےکارکن۔۔۔۔ توان میں اور باقی سیاسی غنڈوںمیں فرق کیا رہ گیا۔۔۔۔

چودہ اگست کے لئے پاکستان کے جھنڈے بنواتے ہوئے موت آتی ہے ایم کیو ایم کو۔۔۔۔۔ اور دونوں درزی پنجابی ہیں۔۔۔ کیا کہیں گے وہ پنجاب جاکے کہ ایم کیو ایم کے غنڈے ہمارے کاریگر اٹھاکر لے جاتے ہیں۔ یہ ہے ووٹ لینے کا طریقہ۔ واپسی پر جو رکشہ والا تھا وہ کراچی کاتھا۔  میں نے اس سے حالات پوچھے۔۔۔  کہنے لگا بہن میں اورنگی ٹاؤن میں رہتا ہوں اور پھر جو اس نےایم کیو ایم کو برا بھلا کہنا شروع کیا ہے۔۔۔۔۔

یہ کس قسم کی سیا ستیں کی جا رہی ہیں۔ پٹھان عوام پٹھان سیاستدانوں کو براکہہ رہے ہیں۔ کراچی کےعوام ایم کیو ایم سے تنگ ہیں۔ پنجاب کے عوام کو پنجابی سیاستدانوں کوگالیاں دے رہے ہیں۔ بلوچی عوام کو بلوچی سیاستدان کھا گئے۔ اپنے ہی لوگوں کا خون پی کرسیاست کرنا۔ اپنی عوام کو بربادکرکے دنیا کو ان کی بے بسی دکھانااور ان کی فلاح وبہبود کے نام پہ قرضے اڑانا۔۔۔ صرف پاکستانی سیاستدانوں کاطرز سیاست ہے۔۔۔۔۔۔ کیا فرق ہے ان سیاستدانوں میں اور ان لوگوںمیں جو بارہ بارہ بچے اس لئے پیدا کرتے ہیں کہ ان کی بد حالی کے نام پر بھیک مانگ سکیں۔ بلکہ یہ سیاستدان تو ان بھکاریوں سے بھی بدتر ہیں۔ کم از کم وہ اپنے بچے تو خود پیداکر لیتے ہیں۔ یہ تو دوسروں کی نسلیں برباد کرکے بھیک مانگتے ہیں۔ بے غیرت اتنے کہ دن رات انکو لعنت ملامت کرتے رہو پھر بھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔ فیض زندہ ہوتے تو ضرور ایک نظم آج کے سیاستدانوں کے نام لکھتے۔۔۔۔۔ ہماری سیا ست کے یہ آوارہ کتے۔۔۔ انھیں کوئی احساس ذلت دلادے۔۔۔۔۔۔ آمین

Independence Day is ahead and our politicians and their workers are busy in making their party flags.  All conspiracy against Pakistan.  They will make the situation that worse so the people will forget about national flags and celebrating 14th August.  What’s the reason of sewing thousands of party flags at this time?  Why the songs of MQM, why not the national songs and the national anthem?  I swear to God, these politicians, whether inside or outside the country, have sold us.  Prove me wrong.  Give me one reason why don’t they talk about Quaid-e-Azam, national flag, national anthem, Pakistan movement?  Why quaid-e-thereek, quaid-e-jamhooriyat, quaid-e-awam?  Hell to them all.

Quaid-e-Azam is the one and only true leader and the father of nation, period.

Freedom is our fate – July 23, 2010

شادی۔ ایک ایسا موقع جب سارے پاکستانی کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔  جہاں دینی لوگوں کی ساری منافقتیں ظاہرہو جاتی ہیں۔ وہیں یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ جو خود کوغیردینی یعنی دینی لوگوں سے بہتر مسلمان سمجھتے ہیں انکے دل کتنے بٹے ہوئے ہیں۔ کراچی والوں کوہی لے لیں۔ ایک کراچی میں پورے انڈیا کی قومیں مل جائیں گی لیکن پاکستانی نہیںملے گا۔ امروہہ لکھنؤ دہلی رامپور کانپور دکن حیدرآباد  بہاربریلی بھوپال وغیرہ وغیرہ۔ پتہ نہیں انگریزوں اور ہندؤں کی غلامی میں کیامزہ تھا کہ آج تک وہیں کو روتے رہتے ہیں۔ ہجرت کرنی تھی تو دلوں کی گند تو وہیں پھینک آتے۔ بلکہ اپنی اگلی نسلوں میں بھی منتقل کردیں۔ حتی کہ عالم ہوں یا حافظ بن جائیں لیکن دلوں کی گندگی صاف نہیں کرتے۔ اور جن کے دل صاف نہ ہوں وہ بھلا شہر اور ماحول کی صفائی پرکیا توجہ دیں گے۔
حتی کہ تعلیم یافتہ ہونے کا دعوی کرنے والی جماعت بھی کراچی والوں کو پاکستانی نہ بنا سکی۔ بلکہ پاکستان کے قومی پرچم کے مقابلے پہ دوسری جماعتوں کی طرح اپنا الگ ہی جھنڈا لے آئے۔ اور جہاں دل بٹے ہوئے ہوں سڑکوں پرمختلف جھنڈے لہرانے لگیں تو زمین کا بٹوارہ مشکل نہیں رہ جاتا۔
آج اپنے ملک کاماحول دیکھیں تو لگے گا اسلام سے قبل کے قبائلی دور میں رہ رہے ہیں۔ سارے قبیلےاپنے جھنڈے تلے یا تو ایکدوسرے پرحملےکرتے ہیں اورپھر جوابی کاروائیاں۔ حتی کہ گھر بھی قبیلے بنے ہوئے ہیں۔ جسکے گھر اولاد پیدا ہو جائے تو سمجھتے ہیں قبیلے کی آن بان پر قربان ہونے والا پیداہو گیا۔

سیدھی سی بات ہے۔ جس کے دل میں رسول نہیں وہ اسلام کی خدمت کیا کرے گا۔ اور جس کی زبان پرپاکستان کا ترانہ اورہاتھوں میں قومی پرچم نہ ہو وہ پاکستان سے غداری کے علاوہ کچھہ نہیں کر سکتا۔

So even self-claimed educated party like MQM also failed to change the hearts of Karachiites to a Pakistani one.  Pre-partitioned sects are still alive in their hearts.  The one who migrated had nothing in their hands but brought their territories along with them in their hearts.  That is what they considered their precious possession and transferred to their next generation proudly.  Although the land of Pakistan filled their hands with all kinds of blessings but they wasted it.

All I know and believe in is so simple, a Muslim is not a Muslim without loving Prophet Muhammad (peace be upon him).  The one who doesn’t know the national anthem and doesn’t raise the national flag can be called anything but a Pakistani.

Our Flag – June 25, 2010

http://www.kalam.tv/ur/video/33311/index.html

Ms. Fawzia Wahab, “to kiya hoa agar people’s party ka jhanda lag gaya?”…..my answer is it hurts the true citizens of Pakistan.  You may kiss your party’s flag in whenever and wherever you want but have no right to replace the national flag with it.  May be a degree holder like you doesn’t know that the national flag of Pakistan is a symbol of unity and peace and progress.  While your flags (of all political parties) are a symbol of hatred, chaos and a curse on our nation.

And Mr. Siddique Al-Farooq, you sound so disappointed but we will see when it’s your turn in two years, as you might have been promised.

May God be the protector of the honour of the national flag of Pakistan and help those who stand for it, Ameen!

National Flag of Pakistan – June 24, 2010

http://www.kalam.tv/ur/video/33311/index.html

This is the reason I hate the political parties of Pakistan.  None of them stands for Pakistan.  I won’t say that they don’t stand for the people because their voters don’t mind the corruption, ignorance and arrogance of their leaders.  After all they are in majority and what I have on my other side is the educated minority who don’t bother to speak up for issues like nation, national flag, national anthem, founders of Pakistan, patriotism, etc.

So I pray to God for a flash of lightning which could burn the flags of People’s Party, Nawaz Sharif’s Party, MQM and others’.  How do they face their ugly faces in the mirror, they are so hideous.  And it is useless to ask Ms. Fawzia Wahab or else because they all will give the same answer with the same dhitai.  The big reason for their dhitai could be the American and Western support and assurance of another tenure.

As for People’s Party and Muslim league(s) should remove the word Pakistan from their party’s name because they don’t deserve it.

And at least the one who think that they are educated and wise shouldn’t support and shouldn’t vote them.

Another thing that I can’t understand is that why do ugly and corrupted people like THEM live long.  Why don’t they die in their youth, nobody kills them either.  They must be a punishment from God for us, for the evil that we do to each other.

Birthdays after Death – June 22, 2010

Yesterday was Benazir Bhutto’s birthday.  Is Pakistan the only country where leaders’ birthdays are celebrated even after their death?  Millions of rupees will be dumped on building her memorials.  What does a dead person need?   A little space to bury the dead body and the prayers, that’s it.  Don’t PPP officials understand this?  People are living miserable lives in Ghari Khuda Bukhs and in Larkana while they are wasting money in constructing monuments to keep her alive in memories.  Don’t her husband and children know how would these monuments benefit Benazir in her grave?  If you love her, celebrate her after-death birthdays in your occupied house, why wasting nation’s money?

Today PPP is celebrating both Bhutto’s after-death birthdays.  Tomorrow when Nawaz Sharif and Altaf Hussain will die, then it will become a national tradition, unfortunately, then PMLN and MQM will dump money in building their leaders memorials.

Aah! What an unfortunate land full of ignorant!


Jamshed Dasti and Home-Schooling – May 19, 2010

The nomination and winning of Mr. Jamshed “non-educated” Dasti is a clear indication of Pakistan People’s Party’s intention that “how much they care about education”…..the same feudal-lord mentality that we need to get rid off.

We already know the plight of our educational institutions and the mental condition of our education ministers, educationists, writers, poets, thinkers, philosophers, school owners, principals, teachers, and parents, along with the help of our leaders, if the situation persists…. soon people will be left with no choice but to home-school their children.   I personally appreciate the efforts of all these people to bring education to this level that now our educated people proudly elect “non-educated liars” as their representatives.  Mashallah, they all played their role so well.

For me, it’s a great idea because this way at least people will get to do something useful. Be more optimistic, when they will come under the burden of responsibility of training their own kids, women will seriously raise their voices for “family planning”.  They won’t get time to keep an eye on and knit conspiracy against mother-in-law, sister-in-law or neighbours.  They will get disciplined.  This whole process will develop a learning attitude within them.  Watching their mothers and elders on the right path (of sensible, learned people), children will follow their foot-steps and one day, inshallah, we will have a whole generation like we once had fourteen hundred years ago; the multi-dimensional personalities and….

…..Ouch! who pinched me?


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: