Get Well Soon Edhi!

Just heard about respected Mr. Edhi being hospitalized.

Ya Allah (SWT)! Mr. Edhi is running half Pakistan.  Please keep him healthy and active as he’s always been.  If something happens to him , who’s gonna provide me with kafn and dafn.  So please have Mercy on him.  Ameen!  😥

But if You want to do a great favor, please take Zardari, Altaf Yazeed, Nawaz Sharif and Shahi Syed ‘s souls away.

.

اسمعیل میرٹھی کی نظمیں

.

برسات 
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا  
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا 
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی  
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی 
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی  
تو بے جان مٹی میں جان آگئی 
زمیں سبزے سے لہلانے لگی  
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی 
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل  
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل 
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے  
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے 
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا  
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا 
.
پانی ہے کیا چیز 
دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی  
جو دانا ہو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے  
گرہ کھل جاۓ تو فورا ہوا ہے 
نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ  
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ 
جو ہلکا ہو اسے سر پر اٹھاۓ  
جو بھاری ہو اسے غوطہ دلاۓ
لگے گرمی تو اڑ جاۓ ہوا پر  
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر 
ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے  
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے 
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے  
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے 
اسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں  
اسی سے تازہ دم ہوتے ہیں حیواں 
تواضع سے سدا پستی میں بہنا  
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
.
سچ کہو 
سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ              
ہے بھلے مانسو کا پیشہ سچ 
سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز    
سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز 
سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد      
فکر سے پاک, رنج سے آزاد 
سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر      
جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر 
سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو      
سہل کرتا ہے سخت مشکل کو 
سچ ہے سارے معاملوں کی جان      
سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان 
سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف  
سچ کرادے گا سب قصور معاف 
وہی دانا ہے جو کہ ہے سچا  
اس میں بڈھا ہو یا کوئی بچہ 
ہے برا جھوٹ بولنے والا
آپ کرتا ہے اپنا منہ کالا 
فائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ  
جاۓ گا ایک روز بھانڈا پھوٹ 
جھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو
جھوٹ ذلت کی بات ہے اخ تھو! 
.
شفق 
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار          
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار 
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ              
جنھیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ 
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے              
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے 
ذرا دیر میں رنگ بدلے کی                
بنفشی و نارنجی و چنپئی
یہ کیا بھید ہے! کیا کرامات ہے            
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے 
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے          
باڑ بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ 
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ  
ہرے بن میں گویا لگادی ہے آگ 
اب آثار پیدا ہوۓ رات کے                  
کہ پردے چھٹے لال بانات کے 
.
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
اگر طاق میں تم نے رکھ دی کتاب        
تو کیا دو گے کل امتحاں میں جواب 
نہ پڑھنے سے بہتر ہے پڑھنا جناب  
کہ ہو جاؤ گے ایک دن کامیاب
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
نہ تم ہچکچاؤ، نہ ہرگز ڈرو                
جہاں تک بنے کام پورا کرو 
مشقّت اٹھاؤ، مصیبت بھرو                
طلب میں جیو، جستجو میں مرو
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
زیاں میں بھی ہے فائدہ کچھ نہ کچھ      
تمہیں مل رہے گا صلہ کچھ نہ کچھ 
ہر اک درد کی ہے دوا کچھ نہ کچھ      
کبھی تو لگے گا پتا کچھ نہ کچھ 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
تردّد کو آنے نہ دو اپنے پاس  ہے        
بے ہودہ خوف اور بے جا ہراس 
رکھو دل کو مضبوط، قائم حواس        
کبھی کامیابی کی چھوڑو نہ آس 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
.
 

The Purpose of Examination in Primary Schools – سالانہ امتحانات کا مقصد

What is the purpose of final examination in elementary school?

What should be the syllabus of final exams in elementary school?

What should be the pattern of examination papers in elementary schools?

.

آج کل اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا دور ہے… بچوں پر سلیبس اور ٹیوٹرز کا جتنا دباؤ ہے… شاباش ہے اس قوم کے بچوں کو کہ اپنے ہی استادوں اور والدین کے ظلم کی چکّی میں پستے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے ادب کی وجہ سے… طلبہ و طالبات کو کہتی ہوں کہ بھئی آواز اٹھاؤ کہ کیا پڑھنا ہے کیا نہیں، کیا شکایات ہیں… ایک نے آواز اٹھائی (ذرا غلط طریقےسے اٹھا لی) تو اسے اسکول سے نکال دیا… پھر یہ کہ بچے کہتے ہیں کیا شکایات کریں کس سے کریں اور کیسے… لکھنا نہیں آتا… اول لیولز کے بچوں کا یہ حال کہ کسی چیز میں ماہر ہونا تو دور کی بات، بات کرنے کے قابل نہیں… بس شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ یہ مضمون اچھا نہیں، وہ مشکل ہے… ہر مضمون سے بیزار… سارا سال گدھوں کی طرح کتابیں اٹھانے والے اور طوطوں کی طرح رتے لگانے والے تھکے تھکاۓ بچے… 
.
اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا کیا مقصد ہے؟
اگر کوئی یہ کہے کہ اسکول ایڈمنسٹریشن یہ چیک کرنا چاہتی ہے کہ بچہ اگلی جماعت میں جانے کے لئے تیار ہے کہ نہیں تو غلط جواب ہوگا… سارا سال بچوں کے دماغ کو رگڑ رگڑ کر جو مختلف ٹیسٹ لئے جاتے ہیں، بچوں کی حاضری، انکی دلچسپی، انکے ہوم ورک کا معیار… یہ سب اساتذہ کی نظر میں ہوتا ہے اور انھیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کون سا بچا کتنے پانی میں ہے… کراچی کے پرائیویٹ اسکولوں میں تو ویسے بھی اندر ہی اندر پوزیشنز بکتی ہیں، اسکولوں کے پسندیدہ ماں باپ کے بچوں کو کس طرح اندر ہی اندر سب بتا دیا جاتے ہیں کہ وہی فرسٹ سیکنڈ آئیں… ایسے ہی تو اسکول اونرز بڑی بڑی گاڑیوں اور بنگلوں میں نہیں  رہتے… اور کراچی میں تو زیادہ تر پرائیویٹ اسکولز ویسے بھی ایم کیو ایم کے سپورٹرز ہیں… مجرمانہ ذہنیت تو ہوگی نہ انکی اور بھارتی غلامی کا سبق ہی دیں گے یہ بچوں کو…
.
اور اگر یہ کہاں جے کہ اسکول والے والدین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انکا بچہ کتنا ذہین ہے یا کس حد تک تیار ہے اگلے لیول کے لئے تو یہ پہلے سے بھی زیادہ غلط جواب ہوگا… جن گھروں میں بچے اسکول جاتے ہوں اور وہاں رات بارہ ایک بجے تک جگا جاتا ہو، سارا سال شادیوں اور تقریبات سے دو تین بجے تک لوٹنا، نانیوں کے گھر وقت بے وقت جانا، بھارتی چینلز پر انکے فنکاروں کو گھر کے افراد اور انکی فحاشی کو گھر کا ماحول سمجھنا، ماں باپ کا خود کتابوں اور علم سے بیزار ہونا اور نے نظم و بے ضبط زندگی گزارنا… یہ سب والدین کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے… اور انھیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ انکی اولادیں کس قابل ہیں… ٹیوٹرز تو بچوں پرتعلیمی دباؤ ڈالنے کے لئے رکھے جاتے ہیں… 
البتہ اسکول والے اور والدین ایک دوسرے پر الزام ڈال کر اپنا فرض پورا ضرور کر لیتے ہیں… بچوں کا سال ضائع ہو وہ خیر ہے… 
.
سالانہ امتحانات کا مقصد طلبہ میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے کہ وہ اگلی جماعت میں جانے کے قابل ہیں اور جتنی محنت اس سال کی ہے، اگلے سال اس سے زیادہ کریں تو اور اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے… اس سے بچوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک پڑھنے، لکھنے اور حساب کتاب کے قابل ہوگئے ہیں… 
.
سالانہ امتحانات کا سلیبس کیسا ہونا چاہیے؟ 
ہمارے زمانے میں یعنی پچھلی صدی میں صرف دو امتحانات ہوتے تھے… ایک ششماہی اور دوسرے سالانہ… ششماہی امتحان میں پہلے چار مہینوں کا سلیبس ہوتا تھا کہ جو پڑھا ہے وہ آۓ گے اور سالانہ امتحانات میں پورے سال کا… پرچوں میں ایک دن کا وقفہ ہوتا تھا اور نہ ہو تو سالانہ امتحانات سے پہلے ایک ہفتے کی چوتھی ضرور ملتی تھی کہ طلبہ گھر پر خود پڑھائی کریں… امی اس ہفتے ہرجگہ آنا جانا بند کر دیتی تھیں اور ٹی وی بھی بند… گھر میں صبح شام کا پڑھائی کا وقت بنا دیا جاتا… وقت پر کھانا، وقت پہ سونا، وقت پہ کھیلنا… اردو، انگلش، ریاضی، سوشل اسٹڈیز (جس میں جغرافیہ شامل ہوتا)، سندھی، اسلامیات اور ڈرائنگ… نہ اردو ادب، نہیں انگلش لٹریچر، نہ کمپیوٹر… اپنے لیول کی چیزیں پڑھ کر پاس ہو جاتے… کبھی ٹیوشن نہیں پڑھا… ہاں بہت چھوٹی عمرمیں بھی اس قابل ضرور تھے کہ محلے کے بچوں کو انگلش اور اردو کے ابتدائی قاعدے اور گنتی سکھا سکیں… 
.
آج ماہانہ ٹیسٹ، سمسٹرز، سرپرائز ٹیسٹ، سالانہ امتحان… سارا سال سلیبس شیٹس ملتی رہتی ہیں… ساتھہ ہی ساتھ روزانہ دو تین ہوم ورک بھی… پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں جماعت تک کے بچوں کو یہ کہہ کہہ کر دہشت زدہ کیا جاتا ہے کہ کہیں سے بھی آجاۓ گے کچھ بھی آجاۓ گا… والدین یا ٹیوٹرز پپرز والی رات دو دو بجے تک بچوں کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ یہ بھی یاد کرو اور یہ بھی… 
یہی حال مدرسوں کے ہیں… پتہ نہیں کیوں ہمارے بڑے بچوں کو اذیت اور پریشانی میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں… 
امتحانی پرچے کیسے ہونے چاہئیں؟ 
امتحانی پرچے ایسے ہونے چاہئیں کہ طلبہ آسانی سے اسے دو گھنٹے میں حل کر سکیں اور ایک گھنٹہ اس میں اپنی غلطیاں نکال سکیں… زیادہ تر تو آبجیکٹوس ہونے چاہئیں جیسے خالی جگہ پر کریں، صحیح غلط، جملے بنیں قسم کے سوالات… چار پانچ ایسے سوال جنکا جواب دو تین جملوں سے زیادہ نہ ہو… مضمون، درخوست، خلاصہ، افہام ٹفھین، یہ سب جونئیر ہائی یننی چھٹی جماعت سے شروع ہونا چاہیے… اسی طرح الجبرا اور مشکل مشکل فارمولے بھی پرائمری اسکول میں نہیں ہونے چاہئیں… 
.
آج کل جو پرچے بنتے ہیں اس میں تین گھنٹے میں اتنے مکاری والے سوال ہوتے ہیں کہ بچہ پہلے ہی سوچ لے کہ فیل ہوا ہی ہوا… سارا سال کے تھکے تھکاۓ بیزار بچوں کے سامنے جب پرچہ آتا ہے تو اس میں پتہ نہیں کہاں کہاں سے ٹیچرز اپنی عمر کے سوال ڈال کر بچوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہیں… پرائمری اسکول کے طلبہ اور وہ بھی جو آج کی جاہل ٹیچرز سے پڑھے ہوں کیا خاک پرچہ حل کریں گے… 
.
ارفع کریم، ستارہ بروج اکبر، موسی فیروز جیسے چھہ سات بچوں کے ورلڈ ریکارڈ بنا لینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بچے پر تعلیمی قیامتیں ڈھا دی جائیں…
 .
.
.

Incomplete Personality – نا مکمّل شخصیت

Beside appearance, a personality is also identified and judged by its language, pronunciation and its appropriate usage.  Somehow, people of Pakistan have become negligent about correcting their children’s pronunciation.

They totally ignore the fact that how much wrong pronunciation irritates the listeners, they actually lose interest in listening to that person.  Parents don’t realize that incorrect pronunciation is a big defect in their children’s personality and not correcting is a big negligence.

.

آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
.
.
.

Independent Reading, Writing and Counting Skills

The Prophet Muhammad (peace be upon him) said: “If anyone travels on a road in search of knowledge, God will cause him to travel on one of the roads of Paradise. The angels will lower their wings in their great pleasure with one who seeks knowledge. The inhabitants of the heavens and the Earth and (even) the fish in the deep waters will ask forgiveness for the learned man. The superiority of the learned over the devout is like that of the moon, on the night when it is full, over the rest of the stars. The learned are the heirs of the Prophets, and the Prophets leave (no monetary inheritance), they leave only knowledge, and he who takes it takes an abundant portion. – Sunan of Abu-Dawood, Hadith 

.

The only purpose of elementary education should be to develop in children, the  independent reading, writing and counting skills and the ability to define things.

https://rubikh.wordpress.com/urdu-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/

https://rubikh.wordpress.com/curriculum/

.

رسول صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق علم حاصل کرنے والے کے لئے، علم کی تلاش میں نکلنے والوں کے لئے یا علم کی جستجو کرنے والوں کے لئے سمندر کی مچھلیاں تک استغفار کرتی ہیں… فرشتے انکے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں جن پر وہ چلتے ہیں مطلب کہ وہ فرشتوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں…
.
اور اس برکت اور رحمت کو حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص وقت، مقام، طریقہ مقرر نہیں… اگر اتنا بھی ارادہ کرلیں کہ اپنی تمام مصروفیات میں سے صرف آدھا گھنٹا ہی کسی بھی وقت، علم کے حصول میں صرف کرنا ہے، چاہے ایک لفظ سیکھنے کو ملے… سال میں اندازہ کریں کتنے الفاظ سیکھ لیں گے… یہ بھی تعلیم ہے…
.
تعلیم ضروری ہے …
تعلیم کا صحیح ہونا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے…
صحیح تعلیم کے لئے صحیح نظریات کا ہونا ضروری ہے…
صحیح نظریات کے لئے صحیح علم کے ہونا ضروری ہے…
صحیح علم کے لئے قرآن، سیرت رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ ضروری ہے…
قرآن، سیرت رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کے مطالعہ کے لئے جو چیز ضروری ہے وہ ہے طلبہ میں “پڑھنے، لکھنے اور گننے کی خود مختارانہ صلاحیت کا موجود ہونا”… مطلب کہ ایک عمر کے بعد وہ بنیادی اسکلز کے لئے کسی کے محتاج نہ ہوں… 
یہ صلاحیت کسی بھی عمر میں حاصل کی جا سکتی ہے اگر ذہن سے یہ بات نکال دی جاۓ کہ تعلیم یا علم صرف اسکول اور کالجوں سے ہی حاصل ہوتا ہے اور جس قوم میں اسکول کالج نہ ہوں وہ جاہل ہوتی ہے… اور چونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اس لئے اسکول کالج وہاں ایجاد کئے جاتے ہیں جہاں تعلیم عوام کی ضرورت بن جاتی ہے ڈگری حاصل کرنے کے لئے… اور انکا مذاق اڑا جاتا ہے پاکستان کے دستور میں… جو اجازت دیتا ہے جاہلوں کو الیکشن لڑنے کی اور ڈگری یافتہ عوام پر حکومت کرنے کی…
.
علم اور تعلیم کیا ہیں؟ جو کچھ بھی ہیں کم از کم مقابلہ نہیں ہیں…
علم کا مادّہ حروف ہیں ع ل م … 
باب سمع سے عَلِمَ یَعْلَمُ عِلْمًا یعنی جاننا… اَعْلَمُ  میں جانتا ہوں / جانتی ہوں 
باب تفعیل سے عَلَّمَ یُعَلِّمُ تَعْلِیْمًا یعنی سکھانا، تعلیم دینا… اُعَلِّمُ میں سکھاتا ہوں / سکھاتی ہوں 
باب تفعل سے  تَعَلَّمَ يَتَعَلَّمُ تَعَلُّمًا یعنی سیکھنا… اَتَعَلَّمُ میں سیکھتا ہوں / سیکھتی ہوں 
.
علم حاصل کرنے کا کوئی وقت، جگہ اورعمرمقررنہیں… علم یعنی جاننے کے لئے پوری کائنات اور ساری زندگی بھی کم ہے…  انفرادی طور پر علم حاصل کرنے اور دنیا کے بارے میں جاننے کی مثالیں تاریخ میں بہت ہیں…. بہت سے سائنسدان، ریاضی دان مفکّر، فلسفی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے ملکوں اور شہروں سے نکل کر مختلف علاقوں کا سفر کیا، علم والوں کی شاگردی اختیار کی، اپنی مصروف زندگیوں میں سے اپنی تعلیم کے لئے سالوں کا وقت نکالا، کسی سے کچھ سیکھا، کسی سے کچھ… اپنی آسائشوں، رشتوں اور مال کی قربانی دی… اور آج کئی سو سالوں کے بعد بھی دنیا انھیں علم والوں کی حیثیت سے جانتی ہے، انکے علوم سے فائدہ اٹھارہی ہے… کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کہاں سے ڈگری لی تھی انہوں نے، کیا پوزیشن آئی تھی…
.
تعلیم کےعمل میں ایک نظم و ضبط ہوتا ہے… سیکھنے والا، سکھانے والا، کیا سیکھنا ہے، ذرائع، وقت کا دورانیہ، مقام, مقصد… یہ ایک چھوٹا سا نظام بنتا ہے…
یہ نظام انفرادی بھی ہو سکتا ہے اور اجتماعی بھی… 
اجتماعی تعلیمی نظام تو کرپشن کی وجہ سے فیل ہو سکتا ہے… لیکن انفرادی تعلیمی نظام کا فیل ہونا مشکل ہے… اسکی ایک مثال تو ہوم اسکولنگ یعنی گھر پرخود تعلیم حاصل کرنا ہے… اور یہ تعلیمی نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بہت مقبول ہے… اسکے فائدے بے شمار ہیں… دوسری مثال وہ بچے ہیں جو کسی وجہ سے اسکول کالج نہیں جا سکتے یا ملازمت کرتے ہیں اور شام یا رات کو خود اپنی تعلیم کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرتے ہیں… 
.
واپس آتے ہیں اس بات پر کہ بچے کس طرح کم سے کم عرصے میں اس قابل ہوسکتے ہیں کہ خود سے لکھ پڑھ سکیں… دس سال کا بچہ چوتھی یا پانچویں جماعت میں ہوتا ہے… اس عمر کے بچے پانچ چھہ سال اسکول میں گذار چکے ہوتے ہیں… پانچ چھہ سال میں کیا کیا سیکھ سکتے ہیں… انھیں آٹھویں نویں دسویں کی سائنس، جغرافیہ، نہیں سیکھنا ہوتا، آنکھوں سے اوجھل سمندر پار کے ملکوں کے بارے میں نہیں جاننا ہوتا، غیر ملکی ادب جو بڑوں کے لئے ہو، اس کا رٹا نہیں لگانا ہوتا، انکے کرداروں کو ذہن میں بسانا نہیں ہوتا …
.
انھیں تو اس قابل ہونا چاہیے کہ کہانیوں کی کتابیں اردو انگلش میں خود پڑھ سکیں، اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھ کر اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، ایک مضمون دس بارہ جملوں کا خود لکھ سکیں، اردو انگلش کے آسان الفاظ کی اسپیلنگ اور معنی معلوم ہوں اور انکے چھوٹے چھوٹے جملے بنا سکیں، ریاضی کے فارمولوں کے بجاۓ جمع، تفریق، ضرب، تقسیم میں مہارت دکھاسکیں، پاکستان کے نقشے کو پہچان سکیں، پاکستان سے متعلق تمام معلومات ہوں، اپنے ملک کے لوگوں اور پیشوں کا انھیں علم ہو، اپنے جسم کے اندرونی ساخت جسے وہ دیکھ نہیں سکتے، تصور نہیں کرسکتے، کے بجاۓ بیرونی اعضاء کا پتہ ہو… انھیں پھل، پھول، پودوں کے بارے میں معلوم ہو تاکہ کل کوئی اور مصطفی کمال خوبصورتی کے نام پر ماحولیات پر ظلم نہ کرسکے، عوام کو بیوقوف نہ بنا سکے…  انھیں اپنے سمندر، پہاڑوں، جھیلوں اور دریاؤں کے مطلق علم ہو، جانوروں کے بارے میں معلومات ہوں جو ہمارے ملک میں موجود ہیں… وہ سائنس پتہ ہو جسے وہ خود تجربہ کر سکیں… انھیں پیغمبروں اور صحابہ اکرام کی زندگی کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے…
.
لہٰذا دس سال تک کے بچے کے لئے تعلیم کا درجہ بدرجہ ہونا ضروری ہے… باہر ملکوں میں پانچویں جماعت کے بعد بھی گریجویشن ہوتا ہے… جسکا ایک مطلب تو یہی ہوا کہ یہ بچے اب بنیادی صلاحیتوں کے لئے کسی کے محتاج نہیں…
اگر یہ نہ ہوا اور بچے پھر بھی اسم، فعل، ضرب، تقسیم، جملے بنانے، چیزوں کو پہچاننے کے قابل نہیں تو پھر بچے نہیں بلکہ ماں باپ اور استاد فیل ہوۓ ہیں… والدین اور اسکولوں نے ملکر بچوں کے پانچ چھہ سال ضائع کردیے ہیں…  پیسہ، قربانیاں، وقت، محنت، نظام، سب ضائع گیا… لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں بھی پانچویں کے بعد گریجویشن کا سرٹیفکیٹ دینا شروع کردیا جاۓ… 
.
پاکستان میں بچے سالوں قرآن پڑھتے رہتے ہیں… پانچ پانچ دس دس منٹ روزانہ… اور پھر بھی انکا تلفظ صحیح نہیں ہوتا، کوئی تجویدی معلومات ناقص ہوتی ہے… اس میں بچوں کا قصور نہیں وہ بے چارے اسکول کے نڈھال کردینے والے نظام کے بعد یہ بھی بھگتتے ہیں… حالانکہ ایک بچہ آرام سے پانچ سال کی عمر تک نہ صرف قرآن ختم کر سکتا ہے بلکہ اس کے بنیادی قواعد کو بھی جان سکتا ہے… قرآن کے لئے جو نورانی قاعدہ  اور یسرنا القرآن استعمال کے جاتے ہیں وہ غیر منظّم ہیں اور ناقص بھی ہیں… 
.
قرآن کو صحیح پڑھنا سیکھنے کی ابتداء کرنے کے لئے اٹھارہ ہفتے کافی ہیں… اس دوران اتنی انڈ پینڈنٹ سکلز آ جاتی ہیں کہ باقی تمام قرآن اور اسکو سمجھنے کا عمل خود ہی آسان ہو جاتا ہے… 
.
.
.

Confusions in Basic Arabic Grammar – عربی قواعد میں پیچیدگیاں

One of the miracles of is that it is the only book which is read and memorized by millions without understanding its language.

The miracle of Arabic language is that millions of Muslims learn Arabic with the intention of understanding Qur’an without having any attachment with Arabs.

Pakistanis learn Arabic for the same purpose.  The great advantage they have is that all (29) Arabic Alphabets are the part of Urdu Alphabets and are pronounced same in both languages.  More than 75% of Urdu words are taken from Arabic language and are used in the same meanings.  That is why the process of understanding Qur’an is much easier for Pakistanis as compared to other nations.

The books that are used in madrassahs and language institutions to teach Arabic make Arabic learning little complicated.  Putting the contents in all books together even don’t give an organized image of Arabic grammar.  Most books either explain more about verbs than noun and particles.  The writers select contents on the basis of their own preference of grammatical terms.

Generally, what they all teach is that Arabic alphabets compose two kinds of words; Mozoo’ (meaningful words) and Muhmil (meaningless).  Muhmil words have no types so they end right here.

Mozoo’ words are then categorized into two kinds; Mufrid (single word) called Kalimah and Murakkab (compound) which could be a sentence too.

Kalimah (single meaningful word) is divided into three types; Noun, Verb and Particles.  This means that entire Arabic vocabulary of meaningful words belong to one of these types.  Each type has its own definition and properties and words following the properties fall into that category.

.

The examples of these properties are as follows:

1- Particles are Mabni (their movements/sounds don’t change).  They have no gender, no numbers, no common or proper state and no cases of being subject or object.

2- Verbs are divided into past and present (present tense with signs makes future tense).  Past tense is all Mabni.  Verbs have gender, number and case of being subject or object beside action.  They have no common or proper state.

3- Nouns have gender, number, state of common and proper noun and case of being subject or object.  There is no concept of it in Arabic language.  A word has to be either masculine or feminine.

.

Still there are many things mentioned in the books are uncleared and create confusions for non -Arab students.  Although these complications are only literally and may cause confusion in learning language but not in Qur’anic understanding.  For example,
1- Ism Mushtaq (nouns derived from Masdar, the true nouns) are said to be six, seven or eight, depending upon how writers understand it.
2- Zameer (pronouns) are called noun but are not put under noun’s category.  Neither they are categorized as a separate one.
3- All verbs are said to be derived from Masdar (like Ism Mushtaq) but have their own category due to their own particular signs and formation.  
4- Ism Mansoob (nouns that show relation, like Pakistani, Arabian, Semitic) is neither under noun nor compound.
5- Some books include Murakkab Mana Sarf and Mazji (two kinds of compound) in compounds and some don’t.
6- Verbs have either three types or five, while all formations of verbs are derived from the two basic tenses, past and present.
7- Words of question or interrogation are called nouns while they don’t fulfill the properties to be a noun but particles.
8- “harf amilah dar fail mazara’ jazmah” (particles which cause change in ending sound and make it soundless) are either four or five?
9- Some words are called ‘noun to show time and place’  and at the same time they are called preposition without the change in their use or meaning.
.
.
قرآن دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جسکو کروڑوں لوگ سمجھے بغیرپڑھنا سیکھ لیتے ہیں… یہ بات خود قرآن کے معجزات میں سے ایک ہے… عربی زبان دنیا کی وہ واحد زبان ہے جسکو کروڑوں لوگ عربی قوم سے کسی تعلق، نسبت یا انسیت کے بغیر صرف اسلام سے محبت کی وجہ سے سیکھتے ہیں… یہ عربی زبان کا معجزہ ہے…
.
پاکستان کے مدارس اور لسانی ادارے عربی زبان کے قواعد پڑھانے کے لئے جو بھی کتابیں استعمال کر رہے ہیں… ان میں کافی قدریں یا اصول مشترک ہیں… لیکن ساتھ ساتھ کچھ پیچیدگیاں بھی ہیں… یہ پیچیدگیاں شاید عربیوں کے لئے نہ ہوں یا انکے لئے کوئی معنی نہ رکھتی ہوں کیونکہ وہ اہل زبان ہیں… ویسے بھی اہل زبان کے لئے ضروری نہیں کہ انھیں اپنی زبان کے قواعد کا پتہ ہو… جبکہ عجمی یعنی کہ غیرعرب یا تو عربوں کے ساتھ رہ کر بغیرکسی قواعد کے یہ زبان سیکھتے ہیں… یا انہیں قرآن کو سمجھنے کے لئے عربی زبان سیکھنی پڑتی ہے… اہل زبان کی عربی اور قرآن کی عربی میں بہر حال فرق ہے جیسا کہ ہر زبان کی بولی اور قواعد میں فرق ہوتا ہے… اہل زبان کہیں کے بھی ہوں، وہ بات چیت کرتے وقت قواعد کے بارے میں نہیں سوچتے… قواعد کی ضرورت یا تو لکھنے لکھنے کے لئے ہوتی ہے… یا پھر کسی دوسری زبان کو سیکھنے کے لئے…
.
پاکستانی بھی عربی زبان کو قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے ہی سیکھتے ہیں…
قرآن میں جو عربی کے الفاظ استعمال ہوۓ ہیں ان میں کوئی بھی حرف یا لفظ بلا وجہ نہیں ہے… بلکہ ہر حرف، لفظ اور حرکت کا کوئی نہ کوئی مطلب اور مقصد موجود ہے… اس لئے جو لوگ قرآن کو سمجھنے کے لئے عربی سیکھنا چاہتے ہوں انھیں قرآن ہی کے ذخیرہ الفاظ اور جملوں کی بناوٹ پر غور کرنا چاہیے… اور ایسا ممکن نہیں جب تک کہ عربی حروف تہجی، انکے مخرج، الفاظ، انکی حرکات کی پہچان نہ ہو… پاکستانیوں کے لئے یہ بات بھی مسئلہ نہیں کیونکہ اردو زبان کے پچھتر فیصد سے بھی زیادہ الفاظ عربی زبان سے ہی لئے گئے ہیں… اور عربی کے تمام حروف تہجی اردو میں موجود ہیں اور اسی ترتیب میں ہیں…
.
البتہ احادیث مبارکہ کو سمجھنے کے لئے عربی قواعد کے علاوہ عام فہم عربی زبان سے واقف ہونا بھی ضروری ہے…
.
عربی زبان سیکھتے وقت بتایا جاتا ہے کہ عربی حروف تہجی سے دو قسم کے الفاظ بنتے ہیں… موضوع یعنی با معنی الفاظ اور مہمل یعنی بے معنی الفاظ…
مہمل الفاظ کی کوئی قسم نہیں لہذا اگر یہ ہیں تب بھی یہیں ختم ہو جاتے ہیں… جسکا مطلب ہے کہ باقی سارے الفاظ با معنی ہیں… 
موضوع الفاظ دو قسم کے ہوتے ہیں… مفرد یعنی اکیلا لفظ جسے کلمہ بھی کہتے ہیں…اور مرکب یعنی کچھ الفاظ کا مجموعہ،  جو کہ جملہ بھی ہو سکتا ہے… 
کلمہ کی تین قسمیں ہیں… اسم، فعل اور حرف … اس کا مطلب ہے کہ تمام کے تمام با معنی الفاظ ان تین میں سے کسی ایک سے تعلق ضرور رکھتے ہوں گے… ورنہ وہ مہمل ہونگے…
.
کلمات کو اسم، فعل اور حرف میں تقسیم کرنے کی وجہ انکی علامات، حرکات اور استعمال ہے…
مثال کے طور پر…..
١) تمام حروف مبنی ہوتے ہیں یعنی انکے اعراب تبدیل نہیں ہوتے… حروف میں  مذکر موَنث، واحد تثنیہ جمع، رفع نصب جر اور نکرہ اور معرفہ  نہیں ہوتا…
٢) فعل میں مذکر موَنث، واحد تثنیہ جمع اور رفع نصب جر کی خاصیت موجود ہوتی ہے لیکن نکرہ  معرفہ نہیں ہوتا… فعل ماضی پورا مبنی ہوتا ہے…
٣) اسم میں مذکر موَنث، واحد تثنیہ جمع، رفع نصب جر اور نکرہ اور معرفہ کی خصوصیت ہوتی ہیں… اسم مبنی بھی ہو سکتے ہیں اور معرب بھی…
.
.
پیچیدگیاں:
.
١) عربی زبان کو سکھانے کے لئے لکھی گئی کتابوں میں اکثر اصطلاحات کی تعریفوں میں صرف فرق ہی نہیں ہوتا بلکہ انکی تقسیم بھی عجیب انداز سے کی گئی ہوتی ہے… مثال کے طور پر کسی کتاب میں اسم مشتق کی چھ ، کسی میں سات اور کسی میں آٹھ قسمیں ہیں… مطلب کہ کسی نے ایک قسم کو دوسرے سے ملا دیا تو کسی نے علحیدہ رکھا… ایک کتاب میں فعل اور اسم کے کچھ حصّے ہوتے ہیں اور دوسرے 
٢) ضمائر کو اسم بھی کہا گیا ہے لیکن نہ تو انہیں اسم کے ما تحت رکھا گیا ہے نہ انکی کوئی الگ قسم بنائی گئی ہے… کیونکہ بہر حال یہ فعل اور حرف تو ہیں نہیں…
٣) فعل کو الگ کلمہ کیوں بنایا گیا ہے جبکہ تمام افعال اسم مصدر سے ماخوذ ہوتے ہیں… اور سواۓ نکرہ معرفہ (عام اور خاص) کے باقی تینوں حالتیں موجود ہوتی ہیں…
٤) اسم منسوب کو نہ اسم میں رکھا گیا ہے نہ مرکبات میں…
٥) کچھ کتابوں میں مرکب منع صرف اور مرکب مزجی کو مرکبات میں شامل نہیں کیا گیا…
٦) کہیں فعل یا افعال کی قسمیں تین فعل ماضی، فعل مضارع اور فعل امر بتائی ہیں اور فعل نہیں اور کہیں فعل جحد ملا کرپانچ….
٧) کسی میں “حرف عاملہ در فعل مضارع جازمہ” چار ہیں اور کہیں پانچ…

٨) استفہامیہ یا سوالیہ کلمات کو اسم میں کیوں ڈالا جبکہ یہ حرف کو خصوصیات پر پورا اترتے ہیں، اسم کی نہیں…
٩) کچھ الفاظ کو اسم ظروف بھی کہا گیا ہے اور ساتھ ہی حرف عاملہ در اسم” میں “حرف جر” بنایا گیا ہے… کیوں؟ جبکہ استعمال وہی ہے…
.

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل

.

وہ دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا – سوره المزمّل
یہ قیامت کے بارے میں کہا گیا ہے… لیکن ہمارے والدینوں نے اپنے بچوں پریہ قیامت پہلے ہی نازل کردی…
.
والدین کے اپنے بچوں کو کم عمری میں زیادہ سے زیادہ اور انکے ذہن سے بڑھ کر علم دینے کے پاگل پن نے بچوں کو بچپنے میں ہی بوڑھا کردیا ہے… اور وہ بھی اس طرح  کہ ہربچہ ہر مضمون میں اوّل آۓ ورنہ وہ نکمّہ ہے…
اسکول ایڈ منسٹر یشنزکے اپنے اسکولوں کی مشہوری اور زیادہ سے زیادہ فیس لینے کی دوڑ نے بچوں کو بوڑھوں کی طرح تھکا دیا ہے… باہر سے درآمد شدہ سلیبس اور اپنے پسندیدہ، کھاتے پیتے رشوت دینے والے گھرانوں کے بچوں کو پوزیشنز دینا انکا بزنس چارم ہے… 
.
مونٹیسری لیول اور پہلی دوسری جماعت تک تو بچے کسی نہ کسی طرح محنت کر کے کچھ کامیابی دکھاتے ہیں اور پھر تھکنا شروع ہو جاتے ہیں… آگے جماعتوں میں وہ بیزار نظرآتے ہیں… اکثر ماں باپ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ “بچپن میں یہ اتنا ذہین تھا، اب پتا نہیں کیا ہو گیا ہے پڑھتا ہی نہیں”…
.
خود سوچیں کہ بچے تھکیں گے نہیں، پاگل نہیں ہونگے، بیزارنہیں ہونگے تو کیا کریں گے… اسکول کے دنوں میں ہڑتالیں اور چھٹیاں ہو جاتی ہیں اور پھر بچوں کو ہفتہ کو بلایا جاتا ہے… امتحانات کے زمانے میں کرکٹ اور دوسری اٹریکشنز رکھی جاتی ہیں… یا ہنگامے اور بجلی وغیرہ کی لوڈ شیڈنگ… 
پھرہر ٹیچر یہ کرتی ہے کہ ابھی ایک مضمون پڑھایا اور دوسرے تیسرے دن ٹیسٹ دے دیا… اس سے بھی بڑھ کر سرپرائز ٹیسٹ، جو کسی بھی دن لے لئے جاتے ہیں… انکے علاوہ فائنلز اور دوسرے امتحانات الگ ہیں… 
.
موسم کی سختی اور غیرمعیاری جگہوں پر چھہ سات گھنٹے گزارنے کے بعد ٹرانسپورٹ کی تکلیفات اور پھر گھر آکر مولوی صاحب سے قرآن اور گھنٹوں ٹیوشن پڑھنا اور ٹیسٹ کی تیاری کرنا…  
یہ تعلیم دینے کا کونسا طریقہ ہے…
.
.