Get Well Soon Edhi!

Just heard about respected Mr. Edhi being hospitalized.

Ya Allah (SWT)! Mr. Edhi is running half Pakistan.  Please keep him healthy and active as he’s always been.  If something happens to him , who’s gonna provide me with kafn and dafn.  So please have Mercy on him.  Ameen!  😥

But if You want to do a great favor, please take Zardari, Altaf Yazeed, Nawaz Sharif and Shahi Syed ‘s souls away.

.

اسمعیل میرٹھی کی نظمیں

.

برسات 
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا  
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا 
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی  
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی 
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی  
تو بے جان مٹی میں جان آگئی 
زمیں سبزے سے لہلانے لگی  
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی 
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل  
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل 
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے  
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے 
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا  
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا 
.
پانی ہے کیا چیز 
دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی  
جو دانا ہو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے  
گرہ کھل جاۓ تو فورا ہوا ہے 
نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ  
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ 
جو ہلکا ہو اسے سر پر اٹھاۓ  
جو بھاری ہو اسے غوطہ دلاۓ
لگے گرمی تو اڑ جاۓ ہوا پر  
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر 
ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے  
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے 
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے  
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے 
اسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں  
اسی سے تازہ دم ہوتے ہیں حیواں 
تواضع سے سدا پستی میں بہنا  
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
.
سچ کہو 
سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ              
ہے بھلے مانسو کا پیشہ سچ 
سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز    
سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز 
سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد      
فکر سے پاک, رنج سے آزاد 
سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر      
جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر 
سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو      
سہل کرتا ہے سخت مشکل کو 
سچ ہے سارے معاملوں کی جان      
سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان 
سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف  
سچ کرادے گا سب قصور معاف 
وہی دانا ہے جو کہ ہے سچا  
اس میں بڈھا ہو یا کوئی بچہ 
ہے برا جھوٹ بولنے والا
آپ کرتا ہے اپنا منہ کالا 
فائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ  
جاۓ گا ایک روز بھانڈا پھوٹ 
جھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو
جھوٹ ذلت کی بات ہے اخ تھو! 
.
شفق 
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار          
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار 
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ              
جنھیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ 
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے              
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے 
ذرا دیر میں رنگ بدلے کی                
بنفشی و نارنجی و چنپئی
یہ کیا بھید ہے! کیا کرامات ہے            
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے 
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے          
باڑ بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ 
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ  
ہرے بن میں گویا لگادی ہے آگ 
اب آثار پیدا ہوۓ رات کے                  
کہ پردے چھٹے لال بانات کے 
.
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
اگر طاق میں تم نے رکھ دی کتاب        
تو کیا دو گے کل امتحاں میں جواب 
نہ پڑھنے سے بہتر ہے پڑھنا جناب  
کہ ہو جاؤ گے ایک دن کامیاب
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
نہ تم ہچکچاؤ، نہ ہرگز ڈرو                
جہاں تک بنے کام پورا کرو 
مشقّت اٹھاؤ، مصیبت بھرو                
طلب میں جیو، جستجو میں مرو
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
زیاں میں بھی ہے فائدہ کچھ نہ کچھ      
تمہیں مل رہے گا صلہ کچھ نہ کچھ 
ہر اک درد کی ہے دوا کچھ نہ کچھ      
کبھی تو لگے گا پتا کچھ نہ کچھ 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
تردّد کو آنے نہ دو اپنے پاس  ہے        
بے ہودہ خوف اور بے جا ہراس 
رکھو دل کو مضبوط، قائم حواس        
کبھی کامیابی کی چھوڑو نہ آس 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 
.
 

Children have rights and life too…

Following is the syllabus of a 3rd Grader for final exams.   This is beside Urdu, Islamiyaat and Computer.  This is what they have to learn after all weekends, holidays and MQM’s Sog-Days off.
With this syllabus, the school can declare the students ready for employment after 5th Grade.  A 3rd Grader is 8 or 9 year old.  Do kids at this age deserve to study such a non-sense syllabus in the name of high standard?  They complain about children cheating in exams, why wouldn’t they?
Parents should raise their voice against this injustice and child abuse.  Children have rights and life too.
.
English 2
Questions and Answers, Summary, Central Idea, Poem Writing
.
– Literature/Stories
Three Arms Length for Everyone (lesson – graves are equal size for rich and poor)
A Parent’s Love
Khalifa Ali
The Guide of Life
The Wise Shepherd
The One Closer to God
A Satanic Calculation
Death (how much selfish are blood relations)
– Poems
Prophet Ibraheem
Equal and One
English 1
People at work (occupations)
Things I enjoy doing
A world of adventure
Our Environment (recycling)
.
Tenses
– Simple Present Tense
– Simple Past Tense
– Simple Future Tense
– Present Continuous
Proof Reading
Creative Writing
Reading and Listening Comprehension
Masculine and Feminine
Prepositions
Comma after Yes and No
Apostrophe
Subject-Verb Agreement
.
SCIENCE
Shadows     Sundial
Rocks
Soil  Humus
Plants     Parts of Plants  Name of Feeding Plants   Plants making food
Planets
.
SOCIAL STUDIES
The Earth     The Sun    The Moon (composition)
Services  Barter Trading   Economy  Money
Our Country  (provinces  rivers  flag- composition  folk songs   folk tales)
Maps (definition  Atlas)
Festivals (religious festivals, national festivals, world religions, non-Muslim festivals)
National Identity
.
MATHEMATICS
Area
Perimeter
Length
Weight
Capacity
Decimal (addition subtraction multiplication division)
Fractions
2-D Shapes
3-D Shapes (names, similarities, differences)
Position, Movement and Angle
Tables to 12
Half and Double
Data Handling (graphs)
Division
Money
.

.

The Purpose of Examination in Primary Schools – سالانہ امتحانات کا مقصد

What is the purpose of final examination in elementary school?

What should be the syllabus of final exams in elementary school?

What should be the pattern of examination papers in elementary schools?

.

آج کل اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا دور ہے… بچوں پر سلیبس اور ٹیوٹرز کا جتنا دباؤ ہے… شاباش ہے اس قوم کے بچوں کو کہ اپنے ہی استادوں اور والدین کے ظلم کی چکّی میں پستے ہیں اور کچھ نہیں کرسکتے ادب کی وجہ سے… طلبہ و طالبات کو کہتی ہوں کہ بھئی آواز اٹھاؤ کہ کیا پڑھنا ہے کیا نہیں، کیا شکایات ہیں… ایک نے آواز اٹھائی (ذرا غلط طریقےسے اٹھا لی) تو اسے اسکول سے نکال دیا… پھر یہ کہ بچے کہتے ہیں کیا شکایات کریں کس سے کریں اور کیسے… لکھنا نہیں آتا… اول لیولز کے بچوں کا یہ حال کہ کسی چیز میں ماہر ہونا تو دور کی بات، بات کرنے کے قابل نہیں… بس شکایتیں کرتے رہتے ہیں کہ یہ مضمون اچھا نہیں، وہ مشکل ہے… ہر مضمون سے بیزار… سارا سال گدھوں کی طرح کتابیں اٹھانے والے اور طوطوں کی طرح رتے لگانے والے تھکے تھکاۓ بچے… 
.
اسکولوں میں سالانہ امتحانات کا کیا مقصد ہے؟
اگر کوئی یہ کہے کہ اسکول ایڈمنسٹریشن یہ چیک کرنا چاہتی ہے کہ بچہ اگلی جماعت میں جانے کے لئے تیار ہے کہ نہیں تو غلط جواب ہوگا… سارا سال بچوں کے دماغ کو رگڑ رگڑ کر جو مختلف ٹیسٹ لئے جاتے ہیں، بچوں کی حاضری، انکی دلچسپی، انکے ہوم ورک کا معیار… یہ سب اساتذہ کی نظر میں ہوتا ہے اور انھیں اچھی طرح پتہ ہوتا ہے کہ کون سا بچا کتنے پانی میں ہے… کراچی کے پرائیویٹ اسکولوں میں تو ویسے بھی اندر ہی اندر پوزیشنز بکتی ہیں، اسکولوں کے پسندیدہ ماں باپ کے بچوں کو کس طرح اندر ہی اندر سب بتا دیا جاتے ہیں کہ وہی فرسٹ سیکنڈ آئیں… ایسے ہی تو اسکول اونرز بڑی بڑی گاڑیوں اور بنگلوں میں نہیں  رہتے… اور کراچی میں تو زیادہ تر پرائیویٹ اسکولز ویسے بھی ایم کیو ایم کے سپورٹرز ہیں… مجرمانہ ذہنیت تو ہوگی نہ انکی اور بھارتی غلامی کا سبق ہی دیں گے یہ بچوں کو…
.
اور اگر یہ کہاں جے کہ اسکول والے والدین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انکا بچہ کتنا ذہین ہے یا کس حد تک تیار ہے اگلے لیول کے لئے تو یہ پہلے سے بھی زیادہ غلط جواب ہوگا… جن گھروں میں بچے اسکول جاتے ہوں اور وہاں رات بارہ ایک بجے تک جگا جاتا ہو، سارا سال شادیوں اور تقریبات سے دو تین بجے تک لوٹنا، نانیوں کے گھر وقت بے وقت جانا، بھارتی چینلز پر انکے فنکاروں کو گھر کے افراد اور انکی فحاشی کو گھر کا ماحول سمجھنا، ماں باپ کا خود کتابوں اور علم سے بیزار ہونا اور نے نظم و بے ضبط زندگی گزارنا… یہ سب والدین کی نظروں کے سامنے ہوتا ہے… اور انھیں اچھی طرح علم ہوتا ہے کہ انکی اولادیں کس قابل ہیں… ٹیوٹرز تو بچوں پرتعلیمی دباؤ ڈالنے کے لئے رکھے جاتے ہیں… 
البتہ اسکول والے اور والدین ایک دوسرے پر الزام ڈال کر اپنا فرض پورا ضرور کر لیتے ہیں… بچوں کا سال ضائع ہو وہ خیر ہے… 
.
سالانہ امتحانات کا مقصد طلبہ میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہوتا ہے کہ وہ اگلی جماعت میں جانے کے قابل ہیں اور جتنی محنت اس سال کی ہے، اگلے سال اس سے زیادہ کریں تو اور اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے… اس سے بچوں کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک پڑھنے، لکھنے اور حساب کتاب کے قابل ہوگئے ہیں… 
.
سالانہ امتحانات کا سلیبس کیسا ہونا چاہیے؟ 
ہمارے زمانے میں یعنی پچھلی صدی میں صرف دو امتحانات ہوتے تھے… ایک ششماہی اور دوسرے سالانہ… ششماہی امتحان میں پہلے چار مہینوں کا سلیبس ہوتا تھا کہ جو پڑھا ہے وہ آۓ گے اور سالانہ امتحانات میں پورے سال کا… پرچوں میں ایک دن کا وقفہ ہوتا تھا اور نہ ہو تو سالانہ امتحانات سے پہلے ایک ہفتے کی چوتھی ضرور ملتی تھی کہ طلبہ گھر پر خود پڑھائی کریں… امی اس ہفتے ہرجگہ آنا جانا بند کر دیتی تھیں اور ٹی وی بھی بند… گھر میں صبح شام کا پڑھائی کا وقت بنا دیا جاتا… وقت پر کھانا، وقت پہ سونا، وقت پہ کھیلنا… اردو، انگلش، ریاضی، سوشل اسٹڈیز (جس میں جغرافیہ شامل ہوتا)، سندھی، اسلامیات اور ڈرائنگ… نہ اردو ادب، نہیں انگلش لٹریچر، نہ کمپیوٹر… اپنے لیول کی چیزیں پڑھ کر پاس ہو جاتے… کبھی ٹیوشن نہیں پڑھا… ہاں بہت چھوٹی عمرمیں بھی اس قابل ضرور تھے کہ محلے کے بچوں کو انگلش اور اردو کے ابتدائی قاعدے اور گنتی سکھا سکیں… 
.
آج ماہانہ ٹیسٹ، سمسٹرز، سرپرائز ٹیسٹ، سالانہ امتحان… سارا سال سلیبس شیٹس ملتی رہتی ہیں… ساتھہ ہی ساتھ روزانہ دو تین ہوم ورک بھی… پہلی، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں جماعت تک کے بچوں کو یہ کہہ کہہ کر دہشت زدہ کیا جاتا ہے کہ کہیں سے بھی آجاۓ گے کچھ بھی آجاۓ گا… والدین یا ٹیوٹرز پپرز والی رات دو دو بجے تک بچوں کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ یہ بھی یاد کرو اور یہ بھی… 
یہی حال مدرسوں کے ہیں… پتہ نہیں کیوں ہمارے بڑے بچوں کو اذیت اور پریشانی میں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں… 
امتحانی پرچے کیسے ہونے چاہئیں؟ 
امتحانی پرچے ایسے ہونے چاہئیں کہ طلبہ آسانی سے اسے دو گھنٹے میں حل کر سکیں اور ایک گھنٹہ اس میں اپنی غلطیاں نکال سکیں… زیادہ تر تو آبجیکٹوس ہونے چاہئیں جیسے خالی جگہ پر کریں، صحیح غلط، جملے بنیں قسم کے سوالات… چار پانچ ایسے سوال جنکا جواب دو تین جملوں سے زیادہ نہ ہو… مضمون، درخوست، خلاصہ، افہام ٹفھین، یہ سب جونئیر ہائی یننی چھٹی جماعت سے شروع ہونا چاہیے… اسی طرح الجبرا اور مشکل مشکل فارمولے بھی پرائمری اسکول میں نہیں ہونے چاہئیں… 
.
آج کل جو پرچے بنتے ہیں اس میں تین گھنٹے میں اتنے مکاری والے سوال ہوتے ہیں کہ بچہ پہلے ہی سوچ لے کہ فیل ہوا ہی ہوا… سارا سال کے تھکے تھکاۓ بیزار بچوں کے سامنے جب پرچہ آتا ہے تو اس میں پتہ نہیں کہاں کہاں سے ٹیچرز اپنی عمر کے سوال ڈال کر بچوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہیں… پرائمری اسکول کے طلبہ اور وہ بھی جو آج کی جاہل ٹیچرز سے پڑھے ہوں کیا خاک پرچہ حل کریں گے… 
.
ارفع کریم، ستارہ بروج اکبر، موسی فیروز جیسے چھہ سات بچوں کے ورلڈ ریکارڈ بنا لینے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر بچے پر تعلیمی قیامتیں ڈھا دی جائیں…
 .
.
.

Incomplete Personality – نا مکمّل شخصیت

Beside appearance, a personality is also identified and judged by its language, pronunciation and its appropriate usage.  Somehow, people of Pakistan have become negligent about correcting their children’s pronunciation.

They totally ignore the fact that how much wrong pronunciation irritates the listeners, they actually lose interest in listening to that person.  Parents don’t realize that incorrect pronunciation is a big defect in their children’s personality and not correcting is a big negligence.

.

آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
.
.
.

Labour Day – مزدوروں کا عالمی دن

The Crime Minister of Pakistan Yusuf Raza Gilani has increased labourer’s salary to Rs. 8000.  In current situation, this is his effort to bribe the oppressed labour community of Pakistan and to mend his public image.  Rs. 800o/month is not a sufficient amount for any size of family.  The food budget for a family of four is minimum Rs. 4000.  The lowest electric bill after load-shedding comes Rs. 800, plus gas makes it Rs.1000.  What can a person do in remaining 3000 rupees?

The biggest failure of our system came from the educational side, where educated people discriminate labourers as a lower category, who deserve only donation or a begging.

Labourer community don’t have an idea of their rights and demands.  All they know is to keep wailing and begging for just “roti and kapra” and all they care about is their ‘zaat biradri’ and their rituals.

.

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امراء کے در و دیوار ہلا دو 
گرماؤ غلاموں کا لہو سوز یقین سے 
کنجشک فرو مایہ کو شاہین سے لڑا دو 
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی 
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو 
.
پاکستان کے وزیر جرائم یوسف رضا گیلانی نے مزدوروں کی تنخواہ آٹھہ ہزار روپے کر کے انھیں رشوت دینے کی کوشش کی تاکہ اس کا شاید کچھ امیج بہتر ہو جاۓ عوام کی نظر میں…  
پاکستان کے مزدوروں کا المیہ یہ ہے انہیں یہ بھی تو نہیں پتہ کہ کیا مطالبہ کریں، مطالبہ کا مقصد کیا ہو اور مطالبہ پورا ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں انکی زندگیوں میں کیا فرق پڑے گا…
.
جب مزدوروں کے منہ کے آگے مائیک جاتا ہے انکی ٹیپ شروع ہو جاتی ہے سیاست دنوں کی طرح… ہم غریب ہیں، ہمارے پاس کھانے کو نہیں، بری حالت ہے، بیماریوں کے علاج کے لئے پیسے نہیں، ہم بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن پڑھا نہیں سکتے، جہیز کی وجہ سے لڑکیوں کی شادیاں نہیں کرسکتے…   
.
مزدوروں کی تنخواہ اگر بیس ہزار روپے بھی کردی جاۓ تو انہوں نے یہ رٹے رٹاۓ جملے کہنے ہیں… ان میں سے ایک فیصد ہونگے جو واقعی کچھ کرنا چاہتے ہونگے اور انکے پاس مواقع نہیں… یہ جہاں جہاں کام کرتے ہیں وہاں بھی چل چلو کا کام کرتے ہیں، بے ایمانی، دھوکہ… اور اگر غربت اس کے لئے بہانہ ہے تو پھر تو یہ حالات نہیں بدلیں گا… یہ معاشرے میں ہمدردی، رحم، مدد قسم کے الفاظ کا غلط فائدہ اٹھانے کے عادی ہو گئے ہیں… 
یہ تعلیم کے لئے روتے ہیں… ان کو آفر دیں مفت تعلیم کی، یہ بھاگ جاتے ہیں، بچوں کو ادھر ادھر کام پر لگا دیتے ہیں… انکو قرآن پڑھانے کی بات کریں ہاں ہاں کر دیں گے، پھر غائب… ٹک کے دو دن یہ کچھ پڑھنا سیکھ  نہیں سکتے… اور لڑکیوں کو پڑھانے کا تو رواج ہی نہیں انکے ہاں… بس یہ چاہتے ہیں کہ کوئی بچوں پر ترس کھا کر انکو چار پیسے تھما دے اور یہ دعا دے دیں…
.
جا کر پوچھیں تو صاف کہتے ہیں ہماری لڑکیاں تو ہماری ذات برادری میں ہی بیاہی جاتی ہیں، پڑھنے کی کیا ضرورت… اور اس ذات برادری کی شادی کے لئے لاکھوں کا جہیز جمع کرتے ہیں وہ بھی بلاوجہ کی چیزوں پر مشتمل… 
.
یہ بیماریوں میں گھرے رہتے ہیں… کیوں صفائی کا خیال نہیں رکھتے… کس نے کہا ہے کہ کوڑے کے ڈھیر پر رہیں… جس طرح خود کو بیچتے ہیں چند روپوں کی خاطر ووٹ دینے کے لئے… اسی طرح مل کر مطالبہ کریں صفائی کا… جا کر منہ نوچیں مصطفیٰ کمال اور اسکی پارٹی کے تمام لیڈرز کا کہ کراچی کے اسی  فیصد  حصّے پر ناجائز قابض ہیں اور عوام کی صحت کا خیال نہیں… اور کچھ نہیں تو جا کر تھپڑ ماریں عمر شریف، جویریہ جلیل، سعود اور ایسے فنکاروں کے منہ پر جو گالیوں سے بھرپور پروڈکشنز کر سکتے ہیں لیکن اپنے چہیتے الطاف یزید کے کارندوں کی حیثیت سے کراچی کے عوام کی خدمت میں کوئی حصّہ نہیں لے سکتے… لعنت ہے ایسے فنکاروں پر جو ٹی وی پر کچھ اور اندر سے پاکستان کے غدّار…
.
انکی مدد کے لئے انکو چند ہزار دیں… پکنک پر چلے جائیں گے، میلاد میں دے دیں گے، کہیں اور خرچ کردیں گے… اپنی ذات برادری کے سحر سے ہی نہیں نکلتے… ان سے ملنے دور دراز علاقوں میں چلے جاتے ہیں… بھانجی کی شادی میں ایک فرج یا واشنگ مشین یا ٹی وی دے دیا…. ارے کیا فقیروں میں شادی کرتے ہیں لڑکیوں کی کہ سسرال میں گھر کے استعمال کی چیزیں بھی نہیں ہوتیں…  اب جہیز کا ذمہ دار تو زمانہ یا حکومت نہیں ہے… اور اگر یہ غلط رسم ہے تو خود اپنے رشتہ داروں، ذات برادری سے بات کریں… قانون کیا کرے گا اس رسم کے بارے میں…
.
ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہی سے روٹی یا دال چاول کھانے سے کوئی غریب نہیں ہو جاتا… اور امیر ہونے کے لئے روزانہ گوشت اور چکن کھانا ضروری نہیں… کھانا غربت یا امارت کی نشانی نہیں… اور ان خواہشات کے لئے زمانہ ذمہ دار نہیں…
.
تعلیم کے لئے بڑے بڑے اسکولوں میں جانا ضروری نہیں… تہذیب سے بات کرنے کے لئے کتابیں پڑھنا ضروری نہیں… کیوں بد تمیزی سے بات کرتے ہیں… 
انکو یہ عقل آنی چاہیے کہ انکو اپنے ہنر کو آج کی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے… کتنے مزدور ہیں، کیا
.
بیس پچیس روپے کا سرجیکل ماسک نہیں لے سکتے، کہ دھول مٹی سے بچیں رہیں… لکڑی کے کام، ماربل کاٹنے کے کام، گھر بنانے کا کام میں تو ضرورت پڑتی ہے… خود اپنی صحت کا خیال کیوں نہیں رکھتے… یا چلیں مطالبہ ہی کر لیں… 
ان مزدوروں کو تو باقاعدہ برین واشنگ کی ضرورت ہے… زندگی کی اہمیت اور اپنی عزت نفس کے لیکچرز کی… 
.
.
.

Independent Reading, Writing and Counting Skills

The Prophet Muhammad (peace be upon him) said: “If anyone travels on a road in search of knowledge, God will cause him to travel on one of the roads of Paradise. The angels will lower their wings in their great pleasure with one who seeks knowledge. The inhabitants of the heavens and the Earth and (even) the fish in the deep waters will ask forgiveness for the learned man. The superiority of the learned over the devout is like that of the moon, on the night when it is full, over the rest of the stars. The learned are the heirs of the Prophets, and the Prophets leave (no monetary inheritance), they leave only knowledge, and he who takes it takes an abundant portion. – Sunan of Abu-Dawood, Hadith 

.

The only purpose of elementary education should be to develop in children, the  independent reading, writing and counting skills and the ability to define things.

https://rubikh.wordpress.com/urdu-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/

https://rubikh.wordpress.com/curriculum/

.

رسول صلی الله علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق علم حاصل کرنے والے کے لئے، علم کی تلاش میں نکلنے والوں کے لئے یا علم کی جستجو کرنے والوں کے لئے سمندر کی مچھلیاں تک استغفار کرتی ہیں… فرشتے انکے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں جن پر وہ چلتے ہیں مطلب کہ وہ فرشتوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں…
.
اور اس برکت اور رحمت کو حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص وقت، مقام، طریقہ مقرر نہیں… اگر اتنا بھی ارادہ کرلیں کہ اپنی تمام مصروفیات میں سے صرف آدھا گھنٹا ہی کسی بھی وقت، علم کے حصول میں صرف کرنا ہے، چاہے ایک لفظ سیکھنے کو ملے… سال میں اندازہ کریں کتنے الفاظ سیکھ لیں گے… یہ بھی تعلیم ہے…
.
تعلیم ضروری ہے …
تعلیم کا صحیح ہونا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے…
صحیح تعلیم کے لئے صحیح نظریات کا ہونا ضروری ہے…
صحیح نظریات کے لئے صحیح علم کے ہونا ضروری ہے…
صحیح علم کے لئے قرآن، سیرت رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کا مطالعہ ضروری ہے…
قرآن، سیرت رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی زندگی کے مطالعہ کے لئے جو چیز ضروری ہے وہ ہے طلبہ میں “پڑھنے، لکھنے اور گننے کی خود مختارانہ صلاحیت کا موجود ہونا”… مطلب کہ ایک عمر کے بعد وہ بنیادی اسکلز کے لئے کسی کے محتاج نہ ہوں… 
یہ صلاحیت کسی بھی عمر میں حاصل کی جا سکتی ہے اگر ذہن سے یہ بات نکال دی جاۓ کہ تعلیم یا علم صرف اسکول اور کالجوں سے ہی حاصل ہوتا ہے اور جس قوم میں اسکول کالج نہ ہوں وہ جاہل ہوتی ہے… اور چونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اس لئے اسکول کالج وہاں ایجاد کئے جاتے ہیں جہاں تعلیم عوام کی ضرورت بن جاتی ہے ڈگری حاصل کرنے کے لئے… اور انکا مذاق اڑا جاتا ہے پاکستان کے دستور میں… جو اجازت دیتا ہے جاہلوں کو الیکشن لڑنے کی اور ڈگری یافتہ عوام پر حکومت کرنے کی…
.
علم اور تعلیم کیا ہیں؟ جو کچھ بھی ہیں کم از کم مقابلہ نہیں ہیں…
علم کا مادّہ حروف ہیں ع ل م … 
باب سمع سے عَلِمَ یَعْلَمُ عِلْمًا یعنی جاننا… اَعْلَمُ  میں جانتا ہوں / جانتی ہوں 
باب تفعیل سے عَلَّمَ یُعَلِّمُ تَعْلِیْمًا یعنی سکھانا، تعلیم دینا… اُعَلِّمُ میں سکھاتا ہوں / سکھاتی ہوں 
باب تفعل سے  تَعَلَّمَ يَتَعَلَّمُ تَعَلُّمًا یعنی سیکھنا… اَتَعَلَّمُ میں سیکھتا ہوں / سیکھتی ہوں 
.
علم حاصل کرنے کا کوئی وقت، جگہ اورعمرمقررنہیں… علم یعنی جاننے کے لئے پوری کائنات اور ساری زندگی بھی کم ہے…  انفرادی طور پر علم حاصل کرنے اور دنیا کے بارے میں جاننے کی مثالیں تاریخ میں بہت ہیں…. بہت سے سائنسدان، ریاضی دان مفکّر، فلسفی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے ملکوں اور شہروں سے نکل کر مختلف علاقوں کا سفر کیا، علم والوں کی شاگردی اختیار کی، اپنی مصروف زندگیوں میں سے اپنی تعلیم کے لئے سالوں کا وقت نکالا، کسی سے کچھ سیکھا، کسی سے کچھ… اپنی آسائشوں، رشتوں اور مال کی قربانی دی… اور آج کئی سو سالوں کے بعد بھی دنیا انھیں علم والوں کی حیثیت سے جانتی ہے، انکے علوم سے فائدہ اٹھارہی ہے… کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کہاں سے ڈگری لی تھی انہوں نے، کیا پوزیشن آئی تھی…
.
تعلیم کےعمل میں ایک نظم و ضبط ہوتا ہے… سیکھنے والا، سکھانے والا، کیا سیکھنا ہے، ذرائع، وقت کا دورانیہ، مقام, مقصد… یہ ایک چھوٹا سا نظام بنتا ہے…
یہ نظام انفرادی بھی ہو سکتا ہے اور اجتماعی بھی… 
اجتماعی تعلیمی نظام تو کرپشن کی وجہ سے فیل ہو سکتا ہے… لیکن انفرادی تعلیمی نظام کا فیل ہونا مشکل ہے… اسکی ایک مثال تو ہوم اسکولنگ یعنی گھر پرخود تعلیم حاصل کرنا ہے… اور یہ تعلیمی نظام دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بہت مقبول ہے… اسکے فائدے بے شمار ہیں… دوسری مثال وہ بچے ہیں جو کسی وجہ سے اسکول کالج نہیں جا سکتے یا ملازمت کرتے ہیں اور شام یا رات کو خود اپنی تعلیم کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرتے ہیں… 
.
واپس آتے ہیں اس بات پر کہ بچے کس طرح کم سے کم عرصے میں اس قابل ہوسکتے ہیں کہ خود سے لکھ پڑھ سکیں… دس سال کا بچہ چوتھی یا پانچویں جماعت میں ہوتا ہے… اس عمر کے بچے پانچ چھہ سال اسکول میں گذار چکے ہوتے ہیں… پانچ چھہ سال میں کیا کیا سیکھ سکتے ہیں… انھیں آٹھویں نویں دسویں کی سائنس، جغرافیہ، نہیں سیکھنا ہوتا، آنکھوں سے اوجھل سمندر پار کے ملکوں کے بارے میں نہیں جاننا ہوتا، غیر ملکی ادب جو بڑوں کے لئے ہو، اس کا رٹا نہیں لگانا ہوتا، انکے کرداروں کو ذہن میں بسانا نہیں ہوتا …
.
انھیں تو اس قابل ہونا چاہیے کہ کہانیوں کی کتابیں اردو انگلش میں خود پڑھ سکیں، اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھ کر اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں، ایک مضمون دس بارہ جملوں کا خود لکھ سکیں، اردو انگلش کے آسان الفاظ کی اسپیلنگ اور معنی معلوم ہوں اور انکے چھوٹے چھوٹے جملے بنا سکیں، ریاضی کے فارمولوں کے بجاۓ جمع، تفریق، ضرب، تقسیم میں مہارت دکھاسکیں، پاکستان کے نقشے کو پہچان سکیں، پاکستان سے متعلق تمام معلومات ہوں، اپنے ملک کے لوگوں اور پیشوں کا انھیں علم ہو، اپنے جسم کے اندرونی ساخت جسے وہ دیکھ نہیں سکتے، تصور نہیں کرسکتے، کے بجاۓ بیرونی اعضاء کا پتہ ہو… انھیں پھل، پھول، پودوں کے بارے میں معلوم ہو تاکہ کل کوئی اور مصطفی کمال خوبصورتی کے نام پر ماحولیات پر ظلم نہ کرسکے، عوام کو بیوقوف نہ بنا سکے…  انھیں اپنے سمندر، پہاڑوں، جھیلوں اور دریاؤں کے مطلق علم ہو، جانوروں کے بارے میں معلومات ہوں جو ہمارے ملک میں موجود ہیں… وہ سائنس پتہ ہو جسے وہ خود تجربہ کر سکیں… انھیں پیغمبروں اور صحابہ اکرام کی زندگی کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے…
.
لہٰذا دس سال تک کے بچے کے لئے تعلیم کا درجہ بدرجہ ہونا ضروری ہے… باہر ملکوں میں پانچویں جماعت کے بعد بھی گریجویشن ہوتا ہے… جسکا ایک مطلب تو یہی ہوا کہ یہ بچے اب بنیادی صلاحیتوں کے لئے کسی کے محتاج نہیں…
اگر یہ نہ ہوا اور بچے پھر بھی اسم، فعل، ضرب، تقسیم، جملے بنانے، چیزوں کو پہچاننے کے قابل نہیں تو پھر بچے نہیں بلکہ ماں باپ اور استاد فیل ہوۓ ہیں… والدین اور اسکولوں نے ملکر بچوں کے پانچ چھہ سال ضائع کردیے ہیں…  پیسہ، قربانیاں، وقت، محنت، نظام، سب ضائع گیا… لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں بھی پانچویں کے بعد گریجویشن کا سرٹیفکیٹ دینا شروع کردیا جاۓ… 
.
پاکستان میں بچے سالوں قرآن پڑھتے رہتے ہیں… پانچ پانچ دس دس منٹ روزانہ… اور پھر بھی انکا تلفظ صحیح نہیں ہوتا، کوئی تجویدی معلومات ناقص ہوتی ہے… اس میں بچوں کا قصور نہیں وہ بے چارے اسکول کے نڈھال کردینے والے نظام کے بعد یہ بھی بھگتتے ہیں… حالانکہ ایک بچہ آرام سے پانچ سال کی عمر تک نہ صرف قرآن ختم کر سکتا ہے بلکہ اس کے بنیادی قواعد کو بھی جان سکتا ہے… قرآن کے لئے جو نورانی قاعدہ  اور یسرنا القرآن استعمال کے جاتے ہیں وہ غیر منظّم ہیں اور ناقص بھی ہیں… 
.
قرآن کو صحیح پڑھنا سیکھنے کی ابتداء کرنے کے لئے اٹھارہ ہفتے کافی ہیں… اس دوران اتنی انڈ پینڈنٹ سکلز آ جاتی ہیں کہ باقی تمام قرآن اور اسکو سمجھنے کا عمل خود ہی آسان ہو جاتا ہے… 
.
.
.