Happiness for Elderly People – خوشیاں بزرگوں کے لئے

The sources of happiness are innumerable.  They are spread all around and are present in every colour, even in dark in form of sweet dreams.
.
Happiness matters a lot in old age.  Elderly people should know how to make their last years cheerful for themselves and memorable for others.  Humans are not scarce and all mankind is one family.  They can make new ties and build new relationships.  It is a blessing to spend time among a group of your own age.  Oldies can make new friends, listen to their stories, comfort each other, share good memories and enjoy hobbies, such as reading, writing, painting, watching movies.  They are weak physically but still can discuss ideas.
.
In Pakistan, retirees, disabled or unwanted parents or grandparents who get to live in shelters or charities should be grateful to God Almighty for handing them over to better care-takers and new companions.  They should also be thankful to the administration, staff and donors to supply them with food, water, clothes and accommodation.
.
To make Pakistan a productive society, people must change their mind-set of relying upon their children in old age.  It was a problem long ago, not now.  Kudos to Mr. Abdus-Sattar Edhi and many other charities for their life time services in this regard.  Recalling the apathy and insensitivity of blood relation instead of enjoying the new fortune is ungratefulness and not a healthy exercise.
.
Old age is not a curse or a disease.  People just need to remind themselves that they can’t be completely useless after having a life time experience of almost everything.  If nothing they can do, still can use their tongue to express their feelings, say invocations in abundance, speak out the truth, teach the goodness, recite Qur’an, names of Allah, wazaif, pure words and say prayers for everyone.
.
However, there are many examples of how some men and women in old age succeeded in sustaining themselves.  There is a lady, illiterate though and underprivileged, at the age of 60, she has found a job to look after disabled old lady in a well-off family.  I have spoken to many rickshaw drivers aged above 70 who are driving rickshaw and making their own money because they don’t want to be a burden on their sons and daughters.  There is a gol-gappay wala, a decent man with a charming smile, age around 65, still working while his sons are earning too.  Many gardeners of age above 70 work at road-side nurseries and provide home services for taking care of plants.
.
If elderly people can find working opportunities under these crucial circumstances, why can’t the educated youth of Pakistan?
.
.
شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی
مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے….
جوش ملیح آبادی
کون کہتا ہے نجومی، ہاتھ دیکھنے والے، زائچہ بنانے والے لوگوں کے مستقبل کے بارے میں پتہ ہوتا ہے کہ کل کیا ہوگا… ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھہ کر کیا دیکھنا نصیب ہوگا یا شام کو اچانک کیا خبر مل جائے گی… ابھی یہی ہوا… اچانک دروازے پر دستک ہوئی، چوکیدار نے کہا باجی نیچے ڈاکٹر ریحانہ آئی ہے آپ کو بلا رہی ہے… میں نے کہا انکو کیسے پتا چلا کہ کہ میں یہاں ہوں اور وہ خود اوپر کیوں نہیں آئیں… کہنے لگا ہمیں نہیں پتہ، آپ نیچے آ کر خود بات کرو… میں گئی تو واقعی وہی تھیں… تین سال بعد دمام سے واپس آئیں ہیں، بتانے لگیں کہ وہاں کینسر ہو گیا تھا، پھر آپریشن ہوا، اب ٹھیک ہیں… شکر خدا کا… حالانکہ نفسیاتی ڈاکٹر نہیں ہیں پھربھی خواتین کو زندہ دلی کے ساتھ زندگی گزارنے کے طریقے بتانے کی ماہر ہیں… ڈاکٹر بھی اپنے علاج کے لئے کبھی کبھی دوسرے ڈاکٹروں کا محتاج ہو جاتا ہے… 
آج کے دور میں سب سے زیادہ کس کی اہمیت ہے؟  بالکل ٹھیک کہا، ٹی وی کی…چلیں ڈراموں کی بات کرتے ہیں… صرف تین ڈرامے…
ڈراموں پر اطہر شاہ خان جيدي کے دو شعر یاد آ گۓ…  
اک اداکار رکا ہے تو ہوا اتنا ہجوم
مڑ کے ديکھا نہ کسي نے جو قلمکار چلا
چھيڑ محبوب سے لے ڈوبے گي کشتي جيدي
آنکھ سے ديکھ اسے ہاتھ سے پتوار چلا
.
“ہمسفر” دیکھنے میں اچھا ہے لیکن اس پر بات کرنے کو کچھہ خاص نہیں ہے…
.
“میرے قاتل میرے دلدار” اچھا ہے، اس میں ہیروئن کا فیصلہ اچھا لگا کہ اس نے اپنے جیٹھہ سے شادی کرلی جس نے اس کا گھر تباہ کیا تھا… کیوں باقی لاٹھی اسی کے ہاتھہ میں ہے جس سے وہ سب کو ٹھیک رکھتا ہے… 
.
“جنت سے نکالی ہوئی عورت”… بڑا اچھا لگا اس میں ثمینہ پیرزادہ کا کردار… گوکہ مجھے یہ خاتون پسند نہیں لیکن ہیں خوبصورت اور بہت اچھی اداکارہ بھی… ایک خاتون کو ساٹھہ سال کی عمرمیں طلاق ہو جائے تواسکی زندگی کیا ہو جاتی ہے… لیکن مجھے بہت ہی پسند آیا کہ ایک تو یہ خاتون جاب کرتی ہیں اور دوسرے کسی کا معاملات میں نہیں بولتی اور تیسرے یہ کہ بیٹے کے گھر میں اپنی وجہ سے مسلے دیکھہ کر وہ اپنے والد کے پرانے گھر میں آ جاتی ہے اور اکیلے رہنے لگتی ہے…
.
اسی طرح کرنا چاہیے، غصے میں نہیں، بلکہ اپنی آزادی اور اختیار کے لئے… مرد ہو یا عورت، جوان ہو یا بوڑھا… کیا ضروری کہ کسی پر بھی بلاوجہ بوجھہ بنا جائے اور اولاد یا کسی بھی رشتے پر اخلاقی اور جذباتی دباؤ ڈالا جائے… بلکہ مجھے تو ان بوڑھے لوگوں پرغصہ آتا جو ایدھی اور مختلف اداروں میں زندگی گذار رہے ہیں، کھانا پینا مل رہا ہے، ایک چھت کے نیچے ہیں، بہت سے کمانے والوں کا پیسہ ان پر خرچ ہورہا ہے… اور پھر وہ ان رشتوں کو روتے رہتے ہیں جو انکو چھوڑ کر چلے گئے… کیا پتہ مجبوری ہو… اور نہ بھی ہو تو بھئی نئے رشتے بنالیں… انسانوں کی کمی نہیں… شکرکریں کہ گھر کی چخ چخ سے جان چھوٹی… دعا دیں انکو جنہوں نے اتنا انتظام کیا، آپ کو سڑک پر رلنے سے بچا لیا… اب نئی جگہ پر نئے لوگوں سے لطف لیں… ضروری نہیں کہ پچھلوں کی شکایتیں کریں کہ ہے کیسے نکلے… یہ سوچیں آپ نے کہاں کہاں کس کس کو اپنی اولاد کی خاطر نقصان پہنچایا… اور کیا کبھی اولاد کو الله کے احکامات اور احترام انسانیت سکھایا… جس طرح آپ اپنی زندگی کا کنٹرول چاہتے تھے اسی طرح آپ کی بہو بیٹے بیٹیاں بھی چاہتے ہیں… ان کے سر پر سوار نہ رہیں… خود بھی خوش رہیں اور انھیں بھی خوش رہنے دیں… 
بزرگ بہت خوش رہ سکتے ہیں اگر وہ یہ سوچ لیں کہ وہ بیکار نہیں ہیں… اتنی زندگی کے تجربات کے بعد بیکار ہو بھی نہیں سکتے… اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم زبان سے قرآن، درود، کلمات، دعائیں تو پڑھ سکتے ہیں… 
.
اس ڈرامے کی طلاق کا کیس دیکھہ کر باجی کی کالج کی ایک دوست یاد آ گئیں… ان کے والد نے اسی طرح ایک دن غصے میں کھانےکی میز پراپنی خاموش صفت بیوی کو طلاق دے کر بائیس تئیس سال کی شادی ختم کردی… ایک بیٹے کو جو کالج میں ماں کے ساتھ رہنا پڑا اور بیٹی جو کالج میں تھیں اور چھوٹے بیٹے کو باپ کے ساتھہ… پتہ نہیں کیسے سامنا کیا ہوگا ان سب نے باقی سب کا…
.
جب سے پاکستان بنا ہے، کراچی کی قوم پاکستان سے پہلے کی خوشیوں کو روۓ جا رہی ہے… اور پاکستان کے ذریعے ملنے والی تمام خوشیوں کے مواقع برباد کئے چلے جا رہی ہے… پرانی رسمیں، پرانی یادیں، حسرتیں، ملامتیں، اپنےعزیز رشتوں سے کبھی انتہا ہمدردی کبھی شدید انتقام کبھی نہ ختم ہونے والی شکایتیں کبھی دھمکیاں… بس ایک چکرہے جوچلے چلے جا رہا ہے، سب اس سے پریشان لیکن کوئی اسے روکنے پرتیارنہیں…
.
بھئی الله نے اتنی بڑی دنیا بنائی ہے کچھہ اس پر بھی توجہ دے لو، ہزاروں قسم کے لوگ ہیں، حسین نظارے ہیں… خوشحالی اور خوشی وہ چیزیں ہیں جو ہرجگہ اورہررنگ میں بکھری پڑی ہیں… حتی کہ اندھیرے میں بھی خوابوں کی شکل میں… بس لوگوں کے پہچاننے کی دیر ہوتی ہے…
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: