Urdu! Pakistan Salutes You! تجھے پاکستان کا سلام اردو

The title is adopted from the poem on Urdu “tujhay nahi sadi ka salam Urdu/the new millennium salutes you, O Urdu”  by an Indian poet and Urdu lover Ms. Haya Lata.

Urdu is the national language of Pakistan.  It is our national symbol and our identity.  National language is not a threat to any provincial or local language.  It is a source of communication and it fills linguistic gap among communities speaking different languages.  

Urdu is well-spoken and understood in India too.  Both India and Pakistan share the history of Urdu and literature as well.

Those who do not value their national language and actually try people to divert from it are the enemies of nation. 

The history of Urdu is available on internet.  Thousands of  Urdu websites are there to entertain the lovers of Urdu language and share their favourite poetry, excerpts, opinion or discussions.  Some of them are really impressive

But their participants are very few.

Today we complain that our new generation is too negligent towards their values, tradition and history.  All these things are either learned through books or passed by the elders in the family. 

How are children going to learn traditions, values and history when they are not given time to spend time with their elders and/or read books?

Teachers in schools and colleges can’t do anything about learning and reading Urdu unless parents show their interest and develop interest in their children too.  

.

اردو پاکستان کی قومی زبان… قومی زبان کسی بھی صوبائی یا علاقائی زبان کے لئے خطرہ نہیں ہوتی… بلکہ ملک میں مختلف زبانیں بولنے والی قوموں کے لئے رابطے کا کام انجام دیتی ہے… قومی زبان کی وجہ سے ملک کے لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی نہیں رہتے… 
ارود تو ویسے بھی صرف پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی بولی،  سمجھی اور لکھی جاتی ہے… کیونکہ اس کی شروعات انہی دونوں ملکوں میں ہوئی… 
.
جو عناصر قومی زبان کی اہمیت ختم کرنے میں آگے آگے ہوتے ہیں، وہ اصل میں قومی یگانگت کے دشمن ہوتے ہیں اور عوام کو ایک دوسرے سے دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں…

آج ہم اپنی نئی نسل کے گمراہ ہو جانے کا شکوہ کرتے ہیں… انکے اور انکے والدین اور بزرگوں کے درمیان جو دوری اور بیگانگی ہے اس کا رونا روتے ہیں… شکایات کرتے ہیں کہ نئی نسل کو تہذیب اور روایت کا علم نہیں، انہیں اپنی تاریخ نہیں معلوم….

تاریخ، تہذیب، روایات، یا تو کتابوں میں تحریر ہوتی ہیں یا پھر بزرگ اپنی اولادوں کو منتقل کرتے ہیں… مثال کے طور پر اگر کوئی اپنے بچوں سے صحیح اردو نہ بولے، انھیں انگلش کے سحر میں مبتلا کر دے، انھیں اتنا وقت ہی نہ دے کہ وہ بزرگوں کے ساتھ بیٹھ سکیں اور ان سے کچھ سیکھ سکیں… تو پھر کس بات کا گلہ اور کس سے… اور کیوں الزام حکومت پر اور نظام پر لگائیں… جب سارا قصور اپنا ہو…
کیوں نہیں ہم اپنے بچوں کو ارود میں لوریاں دیتے، کہانیاں سناتے… کیوں ان کو شعرو شاعری کا شوق نہیں دلاتے… شعرو شاعری تو گفتگو کا ایک فن ہے… 
.
صبح کا پہلا پیام اردو
ڈھلتی ہوئی سی جیسے شام اردو
اتریں جاں تارے وہی بام اردو
بڑی کمسن  گلفام اردو 
جیسے نئے سال کا یہ دن ہو نیا
اور بیتے سال کی ہو آخری دعا 
نیا سال نئی  رام رام اردو 
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
مجھے تو یہ امی کے دلار سی لگے
اور میرے ابو جی کے پیار سی لگے
بڑے بھائی کی یہ پھٹکار سی لگے
چھوٹی بہنا کی یہ پکار سی لگے
میرے لئے دوستوں کی دوستی سی یہ
دشمنوں کی پیاری پیاری دشمنی سی یہ
جیسے رشتوں کا ایک جام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
کبھی محبوبہ یہ ادب کی لگے
بات کرے اپنی تو سب کی لگے
قوم کی لگے نہ مذھب کی لگے
مجھے یہ زبان جیسے رب کی لگے
جو یہ کہتے ہیں زبان غیر ہے
انکے دلوں میں تو فقط بیر ہے
جاہل دیں تجھے الزام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
یہیں پے ہے جنمی، یہیں پہ ہے پلی
یہیں پہ جوان ہوئی پھولی و پھلی
یہیں کا ہے پھول یہ یہیں کی ہے کلی
خشبووں کی ڈولیوں میں بیٹھ جو چلی
چاہے پیا کا ہو گھر پردیس میں
پیھر تو اس کا ہے اس دیس میں
تجھے چاہے ہند کی عوام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
بن تمھارے محفلوں میں نور نہیں ہے
شاعری کی مانگ میں سیندور نہیں ہے
شعرکوئی جیسے مشہور نہیں ہے
ہو کے با ادب بھی شعور نہیں ہے
تجھے قطعات اور رباعی کی قسم 
رکھنا مجاز میں یہی تو دم خم 
تیری ہی تیری ہے غلام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
کیا بتاؤں یہ زباں ہے میرے لئے کیا
سر پہ رکھا ہو جیسے دست خدا
جیسے مل جاۓ مجے آپ کی دعا 
شہرتوں نے جیسے مجھے ہولے سے چھوا
میرا خاندان پہچان ہے یہی
میری آن بان اور شان ہے یہی
آ ۓ میرے کام ہر گام اردو 
تجھے نئی صدی کا سلام اردو 
اور بھی عظیم اور مہان تو بنے 
اور بھی حسین اور جوان تو بنے 
دل بنے کسی کا ایمان تو بنے
کسی کا خدا یا بھگوان تو بنے
اور کیا دعائیں دوں میں تجھ کو سکھی
میں تو خود تیری ہی پناہ میں پلی
اور ہو جہاں میں تیرا نام اردو
تجھے نئی صدی کا سلام اردو
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: