Incomplete Personality – نا مکمّل شخصیت

Beside appearance, a personality is also identified and judged by its language, pronunciation and its appropriate usage.  Somehow, people of Pakistan have become negligent about correcting their children’s pronunciation.

They totally ignore the fact that how much wrong pronunciation irritates the listeners, they actually lose interest in listening to that person.  Parents don’t realize that incorrect pronunciation is a big defect in their children’s personality and not correcting is a big negligence.

.

آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
آج کے پاکستان میں لوگ اپنے جسم کو، اپنے چہرے کو تو خوبصورت بنانے کی جان توڑ کوشش کرتے ہیں… لیکن شخصیت بنانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے… کیونکہ آج ہمارا تعلق ایک دوسرے سے خلوص، رواداری، معاشرے کی تعمیر، قوم کی تکمیل نہیں ہے… آج ہمارا رشتہ ایک دوسرے سے صرف اور صرف معا شی ہے اور صرف فائدے اور نقصان پر مبنی ہے…اوپر والے مقاصد تو دو گھنٹے کے مارننگ شوز میں یا ایک ایک گھنٹے کے پروگرامز میں میزبان کے نام پر بٹھاۓ گۓ ماڈلز کے حوالے کر دے گۓ ہیں… کہ وہ کسی طرح یہ ثابت کریں کہ ہم ایسا اچھا معاشرہ ہیں… حالانکہ اصل زندگی میں انکا بھی رویہ یہی ہوتا ہوگا… 
ایک طریقے سے اچھی بات بھی ہے کہ لوگ ظاہری جسم کو پرکشش بنانا سیکھ لیتے ہیں… لیکن صرف یہی تو شخصیت نہیں ہوتی… 
آج سے تیس چالیس سال پہلے کے لوگ جانتے تھے کہ شخصیت میں ایک بہت بڑا حصّہ انسان کی زبان کا ہوتا ہے… الفاظ کا چناؤ، انکا صحیح تلفظ، حروف کی ادائیگی اور انکی صحیح موقع پر ادائیگی… عام گھروں میں رہنے والے والدین ان چیزوں پر توجہ دیتے تھے… خود ہماری والدہ دن میں چھتیس مرتبہ ٹوکتی تھیں، “یہ کس طرح بات کر رہے ہو، صحیح لفظ بولو”…
آج کے والدین اتنا پیار کرتے ہیں اپنی اولاد سے اور اتنا دل رکھتے ہیں انکا کہ انکی شخصیت کے اس ایک حصّے کو بالکل نذر انداز کر دیتے ہیں… اور والدین کو تو اندازہ نہیں ہوتا لیکن سننے والوں کے کانوں کو برا لگتا ہے اور اگر کوئی خود کو اہل زبان سمجھے تو انکو ناگوار گزرتا ہے، الفاظ کے تلفظ کو بگاڑ کر فخر سے بولنا… اور درست نہ کرنا…  بلکہ باقاعدہ کوفت ہوتی ہے اور بات سننے کو دل نہیں چاہتا…
جبکہ شاید شخصیت کی درستگی میں اگر سب سے آسان کوئی چیز ہے تو وہ ہے الفاظ کے تلفظ کو درست کرنا، خاص کر انسان اگر پڑھا لکھا بھی ہو… میں نے خود ابھی ایک خاندان کے چار بچوں کا جو حد سے زیادہ زیر اثر تھے بھارتی لہجے کے، انکے تلفظ درست کرواۓ ہیں… جنکے بارے میں ماں باپ کا خیال تھا کہ یہ صحیح نہیں ہو سکتے اور یہ کوئی خاص بات نہیں، بس انسان کا اچھا ہونا کافی ہے… 
جب ماں باپ بھی ساتھ نہ دیں اپنے بچوں کا تو دوسروں کے لئے انکی تلفظ کی درستگی کا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے… ایسے ماں باپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انسان کے اچھا ہونے کی بھی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن میں ایک الفاظ کا صحیح تلفظ کے ساتھ ادائیگی بھی ہے… 
حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک کسی بھی چیز کے معاملے میں اثر انداز ہونے والے میڈیا کا کوئی معیار ہی نہیں ہے، اگر آپ پاکستان کے چینلز ہو تو کم از کم اس کی شناخت کا تو خیال رکھیں، اور قومی زبان اردو اور اسکا لہجہ پاکستان کی شناخت ہے… لوگ صرف کپڑوں اور میک اپ ہی نہیں دیکھتے، آواز بھی سنتے ہیں… اور سننے کی صلاحیت کی وجہ سے وہی لہجہ اپنا لیتے ہیں…
پروگرامز کے میزبان بلا تکلف، بغیر کسی شرمندگی کے خیال کو کھیال، خود کو کھد، خوش کو کھش، خوشی کو کھشی، آخر کو آکھر کہ رہے ہوتے ہیں… مزے کی بات یہ بگاڑ مردوں کی زبان میں نہیں، خواتین کی زبان میں پایا جاتا ہے… جو کہ خود انکی شخصیت میں کمی ہی نہیں بلکہ ایک غفلت کی بھی نشانی ہے… 
خ کا تلفظ بہت آسان ہے… بچے کو یا بڑے کو حلق کے اوپری حصّے پر انگلی رکھا کر یہ حرف ادا کرنے کو کہیں اور اسے بتائیں کہ یہ حرف جب ادا ہو تو آپ کے حلق میں کس جگہ وائبریشن ہوتی ہے تاکہ وہ ادھر ہی فوکس کرے… اور پھر یہ بتائیں کہ  “خ اور کھ ” کا فرق کیا ہے… لیکن اس سے پہلے دن میں دس بیس مرتبہ خود دس بیس مرتبہ اسے دہرائیں تاکہ اس بچے یا بڑے کے کان کو ایک عادت سی ہو جاۓ… پھر وہ الفاظ دہراۓ جائیں جن میں خ آتا ہے…
اسی طرح باقی حروف یعنی ” غ اور گ ، ق اور ک ،  کے ساتھ کریں اور انکی ادائیگی کا فرق بتائیں…
اور ساتھہ ساتھہ یہ احساس دلائیں کہ گو کہ لوگ جاہل ہیں اور اب ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں دیتے لیکن بہر حال یہ تمہاری شخصیت کی ایک بہت بڑی کمی ہے… جسکو خود ٹھیک کرو اور دوسروں کو بھی بتاؤ کہ کیسے ٹھیک کریں… 
.
.
.
.

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: