Womenhood

“Of no profit to you will be your relatives and your children on the Day of Judgment: He will judge between you: for Allah sees well all that ye do”….Surah Mumtahan/The Test, 3…

آج کے پاکستانی معاشرے کو اس حال تک پہنچانے میں کس کا کتنا ہاتھہ ہے۔۔۔ خواتین اس ملک کا پچاس فیصد سے زیادہ حصہ ہیں اور جس حساب سے مردوں مختلف قسم کی اموات کاشکار ہو رہے ہیں یہ توازن جلد غیر متوازن ہو سکتاہے۔۔۔ لہذا بے نظیر صاحبہ کے دور سےاور پھر پرویز مشرف صاحب کے دور سےاب تک ہاتھہ خواتین کا زیادہ ہے۔۔۔ کوئی خاتون وزیراعظم بن جائے اور اسکے اپنے آبائی علاقے میں تعلیم, صحت اور معاشی بدحالی بےمثال ہو۔۔۔ ہماری سامنے سڑک پر جو پھل والا کھڑا ہوتا ہے وہ لاڑکانہ سے ہے… اسے دنیا میں صرف یہ پتہ ہے کہ اسکا کام لاڑکانہ سے امرود لاکر بیچناہے اور یہی اسکی زندگی کامقصد ہے… باقی ہرسوال کا جواب مسکراہٹ اور خاموشی۔۔۔

پرویز مشرف صاحب کے دور میں خواتین نے خوب ہلے گلےمچائے کیونکہ انتہا پسند جماعتوں پر پابندی لگ چکی تھی۔۔۔ این جی اوز کی خواتین نے جو سب سے بڑا کردار ادا کیا وہ تھا عورت کو یہ احساس دلانا کہ اس سے بڑا مظلوم کوئی نہیں اور اپنے حقوق مردوں کے ساتھہ ملکر نہیں بلکہ مقابل آکر حاصل کئے جاسکتے ہیں۔۔۔ اپنی اپنی فیلڈز میں انکو کام کرنے کی آزادی مل جائے اور بس۔۔۔ اس آزادی اور توانائی کوملک کے نظام میں میں بہتری لانے کے بجائے اس بحث میں ضائع کردیا کہ اسلام میں عورت کا مقام کیاہے گھر پر بند کی جائے یا عاصمہ جہانگیر کی طرح مردوں کے ہاتھہ میں ہاتھہ ڈال کر سڑکوں پر بھاگے۔۔۔

ویسے بھی  مشرق ہو یا مغرب, تہذیب یافتہ معاشرے میں سڑکیں عوام کے گذرنے کی اور آنے جانے کی جگہ ہونی چاہئیں۔۔۔ باقی مذہبی, سماجی, ثقافتی, تعلیمی, سیاسی, قانونی, جنونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کے لئے مختلف عمارتیں یا جگہیں مخصوص ہونی چاہئیں۔۔۔
خیر بات یہ ہے کہ عورت اتنی مظلوم نہیں جتنی بنتی ہے۔۔۔ عورت کا سب سے طاقتور روپ ماں کا ہوتا ہے جسے قرآن وحدیث نے بھی اٹیسٹ کیا ہے۔۔۔ کتنا بڑا اعزاز ہے یہ رب کا کہ مستقبل کے انسانوں میں سے کچھہ کسی عورت کے حوالے کئے جائیں کہ انکو بہترین شخصیت میں ڈھالے۔۔۔ یہ کوئی بوجھہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے… پھراور کرنا کیا ہے۔۔۔ ایک بچے کو بہترین انسان بنانا۔۔۔ بچوں کی تربیت میں ماں کی اندرونی شخصیت جھلکتی ہے چاہے اسکا ظاہر جیسا بھی ہو۔۔۔  حضرت مریم, حضرت ہاجرہ, حضرت سارہ, حضرت خدیجہ, حضرت فاطمہ الزھرہ, حضرت عائشہ, حضرت زینب, حضرت رابعہ بصری, بی اماں, مادر ملت فاطمہ جناح۔۔۔ یہ سارے نام ان خواتین کی پاکیزہ  شخصیت اور معاشرے میں ادا کئے گئے کردار کی وجہ سے مقدس ہوئے۔۔۔
اور ماں بننے کے لئے بچے پیدا کرنا ضروری نہیں۔۔۔ بلکہ بنانے اور سنوارنے کاجذبہ ہونا ضروری ہے۔۔۔ مادر ملت فاطمہ جناح, فاطمہ ثریا بجیا, ڈاکٹر فاؤ اور مادر ٹریسا کی مثالیں موجود ہیں۔۔۔ مگر ہم کبھی انکو اپنے گھروں اور زندگی میں شامل نہیں کرتے… جسطرح خداکی یاد کو پانچ نمازوں اور حج کے اوقات کے لئے مخصوص کررکھا ہے۔۔۔ اسی طرح اچھی ہستیوں کو انکی پیدائش یا موت کے دن یاد کرتے ہیں۔۔۔
علامہ اقبال نے فرمایا۔۔۔ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میںرنگ۔۔۔ یہ رنگ صرف ڈوپٹوں, ساڑھیوں, کپڑوں, چوڑیوں, مہندی اور میک اپ کے نہیں ہوتے بلکہ انکے ساتھہ ساتھہ ان صلاحیتوں کے بھی ہوتے ہیں جن سےخواتین اپنے ارد گرد کےماحول کو صاف ستھرا, خوبصورت اور منظم بناتی ہیں۔۔۔  اور کسی مرد کو یہ حق نہیں کہ خواتین سے انکے یہ رنگ چھینے سوائے اس کے کہ وہ خود ہی ان میں دلچسپی نہ لیں۔۔۔ بے وقوف ہوتے ہیں وہ مرد جو ان سے یہ رنگ چھین کر ماحول کو بد رنگ کرتے ہیں… اور ظالم ہوتے ہیں وہ جو ان کا فائدہ غلط طریقے سے اٹھا کر خواتین کی زندگی جہنم بناتے ہیں۔۔۔ بلکہ اسطرح وہ اس خاندان اور ماحول میں خرابی کے بھی مجرم ہوتے ہیں۔۔۔

“O Prophet! When believing women come to you to take the oath of allegiance to you, that they will not associate in worship any other thing whatever with Allah, that they will not steal, that they will not commit adultery (or fornication), that they will not kill their children, that they will not utter slander, intentionally forging falsehood, and that they will not disobey you in any just matter,- then do your receive their fealty, and pray to Allah for the forgiveness (of their sins): for Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful”…Surah Mumtahana/The Test, 12….

خواتین پہ واپس آتے ہیں۔۔۔  کیا کبھی عورتوں نے خود کو انسان سمجھہ کر اپنے بارے سوچا ہے۔۔۔ ایک لمحے کو یہ تصورکیا ہے کہ ایک دن وہ اکیلے اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوں گی۔۔۔ اور وہ پوچھے گا کہ تم پر جو بھی حالات بھیجے گئے انکو بنانے یا بگاڑنے میں کیا کردارادا کیا۔۔۔ کیا زندگی اسی لئے دی گئی تھی کہ اسے سازشوں میں گنوا دو۔۔۔ کیا خود میری کتاب کو کھول کر پڑھا کہ مجھے راضی کرنے کےمجھہ سے مدد مانگنے کیا طریقے ہیں۔۔۔   وغیرہ وغیرہ۔۔۔
جاہلوں کو چھوڑیں کیا پڑھی لکھی ماؤں کو یہ علم ہوتاہے کہ انکی اولاد الله کی امانت ہے, انسانی معاشرے کاحصہ ہے, انکی تربیت فرض ہے ان تمام حقوق و فرائض سے آگاہ کرنا ان پہ لازم جو کہ الله نے ان پر لازم کئے ہیں۔۔۔ ہر رشتےکے حقوق, جانوروں, جگہوں اور چیزوں کے حقوق۔۔۔ یا یہ ثابت کرنا کہ بی اے, ایم کرنے کے باوجود اتنی بد ذوق کہ گھر صاف اور منظم نہیں رکھہ سکتیں, اتنی جاہل کہ اپنی ہی اولاد کوالف بے اور گنتی نہیں سکھا سکتیں, اتنی بزدل کہ مرد کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتیں, اتنی ناکارہ کہ انڈین ڈراموں کی سازشیں تو سمجھہ سکتیں ہیں مگر قرآن وحدیث کی باتیں مولوی یا عالم کے بغیر نہیں سمجھہ سکتیں۔۔۔

اتنی کم ظرف کہ اپنے مردوں کی کمائی میں دوسری رشتہ دار خواتین کا حق نہیں ادا کرنے دیتیں۔۔۔ اتنی لالچی کہ ہر چیز پر ان کاقبضہ ہو۔۔۔ اتنی خودغرض کہ گھر کے مرد انکی انگلیوں پر ناچیں چاہے ماحول اور معاشرہ جہنم بن جائے۔۔۔

اور خواتین کے پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ اگر وہ صحیح اور غلط کی پہچان نہ کرسکے۔۔۔ اپنی اولاد کو اچھی اور پاکیزہ سوچ نہ دے سکے۔۔۔ خود اپنے گھر والوں اور خاندان کے لئے رحمت کے بجائے فتنہ اور اذیت بنی ہو۔۔۔

May Allah (SWT) bless my mother, my sisters, my aunts, my she-cousins for I learned a lot from them about how to be a good human while being a woman.  Ameen!

About Rubik
I'm Be-Positive. Life is like tea; hot, cold or spicy. I enjoy every sip of it. I love listening to the rhythm of my heart, that's the best

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: