All Hail or Hell to the Democracy

“He said, “Do you observe that which you have been worshipping,  you and your ancient fathers?  Verily! They are enemies to me, save the Lord of the ‘Alameen (mankind, jinns and all that exists)… Who has created me, and it is He Who guides me… And it is He Who feeds me and gives me to drink… And when I am ill, it is He Who cures me… And Who will cause me to die, and then will bring me to life (again)… And Who, I hope will forgive me my faults on the Day of Recompense (the Day of Resurrection)… My Lord! Bestow hikmat (religious knowledge, right judgement of the affairs) on me, and join me with the righteous people… And grant me an honourable mention in later generations… And make me one of the inheritors of the Paradise of Delight..” (Surah Ash-Shu’ara/The Poets)

“Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, inclining towards truth and I am not of those who associates others with Allah…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“Say (O Muhammad, pbuh), Verily, my prayer, my sacrifice, my living and my dying are for Allah, the Lord of all the worlds…” (Surah Al-An’aam/The Cattle)

“And if Allah touches you with hurt, there is none who can remove it but He; and if He intends any good for you, there is none who can repel His favour which He causes it to reach whomsoever of His slaves He will.  And He is the Oft-Forgiving, Most Merciful.”  (Surah Yunus/Jonah, the Prophet)

Glorifying God Almighty or glorifying a person – what sounds more efficacious?  A quick answer to this would be ‘Glorifying God’, and we do glorify Him.

Yeah, we do glorify and remember Him – a timeless Being at times, an unlimited Being with limitations, the One beyond logic with reasons, the most direct One through sources.

But when it comes to glorify humans directly or indirectly, we disregard timings, limitations and logical reasons.  We pledge our lives to that person, we do sacrifices for his cause and we die in his/her name.

This is not leadership.  Breaking divine rules for a person, is not leadership.  Do things in a person’s name instead of God Almighty, is not leadership.  This is misguidance.

The way political workers and supporters hail their leaders and obey them is a non-sense.  They worship one person like crazy, they go wild at his/her insult, they become unjust while defending a morally corrupt person.

A party leader is party leader, he/she is not the god or goddess that the whole nation must hail otherwise suffer the wrath of their workers.  If they are so concerned with the dignity and honour of their leader, why don’t they ask him/her to behave human, civilized and normal?

How did the companions praised Prophet Muhammad (pbuh)?  Did Prophet Muhammad (pbuh) ever used his companions or people to be a threat for his enemies?  How disciplined and civilized were his companions and admirers, do we care?

Do political leaders and religious leaders have the rights to misuse or abuse moral values whenever and wherever they want?  Just because they have succeeded in gathering .05% or .50% of the population at one place.

Well, I say “NOT HAIL BUT HELL TO THESE LEADERS, THEIR WORKERS AND THIS DEMOCRACY”.

.

“ابراہیم نے کہا، اچھا کیا تم نے کبھی سوچا، کیا ہیں یہ جن کی تم پوجا کرتے رہے ہو؟  تم اور تمھارے وہ باپ دادا جو پہلے ہو گزرے… کیونکہ یہ سب تو میرے دشمن ہیں، سواۓ رب العالمین کے… جس نے پیدا کیا ہے مجھے، پھروہی میری رہنمائی فرماتا ہے… اور وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے… اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے… اور وہی جو مجھے موت دے گا، پھر دوبارہ زندہ کرے گا… اور وہی جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ وہ بخش دے گا میری خطائیں روز جزا… اے میرے مالک! عطا فرما تو مجھے حکمت اور شامل فرما تو مجھے صالحین میں… اور باقی رکھ میرا ذکر خیر بعد والوں میں… اور شامل فرما تو مجھے نعمت بھری جنّت کے وارثوں میں…” (سوره الشعراء) 
“(کہا ابراہیم نے) بے شک کر لیا میں نے اپنا رخ اس ہستی کی طرف جس نے پیدا کے ہیں آسمان و زمین یکسو ہو کر…” (سوره الانعام) 
“کہ دو، بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت، سب الله کے لئے ہے… جو رب ہے سارے جہانوں کا… (سوره الانعام) 
“اور اگر پہنچاۓ تم کو الله کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اس کا مگر وہی اور اگر پنہچانا چاہے تم کو وہ کوئی بھلائی تو نہیں ہے پھرنے والا کوئی اس کے فضل کو….” (سوره یونس) 
.
سارا کا سارا قرآن اور رسول صلی الله علیہ وسلم کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ الله سبحانہ و تعالی جو وعدہ کرتے ہیں پورا کرتے ہیں…
.
شخصیت پرستی کیا ہے… یہی نہ کہ کسی انسان سے اتنی محبت یا عقیدت کرے، یا اتنا خوف کھاۓ، یا اتنی امید لگاۓ کہ خدا کو بھول جاۓ… اس کے کہنے پر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا لے… قرآن کے مقابلے پر اپنے من چاہے قوانین نافذ کرے… اس کے لئے جان دینے کا عہد کرے اور دے بھی دے…
.
خدا پرستی کے مقابلے پر شخصیت پرستی پاکستانیوں کا سب سے پرانا اور پسندیدہ عیب ہے اور سارے فساد اور موجودہ حالات کی جڑ بھی… سیاستدان ہوں، مولانا ہوں، اداکار ہوں، گلوکار ہوں، ماں باپ ہوں، میاں ہو، بیوی ہو، محبوب یا محبوبائیں ہوں، پیر یا عامل ہوں…. غرض یہ کہ اپنی زندگی کو کسی نہ کسی انسان کے ہاتھوں میں دیے رکھتے ہیں کہ وہ اس سے کھیلے… اور باقی سب کے حقوق پورے نہیں کرتے…
.
میرے خیال میں رسول صلی الله علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں کسی اور کا نام محمد نہیں تھا… لیکن اس کے با وجود ان کی پہچان انکا کردار تھا…  ‘امین’ اور ‘صادق’ کے نام سے مکے کے لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ کس کی بات کی جارہی ہے… یہی حال بعد میں صحابہ کا بھی تھا… صدیق، فاروق، غنی، حیدر، سیف الله… یہ القاب انہوں نے خود اپنے ناموں کے ساتھ نہیں لگاۓ تھے بلکہ دوسروں نے انہیں ان کے نام کا حصّہ بنایا تھا…
.
صحابہ رسول صلی الله علیہ وسلم کی شخصیت کو پوجتے نہیں تھے… بلکہ انکے احکامات کو احکامات خدا جان کر ان پر عمل کرتے تھے… رسول صلی الله علیہ وسلم  سے اپنی محبت کے اظہار کے لئے اپنی مرضی کے طریقے اختیار نہیں کر رکھے تھے انہوں نے… دوسری بات یہ کہ رسول صلی الله علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کے باوجود اپنے گھروالوں کے، محلے کے، دوستوں کے، رشتہ داروں کے حقوق کا خیال رکھتے تھے…
.
.
آج ہم اپنے معاشرے میں کتنے لوگوں کو انکو کردار سے بلکہ اچھے کردار سے پہچانتے ہیں… یہاں لوگ پیشے، عہدے، اور طبقے سے پہچانے جاتے اور عزت کیے جاتے ہیں…
ڈاکٹر، اینجنیرز، وکیل، جج، ہیڈ ماسٹر، استاد، چیف ایگزیکیٹو، منیجر، افسر، سیاسی لیڈر، سردار، وڈیرے، بزنس مین، صدر، گورنر، وزیر، ممبر قومی اسمبلی، کونسلر، مولانا صاحب، شاہ صاحب، مفتی صاحب، پیر صاحب، حافظ صاحب…….. بس اسی طرح ہم اپنے لوگوں کو پہچانتے بھی ہیں، انکی عزت بھی کرتے ہیں اور ان سے ڈرتے بھی ہیں… یہ سیاہ کریں یا سفید، صحیح کریں یا غلط… کسی کو ان سے سوال کرنے کا حق نہیں ہوتا… کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں ہوتا… کسی کے پاس انکے احتساب کے اختیار نہیں ہوتا… 
.
پاکستان میں ایک مسلہ یہ بھی ہے کہ جو باکردار ہو عوام اسے سوشل ورکر کی حثیت سے تو قبول کر لیتی ہے لیکن رہنما یا سیاستداں کی حیثیت سے نہیں… پاکستانیوں کا حال دیکھیں… پٹھان، بلوچی، پنجابی، سندھی، بنگالی، اردو بولنے والے، شیعہ، سنی، تبلیغی، اہل سنت، آغا خانی، قادیانی، پیپلز پڑتی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ، عوامی نیشنل پڑتی، تحریک انصاف، ڈیفنس والے، گلشن والے، کینٹ والے، نارتھ ناظم آباد والے، لالو کھیت والے، اورنگی ٹاون والے، ملیر والے، ڈاکٹر، استاد، تاجر، مزدور …. کتنے سارے کنوؤں میں بند مینڈک ہیں ہم سب… اپنے اپنے فائدے کے لئے نکلے، ٹرٹراۓ اور پھر اندر… 
پاکستان میں جو جس عہدے پر بیٹھ گیا یا بٹھا دیا گیا، نہ تو وہ خود ہٹنے کا نام لیتا ہے، نہ ہی دوسرے اس کے سامنے دم مار سکتے ہیں… عقیدت ہو، خوف ہو، محبت ہو، مقصد ہو، مطلب ہو یا مذاق… کوئی بھی وجہ ہو، ہمارے ہاں ایک شخص کو خدا بنا کر اس کی پوجا شروع کر دی جاتی ہے… اس اپنے ہی جیسے بے بس انسان سے ساری امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں… وہی مسائل کا حل سوچے اور وہی ان پرعمل کرنے کے لئے یا کرنے کے لئے اپنی زندگی برباد کر لے… عوام تو کیا کرتی ہے… نعرے لگاۓ، اور کام نکلتا دیکھا تو صحیح ورنہ کسی دوسرے کے سا ۓ میں پناہ ڈھونڈنے نکل پڑے…
.
ہماری قوم نے لیڈر یعنی رہنما کے لئے کوئی معیار سامنے نہیں رکھا کہ کوئی لیڈر بننے سے پہلے سوچے کہ اسکی عوام اسے کن خصوصیات کے ساتھ قبول کرے گی…
ہم کبھی اس ایک انسانی خدا کے کردار کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے، پوچھتے نہیں اور اگر کوئی انکو بتاۓ تو الٹا اس کا دفاع کرتے ہیں… صرف روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے وعدوں پر بک جاتے ہیں، غلام بن جاتے ہیں، رسولوں کی تعلیمات بھول جاتے ہیں، الله کے وعدوں پر یقین کرنا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اپنے رب کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں… کس کے کہنے پر؟ اپنے ہی درمیان میں پلے بڑھے اپنے ہی جیسے کردار کے ایک آدمی یا عورت کے کہنے پر… جو خود کسی قابل نہیں، جسکے پاس خود کوئی اختیار نہیں… جو خود اپنے نفع نقصان پر قادر نہیں… جو خود اپنی زندگی کی حفاظت کے لئے دوسروں کی پناہ کا محتاج ہو… 
.
لیڈرز چاہے مذہبی ہوں یا سیاسی اور عوام… دونوں نے کبھی اپنا اپنا انجام نہیں دیکھا… صبح شام، دن رات ایک کر دیتے ہیں یہ رہنما… اربوں کی دولت جمع کر لیتے ہیں، محل بنا لیتے ہیں لیکن کبھی استعمال نہیں کر پاتے اور جو کچھ استعمال کر لیں تو گالیاں کھاتے ہیں، الزام سہتے ہیں، لعنت ملامت ہوتی ہے، کبھی انکے والدین کو برا کہا جا رہا ہوتا ہے اور کبھی بچوں کو بد دعائیں… یہی انکی زندگی کا حاصل ہوتا ہے…
.
عوام کو کیا ملتا ہے… خود کشی، خود سوزی، بھوک، فاقے، بیماریاں، محتاجی، بد حالی، ذلت………. روٹی، کپڑے، مکان، اختیار، حقوق اور آزادی کے لئے سڑکوں پر آۓ دن احتجاج، کتے بلیوں کی طرح دھوپ میں مارے مارے پھرنا، خواری اور ذلت نہیں تو پھر کیا ہے… کیا مذاق ہوتا ہے کہ ہزاروں اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر جمع ہو کر بھی اتنے بے بس کہ صرف سٹیج پر کھڑے رہنماؤں کے اشارے کے پابند ہوتے ہیں… ڈگڈگی انکے ہاتھ میں ہوتی ہے اور عوام بندر کی طرح انکے احکامات پر عمل کرتے ہیں… ناچ جاؤ، ناچ گئے… گانا شروع کردو، گانے لگے… تالیاں بجاؤ، تالیاں بجانے لگے… جلسہ ختم کردو، گھر واپس آ گئے… میں تو یہ سوچتی ہوں کہ کتنے خوش ہوتے ہونگے عوام کی بے بسی کا تماشہ لگا کر یہ سیاست دان… 
.
ہزاروں لاکھوں ایک ساتھ جمع ہو کی بھی کوئی قوت نہیں بنتے، کوئی مطالبہ لے کر اپنے لیڈرز پر دباؤ نہیں ڈالتے کہ یہ قانون بناؤ، یہ بل پاس کرو… جب الله رب العزت کو چھوڑ کر، اس کے دے ہوۓ آئین سے منہ موڑ کر، اس کی ہدایات کو ٹھکرا کر، ادھر ادھر بھٹکو گے تو یہ ذلت تو ملے گی… 
.
اور مزے کی بات یہ کی عوام اور لیڈرز، دونوں ایک دوسرے پر الزام بھی لگاتے ہیں… اور پھر ایک دوسرے کے ہی پاس جاتے ہیں…. سیاستدان ووٹ کے لئے اور عوام مسائل کے حل کے لئے… 
قرآن ایسے عوام اور ایسے لیڈرز کے بارے میں کیا کہتا ہے….“کمزور ہیں مدد مانگنے والے اور وہ جن سے مدد مانگی جاتی ہے…” (سوره الحج) 
.
شخصیت پرستی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان بے وقوف بہت بنتا ہے… اگر اس کو چاہا جاۓ تب بھی اور وہ کسی کو چاہے تب بھی… یہ سوچ ہی نہیں آتی کہ میں ہوں یا کوئی اور… ہیں تو انسان ہی، غلطی کر سکتے ہیں… محاسبہ بھی ہو سکتا ہے… تنقید بھی ہو سکتی ہے… مخالفت بھی ہو سکتی ہے… بے وقوفوں کی طرح بس کسی ایک شخص کی تعریفیں ہی تعریفیں ہوئی چلی جارہی ہیں… کوئی اسکے خلاف زبان نہ کھولے… الٹا سیدھا کچھ بھی کر کے اس کا دفاع کرنا ہے… زبان سے حق کے بجاۓ چکنی چپڑی باتیں نکلنی شروع ہو جاتی ہیں…
.
شخصیت پرستی کی ایک تازہ مثال اس وقت سامنے آئی جب ایک رکشے والے نے مجھ سے کہا کہ ‘باجی میں تو کہتا ہوں کہ یہی حکومت رہے، یوسف رضا گیلانی جیسا ایماندار، مڈل کلاس اور غریبوں سے محبت کرنے والا انسان وزیر اعظم رہے تو ملک کے حالات بدل جائیں گے’… میں صرف اس کا منہ دیکھتی رہ گئی… اور تعلیم یافتہ لوگوں کی نا اہلی کا ماتم کرتی رہ گئی…
.
اسی طرح کہیں دنیا میں ایسا قائد دیکھا ہے کسی نے، ناچنے گانے والا اور وہ بھی انتہا درجے چھچھورے پن کے ساتھ….
.
نواز شریف کی پرستش کرنے والوں نے تو حد ہی کر دی کہ محبت میں اتنے نعرے لگاۓ کہ لیڈر کو ہی بولنے نہ دیا… اورتواورماروی میمن صاحبہ نے کیا پلٹا کھایا… اور دونوں نے ایک دوسرے سے کوئی حساب نہیں لیا… نواز شریف نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ تو مشرف کے ساتھ تھیں اس کے ہر جرم میں اور ماروی میمن نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے کتنا کرپشن کیا اور کتنا قرضہ کھایا… 
.
پرویز مشرف صاحب کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہوگا کہ عوام پرسے شخصیت پرستی کا بھوت اگر اترے تو کیا رنگ دکھاتا ہے… یا ہو سکتا ہے کہ عافیہ صدیقی کی آہ لے ڈوبی ہو…
.
عمران خان صاحب کے پرستاروں کو کم از کم یہ تو پوچھ لینا چاہیے تھا کہ بھائی یہ کس وقت کا عمرہ اور فوٹو سیشن کیا جارہا ہے… اور اگر حج بھی ہو توچھوڑا جا سکتا ہے خاص کر اگر اتنے سارے لوگوں کی زندگی اور موت کا مسلہ ہے…  ایسا حج تو نہ ہو کر بھی مقبول ہوتا ہے…
.
 

Advertisements

Haya – Life and Modesty

Once Arabs were a society that was indulged in adultery, vulgarity and great sins.  Pagans of Makkah were rude, uncivilized, barbaric, cheaters, liars, abusive and obscene.

Prophet Muhammad (pbuh), a person from the same society, diverted them towards piety, purity, modesty, simplicity and goodness.  He did not curse pagan’s faith, did not criticize their rituals, never raised his eye-brows and changed his voice harsh against their immodest activities, never confined himself to his beloveds, never refuses to help those who hated him.  He never stampeded on streets to terrorize Makkans with the power of his anger, except at the time of victory of Makkah, such a unique incident when he invaded the city with peace and forgiveness.

He was a socially developed person by nature; full of wisdom, admirer of beauty and pleasure, a symbol of grace and modesty/haya, confident in himself and smiling to people.  He knew how to and when to communicate with people.  He openly declared that he loves three things the most and those were perfume, salah and women (he did not use the name of any relationship).  And what he said, he always meant.

Haya/modesty is an inevitable part of Muslims’ faith, both men and women.  It is also categorized as one of the prophetic attributes.  With the root letters ‘ha and ya’, it literally means ‘life’ in Arabic.  In religious terms, it has been described as covering body (practice the ruling of sitr/body parts that should be covered), shyness (lower gaze/extreme softness), chastity (staying away from sex related activities), timidity (lack of confidence/not so sure), modesty (a moderate behaviour/simplicity/humbleness).  Haya is not a culture or tradition.  Haya is not a gender-based characteristic.  Haya requires not to shut women inside their houses and their disconnection to God’s world.

Beside its literal meanings, the most suitable word for ‘haya’ in English is ‘modesty’.  Allah (SWT) created the world with balance.  “He has set up the Balance (of Justice),  In order that ye may not transgress (due) balance.  So establish weight with justice and fall not short in the balance.” Surah Ar-Rahman/The Most Compassionate.  God brought universe into existence with balance (equilibrium, harmony, limits, due proportion, moderation).  The balance, with above synonyms, ensures life, not in span but in quality.  This entire surah describes the diversity of things working in their own limitations, which Allah (SWT) mentions as “the blessings from your Lord” and He orders us not to destroy it.

“And a sign for them is the night, We withdraw therefrom the day, and behold, they are in darkness.  And the sun runs on its fixed course for a term (appointed). That is the Decree of the All-Mighty, the All-Knowing.  And the moon, We have measured for it mansions (to traverse) till it returns like the old dried curved date stalk.  It is not for the sun to overtake the moon, nor does the night outstrip the day. They all float, each in an orbit.”  Surah Yaseen.

Prophet Muhammad (pubh) said, “Haya/modesty does not bring but goodness.”  He is right.  A humble, moderate, pure and simple behaviour causes nothing but beauty, pleasure and relaxation.  The way he ate, drank, walked, talked, greeted people, welcomed his opponents, treated animals, cheered children, respected women, helped the needy, behaved at home, led campaigns (both preaching and political), fought battles, treated prisoners, imposed laws, told stories, tolerated enmity, settled disputes, explained Qur’an, delivered sermons, ruled Madinah, ran the government – all reveal the secrets of his extraordinary, unique, short-time success in driving people towards piety, purity, modesty, simplicity and goodness.

So in general, haya is a process of knowing your own limitations and letting others (diversities) live and work in their specified boundaries/hudood.  Qur’an has warned us at many places not to break the limits that Allah (SWT) has ordained on every Muslim.  Haya is used in Urdu in the meanings of limitations too, such as, ‘haya karo, masjid main kharay ho ker jhoot boltay ho…. kuch to haya kur, maan baap se is tarah baat kertay hain…. oye haya kur, is ne teray liye bohat qurbaniyyan di hain….. koi haya nahi, jo munh main ataa hay buk deta/deti hay…. oye haya ker, Allah ka khata hay aur Allah ki na farmani kerta hay…. etc.

The world right now is under the process of globalization, all countries under one flag, the whole world population under unified system – many evil powers have imposed wars in order to control the entire globe.  It is only Islam which is worthy of being the ruling power of the world because it is based on characteristics and merit.  People of the world are looking for solutions to their problems and what Muslims are showing them is anger, fire, hatred to their beloved days.

George Bernard Shaw said, “If any religion had the chance of ruling over England, nay Europe within the next hundred years, it could be Islam.  I have always held the religion of Muhammad in high estimation because of its wonderful vitality. It is the only religion which appears to me to possess that assimilating capacity to the changing phase of existence which can make itself appeal to every age. I have studied him – the wonderful man and in my opinion for from being an anti-Christ, he must be called the Savior of Humanity.  I believe that if a man like him were to assume the dictatorship of the modern world he would succeed in solving its problems in a way that would bring it the much needed peace and happiness: I have prophesied about the faith of Muhammad that it would be acceptable to the Europe of tomorrow as it is beginning to be acceptable to the Europe of today.”

http://www.emro.who.int/publications/healthedreligion/IslamicPerspective/Chapter3.htm  The site mentions how considerate was Prophet Muhammad (pbuh) regarding carefulness and precautions.

Jamat-e-Islami announced to observe ‘Yom-e-Haya’ meaning ‘the modesty day’ on 14th February.

Christians have their reason to celebrate Valentine’s Day on 14th February.  Just like Muslims celebrate their own occasions with their own understanding.  For Muslims, if everyday is a mother’s day, father’s day, sister and brother’s day, teacher’s day, when what could be the reason for observing ‘haya’ on one day.  Haya should also be practiced everyday.  It is not just Valentine’s Day which non-Islamic.  Jahez, rape, infanticide, birthdays, Happy New Year parties, mayon and mehndi, prostitution in every neigbourhood, drug, illiteracy (inability to read and write), beggary, standing and cheering on the body of dead animals, cows and goats eating from garbage, cats and dogs wandering in search of food,  also fall into this category.

Prophet Muhammad (pbuh) said,  “Cursed be everyone who causes harm to a believer or schemes against him.”

The Prophet (pbuh) said: “No believer may humiliate himself”. When he was asked how any person would humiliate himself, he said: “By exposing himself to risks with which he cannot cope.” (it doesn’t mean that one should not experiment or try but with preparations and precautions.)

He (pbuh) said, “Shall I tell you the definition of a believer? He is one with whom people feel themselves and their property to be safe. A Muslim is the one who does not abuse people by word or deed.”

See the following photo in the light of above hadith, what are we showing to the world, our ability to burn things out, is it according to what Prophet (pbuh) said?  Why do veiling women only show up with danda/sticks and fire?  Does Islam stop women to step out for positive reasons, such as planting flowers and trees, volunteering at Edhi centers in taking care of orphans and traveling within the allowed distance to educate children?

Islam strictly forbids cursing or insulting other’s faith and festivals.  According to Qur’anic logic, if you do that, you will get the same reaction from the other side.  Muslims should are not advised to instigate a situation against anyone but to settle down matters wisely.

Many people suggest that Prophet Muhammad (pbuh) should be kept out of discussions.  Why?  Allah (SWT) says in Surah Al-Ahzab, “in Prophet’s seerah/character, there is the best example for you”.  Discussions based on what is haram and what is halal are incomplete without including Prophet Muhammad (pbuh).  We cannot treat him like a maulvi or a scholar that we drag him in at nikah/wedding sermon, divorce, aqiqah, for reading Qur’an or do milad otherwise we just keep him out of our lives.  He is guidance for us in every aspect of our lives.  He is nothing to be afraid of.

Many say, the anger is not against Christians or their festivals but Muslims who follow non-Islamic traditions.  This is just like cursing and burning kids in neighbourhood to show anger against your own child because he/she is following them.  It is your failure, you should curse yourself, burn banners with your name on them, you stand in front of the mirror and say to yourself ‘get lost’ and ‘my foot’.

Islam did not come to exterminate other’s religion, culture and traditions.  It came to introduce people the best way to a quality life.  It came to show how beautifully, peacefully and prosperously the whole mankind live under the flag of Islam.


حیا نہیں لاتی مگر خیر۔۔۔۔۔۔۔ 

شکر ہے ویلنٹانئز شہداء کا کہ جماعت اسلامی کو یوم حیا منانے کا اعزاز دے گئے۔۔۔ حالانکہ حیا کا پیغام اتنا ہی پرانا ہے جتنی انسانی تایخ۔۔۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو بھی حیا کا پیغام لائے چودہ سو سال گذر گئے۔۔۔ اور یوم حیا کا آج خیال آیا۔۔۔ عیسائیوں اور امریکنوں کے مقابلے پر۔۔۔

یوم حیا تو وہ دن تھا جس دن حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا داغ خود الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کی آیات سے دھویا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت مریم علیہ السلام کی عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا دفاع ان کے معصوم بیٹے نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب حضرت یوسف علیہ السلام عزت اور عصمت پر لگائے گئے الزام کا جواب ان کے اپنے جسم پر موجود لباس نے دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوم حیا وہ دن تھا جب الله سبحانہ وتعالی نے قرآن کے ذریعے حضرت زینب بنت جحش کا آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھہ نکاح کا اعلان کیا اور منافقوں کی زبانیں بند کیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن جماعت اسلامی یا آج کل کے دینی لوگ کیا جانیں۔۔۔ کیا جانیں یہ کسی کی عزتیں بچانا, خوبصورتی اور احسان کے ساتھہ۔۔۔۔ یہ مقابلے کرسکتے ہیں, شک کرسکتے ہیں, تجسس کرسکتے ہیں, الزامات لگا سکتے ہیں, سزا سنا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

سمجھہ نہیں آیا کہ اگر مسلمانوں کے لئے ہر دن ماں کادن, ہر دن باپ کا دن, ہر دن محبت کا دن۔۔۔ تو پھر حیا کے لئے ایک خاص دن کیوں۔۔۔ حیا بھی ہر دن ہونی چاہئے۔۔۔۔

ہمارے دینی لوگوں کی ذہنیت ملاحظہ ہو۔۔۔۔ لال مسجد کی خواتین ڈنڈے لے کر نکل آئیں سڑکوں پر۔۔۔ جماعت اسلامی کی خواتین نے سڑکوں پر آکر دنیا کو دکھایا کہ ہم جلانے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔۔۔

بس۔۔۔ یہی سیکھا سکھایا قرآن سے۔۔۔ مارنا, جلانا۔۔۔ 

اسلام سے محبت کا اظہار بھی بے چارے دوسروں سے نفرت کا اظہار کرکے کرتے ہیں۔۔۔ اور کوئی طریقہ نہیں سیکھا شاید۔۔۔  چلو سستی شہرت ہی سہی, دنیا میں مشہور تو ہوئے۔۔۔

وہ جو کسی نے کہا ہے کہ ۔۔۔۔ بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔۔۔

حیا کا کلچر عام کرو, یہ کام صبح سے شام کرو

مارو تھپڑ بیٹوں کو گر وہ آنکھہ لگا ئیں عورت پر

قیمہ کردو شوہروں کا گر وہ ہاتھہ اٹھائیں بیوی پر

شرم دلاؤ بھائیوں کو گر وہ تاک میں جائیں لڑکی کے

نظرمیں رکھو باپوں کو جب پاس کھڑے ہوں کھڑکی کے

 مردوں کی مصروفیت کا چوبیس گھنٹے انتظام کرو

حیا کا کلچر عام کرو, یہ کام صبح سے شام کرو

Youth in 2012

The population of Pakistan consists of one hundred million children and youth.  If youth is still thinking that change in political set-up and changing politicians will change the system, they are wrong.

Have they ever thought where did Zardari, Altaf Hussain, Nawaz Sharif, Asfand Yar Wali, Fazlur-Rehman, Munawwar Hasan, Gen. Musharraf, Chaudhry Shuja’at, Pervez Elahi, Shahi Syed and all politicians come from?  They were born here, were raised here, by their mothers and fathers, among their brothers, sisters, cousins, uncles, neighbours, friends and teachers.

If we blame them for being insensitive, apathetic, characterless, corrupted and criminals — that certainly has a lot to do with their bringing up.  They are not only a big legal mistake of their parents but all the people in their surroundings who never taught them the difference between virtue and sin, honesty and dishonesty, legal and illegal, haram and halal, working and cheating, earning and looting.  Their all kinds of mistakes and crimes were JUSTIFIED by every single person in their surroundings — this is how they were raised.  This is how we all raise our children, by justifying our misdeeds to them and then by justifying their corruption to the society.

But how did these ‘Crime Masters’ get to the positions and status they are holding now?  Who recognized these ‘tumors of immorality’ as ‘leaders’?  Who always believed in the promises of this continuous chain of ‘liars’?  Who gathered in millions and made their jalsas’ successful?  Who sold themselves for one hundred or five hundred or one thousand rupees to show their massive support to these monsters?  Who never asked them to recite the national anthem and never forced them to hold the national flag?  Who never demanded the Courts of Pakistan to arrest them against criminal charges?

PEOPLE OF PAKISTAN is the only correct answer, the elders of today’s youth, their parents, grandparents and relatives.  Have our youth ever asked their parents and grandparents about the role they have played in building Pakistan, beside listening to their justifications?

I wonder how would Imran Khan change the system?  Will he double and triple the number of sweepers to keep the roads and streets clean 24 hours?  Will he assign special task force that can train Pakistanis to stand in line anywhere, even in colleges and universities?  How will he break the network of educational mafia which consists of ‘school-owners, principles, teachers, professors, education ministers and employees’?  What will he do about the unified education in Pakistan and improving the plight of government schools?
Before I had complaints with MQM, ANP, Jamat-e-Islami and PPP.  Now Karachi’s walls are painted with PTI’s slogans and promises.

Looks like we are never going to become a disciplined, neat and clean and a civilized nation.

B.A. Notes in Urdu

 

اردو نوٹس بیچلرز کے لئے۔۔۔ بیچلرز انگریزی کا لفظ ہے جسکا مطلب ہے کنوارا۔۔۔ اسکو چودھویں سال کی ڈگری کا نام کیوں دیاگیا اور پاکستان میں اسکا مقصد سمجھہ نہیں آتا۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کچھ لیولز ہونے چاہئیں انکا کوئی بھی نام رکھا جائے, کوئی بھی کسی بھی عمر میں جو لیول پاس کرے اسکو وہ ڈگری دے دیں۔۔۔

کیونکہ تعلیمی عمل کو چودہ سال تک کھینچنے کے لئے خواہ مخواہ کا سلیبس بنایا جاتاہے,  کون کتابیں لکھ رہا ہے, کیا لکھہ رہا ہے, کون سے اسباق ہیں اور انکا موضوع کیا ہے… کچھہ چیزیں پہلی کلاس سےایم اے تک پڑھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی طالبعلم نہ انھیں سمجھتے ہیں نہ ان پر بحث کر سکتے ہیں… مثلا تاریخ پاکستان, نظریہ پاکستان, اردو ادب, انگلش لٹریچر۔۔۔

ہر نئی نسل نئی حکومت کی طرح برے نظام کی وجہ اپنے سے پہلوں کی غفلت کو قرار دیتی ہے۔۔۔  لیکن نئی نسل یہ بھول جاتی ہے کہ پچھلی نسل کی غفلت کی وجہ نئی نسل ہی ہوتی ہے۔۔۔ ہر نسل کے لوگ جب اپنی اولادوں کے لئے خود غرض ہو جائیں, دوسروں کاحق ماریں, جھوٹے دستاویزات بنوائیں, رشوت لیں, رشوت دیں۔۔۔ تواگلی نسل کو جینے کے لئے صرف ایک  جرائم پیشہ معاشرہ ہی ملتا ہے جسکے حصہ دار خود انکے گھر اور خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے بیچلرز کی ڈگری کا مقصد کیا ہوتا ہے۔۔۔ پہلی جماعت سے بیچلرز تک چودہ سال اور مونٹیسوری سے سولہ سال بنتے ہیں۔۔۔ اور بیچلرز کی ڈگری لینے والے کی عمر انیس بیس اکیس سال کی تو  ضرورہو گی۔۔۔ تو ایک انسان کے پچے یا بچی کو سولہ یاچودہ سال کے مسلسل تعلیمی عمل کے بعد کس قابل ہو جانا چاہئے۔۔۔ کس حد سمجھدار اور باشعور ہو جانا چاہئے۔۔۔  کس قسم کی باتیں اسے سمجھہ آجانی چاہئیں۔۔۔ کس حد تک فیصلے کرنے اور انھیں نبھانے کی اہلیت ہونی چاہئیے۔۔۔ مذہبی, سیاسی, قانونی اورسماجی مسائل کی کس حد تک سمجھہ ہونی چاہئے اور انکو حل کرنے میں کیا کردار ہونا چاہئے۔۔۔۔ کس مضمون پر کتنا عبورہونا چاہئے۔۔۔ کیا مضامین کی کومبینیشن آج کل کے حساب سے ہے۔۔۔۔ کیا بیچلرز کی ڈگری طلبہ وطالبات کو موجودہ دور اور حالات کے حساب سے ملازمتوں یا کاروبار کے لئے تیار کرتی ہے یا اسکا مقصد یہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اگر ملازمت یا کاروبار کے لئے تیاری نہیں تو پھر چودہ یا سولہ سال سات آٹھہ گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔

ہمارے بچے ساتویں نہیں تو آٹھویں جماعت سے تو ضرورعشق ورومانس کی باتیں سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ اور بہت اچھی طرح والدین, ٹیچرز, محلے والوں کو چکر بھی دے دیتے ہیں۔۔۔اسکے لئے انھیں کسی ٹریننگ یا استاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ اور اس طرح پانچ چھہ سال میں اس فیلڈ کی اونچ نیچ کو خوب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن باقی معاملات کے معاملے میں نہ صرف وہ بچے بنے رہتے ہیں بلکہ ایک حد تک خود کو احمق, بے وقوف اور ناکارہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ اکثر والدین, رشتہ دار یا دوست وغیرہ بھی انھیں اسی قسم کی خصوصیات کا احساس دلادلا کر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

 چودہ یاسولہ سال زندگی کا ایک بہت بڑا اوراہم حصہ ہوتے ہیں۔۔۔ اتنےعرصے تو جانوروں کو ٹریننگ دی جائے تو وہ بھی قابل توجہ کام سر انجام دینے لگتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہ کام اس حد تک ان جانوروں کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں کہ انھیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے تو ان کی کمیونٹی انھیں قبول نہیں کرتی۔۔۔ اور نہ ہی وہ خود جنگل کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں۔۔۔ ساتھہ ساتھہ ایسے جانور اپنے مالک کےلئے کمائی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔۔۔ اپنے مالک کے ایک اشارے یا منہ سے نکلنے والے ایک لفظ سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

اب ذرا بیچلرز ڈگری کے خواہشمند یا وہ جو یہ ڈگری حاصل  کر چکے ہیں اپنا موازنہ ان جانوروں سے کریں, اس میں سرکس کے جانور بھی شامل ہیں۔۔۔ کہ کیا سیکھا اور کیاکرنے کے قابل ہیں۔۔۔

اردو زبان کے اصل مجرم کون ہیں۔۔۔ وہ جو خود تو بڑے اردو ادب کے ستون کہلائے مگر اپنی اولادوں کوانگریزوں کا پرستار چھوڑ گئے۔۔۔ وہ جنھوں نےقوم کو یہ سوچ دی کہ اردو زبان میں عشق ومحبت کے قصے سنائے جاسکتے ہیں, انتقام و نفرت و سازشوں سے  بھر پور اسکرپٹس لکھے جا سکتے ہیں, فتووں سے بھری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔۔۔ لیکن ملک وقوم کی کی ترقی کا کام نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ یا وہ جو اپنی اولادوں کو باہر کی یونیورسیٹیز میں پڑھاتے ہیں مگرقوم کو اردو کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ یا خود ساری عوام جو نہ بولنے کو تیار, نہ سننے کو, نہ کچہ کرنے کو۔۔۔

ہمیں کیوں اپنے اس جرم کا احساس نہیں ہوتا کہ ہرایرے غیرے کو اسکول کھولنے کی اجازت دے کر, ہر قسم کا سلیبس باہر سے درآمد کر کے, اپنے میں سے ہی اٹھے ہوئے مجرمانہ ذہنیت کے استادوں استانیوں کو تعلیمی اداروں کوبرباد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرکے ہم نے اپنے ہی بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔۔۔

بیچلرز کے لیول کے لئے کورس کی کتابیں ضروری ہیں یا کالجز اور یونیورسٹیز میں ایک تفصیلی سلیبس دے کر طلبہ سے تحقیقی کام کروانا۔۔۔ جبکہ ایک طرف حال یہ ہے کہ تیسری چوتھی پانچویں جماعت کے بچوں کو اردو میں نظم, شعر, مضمون, کہانیاں لکھنے کو دی جاتی ہیں۔۔۔ ضروردیں لیکن اسکے لئے انھیں پڑھنے کا وقت, تیاری کا وقت دیں نہ کہ بچے ٹیوشن یا بڑوں سے چیزیں لکھوا کر نمبر حاصل کریں۔۔۔

سیاق و سباق کے ساتھہ تشریح کریں, کسی ایک شاعر, ادیب, افسانہ نگار کے حالات زندگی لکھیں یا فن پر تبصرہ کریں, کسی نظم یا سبق پر تبصرہ کریں یا خلاصہ لکھیں۔۔ سروے کرکے دیکھہ لیں کہ یہ کتنا بڑا بوجھہ ہے طلبہ پر۔۔۔ اور جب بوجھہ ہلکا کرنے کے لئے والدین, اساتذہ ہی راستے فراہم کردیں توپھرجہالت کا شکوہ حکومت سے کرنا بےکارہے۔۔۔۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ نثر میں جو اقتباسات اور شاعری کے جو حصے منتخب کئے گئے ہیں وہ کس بناء پر۔۔۔  کتاب کے آخر میں مشکل الفاظ کے معنی بھی دے دیا کریں کیونکہ سو دو سو سال پرانی اردو تو اب بولی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اب تو لب ولہجہ بھی پاکستانی نہیں رہا۔۔۔ کم از کم کراچی میں تو ہندوستانی فلموں کا لہجہ اور الفاظ  نئی نسل کی شخصیت کا حصہ ہیں۔۔۔ بلکہ کافی ساری ٹیچرز اور اسکول اونرز بھی اسی تلفظ میں بات کرتی ہیں۔۔۔

کیا پاکستان میں پہلی جماعت یا مونٹیسوری سے بیچلرز تک مضامین, خاص طور پر اردو اور اسلامیات میں کوئی سیکوینس یادرجہ بندی ہے۔۔۔ کہ کس عمر یا جماعت کے بچوں میں کم از کم اتنی پڑھنے یا لکھنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔۔۔

What is Bachelor’s Degree? http://www.collegeonline.org/library/choosing-degree/bachelors-degree

As the examination days for Bachelors are approaching closer,  Google search for notes in Urdu is increasing every day.  Most searches are for Psychology, Political Science and Education notes in Urdu language.

There are many websites and facebook pages available for Urdu readers but they mostly consist of poetry, excerpts from Urdu Literature, religious substance by religious groups and news in general.  Nothing I could find that can help the students with discussions and explanation in Urdu.

I still don’t understand the reason of category “Arts” and for including Political Science, International Relations and Education in it.  To make things easier why don’t we introduce the credit system (like in many other countries).  Students can achieve the degree by availing certain credit points for different subjects.  Government will have to provide the syllabus and students can do their research to prepare notes and give examination.

The students of Arts or B.A. are mostly private students.  Even regular students don’t attend classes since they complain that lecturers and teachers ask them to come to the coaching in the evening and get the marks.  If this is really happening, no matter what , students must complain this to someone, inform personally or write to the authorities.

 

 قومی شناختی کارڈ کے لئے, ڈرائیونگ کے لئے, ووٹ ڈالنے کے لئے بلکہ شاید نکاح کے لئے بھی۔۔۔ اٹھارہ سال کا ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارہ سال دنیا میں گذارنے کے بعدایک لڑکا یا لڑکی اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنی شناخت کرواسکیں, ذاتی حیثیت میں بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔۔۔ شاید اسلئے کہ ان پربھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھنے کے بعد اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارویں سال تک پہنچتے پہنچتے ایک لڑکا یا لڑکی کم از کم دو الیکشن سیزنز تو دیکھہ ہی لیتے ہیں, اسکا طریقہ, اسکا نتیجہ, اس پر بحث مباحثہ انکے ذہن میں رہ جاتا ہے, اور وہ ذہنی طور پراس قابل ہوتے ہیں کہ ملک وقوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔۔۔ اور جو ملک اور قوم کے لئے صحیح یا غلط شخص کا انتخاب کرنے کی اہلیت رکھتا ہو وہ اپنے ذاتی زندگی کافیصلہ کرنے کابھی حق رکھتا ہے۔۔۔ اسکا مطلب ہے کہ قومی شناختی کارڈ ذمہ داری اورسمجھداری کی علامت ہے۔۔۔

کیا یہ معلومات یعنی قومی شناختی کارڈ کی اہمیت, ووٹ کی اہمیت, ٹریفک کے قوانین, شادی اور طلاق سے متعلق قرآنی احکامات,  ہمارےتعلیمی کورس کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں۔۔۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ وطالبات یعنی سولہ سترہ سال کے نوجوانوں کوان اہم موضوعات کے بارے میں بتانا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔۔۔ 

لیکن یہ باتیں ہیں اٹھارویں سال میں آنے سے پہلے کی۔۔۔ اٹھارہ کے بعد کیا کیا جائے, کیا سیکھا جائے, کیا سمجھا جائے۔۔۔

Why eighteenth year of life seems suitable for NIC, for driving, for right to vote and even for marriage?  What a person can witness and experience in just eighteen years?  Or is it enough time to become responsible for dealing personal affairs as well as communal and national matters?

What youth is supposed to do at eighteen, shouldn’t they be educated about those matters before their legitimate time?

اچھا چلیں یہ پوچھہ لیتے ہیں کہ بی اے کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔۔۔ ملازمت ڈھونڈنی ہے یا ماسٹر کرنا ہے۔۔۔

ہمارے معاشرے میں اس سوال کے متوقع اور پسندیدہ جوابات ہیں … مجھے آگے پڑھنا ہے, بہت قابل بننا ہے, دنیامیں نام پیدا کرنا ہے, باعزت مقام بنانا ہے, اپنےخواب پورے کرنے ہیں, غریبوں کا سہارا بننا ہے, ملک وقوم کی خدمت کرنی ہے۔۔۔

ان جوابات پر میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔ کہ سب سے پہلے تویہ سارے کام کرنے کے لئےہمت, توانائی, وقت اور جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بیچلرز کرنے تک آدھی بھی نہیں رہ جاتے۔۔۔ چودہ پندرہ سولہ سترہ سال کے تعلیمی عمل میں یہ سارے خزانے کام آجاتے ہیں اور یہ سارے کام خواب بن جاتے ہیں۔۔۔

دوسری بات یہ کہ بھئی کتنا پڑھ لینا ہے, کتابوں سے رٹ رٹ کر امتحان دے دے کر  چودہ پندرہ سولہ سترہ سال ایک ہی طور زندگی گذار کر جی نہیں بھر جاتا۔۔۔ کتنا قابل بننا ہے,  ویسے بھی زیادہ پڑھ لکھہ کرانسان قابل نہیں قابیل بن جاتا ہے۔۔۔ اور دنیا میں نام پیداکرنے اور مقام بنانے کی بات ہے تو میں نے خود پی ایچ ڈیز کو لانڈرومیٹ چلاتے اور عام سی پرنسپل کی جاب کرتے دیکھا ہے۔۔۔

غریبوں کا سہارا بننا اور ملک وقوم کی خدمت دو بہت پیچیدہ مسئلے ہیں جنکو بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں سمجھہ سکتےاورنہ بہت زیادہ غیر پڑھےلکھے۔۔۔ کیونکہ دونوں کاموں کا تعلق ایک مضبوط سماجی اور معاشی نظام سے ہے۔۔۔ جبکہ دونوں کومحض نیکی ثواب کا کام سمجھہ کرکسی خاص وقت اور حالات میں کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ ایک نظام کی شکل اختیار نہیں کرپاتے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےکہ ہم میں سے ہرایک زیادہ سے زیادہ غریبوں کا سہارا بن کرخدا سے نزدیک ہوناچاہتاہے اور اسے انسانیت کی خدمت اور سب سے بڑی عبادت سمجھتاہے۔۔۔ اور آج خدا نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں کی خواہش کے مطابق دردمند, بے بس, مجبور, بےسہارا, غریب لوگ کڑوڑوں کی تعداد میں سامنے لاکر کھڑے کردئیے ہیں کہ کروانکی مدد اور ہو جاؤ میرے نزدیک۔۔۔  یہ کڑوڑوں بے سہارا وہ لوگ ہیں جو کل تک ہمارے رزق کا سامان کررہے تھے۔۔۔ اگر ہم نے انکے مسائل میں دلچسپی لے کر انھیں بہتری کی طرف لے آئے ہوتےتوآج ہم ایک آسان زندگی گذار رہے ہوتے۔۔۔

پس ثابت یہ ہوا کہ نیکی کرنے کی دعا مانگنے سے پہلے اسکی منصوبہ بندی بھی کرلینی چاہئیے اور ذہنی اور  جسمانی طور پر خود کونیکی کے مواقع فراہم کرنے والےحالات کے لئے تیار بھی کرلینا چاہئیے۔۔۔

اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ انسان کسی قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ دشمنوں کو للکار کرمٹانے کی باتیں کرنے والے, روٹی کپڑا مکان فراہم کرنے کے دعوے کرنے والے, انسانوں کو آزادی اور انسانی حقوق کا خواب دکھا کر لادینیت یا سیکیولرازم کی طرف لانے والے, اپنے جوش ایمانی سےلوگوں کی تقدیریں بدل دینےوالے, اپنے خطبات سے اور فتووں سے دوسروں کے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔ مچھر جیسے حقیر سمجھے جانے والے کیڑے کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔۔۔ دوا کام آرہی ہے نہ دعا۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا کہ… ہو عالم ایجاد میں جو صاحب ایجاد, ہردورمیں کرتا ہے طواف اسکا زمانہ۔۔۔۔۔۔

اقبال کا مطلب شاید سائنسی ایجادات بھی رہا ہو جنکی وجہ سے مسلمان صاحب ایمان مغربی دنیا کے غلام بن گئے ہیں کیونکہ سائنسی چیزیں ایجاد کرنا ہمارے ہاں کفر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کافر ایجاد کرے تو مصلحتا استعمال کرنے کا فتوی موجود ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن یقینا صاحب ایجاد سے اقبال کی مراد صاحب تدبیر ہے یعنی مشکلات سے نکلنے کے لئے وقت اور حالات کے حساب سے حل بتانے والا۔۔۔ کیونکہ مسلمان اپنی حرکتوں کی وجہ سے دشمنوں کو اپنے پیچھے لگا لاتے ہیں اور جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے نکلنے کے لئے صاحب تدبیر لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ جو بعد میں قوم کے ہیرو یا باپ کہلاتے ہیں۔۔۔

ویسے جو بی اے کے بعد جابس تلاش کرنا چاہتے ہیں انکے خیال میں انھیں کس قسم کی جابس مل سکتی ہیں۔۔۔ انکی تنخواہ کتنی ہوسکتی ہے۔۔۔ اس تنخواہ میں وہ کب تک گذارہ کرسکتے ہیں۔۔۔

بی اے کی ڈگری تو ویسے بھی کئی سال پہلے اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔۔۔ بی اے میں پڑھائے جانے والے مضامین کا پاکستان میں کیا کام۔۔۔ نفسیات, سیاسیات, عمرانیات, معاشیات, گھریلو معاشیات, لائبریری سائنس, تاریخ, اسلامی تاریخ, تاریخ پاکستان, بین الاقوامی تعلقات, عربی, فارسی, تعلیم, سوشل ورک, جغرافیہ۔۔۔۔

تو جس نظام جس تعلیم کا فائدہ نہ ہو اسے بدل کیوں نہیں دیتے۔۔۔ اپنے لئے نہ سہی, اگلی نسلوں کے لئے سہی۔۔۔وہ دعا دینگی کہ کوئی ہمارے لئے کام  آسان کرگیا۔۔۔

میر امن دہلوی  – 1809 – 1733              سرسید احمد خان – 1898 – 1817

مولوی نذیر احمد – 1912 – 1831            مولانا محمد حسین آزاد – 1910 – 1832

سید مہدی علی محسن الملک – 1907 – 1837     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857         مولوی عبدالحق – 1961 – 1870

منشی پریم چند – 1936 – 1880             مرزا فرحت الله بیگ – 1947 – 1884

رشید احمد صدیقی – 1977 – 1892         احمد شاہ پطرس بخاری – 1958 – 1898

غلام عباس – 1982 – 1909        خواجہ میر درد – 1784 – 1720             میر تقی میر – 1810 – 1722

خواجہ حیدر علی آتش – 1846 – 1778   مرزا اسد الله خاں غالب – 1869 – 1797

مومن خان مومن – 1856 – 1800        نواب مرزا خان داغ دہلوی – 1905 – 1831

سید فضل الحسن حسرت موہانی – 1951 – 1875     علی سکندر جگر مراد آبادی – 1960 – 1890

علامہ اقبال – 1938 – 1977     فیض احمد فیض – 1984 – 1911

مرزا محمد رفیع سودا – 1781 – 1703     شیخ محمد ابراہیم ذوق – 1854 – 1789

میر ببر علی انیس – 1874 – 1802     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

نظیر اکبر بادی – 1830 – 1735     علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857

سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی – 1921 – 1843      شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی – 1982 – 1896

سیماب اکبر آبادی – 1951 – 1880    احسان دانش – 1983 – 1892

حفیظ جالندھری – 1982 – 1900

یہ اردو ادب کے چند مشہور نام ہیں۔۔۔ کچھہ شاعر اور کچھہ نثر نگار۔۔۔ ان میں سے کچھہ کےنام پہلی جماعت سے سنتے اور پڑھتے چلے آئے ہیں پھر بھی نہ انکی تاریخ پیدائش یاد ہوتی ہے نہ تاریخ وفات, نہ جگہ پیدائش اور نہ وجہ پیدائش۔۔۔ چودہ سالوں کے دوران جب انکا نام آئے نوٹس بنانے کے لئے بھاگ دوڑ مچی ہوتی ہے۔۔۔ ان میں سر فہرست نام ہے سرسید احمد خان, علامہ اقبال اور غالب۔۔۔

ویسے اتنے سارے ناموں میں صاحب تدبیر کون نکلا۔۔۔ میرے حساب سے علامہ اقبال۔۔۔ ایک وژن دے کر ہندوستان کی مسلمان اقلیت کو پاکستان کی مسلمان اکثریت میں بدل دیا۔۔۔ قلم اور سوچ کی طاقت کا صحیح استعمال۔۔۔

باقی سب بھی ٹھیک تھے, انہوں نے اپنے لحاظ ادبی کام بھی کئے, سیاسی بھی, مذہبی بھی اور سماجی بھی۔۔۔ مزاح بھی لکھا اور بچوں کے ئے بھی۔۔۔ غزل, نعت, مرثیہ, رباعی, نظمیں۔۔۔۔۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انکے کلام میں یہ سب مل جاتا ہے۔۔۔

دوسرا بڑا نام حفیظ جالندھری کا ہے جنھوں نے اقبال کے تصور پاکستان کے مقصد کو سمجھتے ہوئے قومی ترانہ لکھہ ڈالا اور کیا کمال لکھا کہ جتنی مرتبہ پڑھیں مزہ آتا ہے۔۔۔ کم الفاظ کے شعروں کے قافیہ اسطرح ملائے ہیں کہ نہ پڑنا مشکل نہ یاد کرنا اور مقصد بھی سمجھہ آجائے دو قومی نظریے کا۔۔۔

ویسے ان دو بڑے ناموں کو ہم نہ جانے کیوں پیچھے رکھتے ہیں۔۔۔ حسد کرنے یا مقابلے کی بات نہیں۔۔۔ ذرا سب کی تاریخیں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ سب ہی اگے پیچھے ایکدوسرے کے زمانے سے وابستہ تھے۔۔۔ ایک ہی خطے کے رہنے والے تھے۔۔۔ ان میں سب سے پرانے میر درد اور سب سے نئے فیض احمد فیض ہیں۔۔۔ لیکن جس نے کچھہ حاصل کرلیا وہ دو بڑے نام یہی تھے۔۔۔ اقبال اور حفیظ جالندھری۔۔۔

ویسے بی اے  کے باقی مضامین بھی پڑھنے کی نہیں بلکہ ٹی وی پروگرامز دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔۔۔ تقریبا سارے مضامین کے موضوعات پر کسی نہ کسی چینل پر بات چیت یا بحث ہورہی ہوتی ہے۔۔۔ اخبارات اور رسالوں سے بھی نوٹس بنائے جاسکتے ہیں۔۔۔

سیاسیات میں دنیا کی مشہور تقریریں بھی شامل کرنی چاہئیں جن میں قائد اعظم کی تقاریر بھی شامل ہوں اوران لوگوں کے حالات زندگی جن کی کوششوں نے انکے ملکوں کی سیاست پرمثبت اثر ڈالا۔۔۔ خواہ مخواہ میں صدیوں پرانےسیاسی نظام جو اب کہیں نہیں ان پر بحث کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ انھیں تو حوالہ کے لئے پڑھیں اور بس۔۔۔ البتہ خلافت مدینہ اور رسالت کے سیاسی پہلوؤں کو ضرور کورس میں شامل ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔

ایجو کیشن تو مضمون نہیں بلکہ خود ایک کیٹیگوری ہے۔۔۔ اس میں تو سارے ہی مضامین آجاتے ہیں۔۔۔

بلکہ آرٹس گروپ ختم کرکے جتنے مضامین ہیں انھیں دو بنیادی کیٹیگوریز سیاسیات اور تعلیم میں لازمی کردیں۔۔۔ دو سال یعنی سات سو تیس دن کافی ہو سکتے ہیں اگرصحیح طریقے سے پابندی کے ساتھہ پڑھایا جائے۔۔۔

یہ جو کچھہ اسباق اور کچھہ مشقیں ہم تقریبا ہر سال کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں وہ طریقہ بھی تبدیل ہونا چاہئیے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو  سوچنے کے لئے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو سوچنے کے لئے۔۔۔

 

اردو زبان کے امتحانات۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کے ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے کیا۔۔۔ اتنا غصہ آتا تھا پرچوں میں الٹے سیدھے سوال پڑھ کر۔۔۔

روشنی ڈالئے, اظہار خیال کیجئے, تبصرہ کیجیے۔۔۔  بھئی یہ بھی تو بتائیں یہ سب کرتے کیسے ہیں۔۔۔ کیا اظہار خیال کا مطلب ہوتا ہے ذاتی رائے, توواقعی سچی رائے لکھنے پر نمبرز مل جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو قسم کے سوال سب سے زہر لگتے تھے۔۔۔ ایک یہ کہ, بتائیے شاعر اس شعر میں کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی وہ شاعر جو انتقال فرما چکے ہیں۔۔۔ بھئی یہ تو شاعر خود ہی بتا سکتاہے, ہمیں کیا پتہ اب کہ وہ کسں سے کیاکہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اصولا اس قسم کے سوالات کے لئے زندہ شاعروں کی شاعری کا انتخاب کرناچاہیے کہ انسان کبھی ملاقات کرکے پوچھہ ہی لے کہ بھئی آپ اپنے شعروں میں کیا کہنا چاہتے ہیں, تفصیل سے بتائیے, امتحانات میں جوابات لکھنے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسےجو شاعرآج زندہ ہیں انکا کلام انکے مرنے کے بعد اردو سلیبس کا حصہ بنے گا۔۔۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ امتحانات میں سوالات کا اندازجب تک بھی یہی رہے گا۔۔۔ لہذا آج کے شاعروں کو چاہیے کہ کل کے طلبہ وطالبات کی آسانی کے لئے اپنی شاعری کی وجوہات , اپنے خیالات قلمبند یا فلمبند کروا جائیں۔۔۔

ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اگرزندہ شعراء, ادیب اور افسانہ نگاروں کے لکھے کو پڑھایا جائے, بلکہ اردو کے پیپرز انھیں سے چیک کروائے جائیں۔۔۔ ایک تو انکا دل ہی خوش ہو جائے گا, دوسرے انکو کام مل جائے گا, تیسرے ان میں مزید بہتر اور کچھہ نیا لکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔۔۔

اچھا, دوسرا سوال جو کہ سوال نہیں بلکہ مطالبہ ہوتا تھا اور مجھے نہایت عجیب لگتا تھا وہ یہ کہ۔۔۔ فلاں فلاں بات یا کسی کے جملے پر بحث کیجئے۔۔۔ اب پہلی بات تو یہ کہ ہمارے گھر میں بحث مباحثے پر پابندی تھی, امی کوسخت برا لگتا تھا زبان چلانا, اسلئے پحث کرنا ہی نہیں آتی تھی۔۔۔ دوسرے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کاپی پر بحث کیسے کی جاتی ہے کیونکہ بحث کرنے کے لئے کسی دوسرے کا سامنے ہونا اور بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔ خود ہی خود تو یا پڑھا جا سکتا ہے یا لکھا جاسکتاہے, بحث نہیں کی جاسکتی۔۔۔

یہ تو اب پتہ چلا کہ کسی بات کی بال کی کھال اتار دینا, کہاں سے شروع ہوئی, کیسے شروع ہوئی, اس کے اچھے یابرے اثرات کیاہوئے, انجام کیا ہوا۔۔۔ یہ سب کچھہ لکھنا بحث کرنا کہلاتا ہے۔۔۔

اچھا ٹیچرز اتنا بتاتے نہیں جتنا امتحانات میںلکھنے کو دیتے ہیں۔۔۔ اورآجکل تواورغضب ہے۔۔۔ کچھہ بھی نہیں بتاتے اور سب کچھہ پوچھہ لیتے ہیں۔۔۔

 سب سے بڑا سانحہ تعلیمی دور کا یہ ہوتا ہے کہ ساری چیزیں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رفتہ رفتہ سمجھہ میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور پڑھے لکھے کا حال اس کرکٹر جیسا ہوجاتا ہے جو خود تو کبھی صحیح نہ کھیل پائے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وہ مشورے دیتاہے, وہ تنقیدیں کرتا ہے  جیسے بابائے کرکٹ ہے۔۔۔

اچھامزے کی بات یہ ہے کہ سارے طالبعلم اپنے زمانےمیں برے نظام تعلیم کا رونا رورہے ہوتے ہیں۔۔۔ مگرجب والدین بنتے ہیں تو کہتے ہیں, ہمارے زمانے میںبھی تو آخرپڑھائی ہوتی تھی, ہمارے اساتذہ ایسے سخت اور قابل ہوتے تھے, ایک آجکل کے ٹیچرز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب کہتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی یا کے ٹیچرز کل انھیں کے زمانے کے اسٹوڈینٹس تھے۔۔۔ کل انھوں نے جو سیکھا آج سکھا رہے ہیں۔۔۔

یہ کوئی نہیں کرتا کہ بی اے کے ایجوکیشن/تعلیم منتخب کرنے والوں سے پوچھے کہ تمھارے ہوتے ہوئے  تعلیمی نظام میں بہتری کے بجائے براوقت کیسے آیا۔۔۔ سترہ, اٹھارہ, انیس, بیس, اکیس۔۔۔ پانچ سالہ اعلی تعلیم کا کیا نتیجہ نکلا۔۔۔۔

کم عمری میں اگرکسی نے کوئی بہت بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے تو اب تک صرف دوشخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ۔۔۔ محمد بن قاسم الثقفی اورفاتح سلطان محمد یا محمد ثانی۔۔۔

محمد بن قاسم الثقفی کاتعلق شہر طائف سے تھا جہاں توہین رسالت کی گئی اسطرح کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتھر مارمار کرشدید زخمی کر دیاگیا, اور جب الله سبحانھ وتعالی نے فرشتے بھیجے یہ پوچھنے کے لئے کہ اگرآپ صلی الله علیہ وسلم چاہیں توشہر کو انتقاما تباہ کردیا جائےتو فرمایا کہ نہیں, یہ نادان لوگ ہیں, شاید ان کی نسلوں میں سے ایمان والے لوگ پیدا ہوں۔۔۔ پتہ نہیں طائف کے باشندوں کو معلوم ہے کہ نہیں کہ وہ کتنی عظیم قوم ہیں, انکا ایک بیس سالہ نوجوان ہندوستان کی سرزمین اور خاص طورپرسندھ کی سرزمین کے لئے رحمت بن کرآیا۔۔۔ کبھی پاکستانیوں نے طائف والوں کا شکریہ اداکیا۔۔۔۔۔۔ صرف سترہ سال کی عمر میں کامیاب فوجی آپریشن کیا اور ہنوستان میں پہلےاسلامی سیاسی نظام کی بنیاد ڈالی۔۔۔ کل بیس سالہ زندگی, نہ قبر کا نام و نشاں, نہ کوئی  پتھریلی یادگار۔۔۔ لیکن آٹھہ سو سال بعد بھی کڑوڑوں مسلمان بغیر کسی مطلب کےعزت اورفخر سے نام لیتے ہیں۔۔۔

فاتح سلطان محمد کاتعلق ترکی سے تھا۔۔۔ اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی حکومت کا خاتمہ کردیا۔۔۔ ترکی کے لوگ پانچ سو سال بعد بھی انھیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔۔۔  اور باقی اسلامی دنیا بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔۔۔ 

تصور کیا جاسکتا ہے کہ اتنی چھوٹی عمروں میں اتنی بڑی کامیابی کے لئے انکی سولہ سترہ سال کی عمر تک کی زندگی کیسی گذری ہوگی۔۔۔ یہ ہمارے مسلمان نوجوان تھے جن پر ان کے بڑوں نے بھروسہ کرکے اتنی بڑی ذمہ داریاں ڈالیں۔۔۔

اب ذرا آج کے بڑے اور نوجوان, دونوں کا رویہ دیکھیں زندگی, قوم اور ملک کے بارے میں۔۔۔ کیا آج کے بڑوں کو حجاج بن یوسف اور سلطان مراد کی طرح اپنی تربیت اور تعلیم پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے کسی چھوٹے کو اتنا بڑاکام کرنے دیں کہ ملک وقوم کی تاریخ بدل جائے۔۔۔ کیا ہمارے ہاں نوجوانوں کو ملک وقوم سے متعلق کوئی نور بصیرت دیا بھی جاتا ہےکہ نہیں۔۔۔

اوپر والے دونوں سوالوں کا جواب ہے نہیں۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں اولاد کو ملک وقوم کی امانت نہیں بلکہ بہت عرصہ تک اپنابچہ ہی سمجھا جاتا ہے اوربچہ بھی اسی میں خوش رہتا ہے کہ میں معصوم ہوں لہذا بڑا کام کرنے سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ نور بصیرت جن ذرائع سے سمجھہ آتا ہے یعنی صبر مطلب کہ جمے رہنا, حکمت یعنی صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھہ,  تزکیہ نفس مطلب کہ غیر ضروری باتوں اور کاموں سے اجتناب, تفکر, یقین۔۔۔ اسکے لئے وقت کس کے پاس ہے۔۔۔

البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں کچھہ نہ کچھہ نوجوان اتنی مایوسیوں اور بند ماحول میں بھی خود ہی اپنے لئے زندگی کاراستہ چن لیتے ہیں اور اسطرح اکثر دوسروں کے لئے بھی زندگی آسان کردیتے ہیں۔۔۔

توہین رسالت کے ذکر پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا نام یادآجاتا ہے اور ساتھہ ہی ممتاز قادری, جس نے کچھہ ملاؤں کی جوشیلی تقریریں سن کر اقدام قتل کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ ملازمت تو حکومت کی کررہا تھا مگر اسکی وفاداریاں مولویوں کے ساتھہ تھیں, اس نے اپنی عقل, اپنے جذبات, اپنے اعمال کو اپنے عالموں کے اختیار میں دے رکھا تھا۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملا دوسروں کو تو جوش دلاتے ہیں لیکن خود کوئی ایسا کام نہیں کرتے۔۔…۔ اور جو انکی تقریریں سن کر قانون ہاتھہ میں لے اسے جنتی قرار دے کر لوگوں کو اسکے پیچھے لگا دیتے ہیں۔۔۔

ہماری فلم انڈسٹری اوراردو ادب کےکچھہ لکنے والوں نے بہت پہلے سے اس سوچ کو عام کیا ہوا ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر خودانتقام لینے والا اور اس کے لئے قانون کو توڑنے والا عوام کا ہیرو ہوتا ہے۔۔۔

شاید اسی عام تاثر کی وجہ سے ہمارے ہاں کے ہر مردوں عورتوں کو اپنی غلطیاں, اپنے جرائم جسٹفائے کرنے کی عادت ہوگئ ہے۔۔۔ اور شاید اسی لئے ممتاز قادری کا جرم ہمیں نظر نہیں آرہا۔۔۔

توہین رسالت کا قانون ہونا چاہئے اس میں تو کوئی بحث ہی نہیں۔۔۔ لیکن توہین کے مجرم کو بغیر وارننگ قتل کرنا, تعلیم سے ہٹانا, ڈرانا دھمکانا, گھریا علاقے سے نکال دینا۔۔۔ کونسا اسلام ہے۔۔۔ کیا اسلامی طریقہ یہ نہیں کہ اسے عدالت میں لےجایا جائے, اسکی بات سنی جائے, اسکو بحث کرنے کاموقع دیا جائے۔۔۔ کیا پتہ وہ توبہ ہی کرلے۔۔۔

ویسے بھی اسلامی تعلیمات کامقصد انسانوں کی اصلاح کرنے کا موقع دینا ہے, فورا سزانہیں۔۔۔ اور پھراگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے رسول کی, قرآن کی عزت کرے تو پھر وجہ بھی توفراہم کریں۔۔۔۔

ویسے کیا مولوی ہونے کے لئے ضروری کہ وہ مسکین, دوسروں کی خیرات زکواہ پر پلنے والا, محدود سے علم والا, بے ڈول روتا پیٹتا شخص ہو۔۔۔ یا پھرایک خاص لباس پہنے, گردن اکڑائے, اپنی کرسی پر بیٹھہ کر دوسرے فرقوں کی برائیاں نکالنے والا, لوگوں کے عام مسائل سے ہٹ کراپنی خانقاہوں اور آستانوں پردکانداروں کی طرح بیٹھہ کرگاہگوں کا انتظار کرنے والا بے ڈول کوئی شخص ہو۔۔۔ آخر مولوی کوئی نارمل انسان کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ سوال کرے, سوال سنے, جواب دے, جواب لے۔۔۔

 

Is current educational process in private schools worth spending money on it?

How many O’ Levels students have completed their A’ Levels since it’s introduction in Pakistan?  How many of them have really achieved what they wanted?

ایک اہم بات ہے اوروہ یہ, کہ طلبہ کو خود بھی پوچھنا اورسوچنا چاہئے۔۔۔ کہ بی اے میں دو سال کے لئے ایجوکیشن اور پھر مزید بی ایڈ کے لئے دو یاتین سال کی پڑھائی کا مقصد کیا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں جتنی دیر لگتی ہے رزلٹ آنے اور تعلیمی سال شروع ہونے میں, تو چار پانچ سال کے بجائے تقریبا سات سال لگ جاتے ہیں۔۔۔ بی اے سال اول کی طالبعلم جوعموما اٹھارہ انیس سال کی ہوتی ہے, بی ایڈ کرنے تک پچیس چھبیس کی ہوجاتی ہے۔۔۔ اکثر تو اس دوران اس کی شادی ہوجاتی ہے اور ملازمت اسے گھر اور بچوں کے لئے کرنی پڑتی ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عام پرائیویٹ اسکولوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس لڑکیاں کم تنخواہ پر رکھہ کر کام چلایا جاتا ہے۔۔۔ لڑکے شاید ہی ایجوکیشن میں آتے ہوں گے۔۔۔

پھر یہ کہ دوسال ایجوکیشن پڑھنے کے بعد ان میں کیا صلاحیتیں پیدا ہوئیں کیا وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ۔۔۔ آزادانہ اور مثبت سوچ رکھتے ہوں۔۔۔ کسی بھی موضوع پر لکھہ سکیں یابحث کرسکیں۔۔۔ پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرسکیں۔۔۔  کسی بھی درجہ کے بچوں کو نتیجہ خیز بنیادی تعلیم دے سکیں۔۔۔ تعلیمی نظام میں جو غلطیاں ہیں انھیں تبدیل کرسکیں۔۔۔

آج تک کےبحث ومباحثوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج تک ہم نے اپنے نظام تعلیم کی ناکامی کا صرف ایک اندازہ لگایا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ شاید ہم مغربی دنیا کے نظام تعلیم کو نہ صحیح سمجھہ پائے اور نہ رائج کرپائے۔۔۔ نتیجہ کے طور پہ ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو یا تومغربی دنیامیں کامیابی حاصل کرچکے ہوں یا کم از کم اسکے حق میں بول سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اندازہ نہ لگا پائے کہ یہی تو ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے۔۔۔

دوسری اہم سوچنے والی بات یہ ہے۔۔۔ کہ ہمارے ایجوکیشن/ تعلیم کے سلیبس میں حسب عادت غیر ملکیوں کے نظریات کے علاوہ دارلعلوم دیو بند, علی گڑھ تحریک, ندوہ العلماء وغیرہ کا ذکر ہے لیکن کہیں بھی ابوعلی الحسین ابن عبدالله ابن سینا اور ابن طفیل کے نام کا ذکر نہیں جنکے نام خاص طور پرایجوکیشنل فلاسفی یعنی فلسفہ تعلیم کے موضوع پر مغربی دنیا میں افلاطون اورارسطو کے ساتھہ آتے ہیں۔۔۔ بو علی سینا نے مونٹیسوری اور یوتھہ کی تعلیم کے اصول وضع کئے۔۔۔ ہم جانتے نہیں۔۔۔ یہ مسلمانوں پر ظلم نہیں تو کیا ہے۔۔۔ ایجوکیشنل سائیکا لوجی کی انگلش کی کتاب (جسکو ڈاکٹر عبدالرؤف نے لکھا ہے جو کہ کافی ڈگریز ہولڈر ہیں) سے اسلامی حوالہ جات غائب ہیں۔۔۔ ایجوکیشن کی انگلش میں کورس بک کا سائز ہے تقریبا پانچ انچ بائے   تقریبا سات انچ اور کل صفحات کی تعداد ایک سو چونتیس۔۔۔ گو کہ اس میں امتحانات میں آنے والے عام سوالات کے جوابات  موجود ہیں اور طلبہ نے صرف رٹا لگانا ہے۔۔۔  لیکن طلبہ کے تعلیمی رجحان کے لحاظ سے تو یہ چھوٹی کمزور سی کتاب بھی بہت موٹی ہے۔۔۔

عربیوں نے اپنے مفکرین کے مجسمے بنا کر انکو خراج تحسین پیش کیااورہم ایک علامہ اقبال کی قدر نہ کر سکے۔۔۔  البتہ ہمارے سیاستدانوں نے افتتاحی تختیوں کی یا پھر چوک پر پتھر سے بنے آرٹ کی شکل میں اپنی نا اہلی کے ثبوت ضرور چھوڑے ہیں۔۔۔ کراچی میں جگہ جگہ نصب ملیں گی۔۔۔  میں اسے کہتی ہوں اپنی زندگی میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے کتبے لگانا۔۔۔ کیونکہ یہ تختیاں ہوتی ہیں جن پر انکے کل کارناموں کی تاریخ لکھی ہوتی ہےانھیں اپنی قوم سے تو توقع ہوتی نہیں کہ وہ انھیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےاور سچی بات ہےکہ ۔۔۔ جس قسم کے نظام تعلیم کی پاکستان میں ضرورت ہے اس کے لئے ماں اور باپ تو اگلےسو سال تک راضی نہیں ہوں گے,  سرپرست ہاتھہ نہیں رکھنے دینگے, ڈونرز فنڈنگ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔

پہلی چیز تو یہ پسند نہیں آئے گی کہ تعلیمی کورس سب کے لئےایک جیسا ہو, دوسرے یہ کہ لوکل سلیبس پر مشتمل ہو, تیسرے یہ کہ بچوں کو گدھا بنائے بغیر کچھہ سکھایا جائے, چوتھے یہ کہ مقابلہ بازی نہ ہو, پانچویں یہ کہ موجودہ طریقوں اور سوچ سے ہٹ کر ہو, چھٹے یہ کہ کم بجٹ کا ہو, ساتویں یہ کہ اس میں کسی کی شو شا نہ ہو۔۔۔۔۔۔

لہذا یہ تجربہ کیا جاسکتا ہے صرف یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں پر۔۔۔

شاید اسی لئے زیادہ تر رسولوں اور پیغمبروں کو والدین کے ہوتے ہوئے بھی ایک یا دونوں والدین سے دور رکھہ  کرپالا گیاہو۔۔۔

ان یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نیوٹرل ہوتے ہیں۔۔۔ اگرانھیں اچھائی کی طرف راغب نہ کیا جائے تو خودبخود برائی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔۔۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ معاشرے کے خلاف انتقامی جذبات و خیالات بھر کر ان کو اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور معاشرے پر کس بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں اسکی مثالوں سے صرف پاکستانی معاشرہ نہیں بلکہ ساری دنیا بھری پڑی ہے۔۔۔

نظام تعلیم میں سے ذرا دیر کو تربیت اورتنظیم والاحصہ نکال دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہماری زندگیوں سے تو یہ عرصہ دراز سےغائب ہی ہے اور والدین سمیت کوئی اس میں ذاتی طور پر اورعملی طور حصہ لینے پرتیار نہیں۔۔۔ بلکہ شاید وزارت تعلیم سے بھی اسکا مطالبہ کرنے پر تیارنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میرے حساب سے جو کچھہ وزارت تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ہے لکھنا اور پڑھنا سکھانا اور حساب کتاب کی سمجھہ بوجھہ پیدا کرنا۔۔۔

پھر وزارت تعلیم ملک کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاملات سے بیگانہ رہتی ہے جہاں امراء ور شرفاء کےبچے کچھہ سیکھنے سکھانے جاتے ہیں۔۔۔ اور باقی جوآبادی بچی اس کا شاید دس فیصد سرکاری اسکولوں کا رخ کرتا ہوگا۔۔۔ تو اتنی کم تعداد کے لئے صرف لکھنے پڑھنے اور تھوڑے بہت حساب کتاب سکھانے کا بندوبست کرنا موجودہ تعلیمی بجٹ میں کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہے بھی تو تعلیمی بجٹ کو بلاوجہ کے اور فضول ترین بے نظیر انکم سپورٹ کے بجٹ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔۔

I don’t know why has Turkey agreed upon supporting the most useless Benazir Income Support Program in Pakistan?  Oh, I get it.  It could be the program to generate income for Benazir’s poor family.  Any country must visit Pakistan and take public opinion before responding to our official beggars.

اچھا اس بجٹ میں سے تعلیمی اداروں کی دیکھہ بھال بھی نکال دیں تو جو کام بچا وہ خیراتی اداروں میں اور یتیم خانوں میں ہو ہی رہا ہے۔۔۔ لہذا پاکستان میں کم از کم دس سال تک وزارت تعلیم کی ضرورت نہیں۔۔۔

اب جو کام بچا ہے تعلیم سے متعلق, یعنی لکھنا پڑھنا گننا, اسکے لئے پورا پورا سال ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچے تو زیادہ جلدی اور اچھا نتیجہ دے سکتے ہیں۔۔۔

اپنے ملک کا جو بیڑہ ہم سب نے مل کرغرق کیا ہے۔۔۔ اسکو دیکھتے ہوئے اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ بھلا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔ ملازمتیں تو پہلے ہی کہیں نہیں ہیں۔۔۔

بہت آسانی سےسمجھہ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ پرائیویٹ اسکولوں کالجوں والے یا تو ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر تے ہیں یا پھر پرائیویٹ اداروں کے درمیان گھومتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں کالجوں میں جائیں بھی تو مقصد کچھہ دینا نہیں ہوتا بلکہ آسان ملازمت اور حکومتی مراعات کا حصول ہوتاہے, اسی لئے ان سے بہت امیدیں رکھنا فضول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری اور خیراتی اسکولوں اور اداروں میں تھوڑ ے بہت ہی سہی پڑھے لکھے باشعور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ فٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔

اس کے علاوہ بھی ذرا دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سے مسلمان ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک بھی پاکستان سےبد تر حالت میں ملیں گے۔۔۔ پڑھنے پڑھانے والوں کے لئے ہر ملک کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں اسکی کچھہ شرائط ہیں۔۔۔ ایک صبر یعنی جلد بازی نہ کرنا۔۔۔ دوسرا قناعت یعنی بہت زیادہ کی توقع نہ رکھنا۔۔۔ تیسرا تسلسل کے لئے مستقل جگہ اور اسباب کا انتظام ہونا تاکہ غیر متوقع حالات کا اثرنہ پڑے ۔۔۔ چوتھے, کیونکہ مستقل مزاجی سے کسی مقصد کے لئے کام کرنے والوں کی کمی رہتی ہے, اس کے لئے متبادل انتظام رکھنا۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ دو ہزار گیارہ میں بھی کسی نے مونٹیسوری اورایلمینٹری کلاسز میں وڈیوز اور کمپیوٹرز کو مستقل ذریعہ تعلیم نہیں بنایا۔۔۔ جبکہ پرائیویٹ, سرکاری اور خیراتی۔۔۔ سارے تعلیمی ادارے اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ اکثر انسانی ذرائع کا اچھا متبادل  بھی ثابت ہوتے ہیں۔۔۔

کسی نے بہت اچھی بات کی تھی کبھی۔۔۔ کہ ساری اردو الف سے ے, ساری انگلش اے سے زی/زیڈ اور سارا حساب ایک سے دس تک کے ہندسوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کم ازکم اتنی تعلیم تو کوئی بھی دے سکتا ہے اور کوئی بھی لے سکتا ہے۔۔۔ اور کتنے سال لگتے ہیں اتنی سی چیزیں سکھانے میں۔۔۔ کیا الف سے آم, ب سے بلی , آموں کی تعداد اور رنگ, بلیوں کی حرکات بتانے کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

سب سے پہلا کام تو یہ کرسکتےہیں کہ کچھہ عرصہ کے لئے تعلیمی عمل کو تین بنیادی حصوں/لیولز میں تقسیم کردیں۔۔۔  پہلے حصہ کا تعلق عمراورکسی مقررہ وقت سے نہ ہو بلکہ اسکا مقصد صرف اور صرف خود سے پڑھنے, لکھنے اور گننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو۔۔۔  ایک خاص بنیادی درجے تک  کا امتحان جو بھی جس عمر اورجس حال میں بھی پاس کرلے اسے ایک ڈگری دے دیں۔۔۔ ایسے امتحان ہر چھہ ماہ بعد لئے جا سکتے ہیں۔۔۔ معاشرہ انسانوں پرمحنت کرنے سے بنتا ہے, چیزوں پر نہیں۔۔۔ انسان صحیح ہوں تو چیزیں رفتہ رفتہ صحیح ہوجاتیں ہیں۔۔۔

اگر ایجوکیشن/ تعلیم کو نویں جماعت  سے شروع کردیں۔۔۔۔۔۔ ( جوکہ مشکل نہیں کیونکہ یہ تجربہ  بہت پہلے ہمارے اسکول میں نویں جماعت میں کیا جا چکا ہے اور وہ بھی سائنس کی کیٹیگوری میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کالج کے مزید دوسال ملا کراسے چار سال کابنادیں۔۔۔ اگر اس چار سالہ کورس میں چھٹیوں کی تعداد کم کر کے وقت اور ایام کی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھہ پڑھایاجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں۔۔۔

کیا مشکل ہے۔۔۔ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

کیا کہا حکومت نہیں کرے گی, نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت کی بات کون کررہاہے۔۔۔ یہاں عوام اور حکومت ایک دوسرے کی سنتے ہی کب ہیں اورکب پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں میں تو آج تک بھی مونٹیسوری سسٹم نہیں ہے۔۔۔ پھر یہ ہمارے تعلیمی اور معاشرتی نظام کا حصہ کیسے بن گیا کہ اس کے  بغیر سانس نہیں لیا جاسکتا۔۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔۔ پرائیوٹ, یہ ملک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر پرائیویٹلی ہی چل رہا ہے۔۔۔ آغا خان بورڈ, اسلامی فرقوں کے اسکول, حفظ کے مدرسے, او لیولز۔۔۔ کیا سرکار فنڈنگ کرتی ہے۔۔۔ تونویں جماعت یعنی چودہ سالہ بچوں کے لئے چار سال کا تعلیم کا کورس, بیس سال کی عمر میں ایک نوجوان یا  نو جوانی علم دینے کے لئے تیار۔۔۔  حکومت یہ تبدیلی لے آئے تو کیا ہی بات ہے۔۔

ویسے جہاں اتنے تجربات ہور رہے ہیں وہاں ایک اور سہی۔۔۔ مطلب یہ کہ نظام واقعی بدل دیں۔۔۔ نہیں, نہیں, بھئی کتابیں نہ بدلیں, سلیبس تبدیل کرلیں۔۔۔ نویں جماعت سے جو مضامین کا مرکب یا کامبینیشن دیا جاتا ہے سائنس, آرٹس, ہوم اکنامکس اور کامرس کا۔۔۔ وہ آج کی دنیا میں فضول ہے۔۔۔ اسکے بدلے تمام طلبہ کے لئے نویں دسویں میں تمام مضامین کا آسان تعارف یا بنیادیات لازمی کردیں۔۔۔ کالج لیول سے مین کیٹیگوریز میڈیسن/طب, انجینئرنگ, تعلیم, زراعت, ماحولیات, اور قانون کردیں۔۔۔

جو مضامین بلا وجہ آرٹس گروپ میں تھے یعنی سائیکالوجی/نفسیات, سوشیالوجی/عمرانیات, پولیٹیکل سائنس/سیاسیات, انٹرنیشنل ریلیشنز/بین الاقوامی تعلقات, اکانومی/معاشیات, لائبریری سائنس, جغرافیہ, تاریخ پاکستان, تاریخ اسلام, سوشل ورک, عربی, فارسی وغیرہ کو دو یا تین اختیاری مضامین کی حیثیت سے مین کیٹیگوریز میں شامل  کردیں۔۔۔ بلکہ کمپیوٹر سائنس, بزنس/ کاروبار, فلسفہ کو بھی ان میں شامل کردیں۔۔۔ کیونکہ یہ وہ مضامین ہیں جن کاتعلق اوپر والی تمام مین کیٹیگوریز سے ہے۔۔۔

اس طرح دوسالوں میں اگر مین کیٹیگوریز کے چھہ پیپرز ہوں تو اردو لازمی, انگلش لازمی اور چار اختیاری مضامین ملاکر کل بارہ پیپرز بنیں گے۔۔۔ یعنی ایک سال میں چھہ پیپرز۔۔۔

اگلے دوسالوں یعنی بیچلرز ک لئےاسی کا ایڈوانس لیول ہوگا۔۔۔

اس طرح پہلی سے آٹھویں جماعت, نویں دسویں اور انٹرمیڈیٹ۔۔۔ تین بنیادی درجہ یا لیولز بن گئے۔۔۔ ان بارہ سالوں کے بعد تقریبا اٹھارہ سال کی عمر ایک لڑکا یا لڑکی معاشرے میں اپنا کوئی  رول ادا کرنے کے قابل ہونگے۔۔۔

ہوم اکنامکس ننانوے فیصد لڑکیوں کے لئے ہے اور اسکے لئے میمن فاؤنڈیشن اور دوسرے پرائیویٹ ادارے موجود ہیں اور بہت اچھا کام کررہے ہیں۔۔۔ اسی طرح فائن آرٹس کے اپنے کالجزاورسینٹرز ہیں۔۔۔

حکومت کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں اس لئے انھیں ہوم اکنامکس اور فائن آرٹس پر ضائع نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

اس طرح سرکاری کالجز میں مزیدطالبعلموں کے لئے جگہ بن جائے گی۔۔۔


 

 

 

Iqbal’s Stray Reflections!

“Individuals and nations die; but their children i.e. ideas never die.” — Pakistan is Allama Iqbal’s idea, it won’t die.

“I have the greatest respect for Aristotle, not only because I (living in the twentieth century) know him much better than the older generations of my community, but also because of his vast influence on the thought of my people.”

“I confess I owe a great deal to Hegel, Goethe, Mirza Ghalib, Mirza Abdul Qadir Bedil and Wordsworth.  The first two led me into the ‘inside’ of things, the third and fourth taught me how to remain oriental in spirit and expression after having assimilated foreign ideals of poetry, and the last saved me from atheism in my student days.”

The Jewish race has produced only two great men-Christ and Spinoza.  The former was God incarnated in the Son, the latter in the universe.  Spinoza was only a completion of the greatest teacher of his race.”

 

This slideshow requires JavaScript.

 

 

 

 

عملوالصلحت Good Deeds

Just imagine why Allama Iqbal and Quaid-e-Azam focused on establishing a separate system instead of compromising with Hindus and British Govt and introducing Islam as a complete system.  Unlike mullahs and religious scholars, they didn’t emphasize on doing good deeds, charity or donations.  That is because they knew that this is the part of a human nature to help others.  Even the most evil person is satisfied when he/she helps someone.  So good deeds are a part of a human nature.  Islam just put them in order according to their nature of priority so they deliver to resolve problems on a long-term basis.

جہاں اگرچہ دگرگوں ہے, قم باذن الله۔۔۔ وہی زمین وہی گردوں ہے, قم باذن الله

قم باذن الله یعنی کھڑا ہوجا الله کے حکم سے۔۔۔۔ یہ الفا ظ تھے حضرت عیسی علیہ السلام کے جس سے وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔۔ وہ برص کے مریضوں کو ہاتھہ لگاتے تو شفا ہو جاتی۔۔۔ انکا ایک واقعہ بھی بہت مشہور ہے کہ جب ایک طوائف کو رجم کرنے کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے فرمایا۔۔۔ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی اخلاقی تعلیمات اس انتہا پر تھیں کہ فرمایا کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی پیش کردو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اتنے عظیم انسان کے ساتھہ ان کی عوام نے کیا سلوک کیا کہ جب بادشاہ وقت نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سزا سنائی تو کوئی بادشاہ کے خلاف کھڑا نہ ہوا۔۔۔ یہ صلہ دیا انھوں نے اس پاک شخصیت کا جس کو کبھی شیطان نے نہیں چھوااور جسکا معجزہ وہ دیکھہ چکے تھے کہ پیدا ہوتے ہی اس نے اپنے نبی ہونے اورماں کے پاکیزہ کردار کی گواہی دی۔۔۔۔

نیکی, بھلائی اور فلاح کے کام اخلاقیات کی تعریف میں آتے ہیں اور اسی لئے کسی بھی معاشرے کی روح ہوتے ہیں جو اسے زندہ اورمتحرک رکھتی ہے۔۔۔ اسلام نظریہ کے مطابق یہ حقوق العباد کا حصہ ہیں۔۔۔ اور الله عزوجل کی عبادت یعنی حقوق الله کا ایک جزو ہیں۔۔۔

اسلام میں, عملوالصلحت, یعنی اچھے اعمال کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔ اور سورہ العصرمیں بیان کی گئی ان چارنجات کی شرائط میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے انسان  آخرت کے خسارے سے بچ سکتا ہے۔۔۔   بلکہ قرآن میں بار بار اچھے اعمال کی نصیحت کی گئی ہے۔۔۔ اچھے عمل کرنے کرے والے لوگ ہر مذہب, ہر  قوم اور زمانہ میں پائے گئے ہیں اور پائے جاتے ہیں۔۔۔ کیو نکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔۔۔ کسی کی مدد کر کے, کسی کا پیٹ بھر کے, کسی کو خوشی دے کر دل کو سکون ملتا ہے۔۔۔ برے سے برا انسان بھی کہیں نہ کہیں کسی کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔۔۔ اکثر لوگ اپنے گناہوں کے کفارے کے طور پر بھی نیک کام کرتے ہیں۔۔۔ نبی کریم محمد مصطفے صلی الله علیہ والہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے گو کہ ساری دنیا جہا لت اور گمراہی میں مبتلا تھی لیکن نیکی کا تصور موجود تھا۔۔۔ مکہ کے مشرکین بھی غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔۔۔ کعبہ کی زیارت کرنے والوں کو پانی پلاتے تھے۔۔۔ ایسے کام برے سے برے معاشرے میں بھی ہو رہے ہوں تو ایک تسلی اور امید بنے رہتے ہیں۔۔۔ لہذا نیکی کے اس فطری عمل کو رکنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔

نیک کام کرنا اتناآسان بھی نہیں ہوتا۔۔۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل جمع کرنا اور صاحب حیثیت لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنا, وسائل کی تقسیم اور فراہمی میں تسلسل… اور ان سارے کاموں کو بلا معاوضہ رضاکارانہ طور پرانجام دینے کے لئے وقت نکالنا۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھہ چٹکی بجاتے نہیں ہوجاتا۔۔۔۔ جو لوگ اچھے اعمال کر رہے ہوتے ہیں ان ہی کا دل جانتا ہے کہ وہ کن مشقتوں سے گذرتے ہیں۔۔۔

لوگ اچھے کام اپنی مالی حیثیت, جسمانی طاقت, سمجھہ اور صلاحیت کے مطابق کرتے ہیں۔۔۔ اس لئے ان کا یا  ان کے کاموں کا آپس میں مقابلہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ بہت سے لوگ انفرادی طور پر پریشان حال ناداروں کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ ان پڑھ لوگوں کی تعلیم ک انتظام کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ بیماروں اور معذورں کا سہارا بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کچھہ لوگ جماعت, تنظیم یا اداروں کی صورت میں تھوڑے بڑے پیمانے پر فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں۔۔۔ عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنھ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے دائرے میں یہ سب ہی نیکی اور بھلائی میں مصرف ہیں۔۔۔۔


 کیا نیکیاں معاشرے میں کوئی اجتماعی تبدیلی لاتی ہیں۔۔۔ 

امریکہ اور مغربی دنیا کو ہمارے ہاں زنا, بے حیائی, شراب, جوئے کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔۔۔ تو دوسری طرف ہم انسانیت کے لئے بھی انھیں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔۔۔ بھارت میں مدر ٹریسا نے عملی طورپر جتنے اچھے کام کئے, گاندھی اور نہرو نے بھی نہیں کئے ہوںگے۔۔۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی کے نیک کاموں کی فہرست بنانے بیٹھہ جائیں تو سال بیت جائے۔۔۔ الله کے اولیاء اور ہزاروں سوشل ورکرز اور فلاح وبہبود کے اداروں سے بھری ہوئی سر زمین پاکستان میں ہر دن بے گھر, غیر تعلیم یافتہ, بیمار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔۔۔   مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کی حالت پر نظر ڈالیں۔۔۔  کیا نیکیوں کے نتیجے اسی طرح نکلتے ہیں اور اچھے اعمال کرنے والوں کے معاشروں کا یہی حال ہوتاہے۔۔۔

اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ شاید نیک کام کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں۔۔۔ دنیا کے برے حالات میں نہ تو نیک کام کرنے والوں کی نیت کا قصور, نہ ہی وہ اسکے ذمہ دار ہیں۔۔۔ بلکہ یقینا وہ ہربرے حالات میں امید کی کرن ہوتے ہیں جو مظلوموں اور ناداروں کو حوصلہ دیتی ہے۔۔۔ انھیں جینے کے لئے جسمانی طاقت فراہم کرتی ہے۔۔۔

لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ کہ پاکستان خصوصا دنیا کا سب سے زیادہ عطیات دینے والاملک ہے۔۔۔  اوربدحالی کا یہ حال کہ روزانہ لوگ خود کشیاں کرہے ہیں۔۔۔ خوف, بھوک, جہالت۔۔۔ جبکہ صدقات تو بلاؤں کو ٹالتے ہیں۔۔۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہے۔۔۔

دنیا میں ایک لاکھہ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اخلاقی تعلیمات کے ساتھہ۔۔۔ ان میں سب انبیاء لیکن کچھہ رسول بھی تھے۔۔۔ کتنے ہی نبییوں کو قتل کیا گیا, سولی چڑھایا گیا, آرے سے چیرا گیا۔۔۔ جبکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کا نیک ترین اور مخلص ترین انسان تھے جسکی گواہی خود انکے اپنے لوگ دیتے تھے۔۔۔ کیا ان نبیوں کا خلوص اور بھلائی انکی قوم کی سوچ تبدیل کرسکا۔۔۔ انھیں انکے ظالم حکمرانوں کے ظلم سے نجات دلا سکا۔۔۔ حضرت موسی علیہ السلام نبی بھی تھے اور رسول بھی کیوں کہ خدائی قوانین ساتھہ لے کر اترے تھے۔۔۔ انھوں تو بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات بھی دلادی۔۔۔ لیکن انکی عوام کی سوچ آزادی نہیں, بلکہ ننانوے فیصد آبادیوں کی طرح روٹی کپڑا اورمکان تک محدود تھی۔۔۔ انجام یہ کہ الله نے انھیں بھٹکا دیا۔۔۔

رسول صلی الله علیہ وسلم نےخلافت مدینہ کے بعد غزوات کئے, جن میں مسلمان شہید اوربچے یتیم ہوئے۔۔۔ کیا آپ نے کوئی فلاح وبہبود کا کوئی ادارہ بنایا انکے لئے۔۔۔ بعد میں چاروں خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی اس کی کوئی مثا ل نہیں ملتی۔۔۔ اس پورے عرصے میں مالی امداد اوراخراجات کا مرکز بیت المال ہوتا تھا۔۔۔ اور حکومت جو کہ ایک مرکزی نظام ہوتی ہے, بیت المال اس نظام کا حصہ ہوتا تھا۔۔۔

عبدالستارایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنہ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  خیراتی ادارے جس نام سے بھی موجود ہوں یا جتنی عظیم شخصیت نے کھولے ہوں۔۔۔ وہ معاشرے کے بدحال افراد کو برے حال سے وقتی طور پر بچا تو سکتے ہیں لیکن کبھی شخصیات پیدا نہیں کرسکتے۔۔۔ کیونکہ ذہنی طور پر یہ افراد ایک دباؤ کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم دوسروں کے وسائل پرپلے بڑھے ہیں۔۔۔ ان میں وہ اعتماد نہیں ہوتا جو ایک خاندان میں آزادنہ طور پرپلے لوگوں کی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے۔۔۔

جب کسی ملک کے فلاح وبہبود اور امدادی کام مرکز سے ہٹ کر نیکی کے نام پہ عوام کے ہاتھہ میں آجائیں تو عوامی دولت اورعوام  کی توجہ, دونوں کئی حصوں میں  تقسیم ہو جاتی ہیں۔۔۔ عوام کی توجہ اور دولت وہ طاقت ہیں جو تقسیم ہوجائیں توحکومتی عہدیداروں کو قومی خزانہ لوٹنے کے بہترین مواقع مل جاتے ہیں۔۔۔  حکمران مطمئن رہتے ہیں کہ چلوعوام آپس ہی میں کچھہ کرکرا کے مسائل کا حل نکال لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ غریب, محروم, ضرورت مند لوگوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک آسان راستہ ہاتھہ آجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ  خود کو بے بس اور مجبور سمجھتے ہوئے حکومت سے الجھنے یا  ٹکرانے کے بجائے فلاحی اداروں کے در پر جا پڑتے ہیں۔۔۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے لوگ جو کمانے کے قابل ہیں ان پر بوجھ بڑھہ جاتا ہے۔۔۔ ایک طرف وہ فرض کے نام پر ٹیکس د یتے ہیں تودوسری جانب نیکی کے نام پر سینکڑوں کو پالتے ہیں۔۔۔

نیکی اور بھلائی کے کام, فلاحی منصوبے, صدقہ وخیرات۔۔۔ یہ سب آخرت میں پھل دیتے ہیں یا پھر دنیا میں انفرادی فائدے۔۔۔ یہ توقع کرنا کہ مفت نیکیاں کرتے رہو ای دن لوگ اچھے ہو جائیں گے, لوگوں کا مفت پیٹ بھرتے رہو ایک دن بھوک مٹ جائے گی, مفت علاج کرتے رہو بیماریاں ختم ہوجائیں گی, مفت تعلیم دیتے رہو جہالت ختم ہوجائے گی۔۔۔ آج تک نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔۔۔  نیکی اور بھلائی کو نظام بننے کے لئے قانون اوراس کو نافذ کرنے والے قوت بازو کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جبکہ ہم نےعملوالصالحات یعنی نجات کی آخری شرط کو اسلام کا مکمل نظام سمجھہ لیا ہے۔۔۔

اگراب بھی بات سمجھہ نہیں آئی تو سوچیں کہ ۔۔۔ فلاحی اور خیراتی اداروں کی تعداد میں اضافہ, انکے عطیات اور چندہ کی رقم میں اضافہ, ان کے در پر آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا معاشرے کے بہتر ہونے کی علامت ہے یا بدتر۔۔۔ کیا یہ اطمینان کا مقام ہے یا فکر کا۔۔۔ کیا اس طرز نیکی کی زیادتی سے مستقبل میں قوم کے معمار پیدا کئے جاسکتے ہیں یا حسب عادت ایک مسیحا کاانتظار کرنے والے ۔۔۔۔۔۔ 

کیوں آخر محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم ہی صرف تیئیس سال کےعرصے میں وہ  نظام قائم کرسکے جس  میں لوگ بھوکے مفلس تو تھے, بھکاری نہیں تھے۔۔۔ ایک بہتر زندگی زنگی کے خواہشمند تو تھے لیکن دوسروں کی جان, مال اورعزت کی قیمت پر نہیں۔۔۔ جہاں حضرت بلال کو اسلام لانے کے بعد بھی وہی تکلیفیں سہنی پڑیں اور فاقے برداشت کرنے پڑے جو امیہ کی غلامی میں تھے لیکن اب وہ آزاد تھے اور  اپنی مرضی سب کچھہ برداشت کرتے تھے, ذلت سے نہیں۔

سلام ہوعرب کے ان غلاموں اور ان پڑھ  لوگوں پرجنھوں نے چودہ سو سال پہلے اسلام کے مرکزیت کے تصور یعنی ۔۔۔ لاالہ الا الله ۔۔۔ کو سجھا اور آپس میں تفرقہ پیدا کرنے والی ہر دیوارگرادی۔۔۔

یہ نظام روٹی, کپڑا, مکان, ذاتی پسند, ذاتی زندگی اور مقابلے کےفلسفے سے شروع نہیں ہوا تھا۔۔۔  بلکہ ایک اجتمایت, مرکزیت اور کسب حلال کے تصور سے شروع ہوا۔۔۔ جہاں چندہ عوام کی ضروریات زندگی نہیں بلکہ قوم کے دفاع کے لئے مانگا جاتا تھا۔۔۔

 یہ دولتمند لوگوں کے لئے, محنت سے کمانے والوں کے لئے نہ صرف فکر کا مقام ہے بلکہ انکے خوشحالی مستقبل کا سوال بھی۔۔۔۔ اگر ہم نے فلاح وبہبود کے اس تصور کو نہ سمجھا اور ان اصولوں کو نہ اپنایا جو اسلام نے سکھائے ہیں۔۔۔ تو آنے والا دور بھوک مفلسی اور جہالت میں اضافہ ہی لےکر آئے گا۔۔۔

 صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی کچھہ احادیث کے مطابق ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ مسلمان زکات دینے کے لئے مستحقین کو ڈھونڈیں گے اور کوئ زکات لینے والا نہ ملے گا۔۔۔ یہ دنیا کی خوشحالی کا دور ہوگا۔۔۔۔ 


Secularism, Islam and Pakistan

خدایا آرزو میری بھی یہی ہے۔۔۔ علامہ اقبال کا نور بصیرت عام کردے۔۔۔ آمین۔۔۔

Secularism:  George Jacob introduced the term ‘secularism’ which  separates religion and state and states religion as a personal matter.  That is that religion has nothing to do with the state affairs.  The state affairs or government should be run merely on non-religious basis and by political process which is through people’s will and their opinion.

Secularism sets some rules that are acceptable for all majorities and minorities and can guarantee peace and harmony in society; such as to respect individuals and minorities, equality of all people, each person is free to reveal their potential, breaking down of the barriers of class and caste.  People helping each other and other creatures is the criteria for goodness.

Secularism does not argue about the existence or non-existence of God, life after death and the judgement in the hereafter.  It believes that even if there is a God and He has created everything, He has secluded Himself from all worldly affairs.  God’s likes and dislikes is not the matter of discussion in this kind of system.  It is a system that is based on the concept of humanity.  People choose skillful people among them to work for their betterment according to their likes and dislikes.

So who would like to be attracted to a secular system?  1- Athiests- Those who deny that there is a God and believe that universe came into existence by itself and continues to exist due to evolutionary process.  2- Disbelievers- Those who believe in the God but reject the idea His interference in worldly matters.  3-Polytiests- Those who believe in God but do not accept Him as a sole power.  So they associate things or people as His aid. 4-Secular-Those who believe in God but reject any guidance or guideline from Him.  They want to live their lives according to their likes and dislikes.  5-Misguided-Those who believe in God but celebrate His religion as timely rituals as prescribed by their preachers or scholars.  They don’t take it as a complete way of life.  6-All minorities who like to remain the part of any system or to their particular boundaries because for them it is a neutral system and it can protect their rights.

Secularism or “no religion” in fact has the third highest number of followers after Christianity and Islam.

 سیکیولرازم۔۔۔ یہ اصطلاح ایک برطانوی مصنف کی ایجاد ہے۔۔۔ ایک ایسا نظام حکومت جس میں مذہب اور سیاست الگ الگ ہو۔۔۔ مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہو۔۔۔ اورریاستی یا اجتماعی نظام لوگوں کی اکثریت کی پسند یا ناپسند کے مطابق ہو۔۔۔ جہاں عوام اپنی پسند کے نمائندے منتخب کریں جو انکی اکثریت کی رائے کے مطابق قوانین بنائیں۔۔۔ سیکیو لرازم کا سارا نظام انسانیت کے فلسفے کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ انسان ہی ان قوانین کو پر کھیں, ترمیم کریں اور پھر نئے قوانین بنائیں۔۔۔ لیکن ساتھہ ساتھہ مذہبی لوگوں کو انکی عبادت اوررسم ورواج کو جاری رکھنے کی آزادی ہو۔۔۔

دنیا میں مذہب کا تصورعموما یا تو خدا کی طرف سے  بھیجے گئے پیغام, قوانین یا اصول زندگی کا ہوتا ہے یا پھر کسی نیک شخص کی دی گئی اخلاقی تعلیمات کا ہوتا ہے, ایسا شخص جس نے ساری دنیا سے الگ ہوکر دنیاوی معاملات سے بے خبرسادہ زندگی گذاری ہو۔۔۔ اور اسکی تعلیمات نسل در نسل اسکے ماننے والوں میں منتقل ہوئی ہوں۔۔۔ 

 سیکیولرازم میں خدا کے وجود کے ہونے یا نہ ہونے پر بحث نہیں۔۔۔ اگر خدا موجود ہے بھی تو وہ ساری کائنات بنا کرالگ بیٹھہ گیا ہے اور دنیا کے معاملات اس نے انسانوں کے سپردکردئیے ہیں۔۔۔ یہ نظام ایسے مذہب کی مخالفت نہیں کرتا جو کسی انسان کی دی گئی تعلیمات سے منسوب ہو یا جو کم از کم اسکے اجتماعی نظام کے لئے خطرہ نہ بنے۔۔۔ اسی طرح سیکیولرازم میں آخرت, مر کر دوبارہ جی اٹھنے اوراعمال کے حساب کتاب پربحث نہیں۔۔۔ اگر آخرت ہے بھی تو سب انسانوں سے اچھا سلوک کرنے کی وجہ سے جنت میں جائیں گے۔۔۔ مختصرا یہ کہ اس نظام میں خدااور اسکی پسند یا نا پسند کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔

اس قسم کی سوچ وہاں بڑی پرکشش ہوتی ہے جہاں لوگ مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے حق آزادی رائے سے محروم ہوں۔۔۔ جہاں عقیدے کوانسانوں کی اصلاح کے بجائے سزا دینےکے لئےاستعمال کیا جاتاہو۔۔۔ جہاں انسانوں کی بہتری کے کئے جانے والے کاموں کے لئے مذہبی عالم کی اجازت ضروری سمجھی جائے۔۔۔ عام لوگوں کی نظر میں مذہب کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔۔۔ لیکن اگر مذہبی اصول اور مذہبی رہنما انکی روز مرہ کے معمولات میں رہنمائی نہ کرسکیں تو وہ مذہب کو چند وقتی رسومات تک محدود کردیتے ہیں۔۔۔ اسلام سمیت دنیا کے وہ مذاہب جو خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے سمجھے جاتے ہیں آج تنگدل اور تنگ نظر مذہبی پیشواؤں کےقبضے میں ہیں جنھوں نےاپنی سوچ کے مطابق ترامیم کرکے انکی اصلی شکل بدل ڈالی ہے۔۔۔ اور عوام ان کے پیچھے چل کے فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔۔۔ 

 دنیا میں ہمیشہ سے بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود رہے جو یا تو خدا کے وجود سے ہی انکاری تھے۔۔۔ یا اسکے وجود کو مانتے بھی تھے تب بھی زمین پر اسکی مداخلت کے ثبوت مانگتے تھے۔۔۔ یا پھر زمینی  معاملات میں انسانوں کو یا چیزوں کواسکا شریک مانتے تھے۔۔۔ ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں۔۔۔ اور ایسے تمام لوگوں کے لئے بھی سیکیولرازم ایک پسندیدہ نظریہ حیات ہے۔۔۔

سیکیولر یا لادینی سوچ اس وقت عیسائیت اور اسلام کے بعد دنیا کی تیسری بڑی  طاقت ہے۔۔۔

How are Islam and secularism similar?
Islam is the religion of equality, justice and peace, the golden rules for humanity.  Honesty and truthfulness are its base for merit.  It urges people to participate in community affairs and political procedure.
It allows religious minorities to practice their faith free of fear.  It prohibits its followers from insulting or terrorizing minorities.  All people regardless of any discrimination are obliged to safeguard each other’s honour, life and property.  Taking care of environment and kindness to all creatures is an act of worship.
Same is the case in secularism.
How is Islam different from secularism?
Islam is the oldest religion of the world.  It started with Prophet Adam (peace be upon him) and continued till Prophet Muhammad (peace be upon him).  All prophets were sent with the same basic message to their nations and finally Prophet Muhammad (peace be upon him) proclaimed it for the entire mankind.
Islam is the final or universal version of Christianity and Judaism.
As a belief, Islam is based upon three fundamental principles; believe in the oneness of God and His complete authority on everything, believe in the Day of Judgement and life after death, believe in the messengers of God.
Islamic teachings are close to human nature and acceptable for everyone; equality, justice and peace.
Islamic life-style is anti-secular.  It is to live according to the God’s will.  Do what pleases Him and avoid what displeases Him is the core of this faith.  People’s choice is secondary to God’s and there are certain restrictions that they must be careful about.  Piety or fear of God is the criteria for goodness.
Islam is a definite system of life, a guidance for individuals and groups.  It sets laws for religious worshiping, social life and economy.  Whereas people’s will is limited to elect the ruler and/or his team who understand the faith and Islamic laws and can assure their implementation.  (Islamic law, as widely understood, are not limited to the imposition of whom to punish and how.)

سیکیولرازم اور اسلام کے بہت سے اصول ایک جیسے ہیں۔۔۔ جیسے کہ تمام انسانوں کی برابری, عدل وانصاف اورامن۔۔۔۔ سچائی اور دیانتداری کسی کے کردار کی اہلیت۔۔۔ معاشرے یا ملک کی تعمیر اور سیاسی عمل میں عام لوگوں کی عملی دلچسپی۔۔۔ مذہبی یا علاقائی اقلیتوں کی جان, عزت اور مال کا تحفظ۔۔۔۔ جانوروں پررحم, مالیات کی حفاظت۔۔۔ وغیرہ۔۔۔

 لیکن سیکیولرازم کے برخلاف اسلام انسانی پسند یا نا پسند کو دوسرا درجہ دیتاہے۔۔۔ اسلام میں اولیت الله تعالی کی رضا ہے۔۔۔ یعنی حق رائے یا ووٹ کا استعمال بھی اس لئے کرنا کہ دین ودنیا کے تقاضوں کو سمجھنے والوں کو نظام چلانے کے لئے منتخب کرنا۔۔۔ اور یہ سب سے بڑا اور اہم فرق ہے۔۔۔

What are the drawbacks in secularism?
Secularism, with or without the concept of God, does not clarify the origin of all human beings.  It does not explain why should people of different race and colour be kind to each other.  It just assumes that a non-religious neutral leadership can bring peace to the world and assures settlements among religious groups and nations.
Now, how is it possible that some people with no religious beliefs know what people around the world want?  How can they distribute the resources equally among all nations?  How would they control the provision of necessities among all countries?  So far the world has witnessed only their failure in controlling and distribution of provisions.
 Why would someone who doesn’t believe in God’s words and just think that he is there because he was naturally supposed to be, be so kind and compassionate to build a system of equality and justice for all?  What’s the purpose of his/her kindness if he/she doesn’t believe in the accountability in the life hereafter?  While even in the worldly affairs, it is the fear of judgement which restricts people from doing wrong.
Actually the concept of goodness develops along with the concept of judgement, gain and reward.   Just trying to be good for no reason doesn’t make sense.  It more looks like people choosing smart people to use lesser people for their better life.
Should Pakistan be a secular or an Islamic state?
The solution for current problems of Pakistan is not to run it on secular basis or through Western ideal of democracy but through the principles of Islamic democracy.  Pakistan is not a Muslim’s but an Islamic State.  The nature of Islam is not to be the part of any system but to dominate the system and allow others to fit in.
In Pakistan, currently the 96% of Muslim majority is even divided into religious minorities because of the minor disputes created by their religious leaders.  As each one of them lacks the concept of ‘unified system’ but claims to be perfect and the only saviour of humanity, none of them would want to be ruled by a team who does not care about Divine Laws.
There are millions of citizens who, for being the follower of specific religious groups, don’t vote but they do expect all the goodness coming from the political side.
All religious groups should remove this division of “religion and politics”, elect their leaders and send them to parliament/shura.  This way their voice will be heard at national level and they will become the active part of the system.
What is Islamic democracy?
It is not people’s will to live by man-made laws but people’s will to elect a person who can lead the country according to Islamic rulings.  That means Muslims in different areas elect pious, wise and skillful individuals among them and then those individuals from different areas form a council or ‘shura’ to nominate and select the head of the state and then they mutually run the state affairs.  Is there anything wrong with this procedure or is it different from Western democracy?
For that, people must have enough knowledge of how to recognize and elect their best representatives.  People would have to be the witness upon each others’ life and character.  It cannot be done in a society where people mind their own business.
Get the words “seclusion and secular/secularism”.  Rahbaniyah or seclusion from social affairs in order to serve God  is another form of secularism which is a refrain from religious duties.  Islam forbids ‘rahbaniyat or seclusion’ either ways and urges each individual to play their due role in building a just and trustworthy system.
God Almighty says in Surah Ash-Shura/Council or Consultation 37-43                                                                                       “Those who avoid the greater crimes and shameful deeds, and when they are angry even then forgive; Those who hearken to their Lord, and establish regular prayer;  who conduct their affairs by mutual consultation; who spend out of what We bestow on them for sustenance; And those who, when an oppressive wrong is inflicted on them, (are not cowed but) help and defend themselves.  The recompense for an injury is an injury equal thereto (in degree): but if a person forgives and makes reconciliation, his reward is due from Allah.  For Allah loves not those who do wrong.  But indeed if any do help and defend themselves after a wrong done to them, against such there is no cause of blame.  The blame is only against those who oppress men and wrong-doing and insolently transgress beyond bounds through the land, defying right and justice: for such there will be a penalty grievous.  But indeed if any show patience and forgive, that would truly be an exercise of courageous will and resolution in the conduct of affairs.”

A characteristic of a Muslim leader mentioned in Surah Al-e-Imran/The Family of Imran 159-160…. “It is part of the Mercy of Allah that you deal gently with them, Were you severe or harsh-hearted, they would have broken away from about you: so pass over (Their faults), and ask for ((Allah)’s) forgiveness for them; and consult them in affairs (of moment). Then, when you has taken a decision put your trust in Allah. For Allah loves those who put their trust (in Him).  If Allah helps you, none can overcome you:  if He forsakes you, who is there, after that, that can help you? in Allah, then, Let believers put their trust.”

 Prophet Muhammad (peace be upon him) set rules for his followers to strengthen their bonding:
“Religion is sincerity, to Allah and His Book, and His messenger, and to the leaders of the Muslims and their common folk”.
“None of you [truly] believes until his inclination is accordance with what I have brought.”
“Verily Allah has prescribed proficiency in all things.  Thus, if you kill, kill well; and if you slaughter, slaughter well.  Let each one of you sharpen his blade and let him spare suffering to the animal he slaughters.”
“Whosoever of you sees an evil action, let him change it with his hand; and if he is not able to do so, then with his tongue; and if he is not able to do so, then with his heart; and that is the weakest of faith.”
“Do not envy one another; do not inflate prices one to another; do not hate one another; do not turn away from one another; and do not undercut one another, but be you, O servants of Allah, brothers. A muslim is the brother of a muslim: he neither oppresses him nor does he fail him, he neither lies to him nor does he hold him in contempt. Piety is right here-and he pointed to his breast three times. It is evil enough for a man to hold his brother muslim in contempt. The whole of a muslim for another muslim is inviolable: his blood, his property, and his honor.”
“Whosoever removes a worldly grief from a believer, Allah will remove from him one of the griefs of the Day of Judgment. Whosoever alleviates [the lot of] a needy person, Allah will alleviate [his lot] in this world and the next. Whosoever shields a Muslim, Allah will shield him in this world and the next. Allah will aid a servant [of His] so long as the servant aids his brother. Whosoever follows a path to seek knowledge therein, Allah will make easy for him a path to Paradise. No people gather together in one of the houses of Allah, reciting the Book of Allah and studying it among themselves, without tranquility descending upon them, mercy enveloping them, the angels surrounding them, and Allah making mention of them amongst those who are with Him. Whosoever is slowed down by his actions will not be hastened forward by his lineage.”
ISLAMIC OR SECULAR PAKISTAN?

Is this a coincidence? Quaid-e-Azam’s date of birth (12/25) is celebrated as an international day of blessing as Prophet Jesus/Isa (peace be upon him) was born and his date of death (9/11) is remembered as an international mourning day as famous American Twin Towers were destroyed as a result of their own planning to kill Muslims around the world.

Let me start with this very controversial piece from Quaid-e-Azam’s famous speech which he delivered on August 11, 1947.

“You are free; you are free to go to your temples, you are free to go to your mosques or to any other place of worship in this State of Pakistan. You may belong to any religion or caste or creed — that has nothing to do with the business of the State.  We are starting with this fundamental principle that we are all citizens and equal citizens of one State. I think we should keep that in front of us as our ideal and you will find that in due course Hindus would cease to be Hindus and Muslims would cease to be Muslims, not in the religious sense, because that is the personal faith of each individual, but in the political sense as citizens of the State.”

Q1) When America says that all citizens are equal and free to go to their places of worship, does that define USA as a secular or a Christian state?  Is India a Hindu or secular state with a claim of being world’s largest democracy?  If the answer for both questions is not ‘secular’ then how can anyone derive the meaning that Quaid-e-Azam’s intention was to create a secular state against a Hindu state.

Q2) Those who understood the message of Allama Iqbal and followed Quaid-e-Azam to establish Pakistan, were they oppressed by British, Hindus and their non-Muslim allies because they were Muslims or secular?  If the answer is that they were oppressed because of being Muslims, then why would Mr. Jinnah gather them to establish a secular state?

Q3) If Quaid-e-Azam wanted to create Pakistan as a secular state, would he had faced such a harsh resistance by British and Hindus?

Q4) Why would Quaid-e-Azam change his attire from “coat and tie” to “sherwani and topi” in his late years if he wanted to remain a secular person?  (you mean to cheat Muslims like yeah, yeah, let’s create a secular state by tricking Muslims)

Q5) Why would Quaid-e-Azam (a Karachiite) return to a British occupied Sub-Continent (from British Land) and would spend time with Allama Iqbal (a Punjabi man from Sialkot) to understand his Islamic vision for the Muslims of Sub-Continent?

Q6) Does this make sense that Sub-Continent was supposed to be divided into two secular states, India and Pakistan?  Had there been any problem if Muslims had agreed to live in a state with secular supervision and with a privilige to practice their Islamic rights?

Aaaah!  The silence of intellectuals only kills reasons.  The silence of patriots kills the cause.

People who claimed they were/are educated, enlightened, liberal, moderate, non-extremist, humanity-loving, semi-religious thinkers and intellectual raised this baseless and senseless issue.  Most of the reasonable Pakistan-loving people didn’t know how to respond so they usually kept/keep quiet or totally ignore this issue.

Very grieviously, the “unnecessary silence and avoidance of real issues” is categoriezed as SHARAFAT commonly practiced in all provinces.  “Come on, you are gentle person, just avoid it yaar …. kehnay do jo keh rahay hain, apna kaam karo yahan to yehi hota hay ….. baheeee tum to jahil nahi ho, kiyon khwamakha maghaz khapa rahay ho …. abey ye sub jahil hain, behus kertay rahain gay, kuch honay wala nahi hay …. tumhain kiya pari hay is qism ki behus main ulajhnay ki, ye sub do numbri hain, bus chup ker key apnay aap ko dekho, baad main koi kaam nahi aye ga… aray wo tou bohat shareef insaan hain kisi kay mamlay main nahi boltay …. us se buch ke rehna bhai, zara lihaz nahi, apkay munh pe aap ko zaleel ker kay rukh deta hay …. pata nahi hamaray saath kiyon hota hay ye sub kuch, hum to shareef insaan hain kisi se kuch nahi kehtay, bhai apnay kaam se kaam rakhtay hain, koi bura karay ya acha, hamain kiya, phir bhi hamain hi saza milti hay ….”

Aur Pakistan ko shareefon ki sharafat nay tabahi ke nazdeek laa khara kiya.  Do we have any statistics of shareef people in our country?

We all hear many stupid suggestions like these everyday and the awkward fact is that we listen to them and obey.  The person doing nothing, is unable to respond logically, is unable to defend himself/herself wisely, stupidly nods his/her head to YES or NO, is mentally weak, avoids healthy and constructive arguments or if he/she is an oportunist – is known as a gentle/shareef person and is respect and avoided for that reason.

Just imagine!

What if Allama Iqbal had silenced himself because of the criticism even from religious side?  What if Quaid-e-Azam had not taken interest in defending Muslim’s rights from the political platform of Muslim League?  Had they all been able to establish Pakistan, the largest Islamic state and the only Islamic nuclear power in the world?

So to make things happen in one’s favour, one needs to own the cause, take interest, avoid avoiding him/herself from real issues, learn to stand up for and defend others’ rights as an obligation.

Now those who want Pakistan to be governed on secular principals must come out and show their majority.  They must show courage and declare that they are secular, they don’t believe in any religion but humanity (whatever it means).  They must also declare if they still believe or not in the existance of God.

پاکستان, اسلامی یا لا دین یعنی سیکیولر ریاست۔۔۔ ایک بےمعنی اور فضول بحث۔۔۔

بہت سے لوگ جوباتوں کو سلجھانا نہیں بلکہ الجھانا چاہتے ہیں, یا فطرتا حاسد ہوتے ہیں وہ قائد اعظم کی شخصیت, کام یا تقاریر میں خرابیاں نکالنا شروع کر دیتے ہیں یا اس کو گھما پھرا کر اپنے مطلب کا بنا کر پیش کرتے ہیں۔۔۔

ویسے اس فالتو کی بحث کا بھی یہ فائدہ ہوا کہ کم از کم یہ تو مانا گیا کہ برصغیر کے مسلمان ہندوستان کی زمین میں اپنے لئے الگ حصہ چاہتے تھے اور یہ کہ پاکستان کو وجود میں آنا چاہئے تھا۔۔۔ بحث صرف یہ رہ جاتی ہے کہ کس قسم کاپاکستان۔۔۔۔

کتنی سادہ اور آسانی سے سمجھہ میں آنے والی بات ہے کہ۔۔۔ برصغیر کو اگر تقسیم ہی ہونا تھا دو ریاستوں میں تو پھردونوں سیکیولر تو نہیں ہو سکتیں تھیں۔۔۔ اگر گاندھی, نہرو اور محمدعلی جناح سیکیولر ریاستوں کے حامی تھے اور انھیں اپنی اپنی عوام کی تائید حاصل تھی تو پھر جگھڑا کس بات پر تھا… ظاہر ہے کہ زمین کی تقسیم کی بنیاد مذہب کا ہونا تھا۔۔۔ مذہب کا نہ ہونا نہیں تھا۔۔۔ مسلمانوں نے اقلیت ہونے کے باوجود صدیوں جو حکمرانی ہندوستان پرکی وہ تو انکے ہاتھہ سے جاچکی تھی۔۔۔ باقی غیر مسلم قوتیں مل کر مسلمانوں کے مقابلے پر آچکی تھیں۔۔۔ یہ مقابلہ بھی مذہب کی بنیاد پرتھا۔۔۔ تو اس کا انجام دو غیر مذہبی ملکوں کی شکل میں کیسے نکل سکتاتھا۔۔۔

پہلی بات تو یہ کہ قائداعظم محمدعلی جناح اگر ایک سیکیولر ملک بنانا چاہتے تھے تو وہ واپس کانگریس میں کیوں نہیں گئے, آل انڈیا مسلم لیگ میں کیوں شامل ہوئے۔۔۔  یا اپنی الگ پاڑٹی بنا لیتے, شیروانی اور ٹوپی پہن کر نمازیں نہ پڑھتے اور مسلمانوں کی یہ کہہ کر ہمت نہ بڑھاتے کہ مسلمان مصیبت میں گھبرایا نہیں کرتا۔۔۔

دوسری بات یہ کہ مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کا تصور علامہ اقبال نے دیا تھا اور یہ تصور دو قومی نظریہ کی بنیادپر قائم کیا گیا تھا۔۔۔ اس دو قومی نظریہ سے مراد دو مذہب پرست قومیں تھا یعنی ہندو اور مسلمان۔۔۔ علامہ اقبال نے 1930کے جلسہءالہ آباد میں ہندوستان کی تقسیم کا جو فارمولا پیش کیا تھا قائداعظم نے 1940کے جلسہ لاہور میں اسی کو قرارداد کی شکل میں پیش کیا تھا۔۔۔ اپنی طرف سے اس میں کمی بیشی نہیں کی۔۔۔ لہذا پاکستان کے اسلامی یا سیکیولر ہونے کا دارومدار علامہ اقبال کے فکرو خیالات پر ہے نہ کہ  قائداعظم کی خواہشات پر۔۔۔

اکثر لوگ دلیل کے لئے قائداعظم کی گیارہ اگست 1947 کی تقریر کے ایک حصے کا حوالہ دیتے ہیں۔۔۔ جس میں انھوں نے کہا کہ آپ اپنی مسجدوں, مندروں اور عبادت گاہوں میں آزادی کے ساتھہ آجا سکتے ہیں, ریاست کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسطرح یہ لوگ اور کچھہ تو نہیں مگراپنی کم علمی اور اپنے آپ کو احمق اور بے وقوف ضرور ثابت کردیتے ہیں۔۔۔ پہلے تو یہ کہ انھیں قائداعظم کی باقی تقریریں کیوں بھول جاتی ہیں۔۔۔ دوسرے قائداعظم کے جملے کا یہ مطلب کہاں نکلتاہے کہ اس ملک میں کسی بھی مذہب کے لوگ رہیں لیکن نظام غیر دینی یا سیکیولر ہوگا یاحکومت کسی بھی مذہب کے اصولوں کے بغیر چلائی جائے گی۔۔۔ یہ بات تو خود ہی عجیب بے تکی ہے۔۔۔ کسی بھی مذہب کے لوگ ہوں وہ اپنے اوپر جب کسی دوسرے مذہب کانظام  نہیں کرتے تو بھلا کسی بے مذہب یا سیکیولر کی حکمرانی کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔۔۔ اور وہ بے مذہب شخص یا سیکیولرکن اصولوں پر نظام چلائیں گے۔۔۔

قائداعظم کا دوسرا جملہ کہ۔۔۔۔۔ آپکا عقیدہ آپکا ذاتی معاملہ ہے, لیکن سیاسی اعتبار سے آپ سب ریاست کے شہری ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے بھی کہیں ظاہر نہیں ہورہا کہ یہ ایک لادینی یاسیکیولر ریاست کی بات کی جارہی ہے۔۔۔ بلکہ مذہبی آزادی تو اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔۔۔ اسلامی ریاست کی اساس عدل وانصاف اور بھائی چارہ ہیں۔۔۔ جو سب کے لئے ہے۔۔۔

اگر امریکہ مذہبی آزادی دینے کے باوجود عیسائی ملک ہو سکتا ہے, اگر بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے کے باوجود ایک ہندو ملک کہلا سکتا ہے تو پاکستان کیوں ایک اسلامی مملکت ہوتے ہوئےمذہبی آزادی نہیں دے سکتا۔۔۔ کیوں یہ تصور ذہنوں میں بٹھایا جاتا ہے کہ مذہب جگھڑوں کی بنیاد ہیں اور مذہب سے دور رہ کر پاکستان کو پرامن بنایا جاسکتا ہے۔۔۔

قائداعظم محمدعلی جناح اگر ایک سیکیولر ملک بنانا چاہتے تو کیا برطانیہ اور ہندؤں کی طرف سے انھیں اتنی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔ قائداعظم کو سیکیولر ملک بناکر کیا فائدہ حاصل ہوتا۔۔۔ کیا لاکھوں مسلمان ایک بے دین شخص کے کہنے پراتنی قربانیاں دیتے اور انھیں قائداعظم اور بابائے قوم کا لقب دیتے۔۔۔

ایک بات یہ بھی سمجھنے کی ہےکہ آخر بھارت کو پاکستان سے ہی کیا تکلیف ہے اور تقسیم ہندوستان کا الزام اور قتل وغارت کی وجہ پاکستان کو کیوں قرار دیا جاتا ہے جبکہ برصغیر کی تاریخ جنگوں لوٹ مارسے بھری پڑی ہے۔۔۔

بنگلہ دیش, بھارت ا ور پاکستان کے علاوہ کبھی نیپال اور افغانستان کے بہت سے علاقے بھی برصغیر جنوبی ایشیا کا حصہ رہے۔۔۔ تو ہندوستان کو توڑنے کا الزام بہت سے بادشاہوں پرجاتا ہے صرف قائداعظم پرنہیں۔۔۔

وہ پاکستان دشمن لوگ جو یہ الزام لگاتے ہیں کہ قائداعظم کے مطالبہ پاکستان کی وجہ سے تقسیم ہوئی اور قتل وغارت ہوا ورنہ مسلمان ایک طاقت ہوتے۔۔۔ ذرا یہ بتائیں برصغیر کی تاریخ میں امن کتنے دن رہا اور کب ایسا ہوا کہ عام عوام بےخوف وخطر, خوشحال زندگی گذار رہے تھے۔۔۔ جب سالوں مسلمانوں کی حکومت رہی تو کونسی طاقت بن کردکھادیا۔۔۔ شہزادوں نے تخت کے لئے اپنے ہی باپ بھائیوں کو قتل کیا۔۔۔  کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں کتنےلوگ ہلاک ہوئے۔۔۔ کیا وہ جنگیں جناح نے لڑوائی تھیں۔۔۔

اور واقعی اگرقائداعظم علامہ اقبال کے خواب کو پورا نہ کرتے تو مسلمانوں اور ہندؤں کے درمیان کوئی مسئلے نہ ہوتے۔۔۔ برطانیہ مسلمانوں اور ہندؤں کو خوشی خوشی مل کر رہنے کے لئے چھوڑ جاتا اور وہ واقعی خوش رہ لیتے۔۔۔

اور چلو پاکستان تو بن گیا۔۔۔ جو مسلمان پاکستان کی مخالفت کرتے تھے انھیں کون سے ہار پہنادئیے ہندؤں نے۔۔۔ بھارت میں رہ جانےوالے مسلمان ہندؤں کے ساتھہ مل کر ایک مثالی حکومت بناکردکھا دیتے۔۔۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم کیوں ڈھایاجارہا ہے۔۔۔ ہندوستان کے مسلمان بھارتی فوج کے خلاف آواز کیو نہیں اٹھاتے۔۔۔

 برصغیر پاک وہند کی کل مسلمان اقلیت کے آدھے پاکستان کی ستانوے فیصداکثریت بنے۔۔۔ اگر باقی آدھے بھی قائداعظم کا ساتھہ دے دیتے تو کام کتنا آسان ہو جاتا۔۔۔ کیا دوسری  صورت میں برصغیر پاک وہند کے مسلمان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت بن پاتے۔۔۔

انسان کو اسکی خواہش اور بھوک کے مطابق  رزق مل جائیں لیکن اسے تمیز نہ ہو اور وہ اس رزق کو ضائع کردے تو اس میں رزق دینے والے اور پکانے والے کا قصور نہیں ہوتا۔۔۔ مزدور گھر بناتے ہیں, سجاتےنہیں, سجاوٹ اور حفاظت خود کرنی پڑتی ہے ورنہ گھر ٹوٹنے اور لوٹنے کا ذمہ دار مزدور نہیں ہوتا۔۔۔

پاکستان کو ہم نے اپنی نفرتوں, جہالت, ہٹ دھرمی اورخود غرضیوں کی وجہ سے تباہ کیا۔۔۔ اس میں نہ علامہ اقبال کاقصورنہ قائداعظم کا۔۔۔