B.A. Notes in Urdu

 

اردو نوٹس بیچلرز کے لئے۔۔۔ بیچلرز انگریزی کا لفظ ہے جسکا مطلب ہے کنوارا۔۔۔ اسکو چودھویں سال کی ڈگری کا نام کیوں دیاگیا اور پاکستان میں اسکا مقصد سمجھہ نہیں آتا۔۔۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ کچھ لیولز ہونے چاہئیں انکا کوئی بھی نام رکھا جائے, کوئی بھی کسی بھی عمر میں جو لیول پاس کرے اسکو وہ ڈگری دے دیں۔۔۔

کیونکہ تعلیمی عمل کو چودہ سال تک کھینچنے کے لئے خواہ مخواہ کا سلیبس بنایا جاتاہے,  کون کتابیں لکھ رہا ہے, کیا لکھہ رہا ہے, کون سے اسباق ہیں اور انکا موضوع کیا ہے… کچھہ چیزیں پہلی کلاس سےایم اے تک پڑھائی جاتی ہیں مگر پھر بھی طالبعلم نہ انھیں سمجھتے ہیں نہ ان پر بحث کر سکتے ہیں… مثلا تاریخ پاکستان, نظریہ پاکستان, اردو ادب, انگلش لٹریچر۔۔۔

ہر نئی نسل نئی حکومت کی طرح برے نظام کی وجہ اپنے سے پہلوں کی غفلت کو قرار دیتی ہے۔۔۔  لیکن نئی نسل یہ بھول جاتی ہے کہ پچھلی نسل کی غفلت کی وجہ نئی نسل ہی ہوتی ہے۔۔۔ ہر نسل کے لوگ جب اپنی اولادوں کے لئے خود غرض ہو جائیں, دوسروں کاحق ماریں, جھوٹے دستاویزات بنوائیں, رشوت لیں, رشوت دیں۔۔۔ تواگلی نسل کو جینے کے لئے صرف ایک  جرائم پیشہ معاشرہ ہی ملتا ہے جسکے حصہ دار خود انکے گھر اور خاندان کے لوگ ہوتے ہیں۔۔۔

ویسے بیچلرز کی ڈگری کا مقصد کیا ہوتا ہے۔۔۔ پہلی جماعت سے بیچلرز تک چودہ سال اور مونٹیسوری سے سولہ سال بنتے ہیں۔۔۔ اور بیچلرز کی ڈگری لینے والے کی عمر انیس بیس اکیس سال کی تو  ضرورہو گی۔۔۔ تو ایک انسان کے پچے یا بچی کو سولہ یاچودہ سال کے مسلسل تعلیمی عمل کے بعد کس قابل ہو جانا چاہئے۔۔۔ کس حد سمجھدار اور باشعور ہو جانا چاہئے۔۔۔  کس قسم کی باتیں اسے سمجھہ آجانی چاہئیں۔۔۔ کس حد تک فیصلے کرنے اور انھیں نبھانے کی اہلیت ہونی چاہئیے۔۔۔ مذہبی, سیاسی, قانونی اورسماجی مسائل کی کس حد تک سمجھہ ہونی چاہئے اور انکو حل کرنے میں کیا کردار ہونا چاہئے۔۔۔۔ کس مضمون پر کتنا عبورہونا چاہئے۔۔۔ کیا مضامین کی کومبینیشن آج کل کے حساب سے ہے۔۔۔۔ کیا بیچلرز کی ڈگری طلبہ وطالبات کو موجودہ دور اور حالات کے حساب سے ملازمتوں یا کاروبار کے لئے تیار کرتی ہے یا اسکا مقصد یہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اگر ملازمت یا کاروبار کے لئے تیاری نہیں تو پھر چودہ یا سولہ سال سات آٹھہ گھنٹے گھر سے باہر گذارنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔

ہمارے بچے ساتویں نہیں تو آٹھویں جماعت سے تو ضرورعشق ورومانس کی باتیں سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ اور بہت اچھی طرح والدین, ٹیچرز, محلے والوں کو چکر بھی دے دیتے ہیں۔۔۔اسکے لئے انھیں کسی ٹریننگ یا استاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔ اور اس طرح پانچ چھہ سال میں اس فیلڈ کی اونچ نیچ کو خوب سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔ لیکن باقی معاملات کے معاملے میں نہ صرف وہ بچے بنے رہتے ہیں بلکہ ایک حد تک خود کو احمق, بے وقوف اور ناکارہ بھی ظاہر کرتے ہیں۔۔۔ اکثر والدین, رشتہ دار یا دوست وغیرہ بھی انھیں اسی قسم کی خصوصیات کا احساس دلادلا کر معصوم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔

 چودہ یاسولہ سال زندگی کا ایک بہت بڑا اوراہم حصہ ہوتے ہیں۔۔۔ اتنےعرصے تو جانوروں کو ٹریننگ دی جائے تو وہ بھی قابل توجہ کام سر انجام دینے لگتے ہیں۔۔۔ بلکہ وہ کام اس حد تک ان جانوروں کی فطرت کا حصہ بن جاتے ہیں کہ انھیں جنگل میں چھوڑ دیا جائے تو ان کی کمیونٹی انھیں قبول نہیں کرتی۔۔۔ اور نہ ہی وہ خود جنگل کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو پاتے ہیں۔۔۔ ساتھہ ساتھہ ایسے جانور اپنے مالک کےلئے کمائی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔۔۔ اپنے مالک کے ایک اشارے یا منہ سے نکلنے والے ایک لفظ سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔۔۔

اب ذرا بیچلرز ڈگری کے خواہشمند یا وہ جو یہ ڈگری حاصل  کر چکے ہیں اپنا موازنہ ان جانوروں سے کریں, اس میں سرکس کے جانور بھی شامل ہیں۔۔۔ کہ کیا سیکھا اور کیاکرنے کے قابل ہیں۔۔۔

اردو زبان کے اصل مجرم کون ہیں۔۔۔ وہ جو خود تو بڑے اردو ادب کے ستون کہلائے مگر اپنی اولادوں کوانگریزوں کا پرستار چھوڑ گئے۔۔۔ وہ جنھوں نےقوم کو یہ سوچ دی کہ اردو زبان میں عشق ومحبت کے قصے سنائے جاسکتے ہیں, انتقام و نفرت و سازشوں سے  بھر پور اسکرپٹس لکھے جا سکتے ہیں, فتووں سے بھری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔۔۔ لیکن ملک وقوم کی کی ترقی کا کام نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ یا وہ جو اپنی اولادوں کو باہر کی یونیورسیٹیز میں پڑھاتے ہیں مگرقوم کو اردو کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ یا خود ساری عوام جو نہ بولنے کو تیار, نہ سننے کو, نہ کچہ کرنے کو۔۔۔

ہمیں کیوں اپنے اس جرم کا احساس نہیں ہوتا کہ ہرایرے غیرے کو اسکول کھولنے کی اجازت دے کر, ہر قسم کا سلیبس باہر سے درآمد کر کے, اپنے میں سے ہی اٹھے ہوئے مجرمانہ ذہنیت کے استادوں استانیوں کو تعلیمی اداروں کوبرباد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرکے ہم نے اپنے ہی بچوں کا مستقبل تباہ کیا۔۔۔

بیچلرز کے لیول کے لئے کورس کی کتابیں ضروری ہیں یا کالجز اور یونیورسٹیز میں ایک تفصیلی سلیبس دے کر طلبہ سے تحقیقی کام کروانا۔۔۔ جبکہ ایک طرف حال یہ ہے کہ تیسری چوتھی پانچویں جماعت کے بچوں کو اردو میں نظم, شعر, مضمون, کہانیاں لکھنے کو دی جاتی ہیں۔۔۔ ضروردیں لیکن اسکے لئے انھیں پڑھنے کا وقت, تیاری کا وقت دیں نہ کہ بچے ٹیوشن یا بڑوں سے چیزیں لکھوا کر نمبر حاصل کریں۔۔۔

سیاق و سباق کے ساتھہ تشریح کریں, کسی ایک شاعر, ادیب, افسانہ نگار کے حالات زندگی لکھیں یا فن پر تبصرہ کریں, کسی نظم یا سبق پر تبصرہ کریں یا خلاصہ لکھیں۔۔ سروے کرکے دیکھہ لیں کہ یہ کتنا بڑا بوجھہ ہے طلبہ پر۔۔۔ اور جب بوجھہ ہلکا کرنے کے لئے والدین, اساتذہ ہی راستے فراہم کردیں توپھرجہالت کا شکوہ حکومت سے کرنا بےکارہے۔۔۔۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ نثر میں جو اقتباسات اور شاعری کے جو حصے منتخب کئے گئے ہیں وہ کس بناء پر۔۔۔  کتاب کے آخر میں مشکل الفاظ کے معنی بھی دے دیا کریں کیونکہ سو دو سو سال پرانی اردو تو اب بولی نہیں جاتی۔۔۔ بلکہ اب تو لب ولہجہ بھی پاکستانی نہیں رہا۔۔۔ کم از کم کراچی میں تو ہندوستانی فلموں کا لہجہ اور الفاظ  نئی نسل کی شخصیت کا حصہ ہیں۔۔۔ بلکہ کافی ساری ٹیچرز اور اسکول اونرز بھی اسی تلفظ میں بات کرتی ہیں۔۔۔

کیا پاکستان میں پہلی جماعت یا مونٹیسوری سے بیچلرز تک مضامین, خاص طور پر اردو اور اسلامیات میں کوئی سیکوینس یادرجہ بندی ہے۔۔۔ کہ کس عمر یا جماعت کے بچوں میں کم از کم اتنی پڑھنے یا لکھنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔۔۔

What is Bachelor’s Degree? http://www.collegeonline.org/library/choosing-degree/bachelors-degree

As the examination days for Bachelors are approaching closer,  Google search for notes in Urdu is increasing every day.  Most searches are for Psychology, Political Science and Education notes in Urdu language.

There are many websites and facebook pages available for Urdu readers but they mostly consist of poetry, excerpts from Urdu Literature, religious substance by religious groups and news in general.  Nothing I could find that can help the students with discussions and explanation in Urdu.

I still don’t understand the reason of category “Arts” and for including Political Science, International Relations and Education in it.  To make things easier why don’t we introduce the credit system (like in many other countries).  Students can achieve the degree by availing certain credit points for different subjects.  Government will have to provide the syllabus and students can do their research to prepare notes and give examination.

The students of Arts or B.A. are mostly private students.  Even regular students don’t attend classes since they complain that lecturers and teachers ask them to come to the coaching in the evening and get the marks.  If this is really happening, no matter what , students must complain this to someone, inform personally or write to the authorities.

 

 قومی شناختی کارڈ کے لئے, ڈرائیونگ کے لئے, ووٹ ڈالنے کے لئے بلکہ شاید نکاح کے لئے بھی۔۔۔ اٹھارہ سال کا ہونا کیوں ضروری ہے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارہ سال دنیا میں گذارنے کے بعدایک لڑکا یا لڑکی اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اپنی شناخت کرواسکیں, ذاتی حیثیت میں بھی اور قومی لحاظ سے بھی۔۔۔ شاید اسلئے کہ ان پربھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھنے کے بعد اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔۔۔ شاید اسلئے کہ اٹھارویں سال تک پہنچتے پہنچتے ایک لڑکا یا لڑکی کم از کم دو الیکشن سیزنز تو دیکھہ ہی لیتے ہیں, اسکا طریقہ, اسکا نتیجہ, اس پر بحث مباحثہ انکے ذہن میں رہ جاتا ہے, اور وہ ذہنی طور پراس قابل ہوتے ہیں کہ ملک وقوم کے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔۔۔ اور جو ملک اور قوم کے لئے صحیح یا غلط شخص کا انتخاب کرنے کی اہلیت رکھتا ہو وہ اپنے ذاتی زندگی کافیصلہ کرنے کابھی حق رکھتا ہے۔۔۔ اسکا مطلب ہے کہ قومی شناختی کارڈ ذمہ داری اورسمجھداری کی علامت ہے۔۔۔

کیا یہ معلومات یعنی قومی شناختی کارڈ کی اہمیت, ووٹ کی اہمیت, ٹریفک کے قوانین, شادی اور طلاق سے متعلق قرآنی احکامات,  ہمارےتعلیمی کورس کا حصہ نہیں ہونی چاہئیں۔۔۔ انٹرمیڈیٹ کے طلبہ وطالبات یعنی سولہ سترہ سال کے نوجوانوں کوان اہم موضوعات کے بارے میں بتانا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔۔۔ 

لیکن یہ باتیں ہیں اٹھارویں سال میں آنے سے پہلے کی۔۔۔ اٹھارہ کے بعد کیا کیا جائے, کیا سیکھا جائے, کیا سمجھا جائے۔۔۔

Why eighteenth year of life seems suitable for NIC, for driving, for right to vote and even for marriage?  What a person can witness and experience in just eighteen years?  Or is it enough time to become responsible for dealing personal affairs as well as communal and national matters?

What youth is supposed to do at eighteen, shouldn’t they be educated about those matters before their legitimate time?

اچھا چلیں یہ پوچھہ لیتے ہیں کہ بی اے کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔۔۔ ملازمت ڈھونڈنی ہے یا ماسٹر کرنا ہے۔۔۔

ہمارے معاشرے میں اس سوال کے متوقع اور پسندیدہ جوابات ہیں … مجھے آگے پڑھنا ہے, بہت قابل بننا ہے, دنیامیں نام پیدا کرنا ہے, باعزت مقام بنانا ہے, اپنےخواب پورے کرنے ہیں, غریبوں کا سہارا بننا ہے, ملک وقوم کی خدمت کرنی ہے۔۔۔

ان جوابات پر میرے اعتراضات یہ ہیں۔۔۔ کہ سب سے پہلے تویہ سارے کام کرنے کے لئےہمت, توانائی, وقت اور جذبہ کی ضرورت ہوتی ہے جو بیچلرز کرنے تک آدھی بھی نہیں رہ جاتے۔۔۔ چودہ پندرہ سولہ سترہ سال کے تعلیمی عمل میں یہ سارے خزانے کام آجاتے ہیں اور یہ سارے کام خواب بن جاتے ہیں۔۔۔

دوسری بات یہ کہ بھئی کتنا پڑھ لینا ہے, کتابوں سے رٹ رٹ کر امتحان دے دے کر  چودہ پندرہ سولہ سترہ سال ایک ہی طور زندگی گذار کر جی نہیں بھر جاتا۔۔۔ کتنا قابل بننا ہے,  ویسے بھی زیادہ پڑھ لکھہ کرانسان قابل نہیں قابیل بن جاتا ہے۔۔۔ اور دنیا میں نام پیداکرنے اور مقام بنانے کی بات ہے تو میں نے خود پی ایچ ڈیز کو لانڈرومیٹ چلاتے اور عام سی پرنسپل کی جاب کرتے دیکھا ہے۔۔۔

غریبوں کا سہارا بننا اور ملک وقوم کی خدمت دو بہت پیچیدہ مسئلے ہیں جنکو بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں سمجھہ سکتےاورنہ بہت زیادہ غیر پڑھےلکھے۔۔۔ کیونکہ دونوں کاموں کا تعلق ایک مضبوط سماجی اور معاشی نظام سے ہے۔۔۔ جبکہ دونوں کومحض نیکی ثواب کا کام سمجھہ کرکسی خاص وقت اور حالات میں کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے وہ ایک نظام کی شکل اختیار نہیں کرپاتے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےکہ ہم میں سے ہرایک زیادہ سے زیادہ غریبوں کا سہارا بن کرخدا سے نزدیک ہوناچاہتاہے اور اسے انسانیت کی خدمت اور سب سے بڑی عبادت سمجھتاہے۔۔۔ اور آج خدا نے سینکڑوں بلکہ ہزاروں لاکھوں کی خواہش کے مطابق دردمند, بے بس, مجبور, بےسہارا, غریب لوگ کڑوڑوں کی تعداد میں سامنے لاکر کھڑے کردئیے ہیں کہ کروانکی مدد اور ہو جاؤ میرے نزدیک۔۔۔  یہ کڑوڑوں بے سہارا وہ لوگ ہیں جو کل تک ہمارے رزق کا سامان کررہے تھے۔۔۔ اگر ہم نے انکے مسائل میں دلچسپی لے کر انھیں بہتری کی طرف لے آئے ہوتےتوآج ہم ایک آسان زندگی گذار رہے ہوتے۔۔۔

پس ثابت یہ ہوا کہ نیکی کرنے کی دعا مانگنے سے پہلے اسکی منصوبہ بندی بھی کرلینی چاہئیے اور ذہنی اور  جسمانی طور پر خود کونیکی کے مواقع فراہم کرنے والےحالات کے لئے تیار بھی کرلینا چاہئیے۔۔۔

اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ انسان کسی قابل نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔ دشمنوں کو للکار کرمٹانے کی باتیں کرنے والے, روٹی کپڑا مکان فراہم کرنے کے دعوے کرنے والے, انسانوں کو آزادی اور انسانی حقوق کا خواب دکھا کر لادینیت یا سیکیولرازم کی طرف لانے والے, اپنے جوش ایمانی سےلوگوں کی تقدیریں بدل دینےوالے, اپنے خطبات سے اور فتووں سے دوسروں کے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرنے والے۔۔۔ مچھر جیسے حقیر سمجھے جانے والے کیڑے کے آگے بے بس ہوجاتے ہیں۔۔۔ دوا کام آرہی ہے نہ دعا۔۔۔

علامہ اقبال نے کہا کہ… ہو عالم ایجاد میں جو صاحب ایجاد, ہردورمیں کرتا ہے طواف اسکا زمانہ۔۔۔۔۔۔

اقبال کا مطلب شاید سائنسی ایجادات بھی رہا ہو جنکی وجہ سے مسلمان صاحب ایمان مغربی دنیا کے غلام بن گئے ہیں کیونکہ سائنسی چیزیں ایجاد کرنا ہمارے ہاں کفر سمجھا جاتا ہے لیکن اگر کافر ایجاد کرے تو مصلحتا استعمال کرنے کا فتوی موجود ہے۔۔۔۔۔۔

لیکن یقینا صاحب ایجاد سے اقبال کی مراد صاحب تدبیر ہے یعنی مشکلات سے نکلنے کے لئے وقت اور حالات کے حساب سے حل بتانے والا۔۔۔ کیونکہ مسلمان اپنی حرکتوں کی وجہ سے دشمنوں کو اپنے پیچھے لگا لاتے ہیں اور جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان سے نکلنے کے لئے صاحب تدبیر لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ جو بعد میں قوم کے ہیرو یا باپ کہلاتے ہیں۔۔۔

ویسے جو بی اے کے بعد جابس تلاش کرنا چاہتے ہیں انکے خیال میں انھیں کس قسم کی جابس مل سکتی ہیں۔۔۔ انکی تنخواہ کتنی ہوسکتی ہے۔۔۔ اس تنخواہ میں وہ کب تک گذارہ کرسکتے ہیں۔۔۔

بی اے کی ڈگری تو ویسے بھی کئی سال پہلے اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔۔۔ بی اے میں پڑھائے جانے والے مضامین کا پاکستان میں کیا کام۔۔۔ نفسیات, سیاسیات, عمرانیات, معاشیات, گھریلو معاشیات, لائبریری سائنس, تاریخ, اسلامی تاریخ, تاریخ پاکستان, بین الاقوامی تعلقات, عربی, فارسی, تعلیم, سوشل ورک, جغرافیہ۔۔۔۔

تو جس نظام جس تعلیم کا فائدہ نہ ہو اسے بدل کیوں نہیں دیتے۔۔۔ اپنے لئے نہ سہی, اگلی نسلوں کے لئے سہی۔۔۔وہ دعا دینگی کہ کوئی ہمارے لئے کام  آسان کرگیا۔۔۔

میر امن دہلوی  – 1809 – 1733              سرسید احمد خان – 1898 – 1817

مولوی نذیر احمد – 1912 – 1831            مولانا محمد حسین آزاد – 1910 – 1832

سید مہدی علی محسن الملک – 1907 – 1837     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857         مولوی عبدالحق – 1961 – 1870

منشی پریم چند – 1936 – 1880             مرزا فرحت الله بیگ – 1947 – 1884

رشید احمد صدیقی – 1977 – 1892         احمد شاہ پطرس بخاری – 1958 – 1898

غلام عباس – 1982 – 1909        خواجہ میر درد – 1784 – 1720             میر تقی میر – 1810 – 1722

خواجہ حیدر علی آتش – 1846 – 1778   مرزا اسد الله خاں غالب – 1869 – 1797

مومن خان مومن – 1856 – 1800        نواب مرزا خان داغ دہلوی – 1905 – 1831

سید فضل الحسن حسرت موہانی – 1951 – 1875     علی سکندر جگر مراد آبادی – 1960 – 1890

علامہ اقبال – 1938 – 1977     فیض احمد فیض – 1984 – 1911

مرزا محمد رفیع سودا – 1781 – 1703     شیخ محمد ابراہیم ذوق – 1854 – 1789

میر ببر علی انیس – 1874 – 1802     خواجہ الطاف حسین حالی – 1914 – 1837

نظیر اکبر بادی – 1830 – 1735     علامہ شبلی نعمانی – 1914 – 1857

سید اکبر حسین اکبر الہ آبادی – 1921 – 1843      شبیر حسن خاں جوش ملیح آبادی – 1982 – 1896

سیماب اکبر آبادی – 1951 – 1880    احسان دانش – 1983 – 1892

حفیظ جالندھری – 1982 – 1900

یہ اردو ادب کے چند مشہور نام ہیں۔۔۔ کچھہ شاعر اور کچھہ نثر نگار۔۔۔ ان میں سے کچھہ کےنام پہلی جماعت سے سنتے اور پڑھتے چلے آئے ہیں پھر بھی نہ انکی تاریخ پیدائش یاد ہوتی ہے نہ تاریخ وفات, نہ جگہ پیدائش اور نہ وجہ پیدائش۔۔۔ چودہ سالوں کے دوران جب انکا نام آئے نوٹس بنانے کے لئے بھاگ دوڑ مچی ہوتی ہے۔۔۔ ان میں سر فہرست نام ہے سرسید احمد خان, علامہ اقبال اور غالب۔۔۔

ویسے اتنے سارے ناموں میں صاحب تدبیر کون نکلا۔۔۔ میرے حساب سے علامہ اقبال۔۔۔ ایک وژن دے کر ہندوستان کی مسلمان اقلیت کو پاکستان کی مسلمان اکثریت میں بدل دیا۔۔۔ قلم اور سوچ کی طاقت کا صحیح استعمال۔۔۔

باقی سب بھی ٹھیک تھے, انہوں نے اپنے لحاظ ادبی کام بھی کئے, سیاسی بھی, مذہبی بھی اور سماجی بھی۔۔۔ مزاح بھی لکھا اور بچوں کے ئے بھی۔۔۔ غزل, نعت, مرثیہ, رباعی, نظمیں۔۔۔۔۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انکے کلام میں یہ سب مل جاتا ہے۔۔۔

دوسرا بڑا نام حفیظ جالندھری کا ہے جنھوں نے اقبال کے تصور پاکستان کے مقصد کو سمجھتے ہوئے قومی ترانہ لکھہ ڈالا اور کیا کمال لکھا کہ جتنی مرتبہ پڑھیں مزہ آتا ہے۔۔۔ کم الفاظ کے شعروں کے قافیہ اسطرح ملائے ہیں کہ نہ پڑنا مشکل نہ یاد کرنا اور مقصد بھی سمجھہ آجائے دو قومی نظریے کا۔۔۔

ویسے ان دو بڑے ناموں کو ہم نہ جانے کیوں پیچھے رکھتے ہیں۔۔۔ حسد کرنے یا مقابلے کی بات نہیں۔۔۔ ذرا سب کی تاریخیں ملاحظہ فرمائیے۔۔۔ سب ہی اگے پیچھے ایکدوسرے کے زمانے سے وابستہ تھے۔۔۔ ایک ہی خطے کے رہنے والے تھے۔۔۔ ان میں سب سے پرانے میر درد اور سب سے نئے فیض احمد فیض ہیں۔۔۔ لیکن جس نے کچھہ حاصل کرلیا وہ دو بڑے نام یہی تھے۔۔۔ اقبال اور حفیظ جالندھری۔۔۔

ویسے بی اے  کے باقی مضامین بھی پڑھنے کی نہیں بلکہ ٹی وی پروگرامز دیکھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔۔۔ تقریبا سارے مضامین کے موضوعات پر کسی نہ کسی چینل پر بات چیت یا بحث ہورہی ہوتی ہے۔۔۔ اخبارات اور رسالوں سے بھی نوٹس بنائے جاسکتے ہیں۔۔۔

سیاسیات میں دنیا کی مشہور تقریریں بھی شامل کرنی چاہئیں جن میں قائد اعظم کی تقاریر بھی شامل ہوں اوران لوگوں کے حالات زندگی جن کی کوششوں نے انکے ملکوں کی سیاست پرمثبت اثر ڈالا۔۔۔ خواہ مخواہ میں صدیوں پرانےسیاسی نظام جو اب کہیں نہیں ان پر بحث کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔ انھیں تو حوالہ کے لئے پڑھیں اور بس۔۔۔ البتہ خلافت مدینہ اور رسالت کے سیاسی پہلوؤں کو ضرور کورس میں شامل ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔

ایجو کیشن تو مضمون نہیں بلکہ خود ایک کیٹیگوری ہے۔۔۔ اس میں تو سارے ہی مضامین آجاتے ہیں۔۔۔

بلکہ آرٹس گروپ ختم کرکے جتنے مضامین ہیں انھیں دو بنیادی کیٹیگوریز سیاسیات اور تعلیم میں لازمی کردیں۔۔۔ دو سال یعنی سات سو تیس دن کافی ہو سکتے ہیں اگرصحیح طریقے سے پابندی کے ساتھہ پڑھایا جائے۔۔۔

یہ جو کچھہ اسباق اور کچھہ مشقیں ہم تقریبا ہر سال کرتے چلے آرہے ہوتے ہیں وہ طریقہ بھی تبدیل ہونا چاہئیے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو  سوچنے کے لئے۔۔۔ اور کچھہ ہونہ ہو ۔۔۔ کچھہ کام تو ملے گا طلباء کو سوچنے کے لئے۔۔۔

 

اردو زبان کے امتحانات۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی پیچیدہ ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کے ساتھہ۔۔۔۔۔۔۔

پتہ ہے کیا۔۔۔ اتنا غصہ آتا تھا پرچوں میں الٹے سیدھے سوال پڑھ کر۔۔۔

روشنی ڈالئے, اظہار خیال کیجئے, تبصرہ کیجیے۔۔۔  بھئی یہ بھی تو بتائیں یہ سب کرتے کیسے ہیں۔۔۔ کیا اظہار خیال کا مطلب ہوتا ہے ذاتی رائے, توواقعی سچی رائے لکھنے پر نمبرز مل جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو قسم کے سوال سب سے زہر لگتے تھے۔۔۔ ایک یہ کہ, بتائیے شاعر اس شعر میں کیا کہنا چاہتا ہے۔۔۔ اور وہ بھی وہ شاعر جو انتقال فرما چکے ہیں۔۔۔ بھئی یہ تو شاعر خود ہی بتا سکتاہے, ہمیں کیا پتہ اب کہ وہ کسں سے کیاکہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔ اصولا اس قسم کے سوالات کے لئے زندہ شاعروں کی شاعری کا انتخاب کرناچاہیے کہ انسان کبھی ملاقات کرکے پوچھہ ہی لے کہ بھئی آپ اپنے شعروں میں کیا کہنا چاہتے ہیں, تفصیل سے بتائیے, امتحانات میں جوابات لکھنے ہوتے ہیں۔۔۔

ویسےجو شاعرآج زندہ ہیں انکا کلام انکے مرنے کے بعد اردو سلیبس کا حصہ بنے گا۔۔۔ اور ایک بات تو طے ہے کہ امتحانات میں سوالات کا اندازجب تک بھی یہی رہے گا۔۔۔ لہذا آج کے شاعروں کو چاہیے کہ کل کے طلبہ وطالبات کی آسانی کے لئے اپنی شاعری کی وجوہات , اپنے خیالات قلمبند یا فلمبند کروا جائیں۔۔۔

ایک بات سوچنے کی ہے کہ ہمارے معاشرے میں زندگی کی لہر دوڑ جائے گی اگرزندہ شعراء, ادیب اور افسانہ نگاروں کے لکھے کو پڑھایا جائے, بلکہ اردو کے پیپرز انھیں سے چیک کروائے جائیں۔۔۔ ایک تو انکا دل ہی خوش ہو جائے گا, دوسرے انکو کام مل جائے گا, تیسرے ان میں مزید بہتر اور کچھہ نیا لکھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔۔۔

اچھا, دوسرا سوال جو کہ سوال نہیں بلکہ مطالبہ ہوتا تھا اور مجھے نہایت عجیب لگتا تھا وہ یہ کہ۔۔۔ فلاں فلاں بات یا کسی کے جملے پر بحث کیجئے۔۔۔ اب پہلی بات تو یہ کہ ہمارے گھر میں بحث مباحثے پر پابندی تھی, امی کوسخت برا لگتا تھا زبان چلانا, اسلئے پحث کرنا ہی نہیں آتی تھی۔۔۔ دوسرے یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کاپی پر بحث کیسے کی جاتی ہے کیونکہ بحث کرنے کے لئے کسی دوسرے کا سامنے ہونا اور بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔ خود ہی خود تو یا پڑھا جا سکتا ہے یا لکھا جاسکتاہے, بحث نہیں کی جاسکتی۔۔۔

یہ تو اب پتہ چلا کہ کسی بات کی بال کی کھال اتار دینا, کہاں سے شروع ہوئی, کیسے شروع ہوئی, اس کے اچھے یابرے اثرات کیاہوئے, انجام کیا ہوا۔۔۔ یہ سب کچھہ لکھنا بحث کرنا کہلاتا ہے۔۔۔

اچھا ٹیچرز اتنا بتاتے نہیں جتنا امتحانات میںلکھنے کو دیتے ہیں۔۔۔ اورآجکل تواورغضب ہے۔۔۔ کچھہ بھی نہیں بتاتے اور سب کچھہ پوچھہ لیتے ہیں۔۔۔

 سب سے بڑا سانحہ تعلیمی دور کا یہ ہوتا ہے کہ ساری چیزیں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد رفتہ رفتہ سمجھہ میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔۔۔ اور پڑھے لکھے کا حال اس کرکٹر جیسا ہوجاتا ہے جو خود تو کبھی صحیح نہ کھیل پائے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وہ مشورے دیتاہے, وہ تنقیدیں کرتا ہے  جیسے بابائے کرکٹ ہے۔۔۔

اچھامزے کی بات یہ ہے کہ سارے طالبعلم اپنے زمانےمیں برے نظام تعلیم کا رونا رورہے ہوتے ہیں۔۔۔ مگرجب والدین بنتے ہیں تو کہتے ہیں, ہمارے زمانے میںبھی تو آخرپڑھائی ہوتی تھی, ہمارے اساتذہ ایسے سخت اور قابل ہوتے تھے, ایک آجکل کے ٹیچرز ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ سب کہتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی یا کے ٹیچرز کل انھیں کے زمانے کے اسٹوڈینٹس تھے۔۔۔ کل انھوں نے جو سیکھا آج سکھا رہے ہیں۔۔۔

یہ کوئی نہیں کرتا کہ بی اے کے ایجوکیشن/تعلیم منتخب کرنے والوں سے پوچھے کہ تمھارے ہوتے ہوئے  تعلیمی نظام میں بہتری کے بجائے براوقت کیسے آیا۔۔۔ سترہ, اٹھارہ, انیس, بیس, اکیس۔۔۔ پانچ سالہ اعلی تعلیم کا کیا نتیجہ نکلا۔۔۔۔

کم عمری میں اگرکسی نے کوئی بہت بڑا تاریخی کارنامہ انجام دیا ہے تو اب تک صرف دوشخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ۔۔۔ محمد بن قاسم الثقفی اورفاتح سلطان محمد یا محمد ثانی۔۔۔

محمد بن قاسم الثقفی کاتعلق شہر طائف سے تھا جہاں توہین رسالت کی گئی اسطرح کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو پتھر مارمار کرشدید زخمی کر دیاگیا, اور جب الله سبحانھ وتعالی نے فرشتے بھیجے یہ پوچھنے کے لئے کہ اگرآپ صلی الله علیہ وسلم چاہیں توشہر کو انتقاما تباہ کردیا جائےتو فرمایا کہ نہیں, یہ نادان لوگ ہیں, شاید ان کی نسلوں میں سے ایمان والے لوگ پیدا ہوں۔۔۔ پتہ نہیں طائف کے باشندوں کو معلوم ہے کہ نہیں کہ وہ کتنی عظیم قوم ہیں, انکا ایک بیس سالہ نوجوان ہندوستان کی سرزمین اور خاص طورپرسندھ کی سرزمین کے لئے رحمت بن کرآیا۔۔۔ کبھی پاکستانیوں نے طائف والوں کا شکریہ اداکیا۔۔۔۔۔۔ صرف سترہ سال کی عمر میں کامیاب فوجی آپریشن کیا اور ہنوستان میں پہلےاسلامی سیاسی نظام کی بنیاد ڈالی۔۔۔ کل بیس سالہ زندگی, نہ قبر کا نام و نشاں, نہ کوئی  پتھریلی یادگار۔۔۔ لیکن آٹھہ سو سال بعد بھی کڑوڑوں مسلمان بغیر کسی مطلب کےعزت اورفخر سے نام لیتے ہیں۔۔۔

فاتح سلطان محمد کاتعلق ترکی سے تھا۔۔۔ اکیس سال کی عمر میں قسطنطنیہ فتح کیا اور بازنطینی حکومت کا خاتمہ کردیا۔۔۔ ترکی کے لوگ پانچ سو سال بعد بھی انھیں اپنا ہیرو مانتے ہیں۔۔۔  اور باقی اسلامی دنیا بھی بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔۔۔ 

تصور کیا جاسکتا ہے کہ اتنی چھوٹی عمروں میں اتنی بڑی کامیابی کے لئے انکی سولہ سترہ سال کی عمر تک کی زندگی کیسی گذری ہوگی۔۔۔ یہ ہمارے مسلمان نوجوان تھے جن پر ان کے بڑوں نے بھروسہ کرکے اتنی بڑی ذمہ داریاں ڈالیں۔۔۔

اب ذرا آج کے بڑے اور نوجوان, دونوں کا رویہ دیکھیں زندگی, قوم اور ملک کے بارے میں۔۔۔ کیا آج کے بڑوں کو حجاج بن یوسف اور سلطان مراد کی طرح اپنی تربیت اور تعلیم پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے کسی چھوٹے کو اتنا بڑاکام کرنے دیں کہ ملک وقوم کی تاریخ بدل جائے۔۔۔ کیا ہمارے ہاں نوجوانوں کو ملک وقوم سے متعلق کوئی نور بصیرت دیا بھی جاتا ہےکہ نہیں۔۔۔

اوپر والے دونوں سوالوں کا جواب ہے نہیں۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں اولاد کو ملک وقوم کی امانت نہیں بلکہ بہت عرصہ تک اپنابچہ ہی سمجھا جاتا ہے اوربچہ بھی اسی میں خوش رہتا ہے کہ میں معصوم ہوں لہذا بڑا کام کرنے سوچنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ نور بصیرت جن ذرائع سے سمجھہ آتا ہے یعنی صبر مطلب کہ جمے رہنا, حکمت یعنی صحیح فیصلہ کرنے کی سمجھہ,  تزکیہ نفس مطلب کہ غیر ضروری باتوں اور کاموں سے اجتناب, تفکر, یقین۔۔۔ اسکے لئے وقت کس کے پاس ہے۔۔۔

البتہ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہر دور میں کچھہ نہ کچھہ نوجوان اتنی مایوسیوں اور بند ماحول میں بھی خود ہی اپنے لئے زندگی کاراستہ چن لیتے ہیں اور اسطرح اکثر دوسروں کے لئے بھی زندگی آسان کردیتے ہیں۔۔۔

توہین رسالت کے ذکر پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا نام یادآجاتا ہے اور ساتھہ ہی ممتاز قادری, جس نے کچھہ ملاؤں کی جوشیلی تقریریں سن کر اقدام قتل کا فیصلہ کیا۔۔۔ وہ ملازمت تو حکومت کی کررہا تھا مگر اسکی وفاداریاں مولویوں کے ساتھہ تھیں, اس نے اپنی عقل, اپنے جذبات, اپنے اعمال کو اپنے عالموں کے اختیار میں دے رکھا تھا۔۔۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملا دوسروں کو تو جوش دلاتے ہیں لیکن خود کوئی ایسا کام نہیں کرتے۔۔…۔ اور جو انکی تقریریں سن کر قانون ہاتھہ میں لے اسے جنتی قرار دے کر لوگوں کو اسکے پیچھے لگا دیتے ہیں۔۔۔

ہماری فلم انڈسٹری اوراردو ادب کےکچھہ لکنے والوں نے بہت پہلے سے اس سوچ کو عام کیا ہوا ہے کہ عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر خودانتقام لینے والا اور اس کے لئے قانون کو توڑنے والا عوام کا ہیرو ہوتا ہے۔۔۔

شاید اسی عام تاثر کی وجہ سے ہمارے ہاں کے ہر مردوں عورتوں کو اپنی غلطیاں, اپنے جرائم جسٹفائے کرنے کی عادت ہوگئ ہے۔۔۔ اور شاید اسی لئے ممتاز قادری کا جرم ہمیں نظر نہیں آرہا۔۔۔

توہین رسالت کا قانون ہونا چاہئے اس میں تو کوئی بحث ہی نہیں۔۔۔ لیکن توہین کے مجرم کو بغیر وارننگ قتل کرنا, تعلیم سے ہٹانا, ڈرانا دھمکانا, گھریا علاقے سے نکال دینا۔۔۔ کونسا اسلام ہے۔۔۔ کیا اسلامی طریقہ یہ نہیں کہ اسے عدالت میں لےجایا جائے, اسکی بات سنی جائے, اسکو بحث کرنے کاموقع دیا جائے۔۔۔ کیا پتہ وہ توبہ ہی کرلے۔۔۔

ویسے بھی اسلامی تعلیمات کامقصد انسانوں کی اصلاح کرنے کا موقع دینا ہے, فورا سزانہیں۔۔۔ اور پھراگر ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمارے رسول کی, قرآن کی عزت کرے تو پھر وجہ بھی توفراہم کریں۔۔۔۔

ویسے کیا مولوی ہونے کے لئے ضروری کہ وہ مسکین, دوسروں کی خیرات زکواہ پر پلنے والا, محدود سے علم والا, بے ڈول روتا پیٹتا شخص ہو۔۔۔ یا پھرایک خاص لباس پہنے, گردن اکڑائے, اپنی کرسی پر بیٹھہ کر دوسرے فرقوں کی برائیاں نکالنے والا, لوگوں کے عام مسائل سے ہٹ کراپنی خانقاہوں اور آستانوں پردکانداروں کی طرح بیٹھہ کرگاہگوں کا انتظار کرنے والا بے ڈول کوئی شخص ہو۔۔۔ آخر مولوی کوئی نارمل انسان کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ سوال کرے, سوال سنے, جواب دے, جواب لے۔۔۔

 

Is current educational process in private schools worth spending money on it?

How many O’ Levels students have completed their A’ Levels since it’s introduction in Pakistan?  How many of them have really achieved what they wanted?

ایک اہم بات ہے اوروہ یہ, کہ طلبہ کو خود بھی پوچھنا اورسوچنا چاہئے۔۔۔ کہ بی اے میں دو سال کے لئے ایجوکیشن اور پھر مزید بی ایڈ کے لئے دو یاتین سال کی پڑھائی کا مقصد کیا ہے۔۔۔ ہمارے ہاں جتنی دیر لگتی ہے رزلٹ آنے اور تعلیمی سال شروع ہونے میں, تو چار پانچ سال کے بجائے تقریبا سات سال لگ جاتے ہیں۔۔۔ بی اے سال اول کی طالبعلم جوعموما اٹھارہ انیس سال کی ہوتی ہے, بی ایڈ کرنے تک پچیس چھبیس کی ہوجاتی ہے۔۔۔ اکثر تو اس دوران اس کی شادی ہوجاتی ہے اور ملازمت اسے گھر اور بچوں کے لئے کرنی پڑتی ہے۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عام پرائیویٹ اسکولوں میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پاس لڑکیاں کم تنخواہ پر رکھہ کر کام چلایا جاتا ہے۔۔۔ لڑکے شاید ہی ایجوکیشن میں آتے ہوں گے۔۔۔

پھر یہ کہ دوسال ایجوکیشن پڑھنے کے بعد ان میں کیا صلاحیتیں پیدا ہوئیں کیا وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ۔۔۔ آزادانہ اور مثبت سوچ رکھتے ہوں۔۔۔ کسی بھی موضوع پر لکھہ سکیں یابحث کرسکیں۔۔۔ پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرسکیں۔۔۔  کسی بھی درجہ کے بچوں کو نتیجہ خیز بنیادی تعلیم دے سکیں۔۔۔ تعلیمی نظام میں جو غلطیاں ہیں انھیں تبدیل کرسکیں۔۔۔

آج تک کےبحث ومباحثوں کو دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ آج تک ہم نے اپنے نظام تعلیم کی ناکامی کا صرف ایک اندازہ لگایا ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ شاید ہم مغربی دنیا کے نظام تعلیم کو نہ صحیح سمجھہ پائے اور نہ رائج کرپائے۔۔۔ نتیجہ کے طور پہ ہم ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جو یا تومغربی دنیامیں کامیابی حاصل کرچکے ہوں یا کم از کم اسکے حق میں بول سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اندازہ نہ لگا پائے کہ یہی تو ہماری ناکامی کی اصل وجہ ہے۔۔۔

دوسری اہم سوچنے والی بات یہ ہے۔۔۔ کہ ہمارے ایجوکیشن/ تعلیم کے سلیبس میں حسب عادت غیر ملکیوں کے نظریات کے علاوہ دارلعلوم دیو بند, علی گڑھ تحریک, ندوہ العلماء وغیرہ کا ذکر ہے لیکن کہیں بھی ابوعلی الحسین ابن عبدالله ابن سینا اور ابن طفیل کے نام کا ذکر نہیں جنکے نام خاص طور پرایجوکیشنل فلاسفی یعنی فلسفہ تعلیم کے موضوع پر مغربی دنیا میں افلاطون اورارسطو کے ساتھہ آتے ہیں۔۔۔ بو علی سینا نے مونٹیسوری اور یوتھہ کی تعلیم کے اصول وضع کئے۔۔۔ ہم جانتے نہیں۔۔۔ یہ مسلمانوں پر ظلم نہیں تو کیا ہے۔۔۔ ایجوکیشنل سائیکا لوجی کی انگلش کی کتاب (جسکو ڈاکٹر عبدالرؤف نے لکھا ہے جو کہ کافی ڈگریز ہولڈر ہیں) سے اسلامی حوالہ جات غائب ہیں۔۔۔ ایجوکیشن کی انگلش میں کورس بک کا سائز ہے تقریبا پانچ انچ بائے   تقریبا سات انچ اور کل صفحات کی تعداد ایک سو چونتیس۔۔۔ گو کہ اس میں امتحانات میں آنے والے عام سوالات کے جوابات  موجود ہیں اور طلبہ نے صرف رٹا لگانا ہے۔۔۔  لیکن طلبہ کے تعلیمی رجحان کے لحاظ سے تو یہ چھوٹی کمزور سی کتاب بھی بہت موٹی ہے۔۔۔

عربیوں نے اپنے مفکرین کے مجسمے بنا کر انکو خراج تحسین پیش کیااورہم ایک علامہ اقبال کی قدر نہ کر سکے۔۔۔  البتہ ہمارے سیاستدانوں نے افتتاحی تختیوں کی یا پھر چوک پر پتھر سے بنے آرٹ کی شکل میں اپنی نا اہلی کے ثبوت ضرور چھوڑے ہیں۔۔۔ کراچی میں جگہ جگہ نصب ملیں گی۔۔۔  میں اسے کہتی ہوں اپنی زندگی میں خود اپنے ہاتھوں سے اپنے کتبے لگانا۔۔۔ کیونکہ یہ تختیاں ہوتی ہیں جن پر انکے کل کارناموں کی تاریخ لکھی ہوتی ہےانھیں اپنی قوم سے تو توقع ہوتی نہیں کہ وہ انھیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔۔۔

ویسے ایک بات ہےاور سچی بات ہےکہ ۔۔۔ جس قسم کے نظام تعلیم کی پاکستان میں ضرورت ہے اس کے لئے ماں اور باپ تو اگلےسو سال تک راضی نہیں ہوں گے,  سرپرست ہاتھہ نہیں رکھنے دینگے, ڈونرز فنڈنگ نہیں کریں گے۔۔۔۔۔۔

پہلی چیز تو یہ پسند نہیں آئے گی کہ تعلیمی کورس سب کے لئےایک جیسا ہو, دوسرے یہ کہ لوکل سلیبس پر مشتمل ہو, تیسرے یہ کہ بچوں کو گدھا بنائے بغیر کچھہ سکھایا جائے, چوتھے یہ کہ مقابلہ بازی نہ ہو, پانچویں یہ کہ موجودہ طریقوں اور سوچ سے ہٹ کر ہو, چھٹے یہ کہ کم بجٹ کا ہو, ساتویں یہ کہ اس میں کسی کی شو شا نہ ہو۔۔۔۔۔۔

لہذا یہ تجربہ کیا جاسکتا ہے صرف یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں پر۔۔۔

شاید اسی لئے زیادہ تر رسولوں اور پیغمبروں کو والدین کے ہوتے ہوئے بھی ایک یا دونوں والدین سے دور رکھہ  کرپالا گیاہو۔۔۔

ان یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچوں کی اہمیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نیوٹرل ہوتے ہیں۔۔۔ اگرانھیں اچھائی کی طرف راغب نہ کیا جائے تو خودبخود برائی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔۔۔ مجرمانہ ذہنیت کے لوگ معاشرے کے خلاف انتقامی جذبات و خیالات بھر کر ان کو اپنے برے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔اور معاشرے پر کس بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں اسکی مثالوں سے صرف پاکستانی معاشرہ نہیں بلکہ ساری دنیا بھری پڑی ہے۔۔۔

نظام تعلیم میں سے ذرا دیر کو تربیت اورتنظیم والاحصہ نکال دیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ ہماری زندگیوں سے تو یہ عرصہ دراز سےغائب ہی ہے اور والدین سمیت کوئی اس میں ذاتی طور پر اورعملی طور حصہ لینے پرتیار نہیں۔۔۔ بلکہ شاید وزارت تعلیم سے بھی اسکا مطالبہ کرنے پر تیارنہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میرے حساب سے جو کچھہ وزارت تعلیم کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ہے لکھنا اور پڑھنا سکھانا اور حساب کتاب کی سمجھہ بوجھہ پیدا کرنا۔۔۔

پھر وزارت تعلیم ملک کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاملات سے بیگانہ رہتی ہے جہاں امراء ور شرفاء کےبچے کچھہ سیکھنے سکھانے جاتے ہیں۔۔۔ اور باقی جوآبادی بچی اس کا شاید دس فیصد سرکاری اسکولوں کا رخ کرتا ہوگا۔۔۔ تو اتنی کم تعداد کے لئے صرف لکھنے پڑھنے اور تھوڑے بہت حساب کتاب سکھانے کا بندوبست کرنا موجودہ تعلیمی بجٹ میں کوئی مشکل کام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر ہے بھی تو تعلیمی بجٹ کو بلاوجہ کے اور فضول ترین بے نظیر انکم سپورٹ کے بجٹ سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔۔۔

I don’t know why has Turkey agreed upon supporting the most useless Benazir Income Support Program in Pakistan?  Oh, I get it.  It could be the program to generate income for Benazir’s poor family.  Any country must visit Pakistan and take public opinion before responding to our official beggars.

اچھا اس بجٹ میں سے تعلیمی اداروں کی دیکھہ بھال بھی نکال دیں تو جو کام بچا وہ خیراتی اداروں میں اور یتیم خانوں میں ہو ہی رہا ہے۔۔۔ لہذا پاکستان میں کم از کم دس سال تک وزارت تعلیم کی ضرورت نہیں۔۔۔

اب جو کام بچا ہے تعلیم سے متعلق, یعنی لکھنا پڑھنا گننا, اسکے لئے پورا پورا سال ضائع کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ یتیم, لاوارث اور بے سہارا بچے تو زیادہ جلدی اور اچھا نتیجہ دے سکتے ہیں۔۔۔

اپنے ملک کا جو بیڑہ ہم سب نے مل کرغرق کیا ہے۔۔۔ اسکو دیکھتے ہوئے اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ بھلا اس سے کیا فائدہ ہوگا۔۔۔ ملازمتیں تو پہلے ہی کہیں نہیں ہیں۔۔۔

بہت آسانی سےسمجھہ میں آنے والی بات تو یہ ہے کہ۔۔۔ پرائیویٹ اسکولوں کالجوں والے یا تو ترقی یافتہ ملکوں کا رخ کر تے ہیں یا پھر پرائیویٹ اداروں کے درمیان گھومتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں کالجوں میں جائیں بھی تو مقصد کچھہ دینا نہیں ہوتا بلکہ آسان ملازمت اور حکومتی مراعات کا حصول ہوتاہے, اسی لئے ان سے بہت امیدیں رکھنا فضول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرکاری اور خیراتی اسکولوں اور اداروں میں تھوڑ ے بہت ہی سہی پڑھے لکھے باشعور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ فٹ ہو سکتے ہیں۔۔۔

اس کے علاوہ بھی ذرا دنیا کے حالات پر نظر ڈالیں تو بہت سے مسلمان ممالک بلکہ غیر مسلم ممالک بھی پاکستان سےبد تر حالت میں ملیں گے۔۔۔ پڑھنے پڑھانے والوں کے لئے ہر ملک کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں اسکی کچھہ شرائط ہیں۔۔۔ ایک صبر یعنی جلد بازی نہ کرنا۔۔۔ دوسرا قناعت یعنی بہت زیادہ کی توقع نہ رکھنا۔۔۔ تیسرا تسلسل کے لئے مستقل جگہ اور اسباب کا انتظام ہونا تاکہ غیر متوقع حالات کا اثرنہ پڑے ۔۔۔ چوتھے, کیونکہ مستقل مزاجی سے کسی مقصد کے لئے کام کرنے والوں کی کمی رہتی ہے, اس کے لئے متبادل انتظام رکھنا۔۔۔

افسوس کی بات ہے کہ دو ہزار گیارہ میں بھی کسی نے مونٹیسوری اورایلمینٹری کلاسز میں وڈیوز اور کمپیوٹرز کو مستقل ذریعہ تعلیم نہیں بنایا۔۔۔ جبکہ پرائیویٹ, سرکاری اور خیراتی۔۔۔ سارے تعلیمی ادارے اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔۔۔ اور یہ اکثر انسانی ذرائع کا اچھا متبادل  بھی ثابت ہوتے ہیں۔۔۔

کسی نے بہت اچھی بات کی تھی کبھی۔۔۔ کہ ساری اردو الف سے ے, ساری انگلش اے سے زی/زیڈ اور سارا حساب ایک سے دس تک کے ہندسوں میں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کم ازکم اتنی تعلیم تو کوئی بھی دے سکتا ہے اور کوئی بھی لے سکتا ہے۔۔۔ اور کتنے سال لگتے ہیں اتنی سی چیزیں سکھانے میں۔۔۔ کیا الف سے آم, ب سے بلی , آموں کی تعداد اور رنگ, بلیوں کی حرکات بتانے کے لئے کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

سب سے پہلا کام تو یہ کرسکتےہیں کہ کچھہ عرصہ کے لئے تعلیمی عمل کو تین بنیادی حصوں/لیولز میں تقسیم کردیں۔۔۔  پہلے حصہ کا تعلق عمراورکسی مقررہ وقت سے نہ ہو بلکہ اسکا مقصد صرف اور صرف خود سے پڑھنے, لکھنے اور گننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہو۔۔۔  ایک خاص بنیادی درجے تک  کا امتحان جو بھی جس عمر اورجس حال میں بھی پاس کرلے اسے ایک ڈگری دے دیں۔۔۔ ایسے امتحان ہر چھہ ماہ بعد لئے جا سکتے ہیں۔۔۔ معاشرہ انسانوں پرمحنت کرنے سے بنتا ہے, چیزوں پر نہیں۔۔۔ انسان صحیح ہوں تو چیزیں رفتہ رفتہ صحیح ہوجاتیں ہیں۔۔۔

اگر ایجوکیشن/ تعلیم کو نویں جماعت  سے شروع کردیں۔۔۔۔۔۔ ( جوکہ مشکل نہیں کیونکہ یہ تجربہ  بہت پہلے ہمارے اسکول میں نویں جماعت میں کیا جا چکا ہے اور وہ بھی سائنس کی کیٹیگوری میں) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کالج کے مزید دوسال ملا کراسے چار سال کابنادیں۔۔۔ اگر اس چار سالہ کورس میں چھٹیوں کی تعداد کم کر کے وقت اور ایام کی مکمل منصوبہ بندی کے ساتھہ پڑھایاجائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں۔۔۔

کیا مشکل ہے۔۔۔ نہیں ہوسکتا۔۔۔۔

کیا کہا حکومت نہیں کرے گی, نہیں مانے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو حکومت کی بات کون کررہاہے۔۔۔ یہاں عوام اور حکومت ایک دوسرے کی سنتے ہی کب ہیں اورکب پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ سرکاری اسکولوں میں تو آج تک بھی مونٹیسوری سسٹم نہیں ہے۔۔۔ پھر یہ ہمارے تعلیمی اور معاشرتی نظام کا حصہ کیسے بن گیا کہ اس کے  بغیر سانس نہیں لیا جاسکتا۔۔۔ سیدھی سی بات ہے۔۔۔ پرائیوٹ, یہ ملک سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر پرائیویٹلی ہی چل رہا ہے۔۔۔ آغا خان بورڈ, اسلامی فرقوں کے اسکول, حفظ کے مدرسے, او لیولز۔۔۔ کیا سرکار فنڈنگ کرتی ہے۔۔۔ تونویں جماعت یعنی چودہ سالہ بچوں کے لئے چار سال کا تعلیم کا کورس, بیس سال کی عمر میں ایک نوجوان یا  نو جوانی علم دینے کے لئے تیار۔۔۔  حکومت یہ تبدیلی لے آئے تو کیا ہی بات ہے۔۔

ویسے جہاں اتنے تجربات ہور رہے ہیں وہاں ایک اور سہی۔۔۔ مطلب یہ کہ نظام واقعی بدل دیں۔۔۔ نہیں, نہیں, بھئی کتابیں نہ بدلیں, سلیبس تبدیل کرلیں۔۔۔ نویں جماعت سے جو مضامین کا مرکب یا کامبینیشن دیا جاتا ہے سائنس, آرٹس, ہوم اکنامکس اور کامرس کا۔۔۔ وہ آج کی دنیا میں فضول ہے۔۔۔ اسکے بدلے تمام طلبہ کے لئے نویں دسویں میں تمام مضامین کا آسان تعارف یا بنیادیات لازمی کردیں۔۔۔ کالج لیول سے مین کیٹیگوریز میڈیسن/طب, انجینئرنگ, تعلیم, زراعت, ماحولیات, اور قانون کردیں۔۔۔

جو مضامین بلا وجہ آرٹس گروپ میں تھے یعنی سائیکالوجی/نفسیات, سوشیالوجی/عمرانیات, پولیٹیکل سائنس/سیاسیات, انٹرنیشنل ریلیشنز/بین الاقوامی تعلقات, اکانومی/معاشیات, لائبریری سائنس, جغرافیہ, تاریخ پاکستان, تاریخ اسلام, سوشل ورک, عربی, فارسی وغیرہ کو دو یا تین اختیاری مضامین کی حیثیت سے مین کیٹیگوریز میں شامل  کردیں۔۔۔ بلکہ کمپیوٹر سائنس, بزنس/ کاروبار, فلسفہ کو بھی ان میں شامل کردیں۔۔۔ کیونکہ یہ وہ مضامین ہیں جن کاتعلق اوپر والی تمام مین کیٹیگوریز سے ہے۔۔۔

اس طرح دوسالوں میں اگر مین کیٹیگوریز کے چھہ پیپرز ہوں تو اردو لازمی, انگلش لازمی اور چار اختیاری مضامین ملاکر کل بارہ پیپرز بنیں گے۔۔۔ یعنی ایک سال میں چھہ پیپرز۔۔۔

اگلے دوسالوں یعنی بیچلرز ک لئےاسی کا ایڈوانس لیول ہوگا۔۔۔

اس طرح پہلی سے آٹھویں جماعت, نویں دسویں اور انٹرمیڈیٹ۔۔۔ تین بنیادی درجہ یا لیولز بن گئے۔۔۔ ان بارہ سالوں کے بعد تقریبا اٹھارہ سال کی عمر ایک لڑکا یا لڑکی معاشرے میں اپنا کوئی  رول ادا کرنے کے قابل ہونگے۔۔۔

ہوم اکنامکس ننانوے فیصد لڑکیوں کے لئے ہے اور اسکے لئے میمن فاؤنڈیشن اور دوسرے پرائیویٹ ادارے موجود ہیں اور بہت اچھا کام کررہے ہیں۔۔۔ اسی طرح فائن آرٹس کے اپنے کالجزاورسینٹرز ہیں۔۔۔

حکومت کی آمدنی کے ذرائع محدود ہوتے ہیں اس لئے انھیں ہوم اکنامکس اور فائن آرٹس پر ضائع نہیں ہونا چاہیے۔۔۔

اس طرح سرکاری کالجز میں مزیدطالبعلموں کے لئے جگہ بن جائے گی۔۔۔


 

 

 

Advertisements

Iqbal’s Stray Reflections!

“Individuals and nations die; but their children i.e. ideas never die.” — Pakistan is Allama Iqbal’s idea, it won’t die.

“I have the greatest respect for Aristotle, not only because I (living in the twentieth century) know him much better than the older generations of my community, but also because of his vast influence on the thought of my people.”

“I confess I owe a great deal to Hegel, Goethe, Mirza Ghalib, Mirza Abdul Qadir Bedil and Wordsworth.  The first two led me into the ‘inside’ of things, the third and fourth taught me how to remain oriental in spirit and expression after having assimilated foreign ideals of poetry, and the last saved me from atheism in my student days.”

The Jewish race has produced only two great men-Christ and Spinoza.  The former was God incarnated in the Son, the latter in the universe.  Spinoza was only a completion of the greatest teacher of his race.”

 

This slideshow requires JavaScript.

 

 

 

 

عملوالصلحت Good Deeds

Just imagine why Allama Iqbal and Quaid-e-Azam focused on establishing a separate system instead of compromising with Hindus and British Govt and introducing Islam as a complete system.  Unlike mullahs and religious scholars, they didn’t emphasize on doing good deeds, charity or donations.  That is because they knew that this is the part of a human nature to help others.  Even the most evil person is satisfied when he/she helps someone.  So good deeds are a part of a human nature.  Islam just put them in order according to their nature of priority so they deliver to resolve problems on a long-term basis.

جہاں اگرچہ دگرگوں ہے, قم باذن الله۔۔۔ وہی زمین وہی گردوں ہے, قم باذن الله

قم باذن الله یعنی کھڑا ہوجا الله کے حکم سے۔۔۔۔ یہ الفا ظ تھے حضرت عیسی علیہ السلام کے جس سے وہ مردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔۔ وہ برص کے مریضوں کو ہاتھہ لگاتے تو شفا ہو جاتی۔۔۔ انکا ایک واقعہ بھی بہت مشہور ہے کہ جب ایک طوائف کو رجم کرنے کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے فرمایا۔۔۔ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کوئی گناہ نہ کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی اخلاقی تعلیمات اس انتہا پر تھیں کہ فرمایا کہ کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی پیش کردو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اتنے عظیم انسان کے ساتھہ ان کی عوام نے کیا سلوک کیا کہ جب بادشاہ وقت نے حضرت عیسی علیہ السلام کو سزا سنائی تو کوئی بادشاہ کے خلاف کھڑا نہ ہوا۔۔۔ یہ صلہ دیا انھوں نے اس پاک شخصیت کا جس کو کبھی شیطان نے نہیں چھوااور جسکا معجزہ وہ دیکھہ چکے تھے کہ پیدا ہوتے ہی اس نے اپنے نبی ہونے اورماں کے پاکیزہ کردار کی گواہی دی۔۔۔۔

نیکی, بھلائی اور فلاح کے کام اخلاقیات کی تعریف میں آتے ہیں اور اسی لئے کسی بھی معاشرے کی روح ہوتے ہیں جو اسے زندہ اورمتحرک رکھتی ہے۔۔۔ اسلام نظریہ کے مطابق یہ حقوق العباد کا حصہ ہیں۔۔۔ اور الله عزوجل کی عبادت یعنی حقوق الله کا ایک جزو ہیں۔۔۔

اسلام میں, عملوالصلحت, یعنی اچھے اعمال کی بڑی اہمیت ہے۔۔۔ اور سورہ العصرمیں بیان کی گئی ان چارنجات کی شرائط میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے انسان  آخرت کے خسارے سے بچ سکتا ہے۔۔۔   بلکہ قرآن میں بار بار اچھے اعمال کی نصیحت کی گئی ہے۔۔۔ اچھے عمل کرنے کرے والے لوگ ہر مذہب, ہر  قوم اور زمانہ میں پائے گئے ہیں اور پائے جاتے ہیں۔۔۔ کیو نکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔۔۔ کسی کی مدد کر کے, کسی کا پیٹ بھر کے, کسی کو خوشی دے کر دل کو سکون ملتا ہے۔۔۔ برے سے برا انسان بھی کہیں نہ کہیں کسی کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔۔۔ اکثر لوگ اپنے گناہوں کے کفارے کے طور پر بھی نیک کام کرتے ہیں۔۔۔ نبی کریم محمد مصطفے صلی الله علیہ والہ وسلم کے اعلان نبوت سے پہلے گو کہ ساری دنیا جہا لت اور گمراہی میں مبتلا تھی لیکن نیکی کا تصور موجود تھا۔۔۔ مکہ کے مشرکین بھی غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔۔۔ کعبہ کی زیارت کرنے والوں کو پانی پلاتے تھے۔۔۔ ایسے کام برے سے برے معاشرے میں بھی ہو رہے ہوں تو ایک تسلی اور امید بنے رہتے ہیں۔۔۔ لہذا نیکی کے اس فطری عمل کو رکنا بھی نہیں چاہیے۔۔۔

نیک کام کرنا اتناآسان بھی نہیں ہوتا۔۔۔ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وسائل جمع کرنا اور صاحب حیثیت لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنا, وسائل کی تقسیم اور فراہمی میں تسلسل… اور ان سارے کاموں کو بلا معاوضہ رضاکارانہ طور پرانجام دینے کے لئے وقت نکالنا۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھہ چٹکی بجاتے نہیں ہوجاتا۔۔۔۔ جو لوگ اچھے اعمال کر رہے ہوتے ہیں ان ہی کا دل جانتا ہے کہ وہ کن مشقتوں سے گذرتے ہیں۔۔۔

لوگ اچھے کام اپنی مالی حیثیت, جسمانی طاقت, سمجھہ اور صلاحیت کے مطابق کرتے ہیں۔۔۔ اس لئے ان کا یا  ان کے کاموں کا آپس میں مقابلہ بھی نہیں کرنا چاہیے۔۔۔ بہت سے لوگ انفرادی طور پر پریشان حال ناداروں کی مدد کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ ان پڑھ لوگوں کی تعلیم ک انتظام کرتے ہیں۔۔۔ کچھہ بیماروں اور معذورں کا سہارا بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کچھہ لوگ جماعت, تنظیم یا اداروں کی صورت میں تھوڑے بڑے پیمانے پر فلاح و بہبود کے کام کرتے ہیں۔۔۔ عبدالستار ایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنھ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے اپنے دائرے میں یہ سب ہی نیکی اور بھلائی میں مصرف ہیں۔۔۔۔


 کیا نیکیاں معاشرے میں کوئی اجتماعی تبدیلی لاتی ہیں۔۔۔ 

امریکہ اور مغربی دنیا کو ہمارے ہاں زنا, بے حیائی, شراب, جوئے کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔۔۔ تو دوسری طرف ہم انسانیت کے لئے بھی انھیں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔۔۔ بھارت میں مدر ٹریسا نے عملی طورپر جتنے اچھے کام کئے, گاندھی اور نہرو نے بھی نہیں کئے ہوںگے۔۔۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی کے نیک کاموں کی فہرست بنانے بیٹھہ جائیں تو سال بیت جائے۔۔۔ الله کے اولیاء اور ہزاروں سوشل ورکرز اور فلاح وبہبود کے اداروں سے بھری ہوئی سر زمین پاکستان میں ہر دن بے گھر, غیر تعلیم یافتہ, بیمار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔۔۔   مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک دنیا کی حالت پر نظر ڈالیں۔۔۔  کیا نیکیوں کے نتیجے اسی طرح نکلتے ہیں اور اچھے اعمال کرنے والوں کے معاشروں کا یہی حال ہوتاہے۔۔۔

اس سے یہ مطلب نہیں نکالنا چاہیے کہ شاید نیک کام کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں۔۔۔ دنیا کے برے حالات میں نہ تو نیک کام کرنے والوں کی نیت کا قصور, نہ ہی وہ اسکے ذمہ دار ہیں۔۔۔ بلکہ یقینا وہ ہربرے حالات میں امید کی کرن ہوتے ہیں جو مظلوموں اور ناداروں کو حوصلہ دیتی ہے۔۔۔ انھیں جینے کے لئے جسمانی طاقت فراہم کرتی ہے۔۔۔

لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے۔۔۔ کہ پاکستان خصوصا دنیا کا سب سے زیادہ عطیات دینے والاملک ہے۔۔۔  اوربدحالی کا یہ حال کہ روزانہ لوگ خود کشیاں کرہے ہیں۔۔۔ خوف, بھوک, جہالت۔۔۔ جبکہ صدقات تو بلاؤں کو ٹالتے ہیں۔۔۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہے۔۔۔

دنیا میں ایک لاکھہ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اخلاقی تعلیمات کے ساتھہ۔۔۔ ان میں سب انبیاء لیکن کچھہ رسول بھی تھے۔۔۔ کتنے ہی نبییوں کو قتل کیا گیا, سولی چڑھایا گیا, آرے سے چیرا گیا۔۔۔ جبکہ ہر پیغمبر اپنی قوم کا نیک ترین اور مخلص ترین انسان تھے جسکی گواہی خود انکے اپنے لوگ دیتے تھے۔۔۔ کیا ان نبیوں کا خلوص اور بھلائی انکی قوم کی سوچ تبدیل کرسکا۔۔۔ انھیں انکے ظالم حکمرانوں کے ظلم سے نجات دلا سکا۔۔۔ حضرت موسی علیہ السلام نبی بھی تھے اور رسول بھی کیوں کہ خدائی قوانین ساتھہ لے کر اترے تھے۔۔۔ انھوں تو بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات بھی دلادی۔۔۔ لیکن انکی عوام کی سوچ آزادی نہیں, بلکہ ننانوے فیصد آبادیوں کی طرح روٹی کپڑا اورمکان تک محدود تھی۔۔۔ انجام یہ کہ الله نے انھیں بھٹکا دیا۔۔۔

رسول صلی الله علیہ وسلم نےخلافت مدینہ کے بعد غزوات کئے, جن میں مسلمان شہید اوربچے یتیم ہوئے۔۔۔ کیا آپ نے کوئی فلاح وبہبود کا کوئی ادارہ بنایا انکے لئے۔۔۔ بعد میں چاروں خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی اس کی کوئی مثا ل نہیں ملتی۔۔۔ اس پورے عرصے میں مالی امداد اوراخراجات کا مرکز بیت المال ہوتا تھا۔۔۔ اور حکومت جو کہ ایک مرکزی نظام ہوتی ہے, بیت المال اس نظام کا حصہ ہوتا تھا۔۔۔

عبدالستارایدھی فاؤنڈیشن, انصار برنی ٹرسٹ, شوکت خانم میموریل ہسپتال, عورت فاؤنڈیشن, کاشانہ اطفال, دارلامان, زندگی ٹرسٹ, سہارا ٹرسٹ, محمودہ سلطانہ ٹرسٹ, ولیج اسکولز,  صراط الجنہ اور پاکستان کے دینی مدارس اوربہت سے ایسے ہی ادارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  خیراتی ادارے جس نام سے بھی موجود ہوں یا جتنی عظیم شخصیت نے کھولے ہوں۔۔۔ وہ معاشرے کے بدحال افراد کو برے حال سے وقتی طور پر بچا تو سکتے ہیں لیکن کبھی شخصیات پیدا نہیں کرسکتے۔۔۔ کیونکہ ذہنی طور پر یہ افراد ایک دباؤ کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم دوسروں کے وسائل پرپلے بڑھے ہیں۔۔۔ ان میں وہ اعتماد نہیں ہوتا جو ایک خاندان میں آزادنہ طور پرپلے لوگوں کی شخصیت کا حصہ ہوتا ہے۔۔۔

جب کسی ملک کے فلاح وبہبود اور امدادی کام مرکز سے ہٹ کر نیکی کے نام پہ عوام کے ہاتھہ میں آجائیں تو عوامی دولت اورعوام  کی توجہ, دونوں کئی حصوں میں  تقسیم ہو جاتی ہیں۔۔۔ عوام کی توجہ اور دولت وہ طاقت ہیں جو تقسیم ہوجائیں توحکومتی عہدیداروں کو قومی خزانہ لوٹنے کے بہترین مواقع مل جاتے ہیں۔۔۔  حکمران مطمئن رہتے ہیں کہ چلوعوام آپس ہی میں کچھہ کرکرا کے مسائل کا حل نکال لیں گے۔۔۔۔۔۔۔ غریب, محروم, ضرورت مند لوگوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک آسان راستہ ہاتھہ آجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ  خود کو بے بس اور مجبور سمجھتے ہوئے حکومت سے الجھنے یا  ٹکرانے کے بجائے فلاحی اداروں کے در پر جا پڑتے ہیں۔۔۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے لوگ جو کمانے کے قابل ہیں ان پر بوجھ بڑھہ جاتا ہے۔۔۔ ایک طرف وہ فرض کے نام پر ٹیکس د یتے ہیں تودوسری جانب نیکی کے نام پر سینکڑوں کو پالتے ہیں۔۔۔

نیکی اور بھلائی کے کام, فلاحی منصوبے, صدقہ وخیرات۔۔۔ یہ سب آخرت میں پھل دیتے ہیں یا پھر دنیا میں انفرادی فائدے۔۔۔ یہ توقع کرنا کہ مفت نیکیاں کرتے رہو ای دن لوگ اچھے ہو جائیں گے, لوگوں کا مفت پیٹ بھرتے رہو ایک دن بھوک مٹ جائے گی, مفت علاج کرتے رہو بیماریاں ختم ہوجائیں گی, مفت تعلیم دیتے رہو جہالت ختم ہوجائے گی۔۔۔ آج تک نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔۔۔  نیکی اور بھلائی کو نظام بننے کے لئے قانون اوراس کو نافذ کرنے والے قوت بازو کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ جبکہ ہم نےعملوالصالحات یعنی نجات کی آخری شرط کو اسلام کا مکمل نظام سمجھہ لیا ہے۔۔۔

اگراب بھی بات سمجھہ نہیں آئی تو سوچیں کہ ۔۔۔ فلاحی اور خیراتی اداروں کی تعداد میں اضافہ, انکے عطیات اور چندہ کی رقم میں اضافہ, ان کے در پر آنے والوں کی تعداد میں اضافہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا معاشرے کے بہتر ہونے کی علامت ہے یا بدتر۔۔۔ کیا یہ اطمینان کا مقام ہے یا فکر کا۔۔۔ کیا اس طرز نیکی کی زیادتی سے مستقبل میں قوم کے معمار پیدا کئے جاسکتے ہیں یا حسب عادت ایک مسیحا کاانتظار کرنے والے ۔۔۔۔۔۔ 

کیوں آخر محمد مصطفے صلی الله علیہ وسلم ہی صرف تیئیس سال کےعرصے میں وہ  نظام قائم کرسکے جس  میں لوگ بھوکے مفلس تو تھے, بھکاری نہیں تھے۔۔۔ ایک بہتر زندگی زنگی کے خواہشمند تو تھے لیکن دوسروں کی جان, مال اورعزت کی قیمت پر نہیں۔۔۔ جہاں حضرت بلال کو اسلام لانے کے بعد بھی وہی تکلیفیں سہنی پڑیں اور فاقے برداشت کرنے پڑے جو امیہ کی غلامی میں تھے لیکن اب وہ آزاد تھے اور  اپنی مرضی سب کچھہ برداشت کرتے تھے, ذلت سے نہیں۔

سلام ہوعرب کے ان غلاموں اور ان پڑھ  لوگوں پرجنھوں نے چودہ سو سال پہلے اسلام کے مرکزیت کے تصور یعنی ۔۔۔ لاالہ الا الله ۔۔۔ کو سجھا اور آپس میں تفرقہ پیدا کرنے والی ہر دیوارگرادی۔۔۔

یہ نظام روٹی, کپڑا, مکان, ذاتی پسند, ذاتی زندگی اور مقابلے کےفلسفے سے شروع نہیں ہوا تھا۔۔۔  بلکہ ایک اجتمایت, مرکزیت اور کسب حلال کے تصور سے شروع ہوا۔۔۔ جہاں چندہ عوام کی ضروریات زندگی نہیں بلکہ قوم کے دفاع کے لئے مانگا جاتا تھا۔۔۔

 یہ دولتمند لوگوں کے لئے, محنت سے کمانے والوں کے لئے نہ صرف فکر کا مقام ہے بلکہ انکے خوشحالی مستقبل کا سوال بھی۔۔۔۔ اگر ہم نے فلاح وبہبود کے اس تصور کو نہ سمجھا اور ان اصولوں کو نہ اپنایا جو اسلام نے سکھائے ہیں۔۔۔ تو آنے والا دور بھوک مفلسی اور جہالت میں اضافہ ہی لےکر آئے گا۔۔۔

 صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی کچھہ احادیث کے مطابق ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ مسلمان زکات دینے کے لئے مستحقین کو ڈھونڈیں گے اور کوئ زکات لینے والا نہ ملے گا۔۔۔ یہ دنیا کی خوشحالی کا دور ہوگا۔۔۔۔ 


Unified Education in Pakistan

Unified educational system is in favour of common Pakistanis and is necessary for Pakistan’s peace and progress.  Those who are sincere to Pakistan must keep it a priority even if it take years in implementation.  It is going to be the most difficult task to gather the representatives of public schools, private schools, madrasahs, schools run by political figures, Agha Khan system, O’ Levels and home-schooling for the purpose to help in designing a unified syllabus from first to matriculation.

یکساں تعلیم کا کوئی بھی آئیڈیا فضول ہے اگر وہ عام لوگوں کو ملک کے سیاسی عمل میں حصہ لینے کا اوراقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا موقع فراہم نہ کرے۔۔۔۔۔۔  لہذا پاکستان میں امن, ترقی, خوشحالی اور مضبوط  دفاعی طاقت کے لئے یکساں تعلیم کے ساتھہ ساتھہ  قوانین میں تبدیلی یا نئے قوانین ضروری ہیں۔۔۔

مثلا سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لئے انٹرمیڈیٹ کے ساتھہ سیاسیات, بین الاقوامی تعلقات, معاشیات کا علم لازمی ہو۔۔۔ امیدوار لازمی طور پر حکومت پاکستان سے سند یافتہ ہو۔۔۔ لازمی طور پر پاکستانی قومیت رکھتا ہو۔۔۔ اپنے علاقے میں اسکا کردار کیا ہے۔۔۔ ذریعہ آمدنی, ذاتی اثاثے کیا ہیں۔۔۔

ایک یکساں یا قومی تعلیمی نظام کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ مضامین اور موضوعات سب کے لئے لازمی ہوں۔۔۔ بلکہ ایسا نظام تعلیم جس میں مختلف عقائد, مختلف نظریات اور مختلف زبان بولنے والوں کے لئے چوائس موجود ہو۔۔۔ اوریہ کسی کے لئے بھی علم وہنر سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کرسکے۔۔۔ لیکن ہوں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں۔۔۔
دنیا کا کوئی ملک اورکوئی نظام اس سے زیادہ یونیفائیڈ تعلیمی نظام نہیں دے سکتا۔۔۔

 اگر کسی جگہ کے لوگ ایک زبان بولتے ہوں, انکے عقائد ایک ہوں اور نظریات میں بھی فرق نہ ہو۔۔۔ اسکے باوجود بھی وہ اس سے زیادہ یکساں تعلیم کا تصور نہیں دے سکتے۔۔۔ کیونکہ بہرحال اگرانھوں دنیا کی باقی قوموں کے ساتھہ معاشی اور سیاسی روابط رکھنے ہیں توپھران کے نظام اور نظریات کو کسی حد تک اپنے تعلیمی نظام کا حصہ بنانا پڑے گا۔۔۔

اور یہ کوئی نیا آئیڈیا نہیں۔۔۔ دنیا کے بہت سے ملکوں میں موجود ہے ۔۔۔ اور غیر اسلامی بھی نہیں۔۔۔ 


کیا پاکستان میں مدرسے, سرکاری اسکول,  پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول اور ہوم اسکولنگ مرکزی حکومت کے تحت کام نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرسکتے ہیں اگر بنیادی تعلیم کے علاوہ پرائیویٹ اسکولز کے مشکل, مہنگےاور درآمد شدہ سلیبس کو اور مدرسے کے کورسزکو ایڈوانس مضامین کی فہرست میں ڈال دیا جائے۔۔۔ اس طرح بنیادی تعلیم تو سب کے لئے ایک جیسی ہو گی لیکن ایلیٹ, غیر ملکی, مذہبی, صوبائی یا اور دوسری زبانیں بولنے والوں کے لئے اختیاری مضامین کی شکل میں چوائس موجود ہوگی۔۔۔ اہم بات یہ ہوگی کہ سند حکومت پاکستان کی ہو۔۔۔ اس کے لئے جگہیں بدلنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔ اپنی اپنی جگہوں پر تعلیم حاصل کریں اور امتحانات دیں۔۔۔  اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کردیا جائے۔۔۔ پرائیویٹ اسکول کالجز, مدرسے۔۔۔ سب اپنی جگہ پر بنیادی تعلیم کا سرکاری ریکوائرمنٹ پوری کریں۔۔۔ پھر طلبہ چاہیں جو مضامین ایڈوانس لیول پرپڑھیں۔۔۔ 

اسکے فوائد کیا ہونگے۔۔۔

سارا کا سارا تعلیمی نظام ایک مرکز کے تحت کام کرے گا۔۔۔ جس سے مرکزی حکومت کو اہمیت حاصل ہو گی, وہ مضبوط بھی ہوگی ۔۔

علمی بنیادوں پرلوگوں کی تقسیم اور تفاخر بہت حد تک کم ہو جائے گی۔۔۔ کیونکہ تمام کے تمام مضامین پر تعلیمی اسناد پہ ٹھپہ یاسیل مرکزی حکومت کی ہو گی۔۔۔

پاکستان میں سب سے بڑا تعلیمی فرق مدرسہ اور اسکولز کی تعلیم میں ہے۔۔۔ ایک کو شرعی تعلیم کہہ کر محدود کردیا۔۔۔ دوسرے کو جدید تعلیم کہہ کر کفر یا غیر شرعی یا دنیاوی قرار دے دیا۔۔۔ پاکستان کے ماحول میں دینی اور ماڈریٹ کا فرق بھی کچھہ کم ہوگا۔۔۔ اوردینی لوگوں کی آئے دن کے نفاذ شریعت کی دھمکیوں کا زور بھی کم ہوگا۔۔۔ اور دونوں قسم کے لوگ ایک ہی مرکز تلےآجائیں گے۔۔۔

صوبوں کے درمیان تعلیمی فرق بھی کم رہ جائے گا۔۔۔ ایک صوبے کے رہنے والے کو دوسرے صوبے میں جاکر تعلیمی سلسلہ بدل جانے کی شکایت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیراتی اسکولوں اور فلاحی اداروں کے بچوں کا کم از کم علمی بنیادوں پر احساس محرومی ختم ہوجائے گا۔۔۔ انکے پاس بھی کیونکہ  سرکاری سند ہوگی۔۔۔

پھر یہ کہ پرائیویٹ یا ہوم اسکولنگ والے بچوں کے لئے جو سائنس نہ لینے کی پابندی ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ سائنس تو میٹرک تک لازمی ہی ہوگی۔۔۔ 

یہ سب کرنا آسان نہیں۔۔۔

چوں کہ ہمارا حکمران طبقہ جاہل اور ذہنی طور پر غلامانہ سوچ رکھتا ہے  وہ امریکہ اور مغربی دنیا کےاشارے کے بغیر کچھہ نہیں کرتا۔۔۔ اس لئے عوام کو ہی شور مچانا پڑے گا۔۔۔ اپنے اپنے علاقے کے سیاستدانوں اور حکومت پر دباؤ ڈالنا پڑے گا۔۔۔ اور وہ بھی کافی عرصے تک۔۔۔ 

دوسرا بڑا مسئلہ دینی فرقے ہیں۔۔۔  انکا کسی بھی معاملے کو سمجھداری سے نمٹانا نہ ممکن سا لگتا ہے۔۔۔ لیکن بہرحال معجزات بھی تو ہو سکتے ہیں۔۔۔  

تیسرا مسئلہ او لیولز اور آغا خان بورڈ۔۔۔ پرائیوٹ اسکولز اور برٹش تو او لیولز کے نام پر کڑوڑوں روپے احمق پاکستانیوں سے کمارہے ہیں۔۔۔ بھلا وہ اس لوٹ مار کو کیسے بند ہونے دینگے۔۔۔ دو سال بعد کا کورس دوسال پہلے پڑھا دیا تواس سے معیار بلند تو نہیں ہو جاتا۔۔۔

چوتھا مسئلہ ہے ہمارا طریقہ تعلیم جو خاص طور پر ابتدائی درجات میں اور ویسے بھی کتابوں اور کاپیوں کے گرد گھومتا ہے۔۔۔ اکثر تین یا چار سال کےبچوں کو بھی کتابوں اور کاپیوں سے لکھنے پڑھنے پر لگادیا جاتا ہے۔۔۔ یکساں تعلیم کا سن کر سب کا ذہن جائے گا ایک جیسی کتابوں کی طرف۔۔۔ حالانکہ یکساں تعلیم کا مقصد یکساں نتیجہ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ یکساں طریقہ تعلیم۔۔۔

پانچواں مسئلہ ہے خیراتی اسکولوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا۔۔۔ یہ تو چلتے ہی عطیات زکات پر ہیں۔۔۔ کوئی معیارقائم ہوگیا تو چندہ کون دے گا۔۔۔
چھٹا مسئلہ وہ اسکول جو سیاسی شخصیات نے کھولے ہیں یا انکے پرنسپلز بنکے بیٹھے ہیں۔۔۔ وہ برداشت کر لیں گے کہ انکا اور انکی مخالف پاڑٹی کے اسکول کا معیار ایک جیسا ہو۔۔۔

ساتواں مسئلہ یہ کہ حکومت کی طرف سے بنیادی تعلیم کا سلیبس ترتیب کون دے گا۔۔۔ ملک میں ہزاروں کی تعداد میں بپبلیکیشنز ہیں اور ساری ہی کہیں نہ کہیں استعمال ہورہی ہیں۔۔۔ اسی طرح مدرسے کے کورسز ہیں, سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں ہیں۔۔۔ کوئی کسی کتاب کو ابتدائی درجہ کے لئے موزوں سمجھتا ہے تو دوسرا اسے ایڈوانس لیول رکھتا ہے۔۔۔ کیا مدرسے, سرکاری اسکول, پرائیویٹ اسکول, آغا خان سسٹم, اولیولز, خیراتی اسکول, یتیم خانے, سیاسی شخصیات کے اسکول کےنمائندے اور ہوم اسکولنگ کی طرف سے والدین اس میں ایک سطح پہ آکر حصہ لیں گے۔۔۔

آٹھواں مسئلہ بنیادی تعلیم کی تعریف اور اسکا معیارکیا ہونا چاہئے۔۔۔ یہ کون بتائے گا۔۔۔

What could/should be the definition of unified education in Pakistan?  Is unified education the synonym of fundamental education?

PHONICS:

I totally disagree with introducing phonics to our educational system at any level except for if there is a dire need of it.  Such as for especial children.

Pakistan’s modern education system is founded upon foreign-based ideas, methods, contents and curriculums.  Phonics is one of the method that was introduced with the purpose of quality education.  On one side, we have a government that consists of illiterate ministers and parliamentarians like Jamshed Dasti who are possessed with ignorance.  On the other side, we have educated people who are obsessed with imported items.  Both groups are dangerous for our identity as they both lack confidence, wisdom and spirit of freedom.  In short, they are slave-minds.

Western countries are developed and advanced countries.  One reason of their progress is that they don’t import but introduce ideas.  Now, instead of learning from them, we try to copy them as it is.  We waste our energy and time in convincing people that this imitation will get us some respect in the Western world.  What a rubbish!

These countries introduced phonics as a technique to enhance reading ability through sound of letters.  It is sound of a letter at the beginning or at the ending of a word, sound of vowels and sound of a compound.  English is their mother tongue.  This is the language they communicate in 365 days a year.  Before introducing any idea to their system, they study their people and the nature of requirement, they design it in a form of step-by-step guideline, they compose it in a timely manner, they train faculties, they prepare parents’ mind to accept it, their purpose of introduction is not to rip off money, it is to bring improvement.  Phonics may be good for them because they are not in hurry.  They don’t teach in large groups.  They don’t have to pressurize their children for quick learning so that they can get first position.  They don’t want to run away from their country after higher education.

Still I don’t get it that how do they figure out that at what age or level, their student should know the sound of letter ‘c’ as /s/ or /k/ — or ‘g’ as /g/ or /j/– then the difference between c and k and g and j –or the sound of ‘ph’ as /f/– or the sound of letter ‘u’ in but, put, use, blue — or merging the sounds of two vowels like in ‘road’, ‘lead’, belief — or when to use ‘the’ as ‘tha’ or ‘thee’ — or when do letters become silent?….at what age or level, students won’t need to use phonics?….. is phonics really meant for all students in general or only for special children?

In alcoholic societies, children are born with slow mental progress, brain disorders, mental retardation, low tolerance, difficulty in reading and relating connections and reasons.  So phonics is a useful technique for them in general.

Pakistanis are very talented people.  Lacking healthy environment and health facilities, our children are still born normal.  It is parents and the overall system that suck their abilities to progress.

Phonics is not good for our children.  It is damaging their brain, slowing down their learning abilities, burdening them with confusing sounds of a foreign language.  Our Montessori teachers are intermediate or B.A, B.Sc or B.Com.  They are not trained to deal with children, how to teach, how to behave, how to handle them.  Even the ones certified from Early Childhood Training Centers don’t know how to plan for phonics.  Even their sounds of letter differ in length and pronunciation.  For example, 95% of them mix up the short vowel sounds of ‘a’ and ‘e’, ‘v’ and ‘w’…. pronouncing very to vaary, was to vas, bed to baad, red to raad.  Also, it is a non-sense to teach normal children the normal things sounding like animals, aa, baa, caa, daa, skipping e, faa, haa, skipping i, at ‘G’ they are confused if alone it sounds like ‘g’ or ‘j’.  A child who is not even familiar with the sequence of letter, how can he learn their sounds skipping vowels and with exceptions?

If this is all we are doing to teach English as a language, both in speaking or reading, then we should focus on improving children’s listening skills, through stories, discussions, discipline and instructions.

 

 

 

 

 

MATRICULATION:

Matriculation is the tenth year of regular schooling system.  Generally, matriculation is defined as a process that prepares students for college level.  In America, it is part of the high-school which ends at Twelfth Grade.  Prior to partition, in South Asian region, it was regarded as a sign of honour and wisdom.  Even after the establishment of Pakistan, “matric paas students” were preferred for jobs and matrimonial proposals.

One aspect of our overall failure is that our governments never planned for improving educational system according to the growth in population and in comparison to the new world challenges.

The situation we are facing right now is that on one hand we have masters and bachelors complaining about suitable job opportunities while lacking professionalism.  On the other hand, we have a huge number of matriculated youth being hired at low salaries obviously not fulfilling any professional requirements.  Another horrible reality that we face in our system is that we never think of solving problems according to the mental and social level of our own people.  Most of our celebrities from different fields of Fine Arts, when don’t find anything else to do or let’s say when they think of serving nation, they start opening school or join some famous chains at high position.  Durdana Butt, Rahat Kazmi, Huma Akbar, Afshan Ahmed, Khushbakht Shuja’at, Jawad Ahmed, Shezad Roy and many more.  Have they ever tried to sit together and discussed how they can bring a change in the existing system, how they can get together to build a unified educational system that has something to do with Pakistan and with the people of Pakistan???

In Ninth and Tenth Grades, subjects are divided into three or four main groups which doesn’t make a sense.  At least not now.  Students have to choose to study either from Science Group, Arts or Humanitarian Group, Commerce Group or may be computer.  After two years of study, the Science group students have no idea about even the basic concepts of Economy, Psychology, Sociology, Education, Political Science, Sociology etc.  The Arts/Humanitarian group remain ignorant about simple Math, the basics of Zoology, Botany, Biology, Physics, Chemistry etc.  In Science group they don’t focus on writing skills and speech power.  Now what if a Science student has to deliver a speech about plantation to grow economy or write an essay on wild life in Sindh or prepare a Science syllabus for Elementary classes.  The career choices for Arts group students are to become a writer, singer, musician, performer, painter etc.  What if they have to write a true story of a zookeeper hero falls into love with a marine-biologist or a drama about a singer studying plants part-time.  All of them have zero knowledge about environment.

I just remembered this drama of Indus TV (I forgot the name) that was about a hospital, doctors, nurses and patients.  I really thought that it was a parody of some American medical shows because the whole serial was totally non-scientific.  The serial didn’t teach a single medical term to the viewers, neither it brought any awareness about health and hygiene.  They didn’t even discussed the problems of doctors and patients in our society.  Each episode was focused on the make up and style of female actresses (doctors/nurses), love affair between the staff, emotional scenes of patients coming depressing background.

Back to the point, this two-years of matriculation becomes useless if they decide not to (as most of the students do) join any college or institution for further studies.  The matriculated students are not given jobs on the basis of subject grouping.  The idea is to eliminate grouping subjects in Ninth and Tenth Grade and to introduce an intensive occupational studies course of one or two year instead to equip our students with the fundamentals of main subjects in each existing group.  Girls are usually hired as assistant teacher, teacher, receptionist, office-helper, factory worker etc.  Boys get jobs as sales person, clerk, cashier, messenger, dyer, courier etc. Many other countries are doing it.  My two-years of occupational studies course was composed to accounting, business maths, writing skills, keyboarding, typing, business law, psychology, personal management, fundamentals of computer, literature, business management etc.  Why can’t we introduce such kind of grouping here?

ہمارے ملک میں تعلیم کی منصوبہ بندی کی جتنی  کمی ہے اس سے کہیں زیادہ زندگی کی منصوبہ بندی کی کمی ہے۔۔۔ تعلیم کا معیار جتنا کم ہے تربیت کا معیار اس سے بھی کم۔۔۔ جتنا تعلیمی نظام بگڑاہواہے اس سے زیادہ سماجی اورسیاسی نظام بگڑا ہوا ہے۔۔۔ حالانکہ تعلیم سے پہلے ان سب چیزوں کاہونا ضروری ہے۔۔۔ یعنی زندگی کی منصوبہ بندی,  تربیت کا معیار اور مضبوط سماجی اورسیاسی نظام۔۔۔۔۔۔

ہمارے ہاں عام تعلیم کی حد میٹرک یعنی دسویں جماعت ہے۔۔۔ اسکی ایک وجہ لوگوں کے معاشی حالات انھیں لڑکوں کو آگے پڑھانے کی اجازت نہیں دیتےاور وہ کسی کام سیکھنے پر بٹھا دئے جاتے ہیں۔۔۔ لڑکیوں کی شادی ہوجاتی ہے یا منگنی۔۔۔ پھر وہ جب موقع ملے پرائیوٹ ہی پڑھتی ہیں۔۔۔ اکثر پرائیوٹ اسکول میں میٹرک یا انٹر پاس لڑکیوں کوٹیچرز رکھا جاتا ہے جو کم تنخواہ پر کام کرنے پر راضی ہو جاتی ہیں۔۔۔ دوسری وجہ تعلیم کی اہمیت کو نہ پہچاننا۔۔۔ اکثریت اسے اسکول کالجز کی کاروائی سمجھتی ہے, جس میں امتحان پاس کرنا ایک بڑا مرحلہ ہوتاہے۔۔۔ اور جو اہمیت بتائی جاتی ہے اسکے مطابق ملازمتوں کا نہ ملنا۔۔۔ کم عمر میں کم تعلیم اوربے تربیتی کے ساتھہ آگے بڑھنے کاراستہ کرپشن ہوتاہے۔۔۔

میٹرک پاس بچوں میں ان صلاحیتوں کی ازحد کمی ہوتی ہے جو ایک لڑکا یا لڑکی میں دس بارہ سال کی اسکولنگ اور گھریلو تربیت کے نتیجے میں ہونی چاہئیں۔۔۔ سوچ, رکھہ رکھاؤ, انفرادیت, معلومات عامہ, آگے بڑھنے کا جذبہ, بہتری کی خواہش, مسائل کو سمجھنا انکا حل تلاش کرنا, منصوبہ بندی کرنا, خودانحصاری۔۔۔۔۔۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ نویں جماعت سے جومضامین کی گروپنگ کی جاتی ہے اور اس میں موجود مواد کا انتخاب  اکثر بے فائدہ ہوتا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر سائنس گروپ کے بچے ایجوکیشن, سیاسیات, معاشیات کے تصور سے بھی ناآشنا ہوتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ایک سائنس کے طالب علم کو کمانا تو ہوتا ہی ہے, اس کا تعلق ملکی سیاست اور تعلیمی نظام سے بھی ہو تا ہے, لوگوں کی نفسیات سے بھی ہوتا ہے۔۔۔ خاص طورپر ان بچوں کے لئے جنھوں نےمیٹرک کے بعد تعلیم کو خیرآباد کہہ دیناہو۔۔۔ لازمی ہے کہ وہ ضروری مضامین کے بنیادی تصور اور انکی حقیقی زندگی میں کارآمد ہونے سے واقف ہوں۔۔۔

آٹھویں جاعت کابچہ عموما تیرہ سال کاہوتا ہے۔۔۔ اگر نویں اور دسویں یعنی دو سال مضامین کی گروپنگ کے بجائےایک ایسا تعلیمی کورس مرتب کردیا جائے جس میں موجود مواد انکے کام کاہو تو تعلیمی نظام اورسماجی نظام دونوں میں بہتری آسکتی ہے۔۔۔

فوری طور پر حکومتی سطح پر تو تبدیلی ناممکن ہے۔۔۔ لیکن دن بہ دن بڑھتی ہوئی آزمائشوں کا آسانی سے مقابلہ کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی نئی راہ تو نکالنی پڑے گی۔۔۔ لوگوں کے ذہنوں کو بہتر تبدیلی کے لئے آمادہ کرنا شاید دنیاکاسب سے مشکل کام ہوتاہے۔۔۔ باہر ممالک کی طرح اگر ایک سال یا دو سال کا  آکیوپیشنل اسٹڈیز کا انٹینسو کورس جس میں کتابوں سے زیادہ تحقیق, بحث اور لکھنا شامل ہو متعارف کرائے جاسکتے ہیں۔۔۔ جس سائنس, آرٹس, کامرس, کمپیوٹر کے بجائے پرفیشنل اسکلز کو ابھارنے پر مرکوز کیا جائے۔۔۔ کیونکہ ابھی تو حال یہ ہے کہ ہمارے ببیچلرز اور ماسٹرز کوبھی ملازمت کی درخواستیں نہیں  لکھنی آتیں۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

EDUCATIONISTS:

We all have endorsed the fact that our schools and colleges are worthless places for providing with any useful training or education of at least international level.  If they do then what do we complain about.  If they don’t then we must think of ways changing it.  In order to change it, we must discuss what kind of change do we want and why.

Since we all know our teachers, most of them have no passion for their profession, others are either over-burned with piles of responsibilities or are obstructed due to limited resources.

The private institutions (from Montessori to college level) can make a difference by using technology at their premises.  Few years ago, I gave this idea to a school owner that the principals of different schools in a certain area can arrange a workshop once a month for teachers’ training.  They can gather at some place and exchange their expertise.  They can exchange good ideas, curriculum and other activities.  They can also watch educational videos to learn effective teaching skills.  Plus they can plan community visits and inter-school competitions.

Principals can sit together and think of ways to reduce the cost of education and make it affordable for parents.  For teachers’ convenience, they must provide them with some kind of help in their daily routine.  They must be given enough time to get organized, to check students’ work and a precise syllabus according to students’ level.

Preschools, schools and colleges can use videos, CDs and DVDs to occupy children with educational learning.  Children can be kept involved with Adam’s World, Sound Vision and Astrolab productions, Seasame Street, Barney, Between the Loins (children’s show about vowels) and other good shows on daily basis.  They can learn new vocabulary, songs, games and manners by watching these videos.  Just half-hour video everyday can play a big role in keeping them busy with something interesting for their age.  That half-hour or one hour will be a spare time for teachers to relax a little and finish their checking.

Even public schools, colleges and universities can take advantage of the technology (I don’t want to call it a new technology since it belongs to the last century).

If the public and private institutions are not interested in it, still a great idea for charity schools and other places where unwanted or homeless children are accommodated for any reason.  Such as Edhi’s children section, orphanages, etc.

Many of our high profiles like Ms. Afshan Ahmed, Madam Khushbakht Shuja’at, Mr. Rahat Kazmi, Madam Durdana Butt, Mr. Shezad Roy, Mr. Jawad Ahmed and many others who claim that they are very sensitive towards the issues of our society, must sit together and plan something.  All these ‘sensitive’ educationists can influence the parents with whatever they come up with (something like negotiations or conclusions).

Cost-Reduction in Education:  It’s possible.

1) Little children can learn to write and to draw things on slates (old fashioned) instead of wasting money on copies/notebooks and drawing copies.

2) Instead of buying books in Montessori, they can learn alphabets, numbers and words on board or charts.

3) Instead of buying supplies, school can charge a little amount from each parents and purchase the necessary items in bulk on discount,  keep them in classes and train children to share them, use them and organize them.

4)  Painting school walls with cartoons and animals looks horrible and messy, it doesn’t help them in learning.  Instead, take them to the nearby park, zoo, keep a pet or give them some other activities to show them the real colours of life.  They need to be trained to face the reality, not to be lost in myths and mysteries or unnecessary imaginations.

5) Avoid phonics, it makes normal children read like foolish.  Just teach them the letters like a normal insaan ka bacha is supposed to learn.  Children are human beings too, they should not learn to read by making strange animal sounds.  After all, our teachers don’t know how and when to teach phonics.

 

 

 

 

New Political Science جدیدسیاسیات

Isn’t it time to change the way we think and discuss things in educational institutions, if we really do so?

Don’t we need to design a new syllabus for Political Science?  What should be the contents of the new syllabus?

لفظ مہاجراسم مفاعل ہے اور نکلا ہے ہ ج ر یا ہجرسے,  یعنی ترک کردینا, چھوڑ دینا۔۔۔ اردو میں جدائی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔۔۔  عام زبان میں مہاجر وہ شخص ہوا جو اپنا وطن, اپنا علاقہ کسی وجہ سے چھوڑنے پر مجبور ہوجائےاور کسی دوسرے ملک یا علاقے مں عارضی طور پر پناہ لے۔۔۔ اس وقت تک کے لئے جب تک اسکے اپنے ملک میں حالات اچھے ہو جائیں اور وہ واپس جا سکے۔۔۔ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمان کچھہ عرصے بعد مکہ واپس آگئے تھے۔۔۔

وہ شخص جو اس نیت سے کسی دوسری جگہ جائے کہ وو وہاں مستقل رہے گا, گھربار بنائےگا, اس ملک کے باشندوں کے ساتھہ مل کر وہاں کے نظام کا حصہ بن جائے گا, مہا جرنہیں کہلایا جاسکتا۔۔۔ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے والے مسلمان مدینے کی خلافت قائم ہوتے ہی بھائی بھائی اور برابر کے شہری بنا دئے گئے تھے۔۔۔ اور مہاجرین اور انصار کا فرق مٹادیا گیا تھا۔۔۔

  شہری ہونا مہاجر ہونے کے الٹ ہے۔۔۔ شہری ہونے کا مطلب ہے اپنے ملک, اپنے آس پاس کے لوگوں کے ساتھہ مخلص اور وفادار ہونا۔۔۔ انکے ساتھہ مل کرمعاشرے کی تعمیر میں حصہ لینا۔۔۔ حتی کہ سب کے مستقبل کی فکرکرنا۔۔۔

جو شخص اپنے ہوش و حواس کے ساتھہ اپنی قومیت بدلنے کا فیصلہ کرے اس ملک کا شہری ہی کہلاے گا, مہاجر نہیں۔۔۔ البتہ اس قوم کے لوگ اس شخص کی وفاداری کو پرکھتے ضرور ہیں۔۔۔ مثال کے طورپر امریکہ میں وہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لئے پانچ سال وہاں رہنا ضروری ہے, شاید اس لئے کہ پانچ سال میں وہ وہاں کے نظام, رسم وروایات کو اچھی طرح سمجھہ لے, اس دوران انھیں ایلین شپ یا ایک اجنبی کی طرح رہنے کے لئے کارڈ دے دیا جاتا ہے جس کی بنیاد پر اسے بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد وہ حلف یعنی زبانی عہدو پیماں کرواتے ہیں۔۔۔ میں یہ عہد کرتا/کرتی ہوں۔۔۔ حلف دیتا/ دیتی ہوں کہ۔۔۔ میں ترک تعلق کا اعلان کرتا/کرتی ہوں۔۔۔ ہرقسم کی وفاداری اور تعلق سے۔۔۔ کسی بھی غیرملکی بادشاہت, ریاست,اور نظام سے جس کا/کی میں آج تک وفادار یا شہری تھا/تھی۔۔۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قوانین اور آئین کی پاسداری کروں گا/گی اوروفاداررہوں گا/گی۔۔۔ ہراندرونی اوربیرونی دشمن کے خلاف۔۔۔ اوریہ کہ میں پوری سچائ کے ساتھہ یہ عہد نبھاؤں گا/گی۔۔۔ اوریہ کہ ملکی قوانین کے تحت جب ضرورت پڑی,  اسلحہ رکھہ سکتا/سکتی ہوں, مسلح افواج کا غیر مسلح کاموں میں ساتھہ دوں گا/گی, شہری ہدایات کے مطابق قومی سطح کے کام کروں گا/گی۔۔۔۔ اورمیں یہ ذمہ داری آزادی کے ساتھہ, بغیر کسی ذہنی دباؤ یا غفلت اوربدل جانے کی نیت کے قبول کرتا/کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنے سخت حلف کے بعد کسی شخص کوامریکہ کے نظام کو بنانے یعنی ووٹ ڈالنے کا حق مل جاتا ہے۔۔۔ اس حلف کے بغیر وہ شخص روٹی,  کپڑا, مکان, گھومنا پھرنا, تعلیم حاصل کرنا, شادی کرنا, مطلب یہ کہ عام زندگی کے سارے کام سر انجام دے سکتا ہے۔۔۔ لیکن اس نظام کے تحت جو وہاں کے وفادار شہریوں نے حق رائے دہی کے بعد مل کر بنایا ہے۔۔۔
پاکستان میں ووٹ ڈالنے یعنی موجودہ نظام کو چلانے یا بدلنے کے لئےاپنا حق استعمال کرنے کی شرط اٹھارہ سال کا ہونے کی ہے۔۔۔ جسکا نشان قومی شناختی کارڈ ہے۔۔۔ غیر ملکی یہاں کی شہریت کیسے حاصل کرسکتے ہیں, اور انکے لئے ووٹ ڈالنے کی کیا شرائط ہیں,یہ چیزیں کالج سلیبس کا حصہ ہونی چاہئیں۔۔۔ ساتھہ ہی ہمارا حلف نامہ۔۔۔

بات ہو رہی تھی مہاجر کی۔۔۔ پتہ یہ چلا کہ مہاجر ہونا ایک عارضی حالت ہوتی ہے, چاہے کچھہ دنوں یامہینوں کے لئے ہو یاکئی سالوں کے لئے۔۔۔ کوئی بھی ملک انسانی بنیادوں پر مہاجروں کو روٹی, کپڑا, مکان اور سیر سپاٹے کی اجازت تو دے سکتا ہے, ان کوکمانے کی اجازت دے کران سے ٹیکس وصول کرسکتا ہے۔۔۔ لیکن ان سے وفاداری کاحف لئے بغیرانکو نظام ادل بدل کرنے کی اجازت  نہیں دیتا۔۔۔
 
ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ جیسی ایک عظیم ہجرت بر صغیر کے مسلمانوں نے بھی کی۔۔۔ 1947میں لاکھوں لوگ بھارت سے پاکستان آئے۔۔۔ بہت سے لوگ ہجرت کے دوران سفر مارے گئے۔۔۔ جو پاکستان پہنچ گئے وہ واپس جانے کے لئے نہیں آئے تھے اس لئے وہ یہاں رہنے والوں کی طرح پاکستانی شہری ہوئے۔۔۔
لیکن الله جانے وہ کون سی وجوہات تھیں کہ بہت سے لوگ خود کو سالوں مہاجر کہلواتے رہے۔۔۔ کیا ان کا واپس بھارت جانے کا ارادہ تھا یا پاکستان کو مسافر خانہ سمجھہ کر رہنا تھا کہ جب موقع لگے کہیں اور چلے جائیں گے۔۔۔
اگر ایسا تھا تو ہجرت کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق انھیں پاکستانی نظام یا لوگوں کی شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں۔۔۔ ہاں یہاں رہنے کاحق ضرور تھا, لیکن اگر وہ یہاں اپنے قدم نہ جما سکے تو کسی کا کیا قصور۔۔۔
اس سے بڑا ظلم انسان اپنےاوپر کیا کرسکتا ہے کہ قانونی طور پر کسی ملک کا شہری ہوتے ہوئے بھی نفسیاتی طورپر خود کو مہاجر سمجھے۔۔۔  بھلا ایسا شخص دوسروں کے ساتھہ مل کر کیاکسی معاشرے کی تعمیر میں حصہ لے سکتا ہے۔۔۔
اسی طرح اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو کسی قوم کےبہت سے شہریوں کو مہاجر ہونے کا احساس دلا دلا کر ان کو بے سکون رکھے۔۔۔ انکے قدم جمانے کے بجائے اکھاڑنے کا سبب بنے۔۔۔ انکوماضی کی قومیت کا احساس دلا کرباقی لوگوں سے الگ ہونے کا احساس دلائے۔۔۔ اور اس طرح تفرقے اور تعصب پھیلانے کاسبب بنے۔۔۔
کیا دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے شخص کو لیڈرشپ کی اجازت دیگا۔۔۔

ایک مسلمان کے لئے پوری دنیا الله کی سلطنت ہوتی ہے اور وہ خود خدا کا نمائندہ ہوتا ہے۔۔۔ جس ملک میں رہے قوانین کی پاسداری اس پر لازم ہوتی ہے اور اپنے ایمان کی حفاظت فرض۔۔۔ایک جگہ کواچھا کہنے یا اپنی شہریت بدلنے کے عمل کو  جسٹفائے کرنے کے لئے اپنے وطن کو بدنام کرنا کم از کم کسی مسلمان کا طرز عمل تو نہیں ہوسکتا۔۔۔

ماضی میں سینکڑوں بلکہ لاکھوں کڑوڑوں مسلمانوں نے اپنے وطن سے دوسرے ملکوں کا سفر کیا۔۔۔  مگرجن کا مقصد سائنسی علوم حاصل کرنا یا حدیثوں کا علم حاصل کرنا یا  تحقیق, تجارت, سیاحت, مظلوموں کی مدد, انسانیت کی خدمت وغیرہ تھا۔۔۔ انھیں اپنے مقاصد کے لئے بھوک پیاسا بھی رہنا پڑا, قیدبھی اٹھانی پڑی, خوف اور دشمنیوں کابھی سامنا کرنا پڑا۔۔۔ ان میں سے بہت سوں کے نام تاریخ کی کتابوں میں مختلف کامیابیوں کے حوالے سے درج ہیں۔۔۔ ان کا یہ سفر ہجرت میں بھی شمار نہیں ہوتا۔۔۔  جنھوں نے محض ہجرت کی پیٹ بھرنے, تن ڈھانپنے اور سر پر چھت بنانے کے لئے, انکے نام تو انکی اپنی نسلوں کو بھی یاد نہیں۔۔۔
عام حالات میں ہجرت کے لئے شریعت نے کچھہ شرائط مقرر کیں ہیں۔۔۔ مثلا تجارت, جہاد, شادی, تبلیغ۔۔۔ لیکن یہ ایک عارضی رخصت ہے نہ کہ مستقل اجازت۔۔۔

خیر اس پرمزیداور حتمی روشنی تو علماء دین ہی ڈال سکتے ہیں۔۔۔ میں نے تو صرف اپناحق اظہاررائے استعمال کیا ہے۔۔۔

I Love Brooms

Making broom is a cottage industry in Pakistan.  Poor families are provided with big, dry date-palm leaves or stalks of different plants.  They shred off the dried part with their hands and gather sticks or stiff fibre of same size to make a bundle of broom.  The sticks on the thicker end are tied together with a wide rubber band or a metal wire.

It is used for sweeping dust and litter, for removing spider webs, for killing lizards, cockroaches and centipedes.  It can be a good weapon against thieves and intruders.

For me, broom is a symbol of unity, discipline and cleanliness.  It is a gift of plants that tells us the story of courage.  It is a tool that teaches us how to serve humans with employment opportunities.  It is going to be my political mark for election if I ever think of participating in electoral campaign.  In my government, Pakistan will be the biggest broom supplier in the world.  The entire broom industry will be given a tax relief if they promise to grow five trees per family every year.  Any publisher printing books on the advantages of brooms will be tax exempted for life time.

تنکا تنکا جوڑ کر جھاڑو بنتی ہے۔۔۔ درختوں کے پتوں کے خشک ہونےپر رہ جانے والے تنکے, جو اپنی قسمت پر رونے اور خاک میں بلاوجہ مٹنےکے بجائے, اتحاد اور تنظیم کی علامت بن کر ماحولیات کی پاکیزگی میں حصہ لینا شروع کردیتے ہیں۔۔۔ جھاڑو بنانے اوربیچنے والوں کے لئے روزگار کاسبب بنتے ہیں۔۔۔ ویسے تو اسے چھپکلی, جھنیگراوردوسرے جانور مارنے کے کام لایا جاتاہے۔۔۔ مکڑیوں کے جالے صفائی کئے جاتے ہیں۔۔۔ اس سے چوروں کو مار جاسکتا ہے۔۔۔ سیاستدانوں کو سونگھا کر بے ہوش کیا جاسکتاہے۔۔۔ جھاڑو ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے میں مدگارر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ جھاڑو کے پیچھے ایک اضافی ڈنڈی لگا کراور کچھہ عملیات پڑھ کر اسے سواری کے کام بھی لایا جاسکتا ہے۔۔۔ اگر وصی شاہ کو جھاڑو کی اہمیت کا اندازہ ہوتاتو وہ کہتے, کاش میں تیرے حسیں ہاتھہ کی جھاڑو ہوتا۔۔۔
قسم سے اگر کبھی میں نے الیکشن لڑا تو میرا انتخابی نشان ہو گا جھاڑو۔۔۔ ہروقت میرے ساتھہ رہے گی, آگے سے صفائی کے لئے, پیچھے سے پٹائی کے لئے۔۔۔ جس کو تھوکتا دیکھا اور دی گھما کے جھاڑو۔۔۔ میری پاڑٹی کا نام ہوگا آل پاکستان سویپنگ لیگ۔۔۔ نعرہ ہوگا, جھاڑو اپنائیے, ماحول بچائیے, صحت بنائیے۔۔۔ ایجنڈا ہوگا,
کتنی پاکیزہ ہے اعمال میں جھاڑو میری, کتنی معصوم ہے کردار میں جھاڑو میری,
اتحاد اور ہے تنظیم علامت اسکی, ایسی جھاڑو کہ جسے دیکھہ کے گھبرائیں یہود,
فوجی بارود سے بھی زیادہ ہو طاقت جسکی, چار تنکوں کی ضرب پڑتےہی مرجائیں ہنود,
جس کے بھی سرپہ پڑے یاد دلا دے اسکو, عہد پارینہ کے بربادئ عاد اور ثمود,
جب چلے سڑکوں پہ آثار مٹادے سارے, کبھی ہوتاتھا یہاں خاک پہ کچرے کا جمود,
ایک تاریخ رقم کرتی ہےجھاڑو میری, دل و دیماغ صفا کرتی ہے جھاڑو میری۔۔۔

عملیات پر یاد آیا کہ خانقاہ جاناتھا۔۔۔ مفتی صاحب کہتے ہیں کہ یہ جن آہستہ ہستہ جائے گا۔۔۔ جسطرح جسمانی بیماریاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں اسی طرح روحانی بیماریاں ہوتی ہیں۔۔۔ بعض تھوڑے سے علاج سے ختم ہوجاتی ہیں اور بعض کینسر, شوگراوردل کی بیماریوں کی طرح ہوتی ہیں انکا ہمیشہ علاج چلتاہے۔۔۔ عام لوگ توعام لوگ, عامل بھی ڈرتے ہیں مجھہ سے۔۔۔ طبیبہ کہتی ہیں بہت خطرناک ہے, انکے تو پسینے چھوٹ گئے تھے, بے چاری ایسی بھاگیں۔۔۔ ابراہیم صاحب اسی کا علاج کرتے کرتےدوسری دنیا منتقل ہوگئے۔۔۔ امی کہتی ہیں میں خود سب سے بڑا جن ہوں اور یہ سب میرے دماغ کا فتور ہے۔۔۔ جبکہ میرا کہنا ہے کہ مجھہ سے بھی بڑے بڑے جن موجود ہیں۔۔۔ میں خود ان سے ڈرتی ہوں۔۔۔

Old Age

I am an elderly person from the next few decades (if I get to survive).   Next few decades which I am not very much hopeful regarding my old age.  Old age, when I will not have the same stamina as I have now and my physical organs will not function in the same proper way.  I won’t be able to sustain my provisions on my own.

Where will I live then?  Who will provide me with food and clothing?  Who will be there to take care of my health?  It will be useless to ask these questions to the future youth because by the time they will come up with an idea, I will be resting in peace for hundred years.

One solution that the majority has worked upon is to work hard, earn money until there are chances and then settle down in another country where they have made some system for elderly people.  Many celebrities like Uzma Gilani, Munni Begum, Majid Jahangir, Umm-e-Habibah, Zohra Noorani, Tehseen Javed, Sajjad Ali and families of scholars and middle class people have applied this strategy to turn their olden era into a golden era.  They are nice people and have right to live wherever they want to whatever the way they want.  May be this is a part of globalization that you grow up with thoughts of taking care of yourself and your family, be nice to everyone and live your own life.  For most people now “how to live?” matters more than “where to live?”.  The thing is that I cannot expect anything from them like helping in building this nation, except for crumbs of donation time-to-time or a statement “I miss Pakistan”.

Still some ladies (I call them great), the legends of our time, like Bano Qudsia, Bajya and Bilqees Edhi preferred to stay.  May be because their names begin with letter ‘B’, who knows.  All I want to know is that why did these ladies prefer “where to live” over “how to live”?

I’m not a celebrity.  I’m just a common person.  Everyday I notice the increase in number of old women beggars.  In last eight or nine years, I even saw many of them sleeping on sidewalks along with their grandchildren.  I wouldn’t say that they all have come from the interior of Sindh or Punjab or Baluchistan or Khyber-Pakhtunkhwa (jitnay mushkil khud hain utna hi mushkil naam rakh diya soobay ka).  Many of  them belong to Karachi.

I remember few families from my childhood.  They had migrated from India in search of a peaceful land.  They sacrificed their loved ones, lost their properties, even their basic belongings.  There was one family whose head of the house was a sixty five year old lady and was obviously an illiterate person.  She had a son who was killed during the riots of sixties and left few children including other family kids whose parents were lost during partition.  Then there was another family of similar kind.  The seventy year old lady was responsible for her eight little grandchildren and a mentally ill daughter age 55.  Sometimes they had nothing to eat for days but one time meal that was a ‘roti’ , no curry to eat with.  Neighbours provided them with some good food but that was not on the regular basis.  They still needed clothes, education, somebody to supervise them.  Both ladies became nani’s friend.  They were from noble families in India.  I am sure there were thousands of stories like this.

The ladies must have died soon as they were already feeble and ill.  But I don’t know what their grandchildren had gone through.  If they are alive, they must be my age now or may be a little younger or older.  May be few of them had found a good support later on which rarely happens.  But what about the rest.

There was no system at that time.  Not even the concept of having a system.  Children from that time are now middle-aged and have grown as unwanted beings while the children of this time are growing as wild beings.  God knows what kind of society we’re going to turn into next twenty or thirty years.

Edhi seems to be the only refuge for elderly people especially women.  There are few adult homes but they are mostly for men to live till their death and they are expensive too.

I have no hope at all from our political parties and religious groups for next hundred years.  They will keep growing fear and hatred in people’s mind against each other.  Only if common people support each other and help each other about solving issues of common people like them.